Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Diyar E Wehsat (Episode 9)

Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel

“ہیر نہیں۔۔۔ پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ میں کیسے رہ پاؤ گا تمہارے بغیر۔۔۔ جو تم نے وعدہ لیا تھا میں پورا کرو گا پلیز تم مجھے چھوڑ کر مت جاؤ”

شیر عباس کی آواز سے برابر میں سوئی ہوئی ہیر کی آنکھ کھل گئی، اُس نے اپنےقریب لیٹے ہوۓ شیر عباس کو نیند میں بڑبڑاتے ہوۓ سنا

“کون سا وعدہ عباس، کیا ہوا آپ کو میں یہی ہوں آپ کے پاس آنکھیں کھول کر دیکھیں۔۔۔۔ یہ دیکھیں میں یہی ہوں آپ کے پاس کہیں نہیں جارہی ہوں آپ سے دور”

ہیر شیر عباس کو نیند سے بےدار کرتی بولی، اِس وقت ہیر کو شیر عباس کسی چھوٹے معصوم بچے کی طرح لگ رہا تھا اُس کی آنکھوں میں ایک ڈر تھا کوئی قیمتی شے چھن جانے یا کھو جانے کا ڈر۔۔۔۔

شیر عباس حواس میں آتا ہوا بیڈ پر بیٹھ کر لیمپ کی روشنی میں ہیر کا چہرا دیکھنے لگا، ہیر بیڈ پر رکھے اپنے دوپٹے سے شیر عباس کے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتی اُس سے بولی

“آپ نے تو دل پر ہی لے لیا میرے کراچی جانے کی بات کو، میں اب دوبارہ آپ سے دور جانے کی بات نہیں کرو گی مگر آپ اس طرح پریشان مت ہو پلیز”

ہیر شیر عباس سے بولتی ہوئی اپنا سر اُس کے سینے پر رکھ چکی تھی، تھوڑی دیر وہ شیر عباس کے کچھ بولنے کا انتظار کرتی رہی مگر وہ یونہی خاموش بیٹھا تھا

“کیا ہوا سونا نہیں ہے آپ کو”

وہ اپنائیت بھرے لہجے میں شیر عباس کے گال پر ہاتھ رکھتی اُس سے پوچھنے لگی تو شیر عباس نے ہیر کا ہاتھ اپنے گال سے ہٹایا۔۔۔ وہ بناء کچھ بولے ہیر کو خود سے دور کرتا ہوا بیڈ سے اٹھا

“عباس”

اس کو کمرے سے باہر جاتا دیکھ کر ہیر نے اسے پکارا

“اب مجھے فوری نیند نہیں آۓ گی، تم سو جاؤ”

وہ ہیر سے بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا اُس کے لہجے میں اجنبیت محسوس کر کے ہیر کو حیرت ہوئی بیڈ پر لیٹنے کے باوجود اس کو نیند نہیں آرہی تھی وہ شیر عباس کے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئی

اِس وقت بڑے سے ہال میں بالکل سناٹا چھایا ہوا تھا۔۔۔ خاموشی نے پورے ہیر پیلس کو اپنے حصار میں لیا ہوا تھا بڑا سا فانوس اِس وقت اپنی روشنی کھوۓ بند پڑا تھا چند لائٹس آن تھی جو پورے ہال میں روشنی دینے کے لیے ناکافی تھی ایسے میں دیوار پر لگی مختلف پینٹنگز اور جانوروں کے سر اِس ہال کو کافی پراسرار بنارہے تھے ہیر لکڑی کے پیانو کو چھوتی دروازے سے باہر نکلی

ہال کا دروازہ کھلا ہونے کا مطلب یہی تھا شیر عباس یہاں سے باہر گیا ہوگا ہیر نے باہر قدم رکھا تو سرد ہوا کے جھونکے سے اُس کے بدن میں جھرجھری پیدا ہوئی رات کے اِس پہر سرد ہوا نے زور پکڑا ہوا تھا، روش پر سوکھے پتے درختوں سے جھڑ کر ہوا میں اِدھر اُدھر اڑتے پھر رہے تھے۔ تیز چلتی ہوائیں پہاڑوں سے ٹکرا کر ماحول میں عجیب ہیبت ناک سی آوازیں پیدا کررہی تھیں، جس سے ماحول میں پراسراریت پیدا ہورہی تھی

دور دور تک ہیر کو شیر عباس کہیں نظر نہ آیا تو ہیر نے شیر عباس کو پکارنے کا سوچا مگر پھر وہ ارادہ ترک کرتی ہوئی، پیلس کے پچھلے حصّے کی طرف بڑھی۔۔۔ شیر عباس وہی موجود تھا، اُس بےنام و نشان قبر کے سامنے کیوکہ ہیر کی طرف شیر عباس کی پشت تھی اِس لیے ہیر شیر عباس کے تاثرات نہیں دیکھ پائی تھی

کچھ محسوس کرتے شیر عباس نے پلٹ کر دیکھا اُس سے پہلے ہی ہیر جلدی سے دیوار کی آڑھ میں چھپ گئی۔۔۔ کچھ دیر شیر عباس وہاں کھڑا رہنے کے بعد واپس اندر چلاگیا ہیر تھوڑی دیر بعد دبے پاؤں اُس کے پیچھے خود بھی پیلس کے اندر آئی

شیر عباس کا رُخ اُس سنسان راہداری کی طرف تھا جہاں کسی کو جانے کی اجازت نہ تھی ہیر نے چپکے سے دیکھا شیر عباس اُس کمرے میں چلاگیا جس کمرے سے اُس دن فرغب بی نکلی تھی جاسوسی کی نیت سے ہیر بھی ڈرتی ہوئی شیر عباس کے پیچھے اُس کمرے میں چلی گئی، جہاں سرخ بتی جل رہی تھی مگر یہ کمرہ بالکل خالی تھا نہیں وہاں ایک بڑا سا آئینہ موجود تھا

جب ہیر اُس آئینے کے پاس پہنچی اُس نے غور سے دیکھا وہ آئینہ نہیں بلکہ کوئی دروازہ تھا جو دیوار سے تھوڑا فاصلے پر تھا ہیر نے آئستہ سے اُس کو کھولنے کی کوشش کی تو سامنے اُسے سیڑھیاں نیچے کی طرف جاتی دکھائی دی

شیر عباس نے تو بولا تھا یہاں کوئی بیسمینٹ موجود نہیں، کیا مجھے اِس وقت شیر عباس کے پاس نیچے جانا چاہیے ہیر ابھی صحیح سے فیصلہ نہیں کرپائی تھی کہ کیا کرے، تب اُسے محسوس ہوا کوئی سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر آرہا ہے

ہیر دیر لگاۓ بغیر کمرے سے نکل کر راہداری عبور کرتی تیزی سے اپنے کمرے میں پہنچی اور اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر لیٹتی سوتی بن گئی

چند سیکنڈ بعد کمرے کا دروازہ کھلا شیر عباس کے ہاتھوں کا لمس اسے اپنے بالوں پر محسوس ہوا تو ہیر نے اپنی تیز دھڑکنوں کی رفتار پر قابو پانے کی کوشش کی

“ہیر”

شیر عباس نے اُسے پکارا ہیر تب بھی سوئی بنی رہی کچھ دیر شیر عباس خاموشی سے کھڑا اُس کو دیکھتا رہا پھر اُس نے ہیر پر کمفرٹر ڈالتے ہوئے غیر محفوظ طریقے سے اس کے پیروں کو چھو کر دیکھا جو ٹھنڈے ہورہے تھے

اِس وقت کمرے کا درجہ حرارت باہر سے مختلف تھا گرم کمرے میں اُس کے پاؤں ٹھنڈے ہونا یعنی وہ اُس کے پیچھا کرتے باہر نکلی تھی۔۔۔ شیر عباس بناء کچھ بولے خاموشی سے اپنی جگہ پر آکر لیٹ گیا جبکہ دوسری جانب ہیر نے شکر ادا کیا کہ اُس کی پکڑ ہوتے ہوتے بچ گئی

***””””***

آج اُس کا ریسپشن تھا آسمانی رنگ کے لباس میں وہ بےپناہ خوبصورت لگ رہی تھی ڈرائیور اُسے ہاشم کے حکم سے پارلر سے پہلے گھر لے آیا تھا تھوڑی دیر بعد اُن لوگوں کو میرج ہال کے لیے نکلنا تھا۔۔۔ ایوب خان اور گلنار آرذو کو دیکھ کر بےپناہ خوش تھے

گلنار نے اُس کے چمکتے دمکتے روپ کو دیکھ کر آرزو کی کئی بلائیں لے ڈالی تھیں گلنار کے انتخاب پر ایوب خان بھی خوش نظر آرہے تھے۔ اُن دونوں کو خوش دیکھ کر آرزو کو تھوڑا اطمینان تھا کہ اُس کے لیے اس گھر میں اور اپنے دل میں کوئی جگہ تو رکھتا ہے

“بھوک تو نہیں لگ رہی بیٹا کچھ کھانے کے لئے منگوادو تمہارے لئے، ابھی ہاشم بھی تیار نہیں ہوا تھوڑی دیر لگے گی ہمیں نکلنے میں تم ایسا کرو اپنے کمرے میں تھوڑی دیر آرام کرلوں”

