Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq NovelR50803 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode07
No Download Link
787.7K
13
Rate this Novel
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode01 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode02 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode03 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode04 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode05 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode06 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode07 (Watching)Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode08 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode09 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode10 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode11 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode12 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Last Episode
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode07
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode07
” آہاہ سنیا یار اب تو سینئیرز والی فیلنگ نہیں آتی؟” ان دونوں کو اکیڈمی جوائن کئیے ہوئے کتنے ہی ماہ ہو چکے تھے ۔دن جیسے پر لگا کر اڑ رہے تھے ۔اور اب تو وہ لوگ جونئیرز کو رگڑے لگاتے تھے ۔وہ دونوں اس ٹائم ہاسٹک روم میں سٹڈی ٹیبل پر بیٹھ کے پڑھ رہیں تھین جب اچانک ہی رائمہ نے سنیا سے کہا۔۔!!
سنیا پہلے تو اسکے ایک دم سے بولنے پہ چونکی پھر ہنس دی ۔۔!!
“یار کہہ تو تم بالکل ٹھیک رہی ہو ..اب تو جلاد قسم کے سینئیرز بھی زیادہ نہیں ملتے” وہ کتاب بند کر کے اسکے ٹیبل کے پاس آتے ہوئے بولی۔۔!!
” میرے لئیے تو بس تمہارے بھائی ہی جلاد تھے …باقی سب تو اتنے اچھے سینئیرز ہیں ” وہ اپنی ہی رو میں بول رہی تھی اور زبان کو بریک تو تب لگا جب سنیا کی خونخوار قسم کی گھوریوں پر نظر پڑی ۔رائمہ نے بیت مشکل سے اپنی مسکراہٹ دبائی۔!!
” اتنے بھی کوئی ہٹلر کے چچا نہیں ہیں میرے بھائی۔وہ دنیا کے سب سے بیسٹ بھائی ہیں ۔اتنی سوفٹ نیچر ہے انکی ..پتا نہیں تم پہ ہی کیوں انہیں غصہ آ جاتا تھا” اپنے بھائی کو ڈیفینڈ کیا گیا تھا ۔ہاں بھئی اسکا بھائی بیسٹ تو واقعی تھا آخر ایک انسان پاکستان ائیر فورس اکیڈمی میں ہو تو بیسٹ تو وہ خود بخود ہی بن جاتا ہے نا ۔۔!!
“ہاہا جیسے تمہارے بھائی میرے ساتھ بی ہیو کرتے رہیں ہیں نا ۔مجھے تو لگتا ہے کسی پچھلے جنم میں ،میں انکا جے ایف سیونٹین تھنڈر لے کے بھاگی ہوں” وہ ہنستے ہوئے بولی ۔جبکہ سنیا نے اسے بے دریغ گھوریوں سے نوازا ۔۔!!
” شرم کرو بد تمیز لڑکی…اگر ایسی بات ہوتی نا تو تم کم از کم بھی تین چار دفعہ فائیق بھائی کے ہاتھوں قتل ہو گئی ہوتی” سنیا نے بھی بدلہ پورا کیا تھا ۔اور وہ جو نوٹ بک پہ کچھ لکھ رہی تھی اس بات پہ شاک سے سنیا کو دیکھ کے چلائی۔مانا کہ وہ اسکا بھائی تھا لیکن رائمہ بھی تو اسکی فرینڈ تھی نا۔۔!!
“سنیا کی بچی” وہ چلائی۔۔!!
” اتنی ہمت نہیں ہے تمہارے بھائی میں کہ وہ رائمہ عبید کو قتل کرنے کا سوچیں بھی ۔” اسکی یہ باتیں اگر فائیق کے گنہگار کانوں تک پہنچ جاتیں تو وہ بے چارا تو شاک میں ہی چلا جاتا کہ اسکے سامنے زبان تک نا کھولنے والی اب کیسے باتیں کر رہی تھی ۔۔!!
” اوووووو” سنیا نے ہونٹ سکیڑے پھر بات شروع کی۔۔!!
” میں اور میرے بھائی تو ڈر ہی گئے تم سے”وہ ڈرنے کی مصنوعی ایکٹنگ جھاڑتی ہوئی بولی۔رائمہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔!!
