Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Diyar E Wehsat (Episode 6)

Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel

پورا ہفتہ گزر چکا تھا مگر وہ ابھی تک خوف کے حصار سے باہر نہیں نکلی تھی۔۔۔ ہیر پیلس میں جو کچھ اُس کے ساتھ پہلی رات ہوا تھا نہ تو ہیر وہ سب چاہ کر بھول سکتی تھی، نہ ہی وہ سب کسی کو بتاسکتی تھی۔۔۔ ہوش میں آنے کے بعد وہ صدمے کی کیفیت میں دیر تک روتی رہی تھی۔۔۔ فرغب بی اور شیر عباس کے پوچھنے پر فیملی یاد آرہی ہے کہہ کر اُس نے رونے کا جواز بنایا تھا

شیر عباس نیچر کے لحاظ سے ایک اچھا انسان تھا اُسے اداس دیکھ کر اچھے دوست کی طرح ٹریٹ کررہا تھا، اُس رات کے بعد سے ویسا کوئی واقعہ ہیر کے ساتھ دوبارہ پیش نہیں آیا تھا مگر وہ برگد کے درخت اور اُس کالے بِلّے سے کافی زیادہ ڈر گئی تھی

آج غذر کا موسم کافی خوشگوار تھا ہیر کی طبیعت فریش ہوجائے اس لیے شیر عباس اُسے پھندر ویلی لے آیا تھا اِس وقت ہیر بڑے سے چٹان نما پتھر بیٹھی ہوئی جھیل کے نیلے پانی کو دیکھ رہی تھی جو اتنا صاف اور شفاف تھا کہ اُس میں چھوٹے چھوٹے سائز کے پتھر صاف دکھائی دے رہے تھے یہاں آکر وہ قدرتی مناظر دیکھتے ہوئے اُن میں کھو کر کافی اچھا محسوس کررہی تھی تب اسے اپنی پشت پر کسی کی موجودگی کا احساس ہوا وہ خوفزدہ ہوکر اِس سے پہلے مڑتی شیر عباس اُس کو ایک دم شانوں سے تھام چکا تھا نہیں تو وہ سیدھی پانی میں جا گرتی

“یہ میں ہوں ہیر، یہاں میرے علاوہ آس پاس کوئی تمہیں دوسرا دکھ رہا ہے جو تم ایسے ڈر گئی ہو۔۔۔ کیا بچپن سے ہی اتنا چھوٹا دل ہے تمہارا کہ تم بات بات پر ڈر جاتی ہو”

شیر عباس ہیر کو شانوں سے تھاما ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ شیر عباس نے اِن سات دنوں میں محسوس کیا تھا وہ بہت زیادہ ڈرپوک سی لڑکی تھی جو بات بات پر خوفزدہ ہوجایا کرتی تھی

“میں سمجھی کوئی اور تھا” یہ جملہ تو شیر عباس کو جیسے رٹ چکا تھا وہ شیر عباس کو اچانک دیکھ کر یہی بولتی تھی

“میں پہلے ڈرپوک نہیں تھی مگر یہاں آنے کے بعد اب ہوگئی ہوں”

وہ ابھی بھی شیر عباس کی کالی گہری آنکھوں کو دیکھ کر اطمینان کرتی ہوئی بولی اور دل ہی دل میں شکر ادا کرنے لگی یہ شیر عباس ہی تھا۔۔۔ شیر عباس اُس بڑی چٹان پر ہیر کے قریب بیٹھ کر اُس کا ہاتھ تھامتا ہوا بولا

“یہاں پر ایسا کیا ہے جو تمہیں خوف میں مبتلا کرتا ہے”

شیر عباس کے اِس طرح پوچھنے پر وہ عجیب کشمکش میں پڑگئی کہ شیر عباس کو اپنے ساتھ ہوا واقعہ بتائے کہ نہیں، وہ فیصلہ نہیں کر پارہی تھی کیوکہ وہ شوہر تھا یہ سب کیسے سنتا ہیر بےبسی سے شیر عباس کو دیکھے گئی تب شیر عباس اپنا بازو پھیلا کر ہیر کے شانے پر دراز کرتا ہوا اُس سے بولا

“یہاں رہنے والے آبادی لوگوں نے ہیر پیلس کو لےکر ایسی ہی بےبنیادی کہانیاں گڑھ لی ہیں۔۔۔ اگر تم نے ایسا ویسا کچھ سن لیا ہے تو تمہیں اُن پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی میرے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔۔۔ اوکے”

شیر عباس ہیر کے شانے پر اپنا ہاتھ رکھے آنکھوں میں اپنائیت بھرے تاثُر کے ساتھ بےحد نرمی سے بولا تو ہیر اُس کو بتا بھی نہیں سکی کہ وہ یہاں آکر کون سا نقصان پہلی ہی رات اٹھا چکی ہے

“یار کچھ بولا تو کیا کرو تم، باتیں کیا کرو مجھ سے، بس ایسے ہی خاموشی سے دیکھتی رہتی ہو مجھے۔۔۔ تمہیں معلوم ہے نیچر کے لحاظ سے میں خود بھی کافی پرائیویٹ سا بندہ ہوں ہر کسی سے اتنی جلدی فرینک نہیں ہوتا مگر ہم دونوں کے بیچ بہت قریبی بہت گہرا رشتہ ہے تمہارے ہر وقت ڈرنے سے میں اپنے اور تمہارے رشتے میں چاہ کر بھی وہ اپنائیت محسوس نہیں کرپاتا جو اِس رشتے کی خوبصورتی ہے”

شیر عباس نے ہیر کو اپنی باتوں سے احساس دلاتے ہیں ذرا سا جھک کر اُس کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھے ویسے ہی ہیر خوف سے پیچھے ہوئی جس سے شیر عباس ایک دم ہیر کا ری ایکشن دیکھ کر خاموش ہوگیا اور خود ہیر بری طرح شرمندہ ہوگئی

“ایم سوری عباس آپ پلیز برا مت مانیے گا”

ہفتے بھر سے ایسے ہی ہوتا آرہا تھا شیر عباس جب جب ہیر کے قریب آنے کی کوشش کرتا، ہیر شیر عباس سے ایسے ہی خوفزدہ ہوجاتی اور شیر عباس ایک دم بناء کچھ بولے خاموش ہوجاتا

“چلو واپس چلتے ہیں اندھیرا ہونے والا ہے”

شیر عباس اُس کی بات پر بناء کوئی جواب دیئے بولتے ہوئے اٹھنے لگا

“عباس”

ہیر نے شیر عباس کو پکارنے کے ساتھ اپنے دونوں بازو اس کے گلے کے گرد حمائل کیے اور شیر عباس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپالیا۔۔۔ آج سے پہلے اِن گزرے ہوۓ دنوں میں ہیر نے یہ عمل پہلے کبھی نہیں کیا تھا اور اِس وقت اِس لیے کیا تھا کیوکہ وہ شیر عباس کو خود سے بدگمان یا ناراض نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔ ہیر کے اِس عمل سے شیر عباس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی

“اگر تم اپنائیت کا یہ اظہار نہیں کرتی میں تب بھی تم سے خفا نہیں ہوتا”

شیر عباس پتھر سے نیچے اترتے ہوئے ہیر سے بولا کیونکہ پتھر اونچا تھا وہ ہیر کو پکڑ کر احتیاط سے نیچے اتارنے لگا

سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی تیز سرد ہوا نے زور پکڑلیا تھا، ہیر شیر عباس کے ساتھ چلتی ہوئی گرم شال اپنے گرد اچھی طرح لپیٹنے لگی شیر عباس نے جیپ تھوڑی دور کھڑی کی تھی اِس لئے وہ دونوں ہی پیدل چل رہے تھے