گلنار کے بولنے پر آرذو اپنے کمرے میں آکر صوفے پر بیٹھ گئی، واشروم سے آتی پانی گرنے کی آواز سے آرزو اندازہ لگا چکی تھی ہاشم شاور لے رہا تھا

وہ ہاشم کے رویہ کا سوچ کر جتنا افسوس کرتی اتنا کم تھا، کل ہاشم نے اپنے خشک رویے سے اُس کے ماں باپ کے سامنے بھی یہ باور کروا دیا تھا کہ جیسے دوسری شادی کا فیصلہ اُس کا اپنا نہیں بلکہ اُس کے اوپر مرضی تھوپی گئی ہے آرزو ہاشم کے رویہ کو سوچ رہی تھی تب واشروم کا دروازہ کھلا

کیجول ٹی شرٹ اور ٹراؤذر میں تولیے سے بال رگڑتے ہوۓ ہاشم کی نظر صوفے پر بیٹھی آرزو پر پڑی اس کا حسین سراپہ دیکھ کر ایک پل کے لئے ہاشم وہی ساکت ہوگیا آرذو ہاشم کا اپنی جانب دیکھنا اور قدم اٹھاکر ہاشم کا اپنی جانب آنا محسوس کرچکی تھی اُس لیے صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی اپنے چہرے پر گڑھی ہاشم کی بہکی نظریں دیکھ کر آرزو کا دل تیزی سے دھڑک اٹھا

ہاشم ہاتھ میں پکڑا ہوا تولیہ صوفے پر اچھال کر آرذو کی کمر میں اپنا بازو حماہل کرتا اسے کھینچ کر خود سے قریب کرچکا تھا آرذو ہاشم کی حرکت پر حیران ہوئی۔۔۔ ہاشم اُس کے ماتھے پر موجود بندیا کو چھو کر، تراشی ہوئی آئی برو پر اپنی انگلی پھیرتا اُس بےپناہ حسن رکھنے والی لڑکی کے حسن میں کھویا اسے دیکھنے لگا

اپنی انگلیوں سے آرزو کے نرم ملائی جیسے گال کو چھوتا ہوا ہاشم آرذو کو توڑی سے پکڑ کر اُس کا چہرہ اونچا کرکے اپنا چہرہ اُس کے قریب لایا آرذو ابھی تک ہاشم کے رویے پر حیران تھی مگر جب اُس نے ہاشم کو اپنے ہونٹوں پر جھکتے ہوئے دیکھا تو ایک دم بول اٹھی

“یہ کیا کررہے ہیں آپ”

آرزو کی آواز پر ہاشم پر چھائی سحر کی سی کیفیت ٹوٹی تو وہ واپس اپنے حواسوں میں لوٹا

“گناہ نہیں کررہا ہوں، تمہارا محرم ہوں تمہیں چھونے کا حق رکھتا ہوں لیکن اِس وقت تمہاری کیفیت بھی اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں کہاں برداشت کر پاؤں گی تم میری قربت کو تمہیں تو عادتیں ہی کسی دوسرے کی پڑی ہیں میرا لمس تمہیں وہ سکون تھوڑی عطا کرے گا جس کی تم عادی ہو”

ہاشم زہر میں بجھے الفاظ آرذو کے کانوں میں انڈیلتا ہوا اپنا ہاتھ اسکی کمر سے ہٹاکر دور ھوا ہاشم کے منہ سے ایسی بات سن کر آرذو تکلیف سے بلبلا اٹھی ضبط کی انتہا نہیں رہی تو چیخ اٹھی

“خبردار۔۔۔۔ خبردار جو آپ نے اب میرے کردار پر کوئی بھی غلط جملہ بولا۔۔۔ نہیں تو میں۔۔۔

آرزو ہاشم کو بولتی ہوئی بےبسی سے وہی خاموش ہوگئی ہاشم نے اُس کی بات پر اُس کے بالوں کا بندھا ہوا جوڑھا دوپٹے سمیت اپنی مٹھی میں جھکڑا

“نہیں تو کیا۔۔ جواب دو، نہیں تو کیا کروں گی تم۔۔۔۔ چیخ چیخ کر لوگوں کو یہ بتاؤں گی کہ میرا شوہر میرے کردار پر جملے کَس رہا ہے کچھ بتانے لائق ہے تمہارا کردار، کون صحیح بولے گا تمہیں۔۔۔ نظریں مت جھکاؤ میرے آگے بلکہ جواب دو مجھے کون صحیح بولے گا ایسی لڑکی کو جو اپنی شادی سے ایک دن پہلے گھر سے بھاگ گئی ہو تمہارے ماں باپ اچھا سمجھتے ہیں تمہیں جنہوں نے تم جیسی اولاد سے جان چھڑانے کی خاطر تمہیں میرے سر منڈھ دیا”

ہاشم نے غصے میں بولتے ہوئے جھٹکے سے آرزو کے بالوں کو چھوڑا تو وہ صوفے پر جاگری بےبسی کے مارے اسے رونا آنے لگا

“خبردار جو تمہاری آنکھ سے آنسو بھی گرا اور آئندہ میرے آگے تمہاری آواز نکلی تو زبان کاٹ ڈالوں گا میں تمہاری”

ہاشم اپنی بےاختیاری پر لعنت بھیجتا ہوا آرزو کو دھمکی دے کر چینج کرنے چلا گیا۔ وہ کوئی دل پھنک مرد نہ تھا جو اِس لڑکی کا حسن دیکھ کر پگھلتا ہوا اِس کی جانب متوجہ ہوا تھا یہ لڑکی اُس کی بیوی تھی مگر اتنا تو ہاشم بھی جان گیا تھا آرذو خود بھی اُس کی قربت کی چاہ نہیں رکھتی یقیناً وہ اپنی پہلی محبت کو اب تک دل سے لگاۓ بیٹھی تھی

***”””””***

طلوع آفتاب اپنی کرنیں چاروں اطراف پھیلا چکا تھا پورا ہیر پیلس دھوپ سے چمک رہا تھا پرندے چہکار بھرتے ہوئے آسمان پر اُڑ رہے تھے وہ ابھی تک نیند میں ڈوبی ہوئی تھی۔ نہ جانے یہ کیسی مدھوشی تھی جو اُس کو اپنے جسم پر انگلیوں کا لمس محسوس کرنے کے باوجود آنکھیں بند رکھنے پر مجبور کررہی تھی مسلسل اپنے بازو اور تھائیز پر اس جانے پہچانے لمس کو محسوس کرنے کے باوجود ہیر اپنی آنکھیں کھول نہیں پارہی تھی نہ جانے اس وقت نیند کا اُس کے دماغ پر کیسا غلبہ طاری تھا

انگلیوں کا لمس گردن سے سرکتا مزید نیچے آیا تو ہیر نے وہی اُس ہاتھ کو پکڑا جو مزید گستاخی کرنے کو تیار تھا، نیند سے لڑتی ہوئی وہ اپنی آنکھیں کھولنے پر مجبور ہوگئی

بیڈ پر لیٹے سن ہوتے دماغ کے ساتھ وہ کمرے کی چھت کو گھورنے لگی، کمرے کی سفید گول چھت تھی یہ شیر عباس کا بیڈ روم نہیں تھا جہاں وہ کل رات سوئی تھی۔۔۔ ہیر اچانک بیڈ سے اٹھ کر بیٹھ گئی وہ جانتی تھی یہ کمرہ ہیر پیلس کا ہی حصہ ہے جو خاص مہمانوں کے لیے گیسٹ روم کے طور پر زیر استعمال لایا جاتا ہے مگر یہاں وہ کیسے آئی، وہ تو کل رات اس کمرے میں نہیں سوئی تھی

ہیر چاروں طرف کمرے میں نظر دوڑانے لگی اُس کمرے میں فرنیچر سمیت ہر چیز سفید تھی ہیر کی نظر اپنے لباس پر پڑی وہ مزید پریشان ہوگئی سفید رنگ کی گھٹنوں کو چھتی نائٹی مگر رات میں اُس نے یہ لباس تو نہیں پہنا ہوا تھا بلکہ یہ نائیٹی تو اُس نے آج تک اپنے کپڑوں میں موجود ہونے کے باوجود استعمال نہیں کی تھی۔۔۔ ہیر یہ سوچ کر صحیح معنوں میں پریشان ہونے لگی وہ اِس حالت میں اپنے کمرے تک کیسے جائے

“عباس۔۔۔۔ فرغب بی۔۔۔۔ عباس کھولیں دروازہ میں یہاں ہوں۔۔۔ عباس”

ہیر بیڈ سے نیچے اتری جو چاروں طرف سے گول تھا اُسے اپنی سلیپرز کہیں نظر نہیں آئی، سفید ٹھنڈے ماربل کے فرش پر وہ ننگے پاؤں چلتی سفید دروازے تک آئی۔۔۔ شیر عباس اور فرغب بی کو پکارتی ہوئی دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی

کمرے میں موجود جھولے میں ایک دم آواز پیدا ہوئی جیسے کوئی جھولے پر آکر بیٹھا ہو، خوف کے مارے ہیر کی کنپٹی سے پسینہ لکیریں صورت نکلنے لگا، اُس کی پشت پر بڑا سفید رنگ کا جھولا جو تھوڑی دیر پہلے تک خالی تھا اب بھلا بند کمرے میں وہاں کون آسکتا ہے۔۔۔ خوف کے مارے ہیر نے مڑ کر نہیں دیکھا وہ اپنے ہونٹوں کو آپس میں سختی سے دبائے بس خاموشی سے دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی

“نہیں کھلے گا یہ دروازہ چاہے کتنی بھی کوشش کرلو اس دروازے کو کھولنے کے لیے تمہیں میرے پاس آنا پڑے گا۔۔۔ اِس بند کمرے کی چابی میرے پاس موجود ہے”

شیر عباس کی آواز ہیر کے کانوں سے ٹکرائی تو ہیر نے پلٹ کر اپنی پشت پر دیکھا دہشت کے مارے زوردار چیخ ہیر کے منہ سے نکل کر پورے کمرے میں گھونج اٹھی

وہ شیر عباس نہیں تھا، صرف اس کا چہرہ شیر عباس جیسا تھا۔۔۔ بڑے سفید جھولے پر کالے رنگ کی قمیض شلوار میں ہری آنکھوں میں اُس کو دیکھتا وہ شیر عباس کے بھیس میں کوئی اور تھا۔۔۔ ہیر خوف کے مارے بری طرح کانپنے لگی

“ڈرو مت مجھ سے ہیر میں تمہیں کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتا میں تو صرف تمہارے پاس تمہیں پیار کرنے آتا ہوں”

وہ ہیر کو خوفزدہ دیکھ کر بولتا ہوا جھولے سے اٹھا

“نہیں پلیز۔۔۔۔ میرے پاس مت آنا، میرے قریب بالکل بھی مت آنا۔۔۔ دور رہو مجھ سے پلیز”

ہیر اُس کو جھولے سے اٹھتا ہوا دیکھ کر خوفزدہ ہوکر چیخ کر بولی کسی غیر مرد کے سامنے برہنہ لباس میں وہ خود کو تصور کرتی بری طرح رونے لگی وہ ہیر کے ڈرنے پر ہلکا سا ہنسا

“میں تمہارے پاس نہیں، ابھی تم خود چل کر میرے پاس آؤ گی ہیر کیونکہ تمہیں اِس کمرے سے باہر بھی تو نکلنا ہے ناں”

وہ ہیر سے بولتا ہوا اپنے گلے میں سلور چین کی طرف اشارہ کرتا (جس میں دروازے کی سلور چابی تھی) بیڈ پر بیٹھ گیا

“میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے تم میرے پیچھے کیوں پڑے ہو”

ہیر خوف کے مارے دروازے سے چپک کر کانپتی آواز میں روتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی

“تم نے کچھ نہیں بگاڑا تم تو بہت معصوم ہو تم کسی کا کچھ بگاڑ ہی نہیں سکتی لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ تمہارے کسی اپنے نے مجھے سے کچھ ایسا چھین لیا ہو، کوئی ایسی چیز جو میرے لیے بہت اہمیت رکھتی تھی۔۔۔ اُس کے نقصان کا ہرجانہ تمہیں ادا کرنا پڑ رہا ہو۔۔۔ وہ کہتے ہیں ناں کرے کوئی بھرے کوئی، سمجھ لو تمہارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا ہے”

وہ ہیر سے بولتا ہوا بیڈ پر دراز ہوا۔۔۔ ہیر روتی ہوئی اُس کی بات سن کر بےبسی سے اُس کے گلے میں چابی دیکھنے لگی

“اِس طرح رونے میں تم وقت ضائع کررہی ہو ہیر، یہاں میرے پاس آجاؤ اور تھوڑی دیر کے لئے اِس دنیا کو بھول جاؤ۔۔۔ میں اپنی دنیا سے یہاں صرف تمہارے لئے ہی آتا ہوں تھوڑی دیر کے لیے سب کچھ بھلا کر مجھے اپنالو محبت دو مجھے اپنی اور پھر بدلے میں مجھ سے یہ چابی لےلو”

اپنے دونوں پاؤں بیڈ سے نیچے لٹکاکر وہ بیڈ پر لیٹا ہوا ہیر سے ایک مرتبہ پھر بولا

“مم۔۔۔۔ میں ایسا نہیں کرسکتی، میں کسی دوسرے کی بیوی ہوں پلیز رحم کرو مجھ پر”

ہیر اُسکی کی بات کا مفہوم سمجھ کر روتی ہوئی وہی دروازے کے پاس نیچے بیٹھ گئی

“بس اتنی سی بات کے لئے تم میرے پاس آنے سے انکار کررہی ہو کہ تم کسی دوسرے کی بیوی ہو، تو سمجھ لو ہیر کہ اب تمہارا شوہر دنیا میں نہیں ہے اُس کے مرنے کے بعد تو تم میرے پاس آسکتی ہو”

اس کے منہ سے ایسی بات سن کر ہیر رونا بھول گئی وہ خوف سے اُس کی ہری آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔۔ جو دوبارہ بیڈ پر بیٹھ کر ہیر کا خوف سے زرد پڑتا چہرہ دیکھ رہا تھا

“ٹھیک پانچ منٹ بعد گھر کے نمبر پر ایک کال آئے گی، جس پر اطلاع دی جائے گی کہ ایک جیپ جس کا نمبر jRE 206 ہے گہری کھائی میں گر چکی ہے اُس جیب میں بیٹھے آدمی کی لاش کھائی سے نکال لی گئی ہے”

اُس کے بولنے پر ہیر نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا

“تم۔۔۔ تم ایسا نہیں کرسکتے عباس کے ساتھ پلیز عباس کے ساتھ ایسا مت کرنا”

ہیر بےبسی کے عالم میں روتی ہوئی اُس کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی

“میں بالکل ایسا ہی کرونگا اگر دو منٹ کے اندر تم میرے پاس نہیں آئی، اپنی ضد کے پیچھے آج تم اپنے شوہر کو ہمیشہ کے لیے کھودو گی”

وہ اب کی بار ہیر سے سخت لہجے میں بولا تو ہیر سے اپنے دونوں پاؤں پر کھڑا ہونا مشکل ہوگیا ٹھنڈے سفید ماربل کے فرش پر چلتے اُس کے قدم من من بھر کے ہونے لگے، دو بار اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا بھی چھایا اُسے محسوس ہوا جیسے وہ چل نہیں پائے گی بلکہ ابھی گر جائے گی

“اس طرح ڈرو مت مجھ سے ہیر گھبراؤ مت، میں پہلے بھی تمہارے بےحد قریب آچکا ہوں۔۔۔ یاد ہے ناں تمہیں کسقدر پیار کرتا ہوں میں تم سے”

وہ فتح یات مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے، خماری کے عالم میں بولتا ہوا ہیر کو وہ لمحات یاد دلانے لگا جسے سوچ کر ہیر کو شرمندگی سے مرنے کا دل چاہا

ہیر کے پاس آنے پر وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا ہیر کو دونوں شانوں سے تھام کر اپنے حصار میں لےکر بیڈ پر لٹانے لگا ہیر کسی ربورٹ کی مانند بیڈ پر لیٹ گئی اپنے چہرے پر اُس کی انگلیوں کا لمس محسوس کرکے ہیر کو اپنے چہرے سے نفرت ہونے لگی

“اب جب جب میں چاہوں گا تب تب تمہیں اپنے بلاؤ گا۔۔۔ تم میرے بلانے پر ہمیشہ ایسے ہی میرے پاس آؤ گی، میں تمہیں بالکل اِسی طرح اپنے پاس دیکھنا چاہتا ہوں تم سے پیار کرنا چاہتا ہوں بولو ہیر آؤ گی ناں میرے پاس”

وہ ہیر کے اوپر جھکتا ہوا اُس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا اُس کا ہاتھ ہیر کے سینے پر موجود ڈوری پر تھا، جس کو وہ کھول چکا تھا اِس کے بعد ہیر کو کچھ ہوش ن رہا وہ خوف کے مارے مکمل طور پر اپنے حواس کھو چکی تھی

***”””***

“ہیر آنکھیں کھولو اپنی، تم ٹھیک ہو ناں ہیر۔۔۔ آنکھیں کھولو”

اسے آپ نے بےحد قریب سے شیر عباس کی آواز آرہی تھی ہیر نے آئستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں تو اُسے اپنے اوپر جھکا شیر عباس کا چہرہ نظر آیا کالی گہری آنکھیں جس میں ہیر کے لیے فکر تھی شیر عباس اُس کے آنکھیں کھولنے پر اُس کا چہرہ تھام کر اُس سے کچھ پوچھ رہا تھا وہ اِس وقت اپنے اور شیر عباس کے کمرے میں موجود تھی فرغب بی بھی وہی کھڑی تھیں

“عباس”

