Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode03

Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode03

کلاس روم میں داخل ہو کے وہ اپنی سیٹ پہ بیٹھی ۔اسکا آج سنیا سے ناراض ہونے کا پکا موڈ تھا ۔کاش وہ اسکے شو لیسسز باندھ دیتی تو اسے فائیق کے عتاب کا نشانہ تو نا بننا پڑتا ۔حالانکہ فائیق نے اسے کوئی پنشمنٹ بھی نہیں دے تھی لیکن وہ پھر بھی اس سے ڈر گئی تھی ۔وہ انہی سوچوں میں گم رہتی لیکن سر کے آنے پہ سب سٹوڈنٹس اپنی جگہوں پر الرٹ ہو کے بیٹھے ۔اسے بھی ایکٹو ہونا پڑا ۔تھوڑی ہی دیر میں سر کے وہ الفاظ انکے کانوں میں گونجے جو روز گونجتے تھے اور انہیں اپنا مقصد یاد دلاتے اور انکے یقین کو اور پختہ کرتے ۔ان الفاظ کو سن کے ہر کیڈٹ اپنے اندر ایک عجیب سا جوش ولولہ سا اٹھتا محسوس کرتا ہے ۔ابھی بھی سر بول رہے تھے انکے الفاظ کچھ اس طرح تھے ۔
“آپ سب کا ایک ہی مقصد ہے اپنی پوری ایمانداری کے ساتھ اس پاک سر زمین کا دفاع کرنا ۔اور وقت پڑنے پہ اپنی جان بھی دینے سے دریغ نا کرنا ۔ہمارا اصل مقصد ہی آپ سبکو غازی یا شہید بننے کے لئیے تیار کرنا ہے “
اور یہ الفاظ تقریباا روز ہی بولے جاتے تھے ۔اور روز ہی ان میں ایک نئے جزبے کو اجاگر کرتے ۔اس ملک کی خاطر کسی بھی حد تک گزر جانے کا جزبہ ۔اس پاک زمین پہ اپنا آپ نچھاور کر دینے کا جزبہ۔۔!!!
سر فلائنگ کے ہی کسی ٹاپک کو ایکسپلین کر رہے تھے ۔لیکن بار بار اسکا دھیان صبح ہوئی اپنی عزت افزائی کی جانب جا رہا تھا ۔۔!!
“اوفووو رائمہ ! پاگل ہو گئی ہو کیا جو اس فضول سی بات کو سوچے جا رہی ہو ۔عقل کرو کچھ “
بار بار ایک ہی سوچ کے آنے سے جب اسے کوفت ہونے لگی تو دل ہی دل میں خود کو ڈپٹا اور پوری توجہ لیکچر کی جانب لگائی ۔اور کچھ ہی دیر میں اپنی توجہ لیکچر کی جانب مبزول کروانے میں وہ کامیاب بھی ہو چکی تھی ۔۔!!
_______
“او مائی گاڈ آنٹی ، وہ کیسے رہ رہی ہو گی ادھر ۔نا کوئی موبائل نا کوئی کچھ ۔مطلب کیسے” مصباح تو حیرانی سے بے ہوش ہوتے ہوتے بچی تھی ۔وہ رائمہ کی کالج کی دوست تھی ۔ان دونوں کی دوستی کالج ہی کے پہلے سال میں شروع ہوئی تھی ۔رزلٹ کے بعد مصباح اپنی فیملی کی ساتھ دو ماہ کے ٹور پہ دبئی گئی ہوئی تھی ۔اسنے وآپس آ کے بہت کوشش کی رائمہ سے رابطہ کرنے کی لیکن جب کسی بھی طور اس سے رابطہ نا ہو سکا تو وہ آج رائمہ کے گھر آئی ہوئی تھی اور یہ سن کے اسے شاک ہی تو لگا تھا کہ رائمہ پی اے ایف اکیڈمی میں ہے ۔کیونکہ اسے لگتا تھا کہ رائمہ صرف مزاق کرتی تھی لیکن اب اسے پتا چل رہا تھا کہ وہ کتنی سیرئیس تھی ۔اور سونے پہ سہاگہ اکیڈمی میں موبائل تک رکھنے کی پرمیشن نہیں تھی ۔۔!!
