Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Diyar E Wehsat (Episode 4)

Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel

جس دن شیر عباس کی بہنیں آرذو کو دیکھنے آئی تھی وہ نہ صرف آرذو کو دیکھنے کے بعد پسند کرکے چلی گئی تھیں بلکہ شادی کے لیے ان دونوں نے اگلے ماہ کی چار تاریخ بھی مقرر کردی تھی۔۔۔ صدیقی اور شہناس بےشک جلد سے جلد آرزو کے فرض سے سبکدوش ہونے کا ارادہ کیے بیٹھے تھے لیکن اس سے زیادہ جلدی شیر عباس کی بہنوں نے مچادی تھی یوں سرسوں کو ہتھیلی پر جمتا دیکھ کر شہناس تھوڑا بوکھلا ضرور گئی تھی مگر اچھے خاصے رشتے کو ہاتھ سے جانے بھی نہیں دینا چاہتی تھی، شیر عباس سے شہناس اور صدیقی کی ایک چھوٹی سے ملاقات شیر عباس کی بہن ریشماں کے گھر پر ہوئی تھی اُس کی شخصیت دیکھ کر اور اسٹیٹس کے بارے میں جان کر وہ دونوں ہی آرزو کی قسمت پر رشک کررہے تھے

آج پورے ایک ماہ تین دن بعد آرذو کا مایوں تھا صدیقی کے گھر میں شیر عباس کی بہنوں کے علاوہ محلے کی چند خواتین بھی موجود تھیں، امامہ نے آفس سے دو سے تین دن کی چھٹی لی ہوئی تھی اور چھوٹی موٹی ذمہ داریوں کے ساتھ سارے کچن کو اُسی نے سنبھالا ہوا تھا

“شیر عباس کے آنے کے ساتھ ہی مایوں کی رسم شروع کردی جائے گی یہ سارے کام چھوڑو، جاکر دیکھو آرزو تیار ہوگئی تو اسے یہاں لے کر آؤ اور سنو اچھا بڑا سا گھونگھٹ نکال کر چہرہ چھپا دینا آرزو کو یہاں لانے سے پہلے”

شہناس ہیر کے پاس آکر عجلت بھرے انداز میں ہیر سے بولی۔۔۔ وہ مہندی رنگ کی کلیوں کی فراک میں خود بھی کوئی نازک سی کلی لگ رہی تھی، شہناس کی بات مانتی ہوئی وہ آرذو کے پاس کمرے میں جانے لگی

آج صبح سے ہی اُس کی طبیعت موسمی بخار کی وجہ سے ناساز تھی لیکن اس کے باوجود اسے آج آرزو کے ہونے والے شوہر کو دیکھنے کی الگ ہی ایکسائٹمنٹ تھی کیوکہ آرزو کے ساتھ ساتھ اس نے اور امامہ نے بھی ابھی تک شیر عباس کو نہیں دیکھا تھا

“آرزو کیا ہوا ایسے کیوں رو رہی ہو خدا کا واسطہ ہے کچھ بولو بھی”

ہیر کمرے میں آکر آرزو کو بری طرح روتا ہوا دیکھ کر پریشانی کے عالم میں اُس سے پوچھنے لگی

“تبریز نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے گھر والے اُسے ہسپتال لے گئے ہیں اِس وقت کی حالت تشویشناک ہے اُس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ مر جائے گا میرے بغیر، ہیر اگر تبریز کو کچھ ہوا تو دیکھ لینا پھر میں بھی مر جاؤں گی”

آرذو مایوں کے پیلے رنگ کے لباس میں بےتحاشہ روتی ہوئی بولی

“اللہ نہ کرے تمہیں کچھ ہو، آج کے دن ایسی باتیں کیوں کررہی ہو تبریز کو بھی کچھ نہیں ہوگا تم پریشان مت ہو دیکھو عباس بھائی کی بہنیں آچکی ہیں وہ خود بھی بس پہنچنے ہی والے ہیں پلیز اپنے آنسو صاف کرلو امی تمہیں باہر رسم کے لئے بلا رہی ہیں”

ہیر کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ تھوڑی دیر پہلے نغمہ آرذو کے کمرے میں اس سے ملنے آئی تھی تبریز سے متعلق لازمی نغمہ نے ہی آرزو کو کچھ بتایا ہوگا کیوکہ نغمہ دو گلی چھوڑ کر ہی رہتی تھی، بےشک یہ ساری صورت حال پریشان کُن تھی لیکن ہیر کر بھی کیا سکتی تھی

“میں جب تک تبریز کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لوں گی تب تک چین نہیں آئے گا مجھے، پلیز میری خاطر مجھے پیچھے کے راستے سے تھوڑی دیر پہلے اسپتال تبریز کے پاس جانے دو، میں جلدی گھر لوٹ کر واپس آجاؤ گی پلیز انکار مت کرنا ہیر”

آرزو کی بات سن کر ہیر شاکڈ میں آگئی، تھوڑی دیر کے لئے اُس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا

“تم ہوش میں تو ہو آرزو، یہ تم کیا بول رہی ہو تم جانتی ہوں آج تمہارا مایوں ہے کل تمہاری شادی۔۔۔ اور تم تبریز کے پاس جانے کی بات کررہی ہو”

ہیر کو شبہ ہونے لگا جیسے آرزو کا دماغ کام نہیں کررہا تھا تبھی ہیر اس کو سمجھاتی ہوئی بول

“تم نہیں جانتی میں اس وقت کس قرب سے کس اذیت سے گزر رہی ہوں، ہیر تم میری بہن ہو میری تکلیف کو سمجھنے کی کوشش کرو میں وعدہ کرتی ہوں جلد سے جلد واپس آجاؤ گی پلیز میری مدد کرو تھوڑی دیر کی بات ہے”

آرذو نے بولتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ ہیر کے سامنے جوڑ کر رونا شروع کردیا ہیر عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہوکر آرزو کو دیکھنے لگی

***””””***

“ہیر تم بھی حد کرتی ہو قسم سے میں نے تم سے ایک گھنٹے پہلے آرذو کو ڈائننگ روم میں لانے کے لئے بولا تھا اور تم خود بھی یہاں آکر آرام سے بیٹھ گئی ہو 20 منٹ پہلے ہی شیر عباس آچکا ہے۔۔۔ اور یہ آرزو کہاں پر ہے نظر نہیں آرہی”

ایک گھنٹہ گزر چکا تھا آرزو کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا ہیر کمرے میں پریشان بیٹھی رو رہی تھی تبھی شہناس کمرے میں آکر چاروں طرف نظریں دوڑا کر ہیر سے آرذو کا پوچھنے لگی

“آرزو واش روم میں ہے امی میں اُس کو تیار کرکے ابھی باہر لےکر آتی ہوں”

اس سے پہلے ہیر کچھ بولتی امامہ کمرے میں آتی ہوئی شہناس بولی ہیر اپنے آنسو صاف کرکے امامہ کو دیکھنے لگی

“ٹھیک ہے اُسے جلدی سے لےکر آؤ اور تم کو کیا ہوگیا ہے ایسے کیوں رو رہی ہو”

شہناس امامہ سے بولنے کے ساتھ ہیر کی طرف متوجہ ہوکر اُس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر سوال کرنے لگی، اب کی بار بھی امامہ ہی شہناس بولی

“صبح سے دیکھ تو رہی ہیں آپ کتنا تیز بخار ہے اِسے ابھی ٹیبلٹ دی ہے تھوڑی دیر آرام کریں گی تو ٹھیک ہوجائے گی”

امامہ جلدی سے بولی تو شہناس اثبات میں سر ہلاکر کمرے سے چلی گئی

“اب کیا ہوگا آپی”

ہیر نے امامہ سے پوچھتے ہوۓ دوبارہ رونا شروع کردیا تھوڑی دیر پہلے وہ ساری صورتحال امامہ کو بتاچکی تھی جس پر امامہ کا دل چاہا وہ ہیر کو خوب سارے جوتے لگائے

