Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel Readelle 50385 Diyar E Wehsat (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Diyar E Wehsat (Episode 10)
Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel
صبح کا آغاز ہوتے ہی آرزو کی آنکھ کھلی، آج ہاشم کو تھوڑا لیٹ آفس جانا تھا وہ آرزو سونے سے پہلے رات میں ہی بتاچکا تھا تاکہ آرزو اُس کو جلدی نہ جگائے آرزو اپنے برابر میں سوئے ہوئے ہاشم کو دیکھنے لگی اچھی شکل و صورت اور جازب نظر آنے والا یہ شخص کافی غضیلا اور سخت طبیعت رکھنے والا انسان تھا اتنے دنوں میں ابھی تک آرزو نے اُس کا مسکراتا ہوا خوشگوار موڈ نہیں دیکھا تھا
نہ جانے مسکراتا ہوا یہ کیسا لگتا ہوگا آرزو ہاشم کو دیکھتی ہوئی سوچنے لگی پھر خود ہی اپنی سوچ پر ملامت کرتی بیڈ سے اٹھ گئی بھلا اُس کو کیا ضرورت تھی ایسے بدتمیز اور بدتہذیب انسان کے بارے میں سوچنے کی، جو اُس کو پسند نہیں کرتا تھا، وہ فریش ہونے کے بعد ہال میں پہنچی ابھی تک گلنار اور ایوب خان بھی نہیں جاگے تھے ہال بالکل سنسان پڑا تھا، ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی آرزو ڈر کے مارے چند قدم کے فاصلے پر رکھے ٹیلی فون کو دیکھنے لگ ِاِس وقت ہاشم بھی گھر پر موجود تھا اس سے پہلے کوئی جاگتا آرزو فون کا ریسیور اٹھا چکی تھی
“میں اچھی طرح سے جانتا تھا جب رات میں مجھے بھی نیند نہیں آئی تو تم کیسے چین سے سو سکتی ہو بےچینی ہورہی ہوگی تمہیں بھی جبھی تو اِس وقت جاگ رہی ہو میری طرح۔۔۔ تم کتنا بھی غصہ کرلو مجھ پر مگر اپنے دل میں چھپی میری محبت سے انکار نہیں کرسکتی آرذو”
تبریز کی باتیں سن کر آرزو کے تن بدن میں آگ لگ گئی
“میں ہر روز صبح اِسی ٹائم جاگتی ہوں کیوںکہ صبح کے وقت ہاشم کو آفس جانا ہوتا ہے، وہ تمہاری طرح بےکار آدمی نہیں ہے۔۔۔ تم بھی محبت کے چکر میں پڑ کر اپنی زندگی برباد مت کرو بلکہ کوئی جاب تلاش کرو اور اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لاؤ اپنے ماں باپ کا خیال کرو اور اگر یہ سب نہیں کرسکتے تو خدارا مجھ پر ترس کھاؤ یہاں فون مت کیا کرو تم ہاشم کی طبیعت نہیں سمجھتے وہ مجھے مار ڈالیں گے تم سے بات کرتا دیکھ کر۔۔۔ اب مجھے اپنی زندگی اُن کے ساتھ گزارنی ہے خدا کا واسطہ ہے مجھے سکون سے جینے دو تمہاری محبت کو لےکر نہ جانے کتنی کڑوی کسیلی باتیں طنز اور طعنہ میں سن چکی ہوں۔۔۔ تمہیں اللہ کا واسطہ ہے یہاں بار بار فون کرکے میری پریشانیوں میں مزید اضافہ مت کیا کرو”
آرزو آہستہ آواز میں تبریز کو سمجھانے لگی نہ جانے وہ سن رہا تھا کہ نہیں مگر آرزو کو اپنی پشت پر آہٹ سی محسوس ہوئی اُس نے فوراً پلٹ کر دیکھا جیسے ہی اُس کے بیڈروم کا دروازہ کھلا آرزو اِس سے پہلے ہی ریسیور رکھ چکی تھی
ہاشم کو کمرے سے باہر نکلتا تب تک آرزو اپنے گلے سے چین اتار کر، اپنے چہرے کے تاثرات بھی نارمل کرچکی تھی ہاشم آرزو کو ٹیلی فون کے پاس کھڑا دیکھ کر چلتا ہوا اُس کے پاس آیا
“کیا کررہی تھی اتنی صبح ہال میں”
ہاشم معمول کی طرح ماتھے پر شکن سجائے اُس سے سوال کرنے لگا وہ اِس قدر سخت گیر شکی مزاج انسان ہرگز نہ تھا مگر جس طرح کا اِس لڑکی کا امیج اُس کے ذہن میں جو بن چکا تھا شوہر ہونے کی حیثیت سے وہ اِس لڑکی کو ذرا بھی رعایت دینے کے لیے تیار نہ تھا
“یہ چین گرگئی تھی اسی کو تلاش کررہی تھی”
آرزو نے پہلے سے سوچی ہوئی بات اُس کے سامنے رکھ کر اپنی ہتھیلی بھی آگے کردی جس میں اُس کے گلے کی چین موجود تھی
مگر ہاشم سنجیدہ نظر اُس کی ہتھیلی پر ڈال کر شک بھری نظروں سے ٹیلی فون کو دیکھنے لگا جس کی گھنٹی بجی تھی کہ نہیں یہ بات اسے کنفرم نہیں تھی کیوکہ اُس وقت وہ گہری نیند میں تھا
“آپ پلیز مجھے یہ چین پہنادیں”
ہاشم کے چہرے پر شک کی پرچھائیاں دیکھ کر آرزو اس کا دماغ دوسری طرف لگانے کے غرض سے بولی
“کیوں تمھارے ہاتھ نہیں ہیں کیا”
ہاشم سنجیدگی سے آرذو کو دیکھ کر پوچھنے لگا لڑکیوں کی یوں دل لبھانے والی اداؤں سے وہ خوب واقف تھا پھر بھلا کیوں اِس لڑکی کی باتوں میں آجاتا
“جی میرے پاس دو ہاتھ ہیں اور انہی ہاتھوں سے میں روز آپ کے سارے کام بھی کرتی ہوں”
آرزو ہاشم کو دیکھ کر جتاتی ہوئی بولی
“تو میرے کام کرکے احسان کرتی ہو مجھ پر”
ہاشم سنجیدہ نظر اِس پر ڈالتا ہوا پوچھنے لگا آرزو کا دل چاہا وہ اُس آدمی کا دماغ درست کردے
“احسان نہیں کرتی جانتی ہو آپ کے کام کرنا میرا فرض ہے میں نے بس یونہی آپ سے ایک بات کہہ دی تھی آپ کو اگر یہ چین نہیں پہنانی تو رہنے دیں بات کو یوں دل پر مت لیں”
ہاتھ کی مٹھی میں چین دباۓ اُس کے ایٹیٹیوڈ پر لعنت بھیجتی ہوئی آرزو وہاں سے جانے لگی ویسے بھی وہ صرف اس کا ذہن فون کی طرف سے ہٹانے کے لیے ایسا کررہی تھی
“سنو”
ہاشم کی آواز پر آرزو کے قدم تھمے وہ پلٹ کر ہاشم کو دیکھنے لگی تبھی ہاشم سنجیدہ تاثرات چہرے پر لئے اُس کے پاس آیا اور آرزو کے ہاتھ سے چین لیتا ہوا اُس کے گلے میں پہنانے لگا
اِس وقت ہاشم کی نظریں آرزو کے چہرے پر جبکہ آرزو کی نظریں ہاشم کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھی ہاشم کی انگلیوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرکے وہ سانس لینا بھول گئی، وہی ہاشم کی نظریں آرزو کے چہرے سے ہوتی ہوئی اُس کے ہونٹوں پر ٹہر گئیں
“کیا ضرورت تھی کل اتنا بن ٹھن کر میرے دوست کے گھر جانے کی، منع کیا تھا نہ تمہیں کہ اتنا تیار ہوکر باہر مت جایا کرو”
ہاشم نے کل رات تو اُس کی تیاری پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا مگر اِس وقت وہ آرزو کو چین پہنانے کے ساتھ اُس کے ہونٹوں کو دیکھتا ہوا بولا لیکن چاہ کر بھی وہ اپنے لہجے میں سختی کا عنصر نہ لاسکا
“کل آپ نے میری تیاری دیکھ لی حیرت کی بات ہے۔۔۔ مجھے تو لگا آپ نے میری طرف ایک بار بھی نہیں دیکھا”
آرزو مصنوعی حیرت کرتی ہاشم کو دیکھ کر طنزیہ بولی
“ڈیپ ریڈ کلر کی شرٹ کے ساتھ گرین شفون کا ڈوپٹہ جو تم نے کندھے پر ایک سائیڈ پر لیا ہوا تھا مجھے پسند نہیں آیا اِس اسٹائل میں تمہارا دوپٹہ لینا کیوکہ تمہاری شرٹ کافی زیادہ فٹ تھی آئندہ خیال رکھنا۔۔۔ بالوں کو ہلکا کرل کرکے تم نے اِنہیں باندھنے کی ذحمت نہیں کی تھی، آئندہ مجھے اِس بارے میں دوبارہ نہ بولنا پڑے کہ اب تم کہیں بھی جاؤ گی تو تمھارے بال بندھے ہوئے ہونے چاہیے اور جو تم نے لپ اسٹک لگائی تھی ریڈ کلر کی وہ کافی ڈارک تھی بالکل سوٹ نہیں کررہی تھی تم پر اس لیے آئندہ تم ریڈ کلر کی لپ اسٹک بالکل نہیں لگاؤ گی”
ہاشم کی نگاہیں ابھی بھی اُس کے ہونٹوں پر مرکوز تھی وہ بولتا جارہا تھا اور آرذو کو حیرت ہورہی تھی اتنا باریک بینی سے تفصیلی جائزہ اس کے شوہر نے اس کا آخر کس وقت لیا وہ اُس کی لپ اسٹک کے رنگ سے لےکر کپڑوں کی فٹنگ تک نوٹ کرچکا تھا
