Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq NovelR50803 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode09
No Download Link
787.7K
13
Rate this Novel
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode01 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode02 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode03 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode04 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode05 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode06 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode07 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode08 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode09 (Watching)Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode10 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode11 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode12 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Last Episode
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode09
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode09
“ماما بس کر دیں میں اب اور نہیں چل سکتی ” وہ دہائی دیتی ادھر ہی رک گئی ۔صوبیہ بیگم نے اسے تنبیہی نظروں سے دیکھا ۔صوبیہ بیگم اسے زبردستی اپنے ساتھ شاپنگ کرنے مال لائیں تھیں لیکن مجال ہے جو رائمہ میڈم نے انہیں ایک بھی چیز سکون سے لینے دی ہو ۔۔!!
“رائمہ ڈرامے نہیں کرو ۔پتا نہیں کیسی بوڑھی روح ہے تم میں ۔لڑکیوں کو تو شاپنگ کرنے کا اتنا کریز ہوتا ہے اور ایک میری اولاد ہے” انہوں نے اسے ڈپٹا ۔شاپنگ بیگز ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کئیے ۔۔!!
“افففف” رائمہ نے بے چارگی سے انہیں دیکھا ۔۔!
“ماما مجھے کچھ نہیں پتا میں سچ میں اب اس سے زیادہ نہیں چل سکتی ۔آپ پلیز جا کے آرام سے شاپنگ کر آئیں میں فوڈ کورٹ میں آپ کا ویٹ کرتی ہوں ۔پلیز ماما پلیز ” اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کے التجا کی ۔کیونکہ یہ شاپنگ کرنا اسے سب سے برا کام لگتا تھا ۔۔!!
“اوکے تم ادھر جا کے بیٹھو ۔اور خبردار کسی قسم کی شرارت کی ۔بس جب تک میں نہیں آ جاتی میرا ویٹ کرو ” انہیں اس کی شکل پہ ترس آ ہی گیا تھا پر ساتھ ہی تلقین کی ۔رائمہ مسکرائی ۔۔!!
“اوکے ماما آپ آرام سے جائیں اور آرام سے شاپنگ کریں” اسنے پیار سے انکا گال کسی بچے کی طرح تھپتھپایا ۔وہ مسکرا دیں پھر اسے فوڈ کورٹ میں جانے کا کہتیں ایک دوسری شاپ میں چلی گئیں ۔رائمہ فوڈ کورٹ میں داخل ہوئی ۔ایک خالی ٹیبل کا انتخاب کرتی وہ اس پہ بیٹھ گئی ۔وہ ابھی اردگرد نگائیں گھما رہی تھی جب ایک منظر پہ اسکی آنکھیں سکڑیں ۔ایک لڑکا ادھر موجود ایک لڑکی کا ہاتھ زبردستی پکڑے ہوئے تھا اور وہ لڑکی مسلسل اس سے اپنا ہاتھ چھڑا رہی تھی ۔اور رائمہ تو ویسے بھی ہو کسی کے معاملے میں ٹانگ اڑانا اپنا پیشہ سمجھتی تھی اس لئیے فوراا غصے سے اٹھی اور ان کی جانب چل دی ۔اس ٹائم اسے ماما کی تلقین بھول چکی تھی۔۔!!
“اسکا ہاتھ چھوڑو ” وہ ان کے پاس جا کے بولی ان دونوں لڑکا اور لڑکی نے حیرانی سے اس کی جانب دیکھا ۔۔!!۔
“اسکا ہاتھ چھوڑ کے تمہارا پکڑ لوں ؟ویسے اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے” وہ لوفر سا لڑکا دانت نکالتے ہوئے بولا ۔ رائمہ کا ہاتھ اٹھا اور اس کے چہرے پہ نشان چھوڑ گیا تھا ۔اس لڑکی نے شاک کے مارے منہ پہ ہاتھ رکھا جب کہ وہ لڑکا بھی رخصار پہ ہاتھ رکھے اپنی سرخ آنکھوں سے رائمہ کو دیکھ رہا تھا ۔ایک پل کو رائمہ کو اپنے کئیے پہ پچھتاوا ہوا ۔۔!!
“تم..تمہاری اتنی ہمت کہ تم مجھے ہاتھ لگاو ” اسنے رائمہ کی کلائی زور سے پکڑ کے اسے اپنی جانب کھینچا ۔ وہ تو شاک میں ہی آ گئی تھی ۔۔!!!