شیر عباس دونوں ہاتھ جیکٹ کے جیبوں میں ڈالا تیز قدم اٹھاتا ہوا جیپ تک پہنچ چکا تھا جبکہ ہیر اُس سے کافی پیچھے تھی دور سے ہی بہت سے مویشی آنے لگے جن میں بھیڑ اور بڑے سینگوں والے پہاڑی بکرے تھے

“ہیر ان کو مت دیکھو وہ ابھی بہت دور ہیں، جلدی سے آجاؤ”

شیر عباس جیپ کے پاس کھڑا ہیر سے بولا جو ابھی سے کنفیوز ہوکر سڑک کراس کر کے دوسری طرف آنے کی بجائے سوچے جارہی تھی

“میں کیسے آسکتی ہوں آپ نہیں جانتے میں روڈ کراس کرنے سے ڈرتی ہوں”

ہیر بڑے بڑے سینگوں والے پہاڑی بکرے دیکھ کر تیز آواز میں شیر عباس سے بولی

“نہیں یہ بات تو میں اچھی طرح جانتا ہوں اور تمہاری بیوقوفی کے مظاہرے بھی دیکھ چکا ہوں”

شیر عباس بولتا ہوا وقت ضائع کیے بغیر ہیر تک پہنچا جب تک سارے مویشی سڑک پر اُن کے قریب آتے سیدھا اپنی منزل پر جانے لگے تھے۔۔۔ شیر عباس نے ہیر کا ہاتھ پکڑا تاکہ وہ ہیر کو اپنے ساتھ جیپ تک لے جاسکے

“نہیں پہلے اِن سب کو گزر کر یہاں سے جانے دیں”

ہیر شیر عباس کا ارادہ بھانپتی ہوئے ڈر کر بولی

“تعداد دیکھی ہے تم نے اِن سب کی”

شیر عباس نے ہیر سے بولتے ہوئے اچانک اسے اپنے بازوؤں میں اٹھالیا

“عب۔۔۔ باس یہ۔۔۔۔ یہ کیا کررہے ہیں آپ اُف”

ہیر شیر عباس کے اس عمل پر بوکھلا گئی بےشک اِس وقت وہاں کوئی نہ تھا اِس کے باوجود ہیر کو شرم آنے لگی شیر عباس اُس کے ڈر اور شرم کی پرواہ کئے بغیر اُسے مویشیوں کے بیچ سے بازوؤں میں اٹھائے اپنی جیپ تک لے آیا

“صرف دو منٹ کا کام تھا لیکن تم نے صبح کردینی تھی جیپ تک آتے آتے”

شیر عباس نے جیپ کے پاس آکر ہیر کو نیچے اتارتے ہوئے بولا مگر شرم سے ہیر کچھ بول بھی نہیں پائی

شام کا ڈھلتا ہوا منظر یا پھر ہیر کا شرمایا ہوا چہرہ شیر عباس کو سمجھ نہیں آیا کون سے منظر زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا

“اب ایسے کیا دیکھنے لگ گئے ہیں آپ”

ہیر شیر عباس کی نظروں سے نروس ہوتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی

“بہت جلد اپنا دیوانہ بنادو گی تم مجھے”

شیر عباس کھوۓ کھوۓ لہجے میں بولنے کے ساتھ ہیر کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتا ہوا اُسے دیکھے گیا

“اور مجھے لگ رہا ہے بہت جلد آپ مجھے پاگل بنادیں گے”

ہیر نے شیر عباس کی حرکت پر بولا کیونکہ وہ اُسے یوں کسی بچے کی طرح بازوؤں میں اٹھا لایا تھا کہ وہ سبنھل بھی نہیں پائی تھی ہیر کے جملے پر شیر عباس کے چہرے کے تاثرات ایک دم تبدیل ہوئے

“وہ تو بنا ہی دوں گا یہی تو پلان ہے”

شیر عباس کی بےتاثر آنکھوں کو دیکھ کر ہیر سمجھ نہیں پائی یہ بات اُس نے مذاقاً بولی تھی یا پھر یونہی

واپسی پر ہیر تھکی ہوئی تھی اِس لیے سیٹ سے سر ٹیک کر اُس نے اپنی آنکھیں بند کرلی جبکہ شیر عباس اب خاموشی سے ڈرائیونگ کررہا تھا

***””””***

ہسپتال کے کاریڈور میں دور دور تک ہیر کی چیخوں کی آوازیں گونج رہی تھی اِس وقت وہ اپنے آپے میں نہیں تھی اور زور زور سے چلا رہی تھی

“کون ہے اِس پیشنٹ کے ساتھ خاموش کروائیے اسے دوسرے مریض بھی ڈسٹرب ہورہے ہیں اِس کی چیخنے سے”

ہسپتال کی نرس فرغب بی کے پاس آتی ہوئی بولی تو فرغب بی اٹھ کر ہیر کے پاس کمرے میں جانے لگیں

“پاگل ہے بےچاری کل رات کو بھی ایسے ہی چلا رہی تھی”

فرغب بی نے کاریڈور میں ایک عورت کو بولتے ہوۓ سنا وہ اُس عورت کو بناء کچھ بولے کمرے میں ہیر کے پاس چلی آئیں

جہاں چار چار وارڈ بوائز نے ہیر کو پکڑ رکھا تھا مگر ہیر اِس کے باوجود بےقابو ہوکر ذور سے چلاتی ہوئی ان لوگوں سے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش میں زور زور سے چیخیں مار رہی تھی

“ہیر رحم کھاؤ اپنی حالت پر، سنبھالو اپنے آپ کو خدا کے لیے خاموش ہوجاؤ”

فرغب بی روتی ہوئی ہیر کی حالت دیکھ کر بولی کُھلے بال ابتر حلیہ سچ مچ وہ پاگل ہی ہوچکی تھی اُس پریگنینسی کی حالت میں

“یہ کیا کررہی ہیں آپ۔۔ ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا ہے کہ اِس کو کوئی بھی انجکشن دینے کے لیے، پریگنینسی میں یہ کتنا خطرناک ہے آپ کو اندازہ نہیں ہے”

فرغب بی اُس نرس کو ٹوکتی ہوئی بولیں جو سرنچ بھر رہی تھی

“بی بی ہمہیں مت سکھاؤ جاؤ جاکر باہر بیٹھو۔۔۔ بلکہ یہاں اِس کے شوہر کو بلاؤ، گیارہ ماہ سے اوپر ہوچکے ہیں بچے کی گروتھ دن بدن بڑھتی جارہی ہے ڈاکٹرز نے اب اوپریشن کرنے کا بول دیا ہے”

نرس فرغب کو بولتی ہوئی نئی مصیبت میں مبتلا کرکے ہیر کو انجکشن لگانے لگی

***””””***

“ماشاء اللہ ہمیں تو بہت زیادہ پسند آئی ہے آپ کی بیٹی”

گلنار اپنے ساتھ بیٹھی آرزو کو دیکھتی خوش ہوکر صدیقی اور شہناس سے بولی، ساتھ ہی ایوب خان کی راۓ لینے کے لیے اُن کی جانب دیکھنے لگی ایوب خان نے بھی مسکرا کر ہلکے سے اثبات میں سر ہلایا یعنٰی اُن کو بھی اپنے پوتے کے لیے آرزو بہت زیادہ پسند آئی تھی

“الحمداللہ ہم نے اپنی تینوں بیٹیوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ اخلاقیات کا درس بھی دیا ہے۔۔۔ اوپر والے نے جہاں میری بچیوں کا نصیب لکھا ہے مجھے پوری امید ہے یہ تینوں ہمارا سر کبھی نہیں جھکائیں گیں”