” بالکل ..ڈرنا بھی چاہئیے..لیکن تم میری دوست ہو تو اس لئیے جاو ہم نے تمہیں معاف کیا .. پر میرا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھنا ” سنیا نے اسکے کندھے پہ ایک چپت رسید کی ۔۔بات کہاں سے کہاں جا پہنچی تھی ۔اس دن کے بعد سے واقعی فائیق رائمہ کے سامنے نہیں آیا تھا ۔اور آج بھی پتا نہیں کیسے باتوں باتوں میں اسکا زکر آ گیا تھا ۔۔!!
” ہاہا ہا اب پلیز کچھ پڑھ لو رائمہ.. اور پلیز مجھے بھی پڑھنے دو..ویسے بھی سارا دن سر کھپائی لگی رہتی ہے اس ٹائم ہی پڑھنے کا ٹائم ملتا ہے” آج رائمہ کی باتوں پہ سنیا کو واقی بہت ہنسی آ رہی تھی۔۔!!
“ہاہا اوکے آئن سٹائن کی اولاد پڑھ لو .” وہ ہنستے ہوئے بولی تو سنیا بھی سر جھٹک کے اپنی ٹیبل پہ چل دی ۔
_______________
دن تو جیسے پر لگا کر اڑھ رہے تھے ۔ایک سال ہو چکا تھا انہیں یہاں اس اکیڈمی میں اپنی زندگی کے حسین پل گزارتے ہوئے ۔۔!!
بلیو کلر کا کورآل پہنے کیڈٹس گراونڈ میں موجود تھے ۔وہ سب کے سب سوپر ایکسائیٹڈ تھے ۔کیونکہ ابھی سے کچھ دیر بعد وہ پیرا موٹر گلائڈنگ کرنے والے تھے ۔یہ ایڈونچر اسپورٹس کا ایک حصہ ہوتا ہے ۔اس موٹر کا وزن تقریباا چالیس سے پچاس کلو ہوتا ہے ۔کیڈٹس پیرا موٹر گلائیڈنگ کرتے چار سو سے پانچ سو فٹ بلندی پر جاتے ہیں ۔شروع شروع میں ہر کیڈٹ کو یہ بہت ہی مشکل لگتا ہے ۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ٹائیم اسٹیمنا بلڈ ہو جاتا ہے ۔۔۔!!
اور جس قوم کی بیٹیاں پچاس کلو کا وزن کندھوں پہ اٹھا کر اڑنے کو کھیل سمجھتی ہوں ایسی باہمت قوم اور ایسی با ہمت فضائیہ کو بھلا کون نیچا دکھا سکتا ہے جس کے شاہینوں نے صرف اونچا ہی اڑنا سیکھا ہو ۔اور یقین کریں پائیلٹ بننا کوئی آسان کام ہر گز نہیں ۔اپنی جان مارنی پڑتی ہے تب کہیں جا کے ایک پائیلٹ وجود میں آتا ہے ۔اسکے لئیے کیڈٹس کو بہت سے مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ ایک سیویلین کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔!!
اور ما شاء اللہ ہماری پاکستان ائیر فورس تو ویسے ہی اپنی سکلز اور اپنی قابلیت کے لحاظ سے دنیا بھر میں مقبول ہے ۔فضائیہ کو کسی بھی ملک کی شان سمجھا جاتا ہے ۔یہ واحد ادارہ ہے صرف جس میں افسر خود لڑتا ہے ۔جو بھی پاک فضائیہ میں جاتا ہے ادھر جا کے اسے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری فضائیہ اتنی قابل کیوں ہے ۔۔۔!!
“یار سنیا کب ہم جیٹ اڑائیں گے ۔اب تو انتظار نہیں ہوتا ۔ہائے” تمام کیڈٹس قطار بنائے ایک دم اسٹریٹ پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے تھے ۔رائمہ کو کچھ زیادہ ہی بے چینی تھی اس لئیے مدھم سی آواز میں اپنی ساتھ کھڑی سنیا کو پوچھا ۔سنیا دھیرے سے مسکرا دی ۔۔!!
