Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel Readelle 50385 Diyar E Wehsat (Episode 8)
No Download Link
Rate this Novel
Diyar E Wehsat (Episode 8)
Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel
آرذو رخصت ہوکر ہاشم کے ہمراہ اُس کے گھر آچکی تھی آرزو کی آمد پر ایوب خان اور گلنار دونوں جتنے خوش نظر آرہے تھے ہاشم اتنا ہی بےزار سا بیٹھا تھا
“یہ میری کوئی پہلی شادی نہیں ہے جو ابھی تک منہ دکھایاں اور رسمیں ہی ختم نہیں ہورہی ہیں، بس وائنڈ اپ کریں اِن چیزوں کو”
اپنے برابر بیٹھی آرزو کو مکمل نظرانداز کرتا ہوا ہاشم گلنار سے روکھے لہجے میں بولا جو کسی رسم کے لیے شمع سے تھال مانگوا رہی تھی
“یہ کیا بات ہوئی بھلا، شادی پہلی ہو یا دوسری ایسے لمحات کو یاد کرکے ہی تو خوش ہوا جاتا ہے۔۔۔ اور آرزو کی تو ماشاء اللہ سے پہلی خوشی ہے اُس کو تو انجوائے کرنے دو”
گلنار اپنے بیٹے کے بگڑے ہوئے تیور دیکھ کر بولی تو ہاشم طنزیہ انداز میں ہنستا ہوا آہستہ آواز میں بڑبڑایا
“میں ایسے لمحات کو یاد کرکے زندگی میں کبھی خوش نہیں ہوسکتا”
ہاشم کی بڑبڑاہٹ ہلکی تھی مگر آرزو کو صاف سنائی دی، جس کے بعد ہاشم مکمل طور پر اُس کی طرف رخ کرتا ہوا آرزو کے کان میں سرگوشی سے بولا
“ارمان تو تم شادی سے پہلے ہی نکال چکی ہوگی یقیناً جوب انجوۓ بھی کیا ہوگا”
زہر خواندہ لہجے میں پوچھے گئے سوال پر آرذو تڑپ کر رہ گئی مگر کچھ نہ بول پائی۔۔۔ آرزو کو نشتر چھبونے کے بعد وہ اپنے موبائل پر آنے والی کال ریسیو کرچکا تھا جسے سن کر ہاشم کہیں جانے کے لیے تیار ہوگیا
“ہاشم کہاں جارہے ہو تم اِس وقت”
ایوب خان ہاشم کو گھر سے باہر جاتا ہوا دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگے
“دا جی ماہرہ کی کال آئی تھی بتارہی ہے کہ ماہ نور کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ایمرجنسی میں اُسے ہسپتال لےکر جانا ہے اس لیے مائرہ کے گھر ماہ نور کے پاس جارہا ہوں”
ہاشم آرزو کی پرواہ کیے بغیر مائرہ کی بتائی ہوئی صورت حال ایوب خان کو بتانے لگا۔۔۔ دو دن قبل ماہ نور اپنی دوست ماہرہ کے گھر پر قیام پذیر تھی وہ ہاشم کی شادی کی تیاریاں دیکھ کر یہ سب برداشت نہیں کر پارہی تھی اسی لیے اپنی دوست کے گھر چلی گئی تھی اور اب کی بار ایوب خان اور گلنار نے بھی ماہ نور کی حرکت پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا
“ارے بیٹا آج آرزو سے تمہاری شادی ہوئی ہے اپنی بیوی کو چھوڑ کر تم کیسے جاسکتے ہو”
گلنار آرذو کی موجودگی کی وجہ سے ٹھیک سے ہاشم کے سامنے اعتراض بھی نہیں کرپائی
“جو مرنے کے لیے تیار بیٹھی ہے وہ بھی میری بیوی ہے، اگر یہاں اِسے کچھ ہوگیا تو آپ انفارم کردئیے گا میں واپس چلا آؤں گا”
ہاشم گلنار سے بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا جس پر گلنار کا منہ بن گیا
“یہ تو کبھی ماہ نور کے ڈھکوسلو کو نہیں سمجھے گا۔۔۔ اُس نے جان بوجھ کر ہاشم کو بلایا ہے میں خوب اچھی طرح سمجھتی ہوں اُس کو”
آرزو کی موجودگی کو بھلاۓ گلنار خراب موڈ کے ساتھ ایوب خان سے بولی تو ایوب خان نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے اشارتاً مزید بولنے سے منع کیا
“بہو تھک گئی ہوگی اِس کو ہاشم کے کمرے میں چھوڑ آؤ۔۔۔ بچی تھوڑی دیر آرام کرلے گی”
ایوب خان گلنار سے بولتے ہوئے خود بھی اپنے کمرے میں چلے گئے
***””””***
“میں جانتی تھی میرے لیے اتنی محبت تو تمہارے اندر ابھی بھی باقی ہوگی کہ میرے بارے میں کوئی خبر ملتے ہی تم پریشان ہوکر دوڑے چلے آؤ گے”
ہاشم ماہ نور کے پاس پہنچا تو وہ اُسے کمرے میں بالکل ٹھیک ٹھاک نائٹی میں ملبوس اُس کا استقبال کرتی ہوئی دکھائی دی
“کاش کہ تم نے محبت کا بھرم قائم رکھا ہوتا کاش کہ تم نے اپنے اور میرے رشتے میں فاصلے نہ پیدا کیے ہوتے”
ہاشم خوب جانتا تھا ماہ نور کی چال کو، چھ سال میں وہ ماہ نور کو اچھی طرح جان چکا تھا لیکن پھر بھی اُس کے پاس آج اِس لیے چلا آیا تھا کیونکہ اُس وقت وہ خود بھی راہِ فرار چاہتا تھا
“اگر فاصلہ پیدا ہوگئے ہیں تو اُن فاصلوں کو سمیٹ ڈالو آج”
ماہ نور نزاکت بھرے انداز میں ہاشم کے قریب آکر اُس کے گلے میں اپنے دونوں بازو ڈالے اُس سے بولی۔۔۔ ہاشم ہمیشہ اُس کے پیار کو ترستا آیا تھا مگر ماہ نور کے پاس کبھی اُس کے لیے وقت ہی نہیں تھا۔۔۔ وہ من موجی اپنی ہی دنیا میں بسنے والی بالکل مختلف لڑکی تھی جسے رشتوں کا رتی برابر احساس نہیں تھا
“میں سکون چاہتا ہوں ماہ نور تھوڑی دیر کے لئے”
ہاشم اپنے گلے سے ماہ نور کے ہاتھ ہٹاکر بےذار سے انداز میں بولا۔۔۔ اب ماہ نور کے خود سے قریب آنے پر بھی یا پیشِ رفت پر اُسے کچھ خاص محسوس نہیں ہوتا تھا۔۔۔ شاید ماہ نور نے اسے اتنا اگنور کیا تھا کہ اب ماہ نور کے لئے اُس کے احساسات ہی مردہ ہوچکے تھے۔۔۔ اِس وقت ہاشم کی بےذار سی شکل دیکھ کر ماہ نور کو ہنسی آگئی
“اور سکون تمہیں تبھی حاصل ہوگا جب میں اِس کمرے میں موجود نہیں ہوگیں تم آرام کرو میں برابر والے کمرے میں ہوں”
