Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel Readelle 50385 Diyar E Wehsat (Episode 3)
No Download Link
Rate this Novel
Diyar E Wehsat (Episode 3)
Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel
“آرزو کب سے چھت پر موجود ہو۔۔۔ دھلے ہوئے کپڑے رسی پر سوکھنے ڈال دیئے تو نیچے آجاؤ مغرب ہونے والی ہے”
شہناس کی چھت پر آتی آواز اسے اچھا خاصا بےزار کرگئی تھی
“امی آرہی ہو بھئی صبر تو کریں”
آرزو چھت پر سے ہی بےزار لہجے میں بولتی ہوئی رسی پر اپنے گیلے کپڑے ٹانگنے لگی جو اس نے شاور لینے کے ساتھ ہی دھوئے تھے یہ وقت صدیقی کے گھر آنے کا تھا وہ اِس وقت اپنی کسی بھی بیٹی کو چھت پر دیکھتا تو ناراض ہوجاتا۔۔۔
آرزو جانتی تھی شہناس اس کو اسی لیے بلارہی تھی، بالوں میں لپٹا ہوا تولیہ نکال کر بال اُس تولیے سے خشک کرتی وہ تولیہ رسی پر سکھانے کے لیے ڈال رہی تھی تب ایک چھوٹا سا باریک کنکر ہوا میں اُڑتا ہوا آیا جو آرزو کے شانے سے ٹکرایا آرزو چھت سے نیچے دیکھنے لگی جہاں تبریز اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے کے اسٹائل میں کھڑا تھا، وہ غصے میں تبریز کو آنکھیں دکھاتی ہوئی پیچھے ہوکر واپس جانے لگی
“میں تب تک تنگ کرو گا جب تک تم بات نہیں سنوں گی”
تبریز کی اونچی آواز میں دھمکی پر آرزو جلدی سے سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی چھت سے نیچے آگئی وہ اس دن سے ہی تبریز سے خفا تھی جب سے تبریز نے اُس کے ابو سے بدتمیزی کی تھی اور موبائل پر اُن دونوں کی بدمزگی ہوئی تھی
تبریز آرزو کو مسلسل کالز پر کالز کئے جارہا تھا مگر آرزو اُس سے بات نہیں کررہی تھی اس لیے پچھلے دو دن سے تبریز نے اس کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔۔۔ کبھی وہ لینڈ لائن پر بیلز دینے لگ جاتا تو کبھی رات میں اس کے گھر کی ڈور بیل بجاکر بھاگ جاتا۔۔۔ اور آج شام تو اُس نے گلابوں کا بکے جس میں سوری کا کارڈ موجود تھا اُس کے گھر بھیجوا کر حد ہی کردی تھی وہ تو شکر تھا کہ دروازہ اُسی نے کھولا تھا اگر اس کی جگہ پھولوں کا بکے شہناس کے یا گھر کے کسی دوسرے فرد کے ہتھے چڑھ جاتا تو گھر میں ایک الگ ہی طوفان آجاتا، تبریز کی اس حرکت سے آرزو کی جان خشک ہوچکی تھی اِس لیے آرزو نے سوچا تھا وہ رات میں تبریز کی کال ریسیو کرلے گی نہیں تو تبریز کے جذباتی پن کی وجہ سے وہ صدیقی یا شہناس کے آگے مشکوک ہوجاتی
***”””***
“ہائے نہ جانے کون کون لکھا ہے ہم تینوں بہنوں کے نصیب میں، معلوم نہیں کب اور کیسے اور کس کے ساتھ ملتے ہیں ہمارے ستارے”
مووی کا ہیپی اینڈ دیکھ کر ایل ای ڈی سوئچ آف کرتی ہوئی ہیر ٹھنڈی آہ بھرکر بولی تو کمرے میں موجود امامہ اور آرزو اُس کو گھورنے لگی
“چھوٹی طبیعت ٹھیک ہے تمہاری یا پھر اَمی سے شرم کے اوپر پورا لیکچر سننے کا موڈ ہورہا ہے تمہارا”
امامہ ہیر کی بات سن کر اُس سے پوچھنے لگی
“لیکچر سننے کا نہیں اَمّی سے جوتے کھانے کا موڈ ہورہا ہے اس کا، میں نے نوٹ کیا ہے آپی جب سے یہ اپنی دوست کی شادی سے آئی ہے تب سے پر لگ گئے ہیں اِس کو، کیسے ہوا میں اڑتی پھر رہی ہے سب نوٹ کررہی ہو میں”
اب کی بار اپنے موبائل کو سائیڈ پر رکھتی ہوئی آرزو نے بھی باتوں میں حصّہ لیا، تو امامہ آنکھوں کو چھوٹا کرتی ہوئی شک بھری نظروں سے ہیر کو دیکھنے لگے جس پر ہیر ایک دم سٹپٹا گئی
“ایسا کچھ بھی نہیں ہے آپی میں نے تو یونہی ایک عام سی بات بولی تھی ویسے بھی اَمّی سے جوتے اُس کو پڑنے چاہیے جس کو سرخ گلابوں کا بُکے ملا ہے۔۔۔ نوٹ تو میں بھی بہت کچھ کرتی ہو میڈم تمہارے متعلق”
ہیر کے یوں اچانک بولنے پر آرزو پہلے تو گھبرائی پھر ایک دم غصہ کرتی ہوئی ہیر سے بولی
“کیا بکواس کررہی ہو تم، وہ بُکے غلط فہمی سے ہمارے ہاں آگیا تھا جسے میں واپس لوٹا چکی ہوں اگر تم نے مذید کچھ بھی بکواس کی تو منہ توڑ ڈالوں گی میں تمہارا”
آرزو ہیر پر بھڑکتی ہوئی بولی امامہ کو اِس سارے قصّے کی خبر نہ تھی کیوکہ وہ تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے گھر لوٹی تھی
“اوۓ ذرا تمیز سے بات کرو یوں غصہ دکھا کر تم دوسروں کو بیوقوف بناسکتی ہو مجھے نہیں، اپنے کرتوت تم دنیا سے چھپاسکتی ہو مجھ سے نہیں۔۔۔ گلی میں کھڑے ہانک لگاتے ہوۓ تمہارے اُس دو ٹکے کے عاشق اور تمہارے لچھن میں خوب جانتی ہوں بی بی”
ہیر کے بولنے کی دیر تھی آرزو غصّے میں اس کی جانب چیل کی طرح جھپٹی امامہ ہونق بنی اُن دونوں کو دیکھ رہی تھی جب شہناس نے کمرے کے دروازے سے ہی اپنی چپل اتاری۔۔۔ ہوا میں اڑتی ہوئی چپل جب آرذو کی کمر پر لگی تو آرذو ہیر کا بازو چھوڑ کر بری طرح بلبلا اٹھی جبکہ کمرے کے اندر آتی شہناس نے ہیر کی نازک کمر پر بھی ایک زوردار ہاتھ جڑا “اوئی اَمّی” کرتی وہ بھی درد سے کراہ اٹھی
“شرم و حیا نام کی کوئی چیز ہے تم دونوں کے اندر جنگلی بلیوں کی طرح ایک دوسرے کو نوچ رہی ہو، کسی آۓ گئے کا لحاظ نہیں”
شہناس ہیر کا بازو دیکھتی ہوئی آرذو سے بولی جس کے ناخنوں کے نشانات اس کی کلائی پر موجود تھے
“اُس کی حرکتیں چیک نہیں کی آپ نے کب سے مجھے بلاوجہ چھیڑے جارہی ہے”
آرذو روہانسی لہجے میں بولی تو شہناس کے بری طرح آنکھیں دکھانے پر وہ سہم کر اس لیے خاموش ہوگئی کہیں اس کو بھی اپنے ماں کے ہاتھ کا کرارا گھونسا کمر پر نہ پڑجائے