ہیر شیر عباس کو پکارتی ہوئی بیڈ سے اٹھ کر شیر عباس کے سینے سے لگتی ہوئی رونے لگی

“ہیر کچھ نہیں ہوا پلیز چپ کر جاؤ تمہیں کچھ بھی نہیں ہوا میں آگیا ہوں نا تمہارے پاس”

شیر عباس ہیر کو روتا ہوا دیکھ کر اپنے حصار میں لیے اُسے کسی چھوٹے بچے کی طرح بہلاتا ہوا بولا تو ہیر آنسوؤں سے تر چہرہ لیے شیر عباس کو دیکھنے لگی

“واقعی کچھ نہیں ہوا۔۔۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔ میں نہیں جانتی میرے ساتھ کچھ ہوا تھا۔۔۔ وہ کیوں آتا ہے میرے پاس، کیوں کرتا ہے وہ سب میرے ساتھ۔۔۔ میں ایسے مر جاؤں گی عباس یا پھر میں پاگل ہو جاؤں گی پلیز عباس مجھے اُس سے بچالیں”

ہیر روتی ہوئی شیر عباس کے سینے سے لگی اُس سے بولنے لگی بےہوش ہونے کے بعد اسے کچھ خبر نہیں تھی اُس کے ساتھ کیا ہوا۔۔۔ اُسے یہاں اِس کمرے میں کون لایا اُس کا لباس کس نے تبدیل کیا وہ بس شیر عباس کے سینے سے لگی روئے جارہی تھی

“ہیر اب کچھ بھی نہیں ہوگا تمہارے ساتھ، میں اب کچھ غلط نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ وعدہ کرتا ہوں تمہیں اب کوئی بھی نقصان نہیں پہنچائے گا نہ کوئی تنگ کرے گا”

شیر عباس اِس مرتبہ ہیر کی حالت دیکھ کر فکر مند ہونے کے ساتھ پریشان لگ رہا تھا نہ جانے کیوں اُس کی اپنی آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں وہ ہیر کو یقین دلاتا ہوا بولا

“آپ نے اُس کے ساتھ کیو برا کیا، کیوں اسکی قیمتی چیز چھینی جس کا بدلہ مجھے چکانا پڑ رہا ہے”

وہ شیر عباس کے سینے سے لگ کر روتی ہوئی بولی جس پر شیر عباس خاموش رہا

“آپ بتا کیوں نہیں دیتے شیر عباس کہ۔۔۔”

خاموش کھڑی فرغب بی نے شیر عباس سے کچھ بولنا چاہا تو شیر عباس نے فرغب بی کی بات سننے سے پہلے اُن کی بات کاٹ دی

“فرغب بی یہ پریشان ہے اِس وقت پلیز جائیے یہاں سے آپ اپنے کمرے میں۔۔۔ اِس وقت یہ کافی زیادہ ڈری ہوئی ہے اور میں اِس کے لئے کافی زیادہ فکرمند ہوں آپ سمجھ رہی ہیں میری بات کو میں اِس کے لئے کافی سے زیادہ فکرمند ہوں”

شیر عباس روتی ہوئی ہیر کو اپنے بازوؤں میں چھپائے فرغب بی کو دیکھتا ہوا بولا فرغب بی اب کی بار بناء کچھ بولے اُس کے کمرے سے چلی گئیں شیر عباس اپنے سینے سے لگی ہیر کا چہرا اوپر کرکے اُس کے آنسو پوچھنے لگا

“میں۔۔۔ میں سب کچھ کھو چکی ہو اپنا۔۔۔ سب کچھ ہار چکی ہوں عبا۔۔۔۔س اُس نے میرے ساتھ آج پھر سے”

ہیر روتی ہوئی تکلیف سے بولی۔۔۔ اُس کی حالت دیکھ کر شیر عباس کو تکلیف ہونے لگی شیر عباس نے اُس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر ہیر کو خاموش کردیا

“کچھ نہیں کھویا تم نے، تم عباس کو جیت چکی ہو۔۔۔ اپنے شیر عباس کو جیت چکی ہو، مت رؤ اِِس طرح سے ہیر مجھے تکلیف ہورہی ہے میں وعدہ کرتا ہوں اب تمہارے ساتھ کبھی کچھ غلط نہیں ہوگا”

شیر عباس اپنے بازوؤں میں موجود ہیر کے آنسو صاف کرتا ہوا اُسے یقین دلانے لگا

“مجھے اِس جگہ پر نہیں رہنا عباس یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے”

ہیر شیر عباس کو دیکھتی ہوئی اُس سے بولی

“اوکے مجھے تھوڑا سا وقت دو پھر ہم یہاں سے دور چلے جائیں گے”

شیر عباس نے بولتے ہوئے ہیر کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھے اسے اپنے حصار میں لیے بہلانے لگا

***””””***

“جب انسان دنیا کی رونقوں میں کھو کر اوپر والے کی ذات کو فراموش کر بیٹھتا ہے تب اوپر والا ایسے ہی اپنی قدرت کی جھلک دکھاتا ہے، جس سے انسان کی عقل دنگ ہوکر رہ جاتی ہے، خوف مت کھائیے اِس سے یہ کوئی دوسری مخلوق نہیں تھوڑی دیر پہلے اُس کو آپ کی بیٹی نے پیدا کیا ہے میں بیس سال سے یہاں ڈاکٹری کے فرائض انجام دے رہی ہوں اور اِن بیس سالوں میں پہلا ایسا کیس میرے سامنے آیا ہے لیکن پہلی بار آپ کی بیٹی نے ایسی مخلوق پیدا نہیں کی اگر آپ ہسٹری اٹھاکر دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے ہاں مگر عجیب ضرور ہے”

گائنی کی ڈاکٹر احمد عالم کو اور بھی ایسے واقعات بتارہی تھی کہ کب، کہاں، کس سن میں ایسی مخلوقات کو دریافت کیا گیا جو انسان کی پیداوار تھی۔۔۔ احمد عالم ڈاکٹر کی بات سننے کے ساتھ جھولے میں لیٹی ہوئی چھپکلی جیسی عجیب و غریب مخلوق کو حیرت سے دیکھ رہے تھے جس کے رونے کی باریک آواز سے اُس کے منہ میں چھوٹے نوکیلے دانت بھی دکھ رہے تھے

***””””***

“نہ جانے کون ہے یہ پچھلے دو دن سے مسلسل اِس وقت فون پر بیلز دیتا ہے جب فون اٹھاؤ تو آگے سے کچھ بولتا ہی نہیں۔۔ آجانے دو ہاشم کو آفس سے معلوم کرواتی ہو یہ کس کو مسئلہ ہورہا ہے”

گلنار لینڈ لائن پر بیلز دینے والے سے تنگ آکر جھنجھلا کر بولی تو اپنی ساس کی بات سن کر آرزو کے کان کھڑے ہوگئے۔۔۔ دو دن سے اس نے خود بھی محسوس کیا تھا کہ کوئی مسلسل چار بجے سے سات بجے تک لینڈ لائن پر کوئی وقفے وقفے سے بیلز دیتا رہتا تھا ایک انجانا سا ڈر اس کو شک میں مبتلا کر گیا

“ارے بیٹا تم یہ کن کاموں میں لگی ہو، کچن سے نکل کر شام کی تیاری کرلو یاد نہیں ہے آج ہاشم کے دوست نے انوائٹ کیا ہے تم دونوں کو ڈنر پر اور تم یہاں گرمی میں محنت والے کام کررہی ہوں”

گلنار اب کچن میں آکر اس کو دیکھتی ہوئی بولی جو شامی کباب بنانے میں کافی دیر سے جتھی ہوئی تھی

“جی ماں جی مجھے یاد ہے آج ہم ڈنر پر انوائیٹ ہیں شمع سے صبح ہی کپڑے پریس کروا لیے تھے اور تو کوئی خاص تیاری نہیں کرنی۔۔۔ لیکن یہ کام زیادہ ضروری تھا ہاشم کے دوست کل گھر پر انوائٹڈ ہیں انہوں نے خاص تاکید کی تھی کہ کسی بھی چیز کی ڈنر میں کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے”

اُس کو بناؤ سنگار کرتا دیکھ کر ہاشم پھر کوئی دل دکھانے والی بات کرتا اِس لئے آرزو کا خاص تیار ہونے کا پروگرام نہ تھا لیکن آج صبح ہی آفس جانے سے پہلے ہاشم نے اُس کو حکم دیا تھا کہ وہ کل کے لیے سارا ڈنر کا ارینج گھر پر خود کرے گی اِس کے آنے والے دوستوں کے لئے

“دماغ خراب ہوچکا ہے ہاشم کا تو اِس سے پہلے جیسے سارا انتظام گھر میں ہوتا آرہا ہے، سب باہر سے آجائے گا جاؤ شاباش تھوڑی دیر اپنے کمرے میں جاکر آرام کرلو یہ باقی کا کام شمع سمیٹ لے گی”

گلنار آرزو سے بولی تو وہ اثبات میں سر ہلا کر ہاتھ دھونے لگی اُس کا شوہر جتنی سخت طبعیت رکھتا تھا، ایوب خان اور گلنار اتنے ہی نرم اور حساس طبیعت کے مالک تھے

