Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq NovelR50803 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode01
No Download Link
787.7K
13
Rate this Novel
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode01 (Watching)Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode02 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode03 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode04 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode05 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode06 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode07 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode08 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode09 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode10 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode11 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode12 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Last Episode
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode01
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode01
دوپہر کا وقت ، گرمی اپنے جوبن پر تھی۔سورج کی تپش سے جیسے ہر چیز جلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔ہر زی روح اپنا ہوش کھوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔ماڈل ٹاون لاہور ایف بلاک کے ایک خوبصورت سے بنگلے میں وہ لڑکی اس انتہائی گرم موسم سے بے خبر پورچ میں ٹہل رہی تھی ۔دو کنال پہ محیط وہ خوبصورت سا گھر اس ٹائم سورج کی تپش سے جل رہا تھا ۔لان میں لگے پودوں کی حالت زار بھی کچھ محتلف نا تھی ۔لیکن اس لڑکی پہ تو نا جانے کون سا بھوت سوار تھا جو اس انتہائی گرم موسم میں بھی ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی ۔لائٹ سکن کلر کے سمپل سے لان کے سوٹ میں ملبوس ، بالوں کو ایک بینڈ میں قید کئیے ہوئے تھی۔ گرمی کی وجہ سے اسکی گوری رنگت دمک رہی تھی ۔جبکہ براون آنکھیں بار بار بے چینی سے گیٹ کی جانب اٹھتیں۔ہاتھ میں کوئی پیپر تھامے وہ مسلسل اضطرابی انداز میں مارچ کر رہی تھی ۔۔!!
“ہائے اللہ جی یہ انتظار بھی کیا بھیانک چیز ہے ۔ مجھے تو لگ رہا ہے اس انتظار نے میری جان لے لینی ہے “
اپنا دایاں ہاتھ دل پہ رکھ کے منہ اوپر تپتے آسمان کی طرف کر کے بربراہٹ کی۔۔!!
” مجال ہے کہ یہ لڑکی بھی کبھی سکون سے بیٹھ جائے،ہر ٹائم ہوا کے گھوڑے پہ سوار رہتی ہے ۔میں تو ہوں ہی پاگل جو خوامخواہ بولتی رہتی ہوں ۔ میری کون سا کسی نے سننی ہے ادھر” صوبیہ بیگم جو ناجانے اسے کتنی دفعہ اندر آنے کا کہہ چکی تھیں اب کی بار خود باہر آ کے اسے لتاڑنا شروع کر دیا ۔جبکہ دوسری طرف رائمہ گہری سانس بھر کے رہ گئی کیونکہ اسے پتا تھا کہ اسکی ماما ایک دفعہ شروع ہو جائیں توکم از کم دو گھنٹے انہیں چپ کروانا مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا ۔۔!!
” ارے میری پیاری ماما جانی آپ جانتی تو ہیں کہ آج کا دن میرے لئیے کتنا اسپیشل ہے ۔اب تو بس بابا کا انتظار ہے جلدی سے آئیں ۔پھر ہم مل کے اس اسپیشل ڈے کو سیلیبریٹ کریں” وہ انکے گلے میں بانہیں ڈال کے بہت سر شار سے لہجے میں بولی جبکہ صوبیہ بیگم نے اسے گھوری سے نوازا۔۔!!
“ڈونٹ ٹیل می رائمہ کہ تم نے آج بھی بابا کو کال کر کے انہیں گھر جلدی آنے کا بولا ہے” کسی اندیشے کے تحت صوبیہ بیگم نے اسے استفسار کیا ۔رائمہ نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا جبکہ صوبیہ بیگم اپنا سر پیٹ کر رہ گئیں ۔اور یہ کون سا صرف آج کی بات تھی یہ تو رائمہ عبید کا معمول تھا یہاں تھوڑی سی بات ہوئی نہیں وہاں عبید صاحب (جو کہ اسکے بابا تھے اور پاک آرمی میں بطور بریگیڈئیر خدمات سر انجام دے رہے تھے) کو کال کی نہیں ۔وہ ہمیشہ سے ہی ایسی تھی جب تک اپنے بابا( جو کہ اسکے باباکم بیسٹ فرینڈ زیادہ تھے)کو کوئی بات بتا نا دیتی تب تک اسے چین نا آتا۔۔!!