“بلال چھوڑ دو اسکا ہاتھ ” اس لڑکے کے ساتھ لڑکی نے اس لڑکے کو منع کرنا چاہا لیکن اس لڑکے کے سر پہ خون سوار تھا ۔رائمہ نے حیرانی سے اس لڑکی کو دیکھا جو ایسے بول رہی تھی جیسے اس لڑکے سے بڑی دوستی رہی ہو اس سے ۔۔!!
“ارم اس نے مجھے تھپڑ مارا ہے ایسے کیسے چھوڑ دوں” وہ چبا چبا کے بولا ۔۔!!
“پلیز میرا ہاتھ چھوڑو ” اس نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا ۔۔!!
“لگتا ہے تمہیں بہت شوق ہے دوسروں کے معاملات میں دخل دینے کا ۔میں تمہیں بتاتا ۔۔۔”
“رائمہ آپ یہاں” وہ ابھی بول رہا تھا جب اس شناسہ سے آواز پہ رائمہ نے مڑ کے دیکھا ۔اسے دیکھ کے رائمہ کو لگا کہ اللہ نے اسے بچا لیا ہے ۔۔!!
جاسم جو کہ آج ہی بیس سے گھر صرف سنیا کی برتھ ڈے کے لئیے آیا تھا وہ اس ٹائم مال میں اس کے لئیے کوئی گفٹ کی تلاش میں تھا جب اسکی نظر رائمہ پہ پڑی وہ جلدی سے اس جانب آیا ۔۔!!
“بھائی مجھے بچا لیں ۔یہ دیکھیں یہ گندا لڑکا پہلے اس ..اس لڑکی کے ساتھ بدتمیزی کر رہا تھا اب میرے ساتھ کر رہا ہے ۔” اسنے جلدی سے اسے بتایا ۔وہ شکل سے ہی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔!!
“چھوڑو اسکا ہاتھ ” جاسم نے اس لڑکے کے ہاتھ سے رائمہ کا ہاتھ چھڑوایا تو رائمہ جلدی سے اسکے ساتھ کھڑی ہو گئی ۔۔!!
“مجھ سے تو اسکا ہاتھ چھڑوا لیا ہے محترم لیکن ہر کوئی نہیں چھوڑتا ۔بہتر ہو گا کہ آئندہ احتیاط کریں اور اپنی بہن کو یہ بھی سمجھائیں کہ کسی کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے۔ورنہ لڑکیوں کی عزت تو ویسے بھی بہت نازک ہوتی ہے ” وہ رائمہ کو سخت نظروں سے گھورتا جاسم سے بولا ۔۔!!
“بکواس بند کرو اپنی ۔تمہیں ہمیں سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔اور جس طرح تم نے اسکا ہاتھ پکڑ کے کھینچا تمہاری اخلاقیات بھی بہت اچھے سے نظر آئیں مجھے” جاسم غصے سے بولا ۔وہ ایک دفعہ ہی رائمہ سے ملا تھا لیکن بہت اچھی جان پہچان ہو گئی تھی ۔اور فائیق بھی تو اسے رائمہ کے بارے میں کوئی نا کوئی بات بتاتا رہتا تھا ۔۔!!
” دیکھیں مسٹر آپکی بہن کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے وہ میرا بوائے فرینڈ ہے ” اس سے پہلے کہ وہاں کوئی جنگ شروع ہوتیوہ لڑکی جلدی سے جاسم سے بولے ۔رائمہ کا منہ اور آنکھیں حیرت سے کھل گئیں ۔۔!!
“واٹ؟” اسکی تو آواز ہی نہیں نکل رہی تھی ۔۔!!
“رائمہ آپ چلو ادھر سے” جاسم نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنے ساتھ کھینچا ۔تھوڑا سا دور جا کے وہ روکی اور ان دونوں کو دیکھا۔۔!!
“لعنت ہو تم دونوں پر” وہ بول کے جلدی سے جاسم کا ہاتھ زور سے پکڑ کے تیزی سے چل دی۔ان دونوں نے غصے سے دیکھا ۔جاسم کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئی ۔وہ واقعی بچی تھی ۔۔!!
“رائمہ آپکو واقعی کسی کے معاملے میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئیے تھی ۔اگر میں ادھر نا آتا تو جانے کیا ہوتا” وہ اسے ٹیبل پہ بیٹھنے کا اشارہ کرتے سمجھاتے ہوےے بولا۔۔!!
