Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel Readelle 50385 Diyar E Wehsat (Episode 5)
No Download Link
Rate this Novel
Diyar E Wehsat (Episode 5)
Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel
“اب کیسی طبیعت ہے ابو کی؟؟ ڈاکٹر سے آپ کی بات ہوئی وہ کب تک ڈسچارچ کریں گے ابو کو”
ہیر کے جانے کے بعد امامہ شہناس سے صدیقی کے بارے میں پوچھنے لگی کیونکہ امامہ ہیر کو اپنے ساتھ پیکنگ کے لیے گھر لے آئی تھی اِس لیے اُس کی صدیقی کے ڈاکٹر سے تفصیلی بات نہیں ہوسکی تھی
“ہیر کہ نکاح کے بعد سے قدرے سنبھل گئی ہے ورنہ تو آرزو میں ہمہیں کہیں منہ دکھانے لائق ہی نہیں چھوڑا، شکر ہے ہیر تو اپنے گھر کی ہوگئی۔۔۔ شیر عباس کی بہنوں نے بھی بڑے پن کا ثبوت دیا ہے جو باتیں سنائیں بغیر شریفانہ طریقے سے ہیر سے نکاح کا بول دیا ورنہ میں نے تو سوچ لیا تھا کہ اچھا خاصا رشتہ ہاتھ سے نکل گیا۔۔۔ کل یا پرسوں تک صدیقی کو ڈسچارچ کردیں گے ڈاکٹرز کنڈیشن دیکھ کر۔۔۔ میں بس ہیر کو رخصت کرنے کے لیے آئی تھی دروازہ اچھی طرح بند کرلینا صدیقی میرا انتظار کررہے ہوگے”
شہناس امامہ کو ساری باتوں کی تفصیل بتاتی ہوئی صدیقی کے پاس واپس ہسپتال جانے کا ارادہ کرنے لگی
“آپ تھک گئی ہوگیں اسپتال میں چلی جاتی ہوں، میں نے آفس سے کل کی چھٹی لے لی ہے”
امامہ شہناس سے بول ہی رہی تھی ڈور بیل کی آواز پر دروازہ کھولنے چلی گئی سامنے کھڑی آرزو کو دیکھ کر اُس نے خدا کا شکر ادا کیا ہے وہی شہناس چلی آئی
“کون آگیا اِس وقت”
شہناس نے جیسے ہی آرزو کو دیکھا اُس کا غصّہ سے برا حال ہوگیا
“اَمّی مجھے معاف کردیں”
آرزو روتی ہوئی شہناس کے پاس آکر بولی تو شہناس غصّے سے آرذو پر جھپٹ پڑی وہ آرزو کے دونوں گالوں پر پے در پے تھپڑ مارتی چلی گئی
“امی رکیں، خدا کے لیے چھوڑ دیں اُسے”
امامہ نے شہناس کو روکنا چاہا مگر شہناس روتی ہوئی امامہ کی بات سنے بغیر آرزو کو مار مار کر اپنا غُصّہ اور غبار باہر نکال رہی تھی آرزو بھی بےآواز روتی ہوئی بناء کسی احتجاج کے پڑنے والی مار کو خاموشی سے سہہ رہی تھی
“یہ اولاد نہیں ڈائن ہے، اپنے باپ کو کھانا چاہتی تھی آج میں اس کو مار ڈالوں گی، کیو میں نے اِس کو پیدا کیا کیوں اِس بدذات کو میں دنیا میں لائی یہ صلہ دیا اِس بےغیرت نے ہماری محبت ہمارے اعتماد کا، تمہارے باپ کو اور مجھے بیٹے کی کتنی چاہ تھی مگر اِس کے باوجود ہم دونوں نے تم لوگوں کو کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا پڑھایا لکھایا اپنی حیثیت کے مطابق تم لوگوں کی خواہشات کو پورا کرنے میں اپنی زندگی گزار دی جس کا صلہ اِس بےغیرت نے اپنی شادی سے ایک دن پہلے ہی گھر چھوڑ کر اپنی یار کے ساتھ بھاگ کردیا پوچھو اِس سے امامہ یہ کیوں واپس لوٹ کر آگئی ہے، ہمارے نام پر تو اِس نے دھبہ لگادیا، پوچھو اِس بےشرم سے اِس کا اپنا دامن پاک ہے یا اِس کے یار نے اِس کو داغ دار کرکے چھوڑ دیا ہے”
شہناس آرذو کو مار مار کر اور مسلسل بول بول کر تھک گئی تو خود بھی فرش پر بیٹھ کر رونے لگی
آرذو میں اتنی سکت نہ تھی کہ وہ سر اٹھا پاتی وہ گھٹنوں میں اپنا چہرہ چھپائے بری طرح سے سسک رہی تھی امامہ نے آرذو کو بازو سے پکڑ کر اندر کمرے میں جانے کا اشارہ کیا خود اپنے نقص زدہ پاؤں پر وزن ڈالتی ہوئی تھکے انداز میں روتی ہوئی شہناس کے پاس آئی اور اسے خاموش کروانے لگی
***””””***
ماہ نور عثمان کے فلیٹ سے غصّے میں گھر واپس آئی تھی ہاشم کا غصّہ اُس نے شمع پر چیخ چیخ کر اور کچن میں برتنوں کو توڑ کر نکالا ہنگامے اور شور کی آواز سن کر ایوب خان اور گلنار دونوں ہی وہاں پہنچ گئے
“یہ کیا شور اور ہنگامہ مچا رکھا ہے تم نے، شرم عقل اور شعور جیسی صفات تم دن بدن کھوتی جارہی ہو”
ایوب خان گرجدار آواز میں غُصّے سے ماہ نور کو دیکھتے ہوئے بولے کیوکہ انہوں نے ماہ نور کو شمع کے سہمے ہوئے بیٹے کو تھپڑ لگاتے ہوۓ دیکھ لیا تھا جو اتنے شور کی وجہ سے ڈر کے مارے رو رہا تھا
“شرم عقل اور شعور جیسی صفات آپ کے پوتے میں بھی باقی نہیں بچی ہیں داجی، پوچھیں اپنے نیک اور شریف پوتے سے گھر سے باہر غیر عورتوں کے ساتھ وہ کونسی عیاشیاں کرتا پھر رہا ہے جو اس نے راتوں کو گھر آنا چھوڑ دیا ہے”
ماہ نور بناء لحاظ کے کافی بدتمیزی سے بولی تو گلنار نے فوراً اسے ٹوک دیا
“اپنی بےباک اور لمبی زبان کو لگام ڈال کر رکھو ماہ نور، گزرتے دنوں کے ساتھ تمہاری گستاخی اور بدمزاجی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور خبردار جو تم نے میرے بیٹے کے کردار کے متعلق کوئی بھی غلط بات بولی مجھے اپنی تربیت پر پورا یقین ہے ہاشم کبھی کوئی اخلاق سے گری ہوئی حرکت نہیں کرسکتا”