“میں بتا رہی ہوں تمہیں ، تمہاری حرکتیں اگر ایسی ہی رہیں نا تو کل کلاں کو تمہارا شوہر دوسرے دن ہی وآپس چھوڑ جائے گا ۔لکھوا لو مجھ سے ۔مجال ہے جو کبھی اس لڑکی نے لڑکیوں والا کام کیا ہو ، بس اڑنے کا شوق ہے ہونہہ ، اتنا آسان کام ہوتا نا پی اے ایف میں جانا تو آج ہر دوسرا تیسرا انسان پی اے ایف میں ہوتا ….”
اس سے پہلے کے وہ اسکی شان میں تھوڑے قصیدے اور بھی پڑھتیں باہر کا گیٹ کھلا اور عبید صاحب کی گاڑی پورچ میں آ رکی ۔عبید صاحب فل یونیفارم میں ملبوس ابھی گاڑی سے اترے ہی تھے جب رائمہ ایک منٹ ضائع کئیے بغیر جا کے انکے گلے لگی۔عبید صاحب نے بھی اپنی لاڈلی اکلوتی بیٹی کے سر پہ پیار کیا۔ جبکہ صوبیہ بیگم سر جھٹک کر اندر کی جانب بڑھ گئیں ۔!!
“Baba !guess what I am gonna tell you?”
وہ ان سے الگ ہو کے جوش سے بولی ۔خوشی اسکے معصوم چہرے سے پھوٹ رہی تھی تو وہ کیسے نا جانتے کہ وہ کیوں خوش ہے ۔۔!!
“میرا خیال ہے میری گڑیا انٹرویو میں پاس ہو گئی ہے” وہ انگلی ماتھے پہ رکھ کے، مسکراہٹ دباتے زرا سوچنے والے انداز میں بولے تو رائمہ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا ۔۔!!
“یس بابا جانی ! انٹرویو بھی کلئیر ہو گیا ہے اور لیٹر بھی آ گیا ہے ۔ look at this “
اسنے کہتے ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑا پیپر انکے سامنے لہرایا ۔لیٹر دیکھ کر عبید صاحب کے ہونٹوں پہ ایک خوبصورت سی مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔!!
“مجھے پتا تھا میرا بچہ ضرور کامیاب ہو گا ۔پر بیٹا جانی اصل محنت تو اب شروع ہو گی جو آپکی سوچ سے کہیں زیادہ ٹف ہے ” وہ اسے ساتھ لگائے اندر کی جانب بڑھتے ہوئے بولے ۔انکی اس بات پہ رائمہ مسکرا دی۔۔!!
“یو نو واٹ بابا ، پی اے ایف میرا عشق ہے میرا جنون ہے ۔اور آپکو تو پتا ہے کہ آپکی رائمہ اپنے جنون کے لئیے، اپنے وطن کے لئیے کچھ بھی کر سکتی ہے ۔اپنی جان تک نثار کر نے کا حوصلہ ہے مجھ میں۔
” ۔because I am your daughter baba jani
وہ ایک جزب سے بولی رہی تھی اسکی آنکھوں میں بہت خوبصورت سی چمک در آئی ۔۔!!
“اس لئیے میرے پیارے بابا آپ مجھے لائیٹلی مت لیں” اب کی بار وہ انکی طرف دیکھ کے منہ بنا کے بولی ۔انہوں نے مسکراہٹ دباتے ہوئے گردن اثبات میں ہلائی ۔۔!!