“لیکن بھائی آپ خود سوچیں جس طرح وہ اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ کے کھینچ رہا تھا اس طرح کوئی بھی غلط سمجھ سکتا ہے ۔ مجھے لگا اس لڑکی کو میری ہیلپ کی ضرورت ہے اس لئیے میں گئی” وہ اسے وضاحت دیتی بولی۔۔!!
“کر لی ہیلپ ؟ الٹا آپ مصیبت میں پھنس جاتیں” جاسم نے ٹیبل پہ ہاتھ رکھے ۔رائمہ نے بچوں کی طرح منہ بنایا ۔۔!!
“اوکے سوری بھائی آئندہ نہیں کروں گی” وہ لجاہت سے بولی ۔جاسم نے مسکرا کے اسے دیکھا ۔۔!
“گڈ گرل لیکن یہ بتائیں آپ یہاں کس کے ساتھ آئیں ہیں؟” اسنے مینیو کارڈ اٹھاتے ہوئے پوچھا ۔۔!!
“ماما کے ساتھ شاپنگ پہ آئی ہوں ۔نہیں بلکہ زبردستی لائی گئی ہوں ” وہ بے چارگی سے بولی ۔جاسم نے بھنویں سکیڑ کے اسے دیکھا۔۔!!
“میرا جہاں تک علم ہے لڑکیاں تو پاگل ہوتی ہیں شاپنگ کے لئیے اور آپ اکتا رہی ہو”
” لڑکیاں پاگل ہوتی ہوں گی لیکن مجھ سے نہیں فضول میں مالز گھومے جاتے ۔نا ہی اتنا خوار ہوا جاتا ہے ” جاسم اسے جواب پہ ہنس دیا ۔۔!!
“اچھا یہ بتائیں کیا لیں گی ؟ “
” آئس کریم” وہ ہنستی ہوئی بولی ۔جاسم نے مسکرا کے ویٹر کو آرڈر نوٹ کروایا ۔تبھی رائمہ کی ماما بھی وہیں آ گئیں ۔رائمہ نے جاسم سے انکا تعارف بھی کروایا ۔وہ واقعی بہت خوش ہوئیں تھیں جاسم سے مل کے ۔جاسم تھوڑی دیر ادھر بیٹھا پھر انہیں ایکسکیوز کرتا چلا گیا تو وہ بھی اٹھ آئیں ۔۔!!
“کافی اچھا لڑکا ہے ڈیسنٹ سا ” گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے صوبیہ بیگم نے جاسم کے بارے میں تبصرہ کیا ۔رائمہ جو کہ موبائل پہ کوئی گیم کھیلنے میں بزی تھی مسکرا کے لاپرواہی سے بولی۔۔!!
“یس ماما وہ واقعی بہت اچھے ہیں ۔”صوبیہ بیگم نے نظریں سڑک پہ سے ہٹا کے اسے دیکھا۔۔!!
“رائمہ تم میرا مطلب نہیں سمجھیں ۔میں کسی اور حوالے سے بات کر رہی ہوں” انکی بات پہ رائمہ نے موطائل سے نظریں ہٹا کے ابرو اچکا کے انہیں دیکھا ۔۔!!
“کس حوالے سے ماما؟”
“دیکھو نا وہ کتنا اچھا ہے ۔کتنا پولائیٹ سا ۔اتنے اچھے انداز میں بات کرتا ہے ۔میں ہمیشہ تمہارے لئیے ایسا ہی کوئی لائف پارٹنر سوچتی ہوں” انکی بات نے رائمہ کو سر پکڑنے پر مجبور کر دیا وہ ہمیشہ اسے بھائی سمجھتی تھی اور وہ بھی تو اسے بہنوں کی طرح ہی ٹریٹ کرتا تھا ۔۔!!
“خدا کا خوف کریں ماما ۔پہلی بات میں ایسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتی کیونکہ وہ میرے بھائی ہیں ۔دوسرے بات انکی ایج کم از کم بھی مجھ سے گیارہ یا بارہ سال زیادہ ہو گی میں تو کبھی بھی خود سے اتنے بڑے لڑکے سے شادی نا کروں ۔ ” وہ تو کانوں کو ہاتھ لگا رہی تھی ۔۔!!