گلنار ماہ نور کے منہ سے ہاشم کے لئے ایسی بات سن کر سختی سے اُسے ٹوکتی ہوئی بولی ویسے ہی ہاشم بھی گھر آگیا وہ جانتا تھا عثمان کے فلیٹ سے گھر پہنچنے کے بعد یقیناً ماہ نور کو گھر کا پرسکون ماحول برباد کرنا تھا
“یہ آگیا ہے آپ کا نیک، شریف عزت دار فرمابردار پوتا۔۔۔ ذرا پوچھیں اِس سے عثمان کے فلیٹ میں یہ کس لڑکی کے ساتھ رات گزار کر آرہا ہے”
ماہ نور ہاشم کو دیکھ کر کوئی لحاظ کئے بغیر چیخ کر بولی تو ایوب خان اور گلنار کی نظریں ہاشم پر ٹھہر گئیں ہاشم اپنا غُصّہ ضبط کرتا ہوا ماہ نور کے سامنے آکر کھڑا ہوا
“شادی کرنے والا ہوں میں اُس لڑکی سے، وہ لڑکی میری بیوی بن کر اِس گھر میں آئے گی اور اب اگر تم نے دوبارہ کوئی تماشا لگایا تو کھڑے کھڑے میں تمہیں اِس رشتے سے آزاد کردو گا سنا تم نے”
ہاشم بےانتہا سنجیدہ مگر سخت لہجہ اپنائے ہوئے ماہ نور سے بولا تو ماہ نور سمیت گلنار اور ایوب خان بھی خاموش ہوگئے ہاشم سب کو خاموش دیکھ کر اپنے کمرے میں چلاگیا جبکہ گلنار افسوس سے ایوب خان کو دیکھنے لگی
گلنار کو لگا تھا کہ ماہ نور کو ویسے ہی کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی یا وہ جھوٹ بول رہی ہوگی ہاشم کا کسی دوسری لڑکی سے تعلق نہیں ہوسکتا لیکن شاید اُس کا بیٹا دوسری شادی بھی اپنی مرضی سے کرنا چاہتا تھا
***””””***
دن کے اجالے میں یہ ہیر پیلس اُسے جتنا پرکشش اور خوبصورت لگ رہا تھا رات ہونے کے ساتھ اتنا اور پُراسرار وحشت ذدہ معلوم ہورہا تھا رات کے سناٹے پوری طرح ہیر پیلس میں اترے ہوئے اسے احساس دلا رہے تھے کہ اِس جگہ وہ بالکل تنہا اور اکیلی تھی امامہ سے اُس کی سرسری سی بات بھی مشکل سے ہی ہو پائی تھی کیوکہ یہاں سگنلز کا کافی پرابلم تھا رات کے کھانے کے بعد ہیر گرم شال سے خود کو لپیٹ کر باہر بننے لان میں چلی آئی جہاں موجود برگد، بیری اور پائن کے درخت مزید قد آور اور خوفناک لگ رہے تھے دور سے نظر آنے والے دیوہیکل پہاڑوں پر اِس وقت پوری طرح تاریخی اتری ہوئی تھی
ہیر آرزو کے بارے میں سوچنے لگی امامہ اُسے آرزو کی واپسی کے بارے میں اطلاع دے چکی تھی پھر اُس کی سوچوں کا رخُ صدیقی کی طبعیت کی طرف چلا گیا اپنی فیملی کی طرف سے سوچوں کا رخُ خودبجود اپنے شوہر کی طرف آٹہرا، جس کی ابھی تک اُس کی ملاقات نہیں ہوپائی تھی
ہیر سمجھ نہیں پائی تھی شیر عباس کے لئے اُس کی ذات غیر اہم تھی یا پھر اُس کا کام بہت زیادہ ضروری تھا جس کے بناء پر وہ اپنی مصروفیت میں سے چند گھنٹے بھی اپنی بیوی کے لیے نہیں نکال پایا تھا۔۔۔ ہیر شیر عباس سے اپنی دوسری ملاقات کا وقت سوچنے لگی جب وہ اُس کا نام جاننے کی خواہش رکھتا تھا، تب ہیر کو ذرا بھی اندازہ نہیں تھا اُس کی قسمت کے ستارے شیر عباس کی قسمت سے یوں جڑ جائیں گے۔۔۔ ہیر اپنی سوچوں میں گم تھی تبھی کسی کے غُرانے کی آواز پر وہ سوچوں کی دنیا سے باہر نکلی اور برگد کے درخت کو دیکھنے لگی غُرانے کی آواز واضح طور پر اُس درخت کے پیچھے سے آرہی تھی جیسے اُس تناور درخت کی آڑھ میں کوئی چیز چھپی ہو
“کون ہے وہاں”
ہیر بولتی ہوئی درخت کی طرف بڑھی جیسے جھاڑیوں میں ہاتھ پاؤں چلانے کے ساتھ کوئی چیز ٹٹول رہا ہو
“آآآآآ۔۔۔۔”
ہیر چیخنے کے ساتھ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر تیزی سے پیچھے ہوئی تو موٹا کالا بلا مری ہوئی چمکاڈر کو چھوڑ کر اپنی ہری ہری آنکھوں سے ہیر کو گھورنے لگا جیسے ہیر کی مداخلت اُس کو بھی پسند نہیں آئی تھی
“بلاوجہ میں ڈرا دیا مجھ کو بھاگو یہاں سے بدتمیز”
وہ کالا نِڈر بِلا جو ڈرنے کی بجائے ہیر کو دیکھ کر غُرا رہا تھا ہیر کے غصّے میں بولنے پر ہیر پیلس کی دیوار پھلانگ کر جنگل کی جانب بڑھ گیا
“ویسے تو یہ چار دیواری محفوظ ہے لیکن اِس سے آگے جنگل میں جنگلی جانور بھی بستے ہیں آپ اندر آجائیے تو بہتر ہوگا”
فرغب بی ٹارچ ہاتھ میں لیے مین ہال کے دروازے پر کھڑی ہوئی ہیر سے تیز آواز میں بولیں تو ہیر اقرار میں سر ہلاتی ہوئی گرم شال کو مزید اپنے گرد لپیٹ کر اندر آنے لگی
“شام تک تو گیٹ پر پہرے دار موجود تھا اِس وقت وہ کہاں چلا گیا”
ہیر فرغب بی کے پاس آکر ان سے پوچھنے لگی
“شام سات بجے تک تمام ملازموں کا ڈیوٹی ٹائم ختم ہوجاتا ہے رات کے وقت یہاں پر کسی بھی ملازم کو رکنے کی اجازت نہیں ہے سوائے ایبک کے”
ایبک وہی ہری انکھوں والا لمبا سا لڑکا تھا جو اُسے ائیر پورٹ سے یہاں لایا تھا۔۔۔ فرغب بی ہیر کو دیکھتی ہوئی اُسے بتانے لگیں کیونکہ ہیر پیلس میں وہ ایک نیا فرد تھی اُسے یہاں کے اصول اور قواعد کا معلوم ہونا چاہیے تھا ایسا شیر عباس نے ہی فرغب بی سے بولا تھا
“اتنی بڑی اور سنسان جگہ ہے یہ، کم سے کم ایک گارڈ کو تو یہاں پر 24 گھنٹے کے لیے ہونا چاہیے تاکہ کسی قسم کی ٹینشن یا خطرہ نہ ہو”