” وہ دونوں ابھی لاونج میں موجود صوفے پر بیٹھے ہی تھی جب صوبیہ بیگم ٹرے میں دو جوس کے گلاس لئیے لاونج میں داخل ہوئیں۔۔!!
” عبید وہ تو بچی ہے ،نا سمجھ ہے ، لیکن آپ تو سمجھدار ہیں نا ۔یہ ہر چیز کو مزاق سمجھتی ہے ۔پانی پے کے کبھی گلاس تک کچن میں رکھا نہیں اور شوق پی اے ایف میں جانے کا ہے ۔میں تو کہتی ہوں اب کوئی رشتہ ڈھونڈیں اور چلتا کریں اسے ۔بس انٹر کر لیا ہے اتنا ہی بہت ہے ۔” وہ ان دونوں کا جوس پکڑا کے ادھر سامنے صوفے پہ ہی بیٹھ گئیں جبکہ رائمہ نے ہونقوں کی طرح اپنی پیاری ماما کو دیکھا۔یہ نہیں تھا کہ اسکی ماما کوئی ان پڑھ تھیں جو ایسے کہتیں تھیں ۔بلکہ یہ سچ تھا کہ رائمہ نے کبھی گھر کے کسی کام کو ہاتھ تک نا لگایا تھا ۔بس پڑھائی ہوتی اور وہ۔ شروع سے ہی پڑھائی میں وہ ہمیشہ اچھے مارکس لیتی تھی ۔وہ صرف اس لئیے کیونکہ بچپن سے اسکے سر پہ بس ایک ہی دھن سوار تھی ( مجھے فائیٹر پائیلٹ بننا ہے) ۔۔!!
“بابا” اسنے روہانسی ہو کے اپنے بابا کو گویا شکایت کی ۔تو انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔!!
“ارے صوبیہ !کیا ہو گیا ہے آپکو؟ آپکو لگتا تھا کہ وہ انٹرویو کلئیر نہیں کر پائے گی اب ہماری گڑیا نے انٹرویو کر کلئیر کر لیا ۔اور مجھے پورا بھروسہ ہے ان شاء اللہ آئندہ بھی وہ ثابت قدم رہے گی ۔اور رہی بات شادی کی تو ابھی عمر ہی کیا ہے ۔جب ہونا ہو گی ہو جائے گی ” انہوں نے رسانیت سے اپنی شریک حیات کو سمجھایا۔۔!!
“میں بتا رہی ہوں عبید۔اگر یہ دوسرے دن ہی وآپس آئی نا اکیڈمی سے تو مجھ سے برا کوئی نا ہو گا۔ہر چیز کو مزاق سمجھا ہوا ہے اسنے ۔ایک رگڑے کی مار ہے بس یہ” اور یہاں رائمہ کی بس ہو گئی ۔بھلا اسکی ماما نے اسے سمجھا کیا ہوا تھا ۔وہ صوفے سے اٹھی اور ناراضگی کے اظہار کے طور پر پیر پٹختی اپنے کمرے کی جانب چل دی۔۔!!
“صوبیہ ناراض کر دیا نا آپ نے ہماری بیٹی کو” انہوں نے تاسف سے صوبیہ بیگم کو دیکھا جو گلاس ٹرے میں رکھ رہی تھیں۔۔!!
