Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel Readelle 50385 Diyar E Wehsat (Episode 2)
No Download Link
Rate this Novel
Diyar E Wehsat (Episode 2)
Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel
کسی نومولود بچے کی رونے کی آواز ماہ نور کی نیند کو بری طرح خراب کرچکی تھی اس لئے ماہ نور بگڑے ہوۓ موڈ کے ساتھ غصے میں اپنے کمرے سے باہر آئی۔۔۔ کام والی آج پھر اپنے چار ماہ کے بچے کو اپنے ساتھ لے آئی تھی
“اس مصیبت کو آج پھر تم اپنے ساتھ لے آئی ہو، فیڈر منہ میں ڈال کر منہ بند کرو اِس منحوس کا، میری ساری نیند خراب کردی ہے اِس کی ٹو ٹو نے”
ماہ نور شمع (نوکرانی) کے سر پر کھڑی ہوکر غصہ کرتی ہوئی اس سے بولی شمع جلدی سے اپنے چھوٹے بیٹے کو لےکر ہال سے باہر نکل گئی مگر اپنے کمرے سے ہال میں آتی گلنار ماہ نور کا لب و لہجہ اور اُس کی بات سن چکی تھی تبھی ماہ نور کو ٹوکتی ہوئی بولی
“یہ کون سا طریقہ ہے ماہ نور بات کرنے کا۔۔۔ شمع ایک ماں بھی ہے اپنے چھوٹے سے بچے کو کس کے پاس چھوڑ کر آئے کام کرنے آۓ گی۔۔۔۔ کام کرنا محنت کرنا اس کی مجبوری ہے جس سے وہ اپنے بچوں کا اور خود کا پیٹ بھرتی ہے۔۔۔ کسی مجبور اور بےبس انسان کو یوں باتیں سنانا کوئی معقول عمل نہیں ہے”
گلنار اپنی بدمزاج نخریلی سی بھانجی اور بہو کو جتاتی ہوئی بولی
“کام کرنا، محنت کرنا مجبوری ہے یوں ہر سال بچہ پیدا کرنا تو مجبوری نہیں ہے اس کی۔۔۔۔ آنی آپ اس دو ٹکے کی ملازمہ کے لئے مجھے باتیں سن رہی ہیں۔۔۔ یہ گنوار جاھل عورتیں جن کو بچہ پیدا کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا مشغلہ ہی نہیں”
ماہ نور کا گلنار کی باتیں سن کر مزید موڈ خراب ہوا تھا تبھی وہ گلنار سے بولی
“عورت کو بچہ دینا بھی اوپر والے کی دین ہے، اوپر والا بھی اس عورت کے پیروں تلے جنت کا درجہ دیتا ہے جو عورت اپنی اولاد کی قدر کرتی ہو اور اپنی اولاد کے لیے اچھی ماں ثابت ہو”
گلنار ماہ نور کی بدتمیزی اور بد مزاجی سے جواب دینے پر اس کو بولی جبکہ دوسری طرف گلنار کی بات سن کر ماہ نور کے پتنگے لگ گئے
“اوہ ہو تو اب آپ خالہ سے ساس بن کر مجھے یوں بےاولادی کا طعنہ دیں گیں”
ماہ نور جبڑے بھینج کر غصہ کرتی ہوئی بولی آج اس نے سوچ لیا تھا ہاشم کے گھر آنے پر وہ ہاشم کو اُس کی ماں جی اور اُس کے دا جی کے رویے کا ضرور بتائے گی جب سے وہ اسپتال سے گھر آئی تھی ان دونوں کے تیور اور مزاج بالکل ہی بدل چکے تھے
“میں تمہیں بےاولادی کا طعنہ اس صورت نہ دیتی جبکہ تم نے خود ڈاکٹر کو آپریشن کرنے پر مجبور نہ کیا ہوتا تم تو وہ بدنصیب لڑکی ہو جس نے ماں بننے کا موقع خود اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا”
گلنار اب کی بار ماہ نور کے منہ پر ساری حقیقت کھلتی ہوئی بولی کیونکہ آپریشن ہونے کے بعد ساری کہانی کھل چکی تھی
ایوب خان اور گلنار آپریشن ہونے کے بعد جب ہاشم کے خبر دینے پر اسپتال پہنچے تو ایوب خان نے اسپتال میں غصہ کرنا اور جھگڑا کرنا شروع کردیا تبھی بات مزید نہ بگڑے ڈاکٹر فہمیدہ نے پوری حقیقت کھول دی کہ وہ آپریشن اس نے کسی پیچیدگی آنے پر نہیں بلکہ پیشنٹ کی پوری آمادگی اور اسی کے کہنے پر کیا تھا حقیقت جاننے کے بعد ہاشم بھی ماہ نور سے وقتی طور پر ناراض ہوا تھا مگر ماہ نور کو ہاشم کی بھی پرواہ نہ تھی۔۔۔ بہرحال جو بھی ہوا تھا ماہ نور کے اس عمل سے ایوب خان اور گلنار کا کافی زیادہ دل دکھا تھا
“کیا چاہتی ہیں آپ۔۔۔ اس خاندان کو وارث دینے کے لیے بچہ پیدا کرنے والی مشین بن جاؤ میں۔۔۔ اپنی فگر کا ستیاناس تو کرلیا میں نے، کیا اب اپنی جان بھی خطرے میں ڈال لو آپ لوگوں کی خاطر۔۔۔ ارے نہیں ہورہا یہ بچہ وچہ مجھ سے پیدا”
ماہ نور ہال کے بیچ کھڑی تیز آواز میں بولی تبھی ہال میں ایوب خان بھی آگئے
“کیوں اتنی اونچی آواز میں چلا رہی ہو، اپنی آواز نیچی رکھو۔۔۔ گھر کی بہو بیٹیاں یوں گستاخ لہجے میں یوں بڑوں کے سامنے اس طرح بےادبی سے باتیں کرتی ہوئی ہمیں ذرا پسند نہیں ہیں”
ایوب خان ہال میں آکر ماہ نور کو دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں بولے تو آپ کی بار ماہ نور کو اپنی زبان بند کرنا پڑی ویسے ہی ہاشم بھی آفس سے چلا آیا
“کیا ہوا آپ تینوں کو یہاں ایسے کیوں کھڑے ہیں”
ہاشم نے ہال میں قدم رکھا تو وہ ہال میں چھائی سنگینی محسوس کرتا ہوا ان تینوں کو مخاطب کرتا پوچھنے لگا، ماہ نور منہ بناکر بناء کچھ بولے وہاں سے چلی گئی تو ہاشم گلنار کو دیکھتا ہوا بولا
“مجھے کچھ معلوم ہوگا کہ میرے یہاں آنے سے پہلے کیا چل رہا تھا”
ہاشم کے پوچھنے پر گلنار بھی اپنے بیٹے کو شکوہ بھری نظروں سے دیکھتی ہوئی بناء کچھ بولے وہاں سے چلی گئی
“تمہارے لئے یہ جاننا ضروری نہیں ہے کہ یہاں کیا ہوا ہے اپنی بیوی کی بدمزاج طبیعت سے تم خود اچھی طرح اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ یہاں کھڑی تمہاری ماں سے کیا کیا بول کر گئی ہے۔۔۔ ہاشم تم ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہو مگر تمہاری شادی ماہ نور سے کرنے کا فیصلہ۔۔۔
ایوب خان ادھوری بات بول کر خاموش ہوگئے اب ان کو لگ رہا تھا کہ پوتے کی محبت میں آکر انہوں نے اِپنے خاندان کے لیے غلط لڑکی کا انتخاب کیا تھا۔۔۔ ایوب خان کو غصے میں خاموش دیکھ کر ہاشم بولا
“دا جی ماہ نور کی طرف سے میں آپ سے معافی چاہتا ہوں آپ پلیز غصّہ تھوک دیں میں اُس کو سمجھاؤں گا”
ایوب خان کی بات سن کر ہاشم ان کو دیکھتا ہوا بولا چند دنوں سے وہ بھی ماہ نور کا عجیب رویہ محسوس کررہا تھا۔۔۔ ویسے تو شادی کے شروع دن سے ہی گلنار اور ماہ نور میں نہیں بنتی تھی لیکن اب ان دونوں کی بہت زیادہ لڑائیاں ہونے لگیں تھیں اور اس چکر میں وہ پس جاتا ایک طرف ماں تو دوسری طرف بیوی۔۔۔ ماہ نور کی غلطی ہونے کے باوجود وہ اس کو کافی اسپیس دے چکا تھا اور شاید یہی اُس کی غلطی تھی
