Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel Readelle 50385 Diyar E Wehsat (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Diyar E Wehsat (Episode 13)
Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel
“کھانا کھالیا اُس نے”
صبح سے اب رات ہوچکی تھی شیر عباس نے ہیر کو ابھی تک اُس چھوٹے سے کمرے میں قید کر رکھا تھا خود وہ کسی ضروری کام سے چلاگیا تھا اب رات کے وقت کھانے کی میز پر فرغب بی سے ہیر کے بارے میں پوچھنے لگا
“بہت ضدی ہیں آپ کی بیوی نہ ہی انھوں نے دوپہر میں کچھ کھایا نہ ہی رات کا کھانا کھارہی ہیں”
فرغب بی شیر عباس کو جواب دیتی ہوئی بولیں آج صبح اُن کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تبھی ڈرائیور کے ساتھ وہ ڈاکٹر کے پاس چلی گئی تھیں جب ہیر پیلس میں اُن کی واپسی ہوئی تب ایک نیا باب کُھل چکا تھا
“میں دیکھتا ہوں جاکر”
فرغب بی کا جواب پاکر شیر عباس سے بھی کھانا نہیں کھایا گیا، وہ صبح سے خالی پیٹ تھی شیر عباس کرسی سے اٹھتا ہوا کمرے کی طرف جانے لگا جس میں اُس نے صبح ہیر کو بند کردیا تھا
گول گٹری بنی وہ نیچے ٹھنڈے فرش پر لیٹی تھی، کمرے کا دروازہ کھولنے پر ہیر میں کوئی ہل جھل نہ ہوئی صرف آنکھیں اٹھا کر وہ کالے لباس میں اپنے جانب آتے شیر عباس کو دیکھنے لگی
“کھانا کیوں نہیں کھارہی ہو تم”
شیر عباس ہیر کی جانب قدم اٹھاتا ہوا ساتھ ہی ہیر سے پوچھنے لگا، ہیر اِس وقت بےسدھ نڈھال سی زمین پر لیٹی ہوئی تھی اور کمرہ بےانتہا ٹھنڈا ہورہا تھا
“آپ کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی ہوں میں چلے جائیے یہاں سے”
ہیر شیر عباس کے جواب میں یونہی لیٹے لیٹے شیر عباس کو دیکھ کر بولی آج اسے شیر عباس کو کالے رنگ کے لباس میں دیکھ کر ڈر نہیں لگ رہا تھا آج اس نے اپنے شوہر کا جو روپ دیکھا تھا وہ اُس روپ سے بھی کہیں زیادہ بھیانک تھا جس سے وہ اب تک ڈرتی آئی تھی
“شکل تو میں اپنی تبدیل نہیں کرسکتا، ساری عمر تمہیں اسی شکل کے ساتھ گزارا کرنا ہے چلو اب اٹھ کر بیٹھو”
شیر عباس اُس کو بولتا ہوا خود اٹھانے لگا کافی دیر سے ٹھنڈے فرش پر لیٹے رہنے کی وجہ سے اُس کے ہاتھ پاؤں کافی سرد ہورہے تھے شیر عباس اپنے شانوں سے گرم چادر اتار کر ہیر کے گرد لپیٹنے لگا
“آپ نے میرے ساتھ وہ سب کیوں کیا تھا عباس۔۔۔ کون سا شوہر اپنی بیوی کے ساتھ اِس طرح کرتا ہے، کیوں مجھے اتنے دنوں تک خوف میں ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا آپ نے، کیو مجھے باور کرواتے رہے وہ سب کرنے والے آپ نہیں کوئی دوسرا تھا، ترس نہیں آیا آپ کو میری ذات پر”