” ہوتی ہے ناراض تو ہونے دیں ۔بھلا مذاق ہے پی ایم اے؟ جان مارتی پڑتی ہے ۔اور اس سے اٹھ کے پانی تک تو پیا نہیں جاتا ادھر کیا خاک کچھ کر پائے گی”
“ارے صوبیہ ایک دفعہ اسے موقع تو دیں اپنے آپ کو پروو کرنے کا ۔آپ بھی تو جانتی ہیں جس عمر میں بچے کارٹونز دیکھتے ہیں اس عمر میں بھی اسکا ایک ہی جنون تھا اڑنے کا اور آج بھی۔تو اب آپ یقین رکھئے کہ آپکی بیٹی پاک ائیر فورس پائیلٹ بنن کے ہی رہےگی چاہے اسکے لئیے اسے کتنی ہی مشکلیں برداشت کیوں نا کرنی پڑیں۔کیونکہ میں نے اسکی آنکھوں میں وہ چمک دیکھی ہے ۔اپنا جنون پورا کرنے کی چمک۔سو ریلیکس رہیں اور بھروسہ رکھیں اپنی بیٹی پر” عبید صاحب نے رسانیت سے سمجھایا جبکہ صوبیہ بیگم انہیں دیکھ کے رہ گئیں ۔وہ سوچ رہی تھیں کہ رائمہ کیسے اکیڈمی میں رہے گی وہ تو کبھی ایک دن کے لئیے بھی عبید صاحب اور صوبیہ بیگم کے بغیر کہیں نا گئی تھی تو اب…آخر ماں تھیں اور ماں ہی ہے جو اولاد کی ٹینشن میں اپنا جون جلاتی رہتی ہے ۔۔!!
——-
“Snia fast ! You have only two minutes to accomplish your target”
گورا رنگ ، ستواں ناک عنابی لب جو کہ اس وقت زرا سنجیدگی سے ایک دوسرے میں پیوست تھے ،چہرے پہ ہلکی ہلکی سٹبل جو اسکے چہرے کو اور دلکش بنا رہی تھی ،بلیک کلر کے ٹریک سوٹ میں ملبوس وہ لان کے بیچوں بیچ کھڑا اسے آرڈر دے رہا تھا جو بیچاری پچھلے آدھے گھنٹے سے پش اپس لگا رہی رہی تھی۔۔!!
“بھائی اب بس …اب میں ایک پش اپ بھی نہیں لگا سکتی … ” وہ گہرے گہرے سانس بھرتی ادھر ہی اوندھے منہ گھاس پہ گر سی گئی۔۔!!
“سنیا اب ٹونٹی پش اپس ایکسٹرا کرنی پڑیں گی ۔ناو ہری اپ “وہ اسکی تھکاوٹ کو نظر انداز کئیے بولا ۔سنیا نے سر اٹھا کے اپنے اس پیارے سے (جلاد بقول سنیا کے) بھائی کو دیکھا جو اس وقت اسے دنیا کا ظالم ترین انسان نظر آ رہا تھا ۔۔!!
“بھائی میری اللہ سے دعا ہے کہ آپکو ایسی وائف ملے جو کہ صبح شام آپ سے سات سو پش اپس کروایا کرے ۔پانچ سو فرنٹ رولز ۔پانچ سو بیک فلپس بھی کروائے ” بے بسی کی انتہا پہ معصوم سا چہرہ بنا کے اپنی طرف سے گویا بد دعا دی گئی ۔جبکہ دوسری طرف اسنے مشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی۔۔!!
“Not a big deal my dear “
دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ اسنے اسے دیکھا اور ساتھ ہی پش اپس لگانے شروع کر دیے(ہاں بھائی کو بھلا کیا فرق پڑے گا ) سنیا نے بے چارگی سے سوچا۔۔!!
“فائیق بھائی پلیز ..بس کر دیں نا..اب واقعی میں تھک گئی ہوں “اس بے چاری کی اب واقعی بس ہو گئی تھی پچھلے دو گھنٹے سے وہ کبھی پش اپس کبھی اننگ اور کبھی پتا نہیں کیا کیا کر رہی تھی اپنے اس جلاد بھائی کے آرڈر پر ۔۔۔!!
” مائی ڈئیر سسٹر یہ کچھ بھی نہیں ہے ۔پی اے ایف میں جو ہو گا اس سے عقل ٹھکانے آ جائے گی “وہ پش اپس لگاتے ہوئے بولا۔۔!!