“اگر آپ کو میرے تیار ہونے پر اعتراض ہے تو آپ ماں جی سے شکوہ کریں اُن کے کہنے پر ہی میں تیار ہوئی تھی اِس بات کے لئے آپ مجھ پر سختی نہیں کرسکتے جس معاملے میں میں خود بےبس ہوں”
آرذو ہاشم کی نظریں اپنے ہونٹوں پر دیکھ کر اُس سے بولی ہاشم کی بہکی نظروں کو اپنے ہونٹوں پر دیکھ کر نہ جانے کیوں اُس کی اپنی نگاہیں ہاشم کے ہونٹوں کی طرف اُٹھنے کی گستاخی کر بیٹھی جن کو ہاشم کی نظروں نے جانچ لیا
“اور بےبس انسان مجبوری کے عالم میں وہ کر گزرتا ہے جو اُس نے سوچا بھی نہ ہو”
ہاشم بولتا ہوا آرذو کے ہونٹوں پر جھکا اور اپنے تشنہ لبوں کی پیاس آرزو کے ہونٹوں سے بجھانے لگا جبکہ ہاشم کے اِس عمل پر آرزو کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹنے لگی مگر اس سے پہلے ہاشم نے آرزو کے وجود کو اپنی گرفت میں جکڑ لیا
“کیسا محسوس ہورہا ہے”
اپنے ہونٹ آرذو کے ہونٹوں سے جدا کرنے کے بعد ہاشم آرزو سے سوال کرنے لگا جبکہ ہاشم کے سوال پر آرزو نہ سمجھنے والے انداز میں ہاشم کو دیکھنے لگی
“میرا مطلب تھا صبح صبح اپنے بوائے فرینڈ سے فون پر بات کرکے کیسا محسوس کررہی ہو”
ہاشم اب کی بار چبھتے ہوۓ لہجے میں آرذو سے سوال کرنے لگا کیوکہ جب اُس نے آرزو کو چین پہنانے کی غرض سے آواز دی تھی وہ ٹیلی فون کا ریسیور دیکھ چکا تھا جو اِس وقت گھبراہٹ میں آرزو غلط رکھ چکی تھی وہ آرزو کا خود سے مخاطب ہونا چین پہنانے کا بولنا سمجھ چکا تھا آرزو یہ سب اس کا مائینڈ ڈائیوڈ کرنے کے لئے بول رہی تھی
“آپ غلط سمجھ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں۔۔۔
آرزو کا جملہ مکمل نہیں ہوا کہ اس سے پہلے ہاشم نے اُس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ لیا
“تم ابھی بھی مجھ سے جھوٹ بول رہی ہو”
ہاشم آرزو سے سخت لہجے میں بولا اور اسے کھینچتا ہوا ٹیلیفون کے پاس لے آیا۔۔۔ جہاں اُس نے آرذو کی وائس ریکارڈنگ چلادی تبریز سے اپنی بات چیت سن کر آرزو اپنے جھوٹ پر زمین میں گڑھ گئی
اُس کا تھوڑی دیر پہلے ہاشم سے باتیں بنانا، ہاشم کی توجہ ٹیلیفون کی جانب سے ہٹانا ساری محنت رائیگاں گئی تھی سامنے کھڑے آدمی کو وہ اتنی آسانی سے چلا نہیں سکتی تھی وہ اُس کی سوچ سے کہیں زیادہ چالاک تھا آرذو نے ذرا سی نظر اٹھاکر دیکھا ہاشم اپنے ٹراؤذر کی پاکٹ سے موبائل نکال رہا تھا
“ہاں یار میں نے تم سے اس تبریز نامی لڑکے کا ذکر کیا تھا وہ کافی ڈھیٹ لڑکا ہے ایسے خالی دھمکی سے وہ سیدھا نہیں ہوگا اب بھی باز آنے کی بجائے تنگ کیے جارہا ہے ایسا کرو چار پانچ دن کے لیے اُسے حوالات کی ہوا کھلادو جب ڈنڈوں سے اچھی طرح اُس کی خاطر مدارت ہوگی تو شاید کچھ عقل آجائے”
ہاشم موبائل پر بول رہا ہے جبکہ آرزو کی روح فنا ہونے لگی تبریز تو بچنے والا نہیں تھا نہ جانے اب ہاشم اُس کے ساتھ کیا سلوک کرتا آرزو سوچ ہی رہی تھی تب ہاشم نے بات ختم کر کے اپنا موبائل پاکٹ میں رکھتے ہوئے اس کو بازو سے پکڑا
“اب مجھے بتاؤ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرو، اُس کمینے انسان کی تو پولیس اچھی طرح تواضح کرے گی لیکن مستحق تم بھی ہو اصولًا تو تمہارے عشق کا خمار بھی ڈنڈو سے نکالنا چاہیے میرے منع کرنے کے باوجود کیسے بات کرنے کی ہمت کی تم نے اُس گھٹیا قسم کی لڑکے سے”
ہاشم آرزو کو بازو سے پکڑے سخت لہجے میں بولا اور یونہی اس کو پکڑے اپنے کمرے میں لے جانے لگا ہاشم آرذو کو کمرے میں لا کر بیڈ پر دھکیل چکا تھا اور وارڈروب سے بیلٹ نکالنے لگا جسے دیکھ کر آرذو کی خوف سے آنکھیں پھیل گئیں
“ہاشم پلیز میری بات سن لے آپ نے اُس ریکارڈنگ میں کہا سنا کہ میں نے اُس کی کسی بات کو بڑھاوا دیا یا اُس کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کرکے روئی، ہاں میں نے آپ کے منع کرنے کے باوجود اُس سے بات کی لیکن صرف آپ کے ڈر کی وجہ سے اُس کو سمجھانے کی خاطر پلیز مجھے پر ظلم مت کیجئے میری غلطی اتنی بڑی نہیں ہے آپ کی دی جانے والی اتنی سخت سزا میں برداشت نہیں کر پاؤ گی”
آرذو ہاشم کے ہاتھ میں بیلٹ دیکھ کر روتی ہوئی اپنے حق میں بولی تو ہاشم نے غصے میں بیلٹ دروازے پر ماری اور آرذو کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا
“میں کیسے یہ سب برداشت کرتا ہوں کبھی اُس بات کا تصور کر کے دیکھو، میری بیوی کا شادی سے پہلے افیئر رہا اور اب مجھ سے شادی کے بعد وہ اپنے بوائے فرینڈ سے کانٹیکٹ میں ہے سوچو اِس بات کو۔۔۔ محسوس کر کے دیکھو اِس اذیت کو جو مجھے ہوتی ہے”
ہاشم آرزو کو غصّے میں بولتا ہوا اس کو بیڈ پر دھکیل کر خود کمرے سے باہر چلا گیا
***””””***
“اوپر والے فلور کے سارے رومز کلین ہونے چاہیے۔۔۔ مقصود اگر بیمار ہوگیا ہے تو اُس کی جگہ کسی اچھے سے کُک کا فوری طور پر ارینج کرو۔۔۔ اور بارشوں کی وجہ سے جو ہوٹل کا پچھلا حصّہ متاثر ہوا ہے اُس کو آج ہی ٹھیک کرواؤ۔۔۔ پرسوں میرے اسپیشل گیسٹ آرہے ہیں جن کا ہوٹل میں تین سے چار دن تک قیام رہے گا، کسی چیز میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ باقی تمام اسٹاف کو اچھی طرح سمجھادو تھوڑی دیر بعد میں خود تمام رومز کی صفائی اور کچن کا جائزہ لوں گا”
آج صبح ہوٹل میں آنے کے بعد شیر عباس کافی مصروف رہا عامر (مینیجر) کو تمام باتوں کی ہدایت دیتا ہوا وہ ہوٹل کی لفٹ سے نیچے آرہا تھا جہاں ریسیپشن پر ہیر کو دیکھ کر شیر عباس ایک پل کیلئے بری طرح چونکا مگر دوسرے ہی پل وہ مسکراتا ہوا ہیر کے پاس پہنچا
“ایکسکیوز میم کیا آپ کسی کی تلاش میں یہاں تک آئی ہیں مجھے ایسا لگا کہ مجھے آپ کی مدد کرنی چاہیے، اِس لیے آپ کے پاس آکر پوچھ رہا ہوں”
شیر عباس ہیر کے پاس آکر مہذب لہجہ اختیار کرتا اُس سے پوچھنے لگا۔۔۔ آج مصروفیت کی وجہ سے صبح سے اُس نے اپنے لیپ ٹاپ یا موبائل پر ہیر پیلس کا جائزہ نہیں لیا تھا ورنہ ہیر کی تیاری دیکھ کر وہ اتنا تو سمجھ جاتا کہ ہیر کہیں جانے کا لئے تیار ہورہی ہے
“کیا آپ اِس ہوٹل کے مالک شیر عباس کو جانتے ہیں میں ان ہی کی وائف ہوں اور اپنے ہسبینڈ سے ملنے یہاں آئی ہوں کیا آپ مجھے ان تک پہنچا سکتے ہیں”
ہیر شیر عباس کو انجان لہجے میں اجنبی تصور کرتی دیکھ کر بولی۔۔۔ اپنے تروتازہ چہرہ اور فریش طبعیت کے ساتھ وہ اِس وقت خود بھی کافی فریش نظر آرہی تھی شیر عباس ہیر کے اِس انداز پر مسکرایا
“مسٹر شیر عباس عالم تو کافی خشک طبیعت کے مالک ہیں، حسن کے معاملے میں اُن کا اتنا اعلٰی ذوق ہوگا آپ کی خوبصورتی کو دیکھ کر یقین آگیا۔۔۔ آئیے میں خود آپ کو اُن کی کمرے تک لے جاتا ہوں آپ کی مدد کرکے مجھے خوشی ہوگی”
شیر عباس ہیر کا خوبصورت چہرہ دیکھ کر فلرٹ کرنے والے انداز میں بولا اور ساتھ ہی اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے لفٹ کی طرف چلنے کا اشارہ کیا