” تو اس میں اتنی حیرانی والی کیا بات ہے بیٹا ؟ کیڈٹس کو تین سال تک کوئی موبائل یا کسی بھی قسم کا الیکٹرونک گیجٹ رکھنے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی “صوبیہ بیگم نے ہنستے ہوئے اسے چائے پکڑائی جو اسنے سامنے سینٹر ٹیبل پہ رکھ دی کیونکہ اس بات پہ تو اسے صدمہ ہی لگا تھا ۔۔!!
” اووو نوووو آنٹی ، تو پھر میں اس سے بات کیسے کروں گی ۔وہ تو اتنی بدتمیز ہے جانے سے پہلے ایک دفعہ میسیج تک نہیں کیا ۔کہ مصباح میری سیلیکشن ہو گئی ہے یا نہیں یا کچھ بھی ۔آنٹی اس نے مجھے کچھ بھی نہیں بتایا ” اسکی صدماتی کیفیت دیکھ کے مصباح بیگم نے بمشکل اپنی مسکراہٹ ضبط کی ۔۔!!
” اب جب بھی اسکی کال آئے گی تو میں خود آپکا ضرور بتاوں گی ۔ آپ ٹینشن نہیں لو”
” پکا انٹی؟ اور اسنے جب بھی آنا ہوا تو آل مجھے دو دن پہلے ہی بتا دیجئیے گا تا کہ میں پہلے ہی آپکے گھر آ جاوں ۔آخر اسکی کلاس بھی تو لینی ہے نا” وہ برے برے منہ بناتے ہوئے بولی تو شائستہ بیگم نے ہامی بھر لی کچھ دیگر باتوں کے بعد وہ چلی گئی تو شائستہ بیگم کو خیال آیا کہ انہوں نے بھی تین ہفتوں سے رائمہ سے بات نہیں کی تھی ۔اس لئیے انہوں نے عبید صاحب کے آتے ہی ان سے سے پوچھا ۔
” عبید آپکو پتا ہے تقریباا تین ہفتوں سے میری رائمہ سے بات نہیں ہوئی ۔پہلے پھر بھی پانچ ،چھ دنوں بعد کر لیتی تھی کال چاہے کچھ سیکنڈز کے لئیے سہی لیکن اب تو ” وہ وارڈروب سے انکا شلوار کرتا نکالتے ہوئے اداسی سے بولیں ۔وہ مسکرا دئیے پھر انکو بہلانے کے لئیے ہلکے پھلکے انداز میں بولی ۔۔!!
” پہلے آپ ہر ٹائم اسکی شادی کروانے کے در پہ تھیں اور اب اسکی زرا سی جدائی برداشت نہیں کر پا رہیں ۔بھئی وجہ ” صوبیہ بیگم نے خفگی سے انہیں دیکھا۔۔!!
” اپنے بیٹی کی شادی کے خواب تو ہر ماں ہی دیکھتی ہے لیکن اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ بیٹی کو ہی بھول جاو ۔ماں ہوں اسکی ، یاد آتی ہے مجھے وہ ۔ایک ہی تو بیٹی ہے اسے بھی آپ نے اتنی دور بھیج دیا ۔میں سارا دن گھر میں بولائی بولائی پھرتی ہوں ” وہ انکے کپڑے واش روم میں لٹکاتے جلدی جلدی بول رہی تھیں ۔جبکے انکی باتوں پہ عبید صاحب کے لب مسکرائے جا رہے تھے ۔۔!!
” ریلیکس صوبیہ میں بات کروا دوں گا آپکی رائمہ سے ۔لیکن ابھی آپ اچھی سی چائے بنا کے لائیں میں تب تک فریش ہو جاوں” وہ صوفے سے اٹھتے ہوئے بولے ۔۔!!
“کرواوں گا نہیں بلکہ آج ہی کروائیں” وہ انہیں دھمکاتی ہوئیں روم سے باہر نکل گئیں پیچھے عبید صاحب کا قہقہہ گونجا ۔وہ آج تک ان ماں بیٹی کا پیار نہیں سمجھ پائے تھے ۔۔۔!!