“وہ چھیڑ رہی تھی اور تم ننھی کاکی بنی ہوئی اُس سے چھڑ رہی تھی اتنی کوئی حسینہ لگی ہوئی ہو۔۔۔ زبیدہ آئی ہوئی ہے دو منٹ میں اُس کے لئے چائے لےکر آؤ اور ساتھ میں نمکو اور بسکٹ بھی لے آنا”
شہناس آرزو سے بولتی ہوئی ہیر کو گھور کر کمرے سے باہر نکلی
“یہ زبیدہ آنٹی کو بھی چین نہیں ہے ہر تھوڑے دنوں بعد اُونگے بونگے رشتے لےکر یہاں پر آجاتی ہیں نمکو کے ساتھ سموسے بھی رکھ دینا اُن کے سامنے خوش ہوکر شاید کوئی ڈھنگ کا رشتہ ہی بتادیں، ویسے بھی کلیم کی دکان کے سموسے آج باسی تھے کسی نے بھی نہیں کھائے سارے کے سارے بچ گئے”
کمرے سے کچن میں جاتی ہوئی آرزو کو دیکھ کر ہیر نے ہانک لگائی تو امامہ بول اٹھی
“ہیر بہت بری بات ہے دن بدن تم بدتمیز ہوتی جارہی ہو کتنی بڑی ہیں زبیدہ آنٹی تم سے ابھی اَمّی تمہارے خیالات سن لیتی تو وہ اپنی چپل سے تمہاری بھی اچھی طرح تواضح کرتیں”
امامہ ڈانٹتی ہوئی ہیر سے بولی تو ہیر منہ بناکر چپ کر گئی
***””””***
“او گاڈ یہ کس قدر روتی شکل کا بچہ ہے ہاشم کو بھی ناجانے کیا سوجھی تھی اس مصیبت کو یہاں لاکر مجھے سونپنے کی، شمع۔۔۔ او شمع کہاں غرق ہوگئی ہو تم۔۔۔ لےکر جاؤ اسے یہاں سے فیڈر تیار کرو اس کا تاکہ اِس کا منہ بند ہو”
ماہ نور نیند سے بےحال ہوکر چیخ چیخ کر شمع کو پکارنے لگی تاکہ کارٹ میں موجود بچہ شمع لےکر چلی جاۓ ماہ نور کی چیخ و پکار سن کر گلنار اُس کے کمرے میں چلی آئی
“شمع یہاں گھر کے کام کاج کرنے کے لئے آتی ہے بچہ سنبھالنے نہیں، ہاشم حسن کو یہاں اِس لئے لےکر آیا تھا تاکہ اُس کمی کو پورا کیا جائے جس سے تمہاری بدولت ہم بھی محروم ہوگئے ہیں”
گلنار نے ماہ نور سے بولتے ہوئے کارٹ میں موجود 6 ماہ کے روتے ہوئے حسن کو گود میں اٹھالیا
“کیا آپ کوئی موقع ہاتھ سے جانے بھی دیں گی مجھ پر طنز کرنے کا اور یہ بچہ وچہ میں نہیں پال سکتی یہ میرے بس کی بات نہیں”
ماہ نور بےزار لہجے میں گلنار سے بولی
“طنز کرنے کا موقع بھی تم نے ہی فراہم کیا ہے، خیر حسن کے لیے فیڈر تیار کرکے میرے کمرے میں لے آؤ کیوکہ سچ میں بچے کی پرورش کرنا نہ تو مذاق بات ہے نہ تمہارے بس کی بات ہے”
گلنار ماہ نور سے بولتی ہوئی حسن کو گود میں اٹھاۓ بہلاتی ہوئی کمرے سے لے گئی جبکہ ماہ نور دانت پیس کر فیڈر اٹھا کر حسن کا دودھ تیار کرنے لگی
“دو گھنٹے بعد بھوک ختم ہوگی تو اِس میں رونے کی بیٹری دوبارہ چارج ہوجاۓ گی۔۔۔ معلوم نہیں آخر کیوں یہ مصیبت ہاشم نے میرے گلے ڈال دی”
ماہ نور نے بڑبڑانے کے ساتھ فیڈر میں سلیپنگ پلس ڈال دی تاکہ حسن دیر تک سوتا رہے اور خود اُس کی نیند بھی ڈسٹرب نہ ہو
***”””***
“حسن نہیں میرا بچہ ایسے نہیں روتے”
فیڈر پلانے کے بعد فیڈر سائیڈ پر رکھتی ہوئی گلنار حسن کو گود میں لےکر ٹہلنے لگی تاکہ وہ بہل جائے تبھی اس کے کمرے میں ایوب خان چلے آئے
“کیا حسن کی طبیعت خراب تو نہیں ہے یا پھر کوئی درد وغیرہ تو نہیں ہو رہا بچے کو، کس قدر رو رہا ہے یہ معصوم”
ایوب خان حسن کو دیکھ کر فکر مند لہجے میں بولے، جو اب گلنار کے کندھے سے لگا آئستہ آئستہ سسک رہا تھا بےشک حسن اُن کا پوتا ان کا خون نہ تھا مگر تھا تو وہ معصوم سا بچہ اُس کے آجانے سے ایوب خان تھوڑے بہت بہل گئے تھے
“ارے نہیں ابا جی حسن بالکل ٹھیک ہے بس کافی دیر سے بھوکا تھا تو اس لیے بھوک کی وجہ سے روئے جارہا تھا اب دیکھیں دودھ پیتے ہی سکون میں آگیا”
گلنار ایوب خان کو بتانے کے ساتھ حسن کو بیڈ پر لٹا چکی تھی کیونکہ اب وہ اونگنا شروع ہوچکا تھا شاید تھوڑی دیر میں سو جاتا
“بن ماں باپ کا بچہ ہے اگر اِس کی صحیح سے دیکھ بھال نہ کی گئی یا اِس بچے کی پرورش میں کوئی کوتاہی رہ گئی تو اِس کا گناہ ہمارے سر آئے گا۔۔۔ تم ہاشم سے بول کر حسن کے لئے کسی آیا کا بندوبست کردو کیونکہ ہمہیں نہیں لگ رہا کہ ماہ نور اِس کی صحیح طریقے سے دیکھ بھال کر پائے گی”
ایوب خان گلنار کو مشورہ دیتے ہوئے بولے جس پر گلنار سر جھٹک کر مسکرائی
“ماہ نور اپنے شوہر کی دیکھ بھال کرلے یہی بہت ہے۔۔۔ اُس کے لیے مجھے تو ماہ نور سے تب بھی کوئی اچھی امید نہیں تھی جب اُسے ہاشم کی بیوی بناکر آپ اس گھر میں لائے تھے”
گلنار ایوب خان سے شکوہ کرتی ہوئی بولی جس پر ایوب خان نے ٹھنڈی آہ بھری
“صرف ہاشم کی خوشی اور مرضی کو دیکھتے ہوئے ہم نے یہ قدم اٹھایا تھا مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہاشم کی ماہ نور سے شادی کرکے مگر اب چاہ کر بھی ہم اپنی غلطی کو سدھار نہیں سکتے کاش ہاشم دوسری شادی کے لیے مان جاتا لیکن شاید اپنا پَر پوتا دیکھنا ہمارے نصیب میں نہیں لکھا”
ایوب خان مایوس کن لہجے میں بولے تو گلنار بھی افسردہ ہوگئی کیوکہ اُس کو بھی چاہ تھی اپنے پوتے پوتیوں کی
مگر ہاشم نے دوسری شادی کی بات سن کر نہ صرف دوسری شادی سے انکار کیا تھا بلکہ تین دن بعد ہی وہ اپنے دوست کے بڑے بھائی کا چھ ماہ کا بیٹا اپنے ہمراہ گھر لے آیا تھا کیونکہ ہاشم کے دوست کا بڑا بھائی یعنی حسن کا باپ اور اس کی بیوی ایک حادثے میں فوت ہوچکے تھے
بےشک چھ ماہ کے حسن نے ایوب خان اور گلنار کی توجہ حاصل کی تھی مگر ان دونوں کو یہ قلق تھا حسن ان کا خون نہیں لیکن جتنا ہوتا ایوب خان اور گلنار حسن کو توجہ اور وقت دے رہے تھے ہاشم بھی آفس سے آنے کے بعد فری ٹائم میں حسن کے ساتھ ٹائم گزارتا مگر ماہ نور کا اِن دنوں پارہ فل ہائی رہنے لگا تھا اُس نے ایک فیصد بھی اپنے آپ کو بدلنے کی یا پرانی روش چھوڑنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ کل رات اپنی کزن کی پارٹی سے اس کا لیٹ آنا ہوا تھا اور صبح حسن نے اس کی نیند میں خلل ڈال دیا تھا حسن کو گلنار کے حوالے کر کے اب وہ سکون سے سو رہی تھی