ماہ نور کو بھی اُس کے قُرب کی کوئی خاص چاہ نہیں تھی بس وہ چاہتی تھی آج ہاشم اپنی دوسری شادی کی پہلی رات کم سے کم اپنی نئی بیوی کے پاس نہ گزارے اِس لئے وہ ہاشم کو یہاں اپنے پاس بلاچکی تھی۔۔۔ یہی ماہ نور کا مقصد تھا بےشک ہاشم یہاں آکر دوسرے کمرے میں رہتا ماہ نور کو اِس بات سے کوئی غرض نہیں تھی ماہ نور کے کمرے سے جانے کے بعد ہاشم ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرکے پاؤں کو شوز سے آزاد کرتا ہوا بیڈ پر دراز ہوگیا
***””””***
چند دنوں سے بارش کا چلنے والا سلسلہ آج جاکر کہیں رکا تھا۔۔۔ آج مطلع بالکل صاف تھا تو سورج بھی مہربان ہوا پورے اختیار کے ساتھ آسمان پر چمکتا نظر آرہا تھا۔۔۔ ہیر لان میں آکر کرسی پر بیٹھ گئی تھی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ دھوپ کا امتزاج اُس کی طبعیت پر اچھا اثر چھوڑ رہا تھا
مسلسل دس دنوں سے اُس کے سائیکیٹرس کے پاس سیشن ہورہے تھے جو کچھ اُس نے دیکھا، جو کچھ وہ محسوس کرتی تھی شیر عباس یا کوئی دوسرا اُن چیزوں یا باتوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔۔۔ شیر عباس نے اپنے بزی شیڈیول میں سے اتنا ضرور کیا تھا کہ وہ روز ہیر کو سائیکیٹرس کے پاس لے جاتا۔۔۔ سائیکارٹس کی دی ہوئی گولیاں کھاکر ہیر کا ذہن ہر وقت سویا رہتا۔۔۔ اب آہستہ آہستہ ہیر کو بھی لگنے لگا تھا شیر عباس اور فرغب بی کی بولی گئی بات سچ تھی وہ سب اس کا وہم تھا۔۔۔ اُس رات یا پھر اُس سے پہلے اُس کے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا لیکن ان سب باتوں کے باوجود ڈر اور خوف ہیر کے دل میں گھر کرچکا تھا
“بی بی جی آپ بولیں تو آپ کے سر میں تیل کی مالش کردو سکون ملے گا اُس سے آپ کو”
فرحانہ جوکہ کھانا بنانے کے بعد اب گھر جانے کا ارادہ رکھتی تھی لان میں بیٹھی ہوئی ہیر کو دیکھ کر بولی
“سکون ملے گا۔۔۔۔ ہاں سکون ہی تو چاہیے۔۔۔ ذہنی سکون۔۔۔ تم مالش کردو میرے سر میں”
ہیر فرحانہ کو دیکھ کر بولی تو فرحانہ تیل کی شیشی لے آئی
“اچھا لگ رہا ہے آپ کو یہاں بیٹھے دیکھ کر آپ تھوڑا باہر بھی نکلا کریں ہیر پیلس سے تھوڑی دور آبادی کی طرف کافی گہماگہمی ہے وہاں مختلف مارکیٹ دوکانیں اور بہت سی دوسری چیزیں ہیں۔۔۔ بہت سارے لوگ نظر آئیں گے آپ کو وہاں تو اس سے آپ کو اچھا محسوس ہوگا”
فرحانہ ہیر کے سر میں تیل کی مالش کرتی ہوئی اسے مشورہ دینے لگی اُسے اپنی اِس چھوٹی سی مالکن سے کافی ہمدردی محسوس ہوتی تھی۔۔۔۔ جب وہ ایک ماہ پہلے یہاں آئی تھی تو کس قدر مختلف تھی، خوبصورتی کے ساتھ ساتھ الگ ہی رونق تازگی اُس کے چہرے سے چھلکتی دکھائی دیتی تھی لیکن ایک ماہ کے اندر یہ رونق اور تازگی دونوں اُس کے چہرے ختم ہوچکی تھی صرف اس کے چہرے پر اب ڈر خوف آنکھوں کے گرد گہرے ہلکے دکھائی دینے لگے پرانی ہیر تو جیسے کہیں کھو سی گئی تھی ایک ماہ کے اندر ہی اُس کا وزن بھی کافی تیزی سے کم ہوا تھا
“گہما گہمی لوگوں کے ہجوم سے خوف آتا ہے مجھے، ڈر لگتا ہے اتنے لوگوں میں وہ کہیں کوئی حلیہ بدل کر میرے سامنے نہ آجائے۔۔۔ فرحانہ کیا یہ ہیر پیلس سچ میں آسیب ذدہ ہے”
ہیر فرحانہ سے وہی بات پوچھنے لگی جو کافی مرتبہ فرغب بی اور شیر عباس اُس کو بتاچکے تھے کہ ہیر پیلس میں ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ راتوں کو جو ہنسنے، رونے یا کبھی کبھی گنگنانے اور چیخنے کی آوازیں اُس کو سنائی دیتی تھی شیر عباس اور فرعب بی ان آوازوں سے انکار کرتے تھے
“جی بی بی جی یہ جگہ اپنے اندر پراسراریت رکھتی ہے جبھی یہاں کے ملازموں کو بھی زیادہ غور و فکر سے منع کیا گیا ہے۔۔۔ ہم بھی روزی روٹی کی خاطر یہاں اپنا کام کرنے آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں”
فرحانہ اُس کے سر میں مساج کرنے کے ساتھ اُس کے کندھوں کو دباتی ہوئی آہستہ آواز میں ہیر کو بتانے لگی
“یہاں ایسا کیا ہوا تھا فرحانہ جو یہ جگہ اتنی پراسرار سی ہے پلیز بتاؤ ناں مجھے”
ہیر کو اچانک جاننے کا تجسس ہوا تو وہ فرحانہ سے پوچھ بیٹھی شکر تھا کہ فرغب بی یہاں اِس وقت موجود نہیں تھی ورنہ وہ ہیر کو کبھی بھی کسی ملازم سے بات نہیں کرنی دیتی تھیں
“بی بی جی کافی عرصہ دراز ہوا ہیر پیلس میں دو لوگ بستے تھے ایک شوہر اور دوسری اُس کی بیوی۔۔۔ بظاہر تو وہ دونوں خوش باش اپنی زندگی گزار رہے تھے مگر ایک دن شوہر کو معلوم ہوا کہ اُس کی بیوی کا چکر اُس کے ملازم کے ساتھ چل رہا ہے پھر کیا تھا اُس آدمی نے اپنی بیوی کے اُس عشق یعنی اپنے ملازم کو جان سے مار دیا۔۔۔ کہا جاتا ہے اپنے ملازم کو مار کر اُس آدمی نے ساتھ والے جنگل میں دفنا دیا تھا پھر اُس کے بعد سننے میں آنے لگا اُس مرنے والے ملازم کی روح اِس جنگل میں اور ہیر پیلس کے آس پاس ہی منڈلاتی ہے”
فرحانہ کی بات سن کر خوف کے مارے ہیر کی ریڑھ کی ہڈی سنسنانے لگی
“اور اُس عورت کو کیا ہوا جو اُس آدمی کی بیوی تھی”
خوف کے باوجود ہیر فرحانہ سے اُس آدمی کی بیوی کا پوچھنے لگی
“سننے میں آیا تھا اُس ملازم کو مارنے کے بعد شوہر نے اپنی بیوی کو ہیر پیلس میں موجود تہہ خانے میں قید کرلیا وہی تہہ خانے میں اُس کی بیوی سے سسک سسک کر اپنی جان دے دی”
فرحانہ کی زبانی کہانی سن کر ہیر نے خوف سے جھرجھری لی