____________
قسم اس وقت کی
قسم اس وقت کی
جب وقت ہم کو آزماتا ہے
جوانوں کی زباں پہ نعره تکبیر آتا ہے
جب ایک کیڈٹ اکیڈمی میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلا کام جو وہ کرتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ گیٹ سے اپنا سامان سر پر اٹھائے کیڈٹ گارڈ روم تک جاتا ہے ۔اور اسی سے ایک کیڈٹ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ اگلے آنے والے تین سال آسان تو بالکل بھی نہیں ہونے والے ۔اور بوائز کو تو آتے ہی اپنے بالوں کی قربانی دینی پڑتی ہے ۔اور اس اسپیشل ہئیر کٹ کا نام”باٹل برش” ہے ۔تمام کیڈٹس کو آتے ہی اس ہئیر کٹ کا تخفہ ملتا ہے ۔البتہ فیمیل کیڈٹس کی صرف اس معاملے میں زرا بچت ہی رہتی ہے ۔۔!!
ویسے تو پی اے ایف اکیڈمی کی ہر ہر چیز زبردست ہے لیخن رائمہ کو جو چیز سب سے اچھی لگتی تھی وہ تھی حمزہ فلائیٹ ۔یہ پریڈ تھی جو کہ پریڈ گراونڈ میں کروائی جاتی ہے ۔ایک پریڈ کسی بھی اکیڈمی کی شان سمجھے جاتی ہے ۔ایک تواتر سے قطاروں میں چلتے کیڈٹس کی پریڈ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے ۔کیڈٹس کے بھاری بوٹوں سے نکلنے والی ردھم کے ساتھ دیکھنے والوں کے دلوں کی دھڑکنیں بھی کبھی تیز اور کبھی مدھم ہوتی ہیں ۔۔!!
اکیڈمی میں جہاں نصابی سرگرمیاں ہوتیں ہیں وہیں پہ ہم نصابی سرگرمیاں بھی کروائی جاتی ہیں ۔جو کہ ایک کیڈٹ کی شخصیت کو پوری طرح نکھارتی ہیں ۔-!!
ان سرگرمیوں میںباکسنگ ،سیلف ڈیفینس ، شمشیر زنی اور گھڑ سواری بھی شامل ہے ۔۔!!
اور اس ٹائم تمام کیڈٹس گھوڑوں پہ سوار ہو کے گھڑ سواری کر رہے تھے ۔اور انہیہ کیڈٹس میں رائمہ اور سنیا بھی شامل تھیں ۔۔!!
” کمر سیدھی کریں سب ۔ ۔سواروں کی طرح بیٹھیں ،سواروں کی طرح ۔بے وقوفوں کی طرح نہیں”
رائمہ جو کے خود کو ڈھیلا چھوڑ کے بیٹھی ہوئی تھی انسٹرکٹر صوبیدار کی آواز پہ بالکل سیدھی طرح ہو کے بیٹھی ۔اسے تو ویسے ہی گھوڑے بالکل نا پسند تھے اور وقت کا ستم ان پہ گھڑ سواری کرنا پڑ رہی تھی ۔۔!!
گھڑ سواری حتم ہونے کے بعد انہوں نے ہاسٹل جا کے ڈریس چینج کیا ۔پی اے ایف اکیڈمی میں ہر کام کے لئیے الگ طرز کا لباس ہوتا ہے ۔اب انہیں گرین کلر کا یونیفارم پہن کے فائرنگ رینج میں پہنچنا تھا ۔(ٹھیک سے سانس لینے کا ٹائم بھی نہیں) یہ محاورہ ان بےچارے کیڈٹس پہ بالکل پورا اترتا تھا ۔۔!!
پہلے انہیں رائفل چلانے کے بارے میں بریفننگ دی جانے لگی ۔
“Line position take”
انسٹرکٹر کی آواز پہ وہاں موجود کیڈٹس نے پیٹ کے بل لیٹ کے لوزیشن لی۔۔!!
” you can now load the rifle”
سبھی کیڈٹس نے اپنی اپنی رائفل کو لوڈ کیا۔۔!!
“Now cock the rifle “
مطلب کے رائفل کو کاک کیا جائے۔۔!!
” adjust the hollow portion of youd right shoulder”
مطلب کے رائفل کو اپنے دائیں کندھے کی قدرے حالی جگی میں ایڈجسٹ کریں ۔سب نے فوراا عمل کیا ۔۔!!