***””””***
ماہ نور سو کر اٹھی تو اُس وقت رات کے دو بج رہے تھے اُسے حیرت ہوئی وہ صبح سے اب تک سوتی رہی تھی مگر اِس سے بھی زیادہ حیرت ماہ نور کو تب ہوئی جب اُسے پورے گھر میں کوئی نہیں دکھا اتنی رات کو سب لوگ آخر کہاں جاسکتے تھے ماہ نور حیرت سے سوچتی ہوئی ہاشم کو کال ملانے والی تھی کہ تبھی اسے کار پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز آئی۔ ماہ نور جلدی سے اپنے کمرے سے باہر نکلی اس نے باہر جانے کے لیے قدم اٹھائے تو داخلی دروازے سے ایوب خان گلنار اور ہاشم اُس کو اندر آتے دکھائی دیئے
“آپ سب اتنی رات کو کہاں سے آرہے ہیں”
ماہ نور ان سب کے اترے ہوئے چہرے اور سنجیدہ تاثرات دیکھ کر سوال کرنے لگی مگر اُن میں سے کسی نے بھی ماہ نور کو کوئی جواب نہیں دیا
“کیا ہوا آپ سب کو ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے”
جب اُس کو تینوں میں سے کسی سے کوئی جواب نہیں ملا تو وہ دوبارہ بولی کیونکہ وہ تینوں ہی اُس کو بڑی عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے ماہ نور کے سوال پر ہاشم آگے بڑھتا ہوا اُس کے پاس آیا
“حسن کے دودھ میں کیا ملا کردیا تم نے اُس کو”
ہاشم بےحد سنجیدہ لہجے میں ماہ نور سے سوال کرنے لگا تو ماہ نور بولی
“نیند کی گولیاں دی تھی تاکہ وہ سو جائے، میں ڈسٹرب ہورہی تھی اُس کے بار بار رونے سے مگر ہوا کیا ہے آخر”
ماہ نور کو ابھی تک ماجرہ سمجھ نہیں آیا تھا لیکن اُس کی بات مکمل ہوتے ہی ہاشم کا ہاتھ اٹھا اور ماہ نور کے گال پر اپنی انگلیوں کا نشانات چھوڑ گیا۔ وہ حیرت اور بےیقینی سے ہاشم کو دیکھنے لگی ہاشم کی نظروں میں اِس وقت نہ صرف غصہ تھا بلکہ اُس کے لئے ناگواری بھی تھی ہاشم بناء کچھ بولے کمرے میں چلاگیا
“کوئی مجھے بتائے گا ہوا کیا ہوا ہے آنی پلیز بتائیے ناں ہاشم اتنے غصے میں کیوں ہے”
ماہ نور اب ایوب خان اور گلنار کی نظروں میں اپنے لئے ناگواری دیکھنے کے باوجود گلنار کے پاس آتی اُس سے پوچھنے لگے آخر اُس سے ایسی کیا غلطی ہوئی تھی جو ہاشم نے غصے میں اُس کے اوپر ہاتھ اٹھایا تھا
“مجرم ہو تم حسن کی جان لےلی تم نے اُس معصوم بچے کی، کتنی مقدار میں گولیاں ڈالی تھی تم نے اسکے دودھ میں ارے اگر وہ تم سے پل نہیں رہا تھا تو ہاشم سے بولتی وہ واپس حسن کو اپنے دوست کے پاس چھوڑ آتا کم سے کم وہ معصوم اپنی جان سے تو نہ جاتا تمہارے سینے میں واقعی ماں کا دل نہیں ہے ماہ نور اِس سے زیادہ بڑا گناہ تمہارے حساب میں شاید ہی کوئی لکھا جائے قتل کردیا تم نے ایک معصوم بچے کا”
گلنار ماہ نور کو بولے جارہی تھی جبکہ ماہ نور حیرت اور بےیقینی سے گلنار کو دیکھ رہی تھی کیا حسن مرچکا تھا اُس کے ہاتھوں۔۔۔ اُس کی کم عقلی اور بےوقوفی سے، کیا وہ سچ میں اُس بچے کی جان لے چکی تھی
“میں حسن کی مجرم نہیں ہوں سنا آپ لوگوں نے میں نے اُس کو نہیں مارا، میں اُس کو صرف سلانا چاہتی تھی مارنا نہیں چاہتی تھی، خبردار جو کسی نے مجھے اُس کا مجرم ٹھہرایا میں قاتل نہیں ہوں حسن کی”
گلنار اور ایوب خان کب کے وہاں سے اپنے اپنے کمروں میں جاچکے تھے جبکہ ماہ نور ہال میں اکیلی کھڑی زور زور سے چیخ رہی تھی
***””””***
رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی آخری تاریخوں کا ایک چوتھائی چاند قوس کی طرح آسمان کے شفاف سینے میں دمک رہا تھا۔ ستارے آہستہ آہستہ قریب ہورہے تھے، ہوا دھیمے سرووں میں دبے پاؤں چل رہی تھی جنگل کی طرف سے جانوروں کی آوازیں آنا بند ہوچکی تھی
ہیر پیلس خاموشی اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا راہداریاں دور تک ویران پڑی تھی ایسے میں بیسمنٹ سے آہستہ آہستہ سسکنے کی آواز پر شیر عباس کی سماعت سے ٹکرانے لگی جس سے اُس کی نیند ٹوٹی وہ گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا خود پر سے کمفرٹر اتار کر اٹھ بیٹھا
بیسمنٹ میں موجود اس وجود کو وہ نظر انداز کرکے سو نہیں سکتا تھا اِس لئے اپنے کمرے سے باہر راہداری عبور کرتا ہوا کمرے سے سیدھا بیسمنٹ کی سیڑھیاں اترنے لگا جیسے جیسے وہ سیڑھیاں اتر رہا تھا باریک سُروں میں آتی رونے کی آواز میں اضافہ ہوتا جارہا تھا
“کیا ہوگیا اتنی دیر سے کیوں رونا آرہا ہے تمہیں معلوم ہے ناں تمہارے رونے سے میں پریشان ہونے لگتا ہوں”
شیر عباس سیڑھیاں اتر کر بیڈ پر بیٹھے بھاری بھرکم وجود سے بولا جس کے دونوں پیروں کو بیڑیوں سے باندھا گیا تھا اُس کا سر بالوں سے خالی کسی چکنے سفید انڈے کی شیپ میں چمک رہا تھا وہ شیر عباس کو دیکھ کر غرانے کی آواز نکالتا ہوا اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر جماکر دونوں پنجوں کی مدد سے کسی درندے کی مانند بیڈ سے نیچے اتر کر ہاتھوں اور پاؤں کی مدد سے چل کر شیر عباس کے پاس آنے لگا شیر عباس خود بھی پنجوں تلے فرش پر جھک کر ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید اپنے پاس بلانے لگا وہ منہ سے غرانے کی آواز نکالنے کے ساتھ شیر عباس کے پاس چلا آیا
“ناراض ہو مجھ سے مگر کیوں؟؟”