اِس کہانی کے کردار اُسے کافی حد تک اپنی زندگی کی کہانی سے میل کھاتے محسوس ہوئے شوہر بیوی ملازم، یعنی وہ عباس اور ایبک۔۔۔۔ مگر عباس تو ایبک کو مجرم ماننے کو تیار ہی نہ تھا، الٹا وہ ہیر کو ایبک کے وفادار ہونے کا یقین دلاتا
“کیا تمہیں معلوم ہے فرحانہ پچھلے حصّے میں ہیر پیلس کے باہر وہ قبر کس کی ہے”
شیر عباس اور فرغب بی سے تو اُس کو کچھ معلوم نہیں ہوسکا شاید فرحانہ سے ہی معلوم ہوجاتا
“اتفاق کی بات ہے اُس قبر میں کوئی ہیر نام کی لڑکی دفن ہے۔۔۔ شیر عباس صاحب کو معلوم ہوگا اُس کے متعلق کیوکہ وہ قبر شروع سے اُس جگہ پر نہیں تھی۔۔۔۔ اور کچھ تو میں بھی اُس کے متعلق نہیں جانتی مگر شیر عباس صاحب تو ضرور جانتے ہوں گے اُس قبر کے بارے میں”
فرحانہ ہیر کے بالوں میں چوٹی کی صورت بل دیت ہیر کو بتانے لگی تو ہیر گہری سوچ میں چلی گئی وہ قطبہ جس پر ہیر نام درج تھا یقیناً وہ اُسی قبر کا قطبہ ہوگا جس پر اپنا نام دیکھ کر وہ ڈر گئی تھی۔۔۔ ہیر اتنی گہرائی میں ڈوب کر سوچ رہی تھی کہ لان میں آتا شیر عباس اُسے دکھائی نہیں دیا
“اچھا بی بی جی میں چلتی ہوں”
فرحانہ نے شیر عباس کو دیکھ لیا وہ ہیر سے بولتی ہوئی جلدی سے وہاں سے جانے لگی ہیر تب بھی نہیں چونکی
“کیا بول رہی تھی تم اُس کے سامنے”
شیر عباس چند قدم کے فاصلے پر لان میں موجود فرحانہ سے پوچھنے لگا جس کے ہاتھ میں تیل کی شیشی موجود تھی
“کچھ نہیں جی میں تو یہ مالش کررہی تھی بی بی جی کے سر میں تیل سے”
فرحانہ شیر عباس کی آنکھوں کے سخت اثر سے گھبراہٹ میں مبتلا اسے بتانے لگی
“کھانا بنالیا تم نے”
شیر عباس فرحانہ کو دیکھتا ہوا سوال کرنے لگا جس پر اُس نے جلدی سے اقرار میں سر ہلایا
“اپنا کام مکمل کرنے کے بعد یہاں بلاوجہ روکنے کی اجازت نہیں ہے فرغب بی نے تمہیں نہیں بتایا جاؤ یہاں سے فوراً”
شیر عباس تھوڑا اونچا کرختگی سے بولا تو ہیر چونک کر شیر عباس کو دیکھنے لگی فرحانہ اپنا سا منہ لےکر وہاں سے چلی گئی جبکہ شیر عباس ہیر کی طرف متوجہ ہوا
شیر عباس کے چہرے کے تاثرات اب غضیلے نہیں تھے بلکہ اُس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، وہ ہیر کی طرف قدم بڑھانے لگا جبکہ ہیر چہرے پر وہ خوف دور سے ہی دیکھ چکا تھا۔۔۔ ہیر شیر عباس کی پہنی ہوئی کالی شرٹ کو خوفزدہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی
“ہیر کیا ہوا میری جان”
شیر عباس ہیر کے قریب آکر خوف سے پڑتا اُس کا زرد چہرہ دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگا
“یہ کالا رنگ۔۔۔ تم۔۔۔ تم عباس نہیں ہو۔۔۔ مم میں جانتی ہوں تم عباس نہیں ہو”
ہیر خوف بولتی ہوئی شیر عباس سے دو قدم دور ہوئی تو شیر عباس نے ہیر کو بازو سے کھینچ کر اپنے سے قریب کرلیا
“یہاں غور سے میری آنکھوں میں دیکھو میں عباس ہو۔۔۔ صرف تمہارا عباس”
شیر عباس کے سنجیدگی سے بولنے پر ہیر نے واقعی اُس کی کالی آنکھوں کو غور سے دیکھا تب ہیر کو اطمینان ہوا۔۔۔۔ ہیر کو ریلیکس دیکھ کر شیر عباس نے ہیر کو اپنے حصار میں لے لیا
“یہاں کیوں آگئی تھی اپنے بیڈروم سے”
شیر عباس اپنا ایک بازو اس کی کمر کے گرد حمائل کرتا دوسرا ہاتھ ہیر کے بالوں پر رکھ کر نرم لہجے میں ہیر سے پوچھنے لگا
“کمرے میں عجیب وحشت سی ہورہی تھی اِس لیے یہاں چلی آئی۔۔۔ آپ نے یہ رنگ کیوں پہنا ہے پلیز اپنی شرٹ کو چینج کریں عباس مجھے ذرا اچھا نہیں لگ رہا گھبراہٹ ہورہی ہے مجھے”
ہیر شیر عباس کے حصار میں بولی تو شیر عباس نے اپنے ہونٹوں سے آئستہ سے اُس کے بالوں کو چھوا
“اوکے میں ابھی چینج کرلیتا ہوں آؤ اندر چلیں۔۔۔ یہاں ہوا کافی ٹھنڈی ہے تم بیمار نہ ہوجاؤ”
شیر عباس ہیر سے بولتا ہوا اپنا بازو ہیر کے شانے پر دراز کیے اسے اپنے قریب کیے کمرے میں لے آیا
کمرے میں آنے کے باوجود شیر عباس نے محسوس کیا ہیر اندر آنے کی بجاۓ وہی دروازے کے پاس کھڑی تھی۔۔۔ شیر عباس وارڈروب سے دوسری وائٹ کلر کی شرٹ نکالنے لگا
“ہیر یہاں آؤ میرے پاس”
شیر عباس آستینوں میں ہاتھ ڈال کر شرٹ کا کالر درست کرتا ہیر کو اپنے پاس بلانے لگا تو ہیر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اُس کے پاس چلی آئی
“میری شرٹ کے بٹن تو بند کردو یار”
شیر عباس ہیر کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کرتا ہوا اپنائیت بھرے لہجے میں اس سے بولا تو ہیر کسی ربورٹ کی مانند شیر عباس کی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگی۔۔۔ شیر عباس غور سے ہیر کا چہرہ دیکھنے لگا
اُس دن والے واقعے کے بعد سے ہیر صرف ایک حد تک شیر عباس کو اپنے قریب آنے دیتی۔۔۔ شیر عباس تھوڑا زیادہ اُس سے کلوز ہوتا تو ہیر رونے لگ جاتی یوں اُن دونوں کی شادی شدہ زندگی میں ایک ان دیکھی لکیر تھی جو اُن دونوں کو ملانے یا ایک ہونے سے روکے ہوئی تھی لیکن شیر عباس نے اِس چیز کا برا نہیں مانا اُس کے لئے ضروری تھا کہ ہیر ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند ہوجائے
“اچھا یہ بتاؤ دوائی لی تم نے”
شرٹ کا آخری بٹن بند کرتے ہوئے جیسے ہی ہیر شیر عباس کے پاس سے جانے لگی شیر عباس ہیر کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیے اُس سے پوچھنے لگا