شیر عباس جانتا تھا ہیر اُس سے کس بارے میں بات کررہی تھی۔۔۔ وہ اسے کالے لباس میں دیکھ کر آج خوفزدہ نہیں تھی اس کا یہی مطلب تھا وہ سب کچھ سمجھ چکی تھی جبھی اُس سے سوال پوچھ رہی تھی جس کا جواب دینا شیر عباس نے ضروری نہیں سمجھا
“لو کھانا کھالو”
وہ چھوٹی سی ٹیبل پر رکھی کھانے کی ٹرے ہیر کے پاس لے آیا اور اپنے ہاتھ سے نوالہ بناکر اپنا ہاتھ ہیر کے منہ کی طرف بڑھاتا ہوا بولا
“یوں میری باتوں کو نظر انداز کردینے سے آپ کے جرم کم نہیں ہو جائیں گے بعد میں آپ کس کس بات کی معافی مانگیں گے مجھ سے”
ہیر شیر عباس کا ہاتھ پیچھے کرتی ہوئی اُس سے بولی
“جانتی کیا ہو تم آدھا ادھورا سچ، مکمل حقیقت سے تم ابھی بھی ناواقف ہو میری جان جس دن تصویر کا دوسرا رخ تمہارے سامنے آگیا تو شاید خسارہ میرے حصّے میں نکلتا دیکھ کر معافی تمہیں مانگنی پڑے اپنے شوہر”
شیر عباس ہاتھ میں پکڑا روٹی کا نوالہ واپس پلیٹ میں رکھتا ہوا ہیر سے بولا
“مجرم اور قاتل سے معافی نہیں مانگی جاتی ہے نہ ہی وہ معصوم ہوا کرتے ہیں”
ہیر اب کی بار تھوڑا تیز آواز میں احتجاجاً بولی
“اپنے کمرے میں چلو یہاں کافی ٹھنڈ ہے تم بیمار ہوجاؤ گی”
شیر عباس ایک مرتبہ پھر اُس کی بات کو نظرانداز کرتا ہوا ہیر سے بولا اور خود اٹھ کر کھڑا ہوگیا
“مجھے آپ کے کمرے میں نہیں جانا اِس قید سے آزادی چاہتی ہوں میں”
ہیر کھڑی ہوئے بغیر شیر عباس کو دیکھتی ہوئی بولی
“آزادی تمہارے مقدر میں نہیں لکھی ہے نہ ہی میں تمہاری کوئی فضول کی ضد پوری کرسکتا ہو”
شیر عباس نے بولتے ہوئے جھک کر ہیر کو اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا لیا۔۔۔ ہیر میں اتنی توانائی نہ تھی کہ وہ صبح کی طرح چیختی چلاتی یا پھر احتجاج کرتی۔۔۔ شیر عباس ہیر کو اپنے بازوؤں میں اٹھاۓ اپنے بیڈروم میں لاکر بیڈ پر بٹھا چکا تھا
“فرغب بی کھانا لاکر دیں تو بغیر ضد کیے کھالینا”
شیر عباس ہیر کی نم آنکھیں دیکھتا سنجیدہ لہجہ اختیار کرکے بولا
“میرے ابو کی طرح فرحانہ بھی مر گئی۔۔۔ فرحانہ کو بھی مار ڈالا آپ نے عباس”
ہیر نم آنکھوں اور بھیگے لہجے کے ساتھ شیر عباس سے پوچھنے لگی
“ہاں مار ڈالا اسے بھی اور اب تم کوئی بےکار سوال مجھ سے نہیں پوچھوں گی، صرف وہی کرو گی جو میں تم سے بولوں گا”
شیر عباس ہیر کی نم آنکھیں دیکھ کر سخت لہجہ اختیار کرتا ہوا بولا
“نہیں تو کیا کریں گے آپ مجھے بھی مار ڈالیں گے”
ہیر آہستہ آواز میں شیر عباس سے پوچھنے لگی تو شیر عباس چلتا ہوا ہیر کے پاس آیا وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی شیر عباس کی سنگدلی دیکھ رہی تھی۔۔۔ شیر عباس ذرا سا اُس کے چہرے کی طرف جھکتا ہوا سنجیدہ لہجے میں بولا
“اگر تم نے ہیر پیلس سے باہر قدم رکھا یا پھر یہاں سے جانے کی ضد کی تو میں تمہیں بھی مار ڈالوں گا”