” مجھے پکا یقین ہے بھائی …کہ جتنے ظالم آپ ہیں اتنے ظالم تو پی اے ایف والے بھی نہیں ہوں گے ” وہ منہ بناتے اٹھ کے بیٹھ گئی۔۔!!
” میری پیاری بہنا یہ تو آپکو ادھر جا کے پتا چلے گا کہ کوں کتنا ظالم ہے” وہ بھی سیدھا ہو کے بیٹھ گیا ۔یہ بات کہتے اسکے چہرے پہ پر اسرار سی مسکراہٹ تھی ۔۔!!
“چلیں پرسوں جا رہی ہوں نا تو دیکھا جائے گا ۔ابھی آپ یہ بتائیں جاسم کب آئیں گے” پانی کی بوتل منہ سے لگاتے وہ بولی۔۔!!
“اسکا ابھی تو نہیں پتا کہ کب آئے گا ۔مسرور بیس پہ ہی ہے آج کل ۔اور تمہارے لئیے ایک سرپرائز بھی ہے”
” وہ کیا؟” اسنے ابرو اچکا کے پوچھا۔۔!!
“یہ تو وہی بتائے گا میں کیا کہہ سکتا ہوں” اسنے کندھے اچکائے ۔۔!!
“ہمم چلیں دیکھیں گے ۔ابھی تو مجھے اس بات کی ایکسائٹمنٹ ہو رہی ہے کہ پرسوں میں بھی رسالپور کی فضاوں میں سانس لوں گی ” وہ آنکھیں بند کئیے ، منہ آسمان کی جانب اٹھا کر بڑے جزب سے بولی جبکہ فائیق ہنس دیا۔۔!!
” یہ تو رسالپور جا کے پتا چلے گا کہ سانس آتی ہے یا جاتی ہے” وہ مسکراتا ہوا اٹھا اور اندر کی جانب بڑھ گیا جبکہ سنیا نے تاسف سے اپنے اس خوبرو سے بھائی کو دیکھا جو ہمیشہ سے اسے نالائق ہی سمجھتا تھا ۔۔!!
“ایک نا ایک دن آپکو میری قابلیت پہ یقین آ ہی جائے گا میرے پیارے بھائی جان” وہ جلدی سے اسکے پاس جا کے اسکا بازو تھام کے بولی ۔۔!!
“ان شاء اللہ ” فائیق نے دل سے کہا کیونکہ ہر بھائی چاہتا ہے کہ اسکی بہن کامیاب ہو ۔۔!!
“چلیں بھائی فریش ہو کے آئس کریم کھانے چلتے ہیں” وہ اسکے کان کے پاس منہ کر کے آہستہ سے بولی۔۔!!
” ہاہا وہ تو ٹھیک ہے لیکن ماما کا پتا ہے نا”
“اوفوو بھائی ماما چچی اماں کے پاس بیٹھی ہوئی ہیں ۔اور بابا لوگ ابھی تک آئے نہیں۔تب تک ہم آ جائیں گے ۔پلیز چلیں نا” اسنے اسکا بازو پکڑ کے اصرار کیا تو فائیق کو مانتے ہی بنی۔۔!!
“ہائے کاش جاسم بھی ہمارے ساتھ ہوتے ابھی کتنا مزہ آتا” وہ پھر سے افسردہ ہوئی۔۔!!
“کوئی بات نہیں جب وہ آئے گا تب پھر چلے جائیں گے ابھی تم جلدی سے فریش ہو کے آو ہری اپ” وہ کہتا ہوا اپنے روم کی جانب بڑھا تو ووہ بھی جلدی سے فریش ہونے چلی گئی ۔۔!!