“میں میڈیسن نہیں کھاؤں گی عباس اُس میڈیسن کے کھانے کے بعد مجھے بہت زیادہ نیند آتی ہے میں ہر وقت سوئی رہتی ہوں”
ہیر شیر عباس کو دوا کھانے سے انکار کرتی بولی
“وہ میڈیسن اسی لئے ہے تاکہ تمہارا مائنڈ ریلکس رہے، میری جان کیا تم نہیں چاہتی کہ تم جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ ہم دونوں اپنی لائف اسٹارٹ کریں”
شیر عباس ہیر کے دونوں ہاتھوں کو چھوڑ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے ہیر کا چہرہ تھامتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“یہ گزر تو رہی ہے ہماری لائف اور کیسی لائف چاہتے ہیں آپ جو میرے میڈیسن کھانے کے بعد آپ کے ساتھ گزرے”
ہیر اپنے چہرے سے شیر عباس کے ہاتھ ہٹاتی ہوئی ناراضگی سے اُس سے پوچھنے لگی بار بار میڈیسن کے لیے بولنا اس کو اچھا نہیں لگ رہا تھا
“اوکے یار میڈیسن نہیں کھانی تو مت کھاؤ کم سے کم غصّہ تو مت کرو مجھ معصوم سے شوہر پر، میں تو تمہارے احساس سے بول رہا تھا”
شیر عباس سمجھ گیا تھا اب وہ بولنے سے بھی میڈیسن نہیں کھائے گی اس لیے ہیر کا خراب موڈ دیکھ کر اُسے باہوں میں لےکر بہلاتا ہوا بولا
“عباس میری بات مانیں گے، اب تو راستے بھی مکمل طور پر کھل چکے ہیں پلیز مجھے تھوڑے دنوں کے لئے اَمّی اَبُو کے پاس بھجوا دیں”
ہیر شیر عباس کے سینے پر سر رکھی ہوئی اس سے بولی تو شیر عباس کے تاثرات بالکل سنجیدہ ہوگئے وہ ہیر کو خود سے الگ کرتا دوبارہ ہیر کا چہرہ تھام کر بولا
“ہماری شادی کو ابھی ایک ماہ ہوا ہے مگر مجھے تمہارے ساتھ کی اتنی عادت پڑگئی ہے کہ میں تمہیں اپنی نظروں سے دور کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔۔۔ دل اُداس ہونے لگتا ہے یہ سوچ کر کہ تم مجھ سے دور جانا چاہتی ہو۔۔۔۔ کیا تمہارے اندر میرے لیے ایسے احساسات بیدار نہیں ہوئے ہیں ابھی تک، کیا تم مجھ سے دور جاکر میرے بغیر رہ لو گی جواب دو”
شیر عباس کے محبت بھرے لہجے پر وہ بےاختیار نفی میں سر ہلا گئی جس پر شیر عباس نے مسکرا کر اپنے ہونٹ ہیر کی پیشانی پر رکھ دیے
“آئی لو یو میری جان شیر عباس کی جان ہو تم”
ہیر کے نازک وجود کو اپنی بانہوں میں سمائے شیر عباس سرشاری سے بولا شیر عباس کی اتنی محبت دیکھ کر ہیر خاموش ہوگئی مگر وہ اپنے گھر والوں کو آنکھوں کے سامنے دیکھنے کے لئے ترس گئی تھی
“چلو واک پر چلتے ہیں ابھی اندھیرا نہیں ہوا”
شیر عباس ہیر کو خاموش دیکھ کر اس کو بہلانے کے غرض سے بولا
“میں شاور لے کر آتی ہوں پھر آبادی کی طرف چلیں گے”
ہیر شیر عباس سے بولتی ہوئی واشروم کی طرف جانے لگی شاید فرحانہ ٹھیک بول رہی تھی کہ اُسے لوگوں کے ہجوم سے گھبرانا نہیں چاہیے تھا۔۔۔ ایک ماہ سے وہ چند چہروں کے علاوہ اور دیکھ ہی کیا رہی تھی شاید یہ تبدیلی اُس کے اوپر اچھا اثرات ڈالتی
***””””***
“عباس میں نے سنا ہے کہ چند سالوں پہلے ہیر پیلس میں ایک آدمی نے اپنے ملازم کو قتل کردیا کیوکہ اُس ملازم کے اُس آدمی کی بیوی کے ساتھ تعلقات تھے اور اُس آدمی نے بعد میں اپنی بیوی کو بیسمنٹ میں قید کردیا۔۔۔ کیا ہیر پیلس میں کوئی بیسمینٹ بھی ہے یہ واقعہ کس حد تک سچ ہے”
وہ دونوں آبادی میں آکر مختلف مارکیٹ گھومنے کے بعد ایک ٹی اسٹول پر بیٹھ گئے تب ہیر شیر عباس سے پوچھنے لگی ہیر کی بات پر شیر عباس ہنسا
“سنی سنائی باتوں پر بناء تصدیق کے یقین کرلینا کم عقلی کی علامت ہے، یہاں کے مقامی لوگوں نے ایسے ہی بےشمار قصّے ہیر پیلس سے وابستہ کیے ہیں میں یہاں پچھلے بیس سالوں سے رہ رہا ہوں ہیر پیلس میں کوئی بیسمینٹ میں نے تو نہیں دیکھا اور نہ ہی مجھے کوئی یہاں پر کوئی آسیب یا بدروح وغیرہ کا سایہ دکھا”
شیر عباس گرم بھاپ اڑاتی چائے کا کپ پکڑتا ہوا ہیر سے بولا
“بیس سال مطلب آپ چھوٹی عمر سے یہاں موجود ہیں شاید بچپن سے”
ہیر شیر عباس کی بات میں دلچسپی ظاہر کرتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی
“بچپن سے نہیں لڑکپن سے، پہلے یہ جگہ گوہر پیلس کے نام سے مشہور تھی، مطلب میرے فادر نے جب اِس جگہ کا اِس کے مالک سے سودا کیا تب اِس پیلس میں رہائش پذیر شخص کی بیوی کا نام گوہر تھا۔۔۔ اِس محل کا نام اُس آدمی نے محبت میں اپنی بیوی کے نام پر رکھا تھا جو بعد میں تبدیل کروا دیا گیا”
شیر عباس ہیر کی دلچسپی بھی دیکھ کر اُسے بتانے لگا
“بعد میں نام تبدیل کروا دیا گیا مطلب یہ کہ پھر آپ کے فادر نے نام تبدیل کروایا ہوگا، یعنی انہوں نے بھی محبت میں اِس جگہ کو یہ نام دیا ہوگا ہیر پیلس”
ہیر کے بولنے پر شیر عباس چائے پیتا ہوا غور سے ہیر کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا
“صحیح جج کیا تم نے ایسا ہی ہے بالکل”
شیر عباس چائے کا گھونٹ بھرتا ہوا غور سے ہیر کا چہرہ دیکھ رہا تھا جیسے اُس کا دماغ پڑنا چاہ رہا ہوں جبکہ ہیر کا دماغ وہی اُس گمنام قبر کی طرف چلا گیا تھا
“عباس وہ جو ہیر پیلس کے بیک یارڈ پر۔۔۔
ہیر نے جیسے ہی بولنا چاہا ویسے ہی شیر عباس نے ہیر کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے بات کاٹی
“چائے ختم کرو پھر چلتے ہیں ورنہ واپس پہنچتے پہنچتے اندھیرا ہوجائے گا میں ذرا مظہر کو کال کرلوں تمہاری فرینڈ خوشبو کے ساتھ آج کل ہنی مون منانے میں بزی ہے معلوم نہیں مجھے کیوں کال کررہا ہے”