“رونے کا وقت نہیں ہے جاؤ، آرذو کا مایوں والا ڈریس پہن کر جلدی سے باہر آؤ”

امامہ ہیر سے بولی تو ہیر ناسمجھی کے عالم میں آرزو کو دیکھنے لگی

“مگر آپی۔۔۔”

ہیر پریشان ہوکر امامہ سے بولی تو امامہ نے اُس کی بات کاٹ دی

“اگر مگر مت کرو میرے سامنے، جو میں بول رہی ہو ویسے ہی کرو”

امامہ اب کی بار سخت لہجے میں بولی تو ہیر آرذو کا اتارا ہوا مایوں کا جوڑا لےکر واش روم چلی گئی

***””””***

“ایکسیوزمی ذرا مجھے بتائیے گا تبریز جعفری نام کا پیشنٹ کس روم میں ہے”

آرذو چادر میں منہ ڈھانپے گھبراتی ہوئی ریسیپشن پر موجود لڑکے سے پوچھنے لگی۔۔۔ اس لڑکے نے غور سے آرزو کو دیکھتے ہوئے روم کا نمبر بتایا تو آرذو تیز قدم اٹھاتی ہوئی اسپتال کے روم کی طرف جانے لگی

“ایسا نہیں ہے پیار تو مجھے آرزو سے ابھی بھی ہے لیکن اس کے بڈھے باپ نے جو طماچہ میرے گال پر مارا تھا اس کا بدلہ اگر آج کے دن نہیں لےسکا تو پھر کبھی بھی نہیں لے سکوں گا، مجھے پوری امید ہے جیسے ہی آرزو کو میرے بارے میں علم ہوگا کہ میں اسپتال میں زندگی اور موت کے بیچ جنگ لڑ رہا ہوں وہ میری خاطر یہاں دوڑی چلی آئے گی شادی سے ایک دن پہلے بھاگی ہوئی لڑکی کے باپ کی کتنی بدنامی ہوتی ہے اچھا ہے وہ بڈھا صدمے سے ہی مر جائے تو میری زندگی کا سب سے بڑا کانٹا نکل جائے گا اور اس بدنامی کے بعد آرزو کے ماں باپ کے پاس کوئی آپشن نہیں بچے گا علاوہ اسکے کہ وہ آرزو شادی مجھ سے کردیں”

تبریز ہسپتال کے کمرے میں موجود موبائل پر اور بھی کچھ کہہ رہا تھا تبریز کی باتیں سن کر آرذو کا دماغ بری طرح ہل چکا تھا

وہ الٹے قدموں خاموشی سے اسپتال سے باہر نکل گئی اسے جلد سے جلد واپس اپنے گھر پہنچنا تھا تبریز کی باتیں یاد کرکے وہ روتی ہوئی سڑک پر چلی جارہی تھی، اپنے آس پاس کا ہوش اسے تبریز کی باتیں یاد کرکے جاتا رہا شاید کوئی گاڑی سامنے سے آرہی تھی وہ ڈرائیونگ کرتا شخص ہارن بھی دیئے جارہا تھا آرزو سن ہوتے دماغ سے گاڑی کو دیکھنے لگی اِس سے پہلے وہ اپنے حواس میں لوٹ کر سائیڈ پر ہوجاتی اچانک بےہوش ہوکر سڑک پر گر پڑی

ہاشم جو سامنے سے آتی لڑکی کو ڈرائیونگ کے دوران ہارن پر ہارن دے کر اسے الرٹ کررہا تھا اچانک وہ لڑکی اُس کی گاڑی کے قریب آکر بےہوش ہوچکی تھی چار و ناچار ہاشم کو گاڑی سے اتر کر اُس لڑکی کو دیکھنا پڑا۔ ہاشم آرزو کو دیکھتے ہی پہچان گیا تھا ناگوار تاثرات چہرے پر لائے وہ آرزو کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا

***””””***

آج اُس کا صدیقی کی بیٹی آرزو نامی لڑکی کے ساتھ مایوں تھا اس کے آنے پر صدیقی اور شہناس نے کافی اچھے طریقے سے اُس کا استقبال کیا۔۔۔ سامنے زرد کپڑوں میں ملبوس لڑکی جس کا گھونگھٹ نکال کر چہرہ کو پوری طرح چھپایا گیا تھا شیر عباس نے اُس لڑکی پر سرسری سی نگاہ ہی ڈالی تھی مگر اُس کے ساتھ آتی دوسری لڑکی جو مایوں کی دلہن بنی لڑکی کے ہمراہ چلتی ہوئی اسٹیج پر آرہی تھی شیر عباس اُس لڑکی (امامہ) کو دیکھ کر بری طرح چونکا

“یہ لڑکی کون ہے”

شیر عباس اپنے چہرے کے تاثرات پر فوراً قابو پاتا ہوا آپنے برابر میں بیٹھی مومنہ سے پوچھنے لگا

“یہ آرذو کی بڑی بہن ہے امامہ نام ہے اِس کا”

مومنہ کے بتانے پر وہ سوچو کہ تانے بانے جوڑنے لگا۔۔۔ اگر امامہ آرزو کی بڑی بہن ہے تو وہ لڑکی جو مظہر کی شادی میں امامہ کے ساتھ آئی تھی، کیا اسی کا نام آرذو ہے یا پھر وہ کوئی اور لڑکی ہے۔۔۔ کیوںکہ صدیقی کی تین بیٹیاں ہیں امامہ، آرزو اور تیسری؟؟؟؟

شیر عباس ابھی یہ باتیں سوچ ہی رہا تھا کہ مایوں کی دلہن کو اُس کے برابر میں لاکر بٹھایا گیا گھونگھٹ کی وجہ سے شیر عباس اُس کا چہرہ تو نہیں دیکھ سکا مگر سفید اس کے کانپتے ہوئے ہاتھوں کو دیکھنے لگا جیسے اِس وقت وہ بہت زیادہ ڈری ہوئی بیٹھی ہو ناجانے کون کون اس کے منہ میں آکر مٹھائیاں ڈال رہا تھا اور دعائیں دے رہا تھا شیر عباس کو عجیب الجھن ہونے لگی مگر جلد ہی شیر عباس کی توجہ اُس کے موبائل پر آنے والی کال نہیں لےلی فرغب بی کی اِس وقت کال آنا ضرور کوئی اہم بات تھی شیر عباس وہی بیٹھے بیٹھے کال ریسیو کرچکا تھا

“جی بولیے فرغب بی”

شیر عباس کی آواز ہیر کی سماعت سے ٹکرائی تو اُس کا دل دھڑک اٹھا

“کیا۔۔۔ کیسے، کب۔۔۔ آپ مجھے اب بتارہی ہیں۔۔۔ بھاڑ میں گئی یہ شادی، میں آرہا ہوں واپس”

ہیر نے بہت قریب سے غُصے بھری آواز سنی اُس کے بعد اُس نے اپنے برابر میں بیٹھے شخص کو صوفے سے اٹھتا ہوا محسوس کیا۔۔۔ پردے کی وجہ سے وہ صرف اتنا ہی منظر دیکھ سکتی تھی کہ سفید کُرتے شلوار میں موجود شخص جس کی پشت ہیر کی جانب تھی وہ اس کے ابو سے بات کرتا ہوا وہاں سے جارہا تھا