شیر عباس اس کی ہری چمکتی ہوئی آنکھوں میں اپنے لیے ناراضگی دیکھتا ہوا اس سے ناراض ہونے کی وجہ پوچھنے لگا شیر عباس کے پوچھنے پر اُس کی غراہٹ میں مزید اضافہ ہوا
“نہیں تم غلط سوچ رہے ہو ایسے مت سوچو۔۔۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں تمہارے علاوہ اِس دنیا میں میرا کوئی نہیں”
شیر عباس اُس کے شکوہ کرنے پر نرم لہجے میں اِس سے بولنے کے ساتھ اپنی جیب سے رومال نکال کر اُس کے منہ سے نکلتا ہوا لہواب صاف کرنے لگا جو اس کے منہ سے نکل کر نیچے فرش پر ٹپک رہا تھا شیر عباس کی بات پر وہ مزید غرایا شیر عباس شروع سے ہی اس کی ہر بات بہت آرام سے سمجھ جاتا تھا
“نہیں میں تمہیں اِس کمرے سے باہر نہیں لے جاسکتا، فرغب بی کو بھی ایسا کرنے سے میں نے ہی منع کیا ہے”
شیر عباس اُس کو دوبارہ سمجھاتا ہوا بولا، جس پر اس کا ہیبت ناک وجود غصے میں لرزنے لگا اُس کی غراہٹ میں مزید تیزی آگئی اپنے غصّے کے سبب وہ اپنا ہاتھ کا پنجا شیر عباس کے گال پر مارتا ہوا بڑے بڑے ناخنوں سے اُس کا گال زخمی کرچکا تھا شیر عباس خاموشی سے ڈرے بغیر اُسے دیکھنے لگا۔۔۔ وہ شیر عباس کے منع کرنے پر اپنی پشت شیر عباس کی جانب کرتا آہستہ آہستہ لرزنے لگا۔۔۔ غرانے کی آواز بدستور اُس کے منہ سے جاری تھی شیر عباس جانتا تھا یوں اپنا رخ دوسری طرف کرلینا اس کی ناراضگی کا اظہار تھا اُس کی ناراضگی کے احساس سے شیر عباس بیڈ سے باندھی اُس کی بیڑیاں کھولنے لگا
***””””***
“لالالالا”
اِس وقت سناٹے میں چھایا ہوا ہیر پیلس باریک سے مگر ہیبت ناک قہقہوں سے گونج رہا تھا شیر عباس اُس کو بڑے سے گول کمرے میں چاروں اطراف گھومتے گنگناتے اور چکر کاٹتے دیکھ رہا تھا۔۔۔ ایسا چھ یا سات مرتبہ ہوا تھا کہ جب شیر عباس اُس کو قید سے رہائی بخشتا اور اوپر ہال میں لے آیا تھا بےفکر مگر ہیبت ناک قہقہوں میں خوف کی رمق تب شامل ہوئی جب اُسے ہال میں شیر عباس کے علاوہ کسی دوسرے کا گمان ہوا
“منّا کیا ہوا ڈر کیوں گئے، میں ہوں فرغب بی”
فرغب بی اپنے کمرے سے نکل کر اس کے پاس آتی ہوئی بولی جو اب ان کو دیکھ کر نارمل ہوگیا تھا اور خوشی سے دوبارہ ہال کے چاروں اطراف چکر کاٹنے لگا
“خوش ہے اِس وقت”
فرغب بی صوفے پر بیٹھتی ہوئی شیر عباس سے بولی جس پر شیر عباس نے اقرار میں سر ہلایا
“وہ کام کہاں تک پہنچا آپ نے دوبارہ ذکر نہیں کیا”
شیر عباس کچھ یاد کرتا ہوا فرغب بی سے پوچھنے لگا
“زبیدہ گئی تھی وہاں رشتے سے متعلق بات کرنے، اب دیکھیں وہاں سے کب تک مثبت جواب آتا ہے انتظار تو مجھے بھی ہے”
فرغب بی جانتی تھی شیر عباس اُن سے کس موضوع پر بات کررہا تھا تبھی وہ شیر عباس کو جواب دیتی ہوئی بولی مگر شیر عباس کی توجہ اچانک ہال میں آنے والی اُس بلی نے لےلی جس کو وہ خوف کے مارے اپنے پنجوں میں دبوچ چکا تھا
“اُس کو چھوڑ دو وہ تمہیں کچھ نہیں کہے گی”
شیر عباس ایک دم بولتا ہوا صوفے سے اٹھ کر اُس کی جانب آیا لیکن وہ غصّے اور خوف سے بلی کی گردن بری طرح دبوچے ہوئے اپنے منہ سے عجیب وغریب خوفناک سی آوازیں نکال رہا تھا کسی بھی اجنبی کو دیکھ کر وہ اُس پر خوف کے مارے یونہی حملہ کردیا کرتا تھا
“منا اسے چھوڑ دو ڈرو نہیں اُس کو جانے دو وہ بلی ہے تمہیں کچھ نہیں کہے گی”
فرغب بی نے بھی اُس کے پاس آکر اپنی سی کوشش کی تھی مگر بلی اُس کے مضبوط شکنجے میں چند سانسیں مذید لےکر بےجان ہوچکی تھی شیر عباس کو اُسے ہال میں لانے پر پچھتاوا ہونے لگا
***”””””***
“اس وقت تمہیں اپنے سامنے دیکھ کر بتا نہیں سکتا میں کتنی خوشی محسوس کررہا ہوں”
آرزو اپنے کالج سے باہر کھڑی تھی تب تبریز بائیک اُس کے قریب روکتا ہوا بولا
“تمہیں خوشی ہورہی ہے اور مجھے تم سے اس طرح ملتے ہوۓ ٹینشن ہورہی ہے”
آرذو گھبرا کر تبریز سے نظر ملائے بغیر بولی کہیں اندر ہی اندر اسے چوری چپھے ملنے پر گلٹ بھی ہورہا تھا
“آج تمہاری سالگرہ کا دن ہے تمہیں ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں، قریبی ریسٹورنٹ میں ہم دونوں لنچ کریں گے اور پھر میں تمہیں گھر ڈراپ کردو گا”
تبریز آرذو کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر اُس کو اطمینان دلاتا ہوا بولا جس پر آرزو اقرار میں سر ہلاتی ہوئی بائیک پر تبریز کے پیچھے بیٹھنے لگی
آج اتفاق ہی تھا جو ہیر نے آف کیا تھا، وہ موجود نہ تھی اس لیے موقع دیکھتے ہی تبریز کی بےجا ضد پر آرذو نے اس سے ملنے کی حامی بھری تھی۔ آرزو بائیک پر بیٹھ رہی تھی تبھی پیچھے سے تیزی سے آتی کار سڑک پر پڑے ہوئے پانی کے چھینٹے اُڑاتی ہوئی زن کرکے جانے لگی
“ابے اووو ….. آدمی”
تبریز نے گالی دیتے ہوئے گاڑی والے کو مخاطب کیا تھا جو تھوڑی دور جاکر گاڑی روک چکا تھا گاڑی کو رکتا ہوا دیکھ کر تبریز بھی بائیک سے اترنے لگا
“تبریز چھوڑو بھی خدا کے لئے جانے دو اسے”
آرزو تبریز کو غصّے میں دیکھ کر روکتی ہوئی بولی جبکہ گاڑی میں موجود شخص بھی گاڑی سے نکل کر غصّے میں تبریز کی طرف بڑھا
“کیا بولا تم نے ابھی۔۔۔ گالی کس کو دی تم نے”
ہاشم تبریز کی جانب بڑھتا ہوا غصے میں آکر اس کا گریبان پکڑ کر تبریز سے پوچھنے لگا
“تمہارے باپ نے گاڑی خرید کر دینے کے ساتھ تمہیں گاڑی چلانے کی تمیز نہیں سکھائی”
