Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq NovelR50803
Last updated: 22 July 2026
No Download Link
787.7K
13
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode01Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode02Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode03Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode04Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode05Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode06Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode07Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode08Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode09Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode10Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode11Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode12Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Last Episode
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq
شروع شروع میں تو اسے خود پہ غصہ آتا کہ وہ انتیس سالہ مرد ہو کے ایسی ٹین ایجرز واکی حرکتیں کر رہا ہے ۔ہاں اسے دیکھنے کے لئیے دل بے قرار رہنا یہ ٹین ایجر والی حرکتیں ہی تو تھیں نا۔لیکن بعد میں اس نے خود سے ہار مان لی تھی لیکن۔۔۔۔۔!!
لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ کوئی لڑکی اس سے اتنا بھی ڈر سکتی ہے کہ رونا شروع کر دے ۔ائیر فورس میں ریتے ہوئے اسکا پالا بہت سی لڑکئوں سے پڑا تھا لیکن کوئی بھی ایسی نہیں تھی کہ اسکے سامنے آتے ہی رونا شروع کر دے ۔۔!!
"شٹ اپ فائیق ضرار، تمہاری فرسٹ پرائیورٹی اپنا ملک ہے ۔اور ویسے بھی وہ ابھی کیڈٹ ہے جب وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا۔اس طرح کی تھرڈ کلاس حرکتیں کرنا بند کرو ۔بی میچور یار" وہ آنکھیں بند کر کے ہی بڑبڑایا ۔اسکی آواز میں جنجھلاہٹ کا عنصر نمایاں تھا ۔تبھی اسے اپنے پاس ہی جاسم کا زوردار قسم کا قہقہہ سنائی دیا ۔فائیق نے کیٹے لیٹے ہی آنکھین گھمائی کیونکہ جانتا تھا حساب کتاب کا ٹائم آ چکا ہے ۔۔۔!!
"محترم اپنے خیالوں میں پتا نہیں کیا سوچے جا رہے ہیں اور وہ محترمہ آپکو بھائی بنا چکی ہیں اسکواڈرن لیڈر فائیق ضرار" جاسم نے ہنستے ہوئے اسکا موبائل پکڑا ۔۔!!
اسکی بات پہ فائیق نے ایک جھٹکے سے اٹھ کے اسے اسے کھا جانے واکی نظروں سے گھورا ۔۔!!
"استفر اللہ کیا بکواس کر رہا ہے " وہ دانت پیستے ہوئے بولا اور اس سے اپنا موبوئل چھپٹا جو کہ جاسم نے بہت شرافت سے اسکے حوالے کر دیا ۔۔!!
"سچ کہہ رہا ہوں ۔یقین نہیں آ رہا تو سنیا سے کنفرم کر لے" جاسم تو آج اسے اچھی طرح زچ کرنے کے موڈ میں تھا۔۔!!
"نا کر یار ، اسکے رونے کی وجہ سے پہلے ہی میرا دل جلا ہوا ہے تو اور جلا " وہ اپنے اوپر سے چادر ہٹاتا اٹھ کے بیٹھتا ہوا معصومیت سے بولا ۔۔!!
"اتنا پیار کرتا یے اس سے؟" اب کی بار جاسم نے سنجیدگی سے اسکے چہرے کے تاثرات دیکھے ۔فائیق نے اسے دیکھتے ہوئے اپنے پیشانی مسلی۔۔!!
"یار پیار نہیں کرتا ۔بس وہ اچھی لگتی ہے مجھے ۔اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کے تکلیف ہوتی ہے " اسکے لہجے میں بے چارگی تھی ۔۔!!
" تو میرے یار یہ محبت کی ہی نشانیاں ہیں ۔مان جا کے تجھے اس سے محبت ہو گئی ہے" جاسم نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے تھپتھپایا۔۔!!
"میں خود کچھ سمجھ نہیں پا رہا یار۔مجھے جب وہ نظر آتی ہے میں ہر چیز بھول جاتا ہوں ۔اسکے علاوہ باقی ہر منظر کہیں پس پشت میں چلا جاتا ہے ۔دکھتی ہے تو بس وہی " وہ آنکھیں بند کئیے مدھم آواز میں بول رہا تھا ۔۔!!
"ویسے یار میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے تیرا یہ مجنونانہ روپ بھی دیکھنے کو ملے گا" وہ مسکراہٹ دبائے بڑی سنجیدگی سے بولا تو فائیق نے مسکراتے ہوئے اسکی کمر میں ایک دھموکا رسید کیا۔۔!!
" میں کوئی مجنوں بنا نہیں پھر رہا ۔اگر اللہ نے اسے میرے نصیب میں لکھا ہے تو وہ مجھے ہی ملے گی اور اگر نہیں لکھا تو لاکھ کوششوں کے باوجود بھی میری نہیں ہو سکے گی ۔میں بس اللہ سے دعا ہی کر سکتا ہوں ۔وہ جو بھی کرے گا بے شک بہتر ہی ہوگا"اسنے ہر بات وضاحت سے بیان کی ۔جاسم نے تائیدی انداز میں سر ہلایا ۔اور دل سے اس کے لئیے دعا کی ۔۔!!
"او شٹ کمینے ، میں تجھے بلانے آیا تھا تایا جان بلا رہے ہیں۔تو نے مجھے باتوں میں لگا دیا ۔ جلدی سے آ جا" وہ اسکے بیڈ سے اٹھتا ہوا بولا ۔فائیق نے صوفے سے اٹھا کے شرٹ پہنی اور اسکے ساتھ ہو لیا ۔اور دل میں دعائے خیر کر رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر ابو نے بلایا ہے تو کوئی ضروری کام ہی ہو گا ۔۔!!
______
"مصباح رائمہ کو گیٹ پہ ہی ڈراپ کر کے چلی گئی کیونکہ شام ہو رہی تھی ۔رائمہ کے دماغ میں پتا نہیں کیا چل رہا تھا وہ بھاگتی ہوئی لاونج میں آئی ۔عبید صاحب وہیں پہ بیٹھے ہوئے تھے ۔وہ جلدی سے انکے گلے لگ کے رونا شروع ہو گئی ۔عطید صاحب تو اس افتاد پہ ہکا بقا رہ گئے جبکہ کچن سے نکلتی صوبیہ بیگم نے حیرانی سے اسے دیکھا ۔ان دونوں کو جتنا یاد پڑتا تھا انہوں نے کبھی اسے اس طرح روتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ۔۔!!
"رائمہ؟ میری جان، میرا بچہ کیا ہوا ہے ؟ آپ تو مصباح کے ساتھ شاپنگ پہ گئی تھی نا ۔ادھر کچھ ہوا ہے؟" وہ تو اسکے رونے پہ ہی بوکھلا گئے تھے ۔اسکے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے پریشانی سے بولے ۔رائمہ بس کچھ بھی کہے بغیر روئے جا رہی تھی ۔۔!!۔
"صوبیہ آپ پانی لائیں ۔بابا کی جان ادھر دیکھو میری طرف" انہوں نے صوبیہ بیگم کو پانی لانے کا بولا پھر اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کے اپنے سامنے کیا ۔۔!!
" با ... بابا ..مم..مجھے بھائی چاہئیے " وہ ہچکیوں میں روتی ہوئی بولی ۔صوبیہ بیگم تو کیا عبید صاحب بھی حیران ہو گئے ۔۔!!