ہیر لکڑی کے بڑے سے چوڑے دروازے کو دیکھتی ہوئی بولی بےشک ہیر پیلس کے احاطے پر خار دار تاریں لگائی گئی تھی مگر سیفٹی پرپز کے لیے یہ ناکافی تھی۔۔۔ ہیر کو محسوس ہورہا تھا فرغب بی سے باتیں کرتے کرتے اُن سے اِس کی اچھی دوستی ہوجائے گی
“اگر آپ چور اور ڈاکو کے خوف سے ایسا بول رہی ہیں تو پھر خطرے اور ٹینشن والی کوئی بات نہیں کیوکہ جہاں آسیب اور بدروحوں کا بسیرا ہو وہاں چور اور ڈاکو بھی آنے سے ڈرتے ہیں”
فرغب بی کے بولے گئے جملے سے ہیر کی شہہ رگ کے قریب سے خوف کی ایک سنسناتی ہوئی لہر اٹھی اور خون کے ساتھ پورے جسم میں پھیل گئی آسیب اور بدروحوں کا نام سن کر خوف کے سبب اُس کا چہرہ بالکل فق ہوگیا
“آپ شاید ڈر گئی ہیں میری بات سے، یہاں ایسا کچھ نہیں ہے آبادی کے لوگوں نے اِس جگہ کو دیکھ کر ایسے قصّے مشہور کردیئے ہیں اس لیے ہر کوئی یہاں آنے سے ڈرتا ہے”
ہیر کی غیر ہوتی حالت فرغب بی کی نظروں سے چھپ نہیں پائی تھی جبھی فرغب بی ہیر کو تسلی دیتی ہوئی بولیں نہ جانے اُن کی بات سے ہیر کو تسلی ہوئی تھی یا نہیں وہ لان میں موجود برگد اور بیری کہ درختوں کو دیکھنے لگی، جہاں تھوڑی دیر پہلے وہ کھڑی تھی ابھی اگر یہاں شہناس موجود ہوتی تو اُسے کبھی یوں رات میں اکیلے اِس وقت درختوں کے پاس بھٹکنے بھی نہ دیتی
“اب مجھے نیند آرہی ہے میں سونا چاہتی ہوں”
ہیر فرغب بی کو دیکھتی ہوئی آہستہ سے بولی اب تو ہیر کو ان خاتون سے بھی خوف آرہا تھا جن سے وہ تھوڑی دیر پہلے دوستی کا سوچ رہی تھی
“بالکل اب آپ کو سو جانا چاہیے آئیے میں آپ کو آپ کے کمرے تک چھوڑ دو”
فرغب بی کی بات سن کر ہیر فرغب بی کے پیچھے اپنے کمرے تک پہنچی اور کمرے میں آنے کے بعد اُس نے اندر سے دروازہ لاک کرلیا
“یہاں اکیلے رہ کر تو میں خوف سے ہی مر جاؤں گی”
ہیر خود سے بولتی ہوئی بیگ سے اپنا نائٹ ڈریس نکالنے لگی مگر اب سچ میں اُس کو سو جانا چاہیے تھا
اِس وقت شیر عباس ہوٹل میں موجود تیسرے فلور پر اپنے آفس کے کمرے میں بیٹھا ہوا لیپ ٹاپ کی اسکرین پر گہری نیند میں ڈوبی ہوئی اپنی بیوی کو کافی دیر سے تکے جارہا تھا وہ اُس کے کمرے میں موجود اُس کے بیڈ پر پورے حق سے کافی گہری نیند میں سو رہی تھی ایسا ہرگز نہ تھا کہ ہیر کی ذات اُس کے لیے اہم نہیں تھی یا پھر اُس کے لئے دوسرے کام زیادہ اہمیت کے حامل تھے لیکن شیر عباس صبح سے عجیب کشمکش میں مبتلا تھا ہیر کو اپنی بیوی کے روپ میں دیکھ کر اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اپنی بیوی سے اسے کس طرح ملنا چاہیے۔۔۔ جبھی ہیر کو لینے کے لئے اس نے ایبک کو بھیج دیا تھا، وہ شام میں فرغب بی کو بھی پیغام دے چکا تھا کہ وہ ہوٹل سے واپس صبح دوسرے دن ہی آئے گا کوئی سمجھے یا نہ سمجھے وہ جانتا فرغب بی اُس کا ہیر سے گریز اچھی طرح سمجھ رہی تھی سامنے اسکرین پر گہری نیند میں سوئی ہوئی ہیر کی موجودگی سے اپنا ویران کمرہ آباد دیکھ کر شیر عباس ابھی فیصلہ نہیں کر پارہا تھا اُس کو کیا کرنا چاہیے۔۔۔ چند منٹ بعد وہ ایک فیصلے پر پہنچ کر ایبک کو کال ملانے لگا
***””””***
ہیر اِس وقت گہری نیند میں ڈوبی ہوئی تھی تب اُس کو نیند میں محسوس ہوا کسی نے اُس کے پاؤں کی طرف سے کمفرٹر سرکایا ہو۔۔۔ اپنی نرم و ملائم ریشم جیسی پنڈلی پر انجانا سا ہاتھ کا لمس اُس کو حواس میں لانے کے جتن کررہا تھا یا پھر اُس کی ٹانگوں کی نرماہٹ کو اپنے اندر اتار رہا تھا دروازہ اُس نے اندر سے لاک کیا تھا پھر یہ کون اِس وقت اُس کے کمرے میں موجود تھا دماغ چلنے پر گہری نیند اُس کی آنکھوں سے رخصت ہونے لگی
اندھیرے میں اپنے پاؤں کے پاس کسی کی پرچھائی دیکھ کر ہیر نے بدحواسی میں چیخنے کی کوشش کی ویسے ہی اُس پرچھائی نے پھرتی سے آگے بڑھ کر ہیر پر جھکتے ہوۓ اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہیر کی چیخ کا گلا دبا دیا اور لیمپ آن کردیا۔۔۔ ہیر نے لیمپ کی مدھم روشنی میں شیر عباس کا چہرہ دیکھا اور تین سے چار بار اپنی پلکیں جھپکا کر خود کو شیر عباس کی موجودگی کا یقین دلایا تو شیر عباس نے آہستہ سے ہیر کے ہونٹوں پر سے اپنا ہاتھ ہٹایا
“آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا”
ہیر کو گمان بھی نہیں تھا وہ شیر عباس کو دیکھ کر پہلا جملہ یہ ادا کرے گی
“کوشش بھی یہی تھی کہ تم ڈر جاؤ سامنے والے کو حیران کرنا، پریشان کرنا، ڈرانا یا پھر چونکانا۔۔۔ اب عادت سی بن چکی ہے میری”
عجیب سا تاثر اپنی آنکھوں میں لئے وہ ہیر کو دیکھ کر سنجیدہ لہجے میں بولا۔۔۔ ہیر کنفیوز ہوکر شیر عباس کی آنکھوں کا رنگ دیکھنے لگی جہاں تک اُس کو یاد پڑتا تھا دوسری ملاقات میں شیر عباس کی آنکھوں کا رنگ مختلف تھا شاید گہرا کالا رنگ۔۔۔۔
