Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel Readelle 50385 Diyar E Wehsat (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Diyar E Wehsat (Episode 12)
Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel
“کیا ہوگیا بیٹا آپ کو، آپ تو کمرے سے باہر ہی نہیں نکل رہی ہو، پریشان مت ہو اپنے گھر والوں کے لئے اوپر والا سب بہتر کرے گا آپ شکر ادا کرو کہ نقصان صرف چیزوں کا ہوا ہے جانی نہیں”
آرذو ہاشم کے کہنے پر ڈائینگ ہال میں آئی تو ایوب خان آرذو کو دیکھ کر بولے ایوب خان اور گلنار کو یہی لگ رہا تھا کہ وہ اپنی فیملی کی وجہ سے پریشان تھی مگر اِس وقت ڈائننگ ہال میں ماہ نور کی موجودگی اُس کے لئے ٹینشن کا سبب تھی جو نہ جانے کیسے ابھی تک اپنا منہ بند کر کے خاموش بیٹھی کھانا کھارہی تھی
“جی بس اَمّی ابُو کے واپس آنے کا ویٹ کررہی ہیں، ابو کے آنے کے بعد ہی اوپر والے نے چاہا تو سب ٹھیک ہوجائے گا”
آرذو آئستہ آواز میں بولتی ہوئی کرسی کھینچ کر بیٹھی۔۔۔ ہاشم نے آرذو کے آتے ہی کھانا شروع کردیا تو گلنار نے بھی باتوں میں حصہ لیا
“میں نے آج شہناس سے فون پر بات کرتے ہوۓ بولا بھی تھا کہ وہ ہمارے پاس آجائے جب تک گھر کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا”
اِس سے پہلے آرزو کچھ بولتی ماہ نور بولی
“یہاں پر کس خوشی میں آنے کی دعوت دے رہی ہیں آنی آپ اِس کے پھٹیچر ماں باپ کو۔۔۔ ویسے بھی یہ لوئر مڈل کلاس لوگ تو موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ کوئی اِن سہارا بنے اور وہ عمر بھر کے لئے وہی ٹک جائیں”
ماہ نور کی بات پر جہاں ایک دم کھانے کی ٹیبل پر خاموشی چھاگئی وہی آرزو کا دل کیا وہ بھاپ اڑاتا ہوا گارلیک چکن اٹھا کر ماہ نور کے منہ پر دے مارے
“یہاں بیٹھ کر تمہیں کس نے منہ کھولنے کا مشورہ دیا ہے، باۓ دا وے اُس کے پیرنٹس کافی خود دار قسم کے لوگ ہیں میرے آفر کرنے پر آنٹی یہاں آنے سے پہلے ہی مجھے سہولت سے انکار کرچکی ہیں اور جس گھر میں تم جیسی ہستی موجود ہو وہاں عزت دار لوگ دو پل کے لیے آنے سے بھی گھبراتے ہیں”
ویسے تو ہاشم ماہ نور کی باتوں کو اگنور کردیا کرتا تھا لیکن اِس وقت آرزو کا ضبط سے شرمندہ چہرہ دیکھ کر وہ ماہ نور کو اچھی طرح جواب دیتا ہوا بولا
“ارے تم تو اپنے سسرال والوں کے بارے میں سن کر بیوی سے زیادہ خود برا مان گئے میں تو یونہی ایک بات کہہ دی تھی کول ڈاؤن اور پلیز ہاشم آج میرے ساتھ سلینا کی طرف چلو اُس کے گھر لیٹ نائٹ پارٹی ہے مگر تم بس دو گھنٹے بعد واپسی کرلینا نئی نئی شادی ہوئی ہے لیٹ نائٹ تو تمہارا اپنا پروگرام ہوگا اپنی پوری نائٹ تم میرے لئے تو بالکل بھی برباد نہیں کرو گے اِس لیے تمھارے صرف دو گھنٹے مانگ رہی ہوں”
ماہ نور کسی کا لحاظ کئے بغیر آرذو کی طرف اشارہ کرتی بےباکی سے ہاشم سے بولی آرذو نے شرمندگی کے باعث اپنا چہرہ نیچے کرلیا
“میں اپنے دو گھنٹے بھی تمہارے ساتھ جاکر برباد نہیں کرنا چاہتا تم اکیلی چلی جاؤ ویسے بھی مجھے آرذو کے ساتھ کہیں اور جانا ہے”
ہاشم ماہ نور کی بےہودہ بات کو نظر انداز کرتا اُسے بولا
“ماہ نور سب کے سامنے بات کرتے ہوئے تمیز اور اپنی حدود کا خیال رکھا کرو”
گلنار ماہ نور کو تمیز سکھانے کا سوچا اس لئے ماہ نور سے بولی ماہ نور گلنار کی بات کو ہوا میں اُڑاتی ہوئی آرزو کو زہر خواندہ نظروں سے دیکھتی ہوئی ہاشم سے بولی
“اِس کے ساتھ کہاں جارہے ہو تم پہلی بیوی تو میں ہوں تمہاری، میرا تم پر زیادہ حق ہونا چائیے تم میرے ساتھ جارہے ہو ہاشم”
ماہ نور ہاشم پر اپنا حق جتاتی ہوئی بولی اور آرزؤ کو ایسی نظروں سے دیکھنے لگی جیسے ابھی کچا چبا ڈالے گی
“ہاشم ابھی میرا کہیں بھی جانے کا موڈ نہیں آپ بیشک انہی کے ساتھ چلیں جائیے”
آرزو کو ڈر تھا کہ کہیں ماہ نور اُس کے کردار کو لےکر ایوب خان اور گلنار کے سامنے کچھ نہ بول دے اِس لئے ماہ نور کو غصّے میں دیکھ کر ہاشم کے ساتھ جانے سے انکار کرتی ہوئی بولی
“تمہیں اگر میرے ساتھ نہیں جانا تو مت جاؤ لیکن مجھے تمہارے یا کسی دوسرے کے مشورے کی ضرورت نہیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے کیا نہیں”
ہاشم اب آرزو کو دیکھتا ہوا بولا ٹیبل پر دوبارہ خاموشی ہوگئی سب خاموشی سے کھانا کھانے لگے
***””””***
پانچ دن پہلے کھائی سے نکالی گئی شخص کی لاش کسی اور کی نہیں بلکہ اُس کے باپ کی تھی یہ سوچ کر ہیر کا دل غم سے پھٹے جارہا تھا اب اُس کا باپ اِس دنیا میں نہیں رہا تھا نہ جانے اِس خبر نے اُس کی ماں اور دونوں بہنوں کو کتنا بڑا دکھ دیا ہوگا وہ خود غم کی کیفیت میں اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی تبھی شیر عباس کے ہاتھوں پر لمس ہیر کو اپنے شانوں پر محسوس ہوا۔۔۔ ہیر نے مڑ کر اپنی پشت پر شیر عباس کو کھڑا پایا ہے، ہیر کے پلٹنے پر شیر عباس نے نرمی سے اُس کے گال کو چھوا
“آجاؤ ناشتہ کرلیتے ہیں”
شیر عباس محبت سے ہیر کو بولا۔۔۔ تین دنوں سے وہ ہوٹل نہیں جارہا تھا صرف ہیر کی دل جوئی میں لگا ہوا تھا ہوٹل کے سارے معاملات ایبک نے سنبھالے ہوئے تھے
“ابو ایسے کیسے ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے عباس مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا ہے”
ہیر شیر عباس کی طرف اپنا رُخ کرتی ہوئی اُس سے بولی
“انویسٹیگیشن سے یہی پتہ چلا ہے کہ پاؤں پھسلنے سے وہ کھائی میں گرے تھے یہ ایک حادثاتی موت ہے ہیر اور حادثے کسی بھی انسان کے ساتھ پیش آسکتے ہیں مجھے تمہارے لئے اور تمہارے گھر والوں کے لئے بےحد افسوس ہے لیکن اِس طرح تم ہر وقت اپنے ابو کے لیے افسردہ رہوگی تو اوپر انہیں بھی تکلیف ہوگی یوں تمہیں ہر وقت روتا ہوا دیکھ کر”