کیوکہ شہناس کو زبیدہ بتاچکی تھی اِن کی پہلی بہو کافی بدتمیز اور منہ پھٹ قسم کی لڑکی تھی اِس لیے شہناس خاص طور پر اخلاقیات کا ذکر کرتی ہوئی بولی جبکہ آرزو سر جھکائے بیٹھی شہناس کا تبصرہ سننے لگی۔۔۔ شہناس اور صدیقی اُس کے لیے اِس رشتے پر خوش نظر آرہے تھے جو پہلے سے شادی شدہ ہونے کے ساتھ عمر میں اُس سے دس سال بڑا تھا

“اخلاق ہی سب سے بڑی دولت ہوتی ہے جو اِس زیور سے آراستہ ہو تو آنے والی نسل بھی اچھی طرح پروان چڑھتی ہے صدیقی صاحب ہمہیں آپ کی بیٹی اپنے پوتے کے لیے پسند آئی ہے ہم چاہیے گے کہ آپ بھی ہمارے گھر تشریف لاکر ہمارے پوتے ہاشم خان سے مل لیں، اُسے دیکھ لیں، اچھی طرح بات چیت کرلیں ہم فضول کی رسموں میں پڑ کر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے اگر ہاشم سے ملاقات کے بعد آپ مطمئن ہوتے ہیں تو شادی کی تاریخ مقرر کرکے اگلے ماہ ہی اِس اہم فریضے کی ادائیگی کریں گیں”

ایوب خان بھی گفتگو میں حصّہ لیتے ہوۓ بولے اتنی جلدی شادی کا سن کر صدیقی اور شہناس دونوں ہی بوکھلا کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے آرزو کا سر کچھ اور نیچے جھک گیا بےاختیار آنکھیں نم ہونا شروع ہوگئیں

“امامہ بیٹا آرذو کو کمرے میں لے جاؤ”

شہناس چائے سرو کرتی ہوئی امامہ سے بولی وہ آرذو کی دل کی کیفیت سے خوب انجان تھی اِس لیے بالکل نہیں چاہتی تھی آرذو کے کسی عمل سے گلنار کو کچھ شک ہو

“زبیدہ بہن نے آپ کے پوتے کی تصویر دیکھائی تھی ماشاللہ کافی سنجیدہ اور پروقار شخصیت ہے اُس کی، اُس سے مل کر یقیناً ہمیں خوشی ہوگی لیکن اتنی جلدی شادی۔۔۔۔ آپ ہمہیں تھوڑا وقت دیں”

امامہ آرزو کو اپنے ساتھ لےکر جاچکی تھی صدیقی اپنی بوکھلاہٹ چھپاۓ ایوب خان سے بولا شہناس بھی فوراً گلنار کو دیکھتی ہوئی بتانے لگی

“دراصل ابھی دو ہفتے پہلے ہی ہم نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کی شادی کی ہے اتنی جلدی دوسری کو بھی رخصت کردیں ایسا فوری تو ممکن نہیں، اِس لئے آپ ہمیں تھوڑا وقت دیں”

شہناس گلنار کو دیکھتی ہوئی سلیقے سے بولی ہوئی وہ لوگ بھی جلدی آرذو کو بیانہ چاہتے تھے مگر ہاشم کے گھر والوں کو شاید اُن سے بھی زیادہ جلدی تھی

“ہمیں صرف آپ سے آپ کی آرزو چاہیے جہیز کے نام پر ہم ایک سکہ بھی نہیں لیں گے ابا جی جہیز کے سخت خلاف ہیں، اُس طرف سے آپ بالکل مطمئن ہوجائیں”

گلنار بول ہی رہی تھی تبھی دو اجنبی لوگ ایک مرد اور ایک خاتون ڈرائنگ روم میں چلے آئے جسے دیکھ کر صدیقی اور شہناس کے تاثرات پر ناگواری در آئی

“جی بولیئے کس سلسلے میں آنا ہوا آپ لوگوں کا”

صدیقی سنجیدہ تھوڑے خشک لہجے میں اُن لوگوں سے بولا ایوب خان اور گلنار بھی اُن لوگوں کو دیکھ کر خاموش ہوگئے

“ہم آپ کی دو گلی چھوڑ کر رہتے ہیں اپنے بیٹے تبریز کا رشتہ آپ کی بیٹی آرزو کے لئے لےکر آئے ہیں آپ ابھی اپنے مہمانوں کے ساتھ مصروف ہیں ہم لوگ دوبارہ آجاتے ہیں”

ٹیبل پر چنے گئے لوازمات ایوب خان اور گلنار کو دیکھ کر وہ خاتون بولی جو تبریز کی ماں تھی، ان خاتون کی بات سن کر ایک دم ماحول میں سنجیدگی چھاگئی گلنار بھی خاموش نظروں سے ایوب خان کو دیکھنے لگی

“معاف کیجئے گا آپ نے آنے میں کافی دیر کردی ہم اپنی بیٹی کا رشتہ اِن کے پوتے سے طے کرچکے ہیں”

صدیقی کی اب کی بار آواز گونجی تو جہاں آنے والوں کو اپنا یہاں آنے کا مقصد بےکار لگا وہی ایوب خان اور گلنار کو رشتہ پکا ہونے پر اطمینان ہوگیا

***””””***

آج طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہیر کی آنکھ کھل گئی اُس نے اپنے برابر میں سوئے شیر عباس کو دیکھا عادت کے مطابق آج ہیر نے روز کی طرح کھڑکی کے پردے نہیں ہٹائے تھے کہیں اس عمل سے شیر عباس کی نیند خراب نہ ہوجاتی بیس دن اُن دونوں کی شادی کو گزر چکے تھے، ہیر کا گرہیز سمجھتے ہوئے شیر عباس نے ابھی تک اُس کو ٹائم دیا تھا جبر یا زبردستی کا وہ عادی نہیں تھا بلکے جتنا ممکن ہوسکتا تھا وہ ہیر کا خیال بھی رکھتا تھا

اُس دن کے بعد سے ہیر نے کوئی ایسا واقعہ نہیں دیکھا، نہ کچھ اُس کے ساتھ ایسا ہوا اِس لیے ہیر کا ڈر اور خوف ختم ہوچکا تھا ہیر بیڈ اٹھ کر لباس تبدیل کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی اِس وقت ہال بالکل سنسان تھا فرغب بی ابھی تک نہیں جاگی تھیں نہ ہی ابھی تک کوئی ملازم ہیر پیلس آیا تھا بڑے سے ہال کا جائزہ لیتی ہوئی ہیر کی نظریں لکڑی کے اُس پیانو پر ٹھہر گئی۔۔۔ آج تک اُس نے شیر عباس کو اِس پیانوں کو بجاتے نہیں دیکھا تھا نہ جانے اِس پیانو کو یہاں شوقیہ رکھا گیا تھا یا پھر سجاوٹ کے لئے۔۔۔ ہیر قدم اٹھاتی ہوئی پیانو کی طرف بڑھی اُس نے پیانو کی ایک کی کو انگلی سے دبایا تو پورے ہال میں آواز بیدار ہوئی۔۔۔ آہستہ سے وہ ساری انگلیاں پیانو کی کیز پر رکھتی ہوئی پیانو بجانے لگی، پورا ہال پیانو کی آواز سے گونج اٹھا

“لالالالا”

ساتھ ہی کوئی نسوانی آواز ہیر کو سنائی دینے لگی جیسے اُس کے پیانو بجانے کے ساتھ کوئی گا رہا ہو، ہیر نے اپنی انگلیوں کی حرکت کو وہی روک دیا تو آواز بھی آنا بند ہوگئی