اِس وقت ہیر کو شیر عباس کی آنکھیں دیکھ کر وہ بِلّا یاد آیا جو چند گھنٹے قبل اُس نے برگد کے پیڑ کے پیچھے دیکھا تھا وہی بِلا جو ایسے ہی ہری چمکتی آنکھوں سے اُس کو گھور رہا تھا۔۔۔۔ ہیر کے دیکھنے پر شیر عباس اُس کے اوپر جھکا ہوا ہیر کو بھی خاموشی سے دیکھنے لگا تب ہیر نے اُس سے پوچھا
“لیکن آپ مجھے ڈرانا کیوں چاہتے ہیں”
ہیر الجھتی ہوئی شیر عباس سے پوچھنے لگی پہلی ملاقات میں جب وہ روڈ کراس نہیں کر پارہی تھی تب بھی یہ شخص تیزی سے اُس کے قریب اپنی گاڑی لایا تھا جیسے اُس کو مار ہی ڈالے گا اور وہ ڈر گئی تھی۔۔۔۔ اور دوسری ملاقات میں بھی وہ دور بیٹھا اُسے کافی دیر سے تکے جارہا تھا پھر خالی جگہ دیکھ کر اُس کا ہیر کو روکنا نام پوچھنا اور اب بھی اُس نے ہیر کو ڈرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی
“بتایا تو ہے اپنی عادت سے مجبور ہوں میں لیکن اِس وقت میں تمہیں ڈرانے نہیں بلکہ تم سے پیار کرنے آیا ہوں”
شیر عباس نے ہیر سے بولتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُس کا گال چھوا تو ہیر شیر عباس کا لمس محسوس کرکے بدک کر ایک دم پیچھے ہوئی
“تم تو ابھی سے ڈر گئی ہو مجھ سے، میں کچھ بھی غلط نہیں کررہا ہوں آجاؤ میرے پاس”
ہیر ابھی بھی شیر عباس کی بےتاثر آنکھوں کو دیکھ رہی تھی جو اِس وقت کسی بھی جذبے کسی بھی احساس سے عاری تھی مگر شیر عباس نے ہیر کی یہ کوشش لیمپ بند کر کے ناکام کردی۔۔۔ کمرے میں مکمل طور پر اندھیرا ہوجانے کی وجہ سے اب ہیر شیر عباس کو دیکھ نہیں سکتی تھی
شیر عباس ہیر کو اپنی جانب کھینچ کر اپنے حصار میں لے چکا تھا۔۔۔۔ وہ ہیر کی گردن پر جھکتا ہوا ہیر کی خوشبو محسوس کرنے لگا۔۔۔۔ مہکتا دہکھتا گرم سانسوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرکے ہیر شرم و حیا سے چور ہونے لگی اِس کے باوجود اُس کا ذہن کمرے کے بند دروازے کی جانب چلاگیا دروازہ تو اندر سے بند تھا پھر شیر عباس اندر آیا کیسے۔۔۔۔
“آپ روم میں کیسے آئے”
اپنی گردن پر گرم سانسوں کی تپش محسوس کر کے ہیر اپنی الجھن دور کرنے کے لیے شیر عباس سے سوال کرنے لگی
“ایسے سو بند دروازوں کو کھول کر میں تمہاری خوشبو محسوس کرتا ہوا تم تک کہیں بھی پہنچ سکتا ہوں، آج کے بعد تم مجھے ہمیشہ اپنے آس پاس محسوس کروگی کسی ساۓ کی طرح، میں ہر وقت تمہارے ساتھ رہوں گا مجھے تم اپنا اسیر کرچکی ہو پہلی نظر میں مجھے تم سے عشق ہوگیا تھا”
وہ ہیر کے کان کے قریب اپنے ہونٹ لاکر آئستہ آواز میں کوئی سحر پھونک رہا تھا۔۔۔ شیر عباس کی باتوں سے ہیر کے حواس سلب ہونے لگے وہ ہیر کو بیڈ پر لٹاکر اس کی گردن پر جھکنے لگا تبھی ہیر جلدی سے بولی
“ڈرائیونگ کرنے کے دوران روڈ کراس کرتی ہوئی لڑکی سے عشق کر بیٹھے آپ۔۔۔ وہی دیکھا تھا آپ نے پہلی بار مجھے”
ہیر جھجھکتی ہوئی شیر عباس سے سوال کرنے لگی
“پہلی بار میں نے تمہیں ابھی چند گھنٹے قبل دیکھا ہے، جب تم برگد کے درخت کے پاس کھڑی تھی”
اِس سے پہلے ہیر کچھ سوچتی وہ اپنے ہونٹ ہیر کے ہونٹوں پر رکھتا ہوا اُس کی سانسیں بند کرچکا تھا۔۔۔ شیر عباس کی بےباکی پر ساری سوچیں اُس کے ذہن سے اچانک ہی رفع دفع ہوگئی تھی
***””””***
“ابھی تک کل والی بات کو سوچ کر دل جلا رہی ہوں اپنا”
ایوب خان ڈائننگ ہال میں آتے ہوئے گلنار یعنی اپنی بہو سے بولے جو خاموش ڈائننگ ہال میں کرسی پر بیٹھی ہوئی سبزی کاٹ رہی تھی افسردہ موڈ کا اندازہ ایوب خان گلنار کی خاموشی سے لگاچکے تھے
“آپ ہی بتائیں دل نہیں جلاؤ تو اور کیا کروں کل کتنے غرور کتنے فخر سے ماہ نور کے سامنے اپنی تربیت کا حوالہ دیتے ہوئے بول دیا تھا کہ میرا ہاشم اخلاق سے گری ہوئی حرکت کر ہی نہیں سکتا مگر ہاشم نے اپنے منہ سے خود اعتراف کر کے مجھے شرمندہ کردیا، مجھے تو سوچتے ہوئے شرم آرہی ہے کہ وہ پوری رات باہر کسی غیر لڑکی کے ساتھ گزار کر گھر آیا تھا”
گلنار افسردگی کے ساتھ شرمندگی سے ایوب خان کے سامنے بولیں جو اُن کے سامنے کرسی پر براجمان تھے
“ہمیں ابھی بھی یقین نہیں ہے اِس بات کا۔۔۔ ہاشم خان ہمارا خون ہے، وہ خاندانی ہے اور خاندانی مرد ایسی گری ہوئی حرکت نہیں کرسکتے”
ایوب خان گلنار سے بول رہے تھے تب ہاشم ڈائنیگ ہال میں آگیا ہاشم کو وہاں آتا دیکھ کر گلنار کچھ بولتی ایک دم خاموش ہوگئی
“کیا کوئی خاص موضوع زیرِ گفتگو ہے جو میرے آنے پر یوں ایک دم خاموشی چھاگئی بولیں تو میں واپس چلا جاتا ہوں”
ہاشم خاص طور پر گلنار کو دیکھتا ہوا بولا کل سے وہ اُس سے بات نہیں کررہی تھی اُس کا رویہ عجیب اکھڑا اکھڑا تھا
“ایسی کوئی خاص بات نہیں ہورہی تھی جس کی وجہ سے تمہیں یہاں سے جانا پڑے بیٹھو شمع ناشتہ لانے والی ہے”
ایوب خان ہاشم کو دیکھتے ہوئے بولے جو ابھی تک کرسی کو پکڑے کھڑا گلنار کو دیکھ رہا تھا
