Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel Readelle 50385

Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel Readelle 50385 Last updated: 22 November 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel

"آپ پلیز مجھے یہ چین پہنادیں" ہاشم کے چہرے پر شک کی پرچھائیاں دیکھ کر آرزو اس کا دماغ دوسری طرف لگانے کے غرض سے بولی "کیوں تمھارے ہاتھ نہیں ہیں کیا" ہاشم سنجیدگی سے آرذو کو دیکھ کر پوچھنے لگا لڑکیوں کی یوں دل لبھانے والی اداؤں سے وہ خوب واقف تھا پھر بھلا کیوں اِس لڑکی کی باتوں میں آجاتا "جی میرے پاس دو ہاتھ ہیں اور انہی ہاتھوں سے میں روز آپ کے سارے کام بھی کرتی ہوں" آرزو ہاشم کو دیکھ کر جتاتی ہوئی بولی "تو میرے کام کرکے احسان کرتی ہو مجھ پر" ہاشم سنجیدہ نظر اِس پر ڈالتا ہوا پوچھنے لگا آرزو کا دل چاہا وہ اُس آدمی کا دماغ درست کردے "احسان نہیں کرتی جانتی ہو آپ کے کام کرنا میرا فرض ہے میں نے بس یونہی آپ سے ایک بات کہہ دی تھی آپ کو اگر یہ چین نہیں پہنانی تو رہنے دیں بات کو یوں دل پر مت لیں" ہاتھ کی مٹھی میں چین دباۓ اُس کے ایٹیٹیوڈ پر لعنت بھیجتی ہوئی آرزو وہاں سے جانے لگی ویسے بھی وہ صرف اس کا ذہن فون کی طرف سے ہٹانے کے لیے ایسا کررہی تھی "سنو" ہاشم کی آواز پر آرزو کے قدم تھمے وہ پلٹ کر ہاشم کو دیکھنے لگی تبھی ہاشم سنجیدہ تاثرات چہرے پر لئے اُس کے پاس آیا اور آرزو کے ہاتھ سے چین لیتا ہوا اُس کے گلے میں پہنانے لگا اِس وقت ہاشم کی نظریں آرزو کے چہرے پر جبکہ آرزو کی نظریں ہاشم کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھی ہاشم کی انگلیوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرکے وہ سانس لینا بھول گئی، وہی ہاشم کی نظریں آرزو کے چہرے سے ہوتی ہوئی اُس کے ہونٹوں پر ٹہر گئیں "کیا ضرورت تھی کل اتنا بن ٹھن کر میرے دوست کے گھر جانے کی، منع کیا تھا نہ تمہیں کہ اتنا تیار ہوکر باہر مت جایا کرو" ہاشم نے کل رات تو اُس کی تیاری پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا مگر اِس وقت وہ آرزو کو چین پہنانے کے ساتھ اُس کے ہونٹوں کو دیکھتا ہوا بولا لیکن چاہ کر بھی وہ اپنے لہجے میں سختی کا عنصر نہ لاسکا "کل آپ نے میری تیاری دیکھ لی حیرت کی بات ہے۔۔۔ مجھے تو لگا آپ نے میری طرف ایک بار بھی نہیں دیکھا" آرزو مصنوعی حیرت کرتی ہاشم کو دیکھ کر طنزیہ بولی "ڈیپ ریڈ کلر کی شرٹ کے ساتھ گرین شفون کا ڈوپٹہ جو تم نے کندھے پر ایک سائیڈ پر لیا ہوا تھا مجھے پسند نہیں آیا اِس اسٹائل میں تمہارا دوپٹہ لینا کیوکہ تمہاری شرٹ کافی زیادہ فٹ تھی آئندہ خیال رکھنا۔۔۔ بالوں کو ہلکا کرل کرکے تم نے اِنہیں باندھنے کی ذحمت نہیں کی تھی، آئندہ مجھے اِس بارے میں دوبارہ نہ بولنا پڑے کہ اب تم کہیں بھی جاؤ گی تو تمھارے بال بندھے ہوئے ہونے چاہیے اور جو تم نے لپ اسٹک لگائی تھی ریڈ کلر کی وہ کافی ڈارک تھی بالکل سوٹ نہیں کررہی تھی تم پر اس لیے آئندہ تم ریڈ کلر کی لپ اسٹک بالکل نہیں لگاؤ گی" ہاشم کی نگاہیں ابھی بھی اُس کے ہونٹوں پر مرکوز تھی وہ بولتا جارہا تھا اور آرذو کو حیرت ہورہی تھی اتنا باریک بینی سے تفصیلی جائزہ اس کے شوہر نے اس کا آخر کس وقت لیا وہ اُس کی لپ اسٹک کے رنگ سے لےکر کپڑوں کی فٹنگ تک نوٹ کرچکا تھا "اگر آپ کو میرے تیار ہونے پر اعتراض ہے تو آپ ماں جی سے شکوہ کریں اُن کے کہنے پر ہی میں تیار ہوئی تھی اِس بات کے لئے آپ مجھ پر سختی نہیں کرسکتے جس معاملے میں میں خود بےبس ہوں" آرذو ہاشم کی نظریں اپنے ہونٹوں پر دیکھ کر اُس سے بولی ہاشم کی بہکی نظروں کو اپنے ہونٹوں پر دیکھ کر نہ جانے کیوں اُس کی اپنی نگاہیں ہاشم کے ہونٹوں کی طرف اُٹھنے کی گستاخی کر بیٹھی جن کو ہاشم کی نظروں نے جانچ لیا "اور بےبس انسان مجبوری کے عالم میں وہ کر گزرتا ہے جو اُس نے سوچا بھی نہ ہو" ہاشم بولتا ہوا آرذو کے ہونٹوں پر جھکا اور اپنے تشنہ لبوں کی پیاس آرزو کے ہونٹوں سے بجھانے لگا جبکہ ہاشم کے اِس عمل پر آرزو کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹنے لگی مگر اس سے پہلے ہاشم نے آرزو کے وجود کو اپنی گرفت میں جکڑ لیا "کیسا محسوس ہورہا ہے" اپنے ہونٹ آرذو کے ہونٹوں سے جدا کرنے کے بعد ہاشم آرزو سے سوال کرنے لگا جبکہ ہاشم کے سوال پر آرزو نہ سمجھنے والے انداز میں ہاشم کو دیکھنے لگی "میرا مطلب تھا صبح صبح اپنے بوائے فرینڈ سے فون پر بات کرکے کیسا محسوس کررہی ہو" ہاشم اب کی بار چبھتے ہوۓ لہجے میں آرذو سے سوال کرنے لگا کیوکہ جب اُس نے آرزو کو چین پہنانے کی غرض سے آواز دی تھی وہ ٹیلی فون کا ریسیور دیکھ چکا تھا جو اِس وقت گھبراہٹ میں آرزو غلط رکھ چکی تھی وہ آرزو کا خود سے مخاطب ہونا چین پہنانے کا بولنا سمجھ چکا تھا آرزو یہ سب اس کا مائینڈ ڈائیوڈ کرنے کے لئے بول رہی تھی "آپ غلط سمجھ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں۔۔۔ آرزو کا جملہ مکمل نہیں ہوا کہ اس سے پہلے ہاشم نے اُس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ لیا "تم ابھی بھی مجھ سے جھوٹ بول رہی ہو" ہاشم آرزو سے سخت لہجے میں بولا اور اسے کھینچتا ہوا ٹیلیفون کے پاس لے آیا۔۔۔ جہاں اُس نے آرذو کی وائس ریکارڈنگ چلادی تبریز سے اپنی بات چیت سن کر آرزو اپنے جھوٹ پر زمین میں گڑھ گئی