شیر عباس ہیر کی آنکھوں میں آئی ہلکی سی نمی دیکھ کر اُس نمی کو صاف کرتا ہوا بولا کیوکہ وہ ہیر کو اداس دکھ کر خود اچھا محسوس نہیں کررہا تھا
“عباس پلیز اب تو میری بات مان لیں مجھے اپنی اَمی کے پاس جانے دیں”
بس ایک یہی نقطہ تھا جہاں اکر وہ محبت کی بجاۓ خود غرض دکھا جاتا تھا۔۔۔ اِس وقت بھی وہ خاموش کھڑا ہیر کی بات پر کچھ پل کے لیے ہیر کو دیکھنے لگا پھر تھوڑے وقفے کے بعد بولا
“اوکے تھوڑے دن ٹھہر جاؤ پھر ہم دونوں ساتھ چلیں گے۔۔۔ آؤ ابھی ناشتہ کرلو”
شیر عباس کا انداز بہلانے والا اور ٹالنے والا تھا۔۔۔ ہیر شیر عباس کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔ نہ جانے کیوں اُس کا شوہر اُس کو یہاں سے نکلنے نہیں دیتا وہ کیوں اپنے گھر والوں سے نہیں مل سکتی تھی کیا وہ اپنی ماں اور دونوں بہنوں کو کبھی بھی دیکھ نہیں پائے گی ہیر شیر عباس کو دیکھتی ہوئی سوچنے لگی
“میں سچ بول رہا ہوں ہیر تمہیں میرا یقین کرنا چاہیے ہم تھوڑے دن بعد چلیں گیں”
شیر عباس ہیر کی سوچ پڑھتا ہوا ہیر سے بولا اور اُس کے قریب آکر اُس کے بالوں کی لٹیں پیچھے کرنے لگا
“آپ ناشتے کی ٹیبل پر چلیں میں چینج کرکے آتی ہوں”
ہیر شیر عباس سے بولتی ہوئی اُس کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹاکر واش روم کی طرف بڑھ گئی جبکہ شیر عباس کی نظر ہیر کے موبائل پر پڑی جس پر کال آرہی تھی شیر عباس ہیر کا موبائل لےکر کمرے سے باہر چلا آیا
“آپ کو میں نے پہلے بھی بولا تھا روز روز ہیر کو کال مت کیا کریں وہ آپ سے بات کرکے مزید اَپ سیٹ ہوجاتی ہے پھر مجھے اُس کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے”
شہناس کی آواز سن کر شیر عباس لہجے میں نرمی لائے بغیر بگڑے موڈ سے بولا
“بیٹا تم تو سمجھتے ہوگے ہمارا غم میری بچیوں نے اپنے باپ کو اور میں نے اپنے شوہر کو کھو دیا، اُن کے آخری وقت میں اُن سے بات کرنا تک ہمیں نصیب نہیں ہوا خدارا تم چند دنوں کے لئے ہیر کو یہاں ہمارے پاس بھیج دو، اُس کو دیکھنے کے لئے آنکھیں بےتاب ہوچکی ہیں” شہناس التجائے انداز میں شیر عباس سے بولی جس نے صدیقی کے باڈی پارٹس تو ان لوگوں کو تدفین کے لیے بھجوا دیئے تھے مگر ہیر کو وہ کسی صورت بھیجنے کو تیار نہ تھا
“دیکھیے میں یہاں فارغ نہیں بیٹھا ہوں، جو فوری طور پر آپ کے کہنے پر ہیر کو آپ کے پاس لے آؤ یا بھجوا دوں چند دنوں تک پروگرام بناتا ہوں لیکن آپ بار بار اُس کو آنے کے لیے فورس مت کیا کریں اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کی بیٹی کا گھر بسا رہے تو یہاں اُس کو میرے ساتھ سکون سے رہنے دیں اور خود بھی سکون سے رہیے”
شیر عباس بےمروتی سے شہناس کو بولتا ہوا کال کاٹ کر ہیر کا موبائل اپنی پاکٹ میں رکھ چکا تھا کیونکہ ہیر کمرے سے نکل کر ہال میں اسی کی طرف آرہی تھی
***”””***
“یہ کیا کررہا ہے میرے موبائل میں”
فرحانہ اپنے شوہر سے اپنا موبائل لیتی ہوئی بولی جو وہی ویڈیو دیکھ رہا تھا، جو چند دنوں پہلے ایمرجنسی کی صورت میں جنگل سے گزرتے وقت اُس نے بنائی تھی
“تجھے معلوم ہے یہ عام ویڈیو نہیں بلکہ اِسے ہم پیسے کمانے کا ذریعہ بھی بناسکتے ہیں”
فرحانہ کا شوہر فرحانہ کو لالچ دیتا ہوا بولا
“خبردار جو تو نے ایسا سوچا بھی، یہ ویڈیو میں موقع ملتے ہی شیر عباس صاحب کی بیوی کو دکھاؤ گی تاکہ اُس بےچاری کو معلوم ہوسکے جس انسان کے ساتھ وہ رہی ہے اصل میں وہی اُس کے باپ کا قاتل ہے”
فرحانہ سختی سے اپنی شوہر کی بات کو رد کرتی ہوئی بولی تو اُس کا شوہر خاموش ہوگیا یہ ویڈیو تو وہ پہلے ہی مختلف نمبر سے ہیر پیلس کے مالک شیر عباس کو بلیک میل کرنے کے لیے اُس کے نمبر پر بھیج چکا تھا
***””””***
“میری گڑیا ضد کیوں کررہی ہے آنٹی سے کھانا نہیں کھانا تو بابا کے ہاتھ سے کھانا کھالو”
شاویز اپنی تین سالہ بیٹی وانیہ سے بولا جو اپنی گورنس سے کھانا کھانے کے لئے تیار نہیں تھی
“مجھے ماما آنٹی سے کھانا کھانا ہے جیسے روز وہ مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی ہیں”
وانیہ سے امامہ کا نام ٹھیک سے نہیں لیا جاتا تھا جبھی وہ اس کو ماما آنٹی بولتی تھی۔۔۔ شروع میں دو دن تو وانیہ امامہ کو اجنبی نظروں سے دیکھ رہی تھی مگر امامہ کو شاویز کی تین سالہ بیٹی اتنی معصوم اور پیاری سی لگی کہ اپنی اچھی نیچر کی وجہ سے امامہ نے جلد ہی وانیہ سے دوستی کرلی اب وانیہ سارا دن امامہ سے اپنے لئے وقت مانگتی تھی
“مگر گڑیا آج آپ کی ماما آنٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ اپنے بابا کی بھی تو اچھی بیٹی ہے اور اچھے بچے ضد سے نہیں کرتے۔۔۔ آج ماما آنٹی کو ریسٹ کرنے دیں بابا آپ کو کھانا کھلا دیتے ہیں”
شاویز وانیہ کو بہلاتا ہوا کھانا کھلانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ وانیہ ضد کرنے والی بچی نہیں تھی بلکہ کافی حساس طبیعت رکھتی تھی اس لیے امامہ کے لئے رونے لگی
“وانی کیا ہوا بیٹا آپ کو ایسے کیوں رو رہی ہو آپ۔۔۔ دیکھیں آگئی آپ کی ماما آنٹی،، لائیے سر یہ باؤل مجھے دیجئے وانی کو کھانا میں کھلاتی ہوں روز۔۔۔ بس امی کو میڈیسن دے رہی تھی اِس لیے آنے میں دیر ہوگئی”
وانیہ کے رونے کی آواز پر امامہ تیزی سے کمرے میں آتی ہوئی بولی اور اس نے شاویز سے کھچڑی کا باؤل لے لیا۔۔۔ صدیقی کی اچانک موت کی خبر نے شہناس اور اُس کو ہلا کر رکھ دیا تھا اپنے باپ کی موت کا اُس کو بےحد دکھ تھا مگر شہناس کو دیکھ کر وہ اپنا غم بھلائے رونے کی بجائے ہمت کا مظاہرہ کرتی ہوئی شہناس کو سنبھال رہی تھی