گلنار کے بولنے پر وہ کمرے میں جانے والی تھی تب لینڈ لائن پر دوبارہ بیل بجی آرذو وہی رک کر ٹیلیفون کو دیکھنے لگی۔۔۔ دو بیلز کے بعد اِس سے پہلے دوبارہ گلنار یہاں آجاتی آرزو نے جلدی سے فون اٹھالیا

“ہیلو”

فون اٹھاتی ہوئی وہ گھبراۓ لہجے میں بولی

“آرذو میں کب سے تمہاری آواز سننے کے لیے ترس رہا ہوں، اور تمہیں میری کوئی پرواہ ہی نہیں میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔ ایک مرتبہ، صرف ایک مرتبہ اِس قید خانے سے باہر آجاؤ۔۔۔ مجھے اپنا چہرہ دکھادو تاکہ میرے دل کو سکون مل جائے”

تبریز کی آواز سن کر آرذو کا بدترین خدشہ سچ ثابت ہوا۔۔۔ وہی دو دن سے یہ بیلز دے رہا تھا تاکہ وہ کال ریسیو کرلے

“یہ سب بکواس کرتے ہوئے تمہیں ذرا شرم نہیں آرہی تبریز۔۔۔ تم بھول گئے ہو شاید کہ میں اب شادی شدہ ہوں۔۔۔ تم کیوں چاہتے ہو کہ میں تمہاری وجہ سے دوبارہ ذلیل اور رسوا ہوکر رہ جاؤ یہاں پر بھی، میرے ماں باپ کے سامنے تو تم میری عزت کا جنازہ نکال ہی چکے ہو دیکھو آئندہ یہاں پر کال مت کرنا میں تم سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی”

آرزو کو گھبراہٹ ہونے لگی نہ صرف وہ اُس کے سسرال کا فون نمبر معلوم کرچکا تھا بلکہ گھر سے باہر بھی کھڑا اُس کا انتظار کررہا تھا۔۔۔ یہ ہاشم کے آنے کا ٹائم تھا اگر وہ تبریز کو اپنے گھر کے پاس دیکھ لیتا نہ جانے تبریز کے ساتھ کیا کرتا مگر آرزو کو تبریز کے زیادہ اپنی فکر تھی ہاشم تبریز کے ساتھ اُس کا بھی برا حشر کردیتا

“میرا اور تمہارا تعلق ختم نہیں ہوسکتا۔۔۔ میں تو ایسا کر ہی نہیں سکتا اور آرزو تم چاہوں بھی تو میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دو گا”

تبریز کا لہجہ دھمکی سے بھرا نہیں تھا مگر آرذو کو لگا۔۔۔ وہ پہلے کی طرح اپنی ضد پر اُترا ہوا تھا، آرزو کو اُس پر غصہ آنے لگا

“بھاڑ میں جاؤ مر جاؤ تم”

آرزو غصے میں بولتی ہوئی ریسیور پٹخ چکی تھی مگر اُس ڈھیٹ انسان کی دوبارہ کال آنے لگے آرزو نے غُصّے میں فون اٹھایا

“میں تمہارا منہ توڑ ڈالوں گی اگر اب تم نے میرے سسرال میں دوبارہ کال کی”

دوبارہ ریسیور اٹھا کر آرذو غراتی ہوئی بولی

“کس کا منہ توڑنے لگی ہو فون پر، کون کال کیے جارہا ہے تمہیں”

تبریز کی بجاۓ ہاشم کی آواز سن کر آرزو کے اوسان خطا ہوگئے

“وہ۔۔۔ و۔۔ہ۔۔ ہاشم مم۔۔۔ میری دوست سونیا جو ولیمے والے دن آپ سے اپنا تعارف کروا رہی تھی۔۔۔ میں بول بھی رہی ہو کہ ابھی بات نہیں کرسکتی مگر وہ پریشان کئے جارہی ہے”

آرزو خود کو سنبھال کر ریسیور کو مضبوطی سے پکڑے ہاشم سے بولنے لگی ہاشم اُس کی بات سن کر خاموش رہا جیسے اُس کی بات پر یقین کرے یا نہ کرے

“آپ نے کال کی ہے خیریت ہے”

ہاشم کی خاموشی محسوس کرکے آرزو اُس سے پوچھنے لگی

“کال تو میں نے اپنے مسئلے کے لئے ملائی تھی لیکن اب میں گھر پہنچ رہا ہوں آکر تمہارا مسئلہ حل کرتا ہوں”

ہاشم بولتا ہوا کال کاٹ چکا تھا آرزو اُس کی کال ریسیو کر کے بری طرح پچھتائی تھی۔۔۔ اب ہاشم گھر آکر اس کے ساتھ نہ جانے کیا کرتا آرزو کی نظر مین گیٹ سے اندر آتی گاڑی پر پڑی

جس میں ماہ نور یعنی ہاشم کی پہلی بیوی تھی ماہ نور کو دیکھ کر آرزو اور بھی زیادہ گھبرا گئی ہاشم نے تو ترس کھاکر اُس کا پردہ اپنی ماں جی اور دا جی کے سامنے رکھ لیا تھا مگر اپنی سوتن سے اُسے ایسی کوئی توقع نہ تھی ماہ نور اگر اس کو پہچان جاتی تو لازمی اُس کے بارے میں گلنار اور ایوب خان کو بتاتی۔۔۔ کھڑکی سے ماہ نور کو گھر کے اندر آتا دیکھ کر آرزو تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بھاگی

“کیا کرو اس مصیبت کو بھی ابھی آنا تھا ایک مصیبت پہلے ہی کم نہیں تھی جو دوسری بھی نازل ہوگئی”

آرزو اپنے کمرے میں موجود ماہ نور کا سوچ کر رو دینے کو تھی تبھی اسے باہر سے ماہ نور کی آواز آئی

“شمع اور شمع اسٹور روم سے ہینڈ کیری لاکر دو مجھے فٹافٹ، اور پیکنگ کرنے میں مدد کرو میری۔۔۔ مجھے جلدی واپس نکلنا ہے میں ذرا ہاشم کی دوسری بیوی کے دیدار تو کرو”

ماہ نور ہال میں داخل ہونے کے ساتھ ہی بلند آواز میں شمع کو پکارتی ہوئی بولی اور آرزو کے کمرے میں جانے لگی۔۔۔ اپنے کمرے کی جانب بڑھتے قدم محسوس کر کے، آرزو جلدی سے واش روم کی جانب بڑھی

جیسے ہی اس نے واش روم کا دروازہ اندر سے بند کیا ویسے ہی ماہ نور اُس کے بیڈروم کا دروازہ کھول کر بیڈ روم کے اندر چلی آئی۔۔۔ آرزو بری طرح بوکھلا گئی تھی کاش یہ لڑاکا لڑکی پیکنگ کر کے یہاں سے فوراً چلی جاتی آرزو اپنے ہونٹ دانتوں سے کاٹتی ہوئی بےبسی سے سوچنے لگی۔۔۔ کمرے سے آتی ہیل کی آواز سے آرزو کو اندازہ ہوگیا ماہ نور اس کے کمرے میں ٹہلتی ہوئی اُس کے باہر آنے کا ویٹ کررہی تھی

“میڈم جی بیگ نکال دیا ہے کپڑے کون کون سے رکھنے ہیں”

آرزو کو باہر سے شمع کی آواز آئی تو وہ آنکھیں بند کر کے شکر ادا کرنے لگی

“ہاں تم چلو میں آکر بتاتی ہوں”

ماہ نور شمع کو بول کر رخصت کرچکی تھی وہ دوبارہ آرزو کے باہر نکلنے کا ویٹ کرنے لگی

“یہ بلا ایسے نہیں ٹلے گی کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا”

آرذو دل ہی دل میں سوچتی ہوئی شاور کی طرف دیکھنے لگی

واش روم سے پانی گرنے کی آواز پر ماہ نور کو کوفت ہوئی وہ ہاشم کی نئی بیوی کو دیکھ کر اُس کو زلیل کرنے کے بعد، بہت کچھ جتاکر واپس جانے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن شاید وہ لڑکی لمبا واش روم میں ٹائم گزارنے کے موڈ میں تھی اور ماہ نور کا موڈ نہیں تھا کہ وہ گھر کے کسی دوسرے فرد سے ملے اِس لیے وہ واشروم کے دروازے پر خار بھری نظر ڈال کر وہاں سے اپنے بیڈروم میں چلی گئی تاکہ پیکنگ کر کے یہاں سے نکل سکے

اپنے کمرے میں طویل خاموشی محسوس کر کے آرزو شکر ادا کرتی واشروم سے باہر نکلی تو کمرے میں ہاشم کو دیکھ کر بےساختہ ڈر گئی شاید وہ ابھی آفس سے گھر پہنچا تھا

“کیا ہوا ڈر گئی”

ہاشم آرذو کی جانب قدم اٹھاکر اُس کے پاس آتا ہوا آرزو سے پوچھنے لگا

“نن۔۔۔ نہیں تو میں تو نہیں ڈری”