اِس وقت اس کے پاس کھڑا ہوا اسٹاف بھی شیر عباس کو حیرت سے دیکھ رہا تھا جو کسی خوبصورت لڑکی کے سامنے مسکرا کر باتیں کرت اپنی سنجیدہ طبیعت کے برخلاف کافی اس وقت کافی خوش دکھائی دے رہا تھا ہیر اپنی مسکراہٹ روک کر شیر عباس کی آنکھوں میں ناچتی شوخی بھی دیکھتی ہوئی لفٹ کی طرف جانے لگی یقیناً وہ اُس کے اچانک ہوٹل آنے پر خوش تھا
“کیا آپ ہر آدمی کی خوبصورت بیوی کو دیکھ کر اسی طرح دل و جان سے اُس کی مدد کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں”
لفٹ میں قدم رکھتی ہیر شیر عباس سے پوچھنے لگی جو لفٹ کے اندر آکر بٹن پریس کرتا ہیر کے پاس آیا
“ہر خوبصورت چہرے پر یہ نظریں نہیں ٹھہرتی میم۔۔۔ سمجھ لیے آپ کے ساتھ کچھ اسپیشل معاملہ ہے۔۔۔ آپ کو دیکھ کر میرے دل میں اچانک یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ میں آپ کے حسن کو اپنے ہونٹوں سے چھو کر خراج دو، ورنہ یہ آپ کے حسن کے ساتھ ناقدری ہوگی اور اِس ناقدری کے لئے میرے دل مجھے کوستا رہے گا”
شیر عباس بند لفٹ میں ہیر کے قریب آکر اس کے ہونٹوں پر جھکنے لگا تو ہیر نے فوراً اُس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر شیر عباس کو پیچھے ہٹادیا
“کیا کررہے ہیں عباس کیمرہ لگا ہے لفٹ میں”
ہیر شیر عباس کو آنکھیں دکھا کر پیچھے ہٹاتی ہوئی بولی تو ہیر کی بات پر شیر عباس برا سا منہ بنا کر پیچھے ہوا لیکن تھرڈ فلور پر پہنچ کر وہ ہیر کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے آفس کے روم میں لے آیا کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے وہ ہیر کے نازک سراپے کو اپنے بازوؤں میں بھر کر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا۔۔۔ چند سیکنڈ گزرنے کے بعد ہیر نے شرم سے شیر عباس کو پیچھے کیا تو شیر عباس نے دوبارہ ہیر کو اپنے بازوؤں نے سمالیا
“یہاں کوئی کیمرا موجود نہیں ہے اور نہ ہی بغیر اجازت کوئی کمرے کے اندر آسکتا ہے مسسز شیر عباس اب آپ مجھے کھل کر اپنے ساتھ رومانس کرنے کا موقع دے دیں نہیں تو میرا اچھا موڈ اچھا خاصا خراب ہوجائے گا”
شیر عباس ہیر سے بولتا ہوا لیپ ٹاپ کی اسکرین بند کرکے ہیر کو ٹیبل پر لٹاتا اس کے اوپر جھکا
“عباس کیا کررہے ہیں”
اپنی گردن پر شیر عباس کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے ہیر نروس ہوکر شیر عباس سے پوچھنے لگی
“وہی جو تم مجھے اپنے ساتھ بیڈروم میں نہیں کرنے دیتی”
شیر عباس ہیر کی گردن سے اپنے ہونٹ ہٹاکر اس کا چہرہ دیکھتا ہوا شکوہ کرنے والے انداز میں بولا تو ہیر گھور کر شیر عباس کو دیکھنے لگی
“اچھا تو کل آپ نے میرے ساتھ کیا کیا، میرے منع کرنے کے باوجود مجھے نیند کا انجکشن دیا”
ہیر کے شکوہ کرنے پر شیر عباس ہیر کے اوپر سے اٹھا تو ہیر بھی ٹیبل سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی
“وہ انجیکشن میں نے تمہیں اِس لیے دیا تھا تاکہ تم ڈر کو اپنے اوپر حاوی نہ کرو اور سکون سے سو جاؤں۔۔۔ میں نے کوئی دوسری بیوی نہیں رکھی ہے جو تمہارے سلا کر میں اُس کے پاس چلا جاؤں”
شیر عباس ہیر کی نظروں میں شکایت دیکھتا اسے بولا ساتھ ہی اُس نے انٹر کام پر لنچ بھی منگوا لیا
“آج کیسے یہاں آکر مجھے سرپرائز دینے کا سوچا تم نے”
شیر عباس ہیر سے پوچھتا ہوا اُسے شانوں سے تھام کر اپنی چیئر پر بھٹا چکا تھا
“یہ بتائیں آپ کو میرا سرپرائز پسند آیا کہ نہیں”
الٹا ہیر شیر عباس سے پوچھنے لگی جو اُس کے بالکل سامنے کھڑا تھا
آج صبح بیدار ہونے کے بعد اُس کی شہناس سے بات ہوئی تھی اور شہناس نے اسے صدیقی کا ارادہ بتایا تھا اپنی خوشی شیر عباس سے شیئر کرنے کے غرض سے وہ یہاں اُس کے ہوٹل آگئی تھی
“میں تمہیں یہاں اپنے پاس دیکھ کر کتنا خوش ہوں کیا تمہیں اندازہ نہیں ہورہا اِس وقت مجھے دیکھ کر”
شیر عباس جھک کر ہیر کے ماتھے پر بوسہ دیتا ہوا اس سے بولا تو ہیر شیر عباس کی بات پر مسکرائی
ہیر کرسی سے اٹھ کر شیر عباس کے مقابل کھڑی ہوئی ہیر کی آنکھوں میں ابھرتے سوالات شیر عباس کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکے
“مجھ سے کوئی بھی ایسی بات مت پوچھنا میری جان جس کا تمہیں خود بھی اندازہ ہو کہ میں جواب نہ دے سکو، تمھیں یہاں اپنے پاس دیکھ کر میرا موڈ سچ میں بہت اچھا ہے اور میں تمہارے ساتھ اس وقت اچھا وقت گزارنا چاہتا ہوں”
ہیر کے کچھ بولنے سے پہلے شیر عباس ٹیبل کے اوپر بیٹھ کر ہیر کو خود سے قریب کرتا ہوا بولا کیوکہ شیر عباس کو اندازہ تھا ہیر اب کس بارے میں بات کرے گی
“مگر میں جاننا چاہتی ہوں عباس کے آپ نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا کہ ہیر پیلس میں کوئی بیسمینٹ نہیں ہے”
شیر عباس کے منع کرنے کے باوجود ہیر شیر عباس سے پوچھ بیٹھی جس پر شیر عباس نے نہ تو ہیر کی بات پر غصہ کیا نہ ہی اُس کی بات کو جھٹلایا بلکہ ہیر کا ہاتھ تھام کر نہایت آرام سے بولا
“کچھ باتیں ہم سے پوشیدہ رہے اِسی میں ہماری بہتری ہوتی ہے اِس بات کا ادراک انسان کو تب ہوتا ہے جب انسان اُن پوشیدہ باتوں کی حقیقت کو جان لیتا ہے اور پھر حقیقت جان لینے کے بعد اُس کے پاس پچھتانے کے سوا کچھ نہیں بچتا تب انسان کو افسوس ہوتا ہے کہ وہ لا علم ہی بہتر تھا”
شیر عباس نرمی سے ہیر کا ہاتھ تھامے اُسے بولنے لگا
“لیکن میں جاننا چاہتی ہوں عباس وہ جو رات کو آوازیں آتی ہیں، کیا اُن آوازوں کا تعلق بیسمنٹ سے ہے پلیز عباس مجھے سچ بتائیے گا”
ہیر شیر عباس کی بات سن کر مزید الجھ گئی تھی ایسا ہی ہوتا آیا تھا شیر عباس اُس کو اپنی باتوں میں الجھا دیا کرتا ہیر کے اگلے سوال پر شیر عباس سنجیدگی سے بولا
“ہیر میں تمہاری کسی بھی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا تمہیں اچھی طرح سمجھا چکا ہوں بلاوجہ کی باتوں سے خود کو مت الجھاؤ ورنہ تم پوری طرح سے الجھ جاؤں گی، جو چل رہا ہے جیسے چل رہا ہے چلنے دو خاموش رہو خاموشی ہی اِن سب باتوں کے جواب کا بیسٹ آپشن ہے”
شیر عباس ہیر کا تھاما ہوا ہاتھ چھوڑ کر ٹیبل سے اٹھا اور گلاس وال کے آگے آکر کھڑا ہوگیا جہاں سے پہاڑوں کے درمیان خوبصورت غذر کی وادی نظر آرہی تھی
“یعنی آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ انہونی باتیں میری نظروں کے سامنے سے گزرتی ہے اُن پر خاموش رہو، کچھ نہ بولو ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے عباس کوئی آپ کے روپ میرے قریب آجاتا ہے مجھے میری پینٹنگ کا اسٹور روم میں دکھنا پھر اچانک نظروں سے اوجھل ہوجانا۔۔۔ بیسمیٹ سے رات کو آوازیں آنا۔۔۔ میری موجودگی میں فرغب بی اور آپ کی اچانک باتوں پر خاموشی اختیار کرلینا یہ سب کچھ نارمل نہیں ہے۔ میں کیسے ان باتوں کے پیچھے خاموشی اختیار کرسکتی ہوں”
ہیر بولتی ہوئی شیر عباس کی پشت پر آکر کھڑی ہوگئی کیونکہ وہ اِن سوالات کے جوابات چاہتی تھی جن سے یقیناً اُس کا شوہر واقف تھا
“تمہاری وہ پینٹنگ میں نے بنائی تھی، فرعب بی نے ویسے ہی لاعلمی کا اظہار کردیا ہوگا تمہارے سامنے”