تبریز ہاشم کو پیچھے دھکیلتے ہوا بولا کیونکہ گندے پانی کے چھینٹے اُس کے کپڑے خراب کرچکے تھے پیچھے دھکیلنے پر ہاشم اپنی گاڑی کے بونٹ پر گرنے سے پہلے سنبھل گیا اس نے غصے میں ہاتھ کا مُکّا بنایا اس سے پہلے وہ تبریز پر مُکا رسید کرتا راہ چلتے آدمی بیچ بچاؤ کروانے کے لیے آن پہنچے
“چھوڑو اُس کا دماغ میں ابھی درست کرتا ہوں لڑکی کو بائیک پر بٹھا کر خود کو ہیرو سمجھ رہا ہے، نو پارکنگ میں بائیک کھڑی کرکے مجھ پر روعب جھاڑ رہا ہے آج اسے اِس کا باپ نہیں میں تمیز سکھاؤ گا”
ہاشم غصہ کرتا ہوا ان دو آدمی سے بولا جنہوں نے اس کو پکڑ رکھا تھا اِس سے پہلے تبریز خود بھی ہاشم کو مارنے کے لیے آگے بڑھتا
“کیا ہوگیا ہے تبریز ہوش میں آؤ”
آرذو تبریز کو بازو سے پکڑتی ہوئی بولی
***””””***
ہاشم ریسٹورنٹ کے اندر آکر پہلے سے ریزو کروائی ہوئی ٹیبل پر بیٹھ چکا تھا اُس کا موڈ تھوڑی دیر پہلے ہوئے جھگڑے سے ویسے ہی خراب تھا اوپر سے وہ مقصد بھی پورا نہیں ہوا جس کے لیے وہ یہاں آیا تھا اُس کا اپنا کلائنٹ کے ساتھ یہاں آفیشل میٹنگ اور لنچ تھا مگر تھوڑی دیر پہلے اس کے کلائینٹ کی معذرت بھری کال آئی تھی کہ وہ یہاں نہیں آسکے گا۔۔۔ ہاشم لنچ آرڈر کرنے کے بعد وہاں سے جانے کا ارادہ رکھتا تھا
تب ہاشم کی نظر ریسٹورنٹ میں اسی کپل پر پڑی جس سے تھوڑی دیر پہلے اُس کی منہ ماری ہوئی تھی وہ بدتمیز اور بد زبان لڑکا تو نہیں البتہ اُس کے ساتھ موجود لڑکی ہاشم کو دیکھ چکی تھی، آرزو کے دیکھتے ہی ہاشم کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی وہ آرذو کو ناگوار نظروں سے دیکھتا ہوا اپنا رخ دوسری طرف پھیر چکا تھا
“تبریز تم تو غصّے میں بالکل ہی آپے سے باہر ہوجاتے ہو”
تبریز جب آرزو کو ریسٹورنٹ میں لایا آرزو کی نظریں اُس شخص پر پڑی جس سے تھوڑی دیر پہلے تبریز کا جھگڑا ہوا تھا کیونکہ تبریز کی پشت اُس شخص کی طرف تھی، ممکن تھا کہ تبریز اُس شخص کو دیکھ نہیں پایا ہو، وہ شخص اپنے چہرے پر ناگواری کے تاثرات لاۓ چہرے کا رخ موڑ چکا تھا تب آرذو تبریز سے بولی مگر تبریز کی توجہ آرزو پر نہیں ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہوتے صدیقی پر تھی جو اس کی جانب آ رہا تھا
“میں تم سے کیا بات کررہی ہوں اور تم وہاں کیا دیکھ رہے ہو”
آرذو نے جیسے ہی مڑ کر دیکھا خوف کے مارے نہ صرف اس کی آنکھیں پھیل گئیں بلکہ صدیقی کو دیکھ کر اُس کی روح فنا ہونے لگی
“اَبُو”
آرزو بےآواز بولتی ہوئی کرسی سے اٹھی مگر صدیقی اُس کی جانب نہیں بڑھ رہا تھا اس نے تبریز کے پاس آکر زور دار طماچہ تبریز کے گال پر رسید کیا جس پر ایک سیکنڈ کے لیے نہ صرف تبریز بالکل سن ہوگیا بلکہ ہاشم بھی باہر سے آنے والے شخص کی حرکت نوٹ کرچکا تھا
“ابو مجھے معاف کردیں”
صدیقی کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر آرزو ڈر کے مارے بولی صدیقی بناء کچھ بولے آنکھوں میں ڈھیر سارا غصہ لیے آرزو کو اپنے ساتھ وہاں سے لے جانے لگا
ہاشم دور سے ہی سارا ماجرا دیکھ رہا تھا ساری بات اس کی سمجھ میں آچکی تھی ناگواری سے سر جھٹک کر اپنا آرڈر کیا ہوا لنچ کرنے لگا
***”””***
“ٹھہرو ہاشم مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے”
کمرے سے باہر جاتے ہاشم کو دیکھ کر ماہ نور اس سے بولی۔۔۔ حسن والے قصّے کے بعد سے نہ صرف ایوب خان اور گلنار نے بلکہ ہاشم نے بھی اُس سے بول چال کا سلسلہ ترک کردیا تھا
“میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ذرا جلدی بولو جو بھی بولنا ہے”
ہاشم ماہ نور کی آواز سن کر رکا تھا وہ کلائی پر باندھی ہوئی گھڑی میں ٹائم دیکھ کر ماہ نور سے بولا
“ہاشم تمہیں معلوم ہے آج کل گھر میں کیا چل رہا ہے دا جی اور آنی تمہارے لئے لڑکی دیکھ رہے ہیں تاکہ اس سے تمہاری دوسری شادی کروا سکے”
ماہ نور بغیر وقت ضائع کیے ہاشم سے بولی بےشک وہ اس سے ناراض تھا مگر ماہ نور جانتی تھی ہاشم اُس سے محبت کرتا ہے لازمی گھر میں ہونے والی سرگرمیوں سے ناواقف ہے ماہ نور کو پورا یقین تھا یہ سب سننے کے بعد وہ ضرور اپنے دا جی اور ماں جی سے بات کرے گا
“ماہ نور جو تم نے چاہا وہ تم کرچکی ہو، اب باری دا جی اور ماں جی کی ہے میں نے بہت کوشش کی تھی گھر کے حالات تمہارے مخالف نہ جائیں لیکن میرے اکیلے کے کوشش کرنے سے کچھ نہیں ہوتا اِس معاملے میں تم نے میرا ساتھ ہی نہیں دیا سچ پوچھو تو میں بہت پریشان ہوچکا ہوں ایک طرف تمہارے رویے سے دوسری طرف تم کو سمجھاتے ہوئے مگر اب اِن باتوں کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہے۔ اِس لئے میں دا جی اور ماں جی کے آگے ہتھیار ڈال چکا ہوں”
ہاشم تھکے ہوئے مگر سنجیدہ لہجے میں ماہ نور سے بولا تو اُس کی بات پر ماہ نور گنگ ہوکر ہاشم کو دیکھنے لگی یعنی وہ ان سب باتوں سے باخبر تھا یہ الگ بات تھی کہ ایوب خان کے آگے اس نے تھوڑا سا احتجاج بھی کرنا چاہا مگر ایوب خان کے ساتھ گلنار نے بھی اس کو کافی زیادہ سنائی
“یعنی ہاشم تم۔۔۔۔ تم دوسری شادی کروگے اپنے دا جی اور آنی کے مجبور کرنے پر”
ماہ نور لہجے یقینی سمائے ہاشم سے پوچھنے لگی اسے تو لگتا تھا وہ چاہے کتنی بھی غلطیاں کرلے ہاشم اُس کو اُس کی ہر غلطی پر اُس کو معاف کردے گا یہی سوچ رکھتے اُس نے ہاشم پر توجہ اور وقت دینا بھی کم کردیا تھا