چند سیکنڈ یونہی خاموشی سے گزر گئے ہیر نے اپنے چاروں اطراف نظر دوڑائی پھر اُس نے دوبارہ پیانو بجایا دوبارہ سے نسوانی آواز میں کوئی گنگنانے لگا اس نے ایک دم پیانو کی کیز سے اپنی انگلیاں ہٹالی ویسے ہی آواز بھی آنا بند ہوگئی۔۔۔ ہیر الجھ کر اب اُس سنسان راہداری کو دیکھنے لگی جہاں سے یہ آواز آرہی تھی

جب پہلے ہی دن سے فرغب بی نے اسے وہاں جانے سے روکا تھا تو ہیر نے بھی اُس جگہ پر دھیاں نہیں دیا تھا، نہ ہی اتنے دن گزرنے کے بعد اِس ویران راہداری نے اس کی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی لیکن آج ہیر کو محسوس ہوا اس جگہ پر کوئی موجود ہے خودبخود ہیر کے قدم اُس راہداری کی جانب بڑھنے لگے

“کون ہے یہاں پر”

ہیر اُس راہداری میں پہنچی جہاں چار کمرے موجود تھے اُن کمروں میں دائیں جانب موجود کمرے میں سرخ رنگ کی بتی جلتی اُس کو دروازے کی جھری سے نظر آرہی تھی جبھی وہ تیز آواز میں پوچھنے لگی مگر وہاں سناٹے کا عالم تھا وہ کشمکش میں پڑگئی اِس کمرے میں جاۓ یا نہ جائے۔۔۔۔ اس کمرے کو چھوڑ کر ہیر نے اُس کے برابر والا دوسرا کمرہ کھولا یہ راستہ باہر کو جاتا تھا مطلب یہ ہیر پیلس کا پچھلا بیرونی حصّہ تھا جہاں اندر کی طرف دروازہ کھلتا تھا۔۔۔ ہیر وہی دروازے کے پاس کھڑی دس قدم کے فاصلے پر بڑے سے درخت کے نیچے اُس قبر کو دیکھنے لگے جس پر کوئی کتبہ موجود نہیں تھا

نہ جانے یہ قبر کس کی تھی اور اس جگہ کیوں موجود تھی ہیر نے سوچتے ہوۓ واپس دروازہ بند کردیا آگے جانے کی اُس کی ہمت نہیں ہوئی بائیں جانب موجود کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوگئی اُس کمرے میں کاٹھ کباڑ پرانا سامان اور ایک کونے میں شیشے کی لاتعداد بوتلیں پڑی تھی، جن میں سے اُٹھتے بدبو کے بھبھکے کی وجہ سے ہیر کو دوپٹہ اپنی ناک پر رکھنا پڑا

وہ چاروں اطراف نظر دوڑاتی ہوئی پرانے اور بیکار سامان کو دیکھ رہی تھی تب اُس کی نظر اچانک اپنی تصویر پر گئی۔۔۔ ہیر اپنی بنائی ہوئی پینٹنگ دیکھ کر چونکی کیا یہ شیر عباس نے بنائی تھی؟؟ وہ حیرت زدہ ہوکر چلتی ہوئی اپنی تصویر کے پاس آکر اس کو قریب سے دیکھنے لگی

اُس پینٹنگ کے پاس ہی ایک چھوٹا سا صندوق بھی رکھا ہوا تھا ہیر کچھ سوچتی ہوئی صندوق کو کھولنے لگی جس کے اندر سرخ رنگ کے کپڑے میں کچھ لپٹا ہوا رکھا تھا۔۔۔ تجسس میں آکر ہیر نے سرخ رنگ کے کپڑے کو ہٹایا یہ کوئی وزنی شے تھی کپڑا ہٹتے ہی اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی۔۔۔ خوف کے مارے جھرجھری لےکر وہ ایک دم پیچھے ہٹی اور کمرے سے باہر نکلتی ہوئی راہداری سے باہر نکلنے لگی تبھی اچانک وہ شیر عباس سے ٹکرائی

“کیا کررہی تھی تم اِس جگہ پر”

شیر عباس ہیر کو اسٹوروم سے نکلتا ہوا دیکھ کر سخت لہجہ اختیار کرتا ہیر سے پوچھنے لگا

“عباس۔۔۔ وہ وہاں اِس کمرے میں باکس کے اندر میرا۔۔۔۔

ہیر گبھراتی ہوئی آواز میں شیر عباس کچھ بولتی اچانک فرغب بی نے شیر عباس کو پکارا۔۔۔ ہیر نے پلٹ کر دیکھا فرغب بی اُسی کمرے سے باہر نکل رہی تھیں جہاں تھوڑی دیر پہلے اُس نے سرخ بتی جلتی ہوئی دیکھی تھی۔۔۔ شیر عباس کی توجہ فرغب بی اپنی جانب مائل کرچکی تھیں

“ایک ضروری کام ہے شیر عباس، آپ کو میرے ساتھ آنا ہوگا”

فرغب بی نے شیر عباس سے بولتے ہوئے ایک خاموش نظر ہیر کے چہرے پر ڈالی۔۔۔ ہیر اپنی پریشانی میں بھی محسوس کر گئی تھی جیسے فرغب بی اُس کی موجودگی کی وجہ سے شیر عباس سے کھل کر بات نہیں کر پارہی تھیں

“فرغب بی نے تمہیں پہلے ہی دن سمجھایا تھا کہ یہاں اِس جگہ کسی کو آنے کی اجازت نہیں، تو یہ بات تمہیں سمجھ نہیں آئی”

شیر عباس فرغب بی کی بات سن کر اُن کا اشارہ سمجھتا ہوا ایک مرتبہ پھر غصّے میں ہیر سے بولا

“عباس میری بات سنیں وہاں اُس کمرے کے اندر۔۔۔

ہیر آب روتی ہوئی اِس سے پہلے کچھ بولتی شیر عباس اُس کی پوری بات سنے بغیر ہیر کو بازو سے پکڑ کر ہال سے باہر لے جانے لگا

“یہاں پر جو حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کو سزا دی جاتی ہے اور تمہاری سزا یہ ہے کہ تم فل الحال مجھے ہیر پیلس میں نظر نہ آؤ”

شیر عباس نے غصّے اور سخت لہجے میں بولتے ھوئے اسے ہال سے باہر نکال کر اندر سے دروازہ بند کردیا

“عباس پلیز دروازہ کھولیں۔۔۔ عباس”

ہیر پریشان ہوکر دروازہ بجاتی ہوئی بولی لیکن ہیر کو محسوس ہوا جیسے شیر عباس اِس وقت وہاں موجود نہیں تھا وہ شاید فرغب بی کے پاس چلاگیا تھا

ہیر کو شیر عباس سے اتنے سخت رویہ کی بالکل توقع نہ تھی وہ پریشان ہونے لگی اتنی صبح کے وقت شیر عباس اسے اپنے خوبصورت محل سے نکل چکا تھا وہ بھی اتنی چھوٹی سی بات کے لئے۔۔۔ ہیر کو مزید رونا آنے لگا

ہیر پیلس کے مین گیٹ سے باہر ایک عورت کھڑی دور سے ہیر کو دیکھ رہی تھی اِس وقت گیٹ پر پہرے دار موجود نہیں تھا گیٹ زنجیر سے بند تھا مگر جھری سے ہیر صاف اُس عورت کو دیکھ سکتی تھی ہیر کو محسوس ہوا جیسے وہ عورت اُس سے کچھ بولنا چاہیے رہی تھی ہیر اُس عورت کے پاس چلی آئی

“بھاگ جاؤ یہاں سے، کہیں دور چلی جاؤ مار ڈالے گا یہاں کا آسیب تمہیں بھی۔۔۔ یہ جگہ منحوس ہے یہاں کوئی آباد نہیں ہوسکتا اس جگہ نے میرے بیٹے مائیکل کی بھی جان لےلی۔۔۔ تم بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گی میری مانو دور چلی جاؤ اِس منحوس جگہ کو چھوڑ کر”