اپنے ماتھے پر آیا ہوا پسینہ ہتھیلی سے رگڑ کر وہ ہاشم کو انکار کرتی ہوئی بولی۔۔۔ بھلا اُس کو کیا بتاتی اپنی سوتن کو یہاں دیکھ کر اُس کا آدھا خون خشک ہوچکا تھا

“اچھا۔۔۔ مگر تمہارا چہرہ تو صاف بتارہا ہے جیسے تمہاری کوئی چوری پکڑی گئی ہے”

ہاشم آرذو کے قریب آکر اُس کے چہرے کی اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر جتانے والے انداز میں بولا

“وہ تھوڑی دیر پہلے آپ کی وائف یہاں آئی تھیں شاید اِس لیے”

آرزو نظریں جھکاکر اپنے قریب کھڑے ہاشم کو بتانے لگی کیونکہ بات کو گھمانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا سامنے کھڑا شخص بات کی تہہ تک نہ پہنچا جاتا تو شاید اُس کا رات کا کھانا ہضم نہ ہوتا

“تو پھر ملاقات ہوئی تمہاری اور اُس کی”

ہاشم غور سے آرزو کا چہرہ دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جس پر اُس نے ہاشم کو دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔۔۔ ہاشم کے گھر آتے ہی سرسری سی ملاقات ہاشم کی ماہ نور سے ہوئی تھی ماہ نور جلدی میں تھی اِس لیے ہاشم سے ہائے ہیلو گیٹ پر کر کے وہ گھر سے نکل گئی

“تو پھر ریلیکس ہوجاؤ وہ جاچکی ہے تھوڑے دنوں کے لیے”

ہاشم آرزو کے اور بھی قریب آتا ہوا اُسے بتانے لگا تو آرزو پیچھے ہونے کے چکر میں پوری دیوار سے چپک گئی۔۔۔ ہاشم کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر آرزو کی چلتی سانسوں میں مزید روانی آگئی

وہ بہت غور سے آرذو کا چہرہ دیکھتا ہوا اپنا ہاتھ آرزو کے گال تک لایا تو آرذو نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کرلی ہاشم کی انگلیوں کا لمس اپنے گال پر محسوس کر کے آرزو کے پورے جسم میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا

وہ ہاشم کی حرکت پہ نروس ہونے کے باوجود پلکیں اٹھاکر ہاشم کو دیکھنے لگی۔ گویا اپنی نظروں اُس نے جتانا چاہا کہ ہاشم کی ناپسندگی اُس کے اِس عمل سے ہرگز میل نہیں کھاتی اگر وہ اُس کو ناپسند کرتا تھا تو پھر یہ اُس کے ساتھ کیا کررہا تھا

جبکہ دوسری طرف ہاشم ڈھیٹ بنا ہوا اُس کی نظروں کا مفہوم سمجھنے کے باوجود پورے حق سے اپنا انگوٹھا آرذو کے ہونٹوں پر پھیرنے لگا جسے نظروں سے جتارہا ہو ناپسندیدگی اپنی جگہ مگر وہ اُس پر مکمل حق رکھتا ہے ہاشم کا انگوٹھا اپنے لبوں پر محسوس کرکے نہ چاہتے ہوئے بھی آرذو کی پلکیں دوبارہ جھک گئی

اب ہاشم کا ہاتھ اُس کی صراحی دار گردن پر آکر ٹہر گیا وہ بناء کچھ بولے یونہی خاموش کھڑی رہی کیوکہ ہاشم کو روک کر یا ٹوک کر وہ ہاشم کی کڑوی کسیلی باتیں سننے کے موڈ میں نہیں تھی مگر نہ جانے سامنے کھڑا شخص آج کس موڈ میں تھا

“تھوڑی دیر پہلے لینڈ لائن پر کس سے بات کررہی تھی تم”

ہاشم آرذو کے قریب اپنا چہرہ لاتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا۔۔۔ ہاشم کے سوال پر ایک مرتبہ پھر آرزؤ کا خون خشک ہونے لگا

“بتایا تو تھا آپ کو، میں اپنی دوست سے بات کررہی تھی”

منہ پر ہی جھوٹ بولنے کی وجہ سے نہ صرف اُس کی زبان لڑکھڑائی تھی بلکہ نظریں مزید زمین کی طرف جھک گئی تھی اوپر سے ہاشم اس کے بےانتہا قریب تھا ہاشم کی قربت سے آرزو کو مزید گھبراہٹ ہونے لگی

“تم جانتی نہیں ہو شاید جھوٹ مجھے بالکل پسند نہیں ہے اگر تمہاری بات غلط ثابت ہوئی تو میں تمہارے ٹکڑے کر کے اُس کا پارسل تمہارے ماں باپ کے گھر بھجوا دوں گا اور ایک غیرت مند شوہر ایسا آسانی سے کرسکتا ہے بتاؤ فون پر کون تھا”

ہاشم نے بولتے ہوئے آرذو کی گردن پر اپنے ہاتھ سے ہلکا سا دباؤ ڈالا تو آرذو اُس کے عمل کی بجاۓ اُس کی دھمکی پر بری طرح سہم گئی

“میں بالکل سچ بول رہی ہوں آپ پلیز میرا اعتبار کریں”

آرذو کی جان جانے لگی مگر وہ سچ بول کر اپنی موت کو بلاوا نہیں دے سکتی تھی اِس لیے بناء کوئی مزاحمت کیے ہاشم سے بولی

“اعتبار کرنے لائق لڑکی ہو نہیں تم، چلو میرے ساتھ اِسی وقت اپنی سہیلی سونیا کے گھر۔۔۔ وہ بات کرنا چاہ رہی تھی نہ تم سے فون پر ابھی اور اِسی وقت میں تمہیں اُس سے ملوا کر لاتا ہوں”

ہاشم آرذو کو بازو سے پکڑ کر کمرے سے باہر لے جانے لگا۔۔۔ ہاشم کی بات سن کر وہ مزید سہم گئی۔۔۔ سونیا کے گھر جاکر تو مزید اُس کا پول کھل جاتا

“ہاشم پلیز اِس طرح مت کریں سونیا نہ جانے کیا سوچے گی میرے بارے میں کہ میں یونہی اُٹھ کر چلی آئی اُس کے گھر اُس سے ملنے کے لیے۔۔۔ مجھے تو اُس کے گھر کا ایڈریس تک معلوم نہیں ہے۔۔۔ ہاشم پلیز میری بات تو سن لیں”

ہاشم آرذو کے بولنے کی پرواہ کئے بغیر اسے کار کے پورچ میں اپنی گاڑی تک لے آیا جبکہ آرزو کی یہ حالت تھی کہ وہ ہاشم کی حرکت پر ابھی برے طریقے سے رو دے گی اگر اُس کا جھوٹ اِس شخص کے سامنے پکڑا گیا۔۔۔ اسے تو ہاشم سے کوئی بعید بھی نہ تھی وہ حقیقت میں سونیا کی بات سن کر اُس کے ٹکڑے سچ میں کردیتا

“یہ پکڑو امامہ کو فون کرو اور اس سے سونیا ایڈریس لو جلدی سے”

ہاشم آرزو کی بات سن کر اپنا سیل فون آرزو کو پکڑاتا ہوا بولا ہاشم کی آنکھیں اور لہجے میں سختی دیکھ کر آرزو مرے مرے ہاتھوں سے اُس کے سیل فون سے امامہ کو کال ملانے لگی

“آپی مجھے سونیا کا ایڈریس سینڈ کردیں اِسی نمبر پر، وہ مجھ سے بات کرنا چاہ رہی تھی لیکن میرے فون پر بات نہ کرنے کی وجہ سے مجھ سے ناراض ہوگئی ہے تو ہاشم مجھے سونیا کے گھر لےکر جارہے ہیں”

آرذو ساری صورت الحال امامہ کو بتانے لگی

***””””***

سونیا کے گھر کی ڈور بیل پر ہاتھ رکھتے ہی آرزو شدت سے دعا کرنے لگی کاش سونیا گھر پر موجود نہ ہو اور ہاشم آرذو کا خوف سے سفید پڑتا چہرہ غور سے دیکھ رہا تھا مگر آرزو کی دعا رد ہوچکی تھی کیوکہ گھر کا دروازہ کھولنے والی سونیا ہی تھی

“ارے واہ بھئی کہاں تو تھوڑی دیر پہلے مجھ سے فون پر بات کرنے میں نخرے دکھارہی تھی کہ سسُرال ہے اچھا نہیں لگتا فون پر یوں باتیں کرنا لیکن میری ناراضگی کے ڈر سے آنا پڑا ناں”

سونیا چہکتی ہوئی آواز میں آرزو کا زرد پڑتا چہرہ دیکھ کر بولی تو آرزو حیرت سے جبکہ ہاشم جانچتی ہوئی نظروں سے سونیا کو دیکھنے لگا سونیا خوش اخلاقی سے ہاشم کو اندر آنے کا بول رہی تھی

“تم سے زیادہ بہتر ایکٹنگ تو تمہاری دوست کرلیتی ہے کم سے کم اُس کے چہرے سے ظاہر نہیں ہورہا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی تھی”