” مائی ڈئیر فرینڈ .. اب ہماری منزل بہت قریب ہے ۔اللہ پہ یقین رکھو ۔ان شاء اللہ جلد ہی آپ جیٹ اڑائیں گے اور ہم جیٹ بنائیں گے” سنیا مدھم سے لہجے میں بولی ۔کیونکہ وہ انجیئرنگ برانچ سے تھی اور رائمہ ایوی ایشن برانچ سے ۔۔!!
” ان شاء اللہ ” رائمہ نے دل سے کہا ۔ تبھی انسٹرکٹر کی آواز پہ سنیا کو جانا پڑا کیونکہ اب اسے پیرا موٹر گلائیڈنگ کرنی تھی ۔بیلٹس وغیرہ باندھ کے کانوں پہ ہیڈ فون لگا کے جب موٹر آن کی جاتی ہے نا تو ایک دفعہ کم از کم ایک دفعہ تو دل بہت ہی خوشگوار انداز میں دھڑکتا ہے ۔کیڈٹ چاہے انجینئرنگ برانچ سے ہی کیوں نا ہو اسے ہر قسم کی ٹریننگ کرنا پڑتی ہے ۔۔!!
“آہستہ آہستہ وہ فضاوں میں اڑنے لگی تھی ۔شروع شروع میں انسان تھوڑا پینک ہوتا ہے۔لیکن بعد میں سب نارمل ہو جاتا ہے ۔کیونکہ ایک کیڈٹ جانتا ہے کہ وہ ہوا کا سپاہی ہے ۔اور ان ہواوں سے کیسا ڈر۔۔!!
ان فضاوں سے آگے
آسمانوں سے آگے
کہکشاوں سے آگے
ہم کو جانا ہے کہیں
چیر دوں آسماں
سرمئی بدلیاں
بازووں میں بھری شوق کی بجلیاں
ان فضاوں میں یہ کیسا احساس ہے
میں تیرے پاس ہوں تو میرے پاس ہے
یہ ہوا کا سفر،ہر طرف ہے نظر
دور کی پاس کی ، مجھ کو ہے سب خبر
ان فضاوں سے آگے
آسمانوں سے آگے
چاند تاروں سے آگے
آسمانوں سے آگے
ساری راہوں سے آگے
“جیسے جیسے اونچائی بڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے ہی دل کی دنیا جیسے سیراب ہو رہی تھی ۔تقریباا پندرہ سے بیس منٹ فضاوں میں اڑنے کے بعد اسنے لینڈ کیا تھا ۔مسکراہٹ اسکے چہرے سے جدا ہی نہیں ہو رہی تھی ۔کتنا مزا تھا ان ہواوں کو محسوس کرنے کا ۔۔!!
” آل دی بیسٹ جان .. کہیں جوش میں ہوش نا کھو دینا ” سنیا بیلٹس وغیرہ سے آزاد ہو کے دوبارہ رائمہ کے پاس آ کے بولی ۔جس کی کچھ دیر بعد کئ فلائینگ تھی ۔کیونکہ وہ ہمیشہ ہی کچھ زیادہ ایکسائیٹڈ ہوتی تھی ۔رائمہ نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور اسکے پاوں پہ اپنا پاوں مار کے آگے بڑھ گئی۔جبکہ پیچھے سنیا اپنی چیخ کا گلہ گھونٹنے کے لئیے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ گئی۔۔!!
___________________
“آج تو مزہ آئے گا ،تمہیں پتا ہے سنیا مجھے اکیڈمی کی ایک تو منڈے نائیٹ اور ایک فرائیڈے نائیٹ بیت ہی پسند ہے” وہ دونوں باتیں کرتی ہوئی میس سے نکل کر ہاسٹل کی جانب جا رہی تھیں جب رائمہ نے سنیا سے کہا۔آج انہوں نے یونیفارم کے برخلاف کپڑے پہنے ہوئے تھے کیونکہ منڈے نائیٹ کو خیڈٹس کو گھر والے کپڑے پہننے کی اجازت ہوتی ہے ۔رائمہ ڈارک بلیو شلوار قمیص کے ساتھ پاوں میں کولاپوری چپل پہنے اپنے لاپرواہ سے حلیے میں تھی ۔دوپٹہ گلے مئں جبکہ لئیرز میں کٹےبال کھلے ہونے کی وجہ سے کندھوں پہ بکھرے ہوئے تھے ۔جبکہ سنیا نے لائیٹ بلو ٹراوز پہ وائئٹ کلر کی کرتی پہنی ہوئی تھی سر پہ اسقارف بھی پہن رکھا تھا ۔۔!!