وہ عورت ہیر سے بولے جارہی تھی ہیر پر عجیب خوف سا طاری ہونے لگا ہیر کو محسوس ہوا وہ عورت بولتے بولتے اُس سے دور جارہی تھی پھر ایک دم ہوا میں تحلیل ہوگئی

غذر کا جنگل سرکتا ہوا آہستہ آہستہ اُس کے قریب آنے لگا ہیر خوفزدہ ہوکر اُس بھیانک ویران جنگل کو دیکھنے لگی اچانک ہیر کی توجہ برگد کے درخت نے لےلی

وہی اُس رات والا موٹا کالا بِلا اچانک اُس درخت کے پیچھے سے نمودار ہوا خوف کے مارے ہیر کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے وہ کالا بلّا ہیر کی جانب بڑھتا ہوا اچانک انسانی روپ میں خود کو بدل چکا تھا کالے لباس، ہری آنکھوں میں شیر عباس کے روپ میں۔۔۔۔ وہ ہیر کو دیکھتا ہوا بولا

“تم اب یہاں سے کہیں نہیں جاسکتی میں تمہیں بہت جلد یہاں سے اپنے ساتھ لے جاؤ گا اپنی دنیا میں ہمیشہ کے لیے”

اُس کی بات پر خوف کے مارے ہیر کے حواس کام کرنا چھوڑتے گئے ہیر گیٹ کے پاس گر کر وہی بےہوش ہوگئی

***””””***

“کیا اَمّی کی ہیر سے بات ہوئی وہ آرہی ہے”

امامہ جو آفس جانے کے لیے تیار ہورہی تھی، آرذو اُس سے پوچھنے لگی کیوکہ صدیقی اور شہناس اُس سے بات چیت بند کرچکے تھے

“اَمّی کی ہیر سے نہیں عباس بھائی سے بات ہوئی تھی۔۔۔ اَمّی نے ہیر کے ساتھ اُن کو بھی آنے کی عادت دی تھی تاکہ تمہارے نکاح میں دونوں میاں بیوی کی شرکت ہوجاۓ مگر عباس بھائی نے اپنے آنے کا منع تو کیا ہی ہیر کو بھیجنے سے بھی انکار کردیا”

امامہ آئینے کی سامنے کھڑی بال بنانے کے ساتھ آرذو کو بتانے لگی

“ہیر نے خود منع کرنے کا بول دیا ہوگا اپنے شوہر کو، میں جانتی ہوں وہ مجھ سے ناراض ہے جبھی مجھ سے فون پر بات کرنا بھی پسند نہیں کرتی تو میرے نکاح میں شرکت کیوں کرے گی”

آرزو بیڈ پر پڑی چادر تہہ کرتی ہوئی بےدلی سے امامہ سے بولی ویسے بھی اُس کی اپنی شادی کون سا اُس کی اپنی مرضی سے یا پسند سے ہورہی تھی، وہ خود اِس شادی پر خوش نہ تھی بس اُس نے اپنی شادی کو اپنی غلطی کی سزا کے طور پر قبول کرلیا تھا

“بھلے وہ تم سے موبائل پر بات نہیں کرتی لیکن وہ یہاں آنا چاہتی تھی اُس نے مجھے فون پر بات کرتے ہوئے خود بولا تھا، اب معلوم نہیں عباس بھائی ایسا کیوں نہیں چاہتے۔۔۔ خیر جو بھی بات ہو تم زیادہ محسوس مت کیا کرو، اچھا ذرا اَمی کے کمرے میں جاکر وہ پرچہ لے آؤ جس پر سامان کی لسٹ ہے میں واپسی پر لیتی آؤنگی”

امامہ آخری جملہ آرذو کا افسردہ چہرہ دیکھ کر اُس کا دھیان بٹانے کی غرض سے بولی

ہیر سے اُن لوگوں کی کم ہی بات ہوتی تھی کل امامہ کی ہیر سے بات ہوئی تب ہیر نے آرذو کی شادی کا سن کر اپنے کراچی آنے کا ارادہ بتایا تھا مگر آج صبح ہی شہناس کے فون پر دعوت دینے پر عباس صاف لفظوں میں انکار کرچکا تھا اب معلوم نہیں یہاں آنے میں اُس کی کوئی مجبوری تھی یا ویسے ہی وہ کسی بات کا برا مان کر بیٹھا تھا

***””””***

“بہن کی شادی میں چھوٹی بہن شرکت نہیں کرسکتی ایسا کیسے ممکن ہے میں خود بات کرتا ہوں شیر عباس سے”

بیڈ پر لیٹے ہوئے صدیقی نے ہیر کے نہ آنے کی بات سنی تو وہ شہناس سے بولا

“کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کو کال کرکے شیر عباس کو مجبور کرنے کی، آپ بھول رہے ہیں شیر عباس کی شادی ہیر سے پہلے آرذو سے ہونے والی تھی شاید اِس بات کی وجہ سے اُس نے خود آنے کا منع کردیا اور ہیر کو بھیجنے سے بھی انکار کردیا۔۔۔۔ صدیقی صاحب اگر دیکھا جائے تو اِسی میں ہی بہتری ہے کہ وہ دونوں آرزو کی شادی میں یہاں نہ آئیں اِس لیے میں نے خود بھی شیر عباس سے اِس موضوع پر زیادہ بات نہیں کی۔۔۔ ہمیں اِس بات کا اطمینان ہونا چاہیے کہ اُس نے ہماری ہیر کو خوش رکھا ہوا ہے”

شہناس صدیقی کو بولتی ہوئی اُس کی میڈیسن دینے لگی تو صدیقی خاموش ہوگیا

“کون ہے اندر آجاؤ”

کمرے کے دروازے پر دستک کی آواز پر آرزو کمرے کے اندر چلی آئی

“آپی وہ لسٹ مانگ رہی ہیں جو آپ نے کل رات تیار کی تھی، بول رہی تھیں واپسی گھر آتے وقت سارا سامان لے آئیں گیں”

آرزو دھیمی آواز میں نظر جھکاۓ شہناس سے بولی وہ جانتی تھی اِس وقت صدیقی کی اُس کی جانب دیکھ بھی نہیں رہا ہوگا جبکہ شہناس کے تاثرات بھی ایک دم سخت ہوگئے ہوگے

“دراز میں رکھی ہے نکال کر امامہ کو دے دو اور اُس سے بول دو اپنے ابو کی دوائی بھی لیتی آئے ختم ہونے والیں ہیں”

شہناس بےلچک لہجے میں بولی۔۔۔ صدیقی کے بیمار رہنے کی وجہ سے اب گھر کے کاموں کی ذمہ داری بھی امامہ کے کندھوں پر آچکی تھی جسے وہ بناء شکایت کیے خوش اسلوبی سے نبھانے کی پوری کوشش کرتی

“آرزو یہاں آکر بیٹھو میرے پاس”

آرذو پرچہ ہاتھ میں پکڑے کمرے سے جانے لگی تک صدیقی کی آواز پر نہ صرف آرذو نے پلٹ کر صدیقی کو دیکھا بلکہ شہناس بھی چونک کر اپنے شوہر کو دیکھنے لگی جو آرذو سے مخاطب اُسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ آرزو چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر چلتی ہوئی صدیقی کے پاس آکر بیڈ پر بیٹھ گئی