***””””***

وہ کہتے ہیں ناں نیکی کبھی کبھی گلے پڑ جاتی ہے آج اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا تھا اپنی گاڑی کے سامنے آئی بےہوش لڑکی کو دیکھ کر ہاشم کو اسے نظر انداز کرکے جانا اچھا نہیں لگا اُس کے دوست کا اپارٹمنٹ یہاں سے قریب تھا جو اتفاق سے اِس وقت خالی تھا ہاشم آرزو کو اٹھا کر وہی لے گیا جب آرزو ہوش میں نہیں آئی تو ہاشم کو وہی پر ڈاکٹر کو بلانا پڑا جس سے اُس کو معلوم ہوا یہ لڑکی کسی گہرے صدمے کے سبب بےہوش ہوچکی تھی وہ کب ہوش میں آتی یہ ہاشم کو کچھ معلوم نہ تھا

اس لڑکی کے پاس ہاشم کو کوئی موبائل نظر آیا تھا جو ہاشم اس کی فیملی کو کانٹیکٹ کرکے اُس لڑکی کے بارے میں آگاہ کردیتا۔۔۔ ہاشم اُس لڑکی کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا اُسے صرف اتنا معلوم تھا کہ یہ لڑکی لڑکوں کے ساتھ باہر گھومنے پھرنے والی لڑکی تھی جسے اُس دن اِس لڑکی کا باپ اس کے بوائے فرینڈ کو طماچہ مار کے اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ لے جارہا تھا، اس آدمی کی آنکھوں میں غصہ بےبسی اور صدمہ یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی تھا کہ وہ بےچارہ آدمی اِس لڑکی کا باپ تھا، ہاشم کو اس قسم کی لڑکیاں سخت ناپسند تھی اور نہ ہی اِس بےہوش لڑکی میں اُسے کوئی خاص دلچسپی تھی سوائے اِس کے کہ وہ لڑکی ہوش میں آتی اور ہاشم اسے گھر چھوڑ آتا، صرف اِس لڑکی کے باپ کے بارے میں سوچ کر۔۔۔ ویسے بھی آج صبح ماہ نور سے ہوئی لڑائی کی وجہ سے وہ گھر نہیں جانا چاہتا تھا اس لیے اسی فلیٹ کے دوسرے کمرے میں چلاگیا

***””””***

“آرذو کہاں پر ہے ہیر”

ہیر اِس وقت لباس چینج کرکے کمرے میں آئی امامہ دونوں ہاتھوں میں سر پکڑے بیٹھی تھی تبھی مہمانوں کے رخصت ہونے کے بعد شہناس کمرے میں آتی ہوئی ہیر سے پوچھنے لگی

“وہ امی۔۔۔ آرزو تھوڑی دیر پہلے تک تو یہی تھی، آپ کو کوئی کام ہے کیا، آپ مجھے بتادیں”

ہیر اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی شہناس سے پوچھنے لگی

“آرذو کے بجائے تم اس کے کپڑوں میں مایوں کی دلہن بن کر کیوں آئی تھی دیکھو میرے سامنے اِس بات سے انکار مت کرنا کہ وہ تم نہیں تھی اور نہ ہی کوئی بھی جھوٹ بولنا۔۔۔ میں ماں ہوں تم لوگوں کی نو ماہ تک تم سب کو اپنے وجود میں رکھا ہے خوب پہچانتی ہوں میں تم لوگوں کو مجھے سچ سچ بتاؤ آرزو کہاں ہے”

مایوں کی رسم ادا کرتے وقت ہی شہناس پہچان چکی تھی کہ گھونگھٹ میں چہرہ چھپاۓ آرزو نہیں ہیر تھی مگر اُس وقت جان کر خاموش رہی تاکہ فنکشن عزت اور خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوجائے

“امی آرزو مجھے بول کر گھر سے نکلی تھی کہ وہ جلدی واپس آجائے گی مگر ابھی تک واپس نہیں آئی۔۔۔

شہناس کو بتاتے ہوئے ہیر کو رونا آنے لگا جبکہ ہیر کے منہ سے ایسی بات سن کر شہناس سکتے میں آچکی تھی

“امی۔۔۔۔ امی پلیز پریشان مت ہو، میں معلوم کررہی ہوں آرذو کے بارے میں آپ ہمت سے کام لیں وہ جلد واپس آجائے گی”

امامہ روتی ہوئی ہیر کو نظر انداز کرکے شہناس کے پاس آتی ہوئی بولی مگر سچ تو یہ تھا نغمہ سے اسپتال کا پتہ پوچھنے کے بعد وہ اسپتال کال کرچکی تھی مگر وہاں تبریز نام کا کوئی پیشینٹ ایڈمٹ نہیں تھا نہ ہی وہاں پر کوئی آرزو کی موجودگی کے بارے میں بتارہا تھا

“وہ گھر سے باہر نکلی کیسے، جانے کیسے دیا تم لوگوں نے اُسے، بتاؤ مجھے اُسے روکا کیوں نہیں تم لوگوں نے”

شہناس نے غُصّے میں بولتے ہوئے ہیر کو تھپڑ مارا اور ہمدردی دکھاتی ہوئی امامہ کو پیچھے دھکیلا

“تم تینوں اولادیں نہیں ہو میں سمجھ رہی ہوں کس گناہ کی سزا ہو تم تینوں، اتنے سالوں سے بنائی ہوئی عزت تم تینوں نے یوں مٹی کردو گی مجھے معلوم تھا۔۔۔ بھاگ جاؤ گی تم دونوں بھی اپنے اپنے یاروں اور عاشقوں کے ساتھ ارے مر جاؤ تم سب کی سب”

شہناس روتی ہوئی صدمے سے زور زور سے چیخ کر بولی جبکہ اس کی آواز سن کر صدیقی کمرے میں چلا آیا تمام صورت حال سمجھ کر وہ اپنی حواس بحال نہ رکھ سکا اور دہلیز پر ہی کرگیا

“ابو۔۔۔۔”

امامہ اور ہیر صدیقی کو پکارتی ہوئی تیزی سے اُس کی جانب بھاگیں

***”””***

“کیا باتیں کررہے ہو تم دونوں”

ملازموں کو آپس میں چہ ماہ گوئیاں کرتا دیکھ کر جہاں کمرے سے باہر نکلتا شیر عباس محتاط ہوا تھا وہی فرغب بی ان دونوں کے پاس آتی ذرا سخت لہجے میں ان سے پوچھنے لگیں

“کچھ نہیں فرغب بی یاسین بتارہا تھا کہ بستی کے کچھ لوگوں نے کل رات جنگل میں کسی عجیب و غریب مخلوق کو دیکھا تھا جو ہیر پیلس کے احاطے سے باہر نکل کر جنگلوں میں پھر رہا تھا شاید کوئی آسیب یا پھر کوئی بدروح ہوگی بستی کے لوگ ایسے ہی کچھ باتیں کررہے تھے آج”

فرحانہ (ملازمہ) فرغب بی کو بتارہی تھی کہ شیر عباس غصے میں اُن لوگوں کے پاس آیا

“بکواس کرتے ہیں یہاں کے لوگ، کمزور ایمان اور کچے عقیدے کے لوگ بستے ہیں اِس آبادی میں زیادہ تر۔۔۔ یہ آسیب روح، بدروح سب فضول کی باتیں ہیں۔۔۔ ہیر پیلس میں ایسا کچھ نہیں ہے اب اگر میں نے تم لوگوں میں سے ایسی کوئی بات سنی تو نوکری سے فارغ کردو گا تم سب کے سب لوگوں کو”

شیر عباس ملازموں پر غصہ کرتا ہوا بولا۔۔۔ فرغب بی کے اشارے پر دونوں ملازم وہاں سے چلے گئے تو شیر عباس ناراضگی سے فرغب بی کو دیکھنے لگا

“آپ کو خیال رکھنا چاہیے تھا اُس کا، میں آپ کے سپرد کر کے گیا تھا اُس کو، کتنی بار بولا ہے زنجیریں مت کھولا کریں اس کی، ضدی ہوتا جارہا ہے وہ۔۔۔ اگر کل ایبک اسے واپس جنگل سے نہ لاتا تو جانتی ہیں آپ کیا ہوجاتا”