واپس گھر آنے کے بعد ہاشم آرزو سے بولا اب کی بار آرذو کو غصّہ آگیا

“میرے خیال میں آپ کسی بہانے کی تلاش میں ہے کہ میرا کوئی گناہ ظاہر ہوجائے جس کو دنیا کے سامنے لاکر آپ مجھے سولی پر لٹکا دیں”

آرزو کے بولنے کی دیر تھی ہاشم نے سختی سے اُس کا منہ جبڑوں سے پکڑ کر دبوچ لیا

“میرے سامنے زیادہ زبان چلانے کی ضرورت نہیں ہے سب چالبازیاں سمجھتا ہوں میں تم جیسی لڑکیوں کی جاؤ جاکر تیار ہو ڈنر ہے میرے دوست کے گھر آج رات ہمارا”

ہاشم جھٹکے سے آرزو کا منہ چھوڑتا ہوا بولا تو آرزو بیڈ پر جا گری

جب وہ آفس سے گھر آرہا تھا تب ہاشم کو گمان گزرا کہ تبریز نامی لڑکے کو اُس نے اپنے گھر کے پاس دیکھا ہے لیکن ہاشم کنفیوز اِس لئے تھا کیونکہ وہ تبریز کا سائیڈ فیس دیکھ پایا تھا، اسے کنفرم نہیں تھا کہ وہ تبریر ہی ہے یا پھر کوئی اور۔۔۔ جبھی وہ بات کی تہہ تک پہنچنے کے لئے آرزو کو اُس کی دوست کے گھر لے کر گیا تھا لیکن سونیا کی باتیں سن کر بھی ہاشم کو یقین نہیں آرہا تھا کہ سونیا سچ بول رہی ہوگی کیونکہ آرزو کے چہرہ سے اِس وقت ظاہر ہورہا تھا اگر سونیا نے کچھ الٹا سیدھا بول دیا تو وہ وہی رو دے گی

“نہیں جاؤں گی میں کہیں بھی آپ کے ساتھ، چاہے آپ مجھے سولی پر لٹکا ڈالیں لیکن اب میں آپ کے دوست کے گھر نہیں جاؤ گی”

آرذو روتی ہوئی ہاشم سے بولی

آج امامہ کی وجہ سے وہ اپنی آنے والی شامت سے بچ گئی تھی۔۔۔ امامہ نے جب اپنے موبائل پر آرزو کی گھبرائی ہوئی آواز سنی تو فوراً سونیا کو فون کرکے اُس نے جو جو سونیا کو سمجھایا سونیا نے ہاشم کے سامنے ویسے ہی بول دیا لیکن یہ شخص اتنے ٹیڑھے دماغ کا انسان تھا کہ کسی کی بھی بات پر اعتبار کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا

“انکار کررہی ہو تم میرے آگے جواب دو۔۔۔ ابھی میرے ساتھ میرے دوست کے گھر جاؤں گی یا تمہارے سامان کے ساتھ ابھی تمہیں تمہارے ماں باپ کی دہلیز پر چھوڑ آؤ”

ہاشم آرزو کو بازو سے پکڑتا ہوا غصّے میں پوچھنے لگا تو اُس کے بازو پکڑنے سے آرزو بولی

“ہاشم پلیز میرا ہاتھ چھوڑیں، نہیں کیا کریں ایسا سلوک مجھ سے”

اپنے بازو پر گڑھتی ہوئی ہاشم کی انگلیوں پر وہ احتجاج کرتی ہاشم سے بولی

“پھر دس منٹ کے اندر سیدھے شرافت سے تیار ہوکر کمرے سے باہر آؤ اور یاد رہے وہاں جاکر نہ تو چھچھوری لڑکیوں کی طرح ہنس ہنس باتیں کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کچھ زیادہ بولنے کی شریف لڑکیوں کی طرح خاموش بیٹھی رہو گی تم”

ہاشم اُس کو بولتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا تو آرزو اپنے لئے وارڈروب سے کپڑے نکالنے لگی کیونکہ ہاشم کی دھمکی پر ماں باپ کے گھر جاکر بھی اُس کو کون سا سکون ملنا تھا۔۔۔ شہناس اور صدیقی ہر بات کا اُسی کو قصور وار ٹھہراتے

***””””***

“وہ خطرناک جگہ ہے وہاں مت جاؤ”

اونچی پہاڑی پر ہیر کو چڑھتے دیکھ کر صدیقی اُس کے پیچھے بھاگتا ہوا آواز دینے لگا لیکن ہیر اُس کی آواز سنے بغیر آگے بڑھتی چلی جارہی تھی

“ہیر رک جاؤ بیٹا واپس لوٹ آؤ”

صدیقی نے ہیر کو ایک بار پھر ہانپتے ہوئے پکارا مگر وہ تیز رفتار سے آگے بڑھتی رہی تو صدیقی کو بھی اپنی رفتار بڑھانا پڑی وہ ہیر تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگا مگر چاہ کر بھی وہ ہیر تک پہنچ نہیں پارہا تھا کیوکہ ہیر کی رفتار اُس سے چار گنا زیادہ تھی۔۔۔ وہ بناء کسی رکاوٹ کی پرواہ کیے تیزی سے چلتی ہوئی اونچائی پر پہنچ چکی تھی

“ہیر پیچھے بہت گہری کھائی ہے واپس آجاؤ”

صدیقی کے اندر مزید چلنے کی سکت نہ تھی، اُس کی ہمت جواب دے چکی تھی صدیقی وہی اونچی آواز میں ہیر سے بولا جو اب بلندی پر پہنچ کر آنکھوں میں آنسو بھرے اُس کو دیکھ رہی تھی

“میں واپس لوٹ کر نہیں آسکتی ابو۔۔۔ اب میں واپس کبھی نہیں آسکتی”

ہیر آنسو بہاتی ہوئی ناامیدی سے بولی تو صدیقی اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ہیر کو واپس لانے کے لئے دوبارہ اونچائی پر چڑھنے لگا

بری طرح ہانپنے اور تھکنے کے باوجود وہ انچائی پر چڑھتا چلا جارہا تھا کیونکہ ہیر جہاں کھڑی تھی مشکل سے دو قدم پہچھے ہی ایک گہری کھائی موجود تھی وہ اپنی سب سے چھوٹی جان سے عزیز بیٹی کو اپنی آنکھوں کے سامنے اس گہری کھائی میں گرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا بالآخر وہ ہیر تک پہنچنے میں کامیاب ہوچکا تھا

“اَبو”

جب صدیقی ہیر تک پہنچ گیا، اسے کہیں بہت دور نیچے سے ہیر کی آواز آئی۔۔۔ صدیقی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہیر کافی دور نیچے کھڑی رو رہی تھی

“اَبو واپس آجائیے وہ جگہ بہت خطرناک ہے، پیچھے بہت گہری کھائی ہے”

ہیر کافی دور سے روتی ہوئی صدیقی سے بول رہی تھی تب صدیقی تعجب کرتا دور کھڑی ہیر کو دیکھنے لگا۔۔۔ اگر یہ وہاں نیچے تھی تو پھر اُس کے سامنے کھڑی لڑکی کون تھی وہ اتنی دیر سے کس کے پیچھے بھاگ رہا تھا

“صدیقی”

سامنے کھڑی لڑکی نے اُس کو پکارا تو صدیقی نے ہیر کی طرف سے نظریں ہٹائی اور اُس لڑکی کو دیکھا

“ہیر”

بےساختہ صدیقی اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر بڑبڑایا۔۔۔ وہ بھی ہیر ہی تھی مگر اُس کی بیٹی نہیں

“آآآآ”

دئیے جانے والے دھکے سے اُس کا وجود گہری کھائی میں تہہ در تہہ گرتا نیچے کی جانب جارہا تھا

“نہیں ہیر۔۔۔ مجھے معاف کردو خدارا مجھے معاف کردو میں نے برا کیا تمہارے ساتھ مجھے مت مارو”

صدیقی نیند میں بڑبراتے ہوئے بولے جارہا تھا

“صدیقی کیا ہوا آپکو۔۔۔ صدیقی اٹھیں”

وہ شہناس کے برابر میں لیٹا نیند میں خوف سے بڑبڑاۓ جارہا تھا، شہناس کی آواز پر ہڑبڑاتا ہوا جاگ اٹھا اور خوف سے شہناس کو دیکھنے لگا

“کیا کوئی برا خواب دیکھ لیا تھا آپ نے”

شہناس صدیقی کے شانے پر ہاتھ رکھے اُس سے پوچھنے لگی

“برا نہیں بہت بھیانک خواب۔۔۔ شہناس تم مانو یا نہیں مانو لیکن میرا دل اندر سے بول رہا ہے جیسے ہیر پریشان ہے، معلوم نہیں مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ کسی مشکل میں ہے”

صدیقی شہناس کے سامنے بولتا اپنے خدشے کا اُس کے سامنے اظہار کرنے لگا

“ایسا کیوں لگ رہا ہے آپ کو صدیقی مجھے بتائیے کیا محسوس کررہے ہیں آپ”