“آہاں چلو یہ منڈے نائیٹ کا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن یی فرائیڈے نائیٹ کا کیا چکر ہے” سنیا نے ابرو اچکاتے حیرانی سے پوچھا ۔۔!!
“وہ اس لئیے کیونکہ فرائیڈے نائیٹ کو بریانی بنتی ہے ۔اور تم تو جانتی یو نا مجھے بریانی سے کتنا پیار ہے ۔
It’s not just food ,It’s lifestyle,It’s love yaar .You eat biryani ,you feel biryani,That unmatchable taste .Aha “
وہ بولنے پہ آئی تو بولتی چلی گئی جبکہ بریانی کی اس قدر شاندار تقریف پہ سنیا ہنستے ہنستے بس گرنے ہی والی تھی ۔۔!!
“ہوش کے ناخن لو لڑکی۔ائیرفورس میں ہو کے بھی کس قدر بچگانہ سوچ ہے تمہاری” سنیا نے ہنستے ہوئے اسے لتاڑا وہ ڈھیٹوں کی طرح کندھے اچکا گئی۔۔!!
” بھئی میں تو ایسی ہی ہوں” وہ ایک ادا سے اپنے بال جھٹکتے ہوئے بولی سنیا نے اسکی جانب دیکھا ۔اب کی بار وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کے ہنس دیں ۔تبھی سنیا کی نظر خود سے کچھ فاصلے پہ کھڑے فائیق پہ پڑی وہ یقیناا ان دونوں کے بریانی کے بارے میں نادر خیالات سن چکا تھا ۔سنیا نے مسکرا کے ہاتھ ہلایا تو فائیق نے بھی مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلایا ۔۔!!
“چلو یار بھائی سے ملتے ہیں کتنے دنوں بعد نظر آئے ہیں وہ” سنیا نے ایک دم سے کہا اور وہ جو اپنے دھیان میں کھڑی تھی ایک جھٹکے سے گردن موڑ کے فائیق کو دیکھا پھو سنیا کو ۔۔!!
“نن نہیں تم جاو میں ہاسٹل جاتی ہوں مجھے ابھی پڑھنا ہے” وہ گھبرا کے کہتی جانے لگی جب سنیا نے اسکا ہاتھ پکڑا ۔۔!!
“کوئی نہیں تم بھی میرے ساتھ ہی چلو گی” اسکی کسی بھی مزاحمت کو نظر میں لائے بغیر وہ اسے کھینچتی ہوئی فائیق تک لے گئی ۔ مجبواا رائمہ کو بھی فائیق کو سلام کرنا پڑا لیکن اسنے اسے ایک کیڈٹ کی طرح ہی سلام کیا۔۔!!
فائیق نے بھی بنا کسی تاثر کے صرف سر ہلا کے جواب دینے پہ ہی اکتفا کیا۔۔!!
سنیا تو اپنے بھائی سے باتوں میں مصروف ہو گئئ جبکہ رائمہ بازو سینے پہ باندھے ارد گرد دیکھنے میں مصروف ہو گئی ۔ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی جس کی وجہ سے رائمہ کے بال اڑ کے اسکے چہرے پہ آ رہے تھے جو وہ بار بار ہوتھوں سے کان کے پیچھے اڑستی ۔فائیق کی نظریں گاہے بگاہے اس کے چہرے پہ پڑ رہی تھیں ۔جسکا شاید رائمہ کو علم نہیں تھا یا پھر وہ جان بوجھ کے نظر انداز کر رہی تھی ۔فائیق اندازہ نہیں لگا سکا۔۔!!
“او کے بھائی ہم ابھی چلتے ہیں پھو ملاقات ہو گی” سنیا کہتے ہوئے مڑی جب فائیق اچانک بولا۔۔!!