شیر عباس ناراضگی قائم رکھے فرغب بی سے گویا ہوا تو وہ شرمندہ ہونے لگیں جبکہ شیر عباس بھی جانتا فرغب بی کی طبیعت تین چار دنوں سے ٹھیک نہیں تھی جیسے ہی کل رات فرغب بی نے اُس کو یہ بری خبر سنائی تھی کہ وہ ہیر پیلس کی دیوار پھلانگ کر باہر نکل چکا ہے ویسے ہی شیر عباس پہلی فرصت میں غذر واپس آگیا تھا یہاں واپس آنے سے پہلے وہ اپنے ہونے والے سُسر کو آگاہ کرچکا تھا کہ ایمرجنسی میں ضروری کام کی وجہ سے اُس کا غذر کے لیے نکلنا ہورہا ہے یہاں پہنچ کر جب اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اسے دیکھا تب شیر عباس کو تھوڑا اطمینان ہوا

لیکن ایک مرتبہ پھر اُس کا دماغ دوبارہ اسی الجھن میں پڑگیا کہ آرزو کون ہے؟؟؟ کیا وہی لڑکی یا پھر کوئی اور؟؟؟؟ اِسی الجھن کو سلجھانے کے لیے آج صبح ہی اُس نے ریشماں سے کانٹیکٹ کرکے ان تینوں بہنوں کی تصویریں منگوائی تھی شیر عباس ان تینوں لڑکیوں کو دیکھنا اور نام کے ساتھ جاننا چاہتا تھا

اور تھوڑی دیر پہلے ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا تھا تمام الجھنیں سلجھنے کے بعد شیر عباس کے اندر بےچینی مزید بڑھ گئی تھی کیا ضروری تھا کہ وہ ان دونوں لڑکیوں کی تیسری اور سب سے چھوٹی بہن ہوتی۔۔۔ اسے تو صدیقی کی بیٹی بھی نہیں ہونا چاہیے تھا اپنے دل کو لاکھ سمجھانے اور منانے کے باوجود اب وہ خود کو آرزو سے شادی کے لیے آمادہ نہیں کر پارہا تھا تبھی شیر عباس کے موبائل پر مومنہ کی کال آنے لگی ہیر پیلس میں سگنلز کی پریشانی رہتی تھی شیر عباس ہیر پیلس کے احاطے سے باہر جانے لگا

“ہاں بولو مومنہ کوئی کام تھا”

شیر عباس ڈھلوانی سے نیچے اترتے راستے پر قدم اٹھاتا ہوا موبائل پر مومنہ سے پوچھنے لگا۔۔۔ کالے گہرے بادلوں کے ٹکڑے آسمانوں پر رقصاں تھے غذر میں کسی بھی وقت بارش ہوسکتی تھی

“سر ایک بہت بری خبر سنانے کے لیے آپ کو کال کی ہے”

مومنہ کی ہچکچائی ہوئی آواز شیر عباس کے کانوں سے ٹکرائی تو جنگل کے راستے پر نکلتے ہوئے شیر عباس کے قدم وہی تھم گئے

“شاید آج تم دونوں بہنوں نے ٹھان لی ہے بری خبریں سناکر میرا موڈ خراب کرنے کی، خیر جو بھی بات ہے بغیر تہمید باندھے جلدی سے بولو”

شیر عباس بگڑے ہوئے موڈ میں بولتا ہوا تیزی سے جنگل کی طرف قدم اٹھانے لگا موسم کے تیور دیکھتے ہوئے برساتی اُس نے پہلے ہی پہن رکھی تھی

“تھوڑی دیر پہلے آپ کی ہونے والی ساس شہناس بی بی کا فون آیا تھا وہ اب اپنی بیٹی کی آپ سے شادی پر انکار کررہی ہیں”

مومنہ کی دی گئی خبر پر شیر عباس کے قدم دوبارہ رکے

“کیا۔۔۔ شادی سے انکار کررہی ہیں مگر کیوں”

وہ قدرے چونکا تھا آج اُس کی بارات تھی اور عین موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے انکار شیر عباس ماجرہ سمجھ نہیں پایا

“دراصل شہناس بی بی کا کہنا یہ ہے کہ آرذو اِس شادی کے لیے تیار نہیں ہے اس وجہ سے اُن کے گھر میں کافی زیادہ ٹینشن ہوچکی ہے یہاں تک صدیقی صاحب بھی آرزو کے انکار پر اسپتال پہنچ چکے ہیں۔۔۔ لیکن یہ وہ بات ہے جو شہناس صاحبہ نے مجھے بتائی ہے جبکہ اندر کی اصل کہانی کا علم مجھے ہوچکا ہے دراصل آرزو کل رات گھر سے بھاگ چکی ہے جس کی وجہ سے بےچارہ باپ اسپتال پہنچ گیا ہے اب شہناس بی بی ایسی صورت الحال میں شادی سے انکار کے سوائے اور کیا کرسکتی ہیں اِس لئے معذرت کرتے ہوئے شادی سے انکار کررہی ہیں”

مومنہ شیر عباس کو پوری رپورٹ دیتی ہوئی اصل حقیقت بتانے لگی جس کو اُس کا ڈھیر سارا معاوضہ دیا گیا تھا شیر عباس بہت غور سے مومنہ کی ساری باتیں سنتا گیا اور آخر میں آئستہ سے بولا

“آرذو کل رات گھر سے بھاگ چکی ہے۔۔۔ ویری گڈ”

شیر عباس نے بولنے کے ساتھ ہنسنا شروع کردیا وہ اب مومنہ کی بات پر اتنی زور سے ہنس رہا تھا کہ مومنہ کو حیرت ہونے لگی

یہ دنیا کا پہلا ایسا مرد تھا جس کی ہونے والی بیوی شادی سے ایک دن پہلے بھاگ گئی تھی اور اُس لڑکی کا ہونے والا شوہر دیوانوں کی طرح ہنسے جارہا تھا شیر عباس کو یوں بےتُکا ہنستا ہوا دیکھ کر وہاں سے گزرتے ہوئے مقامی لوگ بھی حیرت سے منہ کھولے وہی رک کر شیر عباس کو دیکھنے لگے

جیسے ہیر پیلس کے اِس مالک کے اندر کوئی بد روح یا آسیب سراہیت کرگیا ہو، عباس جب اپنی سنجیدہ کالی آنکھیں بڑی کرکے پھیلاتا ہوا اُن لوگوں کے قریب آنے لگا تو وہ لوگ ڈر کر جنگل سے نیچے بستی کی طرف بھاگنے لگے۔۔۔۔ اب شیر عباس ہنس نہیں رہا تھا بالکل سنجیدہ تھا

“مومنہ تم ایک کام کرو میری بڑی بہن ہونے کی حیثیت سے اور خاندان کی عزت و وقار اور ساخت کو دیکھتے ہوئے شہناس صاحبہ کو پیغام بھیجواؤ کہ اُس کے بھائی کی شادی آج کی تاریخ میں ہی ہوگی اگر آرذو اِس شادی کے لیے راضی نہیں ہے تو زبردستی کے ہم بھی قائل نہیں، شہناس صاحبہ سے کہہ دو اُن کی چھوٹی بیٹی ہیر کے لیے تم اپنے بھائی کا رشتہ چاہتی ہو”

شیر عباس سنجیدگی سے بولتا ہوا واپس ہیر پیلس کی طرف لوٹنے لگا کیونکہ کالے گہرے بادلوں نے برسنے کے لیے شور مچانا شروع کردیا تھا