” اب اپنے آئی کانٹیکٹ کو بائیں آنکھ بند کر کے درست کریں” سب نے اپنے بائیں آنکھ بند کر کے نشانہ درست کیا ۔۔!!
پھر انسٹرکٹر کی کہنے پر تمام کیڈٹس اٹھے اور رائفل کو محسوس انداز میں تھامے مارچ کرتے ہوئے وہاں تک پہنچے جہاں انہیں فائر کرنا تھا۔۔!!
انہوں نے ادھر جا کے انسٹرکٹر کی ہدایات کے مطابق نشانہ لیا اور سامنے موجود ہدف پہ فاہر کئیے ۔۔۔!!
اس سے فارغ ہونے کے بعد وہ لوگ ایک دوسرے گراونڈ میں پہنچے جہاں انہیں اسالٹ کورس کروایا جاتا ہے ۔اس میں مختلف رکاوٹیں ہوتی ہیں جو کہ ایک کیڈٹ کو جلد از جلد عبور کرنی ہوتیں ہیں ۔اور کیڈٹس کے لئیے یہ رکاوٹیں عبور کرنا دائیں ہاتھ کا کھیل ہے اسی کے برعکس اگر کوئی سویلین یہ رکاوٹیں عبور کرنا چاہے تو اسکے کچھ گھنٹے تو ضرور لگیں “
“Next three”
کیڈٹس قطاروں میں کھڑے تھے جب انسٹرکٹر کی آواز اور سیٹی پہ دوڑتے ہوئے جانا اور ان رکاوٹوں کو عبور کرنا تھا ۔ان تین کیڈٹس میں رائمہ بھی شامل تھی ۔اسنے کرالنگ اور باقی سب تو آرام سے کر لیا لیکن رسی کا ایک پل جو انہیں پار کرنا پڑتا ہے وہ اسکے لئیے بہت مشکل ہو رہا تھا کیونکہ وہ رسی بہت کھردرے قسم کی ہوتی ہے اور رائمہ صبح گھری بھی بہر زور سے تھی اب اسکی ہتھیلیاں ان رسیوں کو زور سے تھامے رہنے کی وجہ سے بری طرح چھل گئیں تھیں ۔لیکن وہ بے حسی کی چادر اوڑھے وہ رسی کا پل بھی پار کر ہی گئی ۔اسکے اترنے تک سنیا بھی تمام ہرڈلز پار کرتے ہوئے اس تک پہنچ چکی تھی ۔وہاں کسی بھی قسم کی ناگہانی آفت کے لئیے ایک عدد ایمبولینس اور میڈیکل کا عملی رہتا تھا ۔وہ اس سائیڈ پہ آئی تو جکدی سے اسے فرسٹ ایڈ دیا گیا ۔سنیا جکدی سے اسکے پاس نمک والا پانی لے کے آئی ۔جو اسنے ایک ہی سانس میں پی لیا کیونکہ ہو اسلاٹ کورس کے بعد انہیں یہ نمک والا پانی پینے کو دیا جاتا تھا تا کہ اگر جسم میں کوئی نمکیات وغیرہ کی کمی ہو تو اسے لورا کیا جا سکے ۔شروع شروع میں اسکا ذائقہ تمام کیڈٹس کو ہی برا لگتا ہے لیخ آہستہ آہستہ پھر یہی سب سے مزے کا پانی لگتا ہے ۔۔!!
“Are you Ok Raima?”
سنیا نے اسکے پٹی لگے ہاتھ سے گلاس وآپس لیتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔رائمہ نے خفا آنکھیں اٹھا کے اسے دیکھا۔۔!!
” پلیز سنیا میں اس ٹائم تم سے بالکل بھی بات نہیں کرنا چاہتی۔ تم جاو یہاں سے” اسنے آنکھیں زور سے مینچیں کیونکہ اسکے ہاتھوں میں بہت تکلیف تھی ۔۔!!
” آئی ایم سوری رائمہ لیکن پکیز بتاو تو ہوا کیا ہے” سنیا نے بےچارگی سے اسے دیکھا۔۔!!