“آپ کی اپنی طبیعت بھی تو ٹھیک نہیں ہے کل سے، آپ کو بھی ریسٹ کرنا چاہیے”
شاویز امامہ کو دیکھتا ہوا بولا جو وانیہ کو اسمائل دیتی ہوئی کھچڑی کھلا رہی تھی اور وانیہ خود بھی اب خاموش سے بنا روئے امامہ سے کھچڑی کھا رہی تھی
“اس معمولی سے بخار کو تو میں بالکل بھی خاطر میں نہیں لاتی، بس امی کی فکر ہے مجھے”
وانیہ کو کھلانے کے ساتھ ہی وہ شاویز سے بولی اتوار ہونے کی وجہ سے آج شاویز گھر پر ہی موجود تھا
“آنٹی کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے تو ہم انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں”
شاویز امامہ کو دیکھتا ہوا بولا لیکن وہ جانتا تھا امامہ لازمی منع کرے گی، یہاں رکنا بھی اُس کی مجبوری تھا کیوکہ ابھی تک گھر کا کوئی انتظام نہیں ہوا تھا اور اچانک ہی اُس کے فادر کے ڈیتھ ہوگئی تھی
اور ویسے بھی اگر گھر کا ارینج ہوجاتا تو شاویز امامہ کو کبھی بھی جانے نہیں دیتا کیونکہ جو وہ سوچ بیٹھا تھا آج شہناس سے شیئر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا
“ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے سر امی کا خیال میں اچھے طریقے سے رکھ رہی ہوں۔۔۔ وہ جلد ٹھیک ہوجائیں گیں انشاءاللہ”
توقع کے عین مطابق امامہ شاویز کو انکار کرتی ہوئی بولی جس پر شاویز ہلکے سے مسکرایا
“وہ تو مجھے معلوم ہے آپ سب کا خیال اچھے طریقے سے رکھ سکتی ہیں مگر ساتھ ساتھ اپنا خیال بھی رکھا کریں”
شاویز امامہ کو بولتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا امامہ نے ایک نظر کمرے سے باہر نکلتے شاویز پر ڈالی اور دوبارہ وانیہ کو کھانا کھلانے لگی
***””””***
باپ کا دنیا سے چلے جانا۔۔۔ یہ غم بہت بڑا ہوتا ہے ہفتے بھر سے وہ مسلسل صدمے کی کیفیت میں تھی ہاشم کے ساتھ گلنار اور ایوب خان مسلسل اُس کا دل بہلانے اور دلجوئی میں لگے ہوئے تھے آرذو نے اپنا ذہن بٹانے کے لئے کوکنگ کرنے کا سوچا وہ ہاشم کی پسند کا کھانا بنانے کا سوچ کر کچن میں چلی آئی
“سنو ایک کپ اسٹرونگ سی چائے بنا کر میرے کمرے میں بھجواؤ”
آرذو کو اپنے کانوں میں ماہ نور کی آواز سنائی دی اُس نے دیکھا ماہ نور کچن کی دہلیز پر کھڑی ہوئی اس سے مخاطب تھی لہجے میں عاجزی انکساری تو دور وہ اسے ایسے حکم دے رہی تھی جیسے آرزو اُس کی ملازمہ ہو
“میں بزی ہوں آپ شمع سے بول دیں وہ آپ کو چائے بناکر دے دے گی”
آرذو پین میں کوکنگ آئل ڈالتی ہوئی مصروف انداز میں بولی کتنے دنوں سے وہ ماہ نور کا رویہ محسوس کرتی اس کو نظر انداز کررہی تھی اکثر ماہ نور اُسے مخاطب کیے بغیر تسخیر آمیز رویہ اپناۓ اُس کا مذاق اڑا رہی ہوتی
ماہ نور کی فضول حرکتوں کا جواب ابھی تک اس نے خاموشی سے دیا تھا آج پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا جب آرزو نے اُس کو جواب میں کچھ منہ سے بولا بھی تھا اور جتایا بھی تھا کہ وہ اس کی نوکر یا ملازمہ نہیں ہے
“کیا کہا۔۔۔ تم نے مجھے انکار کیا یعنی میرے کام سے انکار کرو گی تم، اوقات ہے تمہاری اتنی”
ماہ نور کچن میں آتی ہوئی آرذو سے بولی ماہ نور کے جلالی اور مرچیں لگنے والے انداز پر آرذو ہلکا سا مسکرائی
“اوقات اور حیثیت کی باتیں آپ کے منہ سے اچھی نہیں لگتی اس گھر میں تمام افراد کی نظروں میں، اور خاص طور پر ہاشم کی نظروں میں مجھے اپنی اوقات اور حیثیت بھی نظر آتی ہے اور آپ کی اوقات اور حیثیت کا بھی اچھی طرح اندازہ ہوگیا ہے”
آرزو نے سوچ لیا تھا کہ وہ آج صحیح معنوں میں اِس سرپھری لڑکی کو اُس کی حیثیت بتائے گی آرزو کے منہ سے ایسی باتیں سن کر ماہ نور کا چہرہ غُصّے سے سرخ ہوگیا ماہ نور کا ہاتھ ہوا میں بلند ہوا مگر اس سے پہلے کہ وہ آرزو کے گال پر پڑتا آرزو نے ماہ نور کا ہاتھ کلائی سے پکڑلیا
“ہاتھ میرے پاس بھی موجود ہے اور اپنے ہاتھ کا ایسا ہی استعمال میں بھی کرسکتی ہوں اِس لیے ذرا سنبھل کے رہیں”
آرذو ماہ نور کا پکڑا ہوا ہاتھ نیچے کر کے اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی
“اب تم الٹی گنتی گننا شروع کردو کیوکہ اپنی اس حرکت کے لیے تم بہت جلد پچھتانے والی ہو”
ماہ نور غصّے میں بولتی ہوئی کچن سے باہر نکل گئی جبکہ آرزو سر جھٹک کر اپنے کام میں مصروف ہوگئی جب ہاشم اُس کے ساتھ تھا تو پھر اسے ماہ نور سے یا کسی دوسرے سے ڈرنے کی کیا ضرورت تھی
***””””***
ہاشم تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے گھر آیا تھا۔ آرذو کو کچن میں مصروف دیکھ کر وہ بیڈروم میں چلا آیا شرٹ کے تمام بٹن کھولتا ہوا وہ ریلیکس موڈ میں آنکھیں بند کیے بیڈ پر نیم دراز تھا تب اسے بیڈروم کا دروازہ کُھلنے کی آواز آئی
“یار میری ٹی شرٹ اور ٹراؤزر وارڈروب سے نکال کر دے دو”
ہاشم یونہی آنکھیں بند کئے بیڈ پر لیٹا ریلیکس موڈ میں اس سے بولا اگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھتا تو اُس کا موڈ خوشگوار نہیں رہتا
دوسری طرف ماہ نور ہاشم کو بیڈ پر لیٹا ہوا دیکھ کر اُس کے قریب آتی ہوئی ہاشم کے اوپر بےتکلفی سے جھکتی ہوئی اپنے ہونٹ اُس کے ہونٹوں پر رکھتی۔۔۔ ماہ نور کی اِس حرکت پر ہاشم نے اپنی آنکھیں کھولیں کیونکہ آرذو سے اُس کو اِس قسم کی بےتکلفی کی توقع بالکل نہیں تھی
“یہ کیا حرکت ہے ماہ نور”
ہاشم ماہ نور کو شانوں سے تھام کر پیچھے ہٹاتا ہوا پوچھنے لگا
“آج اچھی نہیں لگی یہ حرکت پہلے تو تمہیں کبھی برا نہیں لگتا تھا”