شیر عباس کرسی سے اٹھتا ہوا ہیر سے بولا
“مجھ کو تو نہ ہی ہنی کا معلوم ہے نہ ہی مون کا معلوم نہیں۔۔۔ کیسے لوگ ہوتے ہیں جو اتنے دن گھومنے پھرنے میں ضائع کرتے ہیں بلاوجہ میں”
ہیر ساری سوچوں کو دماغ سے نکال کر لمبا سانس لیتی بولی اور اپنی چائے ختم کرنے لگی جبکہ شیر عباس دونوں ہاتھ ٹیبل پر جماکر ذرا سا ہیر کی طرف جھکتا ہوا بولا
“میری جان اگر یہ پبلک پلیس نہ ہوتا تو میں تمہیں ہنی اور مون دونوں کا مطلب ابھی سمجھا دیتا۔۔۔ ہنی مون پر لوگ بلاوجہ نہیں گھومتے بلکہ اُس کے پیچھے خاص مقصد موجود ہوتا ہے جو اگر تم مجھے کبھی سمجھانے دو تو میں خود کو شادی شدہ مردوں کی لسٹ میں محسوس کرسکو”
شیر عباس کی لُو دیتی نگاہوں کو دیکھ کر ہیر بری طرح سٹپٹا کر پیچھے ہوئی تو شیر عباس گہری نظروں سے ہیر کو دیکھتا ہوا وہاں سے چلا گیا
***””””***
کل رات ہاشم کے کمرے میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے آرذو سکون کی نیند سو گئی تھی۔۔۔ گلنار اور ایوب خان کا اس کے ساتھ سلوک کافی اچھا تھا یہ دوسرے دن شام کا وقت تھا اور ہاشم کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا۔۔۔ وہ مکمل تیار کھڑی تھی اپنے گھر جانے کے لئے تبھی اُسے کمرے سے باہر ہال میں باتوں کی آوازیں آنے لگیں
“مجھے بتاؤ ہاشم تم نے دوسری شادی کی حامی اسی لیے بھری تھی تاکہ تم اپنی دوسری بیوی کے سامنے مجھے بےعزت کرکے رکھ دو۔۔۔ کل رات سے گھر سے نکلے ہو دوسرے دن شام کو لوٹ رہے ہو ویسے تو دو گھنٹے ماہ نور کے ساتھ گزارنا تمہارے لئے مشکل ہوجاتے ہیں اور اب دوسری شادی کے بعد۔۔۔۔
گلنار ہاشم کو دیکھ کر دل کی ساری بھڑاس نکالتی ہوئی بولی
“کل رات سے ابھی تک اُس کے کھٹنے سے لگ کر نہیں بیٹھا ہوا تھا میں ماں جی، اتنا فالتو انسان سمجھ لیا ہے شاید آپ نے اپنے بیٹے کو، میں صبح آفس میں تھا واپس اب گھر آرہا ہوں تو آپ کے شکوے شروع ہوگئے ہیں”
گلنار کی بات پر ہاشم چڑتا ہوا بولا
“شاباش بیٹا شاباش۔۔۔ یعنی کل ہی تم اِس گھر میں اپنی بیوی لےکر آئے ہو اور اُسے دیکھے بناء باتیں کیے بغیر تم رات میں اپنی پہلی بیوی کے بلانے پر اُس کے پاس چلے گئے اور پھر وہاں سے آفس۔۔۔ کیا آرزو کی کوئی حیثیت ہے تمہاری نظر میں”
گلنار کو اِس وقت ہاشم پر شدید غصہ آیا تھا۔۔۔ ہاشم جو گلنار کو غصہ کرتا ہوا دیکھ رہا تھا اُس کی نظر آرذو پر پڑی جو پلر کی آڑھ میں کھڑی ان لوگوں کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔ ہاشم گلنار کی بات کا جواب دیے بغیر چلتا ہوا آرذو کے پاس آیا اُسے کلائی سے پکڑ کر گلنار کے سامنے لا کھڑا کیا
“یہ آپ کے سامنے کھڑی ہے میری دوسری بیوی جسے بہت تلاشنے کے بعد آپ نے اسے میرے لئے چنا ہے۔۔۔ کم عمر خوبصورت، شریف لڑکی اور عزت دار گھرانے سے تعلق رکھنے والی”
ہاشم کی ایک ایک لفظ چباتا ہوا آرزو کو دیکھ کر بولا تو آرزو کر رنگ خوف سے سفید پڑنے لگا نہ جانے وہ آگے گلنار کے سامنے کیا بولتا اُس کے بارے میں۔۔۔ کل سے گلنار اُس کے ساتھ بہت پیار محبت سے پیش آرہی تھی اگر اُس کی ساس کو اُس کے بارے میں معلوم ہوجاتا تو نہ جانے وہ اُس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی شاید اپنے بیٹے سے بھی زیادہ توہین آمیز
“جانتی ہیں ماں جی اپنی دوسری بیوی یعنی اِس کی حیثیت کیا ہے میری نظر میں”
ہاشم گلنار کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جو خاموش کھڑی ہاشم اور آرزو دونوں کو دیکھ رہی تھی پھر ہاشم آرزو کی طرف پلٹا
“بتادو ماں جی کو تمہاری حیثیت”
ہاشم آرزو کا چہرہ دیکھتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا آرزو نے جن نظروں سے ہاشم کو دیکھا اُس کی نظروں میں التجا تھی، درخواست کی کہ وہ اپنے گھر والوں کے سامنے اُس کا بھرم قائم رہنے دے۔۔۔ ہاشم نے آرزو کو دونوں بازوؤں سے پکڑا
“اگر تم مجھ سے یہ توقع رکھو گی کہ میں خوبصورت، کم عمر، دوسری بیوی کو دیکھ کر دنیا جہاں کو بھلائے تمہارا پلُو پکڑ کر تمہارے آگے پیچھے دوڑوں گا تو یہ خوش فہمی اپنے دل اور دماغ دونوں سے نکال دو۔۔۔ اِس گھر میں میری دوسری بیوی کی حیثیت سے تم تبھی ٹک سکتی ہو جب تم میرا ہر حکم مانو گی، میری کسی بات کو رد نہیں کروں گی اور میرے آگے کوئی الٹا سیدھا جواب نہیں دو گی تب تمہارا گزارا اِس گھر میں ہوسکتا ہے جس دن میں نے اپنے مزاج کے خلاف کوئی بھی کام دیکھ لیا اُسی دن میں بناء کسی لحاظ کیے میں تمہیں اس گھر سے چلتا کرونگا”
ہاشم آرذو کے دونوں بازو پکڑے ایک ایک لفظ جتاتا ہوا بولا تو آرزو نم آنکھوں سے ہاشم کو دیکھنے لگی۔۔۔ ہاشم ایک نظر اُس کو پھر گلنار کو دیکھ کر اپنے کمرے میں چلاگیا۔۔۔ گلنار ہاشم کے رویے پر حیرت زدہ تھی، وہ آرزو کو دیکھ کر شرمندہ ہونے لگی
“اتنا غصہ والا یا پھر سخت مزاج کا نہیں ہے ہاشم، بس کسی وجہ سے غصّہ ہوگا اسے جبھی تم سے اِس طرح بول گیا ہے، تم پریشان مت ہونا غصہ اُترے گا تو ٹھیک ہوجائے گا”
گلنار آرزو کو دیکھ کر اسے تسلی دیتی ہوئی بولی تو آرذو اثبات میں سر ہلا کر کمرے کو دیکھنے لگی جہاں ابھی ہاشم گیا تھا۔۔۔ اُس کا دل نہیں چاہ رہا تھا وہ اُس کمرے میں جائے مگر کب تک وہاں کھڑی رہتی