“اگر ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے تو پھر ماں جی خاموش کیوں ہیں، دا جی ان سے بولیں کہ مجھ سے بات کریں۔ اگر میری کوئی بات اِن کی دل آزاری کا سبب بنی ہے تو مجھے بتائیں یوں خاموش نہ رہیں، گھر کے ایک فرد نے اِس گھر کا سکون برباد کرکے رکھا ہے کم سے کم اِن کو میرا احساس کرنا چاہیے”
ہاشم ایوب خان سے شکوہ کرتا ہوا بولا تو گلنار نے غصّے بھری نظر ہاشم پر ڈالی اور ایوب خان سے بولیں
“ابا جی اِس کو اچھی طرح واضح سمجھادیں گھر کا سکون اور چین اِس کا ہی نہیں ہمارا بھی تباہ و برباد ہوچکا ہے، اِس گھر کا سکھ اور چین برباد کرنے والی کوئی دوسری نہیں اِسی کی اپنی بیوی ہے جو اِسی کا انتخاب تھی اور اِس سے اُس لڑکی کا نام اور خاندان کا بھی پوچھ لیں جس کے ساتھ کل اِس نے شادی کا اعلان کیا تھا۔۔۔ ایک کو تو ہم آزما ہی رہے ہیں اب اِس کی دوسری پسند کو بھی آزمالیتے ہیں”
گلنار غصّے بھرے لہجے میں بولتی ہوئی سبزی کا تھال اٹھاکر کرسی سے اٹھ کر کچن کی جانب جانے لگی تو ہاشم راستے کی دیوار بن کر کھڑا ہوگیا
“اگر آپ کے غصّے کا سبب اُس لڑکی کی ذات ہے جس سے میں نے کل شادی کرنے کا اعلان کیا تھا تو اپنا غُصّہ تھوک دیں”
ہاشم نے بولتے ہوئے اپنا ہاتھ گلنار کے سر پر رکھا
“نہ میں اُس لڑکی کا نام جانتا ہوں، نہ مجھے اُس کے خاندان کا معلوم ہے پرسوں رات ایک اکیلی لڑکی کو سڑک پر بےہوش دیکھ کر وہاں سے گزر جانا مجھے مناسب نہیں لگا تھا کیوکہ وہ لڑکی میری گاڑی کے سامنے آکر بےہوش ہوئی تھی اِس لیے اُس کو بےہوشی کی حالت میں عثمان کے فلیٹ لے گیا۔۔۔ یہاں میں اُس کو ماہ نور کی وجہ سے نہیں لایا تھا مگر قسمت میں کل اِسی بات کو موضوع بناکر ہنگامہ ہونا لکھا تھا، کل میں نے جو بھی اُس لڑکی کے متعلق بولا صرف اور صرف غصّے میں بولا۔۔۔ میرا اُس لڑکی سے کوئی تعلق نہیں اور اتنی بڑی بات میں آپ کے سر کی قسم کھا کر جھوٹ بولنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا”
ہاشم کے بولنے پر گلنار کے چہرے کے تنے ہوئے نقوش نرم پڑگئے تو ہاشم کو سکون آیا
“ہم تم سے بول رہے تھے ہمارا پوتا خاندانی ہے وہ کبھی بھی ایسی گری ہوئی حرکت نہیں کرسکتا۔ اب تم جلدی سے اِس کے لیے کوئی خاندانی لڑکی کی تلاش کرو تاکہ ہم بھی اس گھر میں خوشیاں دیکھ سکے”
ایوب خان خوش ہوکر گلنار سے بولے تو کرسی پر بیٹھتا ہوا ہاشم گہرا سانس لےکر ایوب خان کو دیکھنے لگا
“کیا اِس گھر میں خوشیوں کا واحد حل میری دوسری شادی ہے دا جی”
وہ ایوب خان کو دیکھتا ہوا نرمی سے پوچھنے لگا تو ایوب خان سے پہلے گلنار بول اٹھی
“تم کیا چاہتے ہو ہاشم ہم دونوں تمہاری اولاد کو دیکھے بغیر دنیا سے چلے جائیں ارے ہم دونوں تو حسن کی آمد پر بھی صبر کر کے اوپر والے کی رضا سمجھتے ہوئے خوش تھے۔۔۔ اُسی کو اِس خاندان کا وارث سمجھ لیتے مگر تمہاری بیوی کی نادانی نے اُس معصوم کی بھی ننھی سی جان لےلی کیا تم دوبارہ کسی دوسرے بچے کی جان کا رسک لے سکتے ہو، اُسے ماہ نور کی گود میں ڈال کر، کیا تمہیں لگتا ہے کہ ماہ نور اہلیت رکھتی ہے کہ وہ کسی دوسرے بچے کی پرورش کرسکے گی ہاشم ایسا کرو کہ تم مجھے اور اپنے دا جی کو ہماری برداشت کا مادہ بتادو، ہمیں یہ سمجھا دو کہ ہم دونوں ماہ نور کا گستاخ بھرا لہجہ اور بدصورت رویہ کہاں تک برداشت کریں ہمیں ہمارے ضبط کی حدود بتادو کتنا ضبط ہم کرچکے ہیں مزید اور کتنا ہمیں برداشت کرنا ہے”
گلنار کے بولنے پر ہال میں خاموشی چھاگئی جسے تھوڑی دیر بعد ہاشم کی آواز نے توڑا
“اگر آپ کی اور دا جی کی خوشی میری دوسری شادی میں ہے تو ڈھونڈ لیں میرے لیے اپنی پسند کی کوئی خاندانی بہو”
ہاشم ڈھیلے ڈھالے انداز میں بول کر خاموش ہوگیا اُس کی آمادگی اور رضامندی جان کر ایوب خان اور گلنار خوشی سے مسکرائے
ہاشم خود بےدلی سے ناشتہ کرنے لگا اُس کی دوسری شادی میں رضامندی صرف اور صرف ماہ نور کا بدصورت رویہ وجہ بنا تھا ماہ نور اپنے بدصورت رویے سے نہ صرف دن بدن اُس کے دل میں اپنی محبت کم کرچکی تھی بلکہ اُس نے اُس کے گھر والوں کے سامنے بھی اپنا مقام کھو دیا گیا
***””””***
“امامہ۔۔۔ امامہ”
شہناس امامہ کو پکارتی ہوئی کمرے میں آئی تو بیڈ پر لیٹی ہوئی آرزو اٹھ کر بیٹھ گئی
“آپی چینج کررہی ہیں”
وہ اپنا سوجھا ہوا منہ کے ساتھ شہناس کو امامہ کے بارے میں بتانے لگی شہناس نے آرزو کی بات کا جواب دیئے بغیر نہوست سے اپنا منہ پھیرلیا تو امامہ کمرے میں چلی آئی
“جی آمی بلا رہی تھیں آپ”
امامہ خود بھی آفس کے لئے تیار شہناس سے پوچھنے لگی
“تم آفس سے سیدھا اسپتال آجانا میں بھی صدیقی کے پاس جارہی ہو، اِس کو اچھی طرح سمجھادو کہ ہمارے پیچھے کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے ہماری بچی کچی عزت مٹی میں مل جائے شاید صدیقی کو آج ڈاکٹرز چھٹی دے دیں گے اِس سے بول دینا اپنے باپ کی اگر زندگی چاہتی ہے تو ان کے کمرے میں نہ آئے انہیں اپنی شکل نہ دکھائے اور اسے یہ بھی بول دو کہ یہ مجھے مخاطب نہ کیا کرے، میں کل رات اِس کو مرا ہوا سمجھ کر اِس پر رو لی ہوں۔۔۔ زبیدہ سے شام میں بات کرو گی اب جو بھی جیسا بھی رشتہ ہو فوراً بتاۓ تاکہ اِس کو جلد سے جلد فارغ کروں”