شیر عباس کو نہیں معلوم تھا اس کا کیا گیا فیصلہ کس حد تک صحیح تھا لیکن جو بےچینی تھوڑی دیر پہلے وہ اپنے اندر محسوس کررہا تھا وہ اب ختم ہوچکی تھی بےچینی کی جگہ اُس کے اندر گہرا سکوت چھا گیا تھا جبکہ بادلوں نے زور سے گرجنے چمکنے کے ساتھ اب برسنا بھی شروع کردیا تھا بارش تھی کہ زور پکڑتی جارہی تھی پورا جنگل جل تھل ہوچکا تھا جبکہ ہیر پیلس اِس طوفانی بارش میں پورا نہا گیا تھا

***”””***

رات سے اب صبح ہونے کو آئی تھی مگر وہ لڑکی ہوش میں لوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی، ہاشم نے تشویش کے عالم میں آرزو کی نبض چیک کی جو بالکل نارمل رفتار میں چل رہی تھی

“ناجانے کتنا گہرا صدمہ لیا ہے جو ہوش ہی ٹھکانے پر نہیں آرہے ہیں محترمہ کے ابھی تک”

ہاشم دل ہی دل میں سوچتا ہوا ماہ نور کی موبائل پر آنے والی مسڈ کالز کو نظر انداز کرکے آفس جانے کے لیے نکل گیا کیوکہ اس کو اِس دردِ سر کہ علاوہ بھی دوسرے کام تھے شام تک صورتحال دیکھ کر وہ پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروانے کا ارادہ رکھے ہوئے تھا

***”””***

“ہیلو عثمان کیسے ہو”

ہاشم کی کل رات سے غائب ہونے پر ماہ نور باری باری اُس کے سارے دوستوں کو کال ملا چکی تھی اب وہ عثمان سے ہاشم کے متعلق پوچھنے کا ارادہ رکھتی تھی

“میں ٹھیک ہوں بھابھی آپ سناۓ کیسے مزاج ہیں، ہاشم گھر پہنچ گیا”

عثمان کے پوچھنے پر ماہ نور ایک دم ٹھٹھکی

“نہیں ابھی تک نہیں آیا، تو کل رات رانیہ بھی میری طرح خالی بیڈ روم میں اُکتا رہی ہوگی، تم دوستوں کو اور کوئی کام نہیں بیویوں کو اکیلے چھوڑ کر ہلا گلہ کرنے کے علاوہ”

ماہ نور عثمان کی خبر لیتی ہوئی بولی اس کی کنفیوژن بھی دور ہوچکی تھی کل رات ہاشم لڑ جھکڑ کر عثمان کے پاس چلاگیا تھا

“ارے نہیں بھابھی آپ غلط سمجھ رہی ہیں میں اور رانیہ تو پنڈی آۓ ہوۓ ہیں، دراصل ہاشم نے کل رات مجھ سے میرے فلیٹ کی کیز مانگی جو ہمارے نیبرز کے پاس موجود تھی، آپ ہاشم کے لیے پریشان مت ہو میں ابھی اُس کو انفرم کر دیتا ہوں کہ وہ آپ سے کانٹیکٹ کرلے”

عثمان کو اندازہ ہوگیا ماہ نور کل رات سے لاعلم تھی کہ ہاشم اُس کے فلیٹ میں ہے، اب ناجانے ان دونوں ہسبنڈ وائف کا کیا مسئلہ تھا عثمان اپنی طرف سے ماہ نور کو تسلی دیتا ہوا بولا ماہ نور اوکے کہہ کر کال بند کرچکی تھی لیکن ہاشم کا یوں کسی دوسرے کے فلیٹ میں رات گزارنا ماہ نور کو ہضم نہیں ہورہا تھا کیونکہ اس سے پہلے اُن دونوں کے بیچ جتنی جھڑپ ہوئی ہو ہاشم نے باہر کبھی رات نہیں گزاری تھی اِس لیے ماہ نور کچھ سوچ کر عثمان کے فلیٹ میں جانے کے لئے تیار ہونے لگی

***”””***

جیسے ہی آہستہ آہستہ اُس کے حواس واپس لوٹنے لگے آرزو اپنا بھاری ہوتا سر تھام کر اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی جیسے جیسے کل رات والے واقعات اُس کو یاد آنے لگے وہ پریشان ہونے لگی خود کو انجانی جگہ پر دیکھ کر مزید پریشان ہوتی چلی گئی

وہ کہاں پر موجود تھی نہیں جانتی تھی۔۔۔ اُسے یہاں کون لایا تھا اُسے کچھ یاد نہ تھا۔۔۔ کھڑکی سے باہر صبح کا منظر دیکھ کر وہ صدمے سے گنگ رہ گئی تھی یعنی کل رات گزر چکی تھی اور وہ اپنے گھر سے لاپتہ تھی۔۔۔ چادر سے خود کو اچھی طرح لپیٹ کر آرزو کمرے سے باہر نکلی تو دوسرے کمرے میں سامنے ہی اُسے ٹیلیفون نظر آیا وہ دیر کیے بغیر لپک کر فون کے پاس آتی ہوئی ریسور اٹھاتی اپنے گھر کا نمبر ملانے لگی، وہاں پر بیلز جارہی تھیں مگر کوئی بھی کال ریسیو نہیں کررہا تھا آرزو نے امامہ کے سیل پر کال ملائی جو دوسری بیل پے رسیو کرلی گئی

“ہیلو آپی”

آرزو امامہ کے بولنے سے پہلے ہی جلدی سے بولی

“بہت شور ہے کون بات کررہا ہے آواز نہیں آرہی ہے”

یہ آواز امامہ کی نہیں شاید اِس وقت امامہ کا موبائل کسی اور کے پاس تھا

“ہیلو میری آواز آرہی ہے آپ کو مجھے امامہ سے بات کرنی ہے پلیز اُن کو موبائل دیجئے”

آرذو ریسیور کان سے لگائے جلدی سے بولی

“وہ ابھی بزی ہیں اِس وقت اُن کی بہن کا نکاح ہورہا ہے آپ تھوڑی دیر بعد کال کرلیے گا”

ریسیور سے آواز نکل کر آرذو کے سماعت سے ٹکرائی تو وہ کنفیوز ہوگئی

“کس کا نکاح ہورہا ہے”

اپنی لڑکھڑاتی ہوئی آواز پر قابو پاتی آرزو اُس لڑکی سے پوچھنے لگی شاید وہ امامہ کی کوئی آفس کلیک تھی

“امامہ کی چھوٹی بہن ہیر کا نکاح ہورہا ہے آپ کون ہیں اپنا میسج دے دیں میں امامہ کو دے دوں گی یہ اسپتال ہے بات کرنے میں پرابلم ہورہی ہے یہاں”

اب کی بار لہجے میں اکتاہٹ شامل تھی مگر اسپتال کا لفظ سن کر آرزو مزید پریشان ہوگئی

“اسپتال میں نکاح ہورہا ہے۔۔۔ مجھے آپ کی بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا”

آرزو اُس کی اُکتاہٹ بھری آواز کو نظر انداز کرتی ہوئی دوبارہ سوال پوچھنے لگی

“ارے بھئی امامہ کے فادر کو کل رات کو ہارٹ اٹیک آیا ہے اِس لیے اسپتال میں ایمرجنسی میں نکاح ہورہا ہے آپ بتائیں تو کہ آپ ہیں کون”

اب کی بار بڑے بےزار لہجے میں پوچھا گیا تھا۔۔۔ ساتھ ہی آرزو کو محسوس ہوا امامہ وہی موجود ہے

“بدنصیب۔۔۔ اپنے گھر کی خوشیوں کو برباد کرنے والی”

آرزو صدیقی کے بارے میں سوچ کر روتی ہوئی بولی اس کی ایک غلطی نے کیا سے کیا کر ڈالا تھا کاش وہ کل رات اپنی محبت کا گلا دبا کر گھر کی دہلیز کو پار نہ کرتی تو آج اُس کا باپ اسپتال میں موجود نہ ہوتا

“کون بات کررہا ہے۔۔۔ آرزو”

اب کی بار آرزو کے کان سے امامہ کی آواز ٹکرائی

“آپی”