“ماہ نور میں نے تم سے اپنی خوشی سے شادی کی تھی، ماں جی کو مناکر۔۔۔ ہمیشہ میں نے ہی تمہارے اور اپنے رشتے کو جوڑے رکھنا چاہا مگر ماہ نور کبھی تم نے۔۔۔۔ تم اکیلے میں غور کرنا شادی کے اِن چھ سالوں میں تم نے کیا کیا۔۔۔ تم نے کبھی بھی کسی موقع پر میرا ساتھ نہیں دیا مجھے ہمیشہ میری فیملی کے سامنے شرمندہ کیا اور ہر بار یہی احساس دلایا کہ میرا انتخاب بالکل غلط تھا میں نے بہت ممکن کوشش کی تھی کہ میرے اور تمہارے رشتے میں کوئی تیسرا شخص نہ آئے لیکن یہ کوشش صرف میں نے ہی اکیلے کی تم نے کبھی بھی میرا ساتھ نہیں دیا۔۔۔ تم سے اپنی شادی کرکے میں اپنی مرضی کرچکا ہوں اِس لیے اب داجی اور ماں جی کی باری ہے”
ہاشم ماہ نور سے بولتا ہوا ماہ نور کو صدمے کی کیفیت میں چھوڑ کر کمرے سے باہر چلا گیا
ہاشم چاہتا تھا کہ جب وہ واپس گھر لوٹے تو ماہ نور کو اپنے کیے کا احساس ہو، وہ معافی تلافی کرکے اپنا رشتہ بچانے کی خاطر ایک بار کوشش کرے مگر ماہ نور پر صدمے کی یہ کیفیت زیادہ دیر تک اس لیے نہیں رہی تھی کیونکہ اس کو اپنی کزن کی طرف بہت ضروری جانا وہ ساری سوچوں کو جھٹک کر ہاشم سمیت اپنے سسرال پر لعنت بھیجتی ہوئی جانے کی تیاری کرنے لگی
***””””***
“آرذو ہیر تمہارے لیے کھانا لےکر آئی ہے اٹھو کھانا کھالو”
امامہ کمرے میں آتی ہوئی بیڈ پر لیٹی آرذو سے بولی کل پڑنے والی مار کی وجہ سے کوشش کے باوجود آرذو سے اٹھ کر بیٹھا نہ گیا تھا امامہ نے بیڈ کے قریب آکر آرزو کو بٹھانا چاہا تو وہ بیٹھ کر امامہ کے گلے لگ کر رونے لگی کل نہ صرف گھر آنے کے بعد صدیقی نے آرذو کو برے طریقے سے مارا تھا بلکہ آرذو کا کارنامہ سن کر صدیقی کے ساتھ شہناس نے بھی آرذو کو مار مار کر اس کا حشر بگاڑ دیا تھا
کل امامہ اور ہیر اپنے ماں باپ کو خاص طور پر صدیقی کو اِس روپ میں دیکھ کر خوفزدہ ہوچکی تھیں ایسا پہلی بار ہوا تھا جب صدیقی نے اپنی کسی اولاد پر ہاتھ اٹھایا تھا کل سے ہی صدیقی اور شہناس آرزو کی شکل دیکھنے کے روادار نہ تھے
آرزو کا کھانا امامہ یا ہیر میں سے کوئی آرذو کی کمرے میں دے کر جارہی تھی کیونکہ اب صدیقی یا شہناس میں سے کوئی بھی آرزو کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے تھے
“رونا بند کرو آرذو کھانا کھالو”
امامہ آرذو کو خود سے الگ کرتی ہوئی بولی بےشک غلطی آرزو سے ہوئی تھی مگر امامہ اور ہیر دونوں ہی اُس سے اپنا رویہ سخت نہیں کرسکی تھی ہیر کھانے کی ٹرے لےکر کمرے میں آئی اور آرذو کے پاس بیٹھ گئی
“آپی وہ برا نہیں ہے مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے اور میں بھی”
آرزو روتی ہوئی ہیر کی موجودگی میں امامہ سے بولی تو امامہ سختی سے آرذو کو چپ کرواتی ہوئی بولی
“اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود تم ابھی تک وہی کی وہی اٹکی ہو، آرذو تمہیں خدا کا واسطہ ہے اب تم اُس لڑکے کا نام تک اپنی زبان سے نہیں لوگی اور نہ ہی اُس کے بارے میں کچھ سوچو گی”
امامہ سنجیدہ اور تھوڑا سخت لہجے میں آرذو بولی تو ہیر ایک دم امامہ سے بول اٹھی
“آپی اِس میں برا کیا ہے اگر آرزو اور تبریز ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔۔ امی زبیدہ آنٹی سے آرذو کے رشتے کے بارے میں بات کررہی تھی کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ اِس کا کہیں اور رشتہ کرنے کی بجاۓ امی ابو تبریز کے لیے کوشش کرلیں”
ہیر کے بولنے پر آرزو رشتے کی بات سن کر چونکی وہی امامہ اب ہیر کو دیکھ کر ٹوکتی ہوئی بولی
“تم چھوٹی ہو تم سے کسی نے مشورہ نہیں مانگا کہ کیا کرنا ہے اِس لئے اِس کے سامنے الٹی سیدھی باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ کوئی رومینٹک محبت بھری فلم یا کہانیوں کا حصہ نہیں بلکہ اصل حقیقتی زندگی ہے اور حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا”
امامہ غصہ کرتی ہوئی ہیر سے بولی وہ نہیں چاہتی تھی ہیر کی ایسی باتیں سن کر آرذو کچھ بھی الٹا سیدھا سوچے کیونکہ صدیقی اور شہناس ایسا ہرگز نہیں ہونے دیتے
“اَمی اگر میرے لئے رشتہ ڈھونڈ رہی ہے تو اُن سے کہہ دیجئے کہ میں کسی دوسرے سے شادی ہرگز نہیں کرو گی اِس سے بہتر یہی ہے کہ میں خود اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لے لو”
آرزو رشتے والی بات سن کر امامہ اور ہیر کو دیکھتی ہوئی بولی اور کمرے سے باہر نکل گئی
***”””***
“کیا سوچ رہے ہیں”
صدیقی کمرے میں اکیلا بیٹھا گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا شہناس اُس کے پاس آکر برابر میں بیٹھتی ہوئی صدیقی سے پوچھنے لگی وہ اپنی سوچوں سے باہر نکل کر لمبا سانس خارج کرتا ہوا بولا
“اپنی بیٹیوں کی تربیت میں، میں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی دنیا کی بری نظروں سے بچاکر اپنی بچیوں کی پرورش کی تھی لیکن اِس کے باوجود، معلوم نہیں یہ میرے کون سے اعمال کی سزا ہے”
صدیقی افسوس بھرے لہجے میں بولا اس کے آخری جملے پر شہناس نے صدیقی کو دیکھا تو صدیقی اُس سے نظریں چرا گیا تھوڑی دیر خاموشی کے بعد شہناس بولی
“چند دنوں پہلے زبیدہ آئی تھی تو ایک رشتے کا ذکر کررہی تھی لڑکے کا نام شیر عباس ہے عمر 28 سال ہے گلگت میں رہائش پذیر ہے وہاں پر اس کا اپنا ہوٹل ہے اچھا کھاتا کماتا ہے اس کی دو شادی شدہ بہنیں یہی کراچی میں رہتی ہیں، چاہتی ہیں کہ ان کے بھائی کی شادی اچھی شکل و صورت اور تعلیم یافتہ لڑکی سے ہوجائے میں نے زبیدہ سے بول دیا ہے آرذو کے لیے، شیر عباس کی بہنوں ایک دو دن میں ہماری طرف آئیں گیں میرے خیال میں اب ہمیں آرزو کی شادی میں دیر نہیں کرنی چاہیے آپ کیا بولتے ہیں”