شہناس صدیقی کی بات پر پریشان سی ہوگئی اُسے تو اندر ہی اندر آرزو کی بھی فکر ہوتی تھی کیوکہ شہناس نے محسوس کیا تھا ہاشم بھی کافی سخت طبیعت کا انسان ہے

“میں جو محسوس کرتا ہوں وہ اپنی کیفیت بیان نہیں کرسکتا مگر میں نے سوچ لیا ہے میں ہیر کے پاس جاؤ گا اُسے جب تک اپنی آنکھوں کے سامنے نہ دیکھ لو سکون نہیں ملے گا مجھے”

صدیقی فیصلہ کرتا ہوا شہناس سے بولا تو وہ صدیقی کی بات پر خاموش ہوگئی

***””””***

دھند کے مرغولے میں چھپی ہوئی وہ رات، ایک مشکل ترین رات تھی۔۔۔۔ ہیر پیلس کا بیرونی حصّہ سناٹے اور اسرار کے سمندر میں غوطہ زن تھا۔۔۔ اِس وقت پورا ہیر پیلس رات کی خاموشی اور اسرار میں ڈوبا ہوا تھا، یخ ہوا کہیں بادلوں کے ٹکڑے اڑا لائی تب اچانک گرج برس کے ساتھ تڑ تڑ بارش شروع ہوگئی۔۔۔ شاید یہ بارش صبح تک جاری رہنے والی تھی اچانک آسمان پر بجلی کڑکی اور گھنے بادلوں میں شگاف سا پڑ گیا

اِس وقت ہیر پیلس آسمان پر چمکتی ہوئی بجلی کی تیز روشنی میں نہا گیا۔۔ ایک بار دوبارہ بجلی کڑکی لیکن اب کی بار ہیر کے اعصاب پر گری۔ وہ نیند میں ڈوبی ہوئی تھی ڈر کے مارے جاگ گئی، رات کے اِس پہر کمرے میں اکیلی تھی شیر عباس نہ جانے کہاں پر موجود تھا

“عباس کہاں ہیں آپ۔۔۔۔ عباس”

ہیر خوف کے مارے بیڈ سے نیچے نہیں اتری تھی اُس نے وہی بیڈ پر بیٹھے بیٹھے شیر عباس کو آواز دینا شروع کردیا

اچانک بیسمنٹ سے آتی بھیانک چیخ کی آواز ہیر کے کان سے ٹکرائی ساتھ ہی جیسے لاتعداد چمگادڑیں بھی مل کر چیخیں۔۔۔ ہیر خوف کے مارے شیر عباس کو پکارتی بیڈ سے اتر کر کمرے کے دروازے کی طرف بھاگی۔۔۔ وہ بھاگتی ہوئی راہداری میں آئی تو کسی وجود سے بری طرح ٹکرائی خوف کے مارے ہیر کے منہ سے چیخ برآمد ہوئی

“ہیر کیا ہوا ریلیکس میری جان”

شیر عباس ہیر کے ڈرے سہمے وجود کو بازوؤں میں بھرتا ہوا اُس سے بولا۔۔۔ ہیر خوف سے شیر عباس کی آنکھوں کو، پھر شیر عباس شانے اور سینے کو چھو کر تسلی کرنے کے بعد شیر عباس کے سینے میں منہ چھپا گئی

“کیوں چلے گئے تھے مجھے کمرے میں اکیلا چھوڑ کر۔۔۔ اگر وہ کمرے میں آجاتا تو”

ہیر ڈر کے مارے شیر عباس کا گریبان مٹھی میں دبوچے اس سے بولی تو شیر عباس نے ہیر کا خوف دور کرنے کے لیے مزید اپنی پناہوں کا گھیرا اُس پر سخت کردیا

“کوئی نہیں آئے گا میرے ہوتے ہوئے تمہارے پاس ریلیکس ہوجاؤ چلو اپنے بیڈ روم میں”

شیر عباس ہیر سے بولتا ہوا اُسے اپنے بازوؤں میں بھر کر کمرے میں لے آیا۔۔۔ ایک مرتبہ پھر بیسمینٹ سے بھیانک چیخ کی آواز نمودار ہوئی، درخت کی شاخوں پر بیٹھے پرندے پھڑپھڑاتے ہوئے اڑ گئے وہی ہیر نے دوبارہ اپنا منہ شیر عباس کے سینے میں چھپالیا

“عباس یہ کون ہے۔۔ کون اتنے برے طریقے سے چیخ رہا ہے”

ہیر شیر عباس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپاۓ اُس سے پوچھنے لگی

“کیسی چیخ مجھے تو کوئی آواز نہیں سنائی دی۔۔۔ میری جان تم ابھی نیند سے ڈر کر جاگی ہو اِس لیے تمہیں وہم گزرا ہوگا۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے”

شیر عباس بہت پیار سے اُسے بہلاتا ہوا بولا بیڈ تک لے آیا اُس کے ڈر کو وہم کا نام دیتے ہوۓ شیر عباس ہیر کو بیڈ پر لٹانے لگا تاکہ ہیر دوبارہ سو جائے اور وہ خود بیسمنٹ میں جاسکے کیوکہ تیز طوفانی بارش کے خوف سے بیسمینٹ میں موجود وجود بھی ڈر کے مارے چیخ رہا تھا

“اس وقت تیز بجلی چمک رہی ہے، باہر طوفانی بارش ہورہی ہے کیا یہ بھی میرا وہم ہے۔۔۔ نہیں ناں تو پھر ہیر پیلس کے اندر سے آتی یہ چیخوں کی آوازیں جنھیں میں باآسانی سن سکتی ہوں یہ میرا وہم کیسے ہوسکتی ہیں عباس میں پاگل نہیں ہوں، نہ ہی میں پاگل ہونا چاہتی ہوں لیکن میں اِس طرح سے پاگل ہوجاؤ گی”

ہیر شیر عباس کی بات پر شیر عباس سے بولی تو شیر عباس نے دوبارہ سے اپنے حصار میں لے لیا

“ہیر پلیز اِس وقت ساری باتیں ذہن سے نکال دو اور بحث کیے بغیر سونے کی کوشش کرو میں یہی ہوں تمہارے پاس”

شیر عباس چاہتا تھا ہیر اس وقت سو جائے وہ ہیر کا سر اپنے سینے پر رکھ کر ہیر پر کمفرٹر ڈال کر خود بھی بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔ باہر پھر ایک دم بجلی کڑکی جس کا عکس پردوں پر پڑا کمرہ یکدم روشن ہوکر پھر اندھیرے میں ڈوب گیا

بیسمنٹ سے مسلسل چیخنے کی آوازیں آرہی تھی شیر عباس نے محسوس کیا کہ ہیر اُس کے سینے پر سر رکھے کھڑکی کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔ ہیر نے اُس کی شرٹ کو بھی سختی سے اپنی مٹھی میں دبوچا ہوا تھا۔۔۔ شیر عباس جانتا تھا اِس طرح وہ خوف سے بالکل بھی نہیں سو پائے گی

“ہیر ایک منٹ”

شیر عباس ہیر کا سر اپنے سینے سے ہٹاکر بیڈ کی سائیڈ دراز میں سے کچھ نکالنے لگا

“یہ کیا ہے عباس، کک۔۔۔ کیا کررہے ہیں آپ۔۔۔ نہیں یہ میں نہیں لگواؤں گی بالکل بھی نہیں لگواؤ گی۔۔۔ عباس میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔ میں پاگل نہیں ہوں عباس”

شیر عباس کے سامنے ہیر کا احتجاج زیادہ نہیں چلا شیر عباس اُسے نیند کا انجکشن دے چکا تھا

“مجھے معاف کردو میری جان مگر ایسا کرنا ضروری ہے کیوکہ میں چاہتا ہو تم اِس وقت بناء خوف کے سکون سے سو جاؤ”

ہیر کی اپنے چہرے پر شکوہ کناں نظریں دیکھ کر شیر عباس اُس سے بولا چند سیکنڈ بعد ہیر آنکھیں بند کئے سو گئی۔۔۔ اِس سے پہلے وہ اپنے کمرے سے باہر نکلتا کمرے کا دروازہ بجا

“اُسے ابھی نیند کا انجکشن دیا ہے میں آرہا تھا”

فرغب بی کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر شیر عباس وضاحت دیتا ہوا بولا۔۔۔ اسے وضاحت دینا خود بھی عجیب لگ رہا تھا کیوکہ پہلی بار ایسا ہوا تھا جب اُس نے فرعب بی کو وضاحت دی تھی

“شیر عباس اب آپ کے دل کی طرح آپ کی ترجیحات بھی بدل رہی ہیں میں آپ کو یاد دلادو کہ اِس وقت آپ کی پہلی ترجیح آپ کی بیوی نہیں بلکہ اُس کی ذات ہونی چاہیے جسے اِس وقت سب سے زیادہ آپ کی ضرورت ہے اور اُس کا اِس دنیا میں آپ کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں”

فرغب بی شیر عباس سے بولتی ہوئی بیسمینٹ کی طرف چلی گئی شیر عباس گہرا سانس لے کر ہیر پر نظر ڈالتا ہوا خود بھی فرغب بی کے پیچھے چلا گیا

***””””***