“کچھ بھی نہیں ہوا ۔تم پلیز جاو ۔ورنہ میں رو دوں گی” کیا بچوں کی طرح لہجہ تھا اسکا سنیا کو ہنسی آ گئی۔۔!!
” یار ایک دفعہ کیا تم ہزار بار لڑو لیکن پلیز ایسے خفا نا ہو” سنیا نے پیار سے اسے گلے لگایا تو اسنے خفگی سے سنیا کے ہاتھ پیچھے کئیے۔۔!!
“تمہیں پتا ہے اگر تم میرے یہ شوز باندھ دیتی تو مجھے ان سے اتنی ڈانٹ نا پڑتی” اسنے منہ بناتے ہوئے خفگی سے کہا ۔۔!!
“ہاہاہا اووو میری جان کس سے ڈانٹ پڑ گئی ۔پہلے تو ہمیں اتنا رگڑا لگتا رہا ہے تب بھی تم نے کبھی شکایت نہیں کی تو آج کیا ہو گیا “
” بس تم رہنے دو اب ” اسنے منہ موڑ لیا۔۔
” یار معاف کر دو نا ۔آئی پرامس آئندہ تم جب بھی کہو گی میں شو کیسسز ٹائی کر دوں گی لیکن اب معاف کر دو نا” قہ بے چارگی سے دونوں ہاتھ کانوں کو لگا کے بولی ۔تو رائمہ اسے دیکھ کے مسکرا دی۔۔!!
” مکر تو نہیں جاو گی” مشکوک انداز۔۔سنیا نے آنکھیں نکال کے اسے گھورا ۔۔!!
“رائمہ کی بچی”وہ چیخی جبکہ رائمہ ہنس دی ۔۔!!
” یار رائمہ تو ابھی خود بچی ہے اسکی بچی کہاں سے آئے گی ” رائمہ کی آبکطوں میں صاف شرارت واضح تھی اب کی بار سنیا بھی شرارت سے مسکرائی۔۔!!
” اوووو تو یہ سین بھی ہے مجھے کیوں نہیں بتایا” سنیا نے مسکراہٹ دبائے شرارت سے کہا ۔۔!!
” سنیا بدتمیز ” رائمہ نے آنکھیں نکال کے اسے دیکھا ۔اب کی بار دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر پڑیں
________________
“سنیا یار میں کیسے کھاوں کھانا؟” وہ اس ٹائم میس میں بیٹھی ہوئیں تھیں جب رائمہ نے سنیا کے سامنے اپنے ہاتھ پھیلاتے پریشانی سے پوچھا ۔اسکے ہاتھوں پہ پٹی بندھی ہونے کی وجہ سے وہ ٹھیک سے کھا بھی نہیں پا رہی تھی۔اور پاکستان ائیر فورس اکیڈمی میں ڈسپلن کا تو حاص طور پر دھیان رکھا جاتا ہے جیسے کہ اگر چاول پلیٹ کی دائیں سائیڈ پہ ہو نے چاہئیے تو مطلب کہ دائیں سائیڈ پہ ہی ہونے چاہئیے ۔۔!!
“رائمہ یار کوشش کرو وہ دیکھو سامنے ٹیبل پہ بیٹھے ہوئے سینئیرز اسی سائیڈ پہ دیکھ رہے ہیں ۔کہیں یہ نا ہو کہ آج پھر ہمیں کوئی پنشمنٹ مل جائے ۔پلیز کسی طرح مینیج کر لو میری جان” سنیا کو بھی پتا تھا کہ اسے کھاتے ہوئے تکلیف ہو گی لیکن وہ بھی تو کچھ نہیں کر سکتی تھی اس لئیے اسکی جانب زرا سا جھک کے آہستگی سے کہا اور ساتھ ہی اسکا دھیان سامنے ٹیبل پہ بیٹھے ہوئے سینئیرز کی جانب کرایا ۔رائمہ نے سامنے دیکھا تو اب وہ دو سینئیرز ٹیبل سے اٹھ کے انہی کی جانب آ رہے تھے ۔رائمہ کا دل کسی انہونی کی پیشگوئی کر رہا تھا۔۔!!