وہ سفاکی سے بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا ہیر اپنا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی
***”””***
“کتنا وقت لگا رہی ہو آرذو تیار ہونے میں چلنا ہے یا نہیں”
بیڈ پر لیٹے ہوۓ ہاشم نے ایک مرتبہ پھر آرزو سے پوچھا جو اُس کی جانب پشت کے آئینے کے سامنے کھڑی بڑے دل سے تیار ہو رہی تھی
“ہاشم تھوڑا ٹائم تو لگے گا ایسے ہی اٹھ کر چلی جاؤ اپنی بہن کی خوشی میں”
آرزو ہاشم کی جانب رخ کرتی بولی تو ہاشم اُس کی تیاری دیکھ کر ایک پل کے لیے مہبوت سا رہ گیا
“جلدی جانے کا اِس لیے بول رہا ہوں کیوکہ امامہ کے نکاح کے بعد وہاں سے تمہیں سونیا کی منگنی میں بھی جانا ہے۔۔۔ یار کیا بہت ضروری ہے سونیا کی منگنی میں جانا”
ہاشم آرزو کے پروگرام کے مطابق اُس سے پوچھنے لگا۔۔۔ آج شاویز کے ساتھ امامہ کا نکاح سادگی سے گھر پر رکھا گیا تھا اور آرزو کی دوست سونیا کی منگنی بھی آج ہی کے دن مقرر کی گئی تھی جس میں شرکت کرنے کے لیے آرزو دل و جان سے تیار ہوئی تھی
“بہت ضروری ہے ہاشم سونیا کی منگنی میں جانا نہیں تو وہ بہت زیادہ ناراض ہوجائے گی اچھا بس پانچ منٹ دے دیں میں بس تیار ہونے والی ہو”
آرزو ہاشم سے بولتی ہوئی دوبارہ اپنی رُخ آئینے کی طرف مُڑنے لگی
“پانچ منٹ تو اب تمہیں مجھے دینے ہونگے”
ہاشم کی بات پر آرذو پلٹ کر ناسمجھنے والے انداز میں بیڈ پر نیم دراز ہوۓ ہاشم کو دیکھنے لگی
“پانچ منٹ سے زیادہ وقت لگنا بھی نہیں چاہیے آپ کو تیار ہونے میں، ڈریس آپ کا پریس ہے بلکہ آپ بھی تیاری شروع کریں”
آرزو ہاشم سے بولتی ہوئی ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے لگی تو ہاشم بیڈ سے اٹھ کر قدم اٹھ کر آرزو کے پاس آیا
“ہاشم میں آپ کو کیا بول رہی ہوں اور آپ ابھی کیا کررہے ہیں”
ہاشم نے جیسے ہی آرزو اپنے حصار میں لیا آرزو ہاشم کا بدلتا ہوا موڈ دیکھ کر اُس کو بولنے لگی
“پانچ منٹ میں تیار ہونے کے لئے نہیں بلکہ تم سے اپنے لئے وقت مانگ رہا تھا”
ہاشم نے آرذو بولتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر جھکنا چاہا تو آرذو نے ہاشم کو بڑی بڑی آنکھیں دکھائی۔۔۔ ہاشم شرافت کا مظاہرہ کر کے اپنے ہونٹ اُس کے گال پر رکھ چکا تھا
“آپ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اگر میرا میک اپ خراب ہوا تو مجھے مزید دیر لگی کی تیار ہونے میں”
ہاشم کی نظروں میں اپنے لیے بےقراری دیکھ کر آرزو اُس سے بولی
“سمجھو ابھی موقع ہاتھ سے جانے دیا ہے اگر موقعے کا فائدہ اٹھاتا تو تم غصہ کرنے لگ جاتی اور یہ رعایت صرف ابھی دے رہا ہوں واپس گھر آنے کے بعد آج کوئی رعایت نہیں ملنے والی تمہیں”