______________
JF-17 thunder (pride of nation)
نے اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ رن وے پر لینڈ کیا تھا ۔کچھ ہی دیر بعد کاک پٹ کھلا اسکے اندر بیٹھا ہوا وہ شخض خود کو بیلٹس وغیرہ سے آزاد کرنے لگا ۔ہیلمٹ اتار کے اسنے ادھر کھڑے ایک شخض کو پکڑایا اور پھر طیارے کے ساتھ لگائی گئی لوہے کی سیڑھی پہ قدم جماتا بہت آرام سے اترا اور دوبارہ اس شخض سے اپنا ہیلمٹ وآپس لیا۔۔!!
اسنے آنکھوں پہ سن گلاسسز لگائے ، گوری رنگت، ستواں ناک، عنابی لب اور ہلکی سی بئیرڈ کے ساتھ جوبصورتی کا شاہکار لگ رہا تھا۔۔!!
چہرے پہ ایک مخصوص مسکراہٹ تھی جو ہر فلائنگ کے بعد ہوتی تھی ۔اورنج کلر کا کور آل پہنے وہ ایک شان سے چل رہا تھا ۔( وہ مسرور ائیر بیس پر تھا جو کہ کراچی میں واقع ہے ۔انہیں سمندر کے اوپر فلائی کرنا پڑتا ہے اور کور آل کا کلر اورنج اس لئیے تھا تا کہ اگر خدانخواستہ انہیں کسی وجہ سے طیارے سے ایجیکٹ کرنا پڑ جائے تو انکے ساتھی اس اورنج اوور آل کی وجہ سے انہیں دیکھ سکیں اور جلد ڈھونڈ سکیں) ۔۔!!
” Gentleman! Your flight was as cool as ever. I am so proud of you .”
وہ اپنے دھیان جا رہا تھا جب ونگ کمانڈر بلال نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے کہا ۔۔!!
” thank you sir”
اسنے ہیلمٹ پکڑے ہی انہیں سلیوٹ کیا تو وہ مسکراتے ہوئے اسکا کندھا تھپتھپاتے آگے بڑھ گئے ۔۔!!
اسکا رخ LECT روم کی طرف تھا ۔اسنے روم میں جا کے ہیلمٹ رکھا اور گرین کلر کا اینٹی جی(گریویٹی) سوٹ (جو کہ کور آل کے اوپر پہنا جاتا ہے ) اتارا ہی تھا جب فلائیٹ لیفٹیننٹ اسامہ نے اسے کسی کی کال کی اطلاع دی۔۔!!
“کس کی کال ہے؟” وہ حیرانی سے پیچھے مڑا ۔۔!!
” سر میں بس اتنا بتا سکتا ہوں کہ کسی لڑکی کی کال ہے ۔اس سے زیادہ مجھے کچھ نہیں پتا” فلائیٹ لیفٹیننٹ اسامہ نے چہرے پہ شرارتی مسکراہٹ لئیے کہا تو اسکی حیرانی دو چند ہو گئی ۔۔!!
“آر یو شیور کہ وہ کال میرے لئیے ہے؟” اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اسکے لئیے کسی لڑکی کی کال آ سکتی ہے ۔گھر میں سے کوئی اسے اس ٹائم کال نہیں کرتا تھا اور اسکی امی کی آواز تو اسامہ پہچانتا تھا۔(جانے کون ہے یہ لڑکی)۔۔اا
” یس سر آئی ایم ہنڈرڈ اینڈ ٹین پرسنٹ شیور کہ وہ کال آپ کے لئیے ہی ہے کیونکہ یہاں بس ایک ہی اسکواڈرن لیڈر جاسم افتخار ہیں ۔اور وہ آپ ہیں” اسکے کہنے پہ جاسم نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلایا اور کال بوتھ کی جانب چلا گیا۔۔!!
“اسلام و علیکم!” اسنے بہت سنجیدہ لہجے میں سلام کیا(پتا نہیں کون ہے) لیکن اگلے ہی لمحے جس ہستی کی آواز اسے سننے کو ملی لمحوں میں اسکی ساری تھکن اتری تھی اور چہرے پہ سنجیدگی کی جگہ ایک بہت خوبصورت مسکراہٹ نے لے لی ۔۔!!