شیر عباس بناء ہیر کی طرف مڑے گلاس وال سے باہر دیکھتا ہوا ہیر کو بتانے لگا
“ٹھیک ہے مان لیتی ہوں وہ پینٹنگ آپ نے بنائی تھی لیکن وہ قطبہ جس پر ہیر کا نام درج تھا، کیا وہ بھی آپ نے میرے لیے بنوایا ہے۔۔۔ آگے کیا پلان ہے آپ کا مجھے اِس بیسمنٹ میں قید کرنا چاہتے ہیں پاگل کرنے کے بعد۔۔۔ میں پوچھتی ہوں کون ہے اُس بیسمینٹ میں جس کی چیخیں مجھے رات بھر سونے نہیں دیتی، یہ پیلس ہیر کے نام پر ہے۔۔۔ ہیر سے آپ کا کیا تعلق ہے وہ اِس وقت کہاں ہے بیسمینٹ میں یا پھر اُس گمنام قبر میں جو ہیر پیلس کے پچھلے حصّے میں موجود ہے”
ہیر کی باتیں سننے کے بعد شیر عباس نے پلٹ کر ہیر کو دیکھا اُس کی آنکھوں میں غصّہ اور سختی دیکھ کر ہیر ایک دم خاموش ہوگئی جبکہ شیر عباس نے سختی سے ہیر کے دونوں بازوؤں کو پکڑا وہ سسکتی ہوئی شیر عباس کو دیکھنے لگی
“آج پھر بہت زیادہ بول گئی ہو تم میرے سامنے، اپنے آگے میں کسی کو اتنی زیادہ بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا تم میری بیوی ہو تو اِس بات کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تم شیر عباس کی نرمی کا فائدہ اٹھاؤ آئندہ اگر تم نے اِس طرح کے سوالات اٹھائے یا اِن سوالات کی کھوج لگانے کی کوشش کی تو میں بھول جاؤ گا کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں”
وہ اپنی انگلیاں ہیر کے بازؤوں میں گاڑھے بولے جارہا تھا، اپنے بازو میں اٹھتی تکلیف سے ہیر کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے جسے دیکھ کر شیر عباس نے اُس کے بازوؤں کو چھوڑا وہ ہیر کے بازو پر اپنی انگلیوں کے سرخ نشان دیکھتا ہوا نرمی سے انہیں سہلانے لگا تبھی دروازہ بجا ہیر گلاس وال کی طرف رخ کر کے کھڑی ہوگئی اور آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرنے لگی جبکہ شیر عباس دروازہ کھولنے لگا
“آجاؤ لنچ کرتے ہیں”
ویٹر کے کمرے سے جانے کے بعد شیر عباس ہیر کے شانے پر اپنے ہونٹ رکھتا اُسے شانوں سے تھام کر بولا اُس کے لہجے اور انداز میں دوبارہ نرمی آچکی تھی مگر ہیر کے چہرے پر چھایا خوف وہ اپنی مسکراہٹ اور محبت بھرے انداز سے بھی دور نہیں کر پایا
“فرغب بی کو یہی بول کر نکلی تھی کہ میں جلدی واپس آجاؤں گی ہوٹل سے، میرے خیال میں اب مجھے واپس چلنا چاہیے ڈرائیور بھی ویٹ کررہا ہوگا”
ہیر ناراض لہجے میں شیر عباس سے بولتی ہوئی وہاں سے جانے لگی تو شیر عباس نے اُسے اپنے حصار میں لےلیا
“میری جان مجھ سے ایسے ناراض مت ہوا کرو پھر مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا، پہلے ہم لنچ کریں گے اُس کے بعد لانگ ڈرائیو پر چلیں گے۔۔۔ آج کا پورا دن میں تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں کیونکہ آگے تین چار دن میرے کافی مصروف رہیں گے فرغب بی کی ٹینشن مت لو انہیں لنچ کے بعد انفارم کردو گا کہ تم میرے ساتھ ہو اور ہم دیر سے گھر لوٹیں گے”
شیر عباس ہیر کو پیار سے بہلاتا ہوا چھوٹی سی ٹیبل کے پاس لے آیا جہاں لنچ میں اُس نے کافی کچھ منگوایا تھا
“ایسے خالی نظروں سے مجھے دیکھ کر کیا سوچ رہی ہو، میں سچ میں اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہوں یار”
شیر عباس ہیر کی خاموشی پر اُس کا چہرہ تھام کر اپنے ہونٹ اس کے گال پر رکھتا پیچھے ہٹا تو ہیر صوفے پر بیٹھ گئی
“ابُو ہم دونوں سے ملنے کے لئے یہاں ہمارے پاس آنے والے ہیں”
ہیر شیر عباس کو بتانے لگی مگر اب دور دور تک اس کے لہجے میں ایکسائٹمنٹ نہیں تھی
“کیوں، میرا مطلب ہے کب۔۔۔ کب آرہے ہیں تمہارے ابُو”
ہیر نے صاف محسوس کیا کہ شیر عباس اُس کے ابو کے بارے میں سن کر اپنے چہرے پر آئی ناگواری چھپا کر بات بدل گیا تھا ہیر کو اندازہ ہوگیا کہ وہ اُس کے ابو کے یہاں آنے پر خوش نہیں تھا
“معلوم نہیں کب آنا ہے آج اَمّی سے بات ہوئی تھی تو انہوں نے بتایا تھا”
ہیر بےدلی سے شیر عباس کو بتاتی ہوئی گلاس میں موجود پانی پینے لگی
“اوکے چلو لنچ اسٹارٹ کرو”
شیر عباس ہیر کو جواب دیتا ہوا کچھ سوچ کر خود بھی لنچ اسٹارٹ کرنے لگا
***””””***
“اٹھنا نہیں ہے کیا آج تمہیں، چلو اٹھو ناشتہ بناؤ میرے لیے لیٹ ہورہا ہوں میں آفس کے لیے”
ہاشم نے پہلے دو بار آرزو کو آرام سے جاگنے کا بولا لیکن اب تیسری مرتبہ بلند آواز میں آرذو کے سر پر کھڑے ہوکر وہ زور سے چلایا تو آرزو چیختی چنگھاڑتی آواز پر آنکھیں کھول کر ہاشم کو دیکھنے لگی
“اترا نہیں تمہارا بخار ابھی تک ناشتہ بناؤ میرے لیے۔۔۔ میرے گھر سے نکلنے کے بعد تو تمہیں آرام کرنے کے سوا اور کرنا ہی کیا ہے”
ہاشم آرزو کی آنکھیں اور بخار سے اترا ہوا زرد چہرے کو دیکھ کر اُس کی حالت کو نظرانداز کرتا ہوا بولا
نہ جانے کل دوپہر اُس کے پیٹ میں اٹھتا درد اتنی شدت اختیار کر گیا تھا جس کے بعد رات کو اُس کو بخار چڑھ گیا وہ ساری رات بخار میں جلتی اور درد سے کراہتی رہی مگر اُس پتھر دل انسان نے رات میں ایک مرتبہ بھی اُس کی طبیعت پوچھنے کی زحمت نہیں کی، الٹا صبح وہ اُس کو جگاکر اُس کو ناشتہ بنانے کا آرڈر دے رہا تھا آرزو ہمت جمع کرتی بیڈ سے اٹھی
“اب اٹھ بھی چکو، کیا سُستی اور کاہلی کے سارے ریکارڈ آج ہی توڑنے ہیں تمہیں”
ہاشم اُس کی سُست رفتار کو دیکھتا ہوا چڑ کر بولا تو آرزو جلدی سے سلیپرز پاؤں میں ڈال کر واش روم چلی گئی
جلدی جلدی اُس نے پانی کے چھینٹے منہ پر مارے تاکہ اُس کی آنکھیں کُھل سکیں ساری رات جاگنے کی وجہ سے اِس وقت کا اُس کا دماغ مکمل طور پر ماؤف تھا واش روم کا دروازہ بجنے پر آرذو نے جلدی سے واش روم کا دروازہ کھولا تو ہاشم غصّے میں ہاتھ میں اپنی شرٹ پکڑ اُس کو دیکھ رہا تھا
“کیا ہے یہ۔۔۔ آئرن نہیں کی تم نے کل رات میری یہ شرٹ بس سارا وقت بستر پر پڑے آرام کرنے کے بہانے ڈھونڈنے ہیں”
ہاشم غصّے میں آرذو کو دیکھ کر اُس کی موجودہ حالت پر طنز کرتا اُسے باتیں سنانے لگا
“آپ شروع سے ہی اتنے بےحس انسان ہیں یا پھر میرے لئے کچھ اسپیشل فیلینگز رکھتے ہیں بہانہ نہیں بنارہی ہوں کل سے میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ورنہ ہر چیز آپ کو وقت پر ہی ملتی ہے لائیے اپنی شرٹ پریس کردیتی ہوں”
آرزو اپنی طبیعت خرابی کا جتاتی ہوئی ہاشم سے شرٹ لےکر آئرن اسٹینڈ کے پاس جانے لگی
“ویسے کیا فیلینگز رکھنی چاہیے مجھے تمہارے لیے، آفس جانے کی بجاۓ تمہیں بانہوں میں لےکر ہر وقت بیڈ پر پڑا رہو یا پھر اپنے ساتھ لگائے تمہیں ہر جگہ لےکر پھرتا رہو”
ہاشم دوبارہ اس کے سر پر کھڑا ہوکر بولا اُس کا انداز تحقیر آمیز تھا ہاشم کی باتیں سن کر آرزو کا خجالت سے چہرہ سرخ پڑنے لگا وہ بناء کوئی جواب دیئے اُس کی شرٹ پریس کرنے لگی
“ہر چیز آپ کو وقت ملتی ہے،،، جیسے کوئی بڑا احسان کیا جاتا ہے میری ذات پر”