“سنیا وہ دیکھو یار ہماری طرف ہی آ رہے ہیں ۔آج تو میں گئی ہائے اللہ جی بچا لیں “رائمہ سنیا کی جانب دیکھتے ہوئے بےبسی سے بڑبڑائی ۔سنیا نے ایک نظر سامنے سے آتے سینئرز خو دیخھا پھر زرا سا رخ موڑ کے بے چارگی سے رائمہ کو دیکھا کیونکہ اب بےچاری سنیا بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔۔!!
“Hey you third one”
فلائیٹ لیفٹیننٹ احمد نے رائمہ کی جانب اشارہ کر کے گویا اسے متوجہ کرنا چاہا ۔رائمہ کا دل اندر ہی اندر کانپ اٹھا (چل رائمہ آ گئی تیری شامت) اسنے دل ہی دل میں خود کو کہا پھر سامنے دیکھتے ہوئے بلند آواز میں کہا ۔
“یس سر”
“What’s problem with you? Why aren’t you eating your food?”
فلائیٹ لیفٹیننٹ احمد کی سنجیدہ آواز پہ اسکی جان ہوا ہو رہی تھی کیونکہ ان زحمی ہوتھوں کے ساتھ وہ کسی بھی قسم کی پنشمنٹ افورڈ نہیں کر سکتی تھی ۔۔!!
“سس..سر میرے ہاتھ میں چوٹ لگ گئی تھی جسکی وجہ سے مجھے کھانے میں پرابلم ہو رہی ہے” اسنے ہمت کر کے اپنا مسئلہ بتایا ۔دل ہی دل میں اللہ سے اپنے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی مانگی جا رہی تھی ۔۔!!
” ہوں” لیفٹیننٹ احمد نے جیسے کچھ سوچتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا پھر رائمہ کی جانب دیکھا ۔۔!!
“Ooo this is really bad .But we can’not even keep you hungry. So cadet Raima ! You do one thing “
(اوو یہ تو واقعی بہت برا ہوا ۔لیکن ہم آپکو بھوکا بھی تو نہیں رکھ سکتے نا ۔تو کیڈٹ رائمہ آپ ایک کام کریں )
ایک لمحہ رکنے کے بعد وہ پھر سے بولا ۔
“Take your glass”
رائمہ نے فوراا گلاس اٹھایا ۔وہ جان چکی تھی اسکے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔آنے والے لمحات کو سوچ کے اسکا کلیجہ منہ کو آ رہا تھا ۔۔!!
“Put some water in it”
وہ بڑے مزے سے بول رہا تھا ۔ سنیا نے افسوس سے رائمہ کو دیکھا کیونکہ وہ پی اے ایف کی اس اسپیشل کاک ٹیل کا مزہ چکھ چکی تھی اور یہ وہی جانتی تھی کہ وہ پینے کے بعد اسکی کیا حالت ہوئی تھی ۔۔!!
رائمہ نے دایاں ہاتھ بڑھا کر پانی کا جگ اٹھایا اور آدھے گلاس کو پانی سے پھر دیا ۔۔!!
Now put some rice , ketchup , sauce and salt and pepper according to taste”
رائمہ نے باری باری وہ تمام چیزیں اس گلاس میں ڈالیں ۔۔!!
“Shake it well with a spoon”
(اسے چمچ سے اچھی طرح ہلاو)
رائمہ نے چمچ سے اچھی طرح گلاس میں موجود چیزوں کو مکس کیا ۔۔!!
“You have ten seconds to finish it and your time starts now”
لیفٹیننٹ عبداللہ کی پرزور آواز پہ اسنے آنکھین میچ کے گلاس لبوں کو لگایا ۔اور اگلے دس سیکنڈز تک بس وہی جانتی تھی کہ اسنے اس اسپیشل کاکٹیل کو کیسے ختم کیا تھا ۔۔۔!!
اسنے گلاس حتم کر کے ٹیبل پہ رکھا اور اسے دیکھا جو مسکراتے ہوئے رائمہ کو ہی دیکھ رہے تھے ۔۔!!
“Very well. Now you can enjoy your dinner”
وہی سینئیرز والی مسکان چہرے پی سجائے وہ دونوں وہاں سے رخصت ہو گئے ۔رائمہ نے منہ پہ ہاتھ رکھ کے سنیا کی جان دیکھا ۔۔!!