” سنیا تم جاو مجھے مس رائمہ سے کچھ بات کرنی ہے” اور رائمہ جو درختوں مئں نا جانے کیا ڈھونڈ رہی تھی فائیق کی اس بات پہ ایک جھٹکے سے سر موڑ کر حیرانی اور بے یقینی کی ملی جلی کیفیت میں پہلے فائیق کو پھر سنیا کو دیکھا ۔۔!!
“اوکے بھائی” سنیا الجھے ہوئے انداز میں بوکتی ہوئی چکی گئی تو رائمہ کا دل ڈوبا ۔رائمہ اسے دل ہی دل میں کوس کے رہ گئی۔۔!!
“کمینی سنیا تمہیں تو اللہ جی ہی پوچھیں گے اپنے اس جلاد بھائی کے پاس مجھے چھوڑ گئی ہو” وہ ااے کوسنے میں مصروف تھی جب فائیق کی آواز نے اسے اپنے خیالوں سے باہو نکالا ۔۔!!
” گھبرانے کی ضرورت نہیں مجھے بس ایک بات آپکو سمجھانی ہے اسکے بعد آپ یہاں سے جا سکتی ییں” سنجیدگی سے کیا گیا رائمہ نے حیرانی سے ایک نظر اسے دیکھا پھر نظریں جھکا گئی جو سوچ رہی تھی ایسی کیا بات ہے جو وہ اسے سمجھانا چاہتا تھا۔۔!!
“وہ دو فی میل کیڈٹس دیکھ رہی ییں نا؟” فائیق نے ان سے کچھ فاصلے پہ جاتی ہوئیں دو کیڈٹس کی طرف اشارہ کیا ۔رائمہ نے نظر اٹھا کے اسے نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا پھر فائیق کو ۔وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔۔!!
“ان سب نے اسقارف لئیے ہوئے ہیں نا؟” وہ اس سے تائید چاہ رہا تھا ۔رائمہ نے گھبرا کے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا ۔۔!!
“آئندہ آپ مجھے اسقارف کے بغیر کہیں بھی نظر آئی تو اپنی خیر منا لینا ۔اور ایک اور موسٹ امپورٹنٹ بات ، میری اس بات کو ہوا میں اڑانا ہی نہیں ہے بلکہ عمل بھی ہونا چاہئیے ۔امید کر سکتا ہوں کہ مجھے آئندہ سمجھانا نا پڑے آپکو۔ناو گو” رائمہ نظریں جھکائے ہوئے بھی اسکی آواز کی سختی محسوس کر سکتی تھی ۔وہ تو ہمیشہ سے ایسے ہی دوپٹے سے لاپرواہ رہی تھی۔حالانکہ عبید صاحب اور صوبیہ بیگم بھی اسے ہمیشہ ایک چھوٹی سی بچی کی طرح ٹریٹ کرتے تھے انہوں نے کبھی بھی اس پہ کسی بھی طرح کی روک ٹوک نہیں لگائی تھی ۔۔!!
“لیکن سر۔۔۔۔” اسنے ہمت کر کے کچھ کہنا چاہا جب فائیق نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔۔!!
“میں کچھ بھی سننا نہیں چاہتا ۔۔جسٹ گو” وہ سنجیدگی سے بولا ۔رائمہ بے چارگی سے سر ہلا کے چل دی۔۔!!
“میں نے خود کو اتنا بے بس کبھی محسوس نہیں کیا رائمہ جتنا تم مجھے کر گئی ہو ۔نہیں چاہتا کوئی بھی تمہیں اس طرح دیکھے۔حتہ کہ میں خود بھی تمہیں اس طرح نہیں دیکھنا چاہتا جب تک تم میری زندگی میں ایک الگ مقام سے ، میری محرم بن کے داخل نہیں ہو جاتی” اسکے جانے کے بعد فائیق بڑبڑاتا ہوا بالوں میں ہاتھ چلاتا مخض مسکرا کے رہ گیا۔۔!!