کمرے میں ٹہلتے ہوۓ ہاشم نے پہنی ہوئی ٹی شرٹ اتار کر آرذو کا بولا ہوا جملا دہرایا آرذو ابھی بھی خاموشی سے بناء کچھ بولے اُس کی شرٹ پریس کررہی تھی وہ دوبارہ آرزو کے پاس آکر کھڑا ہوا
“سب اچھی طرح اندازہ ہے مجھے شوہروں کی توجہ پانے کے لئے طبعیت خرابی کی ایکٹنگ کرکے جو تم لڑکیاں یہ اوہچے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہو میں اچھی طرح واقف ہوں اُن سب حرکتوں سے”
اب کی بار ہاشم کی بات سن کر آرزو کا دماغ بھناکر رہ گیا یہ آدمی تو ایک ذرا سا کام نہ ہونے پر اُس کی طبعیت کو نظر انداز کرکے اُسے باتیں ہی سناۓ جارہا تھا استری اسٹینڈ پر استری رکھتی ہوئی آرذو ہاشم کو دیکھ کر بولی
“کیا سمجھتے ہیں آپ خود کو، ارے ہیں کیا آپ جو میں آپ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے طبیعت خرابی کا بہانہ بناؤ گی۔۔۔ آپ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسے اوہنچے ہتھکنڈے آپ کی پہلی بیوی نے آپ پر ازمائے ہوگے، مجھے نہ تو آپ کی توجہ حاصل کرنے کا کوئی شوق ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ارمان کہ آپ مجھے بانہوں میں لےکر بستر پر پڑے رہے”
آرزو کے بولنے کی دیر تھی ہاشم نے اُس کے بالوں کو مٹھی میں بھر کر آرذو کا چہرہ خود سے قریب کیا وہ تکلیف سے بلبلا اٹھی اور چیختی ہوئی بولی
“چھوڑیں میرے بالوں کو، اِس طرح تو کوئی انسان اپنے گھر کے نوکروں کے ساتھ سلوک نہیں کرتا میں انسان ہو کوئی بھیڑ بکری نہیں جو آپ مجھے اِس طرح ٹریٹ کررہے ہیں”
آرزو ہاشم کے رویے پر مزید برہم ہوئی تھی تبھی غصّے میں تیز آواز میں بولی
“اب اگر تمہارے منہ سے تیز آواز نکلی تو میں جانوروں سے بھی زیادہ بدتر تمہارا حشر کرو گا خاموشی سے آئرن کرو اور اُس کے بعد میرے لیے ناشتہ بناؤ نہیں تو آفس جانے سے پہلے میں تمہارا بخار تمہاری ہڈیوں میں بھردو گا”
ہاشم آرذو کے بال چھوڑتا ہوا اُس کو دھمکی دے کر واش روم چلا گیا
“بےحس جلاد صفت انسان”
آرزو بخار اور ضبط سے سرخ چہرہ لیے منہ ہی منہ میں بڑبڑا کر اُس کی شرٹ آئرن کرنے لگی
***””””***
“ارے بیٹا تمہیں کیا ضرورت ہے ہاشم کے لئے ناشتہ بنانے کی تمہاری تو اپنی طبیعت ٹھیک نہیں ہے کل کا تمہارا بخار بھی ابھی تک نہیں اترا”
گلنار آرزو کو کچن میں دیکھ کر اُس کے پاس چلی آئی اُس نے آرزو کی کلائی چھو کر دیکھی تو فوراً بولی
“ماں جی پلیز مجھے ہاشم کا ناشتہ تیار کرنے دیں نہیں تو وہ خفا ہوگیں مجھ سے”
آرذو گلنار کو دیکھ کر بولنے لگی کیوکہ ہاشم جب اُس کو باتیں سنانے پر آتا تھا گھر میں موجود کسی فرد کا لحاظ کیے بغیر نان اسٹاپ سناتا چلا جاتا تھا گلنار آرذو کی بات سن کر اُس کو کلائی سے پکڑ کر ہال میں لے آئی جہاں ہاشم ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھا ناشتے کا ویٹ کررہا تھا
“ہاشم یہ اتنے تیز بخار میں کھڑی ناشتہ بنارہی تھی شمع سب کے ساتھ تمہارا ناشتہ بھی بنادے گی تم آفس جانے سے پہلے اِس کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا چہرا دیکھو کیسے مرجھا سا ہوگیا ہے بےچاری کا”
گلنار آرذو کو کرسی پر بٹھاتی ہوئی ہاشم سے بولی
“اچھا تو اب میرا ناشتہ نہ بنانا پڑے، یہ آپ کے سامنے اپنی بیماری کا رونا رو رہی ہے فالتو کا وقت نہیں ہے میرے پاس جو میں اُس کو ڈاکٹر کے پاس لےجاؤ گھر سے ہی کوئی میڈیسن دے کر اُس کی طبیعت ٹھیک کریں۔۔۔ ایسی بیمار مریضہ قسم کی بیوی مجھے نہیں چاہیے جو ایک وقت ناشتہ بھی مجھے نہ دے سکے”
ہاشم آرزو پر سخت نظر ڈالتا ہوا گلنار سے بولا تزلیل سے آرذو کا چہرہ کا چہرہ جلنے لگا وہی گلنار کو اپنے بیٹے کے رویہ سخت برا لگا
“ماہ نور نے تم کو چھ سالوں میں کتنی بار کا ناشتہ بناکر دیا ہے ذرا اپنی انگلیوں پر گن کے بتاؤ مجھے۔۔۔ دو ہفتے گزر چکے ہیں تمہاری شادی کو اور میں تمہارا آرزو کے ساتھ رویہ دیکھ رہی ہوں ماہ نور کو تم نے ناجائز چھوٹ دے رکھی ہے ہر کام کی اور اِس بےچاری سے تم اپنا ہر کام کرواتے ہو اس کے باوجود تم اِس کو ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جاسکتے”
گلنار ہاشم کی اچھی طرح کلاس لیتی ہوئی بولی
“آپ مجھے ماہ نور کے نام کا طعنہ مت دیں، وہ میری پسند تھی اِس لیے اُس کی ہر کوتاہی برداشت کرتا رہا لیکن یہ لڑکی آپ کی چوائس ہے اِس کو ہنر سکھائیں کیسے شوہر کے دل میں جگہ بنائی جاتی ہے۔۔۔ ابھی ہوتا کوئی اِس کا من چاہا اِس کی مرضی کے مطابق شوہر تو اِسی خراب حالت میں یہ اُس آدمی کے لیے بغیر کسی بہانے کے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنارہی ہوتی”
ہاشم طنز کرتا خونخوار نظروں سے آرذو کو دیکھ کر کرسی سے اٹھا تو گلنار کو ہاشم کی بدتمیزی پر مزید غصّہ آیا جبکہ آرزو اپنی قسمت پر اپنی آنکھیں نم کرنے سے خود کو نہ روک پائی
“آرزو کا اور ماہ نور کا کوئی مقابلہ نہیں، تمہاری پسند انتہا درجے کی تھرڈ کلاس تھی جو کچھ پچھلے چھ سالوں میں تمہاری پہلی بیوی اس گھر میں کرتی آرہی ہے وہ تم سے یا کسی دوسرے سے ڈھکا چھپا نہیں اور آرزو کو مجھے کچھ بھی سکھانے کی ضرورت نہیں یہ بچی تربیت، اخلاق اور کردار کی دولت سے مالا مال ہے جبکہ ماہ نور کے پاس ان تینوں میں سے کوئی ایک چیز نہیں”
گلنار بھی غصے میں کھڑی ہوکر ہاشم کو بولنے لگی لیکن جب گلنار نے کردار کا لفظ استعمال کیا آرزو کا دل زور سے دھڑکا، یقیناً اس لفظ پر ہاشم اُس کے کردار کی اپنی ماں جی کے سامنے دھجیاں بکھیر دیتا آرزو اِس وقت ہاشم کے چہرے پر غصّے بھرے تاثرات دیکھ کر گھبرائی اور کھڑی ہوکر گلنار کو مزید کچھ بولنے سے منع کرنے لگی مگر گلنار غصّے میں ہاشم کو سناتی چلی گئی
“گستاخی معاف کیجیے گا ماں جی آپ کی چوائس بھی کوئی فرسٹ کلاس نہیں ہے کیا جانتی ہیں آپ اِس کے کردار کے بارے میں”
جس کا ڈر تھا وہی ہوا ہاشم بول ہی رہا تھا آرزو کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا، جس کی وجہ سے ہاشم کی بات مکمل نہیں ہو پائی آرزو چکرا کر فرش پر گر پڑی
***””””***
“بی پی کافی زیادہ لو ہونے کی وجہ سے یہ بےہوش ہوگئی تھی ویسے ٹینشن کی کوئی بات نہیں ہے، یہ کچھ میڈیسن دے رہا ہوں اِن کو پراپر ڈائٹ کے ساتھ دیجیئے گا انشاءاللہ جلد ٹھیک ہوجائے گی”
ڈاکٹر نسخے کا پرچہ ہاشم کو پکڑاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا ہاشم بیڈ پر آنکھیں بند کرکے لیٹی آرزو کو دیکھنے لگا جو اب ہوش میں آنے کے باوجود آنکھیں نہیں کھول رہی تھی جانا تو اُس کو صبح سویرے آفس تھا مگر ناشتے پر ہوئی بدمزگی کہ بعد ہاشم کو خود ڈاکٹر کو گھر بلانا پڑا
“گلنار اور ہاشم تم دونوں میرے کمرے میں آؤ بچی کو تھوڑی دیر ریسٹ کرنے دو”
ایوب خان گلنار اور ہاشم سے بولتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے گلنار اے سی آن ہونے کی وجہ سے آرزو پر چادر ڈال کر کمرے سے باہر نکلی
“پہلے یہ بخار کی میڈیسن لے لو پھر پراپر ریسٹ کرلینا”