زار و قطار روتے ہوئے آنسوؤں کا گولا آرزو کے گلے میں اٹک گیا، الفاظ منہ سے ادا ہونے کو انکار کرنے لگے

“آرزو کہاں پر ہو تم، تمہیں خدا کا واسطہ ہے واپس گھر لوٹ کر آجاؤ۔۔۔ نہیں تو سب کچھ برباد ہوجائے گا”

امامہ آرذو کو روتی ہوئی آواز سن کر جلدی سے بولی

“برباد تو سب کچھ ہوچکا ہے اب بچا ہی کیا ہے برباد ہونے کو”

آرزو روتی ہوئی امامہ سے بولی

“دیکھو آرزو میری بات غور سے سنو تمہاری گمشدگی ہمہیں اِس مُحلّے میں ہی نہیں اِس دنیا میں بھی کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔۔۔ تمہیں اللہ اور اُس کے رسول کا واسطہ ہے واپس آجاؤ تمہیں دیکھ کر لوگوں کی زبانیں بند ہوسکتی ہیں ہم ذلت اور رسوائی سے بچ سکتے ہیں ورنہ امی اور ابو دونوں صدمے سے مر جائیں گے آرزو تم سن رہی ہو میری بات”

امامہ بولے جارہی تھی مگر مین ڈور کھلنے پر آرزو آنے والے شخص کی طرف متوجہ ہوچکی تھی

“خدا کا شکر ہے کہ تم کو ہوش آیا”

ہاشم گھر کے اندر داخل ہوکر آرذو کو دیکھتا ہوا بےساختہ بولا۔۔۔ آرذو اُس کو پہچان چکی تھی مگر ہونق بنی خاموشی سے ہاشم کو دیکھتی رہی

“تم کل کی رات اپنے ماں باپ کو گہرے صدمے اور دکھ سے دوچار کرچکی ہوگی۔۔۔ یقیناً کل ساری رات وہ دونوں تم کو تلاش کرتے رہے ہوگے اپنے اُسی عاشق کے پیچھے کل رات گھر سے نکلی ہوگی تم۔۔۔ ہے ناں”

ہاشم قدم اٹھا کر آرزو کے سامنے آتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا تو آرذو کی آنکھیں لبالب آنسوؤں سے بھرنے لگی۔۔۔ اِس شخص کی اُس سے ایک سرسری ملاقات ہوئی تھی جو نہ ہونے کے برابر تھی پھر بھی اِس شخص نے اُس کے بارے میں کتنا درست اندازہ لگایا تھا لینڈ لائن دوبارہ بجنے لگا اب کی بار کال ہاشم نے ریسیو کی تھی اُس کے کچھ بولنے سے پہلے امامہ بول اٹھی

“تمہیں شیر عباس سے شادی نہیں کرنی تھی نہ۔۔۔ دیکھو تمہاری جگہ آج چھوٹی کی اُس سے شادی ہوگئی ہے یہی وجہ تھی نہ تمہارے گھر سے نکلنے کی اور تبریز کے پاس جانے کی۔۔۔ پلیز واپس لوٹ کر آجاؤ ہماری عزت یوں مٹی میں مت ملاؤ، ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے”

امامہ اب کی بار روتی ہوئی منت کرتی بولی تو ہاشم کو اپنے سامنے کھڑی لڑکی پر مزید غصّہ آنے لگا جو اتنا کچھ کرکے اب فضول کے آنسو بہا رہی تھی

“میں واپس اپنے گھر جانا چاہتی ہو پلیز مجھے میرے گھر چھوڑ آئیے”

آرذو روتی ہوئی ہاشم سے بولی تو ہاشم لائن کاٹ کر طنزیہ انداز میں ہنستا ہوا صوفے پر بیٹھا

“واپس گھر کیوں جانا چاہتی ہو، کیا تمہارے عاشق نے تمہیں دھوکہ دے دیا یا پھر تمہیں اپنی جھانسے میں پھنسا کر تمہارا فائدہ اٹھاکر چھوڑ دیا اُس نے تمہیں۔۔۔۔ لازمی ایسا ہی ہوا ہوگا تمہارے ساتھ، یہی صدمہ لےکر تو تم میری گاڑی کے سامنے آکر بےہوش ہوگئیں”

اب کی بار ہاشم کے لگائے ہوئے اندازے پر وہ تڑپ اٹھی

“شٹ اپ، خبردار جو آپ نے بےبنیاد اندازے لگاکر میرے کردار پر کیچڑ اچھالی، میرا کردار اتنا ہی صاف و شفاف ہے جتنا آپ کی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کا”

آرذو اُس شخص کا دماغ درست کر کے فلیٹ کا دروازہ کھول کر باہر جانے لگی تو فلیٹ کے دروازے پر کھڑی لڑکی پہلے حیران ہوئی پھر فلیٹ کے اندر داخل ہوئی تو ہاشم وہاں ماہ نور کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوکر صوفے سے اٹھا

“تو یہ وجہ تھی رات بھر گھر سے دور رہنے کی، میں تمہیں خود غرض انسان سمجھتی تھی مگر تم تو کافی گھٹیا انسان نکلے”

ماہ نور ہاشم کو دیکھ کر بولی ماہ نور کو لگا ہاشم خود غرض بن کر اولاد کی وجہ سے دوسری شادی کررہا ہوگا مگر وہ یوں رات بھر ایک لڑکی کے ساتھ فلیٹ میں وقت گزار رہا تھا ماہ نور کو ابھی بھی یقین نہیں آیا

“شٹ آپ ماہ نور اپنی زبان کو لگام دے کر رکھو ورنہ آج تک تم نے میرا وہ روپ نہیں دیکھا جس کے دیکھنے کے بعد تم مجھ سے پناہ مانگو”

ہاشم ماہ نور کی بات پر غصّے بھرے لہجے میں بولا وہ ایک لڑکی کو اُس کے ساتھ دیکھ کر شک کررہی تھی اور خود اپنے میل کزنز اور فرینڈز کے ساتھ رات بھر پارٹیز اٹینڈ کرتی رہتی تھی

“جو روپ تم نے مجھے آج اپنا دکھایا ہے میں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔۔ اے لڑکی تم کہاں جارہی ہو پہلے مجھے اِس سے دو دو ہاتھ کرنے دو، تمہاری اوقات تو میں تمہیں اِس کے بعد اچھی طرح یاد دلاؤں گی”

ماہ نور کی نظریں دروازے پر کھڑی آرزو پر پڑی جو وہاں سے جانے کے لیے پر تول رہی تھی تبھی ماہ نور اُس کو دیکھ کر حقارت بھرے لہجے میں بولی

“ایکسکیوزمی آپ اپنے اور اِن صاحب کے معاملے میں مجھے مت گھسیٹیں، میرا اِن سے اور آپ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے”

آرزو اُس ماڈرن سی نظر آنے عالی لڑکی کو دیکھتی ہوئی بولی جو عمر میں امامہ کے ہی برابر ہوگی مگر وہ کافی بدتمیز اور منہ پھٹ تھی اُس کا لب و لہجہ شریفانہ کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا

“کیوں کل رات یہ تمہارے پاس موجود نہیں تھا کیا کل ساری رات تم دونوں کا آپس میں کچھ لینا دینا نہیں ہوا۔۔۔۔ یا اپنی پیمنٹ کے ملتے ہی اِیسے ہر کسٹمر کو پہچاننے سے انکار کردیتی ہو تم”

ماہ نور چبھتے ہوئے لہجے میں بولی جبکہ آرذو شرم اور خجالت سے سرخ ہوگئی اُسے محسوس ہوا اِس لڑکی نے بھری محفل میں اُسے بےلباس کردیا تھا ماہ نور کی بات سن کر وہ رکی نہیں کی بلکہ ہاشم سے نظریں ملائے بغیر وہاں سے باہر نکل کر چلی گئی جبکہ ہاشم غصّہ ضبط کرتا ہوا ماہ نور کو دیکھنے لگا