“تو کیا کسی کاکے سے شادی کرو گی” انکا طنزیہ لہجہ رائمہ کو قہقہہ لگانے پہ مجبور کر گیا ۔۔!!
“ہاہا ماما دیکھیں آپ کی اور بابا کی ایج میں صرف دو تین سال کا ہی گیپ ہے ۔اور بابا آپکو کتنا سمجھتے ہیں اتنے اچھے سے ٹریٹ کرتے ہیں ۔مجھے بھی اگر کوئی بابا جیسا ملا تو شادی کر لوں گی ۔ورنہ شادی کے بغیر ہمارے کون سا کوئی بزنس رکے ہوئے ہیں ۔نا بھی کیا تو اپنا اچھا گزر بسر ہو رہا ہے نا تو آئندہ بھی ہو جائے گا” وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔جبکہ صوبیہ بیگم صرف اسے دیکھ کے ہی رہ گئیں ۔یہ باپ بیٹی واقعی انہیں ہر معاملے میں گھومانے کا فن خوب جانتے تھے ۔۔!!
_________________
اسنے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا ۔اس ٹائم رات کے بارہ بجے تھے اور وہ اسے سب سے پہلے وش کرنا چاہتا تھا ۔کمرے میں نائٹ بلب کی ہلکی سے روشنی میں وہ بیڈ پہ کندھوں تک چادر اوڑھے خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی ۔اسے دیکھ کے جاسم کے ہونٹوں پہ ایک خوبصورت سی مسکراہٹ نے احاطہ کیا ۔وہ آگے بڑھ کے اسے تکیے والی سائیڈ پہ اسکے پاس آ کے بیٹھ گیا ۔۔!!
آہستی سے ہاتھ بڑھا کے اسے چہرے سے آوارہ لٹوں کو پیچھے کیا ۔وہ بس مگن سا اسے تکتا جا رہا تھا ۔تقریباا آٹھ یا نو بعد وہ اس چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔!!
“سنو ..اٹھ جاو” تھوڑا سا جھک کے آہستہ سے سرگوشی کی لیکن سنیا میڈم کی نیند میں خلل نا پڑا ۔۔!!
وہ کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا پھر ایک کوشش کی۔۔!!
“اٹھ جاو یار ایک تو اتنی دور سے تمہیں ملنے کے لئیے آیا ہوں اور ایک تم ہو کہ اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہیں ” اسنے اب کی بار اسکا گال تھپتھپاتے ہوئے شکوہ کیا ۔سنیا نے کسمسا کے آنکھیں کھولیں ۔کچھ دیر وہ ماتھے پہ بل ڈالے اردگرد کے ماحول کی سمجھنے کی کوشش کرتی رہی پھر آنکھیں بند کر کے کروٹ بدل کے سو گئی ۔جاسم کے چہرے پہ تبسم بکھر گیا ۔۔!!
ہاں اتنا ہی مشکل تھا اسے نیند سے اٹھانا ۔وہ تو یہ سوچتا تھا کہ اکیڈمی میں پتا نہیں وہ کیسے اپنی نیند قربان کرتی ہو گی ۔لیکن وہ کہتے ہیں نا بندے کو جس چیز سے عشق ہو اس کے لئیے وہ نیند تو کیا اپنا جان تک قربان کر دیتا ہے ۔۔!!
محترمہ اٹھ جاو ورنہ میں وآپس چلا جاوں گا تم سے ملے بغیر” جاسم نے اسکے پال اپنی کلائی پہ لپیٹنے شروع کر دئیے ۔سنیا جنجھلا کے اٹھی ۔ایک تو اتنے دنوں بعد سونے کا موقع ملا تھا لیکن جاسم صاحب مسلسل تنگ کئیے جا رہے تھے ۔۔!!
” جاسم کیا مسئلہ ہے کیوں میری نیند خراب کر رہے ہیں” وہ اپنے بال جوڑے کی شکل میں لپیٹتی ہوئی خفگی سے بولی ۔جاسم نے مسکراہٹ دباتے اسکے بالوں کی لٹ کھینچی ۔سنیا نے سوئی سوئی آنکھوں سے اسکا چہرہ دیکھا ۔۔!!
“نہیں کریں نا بھئی۔پللیز سونے دیں” وہ بے چارگی سے بولی ۔۔!!
“اوکے ابھی میرے ساتھ چلو تمہیں کچھ دکھانا ہے پھر جتنا چاہے مرضی سو جانا ” وہ اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنے ساتھ لے جانے لگا تو سنیا کو بھی جانا پڑا ۔۔!!