آرزو آنکھیں بند کرکے لیٹی تھی تب ہاشم اُس کو دیکھ کر لہجے میں نرمی سمائے بولا جس پر آرزو نے آنکھیں کھولی مگر اُس کی طرف دیکھا نہیں
“نہیں ایسا کرو، میڈیسن لینے سے پہلے تھوڑا سا کچھ کھالو، بتاؤ کیا بنواؤ شمع سے تمہارے لیے”
شاید یہ عنایت اُس کے بےہوش ہونے کی وجہ سے کی جارہی تھی ورنہ وہ اِس کے لیے درد کہاں رکھتا تھا آرزو نے افسوس بھری نظر ہاشم کے چہرے پر ڈالی تو ایک پل کے لیے وہ نظریں چرا گیا دوسرے ہی پل وہ آرزو کے پاس آکر اُس کو دیکھتا ہوا بولا
“ٹھنڈ تو نہیں لگ رہی اے۔سی بند کردو”
ہاشم آرذو کا ماتھا چھو کر دیکھنے کے بعد خود ہی اے۔سی بند کرنے لگا
“اُس وقت ماں جی کی باتوں پر غصہ آگیا تھا، جبھی نوبت یہاں تک پہنچ گئی لیکن میں تمہارے بارے میں وہ سب نہیں بولتا جس کے ڈر کی وجہ سے تم بےہوش ہوگئی تھی”
نہ جانے کیوں اِس وقت اُسے اِس لڑکی کی بےبسی پر اپنا دل پگھلتا ہوا محسوس ہورہا تھا جبھی اُس کو وضاحت دینے لگا ہاشم کی بات پر آرزو نے ملامت بری نظر اُس پر ڈالی تو اچانک ہاشم نے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
“سوری”
اپنے رویے کی معذرت کرتا ہوا وہ آرزؤ کو دیکھ کر بولا
“اگر میں اِس قابل نہیں کہ اچھا شوہر ڈیزرو کرو تو آپ نے بھی ابھی تک اپنے سلوک سے یہی ثابت کیا ہے کہ آپ بھی اِس قابل نہیں ہیں جو اچھی بیوی ڈیزرو کریں پلیز یہاں سے چلے جائیے”
آرزو کے بات سننے کے باوجود اُس کو غصہ نہیں آیا وہ خاموشی سے کمرے سے باہر چلا گیا
***””””***
“پہلے تو ہم سے سمجھتے تھے گھر کا ماحول ماہ نور کی وجہ سے خراب ہوتا ہے لیکن وہ اب یہاں پر موجود نہیں ہے تو تم دونوں نے اُس جگہ کو لیتے ہوۓ گھر کو پاگل خانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہم پہلے تم سے سوال کریں گے گلنار یہ سب کیا ہے”
ایوب خان کے کمرے میں اِس وقت گلنار اور ہاشم دونوں ہی موجود تھے ایوب خان تھوڑی دیر پہلے ہوۓ قصّے سے ناخوش انداز میں گلنار سے پوچھنے لگے
“جو کچھ آج صبح ہوا میں اُس کے لیے کافی شرمندہ ہوں ابّا جی لیکن اِس سارے قصّے کا ذمہ دار میں صرف اور صرف ہاشم کو ٹھہراؤ گی کیونکہ اِس نے نہ صرف مجھے آپ کے سامنے شرمندہ کیا ہے بلکہ آرزو کے سامنے بھی میں اِس کی وجہ سے بری طرح شرمندہ ہوں میں سمجھ رہی تھی یہ ماہ نور سے اپنی پسند کی شادی کر کے پچھتا رہا ہوگا اب میری پسند کی لڑکی سے شادی کررہا ہے تو اُس لڑکی کے ساتھ ہنسی خوشی اپنی زندگی کا آغاز کرے گا لیکن یہ شروع سے عادی ہے اپنی مرضی کرنے کا، اپنی پسند کو ترجیح دینا عادت ہے اِس کی۔۔۔ چاہے اِس کی پسند صحیح ہو یا غلط۔۔۔ اب مجھے محسوس ہورہا ہے میں نے اپنی مرضی سے اِس کی شادی کرکے بہت بڑی غلطی کردی اُس بچی کا کوئی قصور نہیں ہے اَبّا جی جو صبح شام اُس کی جھڑکیاں کھانے کے باوجود خاموشی سے اِس کے کام کردیا کرتی ہے آپ اس سے بولیں یہ آرزو کو بطور بیوی کو قبول نہیں کرسکتا تو اُس کو اِس رشتے سے آزاد کردے مگر یوں کسی کی بچی کی زندگی کو برباد نہ کرے جہاں میں آپ سے شرمندہ ہوں، آرزو سے شرمندہ ہوں، وہی میں آرزو کے والدین سے بھی شرمندہ ہوکر معافی مانگ لوں گی آپ اس سے بول دیں کہ یہ آرزو کو آزاد کردیں اب میں کبھی بھی اِس کے مستقبل کے بارے میں نہیں سوچو گی”
گلنار شکوہ بھری نظر ہاشم پر ڈالتی ہوئی ایوب خان سے ساری باتیں کرگئی تو کمرے میں ایک دم خاموشی چھاگئی آرزو سے رشتہ ختم کرنے کی بات پر ہاشم بھی گلنار کو خفگی بھر کر دیکھنے لگا مگر بولا کچھ نہیں
“ٹھیک ہے ہم نے تمہاری بات سن لی ہے اب تم کمرے سے جاؤ ہمہیں ہاشم سے اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے”
ایوب خان کے حکم پر عمل کرتی گلنار ناراض نظر ہاشم پر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گئی
“دا جی آج صبح جو بھی ہوا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا میں اپنے رویے کی آپ سے معذرت کرتا ہوں، آپ کا یا پھر ماں جی کا دل دکھانا میرا مقصد ہرگز نہیں تھا”
ہاشم صوفے پر بیٹھا ہوا ایوب خان کو دیکھ کر بولا
“اور اپنی بیوی کا دل تم کس مقصد کے تحت دکھا رہے ہو تم ہمیں بتانا پسند کرو گے ہاشم جہاں تک ہم تمہیں جانتے ہیں تم بلاجواز کسی پر سختی نہیں برتتے پھر آخر کیا وجہ ہے جو تم نے شروع دن سے اُس بچی کے ساتھ عجیب و غریب رویہ اپنایا ہوا ہے”
ایوب خان کے پوچھنے پر ہاشم ان سے نظریں چرا گیا۔۔۔ وہ چاہ کر بھی ایوب خان کے سامنے آرزو کے بارے میں کچھ نہیں بول سکا
“ایسی کوئی بات نہیں ہے دا جی آپ اور ماں جی غلط سوچ رہے ہیں بھلا مجھے آرذو کے ساتھ کیا مسئلہ ہوگا، وہ بیوی ہے میری اگر میں اُس سے اپنے کام کروا لیتا ہوں یا ہلکا پھلکا اس کو ڈانٹ دیتا ہوں تو اس میں ایسی کوئی غلط بات نہیں”
ہاشم کو خود سمجھ نہیں آیا کہ وہ آرزؤ کے بارے میں ایوب خان کو کچھ کیو نہیں بتاسکا
“ہاشم جیسے تم نے گلنار کو خود سے مایوس کیا ہے ویسے ہم بھی تم سے کافی زیادہ مایوس ہوئے ہیں، اگر تمہیں سچ میں ماہ نور سے اتنی محبت تھی کہ تم اُس کی جگہ کسی دوسری لڑکی کو دینے کے لیے تیار نہیں تھے تو اُسی وقت دوسری شادی سے منع کردیتے جب تمہاری ماں خوشی خوشی تمہارے لئے لڑکیاں دیکھ رہی تھی لیکن کسی کی بیٹی کو اپنے گھر لانا اور اُس کے ساتھ ایسا رویہ رکھنا کسی خاندانی مرد کو زیب نہیں دیتا، بیوی پر حق جتانا اُس سے اپنے کام کروانا اور بات ہے لیکن تمہارے انداز میں لہجے میں چھپی تذلیل ہم کوئی بچے نہیں ہے جو محسوس نہ کرسکے اگر حقیقتاً تمہیں شرافت اور تمیز کے دائرے میں رہ کر اپنی بیوی کے ساتھ زندگی بسر کرنی ہے تو ٹھیک ہے نہیں تو گلنار بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے ایسی بیہودگی سے بہتر ہے کہ تم اُس بچی کو اِس رشتے سے آزاد کردو”
ایوب خان ہاشم کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے بولے تو ہاشم ایک تم بول پڑا
“آپ دونوں کیوں ایک ہی بات کیے جارہے ہیں میں آرزو سے اپنا رشتے ختم کرنے والا نہیں ہوں نہ ہی ایسا کسی کو کرنے دوں گا”
ہاشم ایوب خان سے بولتا ہوا ان کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں آیا مگر کمرے میں مکمل اندھیرا کیے آرزو بےخبر سو رہی تھی وہ آہستہ سے اپنا موبائل اور گاڑی کی کیز جیب میں ڈالتا ہوا کمرے سے باہر آفس کے لیے نکل گیا
***””””***
“سر می آئی کم ان”
امامہ فائل ہاتھ میں پکڑے اپنے باس شاویز سے بولی تھوڑی دیر پہلے اسے شاویز نے اپنے کمرے میں آنے کی دعوت دی تھی
“پلیز امامہ اندر آیئے”
شاویز اپنے آفس کمرے میں بیٹھا کسی کام میں مصروف تھا مگر امامہ کو اندر آتا دیکھ کر وہ تمام مصروفیات ترک کرتا امامہ کو دیکھ کو بولا
عام سے نقش رکھنے والی عام سی لڑکی جس کی چال میں بھی نقص تھا مگر شاویز کو وہ دوسری لڑکیوں سے سادہ اور مختلف لگتی۔۔۔ شروع دن سے ہی شاویز کو اُس کی شخصیت پروقار لگی تھی
“بیٹھئے امامہ”