ہاشم گہری نظروں سے آرزو کو دیکھتا ہوا بولا تو آرزو کی پلکیں حیا سے جھک گئیں ہاشم آرزو کے حسین سراپے پر بھرپور نظر ڈال کر خود بھی چینج کرنے چلا گیا
***”””***
“شاویز بھائی بہت اچھے انسان ہیں آپی مجھے بہت خوشی ہے آپ کے لئے آپ کیوں اداس لگ رہی ہیں”
نکاح کے بعد آرزو امامہ سے بولی امامہ دلہن کی بجائے سادہ سے روپ میں صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی اور اُس کی گود میں وانیہ سو رہی تھی شاویز اور شہناس کے اصرار پر امامہ بھی راضی ہوچکی تھی تبھی جلدی اور سادگی سے نکاح کی تقریب گھر پر ہی رکھ دی گئی
“میں بھی خوش ہوں بس ابو اور ہیر کی یاد آرہی تھی”
امامہ کے بولنے پر صدیقی کے ذکر سے آرذو بھی اداس ہوگئی وہی کمرے میں آتی شہناس امامہ کا جملہ سنتی ہوئی اُس سے بولی
“ہیر کی تو بہت فکر ہونے لگی ہے مجھے، میری سب سے چھوٹی بیٹی ایسے آدمی کو بیاہی جائے گی معلوم نہیں تھا۔۔۔ شیر عباس کو دیکھ کر ذرا گمان بھی نہیں ہوتا ایسا بےحس انسان نکلے گا وہ، پہلے تو اُس نے ہیر کو ہمارے پاس آنے سے روکا ہوا تھا لیکن اب تو اُس نے ہیر سے بات کرنے پر بھی پابندی لگادی۔۔۔ تین دن سے ہیر کی آواز نہیں سنی معلوم نہیں کس حال میں رکھا ہے اُس نے میری بچی کو”
شہناس ہیر کو یاد کر کے مزید افسردہ ہونے لگی
“امی آپ فکر نہیں کریں میں نے ہاشم سے ذکر کیا ہے اِس بارے میں، بس وہ اپنے دو سے تین ضروری کام نمٹالیں پھر ہاشم مجھے لےکر خود عباس بھائی کے پاس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔ ہم ہیر سے مل بھی آئیں گے اور عباس بھائی سے بات بھی کرلیں گے معلوم تو ہو آخر بات کیا ہے”
آرزو افسردہ بیٹھی شہناس کو دیکھ کر بولی جو صدیقی کے جانے کے بعد کافی کمزور ہوچکی تھی
“ارے وہاں جاکر بات کیا کرنی ہے بس سیدھا سیدھا وہاں سے میری بچی کو اپنے ساتھ لے آنا”
شہناس آرزو کو دیکھ کر بےقرار لہجے میں بولی تو امامہ نے بیچ میں مداخلت کی
“کیسی بات کررہی ہیں آپ امی، عباس بھائی ہیر کے شوہر ہے ان کی مرضی نہیں ہوگی تو یہ لوگ ہیر کو زبردستی تو اپنے ساتھ نہیں لاۓ گیں آپ اپنے ذہن سے یہ وہم نکال دیں کہ عباس بھائی نے ہیر کو خوش نہیں رکھا ہوا، اگر ایسی بات ہوتی تو ہیر مجھ سے ضرور شیئر کرتی”
امامہ کے سمجھانے پر آرذو اور شہناس دونوں خاموش ہوگئیں
“تم سناؤ ہاشم کی پہلی بیوی کا رویہ تمہارے ساتھ کیسا ہے۔۔۔ اُس لڑکی کو دیکھ کر تو لگتا ہی نہیں ہے کہ تمیز اور اخلاق کا مظاہرہ کرتی ہوگی”
اب شہناس آرزو کی فکر کرتی اُس سے ماہ نور کے متعلق پوچھ رہی تھی۔۔۔ ماہ نور جو شہناس کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی
“میں زیادہ بات نہیں کرتی ہوں اُن سے، وہ بھی اپنے کام سے کام رکھتی ہیں۔۔۔ آپ ماہ نور کی وجہ سے ٹینشن مت لیں”