“آنکھیں بند کرو ۔اور تب تک نہیں کھولنی جب تک میں نا کہوں ” لان میں پہنچ کے جاسم نے مڑ کے اسے دیکھا ۔سنیا نے بلا کسی چوں چراں بچوں کی طرح سر ہلاتے آنکھیں بند کریں ۔جاسم کو اس پہ ٹوٹ کے پیار آیا ۔۔!!
وہ اسکا ہاتھ تھامے چلتا ہوا پچھلے لان تک آیا ۔۔!!
“ہیپی برتھ ڈے مائی لووّ” اپنے پیچھے سے آتی مدھم سی آواز پہ سنیا نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں ۔اسنے حیرانی سے سارا منظر دیکھا ۔ایک ٹیبل پہ ڈھیر ساری پھول کی پتیاں تھیں جن پہ کیک رکھا ہوا تھا ۔اور وہاں سے کچھ فاصلے پہ دیے رکھ کے ہارٹ کی شکل دی گئی تھی ۔وہ جاسم سے یہ بھی ایکسپیکٹ نہیں کر رہی تھی کیونکہ وہ ان معاملوں میں کورا تھا ۔۔!!
اسنے مڑ کے جاسم کو دیکھا ۔۔!!
“واو دس از سو بیوٹیفل جاسم ۔آئی لوو دس ۔یہ سب آپ نے کیا ہے؟” وہ ابھی بھی بے یقین تھی ۔لیکن خوشی اسکی آنکھوں سے جھلک رہی تھی ۔۔!!
“بالکل یہ چھوٹا سا سرپرائز میری پیاری سی وائفی کے لئیے ” اسنے پیار سے اسکے دونوں نازک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئیے ۔۔!!
میرے اجنبی،میرےآشنا!
تجھے حرف حرف دعا لکھوں
کوئی ایسا وصال نصیب کر
تجھے چاند تارے ہوا لکھوں
گر بن نا سکوں کبھی تیرا
تو حیات کو فنا لکھوں
یہ زندگی قدم قدم
تیری یاد سے جواں رہے
میرے اجنبی میرے آشنا !
تجھے کبھی نہ خود سے جدا لکھوں
وہ چہرے پہ پیاری سی مسکراہٹ سجائے مبہوت سا اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بول رہا تھا ۔اسکے لفظ سنیا کے دل پہ اثر کر رہے تھے ۔سنیا حیرانی سے اسی دیکھ رہی تھی ۔۔!!
“غزل تو بہت اچھی تھی لیکن آپ نے کب سے عاشقوں کی طرح یہ شعر و شاعری شروع کر دی” وہ جو سنیا سے کسی خوبصورت سے الفاظ کا منتظر تھا اس بات پہ اپنا سر پیٹ کے رہ گیا ۔مطلب کہ حد تھی ۔۔!!
“ایخ تو میں نے اتنی مشکل سے یہ غزل یاد گی ۔اور تم ہو کہ کسی خوبصورت اقرار یا اظہار کے بجائے مجھ سے یہ بے تکا سا سوال پوچھ رہی ہو ” وہ تو تپ ہی گیا تھا ۔سنیا نے لب دانتوں تلے دبا کے ایک آنکھ میچی ۔وہ واقعی ٹھیک کہہ رہا تھا ۔اسنے ایک نظر اپنے خفا سے مجازی خدا کو دیکھا جو بازو سینے پہ باندھے رخ دوسری جانب موڑ چکا تجا ۔۔!!
سنیا نے آگے بڑھ کے آہستہ سے اسکی گردن کے گرد بازو حمائل کئیے اور پیشانی اسکی پشت ست ٹکرا کے آنکھیں موند لیں ۔جاسم کے چہرے پہ بہت خوبصورت سے مسکراہٹ پھیل گئی۔۔!!