“ہاشم سے پوچھ لو وہ چاہے لے گا آفس سے آیا ہے شاید اُس کا موڈ ہورہا ہوگا میں خانساماں سے کہہ کر بھجواتی ہوں”
گلنار کی بات پر آرزو جی کہتی ہوئی کمرے کی جانب بڑھ گئی
کمرے میں آکر آرذو نے دیکھا تو وہ صوفے کی بیک پر سر ٹکاکر پاؤں دراز کیے آنکھیں بند کرکے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ آرذو نے جیسے ہی آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا تو ویسے ہی کمرے میں آکر آئستگی سے دروازہ بند بھی کردیا
شکر تھا کہ اُس کی وجہ سے اِس شخص کے آرام میں خلل نہیں پڑا، کیا معلوم اسی بات کا بہانہ بناکر وہ اسے اپنے گھر سے آج ہی نکال دیتا
“میرا موبائل چارج پر لگادو”
ہاشم کی آواز پر آرزو بری طرح اچھل کر رہ گئی وہ حیرت سے ہاشم کو دیکھنے لگی جو اُسی پوزیشن میں ابھی بھی آنکھیں بند کیے صوفے پر دراز تھا۔۔۔
وہ ہاشم کے سامنے ٹیبل پر اُس کا موبائل رکھا دیکھ کر موبائل لینے کی غرض سے اُس کے پاس آئی جیسے ہی آرزو نے موبائل پکڑا ہاشم نے اُس کی کلائی پکڑلی
“اتنا تیار ہوکر کس خوشی میں بیٹھی ہو یہاں کون سا تمہارا بوائے فرینڈ آنے والا ہے جس کو اپنی چمک دمک یہ تیاری دکھانی ہے تمہیں”
ہاشم کے چھبتے ہوئے لہجے میں پوچھے گئے سوال پر آرزو تڑپ گئی
“رسم کے مطابق آج اَمّی کی طرف جانا ہے تو آپ کی امی کے کہنے پر تیار ہوئیں تھیں”
آرزو ہاشم کے طنز کو نظرانداز کرتی ہوئی اپنے تیار ہونے کی وجہ بتانے لگی جس پر ہاشم اُس کی بات کاٹتا ہوا بولا
“اپنے ماں باپ کے گھر جانے کے بہانے مت ڈھونڈو خوب جانتا ہوں میں کیوں جانا چاہتی ہو تم اپنے گھر تمہارے گھر سے دو گلی چھوڑ کر ہی رہتا ہے تمہارا بوائے فرینڈ، تم اُس کو دیکھ لو وہ تمہارا دیدار کرلے اِس لئے اتنا سج سنور کر اپنے گھر جانے کی تیاری کی ہے۔۔۔ اچھی طرح سمجھتا ہوں میں تم جیسی لڑکیوں کی ذہنیت کو اور سب معلوم کروا لیا ہے میں نے تمہارے بوائے فرینڈ کے بارے میں، ادھوری تعلیم، جاب لیس، آوارہ گردی کرنے والا تھرڈ کلاس لڑکا دیکھ لوں گا میں اُسے بھی اور تمہیں بھی اچھی طرح سے اگر میرے نکاح میں رہ کر میرا نام خراب کرنے کی کوشش کی تو گلا دبا کر مار ڈالوں گا میں تمہیں۔۔۔۔ منع کردو اپنے گھر والوں کو کوئی نہیں آرہی تم اُن سے ملنے، جاکر اپنے کپڑے تبدیل کرو اور چائے بناکر لاؤ میرے لئے”
سختی سے اپنی گرفت میں لی کلائی آزاد کرتا ہوا ہاشم غصّے میں آرزو سے بولا تو آرزو اپنے آنسو صاف کرتی کپڑے تبدیل کرنے چلی گئی وہ سسکتی ہوئی اپنی کلائی پر ہاشم کے انگلیوں کے نشان دیکھنے لگی مگر یہ نشانات تکلیف کا سبب نہیں تھے بلکہ ہاشم کا بار بار حقارت سے لفظ بوائے فرینڈ کہنا اُسے تکلیف دے رہا تھا۔۔۔ اپنا میک اپ صاف کرنے کے بعد لباس تبدیل کر کے بالوں کو باندھتی ہوئی وہ کچن میں چلی آئی تاکہ ہاشم کے لئے چائے بنادے
“ارے بیٹا یہ کپڑے کیوں چینج کرلئے تم نے، اپنے گھر نہیں جانا۔۔۔ اور تم کیوں بنانے لگی ہو چائے”
گلنار کچن میں آکر حیرت زدہ سی آرزو کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“ہاشم تھکے ہوئے لگ رہے ہیں تو مجھے اچھا نہیں لگ رہا ہے اُن سے کہنا کہ وہ مجھے میرے گھر لے جائیں اور چائے میں اُن کے لیے اپنی خوشی سے بنارہی ہوں آپ بتائیے آپ اور دا جی کے لیے بھی چائے بنادو”
آرزو مسکراہٹ میں اپنا درد چھپاۓ گلنار کے سامنے جواز پیش کرتی ہوئی مسکرا کر چائے کا پوچھنے لگی
“صدا خوش رہو بیٹا میں اور ابّا جی چائے پی چکے ہیں تم اپنے اور ہاشم کے لیے بنالو مجھے پورا یقین ہے کہ تم میرے ہاشم کی زندگی میں اور اِس گھر میں خوشیاں لانے کا ذریعہ بنو گی، میں خود مناسب طریقے سے شہناس کو آج تم دونوں کے نہ آنے کا بتادیتی ہوں”
گلنار کی بات پر آرزو نے مسکراتے ہوئے سر ہلا کر اُس کی بات کی تائید کی گلنار کے کمرے سے جانے کے بعد مسکراہٹ آرذو کے ہونٹوں سے غائب ہوگئی آنکھیں ایک بار دوبارہ نم ہونے لگی
***””””***
“واپس گھر آنا بھی ہے ماہ نور نے یا اپنی سہیلی کے گھر پر ڈیرہ جمائے رکھنا ہے”
کھانے کی میز پر گلنار ہاشم کو دیکھتی ہوئی سوال کرنے لگی آرزو سر جھکاۓ بیٹھی تھی وہ جانتی تھی ماہ نور ہاشم کی پہلی بیوی کا نام تھا۔۔۔ وہی بدمزاج اور لڑاکا قسم کی لڑکی جسے اُس دن وہ فلیٹ پہ دیکھ چکی تھی اب نہ جانے ماہ نور اُس کو اِس گھر میں ہاشم کی دوسری بیوی کے روپ میں دیکھ کر کیا ہنگامہ کرتی
“ایک دو دن میں آئے گی اپنی پیکنگ کرنے کے لیے، اُس کا پروگرام بن گیا ہے فیصل ماموں کے پاس دبئی جانے کا”
ہاشم کھانا کھاتا ہوا گلنار کو وہی بات بتانے لگا جو صبح ماہ نور نے اس کو آفس نکلنے سے پہلے بتائی تھی
“اور تم نے اپنی بیوی کو یوں اکیلے اتنی دور جانے کی اجازت دے دی”
ایوب خان کھانے کے دوران ہاشم کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے ہاشم نے انہیں یوں دیکھا جیسے نظروں سے بول رہا ہو اُس نے اجازت کب مانگی تھی
آرزو سر جھکائے بیٹھی ساری باتیں خاموشی سے سن رہی تھی اُسے اپنے شوہر کے سلوک پر دکھ ہوا پہلی بیوی کو دبئی جانے کی اجازت دے دی اور اس کو اُس کے ماں باپ کے گھر جانے سے روک دیا