“وعلیکم اسلام! میں آپ سے ناراض ہوں ” خفگی بھرے لہجے میں شکوہ کیا گیا۔تو وہ دلکشی سے مسکرا دیا۔کتنا انتظار کیا تھا اس نے یہ آواز سننے کا ۔لیکن کیا کریں انکی ڈیوٹی ایسی ہوتی ہے کہ اتنا ٹائم نہیں ہوتا ۔۔!!
“ارے بھئی میں نے ایسا کیا کر دیا ہے جو محترمہ سنیا مجھ سے ناراض ہیں” وہ جانتا تھا وہ کیوں ناراض تھی لیکن اسے تنگ کرنا تو وہ اپنا فرض سمجھتا تھا ۔ویسے وہ بہت سنجیدہ سا انسان تھا لیکن سنیا پہ آ کے اسکی ساری سنجیدگی کہیں ہوا ہو جاتی تھی ۔۔!!
“جاسم آپ بہت برے ہیں۔میں جانتی ہوں کہ بھائی نے آپخو بتا دیا ہو گا کہ میں کل سے اکیڈمی جوائن کر رہی ہوں ۔پر آپ نے ایک دفعہ بھی مجھے کونگریٹس نہیں بولا ۔”
“آئی ایم سو سوری یار ۔سچ میں پتا نہیں کہسے میرے مائنڈ سے نکل گیا ۔حالانکہ فلائنگ پہ جانے سے پہلے مجھے اچھی طرح یاد تھا ۔رئیلی ویری سوری ” بہت معزرت خوانہ لہجے میں پیار سے کہا گیا۔۔!!
” مجھے آپکا کوئی سوری نہیں چاہئیے ۔اسکا مطلب تو یہ ہوا نا کہ اگر میں آپکو ابھی بھی کال نا کرتی تو آپکو یاد نہیں تھا آنا کہ کوئی سنیا بھی ہے جسے کل سے اکیڈمی جوائن کرنی ہے اور آپ نے اسے گڈ لک وش بھی نہیں کیا ” دوسری جانب خفگی ہنوز برقرار تھی ۔جاسم کے لبوں کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی ۔۔!!
” دیکھو یار مجھے خود بہت برا فیل ہو رہا ہے کہ میں اتنی بڑی بات کیسے بھول گیا ۔بٹ آئی پرامس کہ جب آئندہ جب تمہیں اکیڈمی سے وآپس آنا ہو گا میں خود تمہیں لے کے آوں گا ۔پر پلیز تم خفا نا ہو” وہ کسی بھی قیمت پہ اسے منانا چاہتا تھا اور دوسری طرف سنیا کہاں تک اسکی ناراضگی برداشت کر سکتی تھی بھلا اس لئیے اسے مانتے ہی بنی ۔وہ ہمیشہ سے ہی ایسے تھے ایک دوسرے کو سمجھنے والے ۔۔!!
” آل رائٹ ! لیکن بس آخری دفعہ معاف کر رہی ہوں وہ بھی اس لئیے کہ آپ نے اتنا اچھا پرامس کیا ہے ۔لیکن اگر آئندہ ایسا ہوا تو میں آپ سے کبھی بھی نہیں بولوں گی”
(واہ کیا احسان عظیم کیا گیا تھا۔۔)
“آئی پرامس یو یار آئندہ کبھی ایسا نہیں ہو گا”
“پکا نا؟” وہ مشکوک ہوئی تو اسنے بمشکل اپنے قہقہے کا گلہ گھونٹا ۔۔!!
” ہاں بالکل پکا ” اب کی بار سنیا کے چہرے پہ ایک خوبصورت سی مسکراہٹ در آئی۔۔!!