“آپکو پتا ہے نا میں بہت اسٹریٹ فارورڈ ہوں ..مجھے یہ شعر و شاعری نہیں آتی ۔سیدھی طرح بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ آپ میرے لئیے بہت اہم ہیں ۔اتنے ماہ آپکو دیکھے بغیر آپکو سنے پغیر کیسے گزارے یہ صرف میں ہی جانتی ہوں ۔آپ کو دیکھ کے میری جان میں جان آتی ہے ۔آپ روح کی طرح میرے وجود میں بستے ہیں ۔میں آپ سے لڑتی ہوں ۔آپ سے ناراض ہوتی ہوں لیکن میں آپ کے بغیر رہ نہیں سکتی ۔میں اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں اتنا کم ہے کہ اس نے مجھے آپ سے نوازا ۔” جاسم مبہوت سا اسکی باتیں سن رہا تھا ۔سنیا کے خاموش ہونے پہ وہ اسکی جانب آہستہ سے مڑا ۔پھر آہستہ سے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کے اسکی پیشانی پہ آہستے سے اپنے لب رکھ دئیے ۔کچھ دیر اسکا لمس محسوس کرنے کے بعد وہ سیدھا ہوا ۔سنیا کا چہرہ سرخ ہوا تھا لیکن ماحول کا اثر ذائل کرنے کے لئیے جلدی سے بولی۔۔۔!!
“اچھا یہ سب چھوڑیں میرا گفٹ دیں” وہ ادھر ادھر نظریں گھماتی بولی۔ ہر چیز کو دیکھ رہی تھی سوائے جاسم کے۔لڑکی چاہے جتنی مرضی بولڈ ہو لیکن ہوتی تو آخر لڑکی ہی ہے ۔جاسم اسکا گریز سمجھکے آہستہ سے ہنس دیا ۔۔!!
” لڑکی گفٹ بھی دیتا ہوں پہلے کیک تو کاٹ لو” وہ اسکا ہاتھ تھامتا ٹیبل کے پاس لے آیا ۔کیک کاٹنے کے بعد بھی سنیا کو جلدی تھی گفٹ لینے کی ۔۔!!
“یہ لیں محترمہ آپکا گفٹ” اسنے خوبصورت سے گفٹ پیپر میں پیک ایک درمیانے سائز کا باکس اسکی جانب بڑھایا ۔۔!!
“اتنا بڑا باکس اس میں کیا ہے” وہ گفٹ پیپیر احتیاط سے کھولتی پوچھ رہی تھی ۔۔!!
“کھول کے خود ہی دیکھ لو” وہ اپنی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑا مسکراہٹ دبائے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔!!
سنیا نے مسکراتے ہوئے باکس کھولا لیکن اس باکس میں موجود پہ نظر پڑتے ہی ااکی مسکراہٹ سمٹی تھی ۔۔!!
“جاسم” وہ چلائی۔۔!!
“جی جانِ جاسم” پیار بھرا شریر لہجہ ۔۔!!
“یہ کیسا گفٹ ہے ؟” وہ صدمے سے بولی ۔۔!!
” تم نے ہی پچھلی دفعہ بولا تھا کہ گفٹ دل سے دیا جاتا ہے ۔اور میں نے آپکو یہ بہت دل سے گفٹ کیا ہے ” وہ تھوڑا سا جھک کے اسکی آنکھوں میں دیکھ کے بولا ۔۔!!
“ہاں بولا تھا لیکن گفٹ میں ٹینڈے کوں گفٹ کرتا ہے؟ یہ لیں یہ آپ ہی کھائیں مجھے نہیں چاہئیے گفٹ ” وہ باکس اسکے ہاتھ میں پکڑا کے جانے لگی جب جاسم نے سرعت سے اسکا ہاتھ تھاما ۔۔!!
” ارے ارے ارے جاسم کی جان اتنا غصہ ” وہ اسے روکتا ہوا شریر لہجے میں بولا لیکن سنیا کے خفا چہرے پہ کوئی مسکراہٹ نہیں آئی۔۔!!
جاسم نے دوسرے ہاتھ سے پینٹ کی جیب سے ایک پیاری سے مخملی ڈبیا نکالی ۔اور کھول کے اسکے ہاتھ پہ پیاری سے بریلسلیٹ پہنائی ۔۔سنیا کے چہرے پہ اسے دیکھ کے مسکراہٹ آئی۔۔!!
“۔تم تو مزاق بھی نہیں سمجھتیں۔کیسا لگا یہ والا گفٹ ” اسنے اسکی ناک کی ٹپ آہستہ سے دبائی ۔۔!!
” ٹینڈوں سے تو بہت اچھا ہے” وہ اسکی گال پہ چٹکی کاٹ کے کھلکھلائی ۔جاسم بھی اپنی متاع حیات کو دیکھ کے ہنس دیا ۔۔!!