“ارے بیٹا آپ تو کھانا کھا ہی نہیں رہی ہو شرماؤ نہیں سہی سے کھانا کھاؤ”
ایوب خان مٹھاس بھرا لہجہ اپناۓ پوتے کی نئی نویلی دلہن سے بولے جو انہیں دکھنے میں سیدھی سادی اللہ میاں کی گاۓ لگ رہی تھی۔۔۔ آرزو ایوب خان کی بات پر جی کہہ کر خاموش ہوگئی جبکہ ہاشم بناء آرزو کی طرف دیکھے کھانا کھانے میں مصروف تھا
“ہاشم کل آرزو کو اس کے میکے لے جانا اور بیٹا ایک بات یاد رکھو بےشک یہ شادی تمہاری اپنی پسند کی نہیں ہماری پسند کی ہے مگر ذمہ داری یہ تمہاری ہے، اِس کا اچھی طرح خیال رکھنا مجھے دوبارہ بولنا نہ پڑے”
گلنار شام سے ہی ہاشم کا لاپروا رویہ آرذو کے ساتھ دیکھ رہی تھی تبھی اُس کو باور کرواتی ہوئی بولی
“ٹھیک کہا آپ نے یہ ذمہ داری میری ہے اُس کا خیال اور دھیان اچھی طرح رکھنا ڈیوٹی ہے میری۔۔۔ آپ فکر نہیں کریں اب اِس پر پوری پوری نظر ہے میری”
ہاشم کی بات پر آرذو نے سر اٹھا کر اپنے سامنے کرسی پر بیٹھے ہاشم کی جانب دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ آرذو سمجھ چکی تھی اب یہ شخص اُس کا شوہر بن کر اُس کا جینا حرام کردے گا
“روٹی بناکر لاؤ میرے لئے”
آرذو کے دیکھنے پر ہاشم اُس کو دیکھتا ہوا بولا ساتھ ہی اُس نے چاولوں سے بھری پلیٹ پیچھے کردی گلنار نے فوراً ہاٹ پاٹ سے روٹی نکال کر ہاشم کی طرف بڑھائی
“باہر کی نہیں مجھے گھر کی بنی ہوئی تازہ روٹی کھانی ہے ماں جی اور تم میری شکل کیا دیکھ رہی ہو کھڑی نہیں ہوئی ابھی تک”
گلنار کو جواب دینے کے ساتھ ہاشم گھور کر آرزو سے بولا تو وہ اپنا کھانا چھوڑ کر کھڑی ہوگئی
“آج اُس بچی کا پہلا دن ہاشم ہمارے گھر میں تمہارے لئے روٹی خانساماں بنادے گا وہ کھانا کھا رہی ہے اُسے کھانا کھانے دو”
ایوب خان ہاشم کے بگڑے ہوئے تیور دیکھ کر آہستہ آواز میں اسے سمجھاتے ہوۓ بولے
“ٹھیک ہے پھر آپ تینوں مل کر ڈنر کو انجوائے کریں میں باہر کسی ہوٹل میں ڈنر کرلیتا ہوں”
ہاشم کا خراب موڈ دیکھ کر ایوب خان اور گلنار دونوں ہی خاموش ہوگئے
“آپ پلیز بیٹھئے میں روٹی بناکر لاتی ہوں آپ کے لیے”
آرزو ہاشم کو کرسی سے اٹھتا ہوا دیکھ کر جلدی سے بولی، کوئی کچھ بولتا وہ تیز قدم اٹھاتی کچن میں چلی گئی
“تمہاری ماں نے صرف تم سے اُس کا خیال رکھنے کا بولا تھا اور تم نے اس کو بیچ کھانے اٹھادیا آخر بات کیا ہے ہاشم بلاوجہ تو کوئی شخص کسی کے ساتھ اِس طرح کا سلوک نہیں کرتا”
ایوب خان ہاشم کو دیکھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگے اپنے دا جی کے لہجے اور نظروں میں ابھرتا ہوا تجسس دیکھ کر ہاشم بولا
“ماں جی کا ہی کہنا ہے جو آدمی بیوی کو شروع میں ہی ڈھیل دے دے پھر ساری عمر بیوی سر چھڑی رہتی ہے، ویسے بھی پہلے تجربے سے سیکھ چکا ہوں میں”
سارا ملبہ گلنار پر گراتا ہوا وہ گلاس اٹھاکر پانی پینے لگا
***””””***
اُس کا شوہر اُس کی سوچ سے بھی زیادہ سخت گیر اور غضیلہ انسان تھا۔۔۔ جس کا آرذو کو آج پہلے ہی دن اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا دن تو جیسے تیسے گزر گیا تھا مسئلہ رات کا تھا آرذو کمرے میں چکر کاٹتی ہوئی ٹینشن لینے لگی
ابھی تو ہاشم سیٹنگ روم میں اپنے دوستوں کے ساتھ موجود تھا جب وہ کمرے میں رات گزارنے کے لئے آتا تب وہ کیا کرے گی، کہاں جائے گی، کاش آج کی رات بھی وہ کل کی طرح اپنی پہلی بیوی کے پاس چلا جائے آرذو دل ہی دل میں دعا کرنے لگی مگر جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھلا ہاشم کمرے کے اندر آیا آرزو جان گئی، اُس کی دعا رد کردی گئی تھی
“کمرے کی لائٹ آف کرو سونا ہے مجھے”
ہاشم بولتا ہے چینج کرنے چلا گیا جب وہ چینج کر کے واپس آیا تو کمرے میں زیرو کا بلب روشن تھا اُس نے آرزو کو بیڈ کے پاس کھڑا پایا وہ عجیب کشمکش میں مبتلا تھی
“تمہیں کیا ساری رات میرے سر پر کھڑے رہنا ہے لیٹو فوراً”
خود بیڈ پر لیٹنے کے بعد ہاشم اُس کو جھڑکتا ہوا بولا
“کہاں۔۔۔ کہاں پر لیٹنا ہے مجھے”
آرذو گھبراتی ہوئی ہاشم سے پوچھنے لگی جبھی تو وہ کنفیوژ کھڑی تھی
“ابھی اٹھ کر بتاؤ میں تمہیں”
اندھیرے میں آرذو دور سے ہاشم کے واضح نقوش تو نہیں دیکھ پارہی تھی لیکن اُس کی آواز میں چھپا غصّہ صاف محسوس کرسکتی تھی اِس لیے خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گئی
“کب سے چل رہا تھا تمہارا اُس لڑکے کے ساتھ چکر”
خاموشی کو چیرتی ہوئی ہاشم کی آواز آرذو کے کانوں میں ٹکرائی تو اُس کی جان خشک ہونے لگی
“آپ کو معلوم نہیں ہے شام میں تو آپ بول رہے تھے آپ نے سب معلوم کروالیا ہے اُس کے بارے میں”
خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر انہیں تر کرتی ہوئی آرذو فقط اتنا ہی بول پائی کہ ہاشم نے اُس کی بات سن کر آرذو کی نازک کلائی کو سختی سے اپنی گرفت میں لیا
“جتنا پوچھا ہے اتنا جواب دو نہیں تو بہت برے طریقے سے پیش آؤ گا تمہارے ساتھ بتاؤ کب سے بےوقوف بناتی آرہی تھی اپنے گھر والوں کو”
ہاشم آرذو کی کلائی پر مزید اپنے ہاتھ کی گرفت سخت کرتا ہوا غصّے میں بولا
“آٹھ ماہ۔۔۔ آٹھ ماہ ہوۓ تھے پلیز میرا ہاتھ چھوڑیں درد ہورہا ہے مجھے”