اُس کی بیوی نے ایک اجنبی لڑکی کے سامنے اُس کو کس قدر ذلیل کردیا تھا ہاشم کے یوں غصّے میں دیکھنے پر ماہ نور طنزیہ مسکرائی اور چلتی ہوئی ہاشم کے پاس آئی

“کب سے اِس طرح کی بازاری لڑکیوں کے ساتھ بند کمروں میں وقت گزارنا شروع کردیا تم نے”

ماہ نور کے پوچھے گئے سوال پر ہاشم کا دل کیا ذور دار تپھڑ وہ ماہ نور کے گال پر رسید کردے

“پہلے مجھے داجی اور ماں جی کے فیصلے پر تم سے ہمدردی ہورہی تھی، اب مجھے اندازہ ہورہا ہے کہ تم ہمدردی کرنے لائق لڑکی نہیں ہو آج سے تم ہاشم کے دل سے اتر گئی ہو ماہ نور، نظروں سے گری ہوئی عورت اور دل سے اتری ہوئی عورت کبھی بھی مرد کے دل میں دوبارہ اپنا مقام اور عزت پیدا نہیں کر سکتی یاد رکھنا”

ہاشم ماہ نور سے بولتا ہوا رکا نہیں تھا وہاں سے چلاگیا

***”””***

جیسے ہی مومنہ نے شیر عباس سے ہیر کی شادی کے متعلق بات کی شہناس نے سوچنے سمجھنے کا زیادہ وقت نہیں لیا وہ جھٹ سے ہیر کی شادی کے لیے اقرار کرچکی تھی مگر مسئلہ یہ تھا کہ کل رات صدیقی کی بگڑتی ہوئی حالت دیکھ کر ان لوگوں کو ایمرجنسی میں اسپتال جانا پڑا اور غذر کے خراب موسم کے سبب ساری پروازیں منسوخ کردی گئی تھی اس لیے ایمرجنسی میں شیر عباس کا ہیر سے موبائل فون پر اسپتال میں نکاح ہوا 12 گھنٹے گزرنے کے بعد صدیقی کی حالت سنبھلی تھی۔۔۔ امامہ نے فی الحال آرزو کے فون کے متعلق کسی کو نہیں بتایا تھا شہناس کے کہنے پر امامہ ہیر کو اپنے ساتھ اسپتال سے گھر لےکر آگئی تھی تاکہ ہیر اپنی پیکنگ کرسکے یہ شیر عباس کی منطق امامہ کو سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ جب وہ خود کراچی نہیں آسکتا تھا تو اس نے ہیر کو کیوں فلائٹ سے بلوایا تھا وہ بھی ایسی صورتحال میں جب صدیقی اسپتال میں ایڈمٹ تھا لیکن شہناس اِس وقت سوچنے سمجھنے سے کام نہیں لے رہی تھی صدیقی کی حالت نے اُس کو بوکھلا کر رکھ دیا تھا اِس لیے جو ہورہا تھا جیسے ہورہا تھا وہ خاموشی سے امامہ کو کرنے کے لئے کہہ رہی تھی

“کیا ہوا تم خوش نہیں ہو”

ہیر اپنی پیکنگ کررہی تھی تب امامہ اس کے اترے ہوۓ چہرے کو دیکھ کر پوچھنے لگی ہیر کے پیکنگ کرتے ہاتھ امامہ کی بات سن کر رک گئے وہ عجیب نظروں سے امامہ کو دیکھتی ہوئی بولی

“مجھے کس بات پر خوش ہونا چاہیے آپی کوئی ایک جواز تو بتائیے مجھے خوش ہونے کا، میں اس بات پر خوش ہوجاؤ کہ بہن کی محبت میں آکر میں نے اُس کی غلط بات مانی یا پھر اِس بات پر خوش ہوجاؤ کہ میری بہن کی غلطی کا خمیازہ اُس کے ہونے والے شوہر سے شادی کرکے مجھے بھگتنا پڑ رہا ہے یا پھر اس بات پر خوش ہوجاؤ کہ میری ایسے اچانک شادی کروا کر مجھے ایک انجان جگہ پر انجان آدمی کے پاس بھیجوایا جارہا ہے”

ہیر بولنے پر آئی تو اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو بیان کرتی ہوئی روہانسی لہجے میں بولنے لگی

آرزو کے انتہا کے قدم سے سارا کا سارا ملبہ اُس کے سر پر آگرا تھا آج اس کو اچانک ہی خبر دی گئی کہ آرزو کی جگہ اب اس کی شادی آرذو کے ہونے والے شوہر سے ہورہی ہے شہناس کہنے پر اور صدیقی کی خراب حالت کو دیکھ کر ہیر نے یہ کڑوا گھونٹ مجبوراً پی لیا تھا اُس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوچکی تھیں جب اُس کے اوپر اگلا حکم صادر کردیا گیا کہ آج ہی اُس کی رخصتی ہے کیوکہ اُس کا شوہر چاہتا ہے وہ آج ہی کوسوں میل دور اُس کے گھر رخصت ہوکر اُس کے پاس چلی آئے

“اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے شادی تو ہر ایک لڑکی کی ایک نہ ایک دن ہوتی ہے، یوں سمجھ لو شیر عباس کی قسمت کا ستارہ تمہارے نام کے ساتھ چمک رہا تھا قدرت نے اُس کا ملاپ آرذو کے ساتھ نہیں بلکہ تمہارے ساتھ لکھا تھا۔۔۔ یہ بھی خوب کہی تم نے کہ شادی کروا کے تمہیں انجان جگہ بھیجا جارہا ہے تم کوئی سات سمندر پار نہیں جارہی ہو یہی پاکستان میں موجود ہو اور تمہاری اطلاع کیلئے عرض ہے کہ شیر عباس اتنا بھی انجان نہیں اسے دیکھا ہوا ہے تم نے، یاد نہیں ہے جس کی گاڑی سے تم ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی وہی جو خوشبو کی شادی میں بھی مسلسل تمہیں دیکھ رہا تھا کل جب میں تمہیں اسٹیج پر رسم کے لئے لےکر جارہی تھی تبھی میں اُس کو دیکھ کر پہچان چکی تھی دیکھ لو یہ ہوتے ہیں قدرت کے فیصلے”

امامہ اور بھی نہ جانے کیا کیا بول رہی تھی اس کو بہلاتی ہوئی سمجھاتی ہوئی پر ہیر کا دماغ اُس بات پر بلکہ اُسی شخص پر اٹک گیا تھا ہوش اُسے تب آیا جب شہناس نے اسے گلے لگایا وہ چند سیکنڈ پہلے ہی اسپتال سے تھوڑی دیر کے لئے گھر آئی تھی کیونکہ مومنہ کے مطابق شیر عباس کا بھیجا گیا ڈرائیور ہیر کو لینے کے لیے پہنچنے والا تھا بھلا وہ بغیر ملے اپنی چھوٹی بیٹی کو کیسے رخصت کردیتی

“مجھے بالکل بھی خبر نہیں تھی کہ میری چھوٹی بیٹی سب سے پہلے اپنے گھر کی ہوجائے گی میں دعا کرو گی شیر عباس تمہارے لئے اچھا شوہر ثابت ہو، اور تم بھی کوشش کرنا کے اپنے شوہر کے لیے تم اچھی بیوی ثابت ہو”

شہناس بولتی ہوئی ہیر کے ماتھے پر بوسہ دے کر اُس سے الگ ہوئی اور اپنی نم آنکھیں صاف کرنے لگی باہر گاڑی کا ہارن اطلاع دے رہا تھا کہ ڈرائیور ہیر کو لینے آچکا ہے ہیر امامہ کے گلے مل کر اپنے گھر کی چار دیواری کو دیکھتی ہوئی اداس دل کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے لگی