شہناس امامہ کو بولتی ہوئی گھر سے صدیقی کے پاس اسپتال چلی گئی جبکہ امامہ آرذو کا آنسوؤں سے تر چہرہ دیکھنے لگی یقیناً شہناس کی باتوں سے آرذو کو دکھ پہنچا ہوگا مگر اُس نے بھی تو شادی سے ایک دن پہلے گھر سے نکل کر کتنی بڑی حماقت کی تھی
“غلطی چھوٹی نہ ہو تو غصہ دیر سے اترتا ہے، امی ابو کو بھی تھوڑا وقت لگے گا تمہارا ناشتہ بنادیا ہے کرلینا اور دروازہ اچھی طرح لاک کرلینا تھوڑی دیر بعد ممتاز آجائے گی تو اُس سے گھر کا کام کروا لینا۔۔۔ میں آفس کے لیے نکل رہی ہوں واپسی پر اسپتال بھی جانا ہوگا رات ہوجائے گی”
امامہ آرذو سے بولتی ہوئی آفس کے لیے نکل گئی
***””””***
پہاڑی پرندوں کی چہکار بھرنے کی سریلی آواز سے ہوتا صبح کا آغاز، ہیر پیلس میں سوئی ہوئی ہیر کو جگا گیا تھا۔۔۔ ہیر بیدار ہوکر بیڈ پر بیٹھ گئی بےاختیار اُس کی نظریں بیڈ پر اپنے برابر پر گئی جہاں اِس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا بےشکن بیڈ شیٹ دیکھ کر اُسے گمان ہورہا تھا جیسے یہاں رات میں کوئی سویا ہی نہ ہو، اتنی صبح صبح شیر عباس کہا جاسکتا تھا۔۔۔ ہیر تعجب کرتی بیڈ سے اٹھ کر واش روم چلی گئی شاور لینے کے ساتھ وہ اپنے سفر کی تھکان کے ساتھ کل رات کی تھکان بھی اتارنے لگی جس کا سبب شیر عباس بنا تھا
کل رات اُسے شیر عباس کا رویہ تھوڑا عجیب لگا کیونکہ اُن دونوں کی سرسری سی ہی سہی دو ملاقاتیں تو ہوئی تھیں ہیر کو لگا تھا شیر عباس اُسے بیوی کے روپ میں دیکھ کر اُس سے بہت ساری بات کرے گا، اُس کے بارے میں پوچھے گا اپنے بارے میں بتائے گا شاید تھوڑا ٹائم بھی دے گا مگر وہ تو کل رات یوں اچانک ہی۔۔۔۔
شاور لینے کے بعد ہیر واپس روم میں آئی اُس نے کھڑکی سے پردے ہٹائے سورج کی کرن لہر کی مانند کمرے میں پھیل گئی یہاں سے دور نہ صرف بڑے بڑے پہاڑوں پر پرندے اڑان بھرتے نظر آرہے بلکہ اِس جگہ سے غذر کی آبادی بھی نظر آتی تھی اُس نے ہیر پیلس کے اندر مین گیٹ سے جیپ آتی دیکھی اِس وقت ہیر پیلس کے گیٹ پر پہرے دار موجود تھا جس نے گیٹ کھول کر جیپ کو اندر آنے کا راستہ دیا یہ کوئی اور نہ بلکہ شیر عباس تھا اُس کا شوہر ہیر کو تعجب ہوا اتنی صبح وہ کہاں سے آرہا تھا اور رات کو کب واپس چلا گیا اُس کو خبر بھی نہ ہوسکی تھی ہیر اپنے دوپٹے کو پھیلا کر اوڑھتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی تو اُسے فرغب بی ہال میں ہی نظر آئیں
“تو پھر اکیلے کل رات نیند آگئی تھی آپ کو”
فرغب بی ہیر کو دیکھتی ہوئی اجنبیت کی دیوار کو سمیٹ کر ہیر سے مخاطب ہوئیں
“رات میں تو عباس آگئے تھے”
ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہیر فرغب بی کو اطلاع دیتی ہوئی بتانے لگی شاید اُن کو علم نہ تھا
“نہیں تو شیر عباس تو کل صبح سے ہی ہیر پیلس نہیں آئے ہیں بلکہ ابھی اُن کی جیپ کا ہارن سنائی دیا ہے”
فرغب بی ہیر کی غلط فہمی دور کرتی ہوئی ہیر کو بتانے لگیں اُن کی بات پر ہیر کے چہرے کی مسکراہٹ کی جگہ الجھن نے لےلی، وہ کنفیوز ہوکر ہال میں داخلی راستے پر شیر عباس کو دیکھنے لگی جو ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ فرغب بی سے مل رہا تھا اُس کا حلیہ اُس کے کپڑے یہی بتارہے تھے وہ ابھی ہوٹل سے واپس لوٹا تھا مگر کل رات وہ کالے رنگ کی قمیض شلوار میں اس کے ساتھ کمرے میں موجود تھا ہیر مذید نروس ہوکر شیر عباس کو دیکھنے لگی جو اب چہرے پر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اُس کی جانب آرہا تھا
“سوری میں کل سارا دن بزی رہا ہے اِس لیے تم سے ملنے نہیں آسکا پلیز تم اِس بات کو محسوس مت کرنا اب میں تین دن تک بالکل فری ہوں میرا سارا وقت تمہارے لئے ہوگا”
شیر عباس جیسے دوستانہ لہجے میں ہیر کو دیکھتا ہوا بول رہا تھا، ہیر حیرت سے اُس کی کالی گہری آنکھوں کے رنگ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ شیر عباس کی بات سن کر ہیر کا ذہن ماؤف ہونے لگا کل رات والا منظر اُس کی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگا
“نہیں مگر کل رات تو آپ آئے تھے”
ہیر کو اپنی آواز لڑکھڑاتی ہوئی تھوڑی گھبرائی ہوئی لگی تھی۔۔۔ ہیر کی بات سن کر شیر عباس نے پہلے سیریس ہوکر غور سے ہیر کا چہرہ دیکھا پھر مسکراتا ہوا بولا
“ہاں کل رات میں تمہارے خوابوں میں آیا تھا لیکن ابھی تمہارے سامنے حقیقت میں موجود ہوں”
شیر عباس کے بولنے پر ہیر کو لگا جیسے اس پر چھت پر لگا بڑا سا فانوس گر پڑا ہو