آرذو کرہاتی ہوئی ہاشم سے بولی تو ہاشم نے اُس کی کلائی چھوڑ دی
“پھر تو اکیلے میں بھی ملتی رہی ہوگی اُس لڑکے سے”
یہ سوال پہلے سوال سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا آرذو اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی
“یہ کیسا سوال ہے کیا مطلب ہے آپ کی اِس بات کا”
وہ مدہم روشنی میں ہاشم کا چہرہ دیکھتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی تو ہاشم بھی اٹھ کر بیٹھ گیا
“آسان لفظوں میں پوچھا ہے میں نے چلو تھوڑا اور واضح کردیتا ہوں اپنے سوال کو کتنی بار چھوا ہے اُس لڑکے نے تمہیں”
ہاشم کا لہجہ اور انداز صاف تذلیل کردینے والا تھا آرذو تڑپ کر رہ گئی
“شرم نہیں آرہی ہے آپ کو مجھ سے یہ پوچھتے ہوئے اتنی گری ہوئی کمزور نفس کی لڑکی نہیں ہوں میں جس کو اپنے گھر والوں کی یا اپنی عزت کی فکر نہ ہو اگر آپ کو میری ذات سے ایسے شک و شبہات لاحق ہیں تو ابھی اور اِسی وقت اپنا رشتہ ختم کر ڈالے مجھ سے”
آرذو ہاشم سے بولتی ہوئی ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا کر رونے لگی مگر ہاشم نے مٹھی میں اُس کے بالوں کو بھر کر اُسے خود سے قریب کیا
“یوں جھوٹے آنسو بہا کر تم میری ہمدردی حاصل نہیں کرسکتی نہ ہی میں تم جیسی لڑکیوں کو ترس کھانے کے قابل سمجھتا ہوں اگر تمہیں اپنی یا اپنے گھر والوں کی عزت کا خیال ہوتا تو تم اپنے باپ کی عزت کو یوں ہوٹلوں اور ریسٹورینٹ میں جاکر نعلام نہ کررہی ہوتی اور رشتہ ختم کرنے کی دھمکی مجھے بالکل مت دینا، تم جیسی لڑکی سے رشتہ جوڑے رکھنے کا مجھے کوئی خاص شوق بھی نہیں ہے جس دن میں نے تمہیں دوبارہ رنگے ہاتھوں پکڑلیا، میں اپنے اور تمہارے گھر والوں کے سامنے تمہارے کرتوتوں سے پردہ ہٹاکر تمہیں اُسی دن فارغ کردونگا آیا سمجھ میں”
ہاشم نے بولتے ہوئے جھٹکے سے اپنی مٹھی سے آرذو کے بالوں کو آزاد کیا تو وہ بیڈ پر گرتی ہوئی سسکنے لگی
***””””***
“کیا سوچ رہے ہیں”
تھوڑی دیر پہلے ہی ہاشم اور آرذو اُن کے گھر سے رخصت ہوکر گئے تھے شہناس امامہ کے ساتھ کام نمٹاکر کمرے میں آئی تو صدیقی کو خاموش بیٹھا دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی
“آرزو کافی خاموش خاموش سی لگ رہی تھی بجھی بجھی سی محسوس نہیں کیا تم نے”
صدیق کی شہناس کو دیکھتا ہوا اُس سے بولا
“محسوس تو میں نے اور بھی بہت کچھ کیا ہے مطلب ہاشم کا رویہ، دیکھا نہیں آپ نے کیسا اکھڑا اکھڑا سا انداز تھا اس کے بات کرنے کا یا پھر شاید اُس کی نیچر ہی ایسی ہو”
شہناس اپنا خیال پیش کرتی ہوئی صدیقی سے بولی پھر صدیقی کے چہرے پر سوچ اور فکر کے جال بنتا دیکھ کر خود ہی تسلی بخش انداز میں کہنے لگی
“ویسے جب نئی نئی شادی ہوتی ہے تو شوہر اور بیوی میں ایک جھجھک سی ہوتی ہے، شروع میں مانوس نہیں ہوتے ایک دوسرے سے، بعد میں ہی دونوں ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے لگتے ہیں پھر ایک دوسرے سے بےتکلف بھی ہوجاتے ہیں آپ فکر نہیں کریں سب ٹھیک ہوجاۓ گا آگے جاکر”
شہناس کے بولنے پر صدیقی نے اُس کو دیکھا وہ نہ جانے خود کو تسلی دے رہی تھی یا پھر صدیقی کو
“ہیر کی بات ہوئی تم سے، کافی دن گزر گئے ہیں میں سوچ رہا ہوں چند دنوں کے لیے ہیر کو یہاں بلالینا چاہیے، میری دونوں بچیوں کے جانے سے گھر بالکل بےرونق سا ہوگیا ہے”
صدیقی شہناس کے دل میں بات زبان پر لاتا ہوا بولا
“چلیں میں دوبارہ شیر عباس سے بات کر کے دیکھتی ہوں”
شہناس نے دوسرے داماد کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی وہ بھی عجیب روکھے مزاج کا انسان تھا جس کا اندازہ شہناس کو دو سے تین مرتبہ بات کرنے میں ہوگیا تھا اور نہ ہی اب شیر عباس کی دونوں بہنیں اُس کی کالز ریسو کرتی تھیں جو شادی کے دنوں میں کافی اچھی بنی ہوئی تھیں
***””””***
“پپ۔۔۔ پانی پلیز مجھے پانی دےدو، میں مر جاؤ گی”
اُس کے شوہر نے چار دن سے اُس کا کھانا پینا بند کیا ہوا تھا، روٹی کا ٹکڑا تو دور حلق سے پانی کا ایک قطرہ نیچے نہیں اترا تھ وہ نیم مردہ حالت میں چارپائی پر پڑی کراہ رہی تھی
“تم جیسی ڈھیٹ عورت میں نے آج تک نہیں دیکھی، کیوں بھری جوانی میں اپنی جان گنوانا چاہتی ہو میری بات مان لو تب ہی تمہاری جان بخش سکتی ہے نہیں تو ہونہی تڑپ تڑپ کر مرجاؤ گی کوئی پوچھنے والا نہیں ہے تمہیں یہاں، اگر تم سوچ رہی ہو یہاں تمہارا باپ آجاۓ گا تو سن لو وہ بےغیرت آدمی پتھر دل بن چکا ہے تم سے تعلق ختم کرچکا ہے وہ کبھی یہاں پر نہیں آۓ گا”
اُس کا شوہر اتنی سفاک طبعیت کا مالک ہوسکتا ہے اُس نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا وہ اپنے شوہر کو انکار کرتی ہوئی بولی
“میرا باپ بےشک یہاں نہ آۓ لیکن جو تم چاہتے ہو وہ میں مر کر بھی نہیں کرو گی”
وہ نڈھال وجود کے ساتھ انکار کرتی بولی تو اُس کے شوہر نے جانوروں کی طرح اُس کو مارنا شروع کردیا درد تکلیف سے نڈھال ہونے کے باوجود اُس کے وجود میں احتجاج کرنے یا چیخنے چلانے کی سکت بھی موجود نہ تھی
“تو پھر مر یہی پڑے پڑے منحوس عورت اچھا ہے تجھ سے جان چھٹے میری”
اُس کا شوہر جب اُس کو مار مار کر خود تھک گیا تب اُس پر بکتا جگتا گھر سے باہر نکل گیا
***””””***