***””””***

چار گھنٹے بیس منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ کراچی سے گلگت پہنچ چکی تھی جہاں سے اسے عباس کے خاص ملازم ایبک نے پک کیا گلگت سے گاہکوچ 10 منٹ کی دوری پر تھا اس جگہ کو دریاؤں کی سرزمین کہا جاتا تھا ہیر قدرت کے حسین مناظر دیکھ کر اس کے سحر میں کھو چکی تھی یہ جگہ اسے کسی جنت کے ٹکڑے سے کم نہیں لگی تھی

پہاڑوں کا سینہ چیرتی ہوئی جیپ ہر خوبصورت منظر کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھتی جارہی تھی جگہ جگہ آبشاریں، قدرتی چشموں سے نکلتا ہوا شفاف پانی، اونچے بڑے بڑے پہاڑ، ہرے بھرے سبز جنگلات وہ ان مناظر میں کھو سی گئی اور بالآخر اپنی منزل پر پہنچی تو سامنے ہیر پیلس پوری طمطراق اور شان و شوکت سے کھڑا اُس کی آمد کا منتظر تھا ہیر پیلس پر گندھا ہوا اپنا نام وہ غور سے پڑھنے لگی

“آئیے بی بی جی اندر چلیں”

ایبک ہیر کا بیگ ہاتھ میں پکڑے اس سے بولا تو ہیر اپنے نام سے نظریں ہٹاتی ہوئی ہری آنکھوں والے اونچے لمبے ایبک کے پیچھے ہیر پیلس کے اندر داخل ہوئی

خوبصورت سے ہیر پیلس نے اپنے اندر عجیب سی کشش رکھی ہوئی تھی جو ہیر کو اپنی جانب کھینچ رہی تھی، بڑا گول سا ہال نما کمرہ، قدیم طرز کی بنی ہوئی رنگین شیشے والی کھڑکیاں۔۔۔ اِس ہال نما کمرے میں مختلف رہداریاں تھی جو اندر کو جاتی تھی

ہیر کنفیوز ہونے لگی کہ وہ کہاں جائے ایبک نہ جانے اندر کس راہداری میں کھوگیا تھا، ہیر کو اندازہ ہی نہیں ہوسکا۔۔۔ وہ قدیم طرز کے بنے ہوئے اِس محل میں جدید طرز کا فرنیچر دیکھتی ہوئی دیواروں پر لگی پینٹکز اور جنگلی جانوروں کے سر دیکھنے لگی۔۔۔ جسے وہ جانور اُسی کو خونی آشام نظروں سے دیکھ رہے ہو، ہیر کو عجیب سی وحشت ہونے لگی

ایک راہداری جو اندر کی طرف جاتی تھی اور باقی راہداریوں کی بانسبت وہ بالکل سنسان تھی وہاں روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔۔۔ ہیر اُس راہداری کی طرف بڑھنے لگی تبھی اُسے اپنی پشت سے نسوانی آواز سنائی دی

“ہیر پیلس میں آپ کو خوش آمدید”

فرغب بی کی آواز پر ہیر کے راہداری کی جانب بڑھتے قدم رکے وہ پلٹ کر پچپن سالہ بوڑھی سی اُس خاتون کو دیکھنے لگی جو اپنے چہرے پر استقبالیہ مسکراہٹ سجائے اُس کے سامنے کھڑی اُسی کو دیکھ رہی تھی

ہیر نے آہستہ سے سلام کیا جس کا جواب دینے کے ساتھ فرغب بی اپنا تعارف کرواتی ہوئی بولیں

“امید کرتی ہوں آپ کا سفر اچھا گزرا ہوگا، میرا نام فرغب ہے یہاں تمام لوگ مجھے فرغب بی کہتے ہیں۔۔۔ آپ بھی مجھے اِسی نام سے بلاسکتی ہیں۔۔۔ آئیے میں آپ کو آپ کا کمرہ دکھادو”

فرغب بی سنسان راہداری پر نظر ڈالتی ہوئی خاموش کھڑی ہیر سے بولیں اور مخالف سمت پر جانے لگیں

“یہاں پر کیا ہے؟؟ مطلب ہال کا یہ حصِّہ اتنا ویران کیوں ہے”

ہیر کے پوچھنے پر فرغب بی نے مڑ کر ہیر کو دیکھا اب فرغب بی کے چہرے پر بالکل سنجیدگی طاری تھی

“ہیر پیلس میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی آپ غلط راستے کا تعین کر بیٹھی ہیں ہیر پیلس کے اِس حصّے میں کسی بھی ملازم یا فرد کو جانے کی اجازت نہیں ہے احتیاط اچھی چیز ہوتی ہے، آپ بھی کیجئے گا۔۔۔ آئیے اپنے کمرے میں چل کر تھوڑی دیر آرام کرلیں سفر کی تھکن اب آپ کے چہرے سے عیاں ہورہی ہے”

فرغب بی کا تنبہی کرنے والا انداز ایسا تھا ہیر کچھ بول نہ پائی خاموشی سے فرغب بی کے پیچھے جاتی وہ دوسرے کمرے میں پہنچی، جو بالکل مخالف سمت پر تھا

وہ بڑا سا کمرہ اندر سے بےحد حسین تھا اِس کمرے کی بناوٹ، تراش خراش اور سجاوٹ خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت تھی ہیر متاثر ہونے والے انداز سے کمرے کے چاروں اطراف نظر دوڑانے لگی تبھی فرغب بی نے کھڑکی سے پردہ ہٹاتے ہوئے باہر سورج کی روشنی کو اندر آنے کی اجازت دی

“اس جگہ کو یہاں کی در و دیوار کو نہ جانے کب سے آپ کی آمد کا انتظار تھا، پورا ہیر پیلس نہ جانے کتنے سال سے آپ کے یہاں آنے کی راہ تک رہا تھا آج وہ انتظار بھی ختم ہوا”

فرغب بی بات پر ہیر نہ سمجھنے والے انداز میں فرغب بی کو دیکھنے لگی ہیر کے چہرے کا الجھا ہوا تاثر دیکھ کر ایک پل کے لیے فرغب بی کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ نمودار ہوئی جسے وہ فوری طور پر سنجیدگی کے لبادے میں ڈھال گئیں

“آپ کے کہنے کا کیا مطلب تھا میں سمجھی نہیں آپ کی بات”

سامنے کھڑی یہ خاتون اُسے کافی پراسرار سی شخصیت محسوس ہورہی تھی بالکل اُس کے شوہر کی طرح۔۔۔ جس سے اُس کی ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی تھی

“آہستہ آہستہ جب وقت گزرتا جائے گا تب ساری گراہیں کُھلتی جائے گیں، سب کچھ اپنے آپ کو سمجھ آنے لگے گا۔۔۔ رات کے کھانے میں ابھی وقت ہے آپ تھوڑی دیر آرام کرلیں”

فرغب بی ہیر سے بولتی ہوئی کمرے سے باہر جانے لگیں

“وہ کہاں پر ہیں”

ہیر نے نام لیے بغیر کمرے سے باہر جاتی ہے فرغب بی سے شیر عباس کے بارے میں پوچھا تو فرغب بی رک کر ہیر کو دیکھتی ہوئی بولی

“ان دنوں ٹورسٹ پر کافی رش ہے اس لیے ہوٹل سے روز رات کو دیر سے شیر عباس کا واپس آنا ہورہا ہے۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے ہی شیر عباس کی کال آئی تھی رات میں وہ واپس نہیں آسکیں گے اب صبح ہی آپ کی ان سے ملاقات ہوگی”

فرغب بی ہیر کو بتارہی تھی شیر عباس کے نام سے ہیر کے چہرے پر لالی سی بکھر گئی جسے وہ غور سے دیکھتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں

***”””***