“پہلی بار میں نے تمہیں چند گھنٹے پہلے دیکھا تھا جب تم برگد کے درخت کے پاس کھڑی تھی”
کوئی آواز ہیر کو اپنے کانوں سے ٹکراتی ہوئی سنائی دی
“ہیلو کیا ہوا یہاں کھڑے کھڑے کہاں کھو گئی ہو”
شیر عباس اُس کے سامنے کھڑا چہرے کے آگے چٹکی بجاتا ہوا بولا ہیر چکرا کر فرش پر گری تو شیر عباس نے ایک دم اُس کو تھام لیا، اپنی آنکھیں بند ہونے سے پہلے ہیر نے فرغب بی کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا اُس کے بعد ہیر کا دماغ تاریکی میں چلاگیا صرف کانوں میں آواز گونج رہی تھی
“آج کے بعد تم مجھے اپنے آس پاس محسوس کرو گی تمہارے ساۓ کی طرح ہر وقت میں تمہارے ساتھ رہوں گا مجھے تم اپنا آسیر کرچکی ہوں پہلی ہی نظر میں مجھے عشق ہوگیا ہے تم سے۔۔۔۔
***””””***
شہناس اور امامہ کے جانے کے بعد آرزو دوبارہ بیڈ پر لیٹ گئی اُس کا دل ناشتہ کرنے کو نہیں چاہ رہا تھا بلکہ ہر شے سے دل اچاٹ ہوچکا تھا، کام والی جب گھنٹی بجا بجا کر واپس جانے والی تھی تب اُس نے گھر کا دروازہ کھولا تھا صفائی کرنے کے دوران کام والی سے اُس کو معلوم ہوا کہ وہ اِس شادی کے لئے راضی نہیں تھی اِس لیے چھوٹی بہن کی شادی اُس کے ہونے والے شوہر سے کردی گئی
اب معلوم نہیں شہناس اور امامہ نے باقی محلے والوں سے کیا کہا ہوگا اور پتہ نہیں شہناس صدیقی کے پاس اسپتال میں جاکر اُس کے باپ کو اُسکی آمد کا بتاتی بھی ہے کہ نہیں آرزو اپنے کمرے میں موجود شیشے کے سامنے اپنا چہرہ دیکھنے لگی ایک طرف سوجھا ہوا گال دوسری طرف پھٹا ہوا ہونٹ تبھی تو صفائی کے دوران کام والی اُس کا چہرہ غور سے دیکھ رہی تھی کیوکہ کل شہناس نے اُس کو مار مار کر بری طرح اُس کے چہرے کا نقشہ بگاڑ ڈالا تھا ابھی وہ مزید اپنے چہرے پر غور و فکر کرتی اچانک اسے یاد آیا وہ باہر کا دروازہ بند کرنا بھول چکی ہے اِس سے پہلے آرزو لاؤنچ میں جاکر دروازہ لاک کرتی تبریز گھر میں داخل ہوچکا تھا تبریز کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر، اُس کی گھر میں داخل ہونے والی جرٔت پر آرزو کو غُصّہ آنے لگا
“کیوں آئے ہو تم یہاں پر، ہمت کیسے کی میرے گھر میں قدم رکھنے کی تم نے”
آرزو تبریز کی دلیری پر غصّہ کرتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی
“میری بات سن لو آرزو میں تمہیں یہ بتانے کے لئے آیا ہوں تمہارے اَبو کے مارے ہوئے تھپڑ کا بدلہ لینے کے چکر میں میرا دماغ خراب ہوگیا تھا لیکن پیار میں تم سے شدید کرتا ہوں یہ تمہارا چہرہ، کیا ہوا ہے تمہیں”
تبریز آرزو کے پاس آکر فکرمندانہ لہجے میں اُس سے پوچھنے لگا، جس کے بدلے میں آرزو نے تبریز کے گال پر ایک زور دار تھپڑ رسید کیا تبریز اپنے گال پر ہاتھ رکھے ہکابکا آرزو کو دیکھنے لگا
“یہ تھپڑ ہے تمہاری ساری باتوں کا جواب اُس دن میرے ابو نے تمہیں بالکل صحیح تھپڑ مارا تھا تم اِس قابل نہیں ہو کہ تم سے محبت کی جائے۔۔۔ محبت کرنے والے یوں رسوا کرنے کا سبب نہیں بنتے ہیں، تم نے فریب سے دھوکے سے مجھے بلوایا اور میں بےوقوف بنی اپنے ماں باپ کی عزت کی پرواہ کیے بغیر تمہاری محبت میں چلی آئی یہ میرا چہرہ دیکھ رہے ہو یہ انعام ملا ہے مجھے میری حماقت کا جو میں نے اپنی شادی سے ایک دن پہلے تمہارے پاس آکر کی، میں اب تمہارا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتی ہو چلے جاؤ یہاں سے”
آرذو تبریز کو باتیں سناتی ہوئی باہر دروازے کی طرف اشارہ کرتی ہوئی اسے جانے کا بولی
“آرذو میں تمہارے ابو سے بلکہ تمام گھر والوں سے معافی مانگو گا میرے پیرنٹس تمہارے گھر پر میرا رشتہ لےکر آئیں گے، پلیز مجھے ایک موقع دے کر دیکھو میں سچ میں محبت کرتا ہوں تم سے”
تبریز نے بولتے ہوئے آرذو کا ہاتھ تھامنا چاہا جسے اُس نے بےدردی سے جھڑک دیا
“تمہیں میرے ابو یا گھر والوں سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑ کر تم سے معافی مانگتی ہوں، تمہاری محبت نے مجھے بربادی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے میرا کردار میری فیملی کی نظر میں اِس قدر مشکوک ہوکر رہ گیا ہے کہ میں کسی سے نظریں تک ملانے کے قابل نہیں رہی ہو میرے ابو موت کے منہ سے واپس آئے ہیں پلیز اگر تمہیں تھوڑی سی شرم رہی تو آئندہ مجھے ملنے یا رابطہ کرنے کی کوشش مت کرنا۔۔ چلے جاؤ تبریز تمہیں خدا کا واسطہ ہے چلے جاؤ یہاں سے اِس سے پہلے دوبارہ کوئی فسانہ بنے اور میں مکمل طور پر برباد ہوکر رہ جاؤ پلیز میری زندگی سے ہمیشہ کے لئے چلے جاؤ”
بولتے ہوئے آرذو اپنا چہرہ چھپاکر رو دی تبریز اُس کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا اِس لئے شکستہ قدم اٹھاکر وہ گھر سے باہر نکل گیا