“کوئی بھی مرد دنیا کے لئے چاہے کتنا بھی ظالم ہو، برا ہوں، دھوکے باز ہو مگر اپنی اولاد کے لیے وہ صرف ایک باپ ہی ہوتا ہے باپ بن کر اپنی اولاد کے لیے سوچتا ہے، باپ بن کر وہ اپنی اولاد کے لیے وہ فیصلے کرتا ہے جس میں اُس کی اولاد کی بھلائی چھپی ہو اگر تمہیں لگتا ہے کہ تمہاری غلطی پر ہم تمہاری شادی ہاشم سے کررہے ہیں جو کہ پہلے سے شادی شدہ مرد ہے تو ایسی بات نہیں ہے۔۔۔ جو پچھلے دنوں ہمارے گھر کے حالات رہے ہیں زبیدہ کو اُن تمام حالات کی خبر تھی اور جو رشتہ اُس نے تمہارے لیے بتایا مطلب ہاشم کا رشتہ زبیدہ اُس کے گھر کے حالات سے بھی واقف ہے ہاشم کے گھر جاکر اُس کو دیکھنا اُس سے بات چیت کرنا یہ سب دنیاوی تقاضے ہیں میں اور شہناس تمہارے لئے ہاشم کو پسند کرچکے ہیں ہاشم کی پوچھ گچھ میں اپنے قریبی دوست سے کروا چکا ہوں وہ کسی بری صحبت میں ملوث نہیں ہے ہاشم کی ماں اور دادا تمہیں بہت مان سے عزت سے رخصت کر کے یہاں سے لے جائیں گے میں چاہتا ہوں تم اُن کے ساتھ اپنے شوہر کے دل میں بھی اپنے لیے عزت اور مقام پیدا کرو، تم لوگوں کی ماں نے تم تینوں کی پرورش جس طرح کی اُس تربیت کو کسی غیر کی نظروں میں چھوٹا مت پڑنے دینا۔۔۔ ہاشم کے دل کے ساتھ اس کے گھر والوں کے دل میں بھی اپنے لئے مقام پیدا کرنا اور آخری بات اولاد چاہے بڑی سے بڑی غلطی کرلے، ماں باپ کا چاہے کتنا ہی دل دکھالے مگر ماں باپ کبھی بھی اپنی اولاد سے محبت کرنا نہیں چھوڑ سکتے”

صدیقی کی بات سن کر آرذو کو بےتحاشہ رونا آنے لگا وہ صدیقی کے سینے پر سر رکھے آنسو بہانے لگی شہناس خود بھی اپنی آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرنے لگی

***””””***

“بھاگ جاؤ یہاں سے کہیں دور چلی جاؤ مار ڈالے گا یہاں کا آسیب تمہیں بھی۔۔۔ یہ جگہ منہوس ہے یہاں کوئی آباد نہیں ہو سکتا،، میرے بیٹے مائیکل کی جان لے لی اِس جگہ نے تم بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گی۔۔۔ میری مانو تو دور چلی جاؤ اِس منہوس جگہ کو چھوڑ کر”

اُس بوڑھی عورت کی آواز ایک مرتبہ پھر ہیر کے کانوں میں گونجی، ہیر نے چکراتے ہوئے سر کے ساتھ اپنی آنکھیں کھولی تو خود کو بیڈروم میں موجود پایا۔۔۔ اُس عورت کی باتیں یاد کرکے اسے عجیب سی وحشت ہونے لگی اُسے یہاں اِس جگہ پر نہیں رہنا تھا ویسے بھی کل امامہ سے بات کرتے ہوئے اس نے اپنے کراچی آنے کی حامی بھرلی تھی، اپنی سوچوں میں گم کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس کیے بغیر وہ بیڈ سے اٹھ کر نیچے اترنے لگی

“کہاں جارہی ہو”

شیر عباس جو دائیں جانب صوفے پر بیٹھا ہوا ہیر کو ہوش میں آتا دیکھنے کے ساتھ اُس کے تاثرات کو بغور جانچ رہا تھا ہیر کو بیڈ سے نیچے اترتا ہوا دیکھ کر پوچھنے لگا

“آپ نے تو مجھے یہاں سے نکال دیا تھا تو پھر واپس کیو لےکر آئے ہیں آپ مجھے دوبارہ”

ہیر کو شیر عباس کا اپنے ساتھ کیا جانے والا سلوک ذرا پسند نہیں آیا تھا وہ شیر عباس سے شکوہ کرتی ہوئی پوچھنے لگی

“تمہارے غلطی کرنے پر تمہیں سزا دی تھی، لیکن اب میں چاہتا ہوں کہ تم یہی رہو”

بیسمینٹ میں اُس کی بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر شیر عباس کو فرغب بی کے ساتھ بیسمنٹ میں جانا تھا کیونکہ اُس کو دورہ پڑنے کی صورت وہ زور زور سے چیختا چلاتا ایسے میں یا تو شیر عباس یا پھر ایبک ہی اُسے قابو کرپاتے، یہ کام اکیلی فرغب بی کے بس کا نہ تھا۔۔۔۔ بہت سی پوشیدہ باتوں کے ساتھ شیر عباس ہیر کو اُس کے متعلق ابھی کچھ نہیں بتاسکتا تھا تبھی شیر عباس ہیر کو پیلس سے باہر نکال چکا تھا مگر جب اُس نے ہیر کو گیٹ پر بےہوش پڑے دیکھا تو ہیر کو بےہوشی کی حالت میں اٹھاکر واس اپنے کمرے میں لے آیا

“لیکن میں اُس بھوت بنگلے میں نہیں رہنا چاہتی میں واپس جارہی ہوں”

ہیر بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اور فیصلہ کن انداز میں شیر عباس سے بولی۔۔۔ ہیر کی بات سن کر شیر عباس کے سنجیدہ تاثرات میں ایک دم سختی در آئی وہ صوفے سے اٹھ کر چلتا ہوا ہیر کے پاس آیا

“یہ بھوت بنگلہ ہی اب تمہارا مستقل ٹھکانہ ہے اور یہاں پر میرے ساتھ رہنا تمہاری قسمت، جو تمہارے ماں باپ خود اپنے ہاتھوں سے لکھ چکے ہیں۔۔۔ اب تم یہاں سے میری اجازت کے بغیر کہیں نہیں سکتی، بلکہ اِس جگہ سے ایک قدم بھی باہر نکال نہیں سکتی۔۔۔ تمہاری اَمّی کی تھوڑی دیر پہلے کال آئی تھی میرے پاس میں انہیں تمہارے آنے کا منع کرچکا ہوں”

شیر عباس ہیر کو دیکھتا ہوا واضح انداز میں اُس کو جتاکر بولا

“مگر کیوں منع کیا آپ نے اَمّی کو، میری بہن کی شادی ہونے والی ہے میں آرزو کی خوشیوں میں شرکت کرنا چاہتی ہوں عباس”

ہیر شیر عباس کی بات پر ایک دم بےبسی کا اظہار کرتی ہوئی بولی۔۔۔ وہ اپنے آنے کے متعلق امامہ کے سامنے حامی بھر چکی تھی، شیر عباس کے یوں انکار کرنے پر نہ جانے اُس کے گھر والے کیا سوچ رہے ہوں گے۔۔۔ ویسے بھی تھوڑے دن کے لیے وہ اِس پُراسرار جگہ سے خود بھی دور جانا چاہتی تھی

“تمہیں کیا معلوم کہ آرذو کی سچ میں شادی ہونے والی ہے کیا معلوم شادی کے وقت وہ پھر دوبارہ گھر سے بھاگ جاۓ۔۔۔ اب ہر کوئی تو شیر عباس جیسا مرد نہیں ہوگا جو آرزو کے بدلے اُس کی دوسری بہن سے شادی کرنے کا بول دے گا”

شیر عباس کے منہ سے ادا ہوئے الفاظ اُسے واضح طور پر طمانچے کے طور پر لگا ہیر خاموشی سے شیر عباس کو دیکھتی رہی جبکہ شیر عباس بھی خاموش نظروں سے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہیر کو دیکھ رہا تھا