ماہ نور ہاشم کے سینے پر ہاتھ رکھ کر مزید کچھ بولتی ہاشم اُس کا ہاتھ اپنے سینے سے ہٹاتا ہوا ساتھ ہی ماہ نور کے وجود کو اپنے اوپر سے ہٹاکر بیڈ پر دھکیلتا ہوا بولا
“شاید تم بھول رہی ہو میرے اور تمہارے ریلیشن میں دوریاں صرف تمہارے فاصلے رکھنے سے آئی ہیں، ان باتوں کا شکوہ تم مجھ سے نہ ہی کرو تو اچھا ہے”
ہاشم ماہ نور سے بولتا ہوا بیڈ سے اٹھنے لگا تبھی ماہ نور نے ہاشم کا ہاتھ پکڑلیا
“آج میں خود اِن دوریوں کو ختم کرنا اور فاصلوں کو سمیٹنا چاہتی ہوں”
ماہ نور بیڈ پر لیٹی ہوئی ہاشم کا ہاتھ پکڑ کر بولی
“فی الحال تم یہاں سے جاؤ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے”
یہ آرزو کا اور اُس کا بیڈ روم تھا یہاں ماہ نور کا ٹھہرنا وہ بھی اِس بےتکلفانہ انداز میں۔۔۔ وہ ماہ نور کو انکار کرتا ہوا بولا
“ہاشم اگر تم نے دوسری شادی کرلی ہے تو یہ مت بھولو میں بھی تمہاری بیوی ہوں، میرا بھی تم پر حق ہے تم میرے حقوق اور فرائض سے منہ نہیں موڑ سکتے اِس بات کی اجازت نہ تو میں تمہیں دوں گی نہ ہی مذہب دیتا ہے مجھے اُن تمام راتوں کا حساب چاہیے جو تم اپنی دوسری بیوی کے ساتھ گزار چکے ہو آج کی رات سے آگلے 15 راتوں تک تم میرے کمرے میں رہوگے میرے ساتھ”
ماہ نور کی بات پر ہاشم استزائیہ انداز میں ہنسا ہوا بولا
“حقوق اور فرائض کی باتیں تمہارے منہ سے سن کر عجیب سی لگتی ہیں ماہ نور”
ہاشم بولتا ہوا ماہ نور کے قریب آیا اور اُس کو دونوں بازؤوں سے پکڑتا ہوا مزید بولا
“کبھی تم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ایک بیوی کے کیا حقوق اور فرائض ہوتے ہیں۔۔۔ چاہے مجھے تمہاری ضرورت ہو یا پھر میری طبعیت خراب ہو تم نے ہمیشہ اپنی انجواۓ مینٹ کو ترجیح دی اپنے آپ میں اپنی ذات میں ہمیشہ مگن رہی کبھی میرے اور اپنے رشتے کے لیے نہیں سوچا”
ہاشم نے بولتے ہوۓ ماہ نور کے بازو چھوڑ کر اسے پیچھے دھکیلا
“مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے، مجھے ایک موقع دے کر دیکھو ہاشم میں اب سب ٹھیک کردو گی”
ماہ نور ایک مرتبہ پھر ہاشم کے قریب آتی ہوئی بولی اِس سے پہلے ہاشم کچھ بولتا ماہ نور نے اپنی انگلی ہاشم کے ہونٹوں پر رکھ دی
“تم شاید بھول گئے ہو مجھ سے پیار کرنا مگر میں کچھ بھی نہیں بھولی مجھے وہ سب یاد ہے، ہم دونوں کے ایک دوسرے کے ساتھ گزرے ہوۓ حسین پل۔۔۔ آج رات میں تمہیں وہ سب یاد دلادوں گی”
ماہ نور نے بولتے ہوۓ ہاشم کی کھلی شرٹ گریبان سے پکڑی، وہ ہاشم کے بےحد نزدیک آنے لگی
“ماہ نور اِس وقت یہاں سے جاؤ میں رات میں تمہارے پاس کمرے میں آتا ہوں کچھ ضروری باتیں ہیں جو تم سے کرنی ہیں”
اب کی بار ہاشم نے نرمی سے ماہ نور کو کہا تو ہاشم کی بات پر ماہ نور ہلکا سا مسکرائی
“آج صرف خالی خولی باتوں سے ہی کام نہیں چلے گا، میں رات میں انتظار کرو گی تمہارا”
ماہ نور نے بولتے ہوۓ جیسے ہی اپنے ہونٹ ہاشم کے گال پر رکھے ویسے ہی کمرے کا دروازہ کھول کر آرذو بیڈروم میں چلی آئی
اپنے بیڈ روم میں آکر آرذو نے جو منظر دیکھا اُس کے قدم وہی رک گئے بلکہ کچھ پل کے لیے وہ ساکت رہ گئی جبکہ دوسری طرف ماہ نور بغیر شرمائے مسکرا کر پیچھے ہوئی ہاشم اپنی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا
“آج رات میں تمہارا ویٹ کرو گی ہاشم، پوری تیاری کے ساتھ آنا”
ماہ نور ہاشم کو یاد دلاتی ہوئی معنی خیزی میں آنکھ دبا کر کمرے سے باہر جانے لگی جانے سے پہلے وہ آرزو کو چہرہ دیکھ کر ہنسی اچھالنا نہیں بھولی
“مجھے کپڑے نکال کر دے دو تاکہ میں ایزی ہوجاؤ”
ہاشم آرذو کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا، جہاں اُس کو صرف اور صرف اداسی محسوس ہوئی آرذو بناء کچھ بولے الماری کی طرف بڑھی اور پٹ کھول کر ہاشم کے لیے کپڑے نکالنے لگے تبھی اُسے اپنے شانوں پر ہاشم کے دونوں ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا
“ہاشم پیچھے ہٹیئے کچن میں جاکر مجھے کھانا بھی بنانا ہے”
اُس سے پہلے ہاشم کچھ بولتا آرزو ہاشم کے ہاتھ اپنے شانوں سے ہٹاتی ہوئی بولی
“بعد میں بنالینا پہلے یہاں آکر بیٹھو بات کرنی ہے مجھے کچھ تم سے”
ہاشم آرزو کے ہاتھ سے اپنے کپڑے لیتا ہوا اُس کا ہاتھ تھام کر آرذو کو صوفے تک لایا خود آرذو کے برابر میں بیٹھتا ہوا وہ آرزو کا دوسرا ہاتھ بھی تھام چکا تھا
“آرذو تمہیں اِس بات کو سمجھنا چاہئے کہ ماہ نور بھی میری بیوی ہے جیسے تم میری بیوی ہو”
ہاشم نے بولنا شروع کیا تب آرذو ہاشم سے اپنے دونوں ہاتھ چھڑا کر صوفے سے اٹھی
“مجھے یہ ساری باتیں مت بتائیے مجھے معلوم ہے کہ ماہ نور آپ کی پہلی بیوی ہے بلکہ پہلی بیوی ہی نہیں وہ آپ کی پہلی محبت بھی ہے، پسند کی شادی کی تھی نہ آپ نے ان سے ویسے بھی پہلی محبت کبھی نہیں مر سکتی آپ بناء ٹینشن کے خوشی اُس کے پاس جائیے میں آپ کو روکنے والی یا کچھ بولنے والی کون ہوتی ہوں”
آرذو ہاشم سے بولتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی ہاشم کپڑے بیڈ پر اچھال کر واش روم چلا گیا
***””””***
آرذو جانتی تھی ہاشم اُس وقت جو کچھ بول رہا تھا صحیح بول رہا تھا ماہ نور بھی اُس کی بیوی اور اُس پر حق رکھتی تھی لیکن پھر بھی ہاشم کا ماہ نور کے بیڈ روم میں جانا آرذو کا دل اداس کر گیا تھا ہاشم تھوڑی دیر پہلے ہی اس کے کمرے سے ماہ نور کے کمرے میں گیا تھا وہ اداس بیڈ سے اٹھتی کمرے کی کھڑکی کھول کر کھڑی ہوگئی
باہر کا پُرسکون منظر پھر بھی اُس کی طبیعت پر اچھا اثر نہ ڈال سکا تھوڑی دیر ہوئی وہ یونہی کھڑی رہی تب اُسے گھر سے باہر کی طرف تبزیر کا چہرہ نظر آیا وہ آرزؤ کے بیڈ روم کی کھڑکی کی طرف کھڑا آرزو کو ہی دیکھ رہا تھا