“تم کب تک اپنی بیوی کی غلطیوں کی اس کے بدلے ہم سے معافی مانگتے پھرو گے ہاشم، اپنی بیوی کو اچھی طرح سمجھاؤ کہ وہ اصول اور قاعدے سے اس گھر میں رہے جو اس نے سب سے بڑی غلطی کی ہے اُس غلطی سے تو وہ اب ویسے بھی ہمارے دل سے اتر چکی ہے یہ نہ ہو کہ کل کو ہم کوئی سخت فیصلہ لینے کے لئے مجبور ہوجائیں”
ایوب خان غصے میں ہاشم سے بولتے ہوۓ وہاں سے چلا گئے جبکہ ہاشم گہرا سانس کھینچ کر اپنے کمرے کی طرف دیکھنے لگا ابھی وہ کمرے میں جاکر ماہ نور کو سمجھاتا بھی تو لازمی ان دونوں کے بیچ لڑائی جھگڑا شروع ہوجاتا
***””””***
“اُف اِس آٹو والے کو بھی ہمیں یہی اتارنا تھا موت پڑ رہی تھی اِس کو شاپنگ پلازہ کے سامنے رکشہ روکتے ہوئے”
ہیر فٹ پاتھ پر امامہ کے ساتھ کھڑی سڑک پر سے گزرتی ہوئی گاڑیوں اور بائیکز کو دیکھ کر بھّناتی ہوئی بولی
“ابھی ٹریفک زیادہ نہیں ہے جلدی سے میرے ساتھ آجاؤ ہیر”
روڈ کراس کرتے ہوئے سامنے شاپنگ پلازہ تھا اور امامہ کی ساری توجہ سڑک پر گزرتی ہوئی گاڑیوں پر تھی، وہ ہیر سے بولتی ہوئی پھرتی سے فٹ پاتھ سے اترکر سڑک کراس کرچکی تھی جبکہ ہیر امامہ کی پھرتی دیکھ کر بیچ روڈ سے ہی واپس پلٹ کر دوبارہ فٹ پاتھ پر آگئی
“اوہو ہیر کیا کررہی ہو جلدی آؤ ناں”
روڈ کراس کرنے کے بعد امامہ ہیر کو دیکھ کر غصّہ کرتی ہوئی تیز آواز میں بولی، ہیر روڈ کراس کرنے کے معاملے میں ایسی ہی ساتھ والے بندے کو تپا دیا کرتی تھی
“اچھا یہاں پر کیوں غصہ کررہی ہیں روکیں میں آرہی ہوں آپ کی طرف”
ہیر امامہ کو غصہ کرتا دیکھ کر بولی اور سڑک پر اسے دوبارہ دو قدم ہی چلی تبھی ایک بائیک تیزی سے زن کرتی گزری
“اوۓ لڑکی مرنا ہے کیا”
بائیک والا غصہ سے ہیر کو بولتا ہوا بائیک تیزی سے لے جاچکا تھا جبکہ ڈر کے مارے ہیر دوبارہ اسی فٹ پاتھ پر آکر کھڑی ہوگئی
“پاؤں میں میرے خرابی ہے اور روڈ تم کراس نہیں کرسکتی۔۔۔۔ ہیر تمہیں گفٹ لینا ہے خوشبو کے لیے یا پھر ہم واپس گھر چلے جائیں”
امامہ ہیر کی حرکت دیکھ کر غُصہ کرتی ہوئی تیز آواز میں اس سے پوچھنے لگی
“جی جی بس آگئی آپ کے پاس دو منٹ صبر تو کریں ناں”
ہیر اپنا دوپٹہ دوبارہ سر پر جماتی ہوئی گھبرا کر امامہ سے بولی اور ساتھ ہی آنکھیں بند کرکے سورتیں پڑھنے لگی
“وہی رکو پہلے اِس گاڑی کو گزرنے دو اُس کے بعد تیزی سے آجاؤ میرے پاس”
امامہ ہیر کا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھ کر اس کو سمجھاتی ہوئی بولی جس پر ہیر ہونق بنی زور زور سے سر ہلانے لگی
“ہیر گاڑی گزر چکی ہے خدارا اب آ بھی جاؤ”
کیوکہ دوسری گاڑی کافی فاصلے پر تھی ہیر آرام سے روڈ کراس کرسکتی تھی، ہیر امامہ کو غُصہ کرتا دیکھ کر ہمت کرتی ہوئی دوبارہ روڈ تک آئی اور وہ جس رفتار میں آئی تھی تیزی سے اپنی طرف آتی ہوئی گاڑی کو دیکھ کر ہیر نے وہی کھڑے رہ کر زور سے چیخ مارتے ہوئے اپنا چہرہ اپنے ہی ہاتھوں میں چھپالیا
“ہیر”
وہی ہیر کی بےوقوفی پر امامہ اس کو پکارتی ہوئی فٹ پاتھ سے اتر کر ہیر کی جانب بڑھنے لگی۔۔۔
وہ تو شکر تھا کار ڈرائیو کرنے والے نے بروقت اپنی گاڑی کو بریک لگادیئے تھے۔۔۔ شیر عباس کو اُس بےوقوف لڑکی پر شدید غصہ آیا تھا جو اِس وقت اس کی گاڑی کے سامنے اپنا چہرہ چھپاۓ کھڑی تھی۔۔۔ شیر عباس گاڑی سے باہر نکل کر اس لڑکی کو اچھی طرح سنانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر جیسے ہی اُس لڑکی نے اپنے چہرے سے دونوں ہاتھ نیچے کیے اُس لڑکی کے چہرے کی معصومیت دیکھ کر شیر عباس کا غصہ جاتا رہا وہ ابھی بھی آنکھیں بند کئے عباس کی گاڑی کے آگے کھڑی تھی اور عباس پیچھے گاڑیوں کے ہارن کی پروا کیے بغیر اُس لڑکی کو دیکھے جارہا تھا، جب اُس لڑکی کے پاس دوسری لڑکی آئی جو اُس کی سہیلی یا پھر بہن تھی وہ کافی غُصّے میں اُس کو ڈانٹتی ہوئی، اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جانے لگی۔۔۔ شیر عباس ابھی بھی بےخود سا اس لڑکی کو شاپنگ پلازہ کے اندر جاتا ہوا دیکھ رہا تھا تب شیر عباس کی گاڑی کا شیشہ بجا
“او بھائی کیا تم بیچ سڑک پر سوگئے ہو راستہ دو دوسری گاڑیوں کو بھی نکلنا ہے”
کوئی لڑکا اس کے پاس آکر غصے میں بول رہا تھا تب شیر عباس نے ہوش میں آتے ہوۓ اپنی گاڑی اسٹارٹ کردی
***”””***
“کیا بات ہے کس بات پر اتنا موڈ آف ہے تمہارا”
کب سے تبریر محسوس کررہا تھا کہ آرزو اس سے موبائل پر ٹھیک طرح سے بات نہیں کررہی تھی بالآخر وہ آرزو سے پوچھ بیٹھا
“امی کی جوتیوں کے ڈر سے میں نے ہیر کو اپنا نیا ڈریس پہننے کو دیا ہے چڑیل کہیں کی، میرے ڈریس میں اتنی پیاری لگ رہی تھی اس کو دیکھ کر دس مرتبہ دل ہی دل میں ماشاللا بھی بولنا پڑا کہیں اس کو کسی کی نظر ہی نہ لگ جائے مگر اب اپنی برتھ ڈے پر میں خود کیا پہنوں گی”
آرزو برا سا منہ بناکر تبریز کو بتانے لگی جس پر تبریز ہنس دیا
“تمہارے محبت کرنے کا بھی انوکھا انداز ہے ایک طرف تو اس کو چڑیل بول رہی ہو دوسری طرف یہ بھی ڈر ہے کہیں اس کو کسی کی نظر نہ لگ جائے۔۔۔ تمہاری بہن چھوٹی بچی نہیں ہے جو دو سے چار گھنٹے میں تمہارا ڈریس خراب کردے گی”
تبریز آرزو کو سمجھانے لگا
“وہ خراب تو نہیں کرے گی میرا ڈریس مگر سچ بتاؤ تو آج ہیر ان کپڑوں میں اتنی پیاری لگ رہی تھی سوچ رہی ہو وہ ڈریس میں اسی کو دے دو”
آرزو بیڈ پر لیٹی ہوئی پرسکون انداز میں موبائل پر بات کررہی تھی کیونکہ آج کمرے میں نہ ہی امامہ موجود تھی نہ ہی ہیر۔۔۔ جو اس کو چوری چھپے اسٹور روم میں، کچن میں یا پھر واش روم میں اپنا موبائل ساتھ لے کر جانا پڑتا
“ٹھیک ہے میری جان پھر تمہیں تمہاری برتھ ڈے سے پہلے ایک نیو ڈریس میں خرید کر دے دیتا ہوں مجھے تو بہت خوشی ہوگی جب تم میرا دیا ہوا ڈریس اپنی برتھ ڈے پر پہنوں گی”
تبریز کے اس طرح جان بولنے پر آرزو بری طرح جھینپتی ہوئی بولی
“کتنی بار بولا ہے تمہیں فضول کے ناموں سے مت پکارا کرو مجھے۔۔۔ اور تم سے ڈریس لےکر مرنا نہیں ہے مجھے اپنے گھر والوں سے”
نیو ڈریس دیکھ کر شہناس سمیت امامہ اور ہیر نے بھی کہی سوالات شروع کردینے تھے یہی وجہ تھی کہ آرزو نے آج تک تبریز کا دیا ہوا کوئی تحفہ بھی قبول نہیں کیا تھا
“پھر وہی ڈرنے کی عادت نہ جانے کب تمہارا یہ ڈر دور ہوگا”
تبریز لمبی سانس کھینچتا ہوا آرزو سے بولا یہ وہ لڑکی تھی جس سے وہ بےمقصد فضول کی باتیں کتنی ہی دیر تک کرلیا کرتا تھا تب بھی اس کا دل نہیں بھرتا تھا
“جب تم میرا رشتہ لے کر میرے گھر پر آؤ گے”
آرزو بےساختہ بولی تبریز بھی فوراً اس کی بات پر بولا
“اور پھر اس کے بعد میں تمہیں سارے فضول کے ناموں سے پکار سکتا ہوں ناں”
تبریز کے یوں ایک دم پوچھنے پر آرزو بلکل خاموش ہوگئی
“اچھا بس اب ٹاپک چینج کرو”
معنی خیز سی خاموشی کو محسوس کر کے آرزو ایک دم تبریز سے بولی
“تمہاری خوشی کے لیے میں ٹاپک چینج کردیتا ہوں مگر اس سے پہلے تمہیں تمہارا پرامس یاد دلادو جو تم نے مجھ سے کیا تھا، یاد ہے ناں اپنے برتھ ڈے پر تم مجھ سے ملنے آؤں گی”
ایک ماہ پہلے جب تبریز نے آرزو سے ملنے کا بولا تھا تب آرزو نے لاکھ ہلے بہانے کرکے اسے ملنے سے انکار کردیا تھا تبریز بھی اس کے انکار پر صرف اس لیے مانا تھا کیونکہ چند دنوں پہلے تبریز کے خفا ہونے پر آرزو نے اس کو منانے کے چکر میں ملنے کی حامی بھرلی تھی مگر اپنی برتھ ڈے والے دن
“ہاں یاد ہے مجھے اچھا تم کال بند کرو ابو کی چائے گا وقت ہوگیا ہے تھوڑی دیر بعد تمہیں کال کرتی ہوں”
آرزو تبریز سے بولتی ہوئی کال رکھ چکی تھی اب وہ پریشان ہوکر سوچنے لگی کہ شہناس کے سامنے کس دوست کے گھر جانے کا بہانہ بناکر تبریز سے ملنے چلی جائے یا پھر تبریز کو ہی ملنے سے منع کردے
***”””***
“اب کوئی گلہ شکوہ نہیں کرنا صرف تمہاری شادی کا ایونٹ اٹینڈ کرنے کے لیے تمہارے بلانے پر یہاں آیا ہوں تمہیں اندازہ ہی نہیں تھا آج کتنا امپورٹنٹ کام تھا جسے چھوڑ کر مجھے یہاں آنا پڑا”
بینکوئیٹ میں چاروں طرف رونق چہل پہل دیکھتا ہوا شیر عباس مظہر کے پاس آکر اسے شادی کی مبارکباد دینے کے بعد اس سے بولا
“اور میں زندگی بھر یاد رکھوں گا کہ تم نے میری شادی میں آکر میری سات نسلوں پر جو احسانِ عظیم کیا ہے”
مظہر شیر عباس کی بات سن کر گہرا طنز کرتا ہوا بولا لیکن مظہر نے محسوس کیا جیسے شیر عباس کی نظریں اور دماغ کسی اور طرف متوجہ تھا وہ شیر عباس کی نظروں کا تعاقب میں بلیک کلر کے ڈریس میں موجود اس خوبصورت سی لڑکی کو دیکھنے لگا جو اپنی تین چار سہیلیوں کے ساتھ کھڑی ان سے باتیں کررہی تھی
“کیسی لگ رہی ہے”
شیر عباس کو پوری طرح گم سم دیکھتا ہوا مظہر شرارت بھرے انداز میں تھوڑا آہستہ سے شیر عباس سے پوچھنے لگا
“غذر کے کسی حسین نظارے کی طرح بےانتہا خوبصورت اور پرکشش جسے دیکھتے ہی پہلی نظر میں عشق ہوجائے”
شیر عباس کھوۓ ہوۓ لہجے میں دور کھڑی ہیر کو دیکھتا ہوا بولا، وہ اس لڑکی کو پہچان گیا تھا یہ وہی لڑکی تھی جو کل اُس کی گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔۔۔ شیر عباس کو اس لڑکی میں کوئی مقناطیسی کشش محسوس ہورہی تھی جس سے شیر عباس کو اپنا آپ اس لڑکی کی طرف کھینچتا محسوس ہورہا تھا
“اُف میرے یار لگتا ہے تم تو گئے کام سے۔۔۔ اب مجھے ہی دوستی کا حق ادا کرنا پڑے گا یہ خوشبو کی فرینڈ لگ رہی ہے پھر میں خوشبو سے اِس لڑکی کا پورا بائیو ڈیٹا لےکر دیتا ہوں تمہیں تاکہ سیٹنگ کرنے میں آسانی ہو”
مظہر کی بات سن کر شیر عباس ایک دم ہوش میں آیا اور گھور کر مظہر کو دیکھتا ہوا بولا
“انسان بنو میں نے ویسے ہی تعریف کی تھی اُس لڑکی کی، سیٹنگ ویٹنگ کے چکروں میں پڑ کر اپنے وائف سے کہیں اپنی سیٹنگ مت کروا لینا بلاوجہ میں میرا بھی امیج خراب ہوگا تم تو جانتے ہو میری نیچر کو، یوں لڑکیوں کے پیچھے خوار ہونے والا انسان نہیں ہوں میں بس وہ اچھی لگ رہی ہیں تو یونہی تعریف کردی”
شیر عباس اپنی بےخودی پر قابو پاکر اپنی نظروں کا زاویہ ہیر کے چہرے سے ہٹاکر مظر کے سامنے لاپرواہ انداز میں بولا
“لو جی زندگی میں شاید پہلی بار عام لڑکوں کی طرح ری ایکٹ کیا تھا تم نے اور میں تمہارے نارمل ہونے پر میں خوش ہوگیا تھا۔۔۔ میرے خیال میں تو تمہیں اب اپنی زندگی میں چینج لانا چاہیے اور بلیک کلر کے ڈریس میں موجود آپشن برا بھی نہیں ہے میں تو بولتا ہوں ڈائریکٹ پرپوز کر ڈالو لڑکوں کو”
مظہر شیر عباس کو اپنی طرف سے دوستانہ مشورہ دیتا ہوا بولا کیوکہ جتنا مظہر اپنے اس دوست کو جانتا تھا اس کے دوست کی زندگی میں کسی لڑکی کا نام تو کیا نشان بھی دور دور تک نہیں تھا
“تمہارا اپنی بارات والے دن کیوں مجھ سے پٹنے کا موڈ ہورہا ہے تمہارا۔۔۔ شاید وہاں فوٹو سیشن کے لئے تمہیں ڈھونڈا جارہا ہے”
شیر عباس کو اپنی بےخودی پر غصہ آنے لگا، غلط انسان کے سامنے اس نے اپنی کیفیت کا اظہار کیا تھا مظہر کی توجہ اس ٹاپک سے ہٹانے کے لیے اس نے مظہر کو دوسری طرف متوجہ کیا جس میں وہ کامیاب بھی رہا
“میں تو خوشی خوشی تیار تھا میرا دوست صبح شام غذر جیسے حسین نظارے کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتا خیر تمہاری مرضی،،، کوئی بھی ٹیبل ڈھونڈ لو تھوڑی دیر بعد چکر لگاتا ہوں دوبارہ تمہارے پاس”
مظہر شیر عباس کو بولتا ہوا وہاں سے اسٹیج کی طرف چلا گیا جبکہ شیر عباس کونے میں آخری رو کی خالی ٹیبل دیکھ کر وہی بیٹھ گیا اس کی نظریں ایک مرتبہ پھر ہیر کو تلاش کرنے لگیں
***”””***
“ہیر وہاں لیفٹ رو کی آخری ٹیبل پر دیکھو، کافی دیر سے وہ بندہ تمہیں دیکھے جارہا ہے”
فبیحہ نے ہیر کی توجہ اُس کی جانب دلائی، ہیر پہلی نظر میں ہی اُس اجنبی کو دیکھ کر پہچان گئی تھی یہ وہی شخص تھا کل جس کی گاڑی سے اُس کی ٹکر ہوتے ہوتے بچی تھی۔۔۔ شیر عباس سے ہیر کی نظر ملی تو ہیر نے فوراً اپنی نظروں کا زاویہ دوسری جانب کرلیا کیونکہ ہیر کے دیکھنے پر بھی شیر عباس اپنی نظروں کا زاویہ ہیر کے چہرے پر ٹکایا ہوا تھا
“اگنور کرو اُسے تم لوگ”
ہیر اُس شخص پر سے اپنی نظریں ہٹانے کے بعد اپنی سہیلیوں سے بولی جو ابھی تک اس اجنبی شخص کو دیکھ رہی تھیں
“ہاۓ اگنور کرنے والی چیز تو نہیں ہے ذرا پرسنیلٹی تو دیکھو بندے کی”
ایک سہیلی نے شیر عباس کو دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا تو ہیر اپنی سہیلی کو گھورنے لگی جبکہ ہیر کے برابر میں بیٹھی ہوئی دوسری سہیلی بھی بولی
“پرسنیلٹی چھوڑو بندے کا کانفیڈنیس چیک کرو ہمارے سب کے اِس طرح دیکھنے کے باوجود وہ ابھی تک کتنے مزے سے ہیر کو ہی دیکھے جارہا ہے”
دوسری سہیلی کے کمنٹ پر ہیر نے دوبارہ ایک نظر شیر عباس پر ڈالی پھر واپس اپنی نظریں ہٹالی کیونکہ شیر عباس اپنی نظریں ہٹانے کے لیے تیار ہی نہیں تھا۔۔۔ اور ہیر نہ جانے کیوں اس شخص کی آنکھوں میں زیادہ دیر تک نہیں دیکھ سکی تھی اُس شخص کی آنکھیں نہ جانے کون سا گہرا راز اپنے اندر چھپاۓ ہوۓ تھیں
“اسے کانفیڈینس نہیں بےغیرتی کہتے ہیں، اور تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کس قدر چھچھوری لگ رہی ہو تم سب کی سب اُس آدمی کو یوں گھورتے ہوۓ”
ہیر ان سب کو شرمندہ کرنے کی غرض سے بولی اور ایک نظر دوبارہ شیر عباس پر ڈال کر وہ سٹپٹاکر اپنی نظریں دوبارہ شیر عباس پر سے ہٹاچکی تھی کیونکہ وہ ابھی بھی اُسی کو دیکھے جارہا تھا
“ہاۓ آدمی کہاں سے آگیا بلاوجہ میں تم نے اُس بیچارے کو آدمی کہہ کر انکل ٹائپ کوئی چیز بنادیا غور سے دیکھو ینگ ہونے کے ساتھ ساتھ کافی ڈیشنگ بھی ہے”
دوبارہ سے شیر عباس پر تبصرہ سن کر ہیر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی شاید اُس کی تمام فرینڈز آنکھ لڑانے میں اس شخص سے آج مقابلے بازی پر اتر آئی تھیں۔۔۔ صرف ایک وہی تھی جو شیر عباس کو اگنور کررہی تھی لیکن وہ شخص ڈھیٹ پن کے تمام تر ریکارڈ توڑے ہیر کو ہی دیکھے جارہا تھا
“یار اس طرح سے دیکھنے میں مزا نہیں آرہا میں تو سیدھا سیدھا اس کے پاس جاکر اس سے پوچھ لیتی ہوں اُس کو پرابلم کیا ہے، جو وہ ہیر کی طرف دیکھے جارہا ہے”
فبیحہ بولتی ہوئی چئیر سے اٹھ گئی
“فبیحہ میری بات سنو، رکو کہاں جارہی ہو”
ہیر اپنی سہیلی کو روکتی ہوئی بولی مگر وہ ہیر کی بات سنی ان سنی کرتی ہوئی شیر عباس کی ٹیبل پر جاپہنچی
“ایکسکیوزمی مسٹر”
فبیحہ کانفیڈینس سے عباس کی ٹیبل پر پہنچ کر اسے مخاطب کرنے کی غرض سے بولی تب شیر عباس نے اپنی نظروں کا زاویہ ہیر کے چہرے سے ہٹایا
“بولو”
اب شیر عباس پوری طرح سے فبیحہ کی طرف متوجہ ہوکر اُس کو دیکھتا ہوا بولا
“کیا میں جان سکتی ہوں آپ کافی دیر سے ہماری ٹیبل پر ہمہیں کیوں دیکھ رہے ہیں”
شیر عباس کو اپنی طرف متوجہ پاکر فبیحہ ایک ادا سے اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ شاید اس طرح ڈائریکٹ پوچھنے سے وہ شخص شرمندہ ہوجاتا
“تم سب کو بیک وقت کوئی بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے کہ میں تم سب کو دیکھ رہا ہوں۔۔۔ میں اُس کو دیکھ رہا ہوں وہ جو بلیک کلر ڈریس میں موجود ہے”
شیر عباس اعتماد سے باقاعدہ ہیر کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتا ہوا فبیحہ کو بتانے لگا اُس کی بات سن کر فبیحہ بری طرح شرمندہ ہوگئی۔۔۔ شیر عباس کا انداز اور لہجہ صاف ظاہر کررہا تھا کہ وہ فبیحہ کو بالکل بھی لفٹ کرانے کا ارادہ نہیں رکھتا
“تو آپ اُس کو بھی کیوں دیکھ رہے ہیں وہ فرینڈ ہے ہماری، کتنی دیر سے آپ اس کو یونہی دیکھے جارہے ہیں وہ ڈسٹرب ہورہی ہے آپ کے اس طرح سے دیکھنے سے آخر پرابلم کیا ہے آپ کے ساتھ”
فبیحہ شیر عباس کی بات کا برا مانتی ہوئی بولی
“میں اپنا پرابلم بھی اُسی کو بتاؤں گا، تم یہاں اپنا ٹائم ویسٹ مت کرو۔۔۔ جاؤ اس سے کہو آکر مجھ سے بات کرے”
شیر عباس سنجیدہ لہجے میں بولتا ہوا فبیحہ پر سے اپنی نظریں ہٹاکر اپنی نظروں کا زاویہ دوبارہ ہیر کی جانب کرچکا تھا جبکہ فبیحہ اپنا سا منہ لےکر وہاں سے واپس اپنی ٹیبل پر چلی گئی
***”””***
آج آفس سے واپس گھر آکر وہ تیار ہوتی ہیر کی خوشی کی خاطر اُس کے ساتھ یہاں اس کی دوست کے بارات کے فنکشن میں آگئی تھی اگر امامہ یہاں آنے کی حامی نہ بھرتی تو ہیر کو اکیلے آنے کی کبھی اجازت بھی نہ ملتی لیکن اب امامہ کو اکیلے بیٹھے بیٹھے کافی بوریت کا احساس ہورہا تھا دوسری لڑکیوں کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر اپنے لئے اس نے ایسا سوچنا ہی چھوڑ دیا تھا کیونکہ جیسے جیسے اس کی عمر گزرتی جارہی تھی وہ حقیقت پسند ہوتی جارہی تھی اور حقیقت بھی یہی تھی کہ آج کل کے لوگ اپنے نمونے جیسے لڑکے کے لئے کوئی حور پری جیسی لڑکی دیکھنا پسند کرتے تھے جبکہ اُس کے پاس عام نقوش، سانولی رنگت کے ساتھ ساتھ پیر میں بھی پیدائشی نقص تھا جو اس کی تمام تر خامیوں پر اور بھی نمایاں دھبہ تھا
“آپی آپ بور تو نہیں ہورہی تھیں”
ہیر اپنی فرینڈز کے پاس سے اٹھ کر امامہ کے پاس چلی آئی تو امامہ اپنے خیالوں سے باہر نکل کر اپنی چھوٹی بہن کو دیکھنے لگی
“کرلیا بھرپور انجوائے اب گھر چلیں”
امامہ ہیر کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی تو ہیر امامہ کے برابر میں کرسی پر بیٹھ گئی
“اپی آپ کو یاد ہے کل میں جس شخص کی گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔۔۔۔
ہیر کو اندازہ تھا امامہ دور بیٹھی نہ صرف اس کو دیکھ رہی تھی بلکہ اس کو دیکھتے دیکھتے وہ دور بیٹھے ہوئے اُس شخص کی حرکت بھی نوٹ کرچکی ہوگی تبھی ہیر خود سے امامہ کو بتانے لگی
“میں دیکھ چکی ہوں ہیر کل تمہارا اس کی گاڑی سے ٹکرانا اور آج بار بار نظروں کے ٹکرانے کے سلسلے کو”
امامہ لاپروہ انداز میں بولی وہ جانتی تھی کہ اس کی چھوٹی بہن کا حسن اس قابل تھا کوئی بھی آسانی سے اُس کی طرف متوجہ ہوجاتا مگر امامہ کی بات سن کر ہیر اُسے افسوس بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی
“میری نظریں کہاں ٹکراتی ہوئی دیکھ لی آپ نے”
وہ تو اُس شخص کے میسج پر جو اس نے فبیحہ کو دیا تھا سن کر گھبراتی ہوئی اٹھ کر یہاں آگئی تھی۔۔۔۔ اور یہاں اس کی بہن اُسی پر شک کررہی تھی
“تمہاری نظریں نہ سہی لیکن تمہاری دوستوں کی نظریں۔۔۔۔ بہت فضول قسم کی دوستی ہیں تمہاری،، خوشبو کی مدد سے مل کر آتی ہوں میرے خیال میں اس کے بعد ہم دونوں کو گھر چلنا چاہیے کال کرکے میں نے ابو یہاں بلوا لیا ہے وہ آتے ہی ہوگے ہم دونوں کو لینے کے لئے تھوڑی دیر میں”
امامہ ہیر سے بولتی ہوئی کرسی سے اٹھ کر خوشبو کی امی کے پاس جانے لگی جبکہ ہیر کو اپنے دوپٹے پر داغ لگا نظر آیا
“اُف یہ کیسے خراب ہوگیا آرزو تو میری جان ہی نکال دے گی”
ہیر بڑبڑاتی ہوئی خود بھی کرسی سے اٹھ کر واش روم جانے لگی شیر عباس ہیر کو واشروم کی طرف جاتا دیکھ کر خود بھی کرسی سے اٹھ گیا
***””””***
اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر ایک پل کے لئے ہیر کی سانسیں اور نظریں دونوں تھم سی گئی تھی کچھ ایسا ہی یہی حال شیر عباس کا بھی ہوا۔۔۔ اتنا مکمل اور بھرپور حسن مزید قریب سے دیکھ کر وہ بھول چکا تھا کہ کس جگہ پر کھڑا ہے یہ پبلک پلیس سے ذرا دور واش روم کا احاطہ تھا جہاں وہ دونوں اِس وقت موجود تھے اتفاق سے اِس وقت یہاں زیادہ چہل پہل نہیں تھی
“مم۔۔۔ مجھے جانا ہے”
اپنے راستے میں لمبے چوڑے انسان کو دیوار کی طرح حاہل دیکھ کر ہیر کنفیوز ہوئی تھی اس نے آج تک کسی غیر مرد سے بات نہیں کی تھی اس لیے بےپناہ گھبراتی ہوئی وہ شیر عباس کو دیکھ کر بولی۔۔۔ یہ گھبراہٹ اس کے چہرے اور لفظوں سے بھی عیاں ہورہی تھی
“کہاں جانا ہے”
شیر عباس قریب سے ہیر کے چہرے کا گہری نگاہوں سے جائزہ لیتا ہوا ہیر سے پوچھنے لگا
“واش روم”
ہیر آہستہ آواز میں بولی۔۔۔ نہ جانے کیوں سامنے کھڑے شخص کی آنکھیں دیکھ کر ہیر کی بولتی بالکل بند ہوچکی تھی، آنکھوں میں بےپناہ سنجیدہ تاثر لیے وہ ہیر کو دیکھنے کے ساتھ نہ جانے کیوں اُس سے بات کررہا تھا ہیر نے شیر عباس کو جواب دینے کے ساتھ ہی سائیڈ سے نکلنا چاہا ویسے ہی شیر عباس دوبارہ راستہ روکتا ہوا اس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔۔ شیر عباس کی اس حرکت پر ہیر مزید گھبرا گئی کیوکہ آج سے پہلے اُس کے ساتھ ایسا کسی نے نہیں کیا تھا
“کیا میں تمہارا نام جان سکتا ہوں”
شیر عباس ہیر کا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھ کر ہیر سے اس کا نام پوچھ بیٹھا۔۔۔ یہ اُس لڑکی میں موجود مقناطیسی کشش تھی جس کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ خود کو روکنے کے باوجود اُس لڑکی کی جانب کھینچا چلا آیا تھا
“نہیں، میں کسی اجنبی کو اپنا نام نہیں بتاتی”
ہیر اب کی بار اس کی بڑھتی ہوئی جرت کو دیکھ کر اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی ہوئی ذرا سا ہمت کرکے بول اٹھی جس پر شیر عباس کے چہرے پر ایک پل کے لیے مسکراہٹ بھرا تاثُر ابھرا مگر دوسرے ہی پل اس نے اپنی مسکراہٹ کو سنجیدگی کے لبادے میں ڈھانپ لیا
“اچھا کرتی ہو”
شیر عباس نے ہیر سے بولتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر ہیر کے کان میں موجود آویزے کو درست کیا جو کبھی بھی گرسکتا تھا جبکہ ہیر پوری آنکھیں کھولے شیر عباس کی جرت پر حیرت زدہ ہوکر عباس کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔ اپنی بہنوں اور سہیلیوں کے سامنے تو اُس کی زبان خوب چلتی تھی مگر اِس وقت سامنے کھڑے اس اجنبی کی حرکت پر وہ گنگ رہ گئی تھی۔۔۔ شاید اس کی باروعب شخصیت کی وجہ سے
“مجھے جانا ہے پلیز راستہ دیجئے”
ہیر اپنی آواز میں موجود گھبراہٹ پر قابو پاتی ذرا سی نظریں اٹھا کر شیر عباس سے بولی کیا معلوم کہ وہ دوبارہ اس کا راستہ روک لیتا
“تم غلط سمت آگئی ہو لیڈیز واش روم یہاں نہیں اُس طرف ہے”
شیر عباس نے ہیر کو راستہ دینے کے ساتھ ہاتھ کے اشارے سے بتایا تو ہیر ہونق بنی شیر عباس کو دیکھے گئی۔۔۔ شیر عباس ہیر کے ہونق چہرے پر نظر ڈالتا وہاں سے چلاگیا یعنی کہ وہ اس کا راستہ تبھی روک رہا تھا کیونکہ وہ جینٹس واش روم کی طرف جارہی تھی اپنی کم عقلی پر افسوس کرتی ہیر آگے بڑھ گئی
***”””***
“بہت افسوس ہورہا ہے مجھے تمہارے آپریشن کا سن کر کیا تم اب کبھی ماں نہیں بن سکتی”
اِس وقت ماہ نور کی فرینڈ آئی ہوئی تھی جو اس کے ساتھ سٹنگ ایریا میں موجود تھی وہ لہجے میں مصنوعی افسردگی لائے ماہ نور کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“اگر زیادہ ہی افسوس ہورہا ہے تو تم بچہ پیدا کرکے مجھے دے دو”
ماہ نور لاپرواہ انداز میں اپنے ناخنوں کے شیپ کو دیکھتی ہوئی اپنی دوست کو مشورہ دینے لگی جس پر خباثت سے لبریز مسکراہٹ اس کی دوست کے چہرے پر ابھری
“اپنے شوہر سے ڈائیورس لیے مجھے دو ماہ ہوچکے ہیں تمہیں بچہ دینے کے لیے مجھے تمہارا شوہر بھی چاہیے ہوگا سوچ لو پھر”
اپنی دوست کا ہاشم کے لیے ایسا تبصرہ سن کر ماہ نور سے برداشت نہیں ہوا اُس نے صوفے سے کُش اٹھاکر کھینچ کر اپنی دوست کو مارا
“اس سے زیادہ گھٹیا بات شاید ہی تم نے اپنی زندگی میں کوئی کی ہوگی ہاشم کو کسی دوسری عورت کے حوالے کرنے سے بہتر ہے کہ میں خود اپنے ہاتھوں سے اُس دوسری عورت کی جان لےلو، اس لیے تم سوچنا بھی مت ایسا”
بےشک اب ماہ نور کے ہاشم سے تعلقات خوشگوار نہ ہو لیکن وہ ہاشم کو کسی دوسری عورت کے ساتھ شئیر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔ کسی دوسری عورت کے ساتھ تو دور کی بات وہ ہاشم کی توجہ گلنار پر بھی دیکھ کر اندر ہی اندر جلتی رہتی
“ڈارلنگ برا مت مانو میری بات کا لیکن اتنا بڑا اسٹیپ اٹھانے سے پہلے تمہیں سوچنا چاہیے تھا اولاد کے بغیر زندگی نہیں گزاری جاسکتی، ابھی تو نہیں لیکن عمر کے کسی حصّے میں تمہارے ہسبنڈ کو اور تمہیں خود بھی اولاد کی کمی محسوس ہونے والی ہے”
اب کی بار ماہ نور کی دوست سیریس ہوکر ماہ نور سے بولی
“میں نے جو اسٹیپ لیا ہے سوچ سمجھ کے لیا ہے مجھے بچے جیسے جھنجھٹ اپنی زندگی میں نہیں چاہیے، نہ ابھی نہ دس سال بعد اور رہی ہاشم کی بات تو اس نے مجھ سے محبت کی شادی کی ہے وہ بچے کے بغیر بھی میرے ساتھ چاہے تو اچھی زندگی گزار سکتا ہے”
ماہ نور اطمینان سے بولی
“اور تمہارے سسرال والے کیا انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا آگے چل کر”
اب کی بار اپنی دوست کے منہ سے اپنے سسرال والوں کا ذکر سن کر ماہ نور ناک منہ چڑھاتی بولی
“کوئی دوسرا اعتراض کرنے والا کون ہوتا ہے یہ میری زندگی ہے اس میں کسی کا عمل دخل مجھے برداشت نہیں۔۔۔ مجھے بچہ نہیں چاہیے تو نہیں، جس کو چاہیے وہ خود پیدا کرلے بات ختم۔۔۔ میں بچے کے لیے ہلکان ہوکر بار بار تکلیف برداشت نہیں کرنے والی”
ماہ نور کندھے اچکا کر بولی ویسے ہی ہاشم ہال میں داخل ہوا ماہ نور کی باتیں نہ صرف وہ سن چکا تھا بلکہ وہی موجود گلنار بھی اپنی بھانجی کے خیالات سے واقف ہوچکی تھی۔۔۔ گلنار ہاشم کو جتاتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی
“ماہ نور فری ہوکر روم میں آؤ”
ہاشم ماہ نور کی دوست کو نظرانداز کرتا ہوا کمرے میں آکر ماہ نور سے بولا اور اپنے بیڈ روم کی طرف چلاگیا
***”””***
“کیوں ڈسکس کررہی تھی تم اپنی فرینڈ سے میرے گھر کے معاملات کو، دیکھو ماہ نود میں اس بات کی تم کو ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ تم ہر ایرے غیرے لوگوں کو یہاں بلاکر ان کے ساتھ اپنے پرسنل معاملات شئیر کرو”
ہاشم ماہ نور کے کمرے میں آنے کے ساتھ ہی اس سے بولا وہ اسی وقت آفس سے گھر لوٹ کر آیا تھا اور اب روز کا یہ معمول بن گیا تھا کہ کسی نہ کسی بات کو لے کر کوئی نہ کوئی ایشو نکل کر سامنے آجاتا
“تم ہوتے کون ہو مجھے اجازت دینے والے تم سے اجازت مانگ کون رہا ہے۔۔۔ میری فرینڈ کوئی ایری غیری نہیں ہے ہاشم، اسے میرا درد تھا میرا احساس تھا تبھی وہ یہاں پر موجود تھی میری دلجوئی کرنے کے لیے کم سے کم وہ تمہارے گھر والوں کی طرح مین نہیں ہے جنھیں بس بچے سے غرض ہے”
ماہ نور کو ہاشم کا رویہ بالکل اچھا نہیں لگا تھا جب سے اس نے ہاشم کی بغیر اجازت کی یہ قدم اٹھایا تھا ماہ نور نے محسوس کیا تھا تب سے ہاشم اس سے اکھڑا اکھڑا رہتا تھا اور اس کی باتوں پر کافی زیادہ اس کو ٹوکنے لگا تھا ورنہ تو پہلے وہ گلنار کو ہی چپ کروا دیا کرتا تھا اور سمجھا دیا کرتا تھا۔۔۔ ماہ نور کی بات سن کر ہاشم ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا ہوا۔۔۔ قدم بڑھا کر ماہ نور کے پاس آکر اس سے بولا
“میرے گھر والے مین نہیں بلکہ مین تم ہو ماہ نور تمہیں صرف اپنی ذات کی پرواہ ہے اور خود سے ہی محبت۔۔۔ تم نے تو اتنا بڑا اسٹیپ لینے سے پہلے مجھ سے اجازت لینا تو دور کی بات مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔۔ ویسے تو تمہاری ساری دوستیں تمہاری طرح بےعقل ہیں لیکن تمہاری اس دوست نے ایک بات بالکل سچ بولی ہے۔۔۔ تمہیں تو سچ میں بچے یا پھر اپنے شوہر کی ذات سے کوئی لگاؤ نہ ہو، مگر میں زیادہ عرصہ ایسے زندگی نہیں گزار سکتا”
ہاشم ماہ نور سے بولتا ہوا اس کو خاموش کروا کر الماری سے اپنے لئے کپڑے نکالنے لگا
***”””***
“آبی وعدہ کرو مجھ سے کہ میرا کہا ضرور پورا کرو گے چاہے میں دنیا میں رہوں یا نہ رہوں بولو آبی جواب دو مانو گے میری بات”
اپنے کانوں میں گونجتی اس کی آواز پر سناٹے اور ویرانی سی شیر عباس کو اپنے اندر اترتی ہوئی محسوس ہونے لگی
اسے محسوس ہورہا تھا جیسے اس وقت وہ نرم بستر کی بجائے کسی قبر میں قید تھا قبر کی چھت بےحد آہستگی سے اسے اپنے اوپر سرکتی ہوئی محسوس ہورہی تھی، جس سے آہستہ آہستہ اس کا سانس لینا دشوار ہونے لگا اس کا دم گھٹ رہا تھا۔۔۔ وہ چیخنا چاہتا تھا مگر اس کی آواز حلق کا ساتھ چھوڑے دے رہی تھی، پسینے سے شرابور ہوتے وجود کے ساتھ اس نے اپنے ہاتھ پاؤں چلانے کی کوشش کی تاکہ اس کو سانس آسکے اسے زندگی کی رمق مل سکے
“ہیر”
شیر عباس کی آنکھیں پوری طرح کھلی تو روشنی پوری شدت سے اُس کے چہرے سے ٹکرائی نیند کا سلسلہ ایک دم ٹوٹ گیا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا
خواب کا اثر زائل ہونے میں چند سیکنڈ لگے تھے اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس آکر وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔۔۔ سنہری چمکتی ہوئی دھوپ صبح ہیر پیلس کے احاطے میں اٹکیلیاں کرتی پھر رہی تھی۔ آسمان روشن اور چمکدار تھا اس نے گہری سانس لے کر قدرت کی ساری تازگی کو اپنے اندر اتار لیا
وہ ٹریک سوٹ پہن کر ہیر پیلس سے باہر نکل گیا، ہیر پیلس کے آگے ڈھلوانی سڑک تھی اور پھر اس کے آگے جنگل۔۔۔ شیر عباس جاگنگ کرتا ہوا جنگل سے گزرتا تھا، لمبے قد آور درخت کہی سالوں سے اس سے آشنا تھے۔۔۔ چند سال پہلے غذر کے اِس جنگل نے اُسے چیخ کر دھاڑیں مار کر روتے دیکھا تھا، ٹریک سوٹ میں وہ جاگنک کرتا پرانی یادوں کو ذہن سے جھٹک کر جنگل کے بیچوں بیچ رک کر گہری سانس لینے لگا
جب وہ واپس جاگنگ کرکے ہیر پیلس لوٹا تو انسپیکٹر شاکر کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے ٹھٹھک گیا مگر وہ صرف ایک لمحہ تھا۔۔۔ اسے یہ فن حاصل تھا اس سے پہلے مقابل اُس کا چہرہ پڑھتا یا غور و فکر کرتا شیر عباس پہلے ہی اپنے تاثرات چھپالیتا
“کہیے انسپیکٹر صاحب کیسے یہاں پر آپ کا دوبارہ آنا ہوا”
شیر عباس سنجیدہ تاثرات لیے انسپکٹر شاکر کے آگے مضافے کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہوا انسپکٹر سے پوچھنے لگا تو انسپیکٹر شاکر شیر عباس سے ہاتھ ملاتا ہوا مخاطب ہوا
“آج صبح جب وادی کے لوگوں کا ہیر پیلس اور جنگل کے درمیانی سڑک سے گزر ہوا تو اس سڑک پر انہیں مائیکل کا کٹا ہوا سر پڑا دکھائی دیا۔۔۔ یہاں کے ستر فیصد مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ مائیکل کا کٹا ہوا سر ہیر پیلس اور جنگلات میں بسے کسی آسیب کا کارنامہ ہے جبکہ 30 فیصد لوگ جن میں عقل و شعور باقی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ مائیکل کا سر کسی تیز دھار والے آلے سے قلم کیا گیا ہے ویسے آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں”
انسپکٹر شاکر اسے مائیکل کی موت کے بارے میں آگاہی دے کر شیر عباس سے اس کی راۓ جاننے لگا
دراصل یہاں کے مقامی لوگوں میں یہ بات مشہور تھی کہ ہیر پیلس میں ایک لڑکی کو اُس کے شوہر نے قتل کر کے ہیر پیلس کے اندر ہی کہیں دفن کردیا تھا کیونکہ اُس لڑکی کے اپنے ملازم سے ناجائز تعلقات کا اُس کے شوہر کو علم ہوچکا تھا جبکہ اپنے ملازم کو بھی اُس آدمی نے جان سے مار کر اس ملازم کی لاش کو غذر کے جنگل میں دفنا دیا تھا۔۔۔ وادی کے لوگوں کا ماننا تھا کے ہیر پیلس کے اندر اور غذر کے جنگل میں اُس مرد اور عورت کی روحیں ابھی بھی بھٹکتی ہیں لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہیں
“سب سے پہلی بات تو یہ کہ ہیر پیلس آسیب زدہ نہیں ہے یہاں کے بسنے والے لوگوں نے ہیر پیلس کے متعلق ایسے ہی بےبنیاد کہانیاں بنالی ہیں کسی بھی غیر معمولی واقعہ کو دیکھ کر یہ لوگ ہیر پیلس سے منسلک کردیتے ہیں، رہی بات مائیکل کی موت کے بارے میں۔۔۔ جو بھی ہوا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے مائیکل کی دردناک موت پر مجھے بےحد افسوس ہے مگر اُس کی موت کا دور دور تک ہیر پیلس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کیونکہ سات بجے کے بعد یہاں پر تمام ملازموں کی ڈیوٹی آرز ختم ہوجاتے ہیں اور دو دن پہلے ہی مائیکل ہفتے بھر کے چھٹی لےکر یہاں سے گیا تھا باقی یہ آپ کی ڈیوٹی ہے کہ آپ مائیکل کی موت کی پوری انویسٹیگیشن کریں اور اس سلسلے میں آپ کو مجھ سے کسی بھی قسم کی مدد درکار ہو تو میں حاضر ہوں”
شیر عباس مکمل اعتماد کے ساتھ انسپکٹر شاکر کو دیکھتا ہوا بولا
***””””***
پورا ہفتہ گزر جانے کے باوجود نہ جانے کیو وہ شخص ہیر کے ذہن سے نہیں نکل پارہا تھا شاید یہ اُس کی زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا جب کسی مرد نے اُس کو یوں بھرپور توجہ دی تھی ورنہ تو اُس کے گھر میں اس قدر سختی برتی جاتی کہ وہ اکیلی باہر نکلنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ وہ جو بھی کوئی تھا اِس میں شک نہیں اچھی پرسنیلٹی رکھنے والا ہینڈسم مرد تھا مگر اِس کے باوجود اس کی شخصیت میں ہیر کو کوئی اسرا چھپا نظر آیا خاص طور پر اُس مرد کی گہری کالی آنکھیں، اور ان آنکھوں کا سنجیدہ تاثر
ہیر بےخیالی میں اس مرد کے بارے میں سوچ رہی تھی تب اُسے غصے میں صدیقی کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔۔۔ ہیر اپنی سوچوں کو تالے لگاتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی
“آخر بات کیا ہوئی ہے، کیوں اِس قدر غصے میں ہیں آپ۔۔۔ کچھ بتائیں تو سہی آخر ہوا کیا ہے”
ہیر نے کمرے سے باہر آکر دیکھا شہناس صدیقی سے پوچھ رہی تھی آرزو پہلے سے ہی وہی پر موجود تھی
“آج کل کی نسل اس قدر بےباک بےہودہ اور بدتمیز قسم کی ہے اپنی عمر سے بڑے بزرگوں کا تو کوئی لحاظ ہی نہیں رہا ہے اِن لڑکوں کی نظر میں۔۔۔۔ ذکر نہیں کیا تھا میں نے تم سے اُس لڑکے کا جو دو گلی چھوڑ کر رہتا ہے اور اکثر ہماری گلی میں پایا جاتا ہے اسی کو اچھی طرح سبق دے کر آرہا ہوں”
صدیقی ابھی بھی غصے میں اور کچھ بول رہا تھا مگر صدیقی کی بات پر آرزو کے کان کھڑے ہوگئے اور اس کی ہارٹ بیٹ تبریز کے ذکر سے تیز ہوگئی۔۔۔ آرزو کو آگے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا وہ بس آج رات تبریز کی کال کا انتظار کرنے لگی
***”””***
“تم نے آج ابو سے بدتمیزی کی تھی”
رات میں جب تبریز کی کال آئی تب آرزو نے پہلا سوال اُس سے یہی پوچھا
“تمہارا باپ۔۔۔۔
تبریز غصے میں کچھ بولتے بولتے رکا
“بلاوجہ میں تمہارے ابو میرے پاس آکر مجھ پر بگڑنے لگے۔۔۔ آداب اور شرافت کا درس دینے لگے”
تبریز اپنا غصہ کنٹرول کرتا ہوا آرزو کو بتانے لگا تبھی آرزو اُس کی بات کاٹتی ہوئی بولی
“وہ اس لیے کیونکہ تم نے ضرورت سے زیادہ ہماری گلی میں بالخصوص ہمارے گھر کے سامنے اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا رہنا شروع کردیا ہے اور اگر ابو نے تم سے کچھ بولا بھی تو اُن کا مقصد تمہیں سمجھانا تھا مگر الٹا تم نے ابو سے بدتمیزی شروع کردی”
آرزو افسوس کرتی تبریز سے بولی ابتداء میں ہی تبریز کا آمپریشن اس کے ماں باپ کے سامنے خراب ہوچکا تھا اور آرزو ایسا ہرگز نہیں چاہتی تھی اس وجہ سے اس کو بےحد افسوس ہورہا تھا
“کوئی بدتمیزی نہیں کی ہے میں نے تمہارے باپ کے سامنے بلکہ انہوں نے میرے دوستوں کے سامنے میری ماں کی تربیت کو گالی دی۔۔۔ نماز کی ٹوپی پہنتے ہیں تمہارے ابو اتنی بڑی داڑھی رکھی ہے اور زبان دیکھو کیسی استعمال کرتا ہیں۔۔ انہوں نے جتنی باتیں بولیں وہ سب میں صرف تمہاری وجہ سے برداشت کرگیا ورنہ جس طرح وہ زبان استعمال کررہے تھے تمہارا خیال نہیں ہوتا تو میں اُن کو اُن کی اوقات اچھی طرح یاد دلا دیتا”
تبریز اب اپنا غصہ کنٹرول کیے بغیر آرزو سے بولا تو آرزو کو بھی تبریز پر غصہ آنے لگا
“تمیز سے بات کرو میرے ابو کے بارے میں بلکہ اب تمہیں تو بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے مجھ سے۔۔۔ آئندہ کال مت کرنا مجھے”
آرزو غصے میں بولتی ہوئی موبائل کی کال ڈسکینیکٹ کرنے لگی
“آرزو میری بات سنو”
تبریز ایک دم اس کی ناراضگی کے خیال سے بولا مگر اس کا بولنا بھی بےسود رہا
“آرزو”
تبریز نے غصے میں اس کو پکارا مگر آرزو کال کاٹ کر موبائل آف کرچکی تھی تبریز کو مذید صدیقی پر غصہ آنے لگا
***”””***
“ایسی کوئی انہونی بات نہیں بول دی ہے ہم نے تم سے، جو تم ہماری طرف یوں پریشان ہوکر دیکھ رہے ہو”
اِس وقت ایوب خان کے کمرے میں ہاشم کے علاوہ گلنار بھی موجود تھی گلنار کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ وہ ایوب خان کی بات سے پوری طرح متفق ہے جبکہ ہاشم ایک پل کے لئے ایوب خان کو دیکھتا رہ گیا اُس سے کچھ بولا ہی نہ گیا
“دا جی کیا اِس مسئلے کا یہی ایک حل ہے مطلب میری دوسری شادی”
اب تک وہ ایوب خان کی بات کو ہضم نہیں کر پایا تھا اِس لیے ایوب خان سے پوچھنے لگا
“تو پھر تم اس مسئلے کا آسان سا کوئی دوسرا حل بتادو”
اب کی بار ایوب خان کی جگہ گلنار ہاشم سے بولی تو ہاشم گلنار کو دیکھ کر ایک دم بول اٹھا
“ماں جی پلیز ماہ نور آپ کی سگی بھانجی ہے آپ اُس کے بارے میں تو سوچیں”
ہاشم گلنار کو بےبسی سے دیکھتا ہوا بولا۔۔ اگر دا جی اِس وقت ایسی بات کررہے تھے تو ہاشم کو لگا کم ازکم اُس کی ماں کو اُس وقت اُس کے حق میں بولنا چاہیے تھا
“تم ماہ نور کے لیے سوچ رہے ہو کیا ماہ نور نے تمہارے بارے میں سوچا۔۔۔ ہمارے اِس خاندان کے بارے میں خیال کیا اُس نے۔۔۔ ہاشم تمہاری بیوی نے صرف اپنے بارے میں سوچا اُس کی خود سری تم دوسرے معاملات میں تو دیکھ ہی چکے ہو وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے لیکن اتنا بڑا قدم اُس نے تمہاری مرضی کے بغیر اٹھالیا۔۔۔ تم شوہر تھے اُس کے اُس نے بیوی ہوکر گوارا نہیں کیا کہ وہ تم کو کچھ بتادیتی بس ڈاکٹر سے کہہ کر اپنی مرضی کر آئی۔۔۔ بس ہم فیصلہ کرچکے ہیں اب تم ہماری پسند کی لڑکی سے دوسری شادی کرو گے ایسی لڑکی جو خاندانی ہوگی کیوکہ ہم اپنے خاندان کے لیے وارث چاہتے ہیں”
ایوب خان جو کب سے بھرے ہوئے بیٹھے تھے اپنا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے بولے تو ہاشم اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا
“دا جی آپ جس کسی لڑکی کو میری بیوی بناکر وارث کے چکر میں اِس گھر میں لائیں گے فرض کریں اگر وہ آپ کو وارث نہیں دے سکی تب کیا کریں گے آپ۔۔۔۔ جواب دیں میری بات کا اگر ماہ نور ٹھیک ہوتی اور آپ کے پوتے میں نقص ہوتا کہ وہ آپ کے خاندان کو وارث نہیں دے سکتا تب کیا کرتے آپ”
ہاشم کا لمبا چوڑا لیکچر ان سے ایک حد تک برداشت ہوا جب حد ختم ہوگئی تب ایوب خان تیز اور سخت لہجے میں بولے
“بس کرو ہاشم یوں مفروضوں کی بنیاد پر باتیں بناکر ہمیں مت بہلاؤں۔۔۔ اپنا اور اپنی بیوی کا ذہن تیار کرلو بہت جلد ہم اس گھر میں تمہاری دوسری بیوی اور اپنی دوسری بہو لےکر آئیں گے”
ایوب خان اپنا حتمی فیصلہ سناکر خود بھی اٹھ کھڑے ہوئے تو ہاشم اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا اِس وقت ماہ نور گھر پر موجود نہیں تھی بلکہ اپنی فرینڈ کے برائیڈل شاور میں گئی تھی یقیناً وہ یہ خبر سنتی تو گھر میں ایک بڑا طوفان آجاتا
***”””***
رات کا پہر تھا دھند نے ہیر پیلس کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔۔۔ اونچے لمبے گھنے درخت اس وقت تن کر کھڑے تھے جیسے وہ گہری نیند میں چلے گئے ہو اچانک کوئی ہوا کا تیز جھونکا آتا اور پہاڑوں کے سینے کو چیرتا ہوا آواز پیدا کرتا ہے یا پھر جنگل سے آتی کسی جنگلی جانور کی آواز ماحول کے سکون میں خلل پیدا کردیتی
آج نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ جب جب سونے کے لئے اپنی آنکھیں بند کررہا تھا تب تب اس کی آنکھوں کے پردوں پر اس حسین مہ جبین کا چہرہ لہرانے لگ جاتا
اتنے دن گزر جانے کے باوجود شیر عباس چاہ کر بھی اس لڑکی کو بھلا نہیں پارہا تھا ایسا نہیں تھا کہ شیر عباس اُس لڑکی کے بارے میں معلومات نہیں نکلوا سکتا تھا اُس لڑکی کے بارے میں تمام معلومات حاصل کرنا اُس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا مگر شیر عباس نے خود سے ایسا نہیں کیا تھا کیونکہ وہ لڑکی اُس کی اولین خواہش تو ہوسکتی تھی مگر منزل نہیں۔۔۔ اُس کا مقصد کچھ اور تھا جو خواہشات کے حصول سے زیادہ ضروری تھا اپنے دل کے تہہ خانوں میں کیا کچھ پائے وہ نہ جانے کتنے سالوں سے جی رہا تھا مگر اب وقت قریب تھا کہ وہ اپنے مقصد کے حصول تک پہنچ سکے
انہی سوچوں کو سوچتے ہوۓ اس کی طبیعت میں بےچینی اور اداسی ایک دم بڑھنے لگی اپنی سرخ گہری راز کا پتہ دیتی آنکھیں کھول کر وہ نرم بستر سے اٹھتا ہوا اسٹینڈ پر کنوس ایڈجسٹ کرکے حسین اور معصوم چہرے کو ذہن کے پردے پر لاتا ہوا سامنے فریم پر اتارنے کے بعد اس میں رنگ بھرتا چلاگیا شاید اِس طرح اُس کے اندر کی ویرانی کم ہوجاتی مگر ایسا کرنے سے اُس کے اندر کی اداسی اور سناٹے مزید بڑھتے چلے گئے اُس کی سرخ آنکھوں سے وحشت ٹپکنے لگی تب شیر عباس برش کو ایک طرف اچھال کر اپنے کمرے سے باہر نکل گیا
اِس وقت حال میں گہرا سکوت چھایا ہوا تھا وہاں موجود چھت پر بڑا سا کرسٹل کا فانوس اپنی عادت کے مطابق ہولے ہولے ہل رہا تھا چاند کی چاندنی چھوٹی کھڑکیوں سے ہال کے اندر آرہی تھی
وہ ہال کو عبور کرتا ہوا ہیر پیلس کے بیک یارڈ پر پہنچا جہاں ایک قبر موجود تھی بناء کتبہ کے۔۔۔ وہ اکثر اوقات یہاں آکر کھڑا ہوجاتا اور اس قبر میں موجود ابدی نیند سوئی ہوئی ہستی سے دل ہی دل میں باتیں کرتا
“کیا ہوا آج پھر نیند نہیں آرہی ہے آپ کو”
اپنی پشت سے آتی آواز پر نہ تو شیر عباس چونکا تھا نہ ہی اس نے پلٹ کر دیکھا تھا بلکہ وہ جانتا تھا اس کی پشت پر کون موجود تھا
“کتنے سال گزر چکے ہیں نیند کو آنکھوں سے روٹھے ہوئے، اب تو سکون کی نیند مجھے تب ہی میئسر ہوگی جب میرا مقصد پورا ہوگا”
شیر عباس بناء مڑے قبر کو دیکھتا ہوا اور فرغب بی سے بولا اِس وقت اس کی آنکھیں کسی بھی احساس سے عاری تھی بالکل بےتاثر جیسے عموما ہوا کرتی تھیں۔۔۔ فرغب بی آئستہ قدم اٹھاکر چلتی ہوئی اُس کے پاس آکر کھڑی ہوگئی
“جب تلاش مکمل ہوچکی ہے تو مقصد بھی پورا ہوجائے گا۔۔۔آپ اس کا ٹھکانہ تلاش کرچکے ہیں تو یوں سمجھ لیں اب آپ کی منزل بہت قریب ہے”
فرغب بی کے بولنے پر شیر عباس نے ان کی طرف دیکھا یعنی فرغب بی اُس کا دیا ہوا کام کرچکی تھیں
“زبیدہ سے میری بات ہوچکی ہے میں نے اُس کو اچھی طرح ساری بات سمجھادی ہے کہ اسے کس گھر میں آپ کا رشتہ لےکر جانا ہے۔۔۔ لڑکے کے بارے میں کیا کچھ بتانا ہے ویسے وہاں تین لڑکیاں موجود ہیں”
فرغب بی نے بولنا چاہتا تبھی شیر عباس ان کی بات کاٹتا ہوا بولا
“ان تین لڑکیوں میں سے کوئی ایک ہیر پیلس آئے گی۔۔۔ ہیر پیلس کی در و دیوار اُس کی آمد کا انتظار کررہی ہیں”
شیر عباس فرغب بی کو دیکھتا ہوا بولا تبھی ہیر پیلس کے اندرونی حصے سے چیخ کی آواز بیدار ہوئی اس اچانک خوفناک چیخ سے درخت پر الٹی لٹکی ہوئی چمکادڑیں اور الو ایک دم اپنے پر کھول کر اڑ گئے
“شاید نیند میں ڈر گیا ہوگا میں دیکھتی ہوں”
فرغب بھی چیخ کی آواز پر شیر عباس بولتی ہوئی ہیر پیلس کے اندر جانے لگی
“نہیں آپ آرام کریں میں دیکھ لیتا ہوں”
شیر عباس فرغب بی سے بولتا ہوا خود وہاں سے چلا گیا
**”””**