__________________
وہ اس ٹائم فریش سا ، نائٹ سوٹ پہنے ڈنر کرنے میں مشغول تھا جب ڈور بیل بجی۔جاسم پانی کا گھونٹ بھرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔اسنےدروازہ کھولا تو سامنے ہی شیطان کے چیلے مطلب کی فلائیٹ لیفٹیننٹ اسامہ اور فلائیٹ لیفٹیننٹ طلحہ چہرے پہ معصوم سی مسکراہٹ سجائے کھڑے تھے ۔مطلب کے آج پھر کوئی نا کوئی ڈیمانڈ لے کے خاضر ہوئے تھے ۔وہ دونوں جاسم کو بہت عزیز تھے ۔کچھ ان دونوں کی حرکتیں ہی ایسی تھیں کہ سیریس سے سیریس بندہ بھی ہنس دے ۔۔۔!!
“اسلام علیکم سر۔کیسے ہیں؟” مسکراتے ہوئے بولے ۔جبکہ انکا کچھ کچھ خوشامدی لہجہ جاسم محسوس کر چکا تھا ۔۔!!
” وعلیکم اسلام ، تم لوگ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو؟” جاسم بھی دروانے کے بیچ و بیچ تن کے کھڑا مصنوعی حیرت سے ان لوگوں کو پوچھنے لگا ۔۔!!
“سر یہ جو طلحہ ہے نا اس نے آپکو ایک بریکنگ نیوز دینی ہے” اسامہ اپنے لہجے کو بڑا پر اسرار سا بنا کے بولا ۔جبکہ طلحہ نے نا سمجھی سے اسامہ کو دیکھا ۔بھلا ایسی کون سی بریکنگ نیوز تھی جو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔۔!!
“بریکنگ نیوز تو میں بعد میں سنتا ہوں پہلے تم مجھے یہ بتاو تمہاری ہر نیوز ڈنر ٹائم پہ ہی کیوں بریک ہوتی ہے؟” جاسم نے اسے رگیدا ۔اسامہ بنا شرمندہ ہوئے ڈھیٹوں کی طرح ہنس دیا ۔۔!!
” آ جاو اندر” فائیق مسکراتا ہوا دروازے کے سامنے سے ہٹ کے اندر کی جانب بڑھ گیا تو ان دونوں نے بھی اسکی تقلید کی ۔۔!!
” اب بولو کیا بات ہے؟” جاسم بولتا ہوا بیٹھا ۔۔!!
اسامہ نے شرارتی نظروں سے طلحہ کو دیکھا پھر بولنا شروع کیا ۔۔!!
“سر وہ ایکچولی نا ہمارا یہ جو طلحہ ہے نا اسکی اینگیجمنٹ ہونے والی ہے ۔اور جو اسکی ہونے واکی فیانسے ہو نا وہ اس سے ملنے آ رہی ہے اس لئیے ہمیں آپکی گاڑی چاہئیے” جاسم کو قہقہہ تو گونجا ہی تھا جبکہ اس بات پہ بیچارا طلحہ جو کہ پانی پی رہا تھا تڑپ کے رہ گیا کیونکہ پانی اسکے گلے میں ہی اٹک گیا تھا ۔۔!!
جاسم سمجھ گیا تھا کہ اصل معاملہ گاڑی کا ہی ہے کیونکہ ان دونوں کو جب بھی گاڑی چاہئیے ہوتی وہ لوگ جاسم سے ہی لے کے جاتے۔۔!!
“کیوں بھئی طلحہ اینگیجمنٹ کروا رہے ہو اور ہمیں بتایا تک نہیں” جاسم شرارت سے طلحہ خو دیکھتا ہوا بولا تو وہ سٹپٹا سا گیا۔۔!!
“سر آپکو کیا بتاتا مجھے تو خود ابھی پتا چل رہا ہے کہ میری اینگیجمنٹ ہونے والی ہے اور تو اور میری ہونے والی فیانسے مجھ سے ملنے بھی آ رہی ہے” وہ اسامہ کو خونخوار نظروں سے گھورتا چبا چبا کے بولا ۔جبکہ اسامہ نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبائے کان کھجانے لگ گیا۔۔!!