___________________
“بابا جان صرف تین منٹ میں ہمیں لان کے پورے تین چکر کمپلیٹ کرنے ہیں ۔اور مجھے یقین ہے ہمیشہ کی طرح میں ہی جیتوں گی” لائٹ پنک کلر کے ٹرکی سوٹ میں ملبوس ، پاوں میں جاگر پہنے ،بالوں کی اونچی پونی ٹیل کئیے وہ انہیں چیلنج کر رہی تھی ۔عبید صاحب کمر پہ ہاتھ رکھے اپنی اس جان سے پیاری بیٹی کو دیکھ رہے تھے ۔۔!!
“اوو تو بابا کو چیلنج کیا جا رہا ہے” انہوں نے ہونٹ سکیڑے اور سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا ۔۔!!
“بالکل بابا جان آپ بوڑھے ہو گئے ہیں تو ظاہر سی بات ہے میں ہی یہ ریس وِن کروں گی نا” اسنے ناز سے پلکیں جھپکائیں ۔۔!!
“بیٹا جانی آپ ابھی ہمیں جاتنی نہیں ہیں ۔ہم آرمی والوں کو کسی بھی حال میں ہارنا سکھایا ہی نہیں جاتا ۔اور رہی بوڑھےہ ہونے والی بات تو بس انیس بیس سال ہی بڑا ہوں آپ سے ” وہ ہاتھوں کو محسوس انداز میں جھلاتے ہوئے بولے۔چہرے پہ پیاری سی مسکراہٹ تھی ۔ وہ بالکل ینگ لگتے تھے ۔چھوٹی سی عمر میں ہی تو انکی شادی ہو گئی تھی ۔اور رائمہ جان بوجھ کے انہیں تنگ کرتی کہ وہ بوڑھے ہو گئے ہیں ۔حالانکہ آرمی والے تو خود کو مینٹین کر کے رکھتے ہیں ۔۔!!
“ہاہاہا ۔۔۔اووو نووو بابا تو آپکو کس نے بولا تھا اتنی چھوٹی سی عمر میں شادی کرنے کے لئیے ” پونی ٹیل کو جھلاتی وہ کھلکھلائی ۔ہمیشہ کی طرح وہی سوال پوچھا ۔۔۔!!
“بس کیا کریں بیٹا جانی ، ہمیں کسی نے پوچھا تک نہیں اور دلہا بنا کے بیٹھا دیا ۔اگر قبول ہے نا بولتے تو ہمارے ابو جان سے ہمیں جوتے پڑ جانے تھے ۔” وہ اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے بظاہر بڑی رنجیدگی سے بولے ۔جبکہ آنکھوں میں شریر سی چمک تھی ۔۔!!
“آآآآآآ کتنی سویٹ سی لوّو اسٹوری ہے آپکی ” وہ پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے ہنس رہی تھی ۔اسکی کھلکھلاہٹ میں عبید صاحب کا قہقہہ بھی شامل ہوا ۔۔۔!!
“یہ باتیں بعد میں اب جلدی سے ریس شروع کریں ” عبید صاحب نے کہا تو اسنے دونوں ہاتھ منہ پہ رکھ کے اپنی ہنسی دبائی ۔کئی لمحوں بعد وہ ہنسی روکنے میں کامیاب ہو پائی ۔۔!!
وہ دونوں سٹارٹنگ پوائنٹ پہ پوزیشن میں کھڑے تھے ۔۔۔!!
“ون،ٹو،تھری اینڈ گو” دونوں باپ بیٹی ایک ساتھ دوڑے ۔۔رائمہ اپنی پوری طاقت سے دوڑ رہی تھی ۔شروع میں عبید صاحب بھی فل تیزی سے دوڑے پھر آخر پہ جا کے انہوں نے جان بوجھ کے اپنی اسپیڈ آہستہ کر لی ۔وہ ہمیشہ ہی ایسے کرتے تھے ۔انہیں پتا نہیں کون سی خوشی ہوتی تھی رائمہ سے ہار کے ۔واقعی صرف ایک باپ ہی ہوتا ہے جو اپنی اولاد کو خود سے بہت کامیاب دیکھنا چاہتا ہے ۔۔!!
“یاہووووووووو آئی وَن دِس ریس” وننگ پوائنٹ پہ پہنچ کے جوش سے بازو پھیلائے وہ چلائی ۔۔عبید صاحب مسکراتے ہوئے اسکے پاس آئے۔۔!!
جاری ہے