“تو نہ کرتے آپ اور آپ کی بہن یہ احسان ہم لوگوں پر۔۔۔ میری اَمّی نے بھیگ تو نہیں مانگی تھی آپ کے سامنے یا آپ کی بہن کے سامنے کہ میری دوسری بیٹی کو اپنالو”

بولتے ہوئے اچانک ہیر کے گلے میں آنسوؤں کا گولا اٹک گیا وہ تھوڑی دیر پہلے سارے ڈر اور خوف کو بھولے شیر عباس کی باتوں کا نئے سرے سے افسوس کرنے لگی

“تمہاری زبان ہمیشہ اتنی بڑی ہے یا پھر آج میرے سامنے کچھ زیادہ ہی چل رہی ہے، لگام ڈالو اسے نہیں تو بہت بری طرح پچھتاؤ گی اپنے شوہر کا دوسرا روپ دیکھ کر”

شیر عباس ہیر کی آنکھوں میں آۓ آنسو دیکھ کر اسے تنبہی کرتا بولا۔۔۔۔ صبح ہیر کو راہداری میں دیکھ کر اُس کا موڈ پہلے ہی آف تھا اوپر سے شہناس کی کال نے اُس کا موڈ مزید خراب کردیا تھا۔۔۔ آج ہوٹل کے لئے دیر ہوچکی تھی وہ ہوٹل جانے کی تیاری کرنے لگا

“مجھے آپ کے اِس روپ کو دیکھ کر بھی کوئی خوشی نہیں ہورہی عباس پلیز مجھے چند دنوں کے لیے کراچی جانے دیں۔۔۔ آپ کے اِس محل میں خوف آتا ہے مجھے”

ہیر ایک بار پھر اُس سے التجائی انداز میں بولی تو شیر عباس نے غصّے میں اُس کے دونوں بازو کو سختی سے پکڑا

“یہاں خوف کھانے لائک ایسا کچھ نہیں، تم بار بار ایک ہی بات کو ریپیٹ کرکے مجھے غُصّہ دلا رہی ہو ہیر اگر تم نے اب مجھ سے کوئی فضول کی ضد کی تو میں بہت برے طریقے سے تمہارے ساتھ پیش آؤ گا”

شیر عباس نے ایک بار پھر ہیر کو تنبہی کرنے کے ساتھ غُصّے میں بیڈ پر دھکیلا تو ہیر اوندھے منہ بیڈ پر گرتی ہوئی رونے لگی۔۔۔ کمرے میں دستک پر بھی ہیر نے رونے کا مشغلہ ترک نہیں کیا شیر عباس نے بھی پرواہ کئے بغیر دستک دینے والے کو کمرے میں آنے کی اجازت دے دی

“کیا آج آپ کا ہوٹل جانا ضروری ہے”

فرغب بی کمرے میں آکر ایک نظر بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ کر روتی ہوئی ہیر کو دیکھتی ہوئی شیر عباس سے مخاطب ہوکر پوچھنے لگیں

“جی آج ہوٹل میں ایک فنکشن ہے اسپیشل گیسٹ آنے والے ہیں عامر (مینیجر) اکیلے مینج نہیں کرپائے گا۔۔۔ ایبک کو اپنے ساتھ لےکر نہیں جارہا ہوں وہ یہی رہے گا میرے پیچھے کوئی پرابلم ہو تو سنبھال لےگا۔۔۔ ادر وائس میری ضرورت پڑے تو آپ مجھے انفارم کردیئے گا۔۔۔ اور آج ہیر اِس کمرے سے باہر نہیں نکلے گی اِس بات کا بھی آپ کو اچھی طرح خیال رکھنا ہے اِس کو کھانا یہی کمرے میں دیں گیں آپ”

شیر عباس ایک سنجیدہ نظر روتی ہوئی ہیر پر ڈال کر فرغب بی کو ہدایت دیتا ہوا اپنے کمرے سے نکل گیا

“آپ کے لئے ناشتہ یہی بھجوا رہی ہو کرلیے گا ویسے تو شیر عباس بہت اچھے انسان ہیں لیکن ضدی لوگوں کے ساتھ وہ اچھے سے پیش نہیں آتے ہیں، آپ اِس بات کا دھیان رکھیں گی تو فائدے میں رہے گیں”

فرغب بی بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی ہوئی ہیر کے سِسکتے وجود کو دیکھ کر سمجھاتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئیں

***””””***

صدیقی کی باتیں سن کر آرزو کا دل مزید بوجھل ہوگیا تھا دل پر ایک بوجھ سا لیے وہ بوجھل قدموں سے اپنے کمرے میں چلی آئی جہاں امامہ آفس جانے کے لیے اُسے خدا حافظ کہہ کر نکل چکی تھی

آرذو کو لگنے لگا اب اُسے اپنی باقی کی ساری زندگی کسی روبوٹ کی طرح سب کا حکم مانتے ہوئے اور جی جی کرتے ہوئے گزارنی پڑے گی ابھی کی اُس کی زندگی بھی پابندیاں سے گھری ہوئی تھی البتہ ذمہ داریاں اور فکروں سے آزاد تھی

لیکن ذرا سی من مانی کرکے اپنے دل کی ماننے پر اُس کو جو سزا کے طور پر گہرے کنویں میں دھکیلا جارہا تھا کیا اچھا نہیں تھا اُس کے ماں باپ اُس کی خوشی کی خاطر تبریز کا لایا ہوا رشتہ قبول کرلیتے

تبریز اُس سے محبت کرتا تھا اُس سے مخلص تھا تبھی تو اُس نے اپنا رشتہ بھیجا تھا مگر نہیں۔۔۔۔ ضد میں آکر اپنی انا کو قائم رکھتے ہوئے اُس کے والدین اُس کی شادی ایسے مرد سے کروانے پر تلے تھے جو نہ صرف عمر میں بڑا تھا بلکہ شادی شدہ بھی تھا

“تمہارے ابو کے ساتھ اُن کے چیک اپ کے لیے اسپتال جارہی ہوں آکر دروازہ بند کرلو”

شہناس آرزو سے کہتی ہوئی جاچکی تھی وہ لمبی سانسیں کھینچتی دروازہ بند کرکے واپس کمرے میں چلی آئی

اُس نے ابھی تک ہاشم کو نہیں دیکھا تھا جس کو زبردستی اُس کے نصیب میں لکھا جارہا تھا ہاشم کی تصویر شہناس کے پاس موجود تھی آرذو اُس کے کمرے میں آکر وہ اینولپ لے آئی جس میں ہاشم کی تصویر موجود تھی جیسے ہی آرذو نے وہ تصویر سے باہر نکالی گھر کا دروازہ بجنے لگا۔۔۔ آرذو وہ تصویر بیڈ پر رکھ کر دروازے کے پاس آئی

“کون ہے”

آرذو نے دروازہ کھولنے سے پہلے پوچھا

“آرذو پلیز دروازہ کھولو مجھے تم سے بات کرنی ہے”

تبریز کی آواز پر وہ بری طرح بوکھلا گئی

“تم۔۔۔۔ تم کیوں آئے ہو یہاں پر پلیز چلے جاؤ تبریز”

آرزو پریشان ہوکر تبریز سے بولی یعنی وہ خبر رکھے ہوئے تھا اِس وقت وہ گھر میں اکیلی تھی

“جب تک تم سے بات نہیں کرلیتا تب تک میں یہاں سے نہیں جاؤ گا آرذو دروازہ کھولو پلیز ایک بار میری بات سن لو تمہیں تمہارے گھر سے بلوانے کا مقصد تمہیں دھوکہ دینا نہیں تھا، سچی محبت کی ہے تم سے یار میں اس دن تم سے نکاح کرکے تمہیں اپنے ساتھ تمہارے امی ابو کے پاس لے جاتا”