“سر پلیز دے دیں نا گاڑی آئی پرامس کہ ہم جلدی وآپس کر جائیں گے” آخر بلی تھیلے سے باہر آ ہی گئی ۔ اسامہ بہت چارگی سے بولا ۔جانتا تھا کوئی جھوٹ جاسم کے سامنے چلنے والا نہیں۔۔!!
” ہاہا اوکے لے جاو ۔پر گاڑی کو گاڑی سمجھ کے ہی چلانا ، جیٹ سمجھ کے اڑانا نہیں اوکے؟” اسنے ہنستے ہوئے اسٹینڈ سے چابی اتار کے اسے دی اور ساتھ ہی احتیاط سے چلانے کا بھی کہا ۔ان دونوں نے زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا ۔۔!!
“سر آپ کتنے اچھے ہیں ، اللہ آپکو ہمارے جیسے ہی دو پیارے پیارے بیٹے دے” وہ شرارت سے کہتے ہوئے بھاگ گئے جبکہ جاسم ان دونوں کی شرارت پہ مخض سٹپٹا کے رہ گیا۔۔!!
____________________
“ایک تو پتا نہیں یہ فائیق سر کو مجھ سے مسئلہ کیا ہے ..بس انہیں تو موقع چاہئیے سب پہ..نہیں نہیں بس مجھ پہ اپنی دھاک بٹھانے کا ..ہٹلر کے چچا نا ہوں تو” وہ بڑبڑاتی ہوئی تیزی سے روم میں داخل ہوئی ۔سنیا جو کہ بال بنا رہی تھی جلدی سے برش رکھ کر اسکے پاس آئی۔۔!!
“کیا کہا بھائی نے؟ کہیں پھر سے ڈانٹ تو نہیں دیا” اسنے مسکراتے ہوئے پوچھا جبکہ رائمہ تو جل بھن گئی(دونوں بہن بھائی ہی فسادی ہیں) اسنے کڑھ کے سوچا۔۔!!
“تم..تم تو ہو ہی کمینی ..بات نہیں کرو مجھ سے..”اپنے اس جلاد بھائی کے پاس چھوڑ آئی..اتنا بھی نا سوچا کہ اگر تمہارے ویمپائر بھائی نے میرا خون پی لیا تو میں تو گئی کام سے …ابھی تو مجھے ایف سیونٹین بھی اڑانا ہے” وہ رخ موڑ کے بیٹھ گئی سنیا نے تاسف سے اسے دیکھا۔مطلب کے سارا چکر ہی ایف سیونٹین کا تھا ۔۔!!
“وہ میرے بھائی ہیں ..چمگادڑوں کا خون نہیں پیتے وہ” اسنے بھی بدلہ پورا کیا ۔رائمہ نے ایک جھٹکے سے اسکی جانب دیکھا ساتھ ہی اسکا منہ پورا کا پورا کھلا تھا۔۔!!
“کیا…م..میں” اسنے اپنے سینے پہ انگلی رکھی۔۔۔
“مطلب کہ میں چمگادڑ ہوں” اس بے چاری کا تو صدمے سے ہی برا حال تھا۔۔!!
“میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا اگر تم خود کو چمگادڑ سمجھ رہی ہو تو میں کیا کر سکتی ہوں” ادھر بھی لاعلمی پن کے مظاہرے کا کیا ہی خوب عالم تھا۔۔رائمہ نے خونخوار نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔سنیا کچھ دیر تو اسکی نظروں کو اگنور کرتی رہی پھر ہنس دی۔۔!!
“اوکے اوکے..آئی ایم سوری ” اسنے معصومیت سے کہتے اپنے کان پکڑے ۔رائمہ نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی کیونکہ وہ صرف اتنا ہی ناراض ہو سکتی تھی کسی سے بھی۔۔!!
“یہ تو بتاو کہ بھائی نے کیا کہا” سنیا نے پھر سے پوچھا ۔۔رائمہ نے آنکھیں گھما کے گہری سانس لی۔۔!!
“پتا نہیں عجیب سی باتیں کر رہے تھے ۔آئندہ اسکارف کے بغیر نظر نا آو ..اور پتا نہیں کیا کیا” وہ لاپرواہی سے بولی ۔سنیا کچھ دیر تو آنکھوں میں حیرانی لئیے اسے دیکھتی رہی پھر یکلخت ہی اسکی آنکھوں میں شرارت جاگی۔۔!!