“سنیا مجھے لگ رہا ہے وومٹنگ ہو جائے گی مجھے چلو جلدی چلیں” وہ گھبرائی ہوئی آواز میں بولتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی تو سنیا کو بھی اٹھنا پڑا ۔۔!!
“ریلیکس رائمہ ، چل رہے ہیں چلو” وہ بھی اسکے ساتھ ہی کیڈٹس میس سے باہر آئی ۔۔!!
” رائمہ تم ہاسٹک چکو میں بس ابھی آئئ ” سنیا نے دور کھڑے فائیق کو دیکھتے ہوئے کہا ۔رائمہ کی طبیعت اتنی خراب ہو رہی تھی کہ وہ اثبات میں سر ہلاتے جلدی سے ہاسٹل کی جانب بھاگی ۔۔!!
وہ روم میں داخل ہو کے جلدی سے واش روم کی جانب بڑھ کے واش بیسن پہ جھکی ۔اسکی برداشت بس یہیں تک تھی اسے زور کی ابکائی آئی اور سارا کھایا پیا باہر ۔کچھ دیر بعد وہ نڈھال سی باہر آکے بستر پہ بیٹھی ۔پانی پی کے لمبی لمبی سانس لئیے اور خود کو کمپوز کیا۔۔!!
وہ تھوڑی دیر ادھر ہی بیٹھی رہی پھر اٹھ کے وارڈروب سے اپنا نائٹ ڈریس لے کے چینج کرنے چل دی ۔ڈریس چینج کر کے وہ بستر پہ آ کے لیٹ گئی ۔حالانکہ اگلے ماہ اسکے ایگزام تھے لیکن آج اس میں پڑھنے کی ہمت نہیں تھی اسی لئیے آنکھیں موند کے کچھ ہی دیر میں نیند کی وادیوں میں کھو گئی۔۔
____________________
رائمہ کو بھیجنے کے بعد سنیا تیزی سے چلتی ہوئی فائیق کی جانب آئی ۔۔!!
“اسلام علیکم سر!” اسنے زور سے سلام کیا ۔فائیق کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی جبکہ اسکے لاس کھڑے اسکواڈرن لیڈر ثاقب نے حیرانی سے اس کیڈٹ کو دیکھا۔۔!!
” ثاقب تم چلو میں بعد میں آکے تم سے بات کرتا ہوں” فائیق نے ثاقب کو کہا تو وہ حیرانی سے اثبات میں سر ہلاتا چلا گیا ۔اسکے جانے کے بعد فائیق نے مسکراتے ہوئے سنیا کو دیکھا ۔۔!!
“کیسی ہو چھوٹی؟” پیار سے کہا گیا لیکن سنیا تو اس سے اچھا خاصہ ناراض ہونے کا پلان بنائے ہوئے تھی ۔۔!!
آپ کو پتا ہے بھائی آپ میں اور جاسم میں ایک چیز بہت کامن ہے” اسکے اس غیر متوقع جواب پہ فائیق نے زرا سا سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ دبائی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سنیا اب اس سے کیا کہنے والی ہے ۔۔!!
” یہی کہ وہ تو مجھے منکوحہ بنا کے بھول گئے ۔لیکن آپ تو سرے سے یہ ہی بھول بیٹھے ہیں کہ آپکی ایک عدد بہن بھی ہے۔چلیں بہن نا سہی کم از کم ایز آ سینئیر ہی مل لیا کریں ۔” وہ وہ نم آواز میں بول رہی تھی ۔سنیا جتنی مرضی بھی اسٹرانگ سہی لیکن رشتوں کے معاملے میں تھی تو وہ ایک کمزور اور عام سی لڑکی ہی ۔اسکے بھیگے لہجے پہ بے ساختہ فائیق کو اس پہ پیار آیا ۔۔!!
” ارے میرا بچہ ایسی تو کوئی بات ہی نہیں ۔میرا بچہ تو مجھے کر ٹائم یاد رہتا ہے اور اکثر تم مجھے نظر بھی آتی رہتی ہو ۔لیکن میری گڑیا ٹائم ہی نہیں ملتا تو میں کیا کروں ۔لیکن پھر بھی آئی پرامس آئندہ ایسی لاپرواہی نہیں ہو گی ۔چلو اب موڈ ٹھیک کرو اپنا”
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *