Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Diyar E Wehsat (Episode 15) Last Episode

Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel

ماریہ کو بیسمنٹ میں بند کروانے کے بعد ذرا سی غفلت سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ماریہ باہر نکلنے کے سبب سرنگ کے رستے اُس بیسمینٹ کے دوسرے حصّے میں چلی گئی جہاں ماریہ کی موت اُس کا انتظار کررہی تھی۔۔۔ ماریہ کی چیخ کی آواز اور مدد کی پکار سن کر مائیکل بھی بیسمنٹ میں اُس کے پیچھے جاکر اپنی جان گنوا بیٹھا تھا، جس کی وجہ سے شیر عباس کو افسوس تو ہوا تھا مگر اِس معاملے میں وہ خاموشی اختیار کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں کرسکتا تھا البتہ اُس راہداری کی طرف نوکروں کے جانے پر مزید سخت پابندی لگادی گئی ان دنوں یہ ہوا کہ شیر عباس کو صدیقی کا پتہ چل گیا یعنی جس جگہ پر وہ آج کل مقیم تھا، شیر عباس صدیقی کے گھر جانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر مظہر کی ضد پر شیر عباس کو پہلے کراچی پہنچ کر اُس کی شادی اٹینڈ کرنا تھی مظہر کی بارات سے ایک دن پہلے جب ہیر اچانک اُس کی گاڑی کے سامنے آئی تو شیر عباس کا دل پہلی نظر میں ہی ہیر سے محبت کر بیٹھا، یہ جانے بغیر کے وہ کون تھی آج سے پہلے نہ کبھی شیر عباس نے کسی لڑکی کے بارے میں اِس طرح سوچا نہ کبھی کسی لڑکی کو اِس طرح دیکھا جس طرح وہ ہیر کو مظہر کی برات والے دن دیکھ رہا تھا لیکن یہ لڑکی اُس کی منزل نہیں تھی اُس کا مقصد کچھ اور تھا جس کا سوچتے ہوئے شیر عباس کا دل بےچین ہونے لگا اپنی اجاڑ حالت بہن سے کیا ہوا وعدہ یاد کر کے شیر عباس نے ہیر کی بنائی ہوئی پینٹنگ کو دیکھ کر مضبوطی سے اپنے دل پر پہرے بٹھاتے ہوئے اُس پینٹنگ کو اسٹور روم میں رکھوا دیا اور اپنے دل سے اُس لڑکی کو نکالنے کا فیصلہ کیا جو کہ اُس کے لیے خاص تکلیف دے عمل تھا

صدیقی کے گھر اُس کی بیٹی کا رشتہ بھیجنے سے شیر عباس نے اپنے پلان کا آغاز کیا تھا اسے صدیقی کی بیٹی آرزو کو اپنی بیوی بنانے سے زیادہ دلچسپی صدیقی سے انتقام لینے میں تھی لیکن اپنے مایوں والے دن وہ امامہ کو وہاں دیکھ کر اچھا خاصا کنفیوز ہوگیا اگر یہ لڑکی آرزو کی بہن تھی تو اُس دن مظہر کی برات میں آئی لڑکی کا تعلق بھی تو اُس لڑکی سے نکلتا تھا اِس سے پہلے شیر عباس اپنی الجھن کو دور کرتا ہیر پیلس سے آنے والی فرغب بی کی کال نے شیر عباس کو مزید پریشانی میں مبتلا کردیا جس کی وجہ سے شیر عباس کو اُسی وقت غذر کے لیے روانہ ہونا پڑا

باندھی گئی زنجیروں کو کھلا دیکھ کر وہ بیسمینٹ سے باہر نکل کر ہیر پیلس کے احاطے کو پار کرتا جنگل کا رخ کرچکا تھا شیر عباس کے ہیر پیلس پہنچنے سے پہلے ایبک اسے جنگل سے واپس ہیر پیلس لے تو آیا تھا مگر جنگل میں موجود ایک سے زائد بھیڑیے اس پر حملہ کرکے اسے اچھا خاصہ زخمی کرچکے تھے ایک وجہ یہ بھی تھی اس کی زخمی حالت دیکھ کر شیر عباس دوبارہ کراچی جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا اوپر سے موسم کی صورت حال دیکھ کر شیر عباس کا ارادہ مزید بدل گیا لیکن جب مومنہ سے اس کو یہ خبر سننے کو ملی آرزو کل رات گھر سے بھاگ چکی ہے اور ہیر نامی “وہی” لڑکی آرزو کی بہن اور صدیقی کی سب سے چھوٹی بیٹی ہے تب نہ جانے کیوں اس نے فوراً ہی ہیر سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا اسے نہیں معلوم تھا شادی کے بعد وہ ہیر کے ساتھ اپنا کیسا رویہ رکھتا مگر اپنے کیے گئے اس فیصلے سے اُس کے اندر موجود چند دنوں سے بڑھتی ہوئی بےچینی ختم ہوچکی تھی

ٹیلی فونک نکاح کے فوراً بعد شیر عباس نے اپنے پاس ہیر کو بلا تو لیا تھا مگر اس کے بعد شیر عباس خود کنفیوز تھا کہ ہیر سے پہلی ملاقات اُس کی کیسی ہونی چاہیے اُس رات ہوٹل میں موجود شیر عباس اپنے کمرے میں بیٹھا لیپ ٹاپ کی اسکرین پر غور سے ہیر کو دیکھ رہا تھا جس وقت وہ لان کی سائیڈ پر باہر کھڑی تھی ہیر پیلس کی سیفٹی اور چوروں، ڈاکوؤں اور جنگلی جانوروں سے حفاظت کے لیے بےشمار کیمرے اُس نے کافی پہلے سے ہی ہیر پیلس میں جگہ جگہ پر فٹ کروائے ہوئے تھے برگد کے درخت کے پیچھے ایک موٹے سے بلے سے ہیر کو ڈرتا ہوا دیکھ کر شیر عباس کے دماغ میں ایک گوندا سا لپکا، وہ ہیر کے پاس جانے کے لیے ہیر سے شوہر کے روپ میں پہلی ملاقات کے لیے اپنے دل اور ذہن دونوں کو آمادہ کرنے لگا مگر ہیر سے یہ نزدیکی ملاقات شیر عباس نے شوہر کے روپ میں نہیں کی تھی بلکہ آنکھوں میں لگے لینس، کالے قمیض شلوار میں اپنی باتوں سے شیر عباس نے ہیر پر اپنا تاثر کچھ اور ہی چھوڑا تھا

جس کے نتیجے میں وہ ہیر کو کافی دنوں تک بیمار اور صدمے کے زیر اثر خوفزدہ دیکھ کر شرمندہ بھی ہوا تھا مگر بیسمنٹ میں اُس زخمی وجود اور ہیر پیلس کے پچھلے حصے میں بنی اپنی بہن کی قبر کو دیکھ کر اُس کی شرمندگی ہوا ہو جاتی جس دن ہیر نے بیسمینٹ سے گانے کی آواز سن کر وہاں جانے کی کوشش کی تھی تب شیر عباس پہلی مرتبہ ہیر کو لےکر سچ میں پریشان ہوا اُس کے بعد ہیر دوسرے کمرے میں اپنی پینٹنگ اور وہ قطبہ جو غلط سن پیدائش درج ہونے کی وجہ سے قبر پر نہیں لگایا گیا تھا، ہیر اُن چیزوں کو دیکھ کر کافی زیادہ خوفزدہ ہوچکی تھی وہ واپس کراچی اپنے ماں باپ کے پاس جانا چاہتی تھی جس کے لیے شیر عباس تیار نہیں تھا اِس وجہ سے ہیر اُس سے ناراض ہوچکی تھی

رات کے پہر ہیر سے ناراضگی ختم کرتے باتوں کے دوران شیر عباس نے اس پر اپنی فیلینگز واضح کیں، وہ اپنے اور ہیر کے رشتے میں موجود اجنبیت کی دیوار کو ہٹاکر اس رشتے کو مزید خوبصورت بنانا چاہتا تھا کیونکہ ہیر کے نزدیک تو وہ ہیر کی مرضی کو اہمیت دیتے ہوئے ابھی تک اُس کے قریب نہیں آیا تھا نہ ہی اُس نے اپنا حق طلب کیا تھا اگر اُس رات ایبک شیر عباس کے پاس یہ بری خبر نہ سنانے آتا کہ ہوٹل میں آگ لگ چکی ہے تو شیر عباس مکمل طور پر ہیر کو اس کی نظر میں اپنا چکا ہوتا۔۔۔۔ ہوٹل پہنچتے ہی صورت حال قابو میں آچکی تھی آگ صرف کچن والے پورشن میں لگی تھی جسے بروقت زیادہ نقصان ہونے سے پہلے بجھا دیا گیا تھا۔۔۔ شیر عباس ایبک کو کال کرکے وہاں بلا چکا تھا تاکہ باقی کی صورت حال ایبک سنبھال لے اور وہ خود ہیر پیلس جانے کا ارادہ رکھتا تھا

تب واپسی کے سفر میں اُسے بیچ راستے میں ایک بوڑھا آدمی نہر کے پاس دکھائی دیا جو اپنی جوان بیٹی کی لاش کو پانی سے نکال رہا تھا۔۔۔ شادی کا جھانسا دے کر ایک لڑکا اس بوڑھے آدمی کی بیٹی کی عزت روند کر اُسے موت کے منہ میں دھکیل چکا تھا روتے ہوئے بوڑھے آدمی کی زبانی اِس قصّے کو سن کر شیر عباس پر بےحسی غالب آنے لگی اپنی بہن کی تکلیفیں چیخ و پکار اور اُس کی موت کو یاد کر کے وہ سب کچھ بھول گیا یہ بھی بھول گیا کہ وہ دوبارہ ہیر کو وہی تکلیف دینے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔ ایک مرتبہ پھر ہیر کو اُسی کیفیت میں دیکھ کر شیر عباس کا دل پشیمان ہونے لگا دوبارہ اپنے ساتھ ہوئے اُس واقعے سے ہیر بری طرح خوفزدہ ہوچکی تھی تھوڑا اثر اُس واقعہ سے اُس کی نفسیات پر بھی پڑا وہ ہیر پیلس سے متعلق لوگوں کی کہانیاں سن کر محسوس کرنے لگی کہ اُس کے ساتھ یہ سب کچھ کرنے والا کوئی عام مخلوق نہیں۔۔۔ شیر عباس نے خود تاثر بھی ایسا ہی دیا تھا مگر ہیر کی بگڑتی ہوئی حالت دیکھ کر وہ نادم ہونے لگا اِس لئے ہیر کو سائکیٹرس کے پاس لے گیا

اپنی پشیمانی کا اعتراف جب شیر عباس نے فرغب بی کے سامنے کیا تب فرغب بی نے شیر عباس کو پچھتاوں سے نکال کر اسے احمد عالم اور ہیر عالم کا وعدہ یاد کروایا۔۔۔ ہیر سے محبت کرنے والی بات پر شیر عباس ہمیشہ فرغب بی کے سامنے نفی کرتا آیا تھا اِس کے بعد شیر عباس نے ہیر میں الگ بدلاؤ دیکھا وہ ڈرنے کی بجائے اپنی نارمل حالت میں آکر اُس پراسراریت کی تہہ تک پہنچنا چاہتی تھی جس کے متعلق ہیر نے شیر عباس سے کئی سوالات بھی کیے لیکن شیر عباس ہیر کو فوری طور پر کچھ بتانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اِس لئے ہیر کے سوال کو نظرانداز کرنے لگا مگر جس رات شیر عباس کو محسوس ہوا ہیر اُس کے پیچھے کمرے سے نکل کر بیسمینٹ تک پہنچ چکی ہے تب سزا کے طور پر شیر عباس آسیب کے روپ میں سفید کمرے میں ہیر کے سامنے آیا جس پر شیر عباس کو یہ احساس ہوگیا ہیر اُس سے محبت کی خاطر اپنے شوہر کی جان بچانے کے لیے مجبوری میں اپنا آپ کسی دوسرے کے آگے پیش کرنے کو تیار تھی، ایک ایسی ہستی کے سامنے جس سے وہ بری طرح خوفزدہ تھی تب شیر عباس نے نہ صرف دل سے عہد کیا بلکہ فرغب بی کے آگے اعتراف بھی کیا وہ ہیر سے محبت کرتا ہے، اسے مزید تکلیف میں یا اپنی بہن کی طرح پاگل ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ وہ اپنی بہن کا بدلہ صدیقی کی بیٹی سے لےکر اپنی محبت کو اپنے ہی ہاتھ سے نہیں مار سکتا تھا

صدیقی کی ہیر پیلس میں آمد شیر عباس کو پسند نہیں آئی تھی لیکن ہیر کو خوش دیکھ کر وہ زیادہ کچھ بولا نہیں مگر اُس رات جب شیر عباس ہوٹل سے ہیر پیلس کافی لیٹ پہنچا اور جب اُس نے صدیقی کو ہیر پیلس سے باہر بھاگتا ہوا دیکھا اور اس کی باتوں پر غور کیا تو شیر عباس پورے معاملے کی نوعیت تک پہنچ چکا تھا یقیناً صدیقی بیسمینٹ میں موجود اُس راز کو جان چکا تھا جس سے صدیقی خود منسلک تھا شیر عباس صدیقی کے پیچھے غذر کے جنگل میں نکل گیا۔۔۔ جب صدیقی نے گہری کھائی میں گرنے کے خوف سے شیر عباس کو بچانے کے لئے بولا تو شیر عباس نے صدیقی کو بچانے کی بجائے اس سے اپنا اصل تعارف کروایا تاکہ صدیقی کو موت سے پہلے معلوم ہوجائے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کس شخص سے کروا چکا ہے صدیقی کی موت کا شیر عباس کو کوئی افسوس نہیں ہوا تھا بلکہ اس کی سوچ سے زیادہ آسان موت صدیقی کو نصیب ہوچکی تھی۔۔۔ اس رات وہ کئی سالوں بعد چین کی نیند سویا تھا لیکن آگے کیا مشکلات آنے والی تھی اس بات کا اندازہ شیر عباس کو نہیں ہوا سب سے پہلے تو ہیر کا یوں صدیقی کے اچانک غائب ہوجانے پر پریشان ہوجانا اس کو اچھا خاصا چڑا گیا تھا۔۔۔ لیکن صدیقی کی موت کب تک چھپ سکتی تھی، شیر عباس نے علاقے کے ایس ایچ او سے رابطہ کرکے صدیقی موت کو حادثاتی رنگ دیتے ہوئے ہیر اور اس کے گھر والوں کو سب کچھ بتانے کا فیصلہ کیا۔۔۔ سب کچھ پہلے جیسا آسان ہوجاتا اگر فرحانہ کا شوہر شیر عباس کو وہ ویڈیو نہ بھیجتا شیر عباس چاہتا تو فرحانہ کے شوہر کو ایس ایچ او کے حوالے کردیتا جو اسے ڈرا دھمکا کر اُس کا منہ بھی بند کردیتا مگر اس نے فرحانہ کے شوہر کو اچھی رقم دے کر اُس کا منہ بند رکھنے اور اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کرنے کا حکم دیا، جس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوسکا کیونکہ فرحانہ ہیر کو وہ ویڈیو دکھا چکی تھی جس کی وجہ سے ہیر شیر عباس سے نہ صرف بدگمان ہوئی تھی بلکہ اسی دن ہیر پر یہ انکشاف بھی ہوا تھا کہ پورے ہیر پیلس میں خفیہ کیمرے لگے ہوئے تھے اتفاق سے اُس وقت شیر عباس اپنے ہوٹل کے روم میں بیٹھا ہیر کو کیمرے میں دیکھ کر سمجھ چکا تھا کہ ہیر کا دماغ اُن خفیہ کیمروں سے اُس آسیب کی طرف بھی لازمی جائے گا جو تین مرتبہ اُس کے روپ میں ہیر کے سامنے آچکا ہے جس آسیب کو اُس کا شوہر ہمیشہ جھٹلاتا رہا ہے

مگر جب شیر عباس نے ہیر کو کیمرے میں سے بیسمینٹ میں جاتا دیکھا تب اُس نے ہیر کو روکنے کے غرض سے کال ملائی مگر ہیر نے شیر عباس کی کال دیکھتے ہوئے بھی جان بوجھ کر نظر انداز کی تب شیر عباس کو ہوٹل سے ہیر پیلس آنا پڑا۔۔۔۔ ہیر پیلس آکر ہیر کی آنکھوں میں اپنے لیے بھی یقینی دیکھ کر شیر عباس کو فرحانہ پر شدید غصہ آیا جبھی غصے میں اُس میں ایبک سے فرحانہ کو بیسمینٹ میں (جس میں ماریہ کو قید کر رکھا تھا) بند کرنے کو کہا اور فرحانہ کے شوہر کو وہاں بلوالیا۔۔۔۔ دوسری طرف ہیر شیر عباس سے بری طرح بدگمان ہوچکی تھی وہ نہ صرف شیر عباس کو اپنے باپ کا قاتل سمجھ رہی تھی بلکہ بیسمینٹ میں موجود ذات کی وجہ سے ہونے والے تمام حادثات کا قصور بھی وہ شیر عباس کو ٹہرا رہی تھی، شیر عباس چاہ کر بھی ہیر کو تمام حقیقت سے آگاہ نہیں کرسکا شیر عباس نہیں بتا پایا کہ اس نے ہیر کے ساتھ وہ سب کیوں کیا نہ ہی یہ بتا پایا کہ بیسمینٹ میں موجود ہیر جسے حیوان کہہ رہی ہے وہ حیوان نہیں بلکہ اسی کے باپ کی کرنی کا پھل تھا اس وقت ہیر اپنے آپے میں نہیں تھی اس لیے شیر عباس نے اسے تمام تر حقیقت سے لاعلم رکھا نامعلوم ہیر سب جاننے کے بعد اب اس پر یقین کرتی ہے یا اپنے باپ کو ہی مظلوم ٹھہراتی

کافی دنوں سے پڑنے والے دوروں کی وجہ سے اُس کی حالت کافی خراب تھی اس لیے دوسرے دن شیر عباس اسے بیسمینٹ سے نکال کر ایبک کے ساتھ اسپتال لے گیا تب ہیر پیلس واپسی پر فرغب بی نے شیر عباس کو یہ بری خبر سنائی کہ ہیر ہیر پیلس سے فرار ہوچکی ہے اپنی الجھنوں میں کراچی آنے کے باوجود وہ ہیر کو صحیح طور پر تلاش نہیں کرسکا کیونکہ اُس کی بہن کی نشانی بھی دنیا سے اور اُس سے ہمیشہ کیلئے ناطہ توڑ کر جاچکی تھی جب شیر عباس کو ہیر کا معلوم ہوا تب وہ فرغب بی کے ساتھ ہیر کو شاویز کے گھر لینے گیا شاویز اس کے دوست مظہر کا بڑا بھائی تھا لیکن شیر عباس کو یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ ہیر اس کے ساتھ واپس نہیں جانا چاہتی تھی جبھی وہ غصے میں وہاں سے واپس چلا گیا اب ہیر پیلس آنے کے بعد ہیر کے بناء اُسے کچھ بھی اچھا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔ شیر عباس اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا گہری سوچ میں گم ساری باتیں سوچ رہا تھا تبھی اس کے موبائل پر شاویز کی کال آنے لگی جو شیر عباس نے کافی غصّے میں ریسیو کی تھی

“تو تم میرے منع کرنے کے باوجود ہیر کو کرچی چھوڑ کر واپس چلے گئے”

شیر عباس کے کال اٹھاتے ہی شاویز نے اُس سے شکوہ کیا

“آپ کے مجھے روکنے یا میرے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا وہ میرے ساتھ رہنے کو تیار نہیں ہے اُسے بول دیں میں جلد ہی ڈائیورس پیپر اُس کو بھجوا دوں گا”

شیر عباس غصہ میں بولتا ہوا کال کاٹ چکا تھا

***”””””***

“اتنا بڑا سچ اتنے سالوں تک آپ نے ہم تینوں سے چھپائے رکھا مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ ابو کسی عورت کے ساتھ اتنا بھیانک سلوک کرسکتے ہیں اور سب کچھ جاننے کے بعد بھی آپ نے ابو کا ساتھ نہیں چھوڑا”

اِس وقت کمرے میں سر جھکائے بیٹھی شہناس کے علاوہ ہیر بھی موجود تھی جو بالکل خاموش بیٹھی تھی تب امامہ شہناس سے پوچھنے لگی

“کیسے چھوڑ دیتی تمہارے ابو کا ساتھ جب یہ کڑوی سچائی مکمل طور پر میرے سامنے آئی کہ انہوں نے اُس لڑکی کو بیوی بناکر کر اتنا ظلم کیا ہے تب تم چھ سال کی تھی اور آرزو میری گود میں تھی کس کے در پر لےکر جاتی تم دونوں کو۔۔۔۔ ویسے بھی بعد میں تمہارے ابو کافی نادم رہتے انہوں نے اللہ سے اپنے گناہ کی معافی بھی مانگی”

شہناس امامہ سے بولتی ہوئی خاموش ہوئی تو امامہ افسوس بھری نظر شہناس پر ڈال کر خاموش بیٹھی ہیر کو دیکھنے لگی

“ہیر میرے خیال میں تمہیں عباس بھائی سے بات کرنا چاہیے”

امامہ ایک مرتبہ پھر ہیر سے بولی اب کی بار اس موضوع پر شہناس نے کوئی بات نہیں کی جبکہ ہیر حیرت سے امامہ کو دیکھنے لگی

“بات کرنے لائق میرے پاس کچھ بچا ہی نہیں ہے آپی، وہ خفا ہیں مجھ سے اور بہت غصے میں یہاں سے گئے تھے اصل حقیقت جاننے کے بعد تو میری خود کی ہمت نہیں ہورہی کہ میں اُن کا سامنا بھی کرسکو”

ہیر امامہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔ اصل سچائی سامنے آنے کے بعد وہ دل سے شرمندہ تھی اُسے سچ میں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب وہ شیر عباس کا سامنا بھی کیسے کرے گی

“تمہیں مظبوط ہوکر عباس بھائی کا سامنا کرنا پڑے گا ہیر اپنا گھر بچانے کے لیے، امی سے ہی سبق لے لو اپنا گھر بچانے کے لیے انہوں نے اتنے سال تک کیسے انسان کے ساتھ گزارا کیا”

امامہ تلخ ہوئی تھی شہناس آنکھوں میں آنسو بھر کر جبکہ ہیر بےبسی سے امامہ کو دیکھنے لگی امامہ ایک مرتبہ پھر ہیر سے بولی

“ساری حقیقت ساری سچائی عباس بھائی کے سامنے پہلے سے ہی موجود تھی اس کے باوجود عباس بھائی یہاں آۓ صرف تمہارے لئے تمہیں واپس اپنے ساتھ لے جانے کے لیے لیکن اب تمہیں خود سے ان کے پاس جانا چاہیے ہیر”

امامہ کی بات سن کر ہیر امامہ کو دیکھنے لگی اس کی بہن سچ بول رہی تھی، اسے سچ میں اپنے شوہر کے پاس خود سے جانا چاہیے تھا اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اور ملازمہ امامہ کے پاس آتی اُس کو کچھ بولنے لگی

“ہاشم بھائی کے ساتھ ان کے داجی اور گلنار آنٹی بھی آئی ہیں”

ملازمہ کا بھیجا ہوا پیغام امامہ شہناس کو دینے لگی تو شہناس گلنار کے پاس جانے کے لیے کرسی سے اٹھی

کل جہاں صدیقی کی حقیقت سب کے سامنے آئی تھی اور سب کا دل اِس حقیقت کو جاننے کے بعد خراب ہوا تھا وہی کل آرزو کے اچانک بےہوش ہونے پر یہ خوشی کی خبر بھی معلوم ہوئی تھی کہ وہ ماں بننے کے عمل سے گزر رہی تھی ہاشم کی کل آرذو سے بےحد سرسری ملاقات ہوسکی تھی جس کے بعد وہ اکیلے ہی گھر چلا آیا تھا لیکن جب یہ خوشخبری ایوب خان اور گلنار کو معلوم ہوئی تو وہ دونوں بھی آج ہاشم کے ساتھ آرزو کو لینے کے لئے آچکے تھے

***””””***

آرزو کو بالکل نہیں معلوم تھا اسے کل صدیقی کے بارے میں جاننے کے بعد افسردہ ہونا چاہیے تھا یا پھر یوں اچانک ملنے والی خوشخبری پر خوشی کا اظہار کرنا چاہیے تھا وہ اس ٹائم شام کے وقت بھی بوجھل طبعیت کے ساتھ بیڈ پر آنکھیں بند کرکے لیٹی ہوئی تھی تب اچانک بیڈروم کا دروازہ کھلا

“لائٹ مت کھولنا کمرے میں اندھیرا رہنے دو”

آرزو نے آنکھیں کھولنے کی زحمت نہیں کی تھی وہ آنکھیں بند کیے یونہی بیڈ پر لیٹی ہوئی کمرے میں داخل ہونے والی ہستی سے بولی مگر جیسے ہی آرزو کو محسوس ہوا اس کے منع کرنے کے باوجود کمرے مکمل طور پر روشن کردیا گیا ہے تب وہ چڑتی ہوئی بولی

“بولا بھی تھا کہ کمرے میں اندھیرا۔۔۔۔

باقی کے الفاظ ہاشم کو دیکھ کر آرذو کے منہ میں ہی رہ گئے ہاشم کمرے کا دروازہ بند کر کے چلتا ہوا آرزو کے پاس آیا تو آرزو کو اٹھ کر بیٹھنا پڑا

“یوں اندھیرے میں رہنا کوئی اچھی علامت تو نہیں ہے”

ہاشم آرذو کے قریب بیٹھ کر اس کو دیکھتا ہوا بولا

“اندھیرے میں رہنا الگ بات ہے اندھیرے میں رکھا جانا الگ بات ہے ہم تینوں بہنوں کو اِس کے متعلق پہلے کچھ بھی علم نہیں تھا”

معلوم نہیں ہاشم نے کس سینس میں یہ بات کی تھی یا اس کا کیا مطلب تھا آرزو نہیں جانتی تھی تبھی وہ ہاشم کو جواب دیتی ہوئی بولی

“میری بات کو تم غلط معنوں میں لے رہی ہو آرذو میرا وہ مطلب ہرگز نہیں تھا نہ ہی میں تم سے کل سے ریلیٹڈ کسی ٹاپک پر کوئی بات کرنا چاہتا ہوں”

ہاشم آرزو کو دیکھتا ہوا اُسے بولنے لگا

“آپ آج بات نہیں کرنا چاہتے مگر ایسا تو نہیں ہے کہ کبھی بھی بات نہیں کریں گے ایسی باتوں کو کون بھولتا ہے یا پھر نظر انداز کردیتا ہے”

آرزو بولتی ہوئی تلخ ہونے لگی اس کا شوہر بھی تو ایک مرد ہی تھا کل جو حقیقت اس کے سامنے کھُلی تھی بھلا ایسا کہاں ممکن تھا کہ کل کو وہ اس کے باپ کا طعنہ اُس کو نہیں دیتا۔۔۔ مردوں کے کئی سارے روپ ہوتے ہیں یا آرزو نے کل ہی جانا تھا کل تک وہ صدیقی کی کو کیا سمجھتی رہی تھی آج اپنے باپ کی حقیقت جان کر اُس کے اندر کتنی تلخی بھر آئی تھی

“بہت ہی کوئی گیا گزرا انسان سمجھ لیا تم نے اپنے شوہر کو مرے ہوئے انسان کے متعلق میں کیو کچھ غلط بولوں گا ویسے بھی دنیا میں ہر انسان کا عمل اُس انسان کا اور اُس کے اللہ کا معاملہ ہوتا ہے کوئی دوسرا کچھ بھی بولنے والا کون ہوتا ہے تم بھی اپنے ابو کے لیے اپنے دل میں غلط خیال مت لاؤ”

ہاشم نرمی سے آرزو کو سمجھاتا ہوا بولا تو آرذو اپنے ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا کر رونے لگی ہاشم نے تھوڑی دیر اس کو رونے دیا تاکہ اُس کے دل کا غبار نکل جائے پھر وہ آرزو کے آنسو صاف کرتا ہوا اسے بولا

“دنیا کا کوئی بھی انسان چاہے دنیا کے لئے وہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو مگر اپنی اولاد کے لیے نہ تو برا سوچ سکتا ہے نہ ہی اس کے ساتھ برا کرسکتا ہے جبھی مرنے کے بعد بھی اولاد کو والدین کی بخشش کا ذریعہ بنایا گیا ہے تم اپنے ابو کی بخشش کے لئے دعا کرو اس سے تمہیں بھی سکون ملے گا اور اُن کی روح کو بھی”

ہاشم آرزو کا ہاتھ تھام کر نرم لہجے میں اس سے بولا تو آرزو ہاشم کو دیکھنے لگی

“آپ بہت اچھے انسان ہیں ہاشم”

آرذو ہاشم کو دیکھتی ہوئی ہاشم سے بولی تو ہاشم مسکرا دیا

“میں تو اچھا ہوں لیکن تم مجھ سے زیادہ اچھی ہو کیونکہ تم نے اچھی والی خبر جو سنائی ہے”

ہاشم کے بولنے پر آرزو اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر بلش کرتی سر جھکا گئی تو اُس کے انداز پر ہاشم نے آرزو کو اپنے حصار میں لے لیا

“میں بہت زیادہ خوش ہوں اور اپنی خوشی تمہارے ساتھ سیلیبریٹ کرنا چاہتا ہوں اس لیے تمہیں اپنے ساتھ لے جانے آیا ہوں بلکہ میں ہی نہیں داجی اور ماں جی بھی یہ خوشی کی خبر سن کر تم سے ملنے کے لیے آئے ہیں”

ہاشم آرذو کو بازوؤں میں بھر کر اسے بتانے لگا تو آرزو ہاشم کی بات سن کر ایک دم اس کے بازوؤں سے نکل کر اٹھ کھڑی ہوئی

“داجی اور ماں جی یہاں آئے ہیں میرے لئے اور آپ مجھے اب بتارہے ہیں حد کرتے ہیں آپ بھی ہاشم”

آرزو ہاشم سے بولتی ہوئی ڈوپٹہ درست کرکے دونوں پاؤں سلیپر میں ڈالنے لگی جب ہاشم اسے یہاں چھوڑ کر گیا تھا تب تھوڑا سا کچھاؤ گلنار اور ایوب خان کے رویے میں آرزو محسوس کرچکی تھی مگر آج وہ دونوں ساری باتوں کو نظر انداز کرکے اسے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے آئے تھے آرزو ہاشم سے بولتی ہوئی ان دونوں سے ملنے کے لئے کمرے سے باہر جانے لگی

“حد تو تم کردیتی ہو، میں یہاں تمہارے ساتھ اپنی خوشی سیلیبریٹ۔۔۔۔

ہاشم خود بھی اٹھتا ہوا آرزو سے بولا تو آرزو اس کی بات کاٹتی ہوئی بولی

“ہم دونوں اپنی اس خوشی کو ایک ساتھ مل کر اپنے گھر پر جاکر سیلیبریٹ کریں گے ابھی مجھے دا جی اور ماں جی کے پاس جانے دیں”

آرذو بولتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی ہاشم بھی مسکراتا ہوا اس کے پیچھے کمرے سے باہر نکل گیا

***””””***

سُروں میں چہکار بھرتے پرندے اپنے پروں کو کھولے آسمان پر اونچی اڑان بھرتے نظر آرہے تھے سرسبز و شاداب غذر کا گھنا جنگل بےشک اِس وقت سنسان تھا مگر ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ چمکتی سنہری دھوپ نے ہیر پیلس پر پوری طرح اپنے پر پھلاۓ ہوئے تھے اِس کے باوجود بھی غذر کا خوشگوار موسم اُس کی بوجھل طبیعت پر اچھا اثر ڈالنے میں ناکام رہا تھا، وہ آج بھی ہوٹل جانے کی بجائے اپنے کمرے میں بند تھا جب سے وہ کراچی سے واپس لوٹا تھا اس نے اپنے آپ کو کمرے میں قید کرلیا تھا ہوٹل کے سارے معاملات ایبک جبکہ ہیر پیلس کو فرغب بی سنبھالیں ہوئی تھیں

تنہا تو وہ پہلے بھی اپنی زندگی گزار رہا تھا لیکن اب ہیر کے چلے جانے سے شیر عباس کو لگ رہا تھا کہ یہ تنہائی اُس کو آہستہ آہستہ کسی دیمک کی طرح چاٹ جاۓ گی کمرے سے باہر آتی فرغب بی کی آہستہ آواز پتہ دے رہی تھی کہ وہ ملازموں سے صفائی کروانے میں مگن تھیں مگر اُن کی آواز میں چھلکتی خوشی کے احساس نے شیر عباس کو چوکنے پر مجبور کیا کیونکہ فرغب بی ایک حد تک ملازموں کو خود سے بےتکلف ہونے کی اجازت دیتں تھیں، اتنا خوش ہو کر نہ جانے وہ آج کس سے باتیں کررہی تھیں شیر عباس نے عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اپنا سر جھٹکا اور لیپ ٹاپ آن کرکے بیٹھ گیا

نہ جانے کس سوچ کے تحت اُس نے کیمرے کی مدد سے ہال کا جائزہ لیا تو زور دار جھٹکا کھا کر رہ گیا فرغب بی کسی اور سے نہیں بلکہ ہیر سے باتیں کررہی تھیں۔۔۔ ہیر یہاں موجود تھی، وہ اُس کے پاس آچکی تھی شیر عباس لیپ ٹاپ بند کرکے برق رفتاری سے اپنے کمرے سے باہر نکلا

“لان میں ساری گھاس کس قدر بڑی ہوچکی ہے اگر کاٹنے کو نہ بولا جاۓ تو خود سے دھیان ہی نہیں رکھتے ہو تم لوگ”

شیر عباس راہداری سے نکل کر ہال میں آیا تو اسے فرغب بی کی آواز سنائی دی وہ رشید (مالی) کی خبر لینے میں مصروف تھیں

“ہیر کہاں پر چلی گئی فرغب بی”

شیر عباس ان کے پاس آتا بےقرار لہجے میں پورے ہال کا جائزہ لینے کے ساتھ فرغب بی سے پوچھنے لگا تو فرغب بی حیرت سے شیر عباس کو دیکھنے لگیں

“کیا آپ کو نہیں معلوم وہ تو کراچی میں اپنی امی اور بہنوں کے پاس موجود ہیں”

فرغب بی تعجب کرتی شیر عباس سے بولیں تو شیر عباس حیرت ذدہ سا فرغب بی کو دیکھتا ہوا بولا

“یہ آپ کیسے بول سکتی ہیں میں نے خود اسے ابھی یہاں دیکھا وہ تھوڑی دیر پہلے ہی تو آپ سے باتیں کررہی تھی میرے یہاں آنے سے پہلے”

شیر عباس سنجیدہ لہجے میں فرغب بی سے بولا تو فرغب بی تعجب سے بنا کوئی جواب دیئے شیر عباس کو دیکھنے لگیں جیسے وہ اُس کو اس کے منہ پر جھٹلانا نہیں چاہتی ہو

“ایسے مت دیکھیں مجھے، میں نے کوئی خواب نہیں دیکھا میں جانتا ہوں ہیر واپس آچکی ہے بولیں ناں فرغب بی آپ ہیر سے ہی باتیں کررہی تھی ناں تھوڑی دیر پہلے”

شیر عباس فرغب بی کو خاموش دیکھ کر ایک مرتبہ پھر ان سے بولا مگر اچانک شیر عباس کو محسوس ہوا جیسے اس کے پیچھے سے کوئی راہداری کی طرف مڑا ہو۔۔۔ شیر عباس کے پلٹ کر دیکھنے پر فرغب بی کھانسنے لگیں شیر عباس دوبارہ فرغب بی کی جانب متوجہ ہوا

“وہ واپس ہیر پیلس آنے کے لیے تیار ہی کب تھی آپ کو یاد نہیں انہوں نے واپس ہمارے ساتھ چلنے کے لئے سب کے سامنے انکار کردیا تھا”

فرغب بی نے جیسے شیر عباس کو یاد دلانا چاہا تو شیر عباس کچھ نہیں بولا خاموشی سے واپس اپنے کمرے میں جانے لگا

“ناشتہ بھجوا دو آپ کے لیے”

فرغب بی کی آواز پر شیر عباس نے مڑ کر انہیں دیکھا

“نہیں رہنے دیں ابھی”

وہ فرغب بی سے بولتا ہوا راہداری کی طرف آیا تو سفید آنچل اسے اپنے کمرے کے دروازے کی جانب نظر آیا شیر عباس اپنے کمرے میں چلا آیا

جہاں ہیر پہلے سے اُس کی منتظر تھی وہ شیر عباس کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی شیر عباس ہیر کو دیکھ کر نہ تو چونکا نہ ہی اُس نے حیرت یا خوشی کا اظہار کیا بلکہ وہ اسے مخاطب کیے بغیر خاموشی سے لیپ ٹاپ اٹھا کر صوفے پر بیٹھنے لگا ہیر شیر عباس کے پاس صوفے پر ہی بیٹھ گئی شیر عباس تب بھی اسے نظر انداز کرتا اپنا لیپ ٹاپ کھول چکا تھا

“ناراض ہیں آپ مجھ سے”

ہیر نے شیر عباس کا رویہ محسوس کرکے بات کا آغاز کیا مگر شیر عباس ہیر کو جواب دینے کی بجائے ایسا بنارہا جیسے کمرے میں اِس وقت وہ اکیلا موجود ہو

“میں جانتی ہوں مجھے یہاں سے ایسے نہیں جانا چاہیے تھا”

ہیر اپنی غلطی کو تسلیم کرتی ہوئی ایک مرتبہ پھر بولی ابھی بھی شیر عباس خاموشی سے اس کی جانب دیکھے بغیر اپنے کام میں مصروف رہا

“ایسا نہیں ہے کہ آپ کے وہاں آنے پر میں آپ کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں تھی بس امی کی بات رکھنے کے لیے اُس وقت ایسے ہی بول دیا مگر بعد میں کس قدر پچھتائی یہ میرا دل ہی جانتا ہے”

شیر عباس کے لاتعلق بنے رہنے پر ہیر خود کی صفائی میں دوبارہ بولی تب بھی شیر عباس نے اس کی بات کا کوئی اثر نہیں لیا تو ہیر نے ایک دم شیر عباس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس کے بعد شیر عباس کے ہاتھ کی حرکتوں وہی تھم گئی وہ ہیر کو حیرت سے دیکھنے لگا

“تم سچ میں میرے پاس پاس واپس آچکی ہوں”

اپنے ہاتھ کے اوپر رکھا ہیر کا ہاتھ دیکھ کر شیر عباس بےیقین سا اسے پوچھنے لگا جیسے اس کے پاس بیٹھی ہیر اس کا وہم ہو

“تو اتنی دیر سے آپ کو کیا لگ رہا تھا میرا بھوت آپ سے باتیں کررہا ہے”

ہیر شیر عباس کی حیرت پر حیرت کرتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی تو شیر عباس نے اپنے ہاتھ میں ہیر کا ہاتھ تھام لیا جیسے وہ اسے چھو کر اس بات کا یقین کر رہا ہو کہ یہ کوئی وہم نہیں بلکہ سچ میں ہیر اس کے پاس موجود تھی

“ہاں تم سچ میں میرے پاس ہی موجود ہو”

شیر عباس نے بولتے ہوئے جیسے خود کو ایک مرتبہ پھر یقین دلایا

“عباس کیا ہوگیا ہے آپ کو”

ہیر حیرت سے شیر عباس سے بولتی ہوئی پوچھنے لگی

“نہیں تم کل رات بھی تو میرے پاس میرے کمرے میں آکر مجھ سے یونہی باتیں کررہی تھی اور پرسوں تم پرپل کلر کے کپڑوں میں موجود میرے قریب ہی بیٹھی ہوئی تھی”

شیر عباس ہیر کو دیکھتا ہوا اسے بتانے لگا تو ہیر کو حیرت ہوئی کیونکہ پرپل کلر کا ڈریس سچ میں اس نے پرسوں پہنا ہوا تھا ہیر نے آگے بڑھ کر شیر عباس کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا

“وہ سب آپ کا وہم تھا لیکن اس وقت میں آپ کے پاس حقیقت میں موجود ہوں”

شیر عباس اُس کی کمی کس قدر محسوس کررہا تھا ہیر کو افسوس ہونے لگا کہ وہ اس کے ساتھ ہی واپس ہیر پیلس کیوں نہیں آگئی تھی

“دوبارہ کبھی مجھے اکیلے اس طرح چھوڑ کر مت جانا ہیر”

شیر عباس کے دھیمے لہجے میں بولنے پر ہیر کو اپنی خوش بختی پر ناز ہونے لگا

“پرامس کرتی ہوں اب کبھی بھی آپ سے دور نہیں جاؤ گی”

شیر عباس کی شرٹ سے اٹھتی پرفیوم کی مہک محسوس کرکے ہیر اپنی آنکھیں بند کرتی شیر عباس سے بولی

“عباس میں سخت نادم ہوں ابو کی وجہ سے۔۔۔ انہوں نے جو کچھ بھی آپ کی بہن۔۔۔۔

ہیر شیر عباس کے حصار میں موجود پشیمان لہجے میں صدیقی کی طرف سے معافی مانگتی ہوئی بول رہی تھی تب کچھ یاد آنے پر اچانک شیر عباس اس کی بات کاٹتا ہوا بولا

“ابھی تھوڑی دیر پہلے فرغب بی نے تمہاری یہاں موجودگی سے انکار کیا تھا مطلب تم دونوں مل کر مجھے بنارہی تھی”

ہیر شیر عباس کے حصار سے نکلتی ہوئی شیر عباس کا چہرہ دیکھنے لگی وہ ہیر سے شکوہ کرتا مصنوعی انداز میں اُس کو آنکھیں دکھا رہا تھا جس پر ہیر مسکرا دی

“جتنا آپ نے مجھے بنایا اس کے مقابلے میں یہ ایک چھوٹا سا بدلا تھا”

ہیر کے بولنے پر شیر عباس خاموشی سے ہیر کو دیکھنے لگا ہیر کے اسمائل دینے پر وہ بھی مسکرا دیا اور ہیر کو دوبارہ اپنی پناہوں میں محفوظ کرلیا

“کیا آپ اپنی ساری زندگی اُس لڑکی کے ساتھ گزار سکتے ہیں جس کے باپ کی وجہ سے آپ کی بہن کی زندگی برباد ہوئی”

ہیر نے دوبارہ وہی ٹاپک شروع کردیا جس کو تھوڑی دیر پہلے شیر عباس نے جان بوجھ کر اگنور کیا تھا

“میں اپنی ساری زندگی اُس لڑکی کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں جسے میرے دل نے پہلی نظر میں پسند کرلیا تھا تمہیں یاد ہے میں شادی تم سے نہیں آرزو سے کرنے والا تھا مگر اوپر والے نے میری قسمت میں اُس لڑکی کا ساتھ لکھ دیا جس کو میرا دل پسند کرتا تھا۔۔۔ پھر میں کیسے اپنے اور تمہارے رشتے کو بدلے کی بھینٹ چڑھا سکتا ہوں جب اللہ نے خود تمہیں بنا مانگے مجھے سونپ دیا”

شیر عباس نرم لہجے میں ہیر سے بولنے لگا شیر عباس کے سینے پر سر رکھ کر ہیر اُس کی باتیں سننے لگی شیر عباس کے منہ سے محبت کا اعترارف سن کر اس نے اطمینان سے اپنی آنکھیں بند کرلی آج نہ صرف غذر کا موسم خوشگوار تھا بلکہ اُن دونوں کے دلوں پر بھی خوشگواریت کا احساس چھانے لگا

***اختتام***