“محبت کبھی نہیں مرتی”
شام میں اُس نے یہ جملہ ہاشم سے بولا تھا لیکن خود کے لیے وہ اپنے دل میں بسی تبریز کی محبت کو مار چکی تھی۔۔۔ اب اُس کے دل میں تبریز نہیں اُس کا شوہر ہاشم تھا لیکن تب بھی وہ اِس وقت تہی داماں تھی اِس سے پہلے ڈھیر سارے اشک آرزو کی آنکھوں سے رواں ہوتے، آرزو نے اپنے کمرے کی کھڑکی بند کر کے پردے برابر کرتی وہاں سے ہٹ گئی اچانک اُس کے موبائل پر میسج آیا یہ موبائل چند دن پہلے ہاشم نہیں اُس کو لاکر دیا تھا آرذو اجنبی نمبر سے آیا میسج پڑھنے لگی
“تم کمرے کی کھڑکی بند کرکے اپنے آنسو تو مجھ سے چھپاسکتی ہو لیکن تمہارے چہرے پر چھائی اداسی مجھ سے نہیں چھپ سکتی میں ہمیشہ تمہارا منتظر رہوں گا آرزو، تمہارے دل میں میری محبت بےشک مر گئی ہو لیکن میرے دل میں تمہاری محبت تاعمر آباد رہے گی”
تبریز کا میسج پڑھ کر وہ آنکھوں میں آئے آنسو کو روک نہیں پائی تھی، تبریز کا میسج ڈیلیٹ کر کے نمبر بلاک لسٹ میں ڈالتی ہوئی آرذو اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو پڑی تبھی اچانک کمرے کا دروازہ کھلا آرزو اپنے دونوں ہاتھ چہرے سے ہٹاتی ہاشم کو حیرت زدہ سی کمرے میں آتا دیکھنے لگی
“آپ اتنی جلدی واپس۔۔۔ میرا مطلب ہے کوئی کام تھا آپ کو”
اُس کو لگا تھا ہاشم اب صبح ماہ نور کے کمرے سے لوٹے گا۔۔۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوتی ہاشم سے سنجیدہ لہجے میں پوچھنے لگی
“شام میں تم نے بولا تھا کہ محبت کبھی نہیں مر سکتی تو مجھے تمہیں یہ بتانا تھا جہاں احساسات مردہ ہو جائیں اور دل تمام تر جذبات سے خالی ہوجائے تو وہاں محبت بھی زندہ نہیں رہتی ماہ نور اور میرے رشتے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے چاہ کر بھی ہم دونوں ایک دوسرے سے پہلی والی محبت نہیں کرسکتے نہ ہی ہمارا ریلیشن نارمل رہ سکتا ہے”
ہاشم آرزو کے نزدیک کھڑا اُس کے آنسو صاف کرتا ہوا آرذو سے بولا تو آرذو ہاشم کے سینے سے لگ گئی تھوڑی دیر پہلے چھائی اداسی کی کیفیت ختم ہونے لگی ہاشم کے سینے سے لگتے ہی آرزو کو اپنے اندر اطمینان اترتا محسوس ہوا ویسا ہی اطمینان آرزو کو اپنی باہوں میں لےکر ہاشم نے بھی محسوس کیا
“اندر ہی اندر مجھ سے میرا دل بول رہا تھا کہ میری پیاری سی بیوی کا دل میرے بغیر بےحد اداس ہوگا، کیا میرا دل مجھ سے بالکل سچ بول رہا تھا یا پھر اِس کو میں اپنا وہم سمجھو”
ہاشم آرزو کو اپنے حصار میں لیے اُس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا آرزو سے پوچھنے لگا تو آرزو نے ہاشم کے سینے سے سر اٹھا کر اُس کو دیکھا
“میری آنکھوں سے نکلے ہوئے آنسو چند سیکنڈ پہلے آپ کو کیا بتارہے تھے”
آرذو ہاشم کو دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگی
“یہی کہ تمہارا بھی دل میرے دل کی طرح نہ تو ہمارے درمیان دوری برداشت کرسکتا ہے نہ ہی کسی تیسرے کی موجودگی”
ہاشم آرذو کا چہرہ تھام کر اُس سے بولا تو آرزو نے مسکرا کر ایک مرتبہ پھر اپنا سر ہاشم کے سینے پر رکھ دیا
***””””***
سرسری سی نظر آج کیا دکھانے والی تھی اِس بات کا ہیر کو بالکل اندازہ نہ تھا وہ تھوڑی دیر پہلے شاور لےکر نکلی تھی بالوں کو سلجھاتے اُس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر فینسی لائٹ پر پڑی تب ایک دم اُس کو لگا جیسے سرخ شعاع فینسی لائٹ کے نچلے حصّے سے نکلی ہو ہیر غور سے فینسی لائٹ میں لگے اُس چھوٹے سے لینس کو دیکھنے لگی آج سے پہلے اُس کی نظر کبھی اِس لینس پر نہیں پڑی تھی ہاں ایسا ہی لینس اُس نے ہال میں موجود پینٹنگ والی دیوار پر بھی لگا دیکھا تھا مگر اُس وقت ہال میں لگے اُس لینس کے بارے میں اتنی گہرائی میں جاکر مشاہدہ ہرگز نہیں کیا تھا جتنے غور و فکر سے وہ اب اپنے بیڈ روم میں موجود اِس لینس کو دیکھ رہی تھی
یہ لینس لازمی کیمرے کا ہوسکتا تھا یا یہ کوئی کیمرہ ہی تھا جس کو چھپا کر یہاں پر لگایا گیا تھا مگر کیوں؟؟ کیا اُس کے ہر عمل پر، ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جارہی تھی یہ کیمرہ صرف بیڈ روم اور ہال میں لگایا گیا تھا یا پھر ایسے اور بھی کیمرے ہیر پیلس موجود تھے۔۔۔ شیر عباس نے اُن کیمروں کے متعلق کبھی اُس سے ذکر کیوں نہیں کیا تھا؟؟ آخر یہ کیمرہ کب سے اُس کے بیڈ روم میں موجود تھا
اگر ہیر پیلس میں اُس کے آنے سے پہلے یہ کیمرہ اُس کے بیڈ روم میں لگایا گیا تھا تب تو اِس کیمرے میں وہ ویڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہوگی ہیر کو وہی منظر، ہری آنکھیں کالے لباس میں موجود شیر عباس کا عکس لیے ذہن میں ابھرنے لگا جو پہلی رات اس بیڈ روم میں آیا تھا۔۔۔۔ اگر کمرے میں وہ سب ویڈیو ریکارڈنگ موجود تھی تب شیر عباس سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد مسلسل اُس کی بات سے کیوں انکار کرتا رہا، وہ ساری باتوں کو کیو ہیر کا وہم بتاتا رہا۔۔۔ کیا شیر عباس ایسا جان بوجھ کر کرتا تھا اسے ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے کے لئے۔۔۔ یہ بھی تو ہوسکتا تھا وہ کوئی آسیب نہ ہو بلکہ خود شیر عباس ہو جو کالے لباس میں اُس کے پاس آیا تھا
آہستہ آہستہ ہیر کے دماغ میں ایسی سوچے آنے لگیں جس سے اُس کا دل شیر عباس سے بدگمان ہونے لگا فرغب بی ہیر پیلس میں غیر موجودگی آج اُس کے کام آئی تھی۔۔۔۔ ہیر نے ان تمام کمروں کا جائزہ لیا ہر کمرے میں جگہ جگہ چھوٹے کیمرے لگائے گئے تھے یہاں تک کہ ان دو کمرں میں بھی جہاں صدیقی رکا تھا اور اُس سفید گول کمرے میں جہاں ہیر نے خود کو سفید نائٹی میں پایا تھا کاش وہ ویڈیو ریکارڈنگ میں سب کچھ دیکھ کر اپنے ابو کے بارے میں جان سکتی وہ کب کیسے کیوں کس وجہ سے ہیر پیلس سے باہر نکلے تھے یہ ساری باتیں ان کے ساتھ ہی دفن ہوچکی تھیں ہیر کا دھیان اچانک اُس بیسمینٹ کی طرف گیا جہاں شیر عباس نے اُس کو سختی سے نہ جانے کی تاکید کی تھی