شہناس زبیدہ کی دی ہوئی ساری معلومات صدیقی کو بتاتی ہوئی اُس سے اُس کی راۓ پوچھنے لگی
“ہاں اگر یہ رشتہ ہر لحاظ سے مناسب ہے تو میرے خیال میں جلد سے جلد ہمہیں آرذو کی شادی کردینی چاہیے جو حرکت وہ کرچکی ہے اُس کے بعد دل نہیں کررہا اب اُس کی شکل دیکھنے کا، یہی بہتر ہے کہ جلد سے جلد اُس کو رخصت کردیا جائے”
صدیقی ٹھنڈی آہ بھر کر اپنی رائے دیتا ہوا بولا
***””””***
“ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا تبریز یہ سب کچھ غلط ہوگیا بلکہ بہت زیادہ غلط ہوگیا”
موقع ملتے ہی آرذو نے ہیر کے موبائل سے تبریز سے رابطہ کیا کیونکہ اس کا اپنا موبائل صدیقی نے لینے کے بعد اُس کا کالج جانا بھی بند کردیا تھا
“غلط تو واقعی بہت زیادہ ہوگیا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ میں نے امی ابو سے بات کرلی ہے وہ ایک دو دن میں تمہارے گھر میرا پرپوزل لےکر آجائیں گے تم فکر نہیں کرو، آگے سب ٹھیک ہوجائے گا”
تبریز روتی ہوئی آرذو کو تسلی دیتا ہوا بولا اس نے اپنے والدین سے آرذو کے گھر رشتہ لےکر جانے کی بات کرلی تھی اور وہ لوگ مشکل سے سہی مگر راضی ہوگئے تھے مگر صدیقی نے جو طماچہ تبریز کے منہ پر مارا تھا وہ چاہ کر بھی اس طماچے کو بھول نہیں پارہا تھا
“اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا تبریز میں اپنے اَمّی اَبو کو اچھی طرح جانتی ہوں وہ کبھی بھی تمہارا بھیجا ہوا رشتہ قبول نہیں کریں گے، بلکہ انہوں نے میرے لیے رشتہ دیکھنے شروع کردیے ہیں کچھ لوگ مجھے کل دیکھنے کے لئے آرہے ہیں”
آرذو مایوس لہجے میں تبریز کو بتانے لگی
“اگر وہ تمہیں پسند کرکے جائے تو تم ان لوگوں کے سامنے رشتے سے انکار کردینا، صاف بول دینا کہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں دیکھو آرذو تمہیں یہ سب کرنا ہوگا اور اِن سب کے کرنے کے لیے تمہیں اپنی دونوں بہنوں کو اعتماد میں لینا ہوگا کیوکہ میں تمہیں کسی اور کا ہوتا ہوا ہرگز نہیں دیکھ سکتا”
تبریز اپنی بےبسی ظاہر کرتا ہوا موبائل پر آرذو سے بولا جبکہ وہ خود ہی جانتا تھا ایسا سب کچھ ناممکن سا ہے
“میں کچھ بھی نہیں کرسکتی تبریز آپی اور ہیر کبھی بھی اِس معاملے میں میرا ساتھ نہیں دے گیں کیونکہ وہ اَمی ابُو کو جانتی ہیں تم نہیں جانتے میرے اَمّی ابُو کو وہ کبھی بھی نہیں مانیں گے۔۔۔ اب کچھ بھی اچھا نہیں ہوگا”
آرذو اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی تبریز سے بولی تو آرزو کی بات سن کر تبریز کو غصہ آنے لگا
“آرذو میری بات یاد رکھنا اگر تمہارا رشتہ کہیں دوسری جگہ تہہ پاگیا تو واقعی پھر کچھ بھی اچھا نہیں ہوگا میں خود کو ختم کرلوں گا”
تبریز غصے اور بےبسی میں بول کر کال بند کرچکا تھا جبکہ دروازے پر کھڑی شہناس کو دیکھ کر آرذو کو سانپ سونگھ گیا
“اتنی بےعزتی سہنے کے باوجود اتنی مار کھانے کے باوجود تم نے اپنی روش نہیں بدلی تمہاری ہمت کیسے ہوئی اُس بےغیرت جہنمی لڑکے سے دوبارہ بات کرنے کی”
شہناس غصّے میں کمرے کے اندر آتی آرذو کی حرکت پر اس سے بولی اس سے پہلے شہناس کا ہاتھ اٹھتا بروقت کمرے میں ہیر بھی آگئی
“امی خدا کا واسطہ ہے آپ کو اب بس کریں، کیا جان سے مار ڈالیں گے آپ اور ابو اسے”
ہیر کمرے میں آتی شہناس سے بولی تو شہناس کو ہیر پر بھی غصہ آنے لگا
“میں سچ میں اِس بدبخت کی جان لےلوں گی اگر اِس نے اُس لڑکے سے دوبارہ رابطہ رکھا اور یہ تمہارے موبائل سے اُس لڑکے سے بات کررہی تھی مطلب تم بھی اِس گندے کھیل میں اِس کا ساتھ دے رہی ہو، میں اِس کے ساتھ ساتھ تمہیں بھی جان سے مار ڈالوں گی ہیر سنا تم نے، دو یہ موبائل مجھے اب کل سے تم بھی کالج نہیں جاؤ گی”
شہناس ہیر پر غصہ کرتی ہوئی آرزو کے ہاتھ سے ہیر کا موبائل چھین کر کمرے سے باہر نکل گئی
***”””***
غذر کا موسم زیادہ تر سرد رہتا تھا اور راتیں یک بستہ ہوجاتی تھی، ہر چوتھے پانچویں دن یہاں بارش کا سلسلہ جاری رہتا تیز ہواؤں کا طوفان جب پہاڑوں سے ٹکراتا تو موسم کو اور بھی سرد کردیتا مگر آج صبح نکلی ہوئی دھوپ نے ہر منظر کو نکھار کر سر سبز و شاداب کردیا تھا
شیر عباس تھوڑی دیر پہلے جاگنگ کرنے کے بعد لباس تبدیل کرتا ہوا ناشتے کے لیے ڈائینگ ہال میں بیٹھا ہوا تھا ملازم تمام لوازمات ٹیبل پر چن کر جاچکا تھا تب فرغب بی کرسی کسکاکر بیٹھتی ہوئی شیر عباس سے مخاطب ہوئیں
“کل زبیدہ کی کال آئی تھی وہ لوگ اپنے دوسرے نمبر کی بیٹی کے رشتے کی حامی بھر چکے ہیں۔۔۔ تم سے اور تمہاری بہنوں سے ملنا چاہتے ہیں”
فرغب بی شیر عباس کو آگاہ کرتی ہوئی کیتلی میں سے شیر عباس کے لئے چائے نکالنے لگی فرغب بی کی دی جانے والی خبر پر شیر عباس نے صرف ایک نظر فرغب بی کو دیکھا فرغب بی دوبارہ بولیں
“میں نے سارا معاملہ ریشماں اور مومنہ کو سمجھا دیا ہے وہ دونوں اچھے طریقے سے رشتے کی بات کرلیں گے”
فرغب بی چائے کا کپ شیر عباس کو پکڑاتی ہوئی اسے بتانے لگیں
“اگر کہیں کچھ گڑبڑ ہوگئی یا پھر ریشماں اور مومنہ سے بات نہ سنبھل پائی تو،،، میرے خیال میں وہاں آپ کو خود بھی جانا چاہیے”
شیر عباس معاملے میں دلچسپی ظاہر کرتا ہوا فرغب بی سے بولا کیوکہ وہ اِس معاملے میں کسی قسم کا رسک نہیں چاہتا تھا