شاویز امامہ کو آفس میں آتا دیکھ کر اسے بولا تو امامہ کرسی پر اُس کے سامنے بیٹھ گئی، ٹیبل پر اس کا ریزکنیشن لیٹر رکھا ہوا تھا۔۔۔ جو آج ہی اس نے ٹائپ کیا تھا کیونکہ اب وہ یہاں پر مزید جاب کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی
“پوچھ سکتا ہوں آپ یہ جاب کیوں چھوڑ رہی ہیں”
شاویز امامہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جبکی وجہ وہ بخوبی جانتا تھا
“سوری سر میں اپنے پرسنل ریژن ہر کسی سے شئیر نہیں کرتی جب تک مجھے لگا تھا کہ میں یہ جاب کر پاؤ گی تب تک میں نے یہاں جاب کی، لیکن اب مجھے محسوس ہورہا ہے کہ میں مزید آگے یہاں جاب نہیں کرسکتی”
امامہ شاویز کو دیکھتی ہوئی بولی جس پر شاویز ہلکا سا مسکرایا
“آپ کو میرا پرپوز کرنا برا لگا جبکہ میری نہ تو نیت غلط تھی نہ ہی ارادہ اور نہ ہی میرا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا تھا اگر میرے عمل سے آپ کی فیلنگیز ہرٹ ہوئی ہیں تو میں اُس کے لئے آپ سے معذرت خواہ ہوں اپنی تین سالہ بیٹی کی وجہ سے میں نے اپنی زندگی میں شادی جیسا اسٹیپ لینے کا سوچا تو سب سے پہلے دماغ میں آپ کا خیال آگیا لیکن اگر آپ ایسا نہیں چاہتی تو اٹس اوکے لیکن آپ کا استعفٰی ہرگز منظور نہیں کرو گا میں کیوکہ آپ اپنی جاب سے مخلص ہیں اور ایک محنتی ورکر ہیں آپ کو کبھی دوبارہ میرے کسی عمل سے کوئی پرابلم نہیں ہوگی اب آپ اپنے کیبن میں جاسکتی ہیں”
شاویز امامہ کو ساری بات کلیئر کرتا دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوچکا تھا امامہ کرسی سے اٹھ کر شاویز کے روم سے باہر نکل گئی
***””””***
آج ہاشم کو آفس سے واپس گھر آنے میں دیر ہوگئی تھی جب وہ گھر لوٹا تو ہال میں سناٹا چھایا ہوا تھا صبح والے واقعے سے دا جی اور ماں جی دونوں ہی اُس سے ناراض ہوچکے تھے۔۔۔ آرذو کی طبعیت اب کیسی تھی ہاشم کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کیوکہ وہ گیارہ بجے کے قریب آرزو کو سوتا ہوا چھوڑ کر آفس کے لیے نکل گیا تھا
ابھی وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا تو اُس نے آرذو کو الماری کے سامنے کھڑا پایا صبح کی بانسبت وہ ابھی بہتر لگ رہی تھی اور اِس وقت اپنے کپڑے تہہ کررہی تھی ہاشم کے کمرے میں آنے کا اُس نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا وہ اپنے کام میں مشغول رہی لیکن ہاشم صوفے پر بیٹھتا ہوا آرذو کا مکمل جائزہ لینے لگا
اِس میں کوئی شک نہیں تھا وہ اچھی خاصی پُرکشش اور خوبصورت لڑکی تھی اگر اُس کی زندگی سے تبریز نامی عنوان سرے سے ہی نکال دیا جاتا تو وہ کب کا اِس لڑکی کو بطور بیوی دلی طور پر قبول کرچکا ہوتا
“کیسی طبیعت ہے اب تمہاری”
دو ہفتوں میں ایسا پہلی بار ہوا تھا جب ہاشم نے اُس کی ذات میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے آرزو سے کوئی بات کی تھی وہ بھی بناء کسی طنز کے بالکل نارمل انداز میں آرزو پہلے تو ہاشم کی بات پر چونکی پھر اُس کی طرف دیکھے بغیر اپنے کپڑے تہہ کرتی ہوئی بولی
“کام کرنے کے قابل ہوگئی تبھی آپ کو کھڑی ہوئی نظر آرہی ہو”
اگر وہ ٹیڑھا مزاج رکھتا تو سیدھا جواب اِس لڑکی نے بھی نہیں دینا تھا۔۔۔ ہاشم ساری ہمدردی ایک طرف رکھ کر گھورتا ہوا اُس کو دیکھنے لگا
“اپنے ہی کام کررہی ہو کسی دوسرے کی ذات پر تو احسان نہیں کررہی ہو، ایک گلاس پانی لاؤ میرے لیے”
ہاشم کو اُس کا لاپرواہ انداز تھوڑا بہت کھلا تبھی وہ روعب دار لہجے میں بولا آرزو ہاتھ میں پکڑی قمیض بیڈ پر رکھتی ہوئی ہاشم کو پانی دینے لگی
“اپنے کھانے کا بتادیں کھانا آپ ابھی کھاۓ گیں یا پھر میں پیکنگ کرلو”
پانی کا گلاس ہاشم کو دینے کے بعد آرزو اُس پر دوسرا احسان کرتی کھانے کا پوچھنے لگی
“پیکنگ۔۔۔ مطلب کس چیز کی پیکنگ”
کھانا وہ کھا کر آیا تھا لفظ “پیکنگ” پر چونکا اِس لیے پانی کا گھونٹ منہ میں بھرتا ہوا آرزو سے پوچھنے لگا
“جتنی میرے اندر برداشت تھی میں اپنی اتنی تزلیل آپ کے ہاتھوں سہہ چکی ہوں اِس سے زیادہ ذلت سہنے کا میرے اندر مادہ نہیں ہے اِس لیے میں یہاں سے جارہی ہوں”
آرذو ہاشم سے بولتی ہوئی الماری سے اپنا بیگ نکال کر اُس میں کپڑے ڈالنے لگی تو ہاشم اُس کے نئے ڈرامے پر اپنا غصّہ پیتا ہوا بولا
“یہ سوچ کر میرے گھر سے جانا میں تمہیں منانے یا تمہیں واپس لانے تمہارے ماں باپ کے گھر ہرگز نہیں آؤگا”
ہاشم صوفے پر بیٹھا ہوا آرزو کو جتاتا ہوا بولا تو آرزو نے فوراً ہاشم کو جواب دیا
“میں یہ سوچ کر اس گھر سے جارہی ہوں کہ اب میں یہاں واپس دوبارہ کبھی نہیں آؤں گی میری طرف سے خلع کے پیپرز آپ کو جلد مل جائیں گے”
آرزو کی بات سن کر ہاشم کے چہرے پر ایک رنگ آیا دوسرا جانے لگا، اب اُس نے غصہ ضبط کیے بغیر پانی کا گلاس دیوار پر دے مارا
“کیا بکواس لگا رکھی ہے تمام لوگوں نے مل کر صبح سے”
ہاشم غصے میں بولتا ہوا صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوا تو آرزو چلتی ہوئی اُس کے پاس آئی
“میں نے تبریز سے اپنا تعلق جبھی ختم کرلیا تھا جب آپ کا مجھ سے رشتہ جڑا تھا اور دل کا تعلق تبریز سے تب توڑ لیا تھا جب میں آپ کے نکاح کے بندھن میں باندھ گئی تھی اب میرا تبریز سے نہ تو کوئی تعلق ہے اور نہ کبھی کوئی تعلق دوبارہ جڑ سکتا ہے لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ میں زندگی میں کبھی بھی آپ جیسے شخص سے محبت نہیں کرپاؤ گی اِسی وجہ سے آپ سے رشتہ ختم کرکے جارہی ہو اگر کوئی انسان غلطی پر ہوتا ہے تو اُس کی غلطی سدھارنے کے لیے، اُس انسان کو صحیح راہ پر چلنے کا موقع دیا جاتا ہے، اُس کے کردار کی دھجیاں نہیں اُڑائی جاتی، بات بات پر اُس کو رسوا کرکے اُس کو طعنے دے کر یہ احساس نہیں دلایا جاتا کہ تم سے زیادہ گرا ہوا کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا مانا کہ ہر کوئی اعلٰی ظرف نہیں ہوتا جو کسی کے عیب کو دیکھ کر اُس کا پردہ رکھ لے مگر آپ کے اندر اعلیٰ تو دور کی بات ظرف نام کی بھی کوئی چیز موجود نہیں ہے، یہ بات میں آپ کے ساتھ رہ کر دو ہفتوں میں ہی جان گئی ہوں کہ آپ کس قدر بےحس اور خود پسند انسان ہے جسے اپنے علاوہ ساری دنیا غلط لگتی ہے۔۔۔ اپنے گھر والوں سے چھپ کر میں نے تبریز سے دوستی کی غلط کیا۔۔۔ اُس سے ملنے جاتی تھی اُس سے بھی زیادہ غلط کیا مگر میرا کردار صاف ہے میلا نہیں۔۔۔ یہ میرا اللہ جانتا ہے اِس بات کی گواہی میں آپ کے سامنے یا کسی دوسرے کے سامنے دے کر خود کو مزید نہیں گرا سکتی۔۔۔ آپ اپنی پہلی بلند و بالا کردار بیوی کے ساتھ خوش رہیئے میں اپنی دنیا میں اکیلی ہی خوش رہ لو گی ویسے بھی جہاں آپس دل ہی نہیں ملتے ہو وہاں بلا ضرورت نباہ کرکے کوئی فائدہ نہیں ہوتا میں جانتی ہوں یہاں سے جانے کے بعد میرے والدین بھی مجھے مشکل سے ہی قبول کریں گے لیکن لعنتی ملامتی کے بعد اُن کو مجھ پر ترس آہی جائے گا لیکن میں آپ کے ساتھ اپنی بقیہ زندگی گزار کر تمام عمر آپ کے ہاتھوں ذلیل نہیں ہوسکتی جتنے دن آپ کے ساتھ رہی مجھے یہی سیکھنے کو ملا کہ ایک مرد شوہر کے روپ میں کبھی بھی کمپرومائز نہیں کرسکتا، نباہ کرنا صرف عورت کے حصّے میں آتا ہے جو عورت شادی شدہ مرد سے شادی کر کے بھی کر گزرتی ہے”