تبریز کی بات پر اُس کا ہاتھ دروازہ کے لاک کی جانب بڑھا مگر صدیقی کی باتیں یاد کرکے وہ رونے لگی

“چلے جاؤ یہاں سے مت امتحان لو میری برداشت کا خدا کا واسطہ ہے تمہیں دور چلے جاؤ میری زندگی سے”

آرزو روہانسی لہجے میں بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تو لاونچ میں رکھا فون بجنے لگا۔۔۔ آرزو نے آنسو صاف کرتے ہوئے ریسیور اٹھایا

“تم میرے ساتھ بالکل اچھا نہیں کررہی آرذو اب دیکھنا میں کیا کرتا ہوں تمہاری شادی کی بعد کی زندگی کسی اور کے ساتھ سہی مگر صرف مجھے یاد کرتے گزرے گی”

تبریز کی بات سن کر اس نے کال کاٹ کر ریسیور رکھ دیا یہ سچ بھی تھا باقی کی زندگی اُس کی شاید ایسی ہی گزرنی تھی اپنے کمرے میں آکر بےدلی سے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی

آرزو کی نظر بیڈ پر رکھے اینولپ کے اوپر رکھی تصویر پر پڑی، وہ شاکڈ کے عالم میں پوری آنکھیں اور منہ کھولے حیرت سے تصویر میں موجود شخص کو دیکھنے لگی

اپنے کاپنتے ہاتھوں سے آرزو نے تصویر کو اٹھایا وہ ابھی بھی شاکڈ کی کیفیت میں تصویر میں موجود اپنے لیے منتخب کیے جانے والے مرد کو نہیں بلکہ اپنے لیے منتخب کی جانے والی سزا کو دیکھ رہی تھی جو اُس کے ماں باپ نے اُس کے لیے تجویز کی تھی ہاشم کی تصویر دیکھ کر آرذو کو اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا محسوس ہونے لگا

***””””***

پہلے بھی اُس کا یہی کام تھا جب وہ ہوٹل میں موجود اپنے آفس کے کمرے میں فری بیٹھا ہوتا تب لیپ ٹاپ کی اسکرین پر ہیر پیلس کا جائزہ لینے لگ جاتا۔۔۔ حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُس نے پورے ہیر پیلس میں جگہ جگہ خفیہ کیمرے نصب کیے ہوئے تھے تاکہ وہ شہر سے دور بھی ہو تو یہاں کی ہر پل کی خبر رکھ سکے

شیر عباس نے کیمرے کی آنکھ سے دیکھا بیسمینٹ میں موجود وجود بےہوشی کا انجکشن دیئے جانے کے باعث اِس وقت بیڈ پر بےہوش لیٹا تھا جبکہ ایبک اِس وقت مین گیٹ پر پہرے دار کو کچھ سمجھانے میں لگا ہوا تھا ہال میں موجود فرغب بی معمول کی طرح تمام ملازموں پر نظر رکھے ہوئے انہیں صحیح سے کام کرنے کی تلقین دیتی نظر آرہی تھیں جبکہ اُس کے اپنے بیڈ روم میں اُس کی بیوی اِس وقت بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی ہوئی کسی گہری سوچ میں گُم تھی اس کا ناشتہ چار قدم کے فاصلے پر موجود میز پر رکھا ہوا تھا جس کو اُس نے ابھی تک دیکھنے تک کی زحمت نہیں کی تھی

“بہت ضدی ہے یہ لڑکی”

شیر عباس نفی میں سر ہلا کر خود سے بولتا ہوا ہیر کی پکچر کو زوم کرتا اپنے موبائل سے فرغب بی کو کال ملانے لگا

“کیا کررہی ہیں آپ اِس وقت”

شیر عباس لینڈ لائن پر کال ملا کر فرغب بی کی آواز سنتا ہوا اُن سے پوچھنے لگا

“جیسے آپ کو تو علم ہی نہیں ہے۔۔۔ ایک منٹ توفیق اگر کمرے میں صفائی کرلی ہو تو لان میں جاکر خشک پتے اٹھاؤ اور پورے لان کی صفائی کرو۔۔۔ اور فرحانہ کو بول دو کہ شام کے لئے یخنی ابھی سے چڑھا دے سارے برتن دھو کر واپس اپنے گھر جائے۔۔۔ جی بولیے شیر عباس آپ نے کس لئے کال کی”

فرغب بی اپنی ہدایت ملازمہ کو دیتی ہوئی مصروف انداز میں شیر عباس سے پوچھنے لگیں

“آپ نے ابھی تک چیک نہیں کیا کمرے میں جاکر اُس نے ناشتہ کیا بھی ہے کہ نہیں”

شیر عباس کا جملہ فرغب بی کو چونکا گیا۔۔۔ اِس سے پہلے شیر عباس ہوٹل میں بیٹھ کر ہیر پیلس کے صرف ایک ہی فرد کے بارے میں جاننے کے لیے فون کیا کرتا تھا جو اِس وقت بےہوشی کے انجکشن کے سبب ہوش میں نہ تھا

“آپ نے تو لازمی چیک کرلیا ہوگا پھر بتائیے میرے لیے کیا حکم ہے”

شیر عباس فرغب بی کی بات پر چند سیکنڈ کے لئے خاموش ہوگیا

“وہ آج ضد کررہی تھی یہاں سے واپس جانے کے لئے”

شیر عباس آہستہ لہجے میں فرغب بی کو بتانے لگا اُس کا لہجہ جذبات اور احساسات سے کُندھا ہوا تھا جس پر فرغب بی دوبارہ چونکی

“اور آپ ایسا نہیں چاہتے ہے ناں”

فرغب بی شیر عباس سے پوچھنے لگیں تو شیر عباس فوراً سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اور خود پر کنٹرول کرتا ہوا بولا

“میں ایسا کیوں چاہوں گا اسے اِس لئے تو یہاں نہیں بلایا کہ وہ بھاگ کر دوبارہ اُنہی کے پاس چلی جائے مجھ سے میری ہیر کو چھینا گیا تھا میں اُن سے اُن کی ہیر چھین لوں گا ترسا ڈالوں گا جیسے خود اتنے برسوں سے ترستا آرہا ہوں”

شیر عباس کا لہجہ اب کی بار کسی بھی احساس سے عاری تھا فرغب بی لمبی سانسیں کھینچتی ہوئی بولیں

“مجھے لگتا ہے وہ پریشان ہے آج اُس نے کچھ دیکھا ہے تبھی الجھ گئی ہے”

فرغب بی نے جو محسوس کیا وہ شیر عباس کو بتانے لگیں تو شیر عباس فرغب بی کی بات سن کر فوراً بولا

“تو آپ جاکر اُس کی پریشانیاں کم کریں اُس کی الجھنیں دور کریں”

شیر عباس کی بات پر فرغب بی کو تعجب ہوا

“مطلب اُن کی ساری الجھنیں دور کردو”

فرغب بی شیر عباس کو جملہ روانی میں دہراتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگیں

“فرغب بی میں نے صرف الجھنیں دور کرنے کو کہا ہے اُن الجھنوں کو سلجھانے کا نہیں بولا باقی آپ سمجھدار ہیں، میں کیا کہہ رہا ہوں آپ اچھی طرح سمجھ گئیں ہوگیں”

شیر عباس پچھے کرسی سے ٹیک لگاتا ہوا بولا

“ٹھیک ہے میں کمرے میں جاتی ہوں ملازموں سے فارغ ہونے کے بعد”

فرغب بی فون رکھنے سے پہلے بولیں

“ناشتہ کروا دیئے گا اُس کو یاد سے”

شیر عباس نے ہیر کی فکر میں بولتے ہوۓ خود فون رکھ دیا

***””””***