” اور مجھے پورا یقین ہے کہ تمہیں پی اے ایف اکیڈمی رسالپور کی فضائیں راس آئیں گی۔آلویز بی بریو ۔اینڈ بیسٹ آف لک” قدرے توقف کے بعد وہ پھر سے بولا تھا اور اسکے اسی لہجے کی تو سنیا فین تھی ۔۔!!
“تھینک یو سو مچ جاسم…آئی مس یو ..اب مجھے تیاری کرنی ہے آپ سے پھر بات ہو گی ..اللہ خافظ” اسنے کہرے ساتھ ہی کال ڈراپ کر دی جبکہ ادھر جاسم ابھی تک اسکے لہجے کو اسکی باتوں کو محسوس کر رہا تھا ۔کچھ لمحوں بعد اسنے ریسیور کریڈل پہ رکھا اور گہری سانس لے کے مڑا تو سامنے دیکھا جہاں کچھ فاصلے پہ فلائیٹ لیفٹیننٹ اسامہ اور فلائیٹ لیفٹیننٹ عاصم حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔!!۔
“Sir we can’t believe this”
فلائیٹ لیفٹیننٹ اسامہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنے لہجے کو تشویش ناک بناتے ہوئے کہا تو جاسم نے حیرانی سے ابرو اچکا کے اس سے گویا پوچھا(کیا ہوا)
” سر ہم کیسے یقین کریں کہ اسکواڈرن لیڈر جاسم افتخار بھی کسی سے سوری کر سکتے ہیں ۔اور وہ بھی کسی ،کسی لڑکی کو ،..ہائےےے سر ہم کیسے یقین کریں” اب کی بار فلائیٹ لیفٹیننٹ عاصم نے کہا۔۔ وہ دونوں تو بے ہوش ہونے کے قریب تھے ۔اور وہ جو زرا بے تکلفی سے بات کر رہے تھے اس میں کچھ ہاتھ جاسم کا تھا جو کہ ان دونوں سے بہت اٹیچ تھا ہمیشہ اپنے چھوٹے بھائی سمجھتا تھا ۔اور کچھ ان دونوں کی طبیعت زرا شوخ تھی ۔۔!!
” سو واٹ”اسنے دونوں بازو سینے پہ باندھتے ہوئے کندھے اچکائے ( دو لفظی جواب اور کام خراب ۔) یہ اسامہ اور عاصم کی سوچ تھی ۔۔!!
” نتھنگ سر ” انہوں نے ابھی جانے میں ہی عافیت سمجھی ۔اس لئیے اسے سلیوٹ کر کے وہ نو دو گیارہ ہو گئے ۔انکے جانے کے بعد اسکواڈرن لیڈر جاسم کا قہقہہ اس کمرے میں گونجا تھا ۔۔!!
—–
“چلیں بیٹا جی آ گئی آپکی منزل” عبید صاحب اسے خود اکیڈمی چھوڑنے آئے ہوئے تھے کیونکہ کل سے رائمہ کی جوائننگ تھی ۔انکے کہنے پہ اسنے نظریں اٹھا کے گلاس ونڈو کے پار دیکھا ۔جہاں پہ پی اے ایف اکیڈمی رسالپور اپنی پوری شان و شوکت سے ہر دیکھنے والے کو گویا مبہوت کر رہی تھی ۔۔!!
ان لمحوں کے لئیے …اسنے کتنا انتظار کیا تھا ۔بچپن سے اسنے خواب دیکھا تھا… آسمانوں سے باتیں کرنے کا..بادلوں کو چیرنے کا…امبر کو محسوس کرنے کا…شاہیں کہلانے کا ..اور سب سے بڑی بات اپنے ملک کے لئیے کچھ کرنے کا…اور اب اسکا یہ خواب حقیقت کا روپ دھارنے جا رہا تھا ۔اسے اسکی زندگی کا مقصد اسکا اصل ملنا تھا۔۔۔۔لیکن۔۔۔ابھی اس کے لئیے اسے بہت محنت کرنی تھی ۔۔!!
جاری ہے