کیا اُسے ایک مرتبہ اُس بیسمینٹ میں جاکر دیکھنا چاہیے ہیر نے ذہن میں آئے خیال کو فوراً عملی جامہ پہنایا تھا۔۔۔ اُس کے قدم سنسان راہداری میں موجود کمرے کی طرف اٹھنے لگے تبھی ہال میں موجود لینڈ لائن چیخنے لگا۔ِ۔۔ کچھ سوچ کر ہیر فون کے پاس آئی وہ بری طرح بجے جارہا تھا یہ کال شیر عباس کے موبائل سے آرہی تھی کیا وہ ابھی بھی کیمروں کی مدد سے اُس کو دیکھ رہا تھا جبھی اُس کو کال کررہا تھا کیا شیر عباس اِس وقت اُسے بیسمینٹ میں جانے سے روکنا چاہتا تھا ہیر نے شیر عباس کی کال نہیں سنی بلکہ اُس کال کو نظر انداز کرتی ہوئی وہ دوبارہ اُس کمرے کی طرف بڑھنے لگی
نیچے سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ خراٹوں کی آواز صاف سن سکتی تھی بیڈ پر لیٹی اُس مخلوق کو دیکھ کر دہشت کے مارے ہیر کے منہ سے بھیانک چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی کیوکہ ہیر نے اپنا ہی ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھ لیا تھا انسان نما حیوان یا پھر حیوان نما انسان، زنجیروں میں باندھی بیڈ پر سوتی ہوئی وہ جو بھی کوئی چیز تھی یا تھا، ہیر مزید وہاں ٹھہر کر اُس کو نہیں دیکھ سکتی تھی اس لیے تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی ہوئی واپس آگئی وہ خوف کے مارے تیزی سے راہداری سے نکل کر اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ رکھتی تھی تبھی کسی کے ٹکرانے سے ہیر کے منہ سے خوفناک چیخ برآمد ہوئی
“کیا بدتمیزی ہے تم نے ڈرا دیا مجھے”
سامنے کھڑی فرحانہ کو دیکھ کر ہیر کی ہارٹ بیٹ نارمل ہوئی، ہیر غصّے میں فرحانہ کو دیکھتی ہوئی غصے میں بولی
“بڑے دنوں بعد آج ہی موقع ملا ہے جی آپ کو کچھ دکھانا چاہتی ہوں”
فرحانہ فرغب بی کو موجود نہ پاکر اپنا موبائل ہاتھ میں دبائے گھبرائے لہجے میں ہیر سے بولی
“فرحانہ بعد میں بات کرنا میں ابھی پہلے ہی بہت پریشان ہوں”
ہیر فرحانہ سے بول کر اپنے کمرے میں جانے لگی اسے یہ سب دیکھ کر اب کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
“بعد میں موقع نہیں ملے گا جی آپ کی جان کو خطرہ ہے آپ یہاں سے بھاگ جائیے”
فرحانہ کی بات سن کر ہیر کے اپنے کمرے میں جاتے قدم رکے وہ پلٹ کر فرحانہ کو دیکھنے لگی فرحانہ نے اپنے ہاتھ میں موجود موبائل ہیر کی جانب بڑھایا
***””””***
“میں تم سے ڈائیورس چاہتی ہوں”
ماہ نور کی آواز پر ناشتہ کرتے سب ہی ایک پل کے لیے ساکت ہوگئے تھے
“ایسے ہی اتنی بڑی بات بول دی تم نے، وہ بھی بناء کچھ سوچے سمجھے”
سب سے پہلے گلنار تھی جس نے ماہ نور کو ٹوکا ایوب خان ہاشم اور آرزو ابھی تک خاموش تھے
“یہ میرا اور ہاشم کا معاملہ ہے اور میں ہرگز نہیں چاہو گی اِس معاملے میں کوئی دوسرا مداخلت کرے پلیز آنی آپ بیچ میں کچھ نہ بولیں تو بہتر ہوگا”
ماہ نور گلنار کو ٹوکتی ہوئے بولی تو گلنار خاموش ہوگئی ماہ نور ہاشم کو دیکھنے لگی
“وکیل سے بات کرکے میں پیپرز بنوا لیتا ہوں”
ہاشم کی بات ماہ نور سمیت گلنار ایوب خان بھی ہاشم کو دیکھنے لگے صرف آرزو تھی جو سر جھکاۓ لاتعلق بنی چائے کے چھوٹے چھوٹے سپ لے رہی تھی
“آخر ایسی بات کیا ہوئی ہے ہاشم جو تم دونوں نے یوں اچانک اتنا بڑا فیصلہ لے لیا”
ان دونوں کے الگ ہونے کا فیصلہ گلنار کو ہضم نہیں ہوا تھا تبھی وہ اب کی بار ہاشم سے پوچھنے لگی تو ہاشم کی بجاۓ ماہ نور بولی
“جب ایک انسان کا دل اور دماغ دونوں ہی دوسرے انسان سے نہ ملتے ہو تو پھر وہ دونوں انسان آپس میں مل کر کیسے رہ سکتے ہیں یہ آپ کو چہیتا بیٹا کل رات میرے پاس اگر صاف لفظوں میں مجھے بتا گیا ہے کہ یہ میرا شوہر بن کر میری ساری ذمہ داریاں تو پوری کرسکتا ہے مگر اپنے دل کا تعلق مجھ سے نہیں جوڑ سکتا تو پھر آپ ہی بتائیے میں ایسے انسان کے ساتھ کیسے ساری زندگی گزارو جس کے دل پر میری حکمرانی نہ ہو”
ماہ نور گلنار کو دیکھتی ہوئی لفظوں کو چباکر اُس سے بولی تو ایوب خان بھی بول اٹھے
“ہاشم نے جو بات تم کو کل رات صاف لفظوں میں بتائی ہوگی وہی بات تم اُس کو پچھلے چھ سالوں سے اپنے رویے اور عمل سے بتاتی آرہی ہو تو پھر تعلق ختم کرنے کا الزام صرف ہاشم کو مت دو”
ایوب خان کے بولتے ہی ماہ نور نے صرف ایک نظر اُن پر ڈالی مگر بولی کچھ بھی نہیں۔۔۔ ماہ نور ہاشم سے دوبارہ مخاطب ہوئی
“وکیل سے ڈائیورس کے پیپرز کے ساتھ پراپرٹی کے پیپرز بھی تیار کروا لینا”
ماہ نور ہاشم سے بولتی ہوئی، کرسی سے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی جبکہ ماہ نور کی بات پر ایوب خان اور گلنار دونوں ہی ہاشم کو دیکھنے لگے
“کمپنی میں ٪30 شیئرز اور الہدا پروجیکٹ میں موجود بینگلو میں نے ماہ نور کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ مت سمجھئے گا ایسی ماہ نور کی شرط یا ڈیمانڈ تھی بلکہ یہ میرا خود کا فیصلہ ہے”
اِس سے پہلے ایوب خان یا گلنار اِس بات پر اعتراض کرتے ہاشم اُن دونوں کو دیکھتا ہوا بولا آرذو جو سارے وقت خاموش بیٹھی تھی ابھی بھی خاموشی سے اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی
“آآہ ہ ہ۔۔۔ کیا مسئلہ ہے آپ کو”
کچن کے راستے میں حائل ماہ نور نے جب آرزو کا بازو پکڑا تو آرذو اُس کو دیکھتی ہوئی بولی