“میرے وہاں جانے سے بات زیادہ بگڑنے کے امکانات ہیں آپ اس کی فکر مت کریں ریشماں اور مومنہ اچھے طریقے سے سارا کام انجام دیں گیں، آرزو نام ہے صدیقی اور شہناس کی دوسرے نمبر کی بیٹی کا۔۔۔ آپ کہتے ہیں تو میں زبیدہ سے بول کر اُس کی تصویر منگالو”
فرغب بی ناشتہ کرتے ہوئے شیر عباس سے بولیں ان کا خیال تھا کہ شاید وہ آرزو کو دیکھنا چاہ رہا ہو، جس سے اُس کا رشتہ طے ہونے جارہا تھا
“تصویر رہنے دیں آرزو کو دیکھنے کی کوئی خاص آرزو نہیں ہے مجھے، جب وہ یہاں آئے گی تب دیکھ لوں گا اسے”
شیر عباس ناشتہ کرنے کے ساتھ بےدلی سے فرغب بی سے گویا ہوا تھا اسے آرزو کو دیکھنے سے زیادہ دلچسپی آرزو کے ہیر پیلس آنے میں تھی وہ سارا لالحہ عمل تیار کرنے لگا جب صدیقی اور شہناس کی بیٹی ہیر پیلس آجاتی
“اور اس پینٹنگ کا کیا کرنا ہے جو آپ کے کمرے میں موجود ہے”
فرغب بی کی بات پر شیر عباس نے بےاختیار انہیں دیکھا ذہن کے پنوں پر اچانک سے اُس خوبصورت حسین اور معصوم لڑکی کا چہرہ بیدار ہوا، جس سے چند دنوں پہلے یونہی سرسری سی دو ملاقاتیں ہوئی تھیں۔۔۔ ہیر کا چہرہ یاد کرکے شیر عباس کے دل میں ایک ہوک سی اٹھی مگر دوسرے ہی پل وہ اپنے دل کو مضبوط اور چہرے کو بےتاثر کرتا ہوا بولا
“اس پینٹنگ کو احتیاط سے اسٹور روم میں رکھوا دیں وہ غیر ضروری ہے کب سے سوچ رہا تھا آپ سے بولوں مگر یاد نہیں رہتا تھا”
شیر عباس فرغب بی سے بولتا ہوا ناشتہ کرنے لگا جبکہ فرغب بی طنزیہ مسکرائی تھی
انہوں نے شیر عباس کو بچپن سے اپنے سامنے بڑا ہوتے دیکھا تھا اِس وقت شیر عباس بےشک اپنے چہرے کے تاثرات سے کچھ عیاں نہیں ہونے دے رہا تھا مگر اس کی آنکھیں الگ ہی انکشاف بیان کررہی تھیں۔۔۔ اِس وقت اُس کے دل میں کیا تھا فرغب بی اچھی طرح اندازہ لگا سکتی تھیں۔۔۔ اگر اس لڑکی کی پینٹنگ اتنی غیر ضروری ہوتی تو شیر عباس اس پینٹنگ کو اتنے دنوں تک اپنے کمرے کی زینت بناکر کبھی بھی نہ رکھتا، وہ اس پینٹنگ کو غیر ضروری چیز بولتا ہوا بھی احتیاط سے رکھنے کی ہدایت دے رہا تھا فرغب بی سر جھٹک کر کرسی سے اٹھ کر اب ناشتہ کے چند لوازمات ٹرے میں چنتی ہوئی بیسمینٹ میں جانے کی تیاری کررہی تھی شام میں انہیں ریشماں اور مومنہ کو اچھی طرح سمجھنا تھا کہ ان دونوں کو صدیقی اور شہناس کے سامنے کیا کیا باتیں بولنی ہیں
***””””**
“زبیدہ یہ لڑکی کون ہے بہت پیاری لگ رہی ہے تصویر میں کیسی فیملی ہے اِس کی”
بہت ساری تصویریں دیکھنے کے بعد گلنار زبیدہ کی طرف ایک تصویر بڑھاتی ہوئی زبیدہ سے اُس لڑکی کے متعلق پوچھنے لگی
“ارے یہ تو آرزو کی تصویر ہے یہ ان تصویروں میں کیا کررہی ہے اُس کی چند دنوں پہلے ہی بات پکی ہوگئی ہے خیر سے اور اگلے مہینے کی شروع تاریخ میں اِس کی شادی ہورہی ہے تصویر میں تو یہ بہت عام سی نظر آرہی ہے اصل میں اگر آپ اس کو سامنے دیکھتی تو تب آپ کو اندازہ ہوتا ہے اِس بچی کی خوبصورتی کا”
زبیدہ آرزو کی تصویر کو باقی لڑکیوں کی تصویروں سے الگ کرتی ہوئی گلنار کو بتانے لگی۔ گلنار اپنے شادی شدہ بیٹے کی دوسری شادی کرنا چاہ رہی تھی اسی سلسلے میں اُس نے زبیدہ کو طلب کیا تھا
“میرے ہاشم کے ساتھ اُس لڑکی کی جوڑی کافی ججتی کاش یہ میرے بیٹے کی قسمت میں لکھی جاتی تو کتنا اچھا ہوتا”
بناء دیکھے ہی گلنار کا آرذو کی تصویر کو دیکھ کر اُس پر دل آگیا تھا مگر آرزو کے بارے میں جان کر گلنار کو مایوسی ہوئی وہ حسرت بھرے لہجے میں زبیدہ سے بولی
“ارے یہ کوئی ایک ہی خوبصورت لڑکی تھوڑی ہے باقی تصویریں بھی دیکھیں، بہت اچھی اور خوبصورت لڑکیاں ہیں میرے پاس آپ کے بیٹے کے رشتے کے لائق”
زبیدہ تصویریں چھان چھان کر گلنار کو دکھانے لگی جس کو گلنار بناء دلچپی لیے دیکھ رہی تھی کیونکہ وہ اپنی دوسری بہو اپنے پسند کے مطابق چاہتی تھی
“اے بڑھیا یہ تصویریں اٹھاؤ اور یہاں سے نو دو گیارہ ہوجاؤ قبر میں تمہارے پاؤں لٹک رہے ہیں اللہ اللہ کرنے کی بجائے گھر گھر ناچتی پھر رہی ہو خبردار جو تم نے اِس گھر میں آئندہ قدم رکھا، اٹھاؤ ان مسٹنڈی لڑکیوں کی تصویریں اور نکلو یہاں سے”
ماہ نور ہال میں آتی ہوئی بدتمیزی سے زبیدہ کو بولی تو زبیدہ ایک دم صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی
“یہ کیا بدتمیزی ہے ماہ نور، تمیز نام کی کوئی چیز نہیں ہے تمہارے اندر کسی گھر آئے انسان سے ایسے بات کی جاتی ہے”
گلنار ماہ نور کو دیکھ کر غصہ کرتی ہوئی اس سے بولی
“جیسا آپ چاہ رہی ہیں ناں آنی میں ویسا ہونے نہیں دوں گی یاد رکھیے گا آپ بھی اور دا جی بھی، مجھ سے ہاشم کو کوئی بھی اتنی آسانی سے نہیں چھین سکتا”
ماہ نور گلنار سے بولتی ہوئی سخت اور کاٹ دار نگاہ سے زبیدہ کو گھورتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
“برا مت ماننا زبیدہ اس کی بدزبانی کا اب تو تم جان ہی گئی ہوگی میں اپنے اکلوتے بیٹے کی دوسری شادی کروانے کی کوشش کیوں کررہی ہو”
گلنار ماہ نور کے رویے پر شرمندہ ہوتی ہوئی زبیدہ سے بولی جو بیگ میں لڑکیوں کی تصویریں ڈال رہی تھی
“مجھے ہمدردی ہے آپ کے ساتھ، اوپر والے نے چاہا تو دوسری بہو آپ کو شکل و صورت کی ہی نہیں عادت و اطوار اور اخلاق کی بھی اچھی ملے گی۔۔۔ بہت جلد دوبارہ آؤ گی آپ کے پاس”
زبیدہ دل ہی دل میں ماہ نور پر لعنت ڈال کر خوش مزاجی گلنار سے بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
***””””***