***””””***
“بس جی نصیب نصیب کی بات ہوتی ہے کس کی قسمت میں کیا لکھا ہوتا ہے اگر یہ پہلے سے معلوم ہوجائے تو انسان اپنے حالات ہی سدھار لیں۔۔۔ اب کسے معلوم تھا کہ لڑکے کی بڑی بہن کو آرزو کو پسند کر کے گئی اور عین شادی کے وقت پر لڑکے کو چھوٹی بہن پسند آگئی ماں باپ کیا کرتے شریف عزت دار لوگ جن پر تین تین بیٹیوں کی ذمہ داریاں بس جی خاموشی سے چھوٹی کو بیاہ دیا بےچاری لڑکی پر کیا گزری اُس سے کسی کو سروکار ہی نہیں۔۔۔ اور بےچارے صدیقی صاحب نے تو بیٹی کی محبت میں اِس قدر روگ لیا کہ سیدھا اسپتال ہی پہنچ گئے”
زبیدہ افسوس کرتی ہوئی پوری داستان کٹ جوڑ کرتی گلنار کو سنانے لگی جس پر گلنار افسوس کرتی ہوئی بولی
“بڑا ہی برا دور چل رہا ہے انسان بالکل بےضمیر اور بےشرم ہوچکے ہیں نہ تو اب کسی کو کسی کا احساس رہا ہے نہ ہی کسی میں لحاظ رہا ہے مجھے تو پہلی ہی نظر میں وہ بچی اپنے ہاشم کے لئے بےحد پسند آئے تھی تم ایسا کرو آرزو کی آمی سے پوچھ لو، جیسے اُن کو سہولت ہو تو پھر چلتے ہیں اُن کے گھر۔۔۔ مگر ذرا باتوں ہی باتوں میں انہیں بھی بتادینا کہ ہمارے بیٹے کو بھی رشتوں کی کمی ہرگز نہیں ہے بس ہمیں اُن کا گھرانہ شریف اور عزت دار لگ رہا ہے اور بیٹی پسند آگئی ہے تو سوالی بن کر اُن کی دہلیز پر آرہے ہیں”
گلنار اچھے موڈ میں باقی ساری لڑکیوں کی تصویریں زبیدہ کو تھماتی ہوئی بولی باقی دوسری لڑکیوں سے اب اسے دلچسپی نہ تھی دل اور دماغ دونوں ہی آرزو کو اپنی بہو اور ہاشم کی بیوی بنانے کے لیے آمادہ ہوچکے تھے
“ارے وہ تو آپ فکر ہی نہ کریں یہاں آپ کے پاس آنے سے پہلے شہناس آپا کے سامنے آپ کے بیٹے کی تعاریفوں کے ایسے پل باندھ کے آئی ہوں کہ شہناس آپا تو خوش ہوکر شکر ادا کررہی تھی”
زبیدہ گلنار کو بولتی ہوئی گلنار کے ہاتھوں میں نیلے نیلے نوٹ دیکھنے لگی جو وہ اپنے پرس سے نکال رہی تھی
“ابھی یہ رکھ لو زبیدہ باقی رشتہ کرنے کے مراحل طے ہوجاتے ہیں تو میں تمہیں تمہاری فیس دے دو گی سمجھو یہ میں تمہیں اپنی خوشی سے دے رہی ہوں”
گلنار سچ میں خوش تھی اور پیسے لینے کے بعد زبیدہ بھی کافی خوش ہوگئی ہاشم کو ڈھیر ساری دعائیں دیتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
“خیریت ہے آپ اکیلی بیٹھے بیٹھے مسکرا رہی ہیں”
ہاشم جو اُسی وقت آفس سے گھر لوٹا تھا گلنار کو دیکھتا ہوا بولا اور وہی صوفے پر گلنار کے پاس بیٹھ گیا
“مسکرا اِس لیے رہی ہوں کیونکہ میں خوش ہوں اور میں خوش اِس بات پر ہوں کہ جس لڑکی کو میں نے تمہارے لئے پسند کیا تھا بہت جلد اُس کے گھر تمہارا رشتہ لےکر جانے والی ہوں”
گلنار خوشی خوشی ہاشم کو بتانے لگی
“اچھا تو یہ بات ہے، پھر دعا کریں گے اُن لوگوں کو بھی آپ کا بیٹا پسند آجائے”
ہاشم فل الحال تو اس ٹاپک میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتا تھا مگر گلنار محسوس نہ کرے اِس لیے تبصرہ کرتا ہوا بولا
“ارے پسند کیوں نہیں آئے گا میرا بیٹا کیا نظر انداز کرنے والی شخصیت رکھتے ہو تم”
گلنار تفّکر بھرے انداز میں ہاشم کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔ 31 سالہ خوش شکل، خوش اخلاق پڑھا لکھا اچھی جاب پر فائز وہ سچ میں کہیں سے بھی نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں تھا
“آپ شاید بھول رہی ہیں کہ آپ کا بیٹا پہلے سے شادی شدہ ہے اور یہ بات نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں ہے”
ہاشم گلنار کی خوشی دیکھتا ہوا بولا کیونکہ وہ اِس رشتے کے لیے بہت زیادہ ایکسائیٹڈ نظر آرہی تھی اگر اِسی بات کو لےکر وہ لوگ رشتے سے انکار کردیتے تو لازمی بعد میں گلنار افسردہ ہوجاتی اور ہاشم ایسا نہیں چاہتا تھا
“آرذو کے گھر والوں کو پہلے ہی بتادیا ہے اور انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے اب تم منہ سے کوئی بھی بری بات نکال کر میرا موڈ خراب مت کرنا تمہاری بیوی ویسے ہی دوپہر میں مجھے کافی باتیں سناچکی ہے خیر اب تم چل کر خود ہی لڑکی دیکھ لینا بہت خوبصورت ہے آرزو، گھرانہ بھی شریف اور انتہائی عزت دار لوگ ہیں تم ساتھ چلو گے تو اچھا ہے وہ لوگ بھی تم کو دیکھ لیں گے ایسے ہی بات آگے بڑھے گی”
گلنار ہاشم کو سمجھاتی ہوئی بولی تو ہاشم اُس کی بات سے صاف انکار کرگیا
“لڑکی خوبصورت ہے فیملی عزت دار اور شریف ہے آپ اور دا جی مطمئن ہونے چاہیے، ماں جی آپ دونوں کی خوشی میں ہی میری خوشی ہے۔۔۔ ابھی آفس کے سو بکھیڑے پڑے ہیں ایسی میٹینگز کے لیے شاید میں اسپیشلی ٹائم نہیں نکال پاؤ پلیز مائنڈ مت کیجئے گا اِس بات کو”
ہاشم بولتا ہوا اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا گلنار نے اُس کی بات کا برا بھی نہیں مانا وہ ایوب خان کے ہمراہ آرزو کے گھر رشتے لےکر جانے کا ارادہ کر بیٹھی تھی یقیناً جب بھی ہاشم آرزو کو دیکھتا اُسے اپنی ماں کی پسند پر خوشی ہوتی گلنار کو پورا یقین تھا
***””””***