آرزو آنسو بہاکر ہاشم کے سامنے سب کچھ بول گئی ہاشم خاموشی سے اُس کی باتیں سننے کے بعد آنکھوں سے اشک صاف کرتی اُس لڑکی کو دیکھنے لگا جس سے اُس کی تھوڑے دن پہلے شادی ہوئی تھی وہ اپنا بیگ پیک کرکے کمرے سے باہر چلی گئی تو ہاشم کسی گہری سوچ سے جاگا
“آرذو۔۔۔۔ آرذو رکو”
ہاشم کمرے میں آرزو کو موجود نہ پاکر اُس کے پیچھے کمرے سے باہر نکلا
“آرزو رکو”
ہاشم کے پکارنے پر بھی آرزو ہینڈ کیری ہاتھ میں لیے گیٹ عبور کر گئی ہاشم دونوں ہونٹوں کو آپس میں بھینچ کر دوبارہ اس کے پیچھے گیا
“سنائی نہیں دے رہا تمہیں کب سے پکارے جارہا ہوں تم ایسے میرے گھر سے نہیں جاسکتی واپس چلو میرے ساتھ”
ہاشم فٹ پاتھ پر چلتی ہوئی آرزو کے راستے میں آکر اس سے بولا تو آرزو روئی ہوئی آنکھوں سے اُس کو دیکھنے لگی
“کیوں واپس اپنے گھر لےکر جانا چاہتے ہیں آپ مجھے”
آرذو اپنے آنسو صاف کرتی ہاشم سے پوچھنے لگی وہ ارادہ کرچکی تھی اپنے ماں باپ کے پاس جانے کا اُسے ہاشم سے ذرا توقع نہیں تھی کہ ہاشم اس کو جانے سے روکے گا
“یہ بات یہاں پر بیچ راہ میں نہیں بتاسکتا واپس چلو پہلے”
ہاشم آرذو کی نم روئی ہوئی آنکھیں دیکھ کر اُس سے بولا
“میں واپس نہیں چل رہی آپ کے ساتھ، نہیں تو آپ کو لگے گا کہ میں آپ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے میکے جانے کا ڈرامہ کررہی تھی”
آرذو ہاشم سے بولتی ہوئی دور سے آتی ٹیکسی کو ہاتھ کے اشارے سے روکنے لگی تو ہاشم نے اُس کے ہاتھ سے ہینڈ کیری لےلیا
“اب تم بلاوجہ کی فضول بحث میں پڑ رہی ہو میں اگر ایسا سوچتا تو یوں تمہارے پیچھے آکر تمہیں روکتا ہرگز نہیں”
ہاشم اپنا غصہ ضبط کرتا ہوا آرذو سے بولا تو ٹیکسی قریب آکر رک گئی
“بھیا کہاں جانا ہے”
ٹیکسی والا کھڑکی سے باہر گردن نکال کر پوچھنے لگا تو ہاشم فوراً سے بولا
“ہمیں کہیں نہیں جانا ہے تم جاؤ یہاں سے”
ہاشم کے بولنے پر آرزو جلدی سے بولی
“بھائی آپ یہی پر رکھیے مجھے جانا ہے۔۔۔۔ ہاشم پلیز بیگ دیجئے میرا”
آرذو ٹیکسی والے کو روک کر ہاشم سے بولی ساتھ ہی اُس نے اپنا ہاتھ بیگ لینے کے لئے ہاشم کے آگے بڑھایا تو ہاشم نے اپنے دوسرے ہاتھ سے آرذو کا ہاتھ تھام لیا
“اب تم نخرے دکھانے میں ٹائم ویسٹ کررہی ہو جبکہ میں تمہیں بار بار واپس گھر جانے کا کہہ رہا ہوں”
ہاشم آرذو کا ہاتھ تھام کر سنجیدہ انداز میں اُس سے بولا
“اور واپس گھر جانے کے بعد آپ کا آیٹیٹیوڈ ویسا ہی ہوجائے گا جیسے شروع دن سے رہا ہے”
آرزو ہاشم کو بتانے کے ساتھ اپنا ہاتھ اُس سے چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی
“اب ایسا کچھ نہیں ہوگا”
ہاشم اس کا ہاتھ چھوڑے بغیر بولا ہاشم اُس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جبکہ آرذو بھی ہاشم کی آنکھوں میں دیکھنے لگی
“بھیا جانا ہے یا نہیں جانا ہے۔۔۔ مجھے کیوں روکا ہوا ہے آپ لوگوں نے”
ٹیکسی والا اُن دونوں کو ایک دوسرے میں گم دیکھ کر دوبارہ پوچھنے لگا
“تمہیں کس نے روکا ہوا ہے یار جاؤ یہاں سے”
ہاشم ایک نظر ٹیکسی والے کو دیکھ کر بولا اور دوبارہ آرزو کو دیکھنے لگا جبکہ اُس نے ابھی تک آرذو کا ہاتھ بھی پکڑے رکھا تھا
“نہیں بھائی آپ دو منٹ دیں میں چلتی ہوں”
آرزو ہاشم کی آنکھوں میں دیکھ کر ٹیکسی والے سے بولی تو ٹیکسی والا خاموشی سے دوبارہ اُن دنوں کو دیکھنے لگا
“اتنا زیادہ کبھی میں نے ماہ نور کو بھی کسی بات کے لئے فورس نہیں کیا جتنا تمہیں کررہا ہوں تمہیں میری بات کا یقین کرنا پڑے گا کہ اب پہلے جیسا ہمارے بیچ کچھ نہیں ہوگا”
ہاشم آرذو کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا اسے بولا اور یہ سچ بھی تھا
“میں کیا کروں مجھے آپ کی بات کا بالکل بھی یقین نہیں”
آرزو ہاشم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اُسے بولی۔۔۔ اتنا ٹیڑھے مزاج کا انسان اتنی جلدی سیدھا ہوجاۓ آرذو کو بالکل خوش فہمی نہیں تھی
“بہن آپ اِن کی بات کا یقین کرلو، یہ آپ کو جانے نہیں دیں گے بلاوجہ میں میرا بھی وقت ضائع ہو رہا ہے”
ٹیکسی والے کی بات سن کر وہ دونوں ٹیکسی والے کو دیکھنے لگے ٹیکسی والا اپنی ٹیکسی وہاں سے لے گیا جبکہ ہاشم آرزو کا ہاتھ پکڑے دوسرے ہاتھ میں اُس کا بیگ اٹھائے آرذو کو اپنے ساتھ واپس گھر لے جانے لگا
***”””***
اپنے کمرے میں آرزو کو واپس لاتا ہوا ہاشم الماری میں اُس کا ہینڈ کیری رکھنے لگا جبکہ آرزو ایک کونے میں کھڑی ہوگئی ہاشم آرزو کی طرف متوجہ ہوکر چلتا ہوا اس کے پاس آیا ہاشم کو اپنے پاس آتا دیکھ کر آرزو کی پلکیں بےاختیار جھگ گئی
“میں کوئی بہت زیادہ جابر قسم کا سخت گیر انسان نہیں ہوں مگر ہماری شادی کے بعد کچھ حالات ایسے بن گئے تھے کہ تمہارے ذہن میں میرا امیج ظالم شخص کا بیٹھ گیا مگر میری اِس بات کو تم خود بھی تسلیم کرو گی کہ چاہے کوئی بھی مرد ہو خود چاہے کیسا ہو لیکن وہ چاہتا ہے اُس کی بیوی اُس سے فئیر رہے جو تمہارا ماضی تھا اگر سچ میں تم اُس کو بھول کر میرے ساتھ مخلص رشتہ نبھاوں گی تو مجھے ہمیشہ اچھے شوہر کی صورت پاؤگی اِس بات کی میں تمہیں گارنٹی دیتا ہوں”
ہاشم نرم لہجے میں آرزو کو دیکھ کر اُس سے ساری بات کلیئر کرتا بولا تو آرزو پلکیں اٹھاکر ہاشم کو دیکھنے لگی وہ منتظر نگاہوں سے اُسی کی جانب دیکھ رہا تھا جیسے کچھ سننا چاہ رہا ہو
“آپ مجھے ہمیشہ مخلص بیوی کے روپ میں ہی پائیں گے یہ میرا آپ سے وعدہ ہے”
آرزو کے بولتے ہی ہاشم نے آرزو کو اپنے حصار میں لے لیا جس پر آرذو کا دل زور سے دھڑکنے لگا
“میرا ماننا ہے کہ کسی کے دل میں اپنی جگہ بنالینا مشکل نہیں ہے مشکل ہوتا ہے تو اُس جگہ کو اُس شخص کو دل میں برقرار رکھنا۔۔۔ تم وعدہ کرو میرے دل میں عمر بھر اپنی بنائی گئی جگہ قائم رکھوں گی”
ہاشم آرذو کو اپنے حصار میں لےکر اس سے بولا ماہ نور اپنا مقام اپنی جگہ اُس کے دل میں کھو چکی تھی ہاشم نے اپنی دوسری بیوی سے وعدہ لینا چاہتا تھا
“میں وعدہ کرتی ہوں ایسا ہی ہوگا آپ مجھے ہر قدم پر خود سے مخلص پاۓ گے”
آرزو ہاشم کی پناہوں میں اُس سے وعدہ کرتی ہوئی بولی اُس نے سوچ لیا تھا کہ یہ وعدہ وہ تاعمر وفا کرکے نبھائےگی ہاشم اُس کی بات پر آرذو کو خود سے الگ کر کے آرزو کا چہرہ تھام کر اونچا کرتا بولا
“اگر ایسا ہوا تو تم ساری عمر میرے دل پر حکومت کرو گی میں وعدہ کرتا ہوں تم سے”
ہاشم نے بولتے ہوۓ آرذو کے ہونٹوں پر محبت بھری مہر ثبت کی۔۔۔ محبت بھرا لمس اپنے ہونٹوں پر محسوس کرکے آرذو کی پلکیں خود بہ خود جھگ گئیں اس نے شرم سے ہاشم کے سینے میں اپنا چہرا چھپالیا
***”””***