“یہ مت سمجھنا کہ میں تم سے ہار کر یا ہاشم کو تمہارے حوالے کرکے یہاں سے جاؤں گی اگر ہاشم میرا بن کر نہیں رہ سکتا تو میں اُس کو تمہارا بھی نہیں رہنے دوں گی”
ماہ نور زہر خواندہ لہجے میں آرذو سے بولی آرزو اس کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی اِس لئے خاموشی سے وہاں سے چلی گئی
***””””***
فرحانہ کے موبائل پر موجود ویڈیو دیکھ کر ہیر کا دل خوف سے کانپ اٹھا اُس کے باپ کا مجرم اُس کا شوہر۔۔۔۔ ابھی ہیر کھل کر صدمے کا اظہار بھی نہیں کر پائی تھی کہ ایبک اور شیر عباس دونوں ہی داخلی راستے سے ہال کے اندر داخل ہوئے اتفاق سے اِس وقت ہیر پیلس میں کوئی دوسرا ملازم موجود نہیں تھا، شاید شیر عباس اِس بات سے واقف تھا یا پھر وہ کیمرے میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا تبھی شیر عباس کے اشارے پر ایبک نے ہال کا بڑا سے دروازہ اندر سے بند کردیا تاکہ فرحانہ یا ہیر ہال سے باہر نہ جاسکے
ہیر صدمے اور غم کی کیفیت میں شیر عباس کو دیکھنے لگی جو چہرے پر غضبناک تاثرات لاۓ قدم بڑھاتا ہوا ہیر کے پاس آرہا تھا مگر اُس کی نگاہیں فرحانہ پر ٹکی ہوئی تھی، کل ہی وہ فرحانہ کے شوہر کو منہ بند رکھنے کی اچھی رقم دے چکا تھا چاہتا تو اُس کے شوہر کو بلیک میلنگ کے الزام میں اندر کروا دیتا۔۔۔ شیر عباس کے تاثرات دیکھ کر فرحانہ نے گھبراہٹ کے مارے ہیر کے ہاتھ سے اپنا موبائل لےلیا
“اِس سے یہ موبائل لےکر اِسے بیسمنٹ میں بند کردو اور بلاؤ اِس کے شوہر کو یہاں”
شیر عباس قہر برساتی نگاہیں فرحانہ پر ڈال کر ایبک سے بولا
“آپ ایسا نہیں کرسکتے فرحانہ کے ساتھ وہاں بیسمینٹ میں وہ درندہ اِس کو نقصان پہنچا سکتا ہے”
اپنے شوہر کے ظلم پر ہیر بولتی ہوئی فرحانہ کی ڈھال بن گئی کیوکہ شیر عباس کا حکم ملتے ہی ایبک تیزی سے خوف سے کانپتی فرحانہ کے پاس آیا تھا
“اِس کی چھوڑو تم اپنی فکر کرو، میرے منع کرنے کے باوجود تم بیسمنٹ میں کیسے گئیں اب دیکھو میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں”
شیر عباس قہر آلود نظروں سے اب کی بار ہیر کو دیکھتا ہوا بولا ساتھ ہی ہیر کو کلائی سے پکڑ کر اُسے وہاں سے دوسرے کمرے میں لے جانے لگا
“بی بی جی مجھے بچالیں ان لوگوں سے یہ لوگ مجھے مار ڈالیں گے خدا کا واسطہ ہے مجھے بچالیں”
ہیر کا شر عباس کے سامنے احتجاج کر کے اپنا آپ چھڑانے کی کوشش، فرحانہ کی چیخوں اور فریاد کے آگے دبنے لگی کیوکہ ایبک فرحانہ سے موبائل چھیننے کے بعد اس کو راہداری کی طرف کھینچتا ہوا لے جارہا تھا
“عباس آپ ظالم انسان ہیں۔۔۔۔ آپ فرحانہ کو بھی مار ڈالیں گے جیسے آپ نے میرے ابُو کو مار ڈالا میرے ابُو کو بھی مار ڈالا آپ نے۔۔۔۔ قاتل ہیں آپ میرے ابُو کے”
شیر عباس ہیر کو ایک چھوٹے سے کمرے میں لاکر فرش پر دھکیل چکا تھا ہیر چیختی چلاتی احتجاج کرتی دوبارہ اٹھ کر شیر عباس کے پاس آئی، غم کی کیفیت میں روتی ہوئی شیر عباس کا گریبان پکڑ کر اُس سے بولنے لگی تبھی شیر عباس نے ہیر کی دونوں کلائیاں اپنی مضبوط گرفت میں لےلی
“میں نے تمہارے باپ کو نہیں مارا ویڈیو میں واضح دکھائی دے رہا ہے درخت کا تنا ٹوٹنے سے وہ کھائی میں گرا اور اُس کی جان گئی”
شیر عباس واضح لفظوں میں ہیر سے بولتا ہوا اُس سے اپنا گریبان چھڑوا چکا تھا
“مگر آپ نے انہیں مرنے دیا، اُن کو بچانے کی بجاۓ آرام سے کھڑے اُن کو گرتا ہوا دیکھتے رہے”
ہیر روتی ہوئی شیر عباس سے بولی تو غُصّے میں شیر عباس نے ہیر کو دونوں بازوؤں سے پکڑا
“ہاں میں تمہارے باپ کو آسانی سے بچا سکتا تھا مگر وہ بچ جائے ایسا میں نہیں چاہتا تھا، سنا تم نے نفرت تھی مجھے تمہارے باپ سے، شدید نفرت قدرت نے تمہارے باپ سے میرا انتقام لیا ہے نہیں تو وہ اگر زندہ ہوتا تو میں خود تمہارے باپ کو مار دیتا سنا تم نے”
شیر عباس شدید نفرت کے عالم میں بولتا ہوا ہیر کے پکڑے ہوئے بازو چھوڑ چکا تھا
“کون سا روپ ہے یہ آپ کا، بتائیے مجھے وہاں بیسمینٹ میں عباس۔۔۔ ہیر پیلس میں جتنے لوگوں کے ساتھ حادثے ہوئے ہیں، وہی حیوان ذمہ دار ہے اُن سب کا جو اِس وقت بیسمینٹ میں موجود ہے وہی وہ آسیب ہے جس سے لوگ خوفزدہ رہتے ہیں مائیکل کی موت اُس حیوان کی وجہ سے ہوئی جسے آپ نے بیسمینٹ میں قید کر رکھا ہے اُس حیوان کے ساتھ آپ بھی تمام معصوم لوگوں کی موت کے قصوروار ہیں”
ہیر کو اب خود بھی اپنے شوہر سے خوف آنے لگا تھا وہ شیر عباس کو اُس کے جرم کے بارے میں بتاتی ہوئی مسلسل روئے جارہی تھی۔۔۔ شیر عباس ہیر کی بات سن کر غُصّے میں دوبارہ بولا
“وہ حیوان نہیں ہے بلکہ تمہارے ہی باپ کے گناہوں کا ثمر ہے سنا تم نے۔۔۔ تمہارا بےغیرت بےضمیر باپ آج اگر زندہ ہوتا تو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے گناہوں کا نتیجہ دیکھ کر ضرور خدا کے سامنے شرمسار ہوتا”
شیر عباس غُصّے میں ہیر سے بولا تو ہیر بھی غصّے میں ایک مرتبہ پھر چلائی اُس نے دوبارہ شیر عباس کا گریبان پکڑا
“خبردار جو آپ نے میرے مرے ہوئے باپ کے بارے میں ایک بھی غلط جملہ مذید اور بولا آپ کو کیا لگتا ہے میں اتنا سب کچھ دیکھ کر خاموش بیٹھو گی میں یہاں سے جاکر پولیس میں آپ کے خلاف کمپلین کرونگی”
ہیر غصے میں شیر عباس سے بولتی ہوئی کمرے سے باہر جانے لگی تبھی شیر عباس نے سختی سے اُس کا بازو پکڑا
“کتنی معصوم ہو تم میری جان، تمہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ سارے راز تم پر عیاں ہونے کے بعد میں تمہیں یہاں سے جانے دوں گا جس دن تم نے ہیر پیلس میں قدم رکھا تھا میں نے تب ہی تہہ کرلیا تھا کہ اب تم یہاں سے کبھی بھی کہیں نہیں جاسکتی اور اب تو تم میرے سارے راز جان چکی ہوں سمجھ لو تمہاری آزادی بالکل ختم اب تم ہمیشہ اِس ہیر پیلس میں رہوگی اِس حیوان کے ساتھ جو تمہارا شوہر ہے”