“اہم اہم..مجھے رو سمتھنگ سمتنھگ لگ رہا ہے” لہجا بلا کا شرارتی تھا رائمہ نے ابرو اچکا کے اسے دیکھا ۔۔!!
“مطلب” وہ واقعی اسکی بات نہیں سمجھ سکی تھی اس لئیے کنفیوز سی ہو کے بولی۔۔!!
“دیکھو نا یار..اب جیسے بھائی تمہیں ٹریٹ کرتے ہیں آج تک انہوں نے ایسے کسی بھی لڑکی کو ٹریٹ نہیں کیا ..پتا نہیں کیوں ..تمہارے معاملے میں وہ بہت پوزیسسو لگتے ہیں ..مجھے تو لگتا ہے بھائی کا دل دماغ تم پہ آ گیا ہے” رائمہ کے خطرناک چتونوں کو نظر انداز کئیے وہ بس اپنی ہی ہانکنے میں مشغول تھی ۔رائمہ کچھ بھی کہے بغیر اٹھی اور کمرے میں ادھر ادھر کچھ ڈھونڈنے لگی۔سنیا نے حیرانی سے اسے دیکھا۔کیونکہ اسکے مطابق جس طرح کی بات اسنے کی تھی رائمہ کی طرف سے بڑا شدید قسم کا ریسپانس آنے کی امید تھی۔۔!!
“کیا ڈھونڈ رہی ہو؟” سنیا نے الجھ کے اسے دیکھا۔۔!!
“اپنی جی تھری اسالٹ رائفل..وہ اس لئیے کہ تمہارا یہ پیارا سا منہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے بند کر سکوں . تا کہ آئندہ تمہارے منہ سے ایسی فضول بکواس مر کے بھی نا نکلے” وہ چبا چبا کے بولی۔بس نہیں چل رہا تھا کہ سنیا کی اس فضول گوئی پہ سچ میں اسکا قتل کر دے ۔سنیا کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔!!
“ہاااا ہائے لڑکی ایک تو تمہیں اتنی اچھی بات بتا رہی ہوں بلکہ سمجھا رہی ہوں ۔الٹا تم مجھے ہی باتیں سنا رہی ہو..برائی ہی کیا ہے اس میں۔۔اتنے اچھے تو ہیں میرے بھائی ..فری میں ایف سیونٹین پہ جھولے لینا” اسنے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھنا چاہا جو کہ رائمہ نے جھٹک دیا۔۔!!
“استغفراللہ تمہارے بھائی کے ساتھ ایف سیونٹین پہ جھولے لینے سے تو اچھا ہے کہ میں مشاک سے چھلانگ لگا کے خود کشی کر لوں” وہ تو سنیا کی اس بات پہ ہی اچھل گئی ۔۔!!
“لو بھلا اب کیا تمہیں شادی ہی نہیں کرنی؟” سنیا نے خفگی سے کہا۔۔!!
“کروں گی ضرور کروں گی لیکن کسی بزنس مین کے ساتھ” رائمہ میڈم کے بھی اپنے عظیم خیالات تھے ۔اگر فائیق اسکے یہ عظیم خیالات سنتا تو اب تو وہ خود اسے اپنے ہاتھوں ضائع کر چکا ہوتا ۔۔!!
“آر یو سیریس؟ ایک ملٹری فیملی سے ہو کے ایک عام سیویلین سے شادی کر لو گی؟” سنیا نے حیرانی سے پوچھا۔۔!!
“کر” لوں گی” کیا ۔۔میں “کروں” گی” وہ اپنی بات پہ زور دے کے بولی ۔۔!!
“ہمم چلو دیکھیں گے تم بھی ادھر ہی ہو ہم بھی ادھر ہی ہیں'” وہ رائمہ کے سر پہ چپت مارتی ہوئی بولی تو رائمہ رخ موڑ کے مسکراہٹ دبا گئی۔کیونکہ اسکا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ اسکا سِرے سے شادی کرنے کا ہی کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔!!
جاری ہے