شیر عباس نے ہیر کو پیچھے فرش پر دھکیلا اور کمرے کا دروازہ باہر سے بند کرکے وہ وہاں سے چلا گیا
“عباس دروازہ کھولیں پلیز دروازہ کھولیں”
ہیر روتی ہوئی دروازہ بجا بجا کر جب تھک گئی تو اُسی کمرے میں بیٹھ گئی
***””””***
“کیا بولا ہے آپ نے میری امی سے”
شاویز جو اسٹیڈی روم میں موجود کسی کتاب کا مطالعہ کررہا تھا امامہ کی آواز پر چونک کر اُسے دیکھنے لگا جو غصّے میں سلائیڈنگ ڈور کے پاس کھڑی اُسی سے مخاطب تھی
“اندر آجائیے امامہ ہم بیٹھ کر آرام سے بات کرلیتے ہیں”
شاویز اپنے گلاسز اتارکر کتاب بند کرتا ہوا دونوں چیزیں ٹیبل پر رکھ کر امامہ سے بولا
“میں یہاں بیٹھ کر بات کرنے نہیں آئی ہوں آپ کو بتانے آئی ہوں کہ میں امی کو لےکر یہاں سے جارہی ہوں، جتنے دن آپ نے مجھ سمیت میری امی کو اپنے گھر میں جگہ دی اُس کے لیے بہت بہت شکریہ”
امامہ شاویز سے بولتی ہوئی وہی سے پلٹ کر جانے لگی
“امامہ اگر آپ کے دل میں میرے لیے ذرا سی بھی رسپیکٹ ہے تو پلیز یہاں آکر بیٹھ جائیے”
شاویز کے جملے پر امامہ کو رکنا پڑا وہ نگاہوں میں خفگی بھر کر اُسے دیکھنے لگی بےشک وہ شاویز کی حرکت پر ناراض سہی مگر اُس کی عزت دل سے کرتی تھی اِس لیے اسٹیڈی روم میں آکر شاویز کے سامنے بیٹھ گئی
“وجہ جان سکتا ہوں آپ کے یہاں سے گھر چھوڑ کر جانے کی”
امامہ کے بیٹھتے ہی شاویز نے اُس سے پوچھا۔۔۔ ایک مرتبہ پھر خفگی بھری نگاہوں سے امامہ نے شاویز کو دیکھا
“آپ کو میرا جواب پہلے سے معلوم ہے لیکن اِس کے باوجود آپ نے امی سے پرپوزل والی بات کی”
آج شام ہی شاویز نے شہناس کے سامنے امامہ کے لیے اپنا پرپوزل رکھا تھا جس پر شہناس نے شاویز کے سامنے فوری ہاں کرنے کی بجاۓ سوچنے کے لیے وقت لیا تھا۔۔۔ مگر وہ امامہ کے لیے دل ہی دل میں خوش اور راضی تھی
“امامہ آپ یہاں میرے گھر پر پچھلے چند دنوں سے رہ رہی ہیں، مجھے بالکل سچ بتائیے گا آپ نے میرے اندر ایسی کون سی بری عادت دیکھی، یا میں نے کوئی غیر اخلاقی حرکت کی یا پھر میں ایجوکیٹڈ نہیں ہوں ایسی کون سی وجہ ہے جو آپ مجھے بار بار ریجیکٹ کردیتی ہیں”
شاویز کے پوچھنے پر امامہ خاموشی سے شاویز کا چہرہ دیکھنے لگی شاویز خود بھی امامہ کو دیکھتا ہوا اُس کے جواب کا انتظار کررہا تھا
“آپ کو مجھ میں ہی ایسی کون سی خوبی نظر آتی ہے جو آپ بار بار پرپوز کرنے کے لیے مجھ کو چنتے ہیں”
امامہ اُس سے وہ سوال پوچھ بیٹھی جس کا جواب جاننے کے لئے تب سے بےقرار تھی جب شاویز نے اُس کو پہلی دفعہ آفس میں پرپوز کیا تھا
“حیرت کی بات ہے آپ کو اپنے اندر موجود خوبیوں کا معلوم نہیں میں تو آپ کو ایک ذہین لڑکی تصور کرتا تھا”
بات کرتے وقت شاویز کے لہجے میں ہلکی شوخی موجود تھی جسے امامہ نظر انداز کرتی اُس سے بولی
“میں اِس وقت مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں”
امامہ کی بات پر شاویز اب سنجیدہ ہوکر اُس کو دوبارہ بولا
“میں بھی آپ کیلئے بالکل سیریس امامہ، آپ اچھی لگتی ہیں مجھے سنجیدہ طبیعت رکھنے والی سوبر لڑکی ایسی لڑکی جو کسی کا احسان لینا پسند نہیں کرتی، اوپر سے مضبوط دکھنے والی جو اندر سے بےحد حساس اور نرم دل کی مالک ہے اپنوں سے محبت کرنے والی وہ لڑکی جس کو اپنی ذات کے علاوہ ہر کسی کی فکر ہے”
شاویز دھیمے لہجے میں بولے جارہا تھا امامہ غور سے شاویز کو دیکھے جارہی تھی یہ ساری خوبیاں تو آج تک اُس کے اندر کسی نے نہیں دیکھی تھی جو سامنے بیٹھا شخص اسے گنوا رہا تھا آج تک جو بھی اُس کا پروپوزل آیا تھا اُس کے پاؤں میں نقص دیکھ کر اور اس کی سانولی رنگت دیکھ کر سب ہی اس کو ریجیکٹ کردیتے تھے
“ایک ساتھ زندگی گزارنے کے لئے صرف باطنی خوبصورتی معنی نہیں رکھتی”
امامہ شاویز کو دیکھ کر بتانے لگی جس پر شاویز گہری سانس لےکر امامہ کو دیکھتا ہوا بولا
“میں 35 سال کا میچور مرد ہو امامہ میرا دل کسی ٹین ایجر لڑکے کے دل کے جیسا نہیں، جسے بےپناہ حسن رکھنے والی لڑکی کی تلاش ہو ہر انسان کی الگ سوچ الگ خیالات الگ نظریات ہوتے ہیں میں اِس طرح کے انسانوں میں سے ہوں جو ظاہری خوبصورتی کی بجائے اندر کی خوبصورتی کو دیکھتے ہیں لیکن آپ اس کا یہ مطلب ہرگز تصور مت کیجئے گا کہ آپ میں ظاہری طور پر کوئی کمی ہے آپ خوش شکل اور اچھی پرسنلٹی رکھنے والی لڑکی ہیں، میں زندگی گزارنے کے لئے جس طرح کے لائف پارٹنر کا تصور کرتا ہوں آپ اس پر پوری اترتی ہیں اگر آپ ان باتوں کو وجہ بنا کر میرے پرپوزل کو ریجکٹ کریں گیں تو مجھے برا لگے گا”
شاویز بولتا ہوا امامہ کو دھیمے لہجے میں سمجھانے لگا
” بابا”
تبھی نیند میں وانیہ اپنے بیڈ روم میں شاویز کو پکارنے لگی۔۔۔ شاویز کے ساتھ امامہ بھی اٹھ کر وانیہ کے بیڈروم میں چلی آئی۔۔۔ وانیہ کبھی نیند سے جاگ جاتی تو خود کو اکیلا پاکر شاویز کو پکارتی
“میری پرنسز جاگ گئی”
شاویز وانیہ کے کمرے میں آکر اس کو گود میں اٹھاتا ہوا بولا
“ماما آنٹی”
امامہ کو رات کے وقت اپنے کمرے میں دیکھ کر وانیہ شاویز کی گود میں ہاتھ پھیلا کر امامہ کے پاس آنے لگی تو امامہ نے وانیہ کو شاویز کی گود سے لےلیا۔۔۔ وانیہ امامہ کے کندھے پر سر رکھ کر پُرسکون نیند سو چکی تھی
“میں اور وانیہ دونوں کبھی نہیں چاہیں گے کہ آپ اِس گھر سے کہیں اور جائے باقی جو بھی آپ کا فیصلہ ہوگا میں دل سے اُس کا احترام کروں گا”
شاویز امامہ سے بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
***””””***