آرزو زیادہ کچھ نہیں بولی نہ ہی اُس نے ابھی تک شہناس امامہ کو یہ بتایا تھا کہ ہاشم اور ماہ نور ایک دوسرے سے علیدگی چاہتے ہیں کیوکہ ابھی ڈائیورس کے پیپرز نہیں آۓ تھے جب تک ماہ نور اس گھر میں تھی آرزو اس سے الجھنا نہیں چاہتی تھی وہ ماہ نور کے طنز، طعنوں کو نظر انداز کررہی تھی کیوکہ اُس کی زندگی سے ماہ نور نام کا کانٹا چند ہی دنوں میں نکلنے والا تھا
“ہاشم بھائی تمہیں چھوڑ کر کیوں چلے گئے ہیں اب تم اپنے سسرال واپسی کیسے کرو گی”
امامہ بات کا رخ بدلتی ہوئی آرذو سے پوچھنے لگی کیونکہ تھوڑی دیر پہلے ہاشم امامہ کو نکاح کی مبارکباد کے ساتھ اپنے واپس جانے کا بھی اُس سے ذکر کرچکا تھا
“انہیں اپنے دوست کے پاس کسی ضروری کام سے جانا پڑگیا ہے ڈرائیور آنے والا ہے مجھے لینے کے لئے، پہلے سونیا کی طرف جاؤ گی پھر وہاں سے واپس گھر جاؤں گی”
آرزو امامہ کو اپنا پروگرام بتاتی ہوئی بولی
***””””***
“اف یہ ڈرائیور نے گاڑی اتنی دور اندھیرے میں کھڑی کی ہے”
آرزو قطار سے کھڑی گاڑیوں میں اپنی گاڑی تلاش کرنے لگی جو گلی ختم ہونے سے پہلے سب سے آخر میں کھڑی تھی آرذو جھنجھلاتی ہوئی پیدل چلتی گاڑی کی طرف بڑھی
اس نے سونیا کی طرف جانے کا اپنا پروگرام کینسل کردیا تھا کیونکہ رات کافی ہوچکی تھی۔۔۔ شہناس اور امامہ کے پاس اُس کو کافی ٹائم لگ گیا تھا مزید دیر کرکے وہ ہاشم سمیت گلنار اور ایوب خان کو خود سے شکایت کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی
“ایسا کرو گاڑی گھر کی طرف لےلو”
آرذو گاڑی میں بیٹھنے کے ساتھ ہی ڈرائیور سے بولی کیونکہ بقول ہاشم کے وہ ڈرائیور کو سونیا کے گھر کا ایڈریس پہلے ہی سمجھا چکا تھا
“یہ کون سے ویران رستے سے لےکر جارہے ہو گاڑی۔۔۔ اور اتنا اندھیرا کیوں کر رکھا ہے لائٹ آن کرو”
آرذو ڈرائیور کو ٹوکتی ہوئی بولی اُس کی ساری توجہ اِس وقت امامہ کے ساتھ کھینچی اپنی تصویروں پر تھی جو اس نے اپنے موبائل سے لی تھی تبھی اُس کے موبائل پر ہاشم کی کال آنے لگی
“جی ہاشم بولیے”
ہاشم کی کال ریسیو کرنے کے ساتھ ہی آرزو بولی ویسے ہی ڈرائیور نے گاڑی کی اسپیڈ تیز کردی، آرزو ڈرائیور کو ٹوکنے سے رہ گئی کیونکہ ہاشم اُس سے کچھ بول رہا تھا
“کیا مطلب ہے آپ کا”
آرزو ہاشم کی بات پر الجھ کر بولی
“یار گاڑی خراب ہوچکی ہے بیچ راستے میں ڈرائیور گاڑی کو ٹھیک کروا رہا ہے تم وہی ویٹ کرو میں خود تمہیں تھوڑی دیر میں پک کرلیتا ہوں”
ہاشم نہ جانے اور بھی کیا بول رہا تھا لیکن آرزو کو تو جیسے سانپ سونگ گیا تھا اگر گاڑی خراب تھی اور ڈرائیور گاڑی کو ٹھیک کروا رہا تھا تو یہ کس کی گاڑی تھی جس میں وہ بیٹھی ہوئی تھی اور یہ آدمی۔۔۔
“گاڑی روکو”
آرذو گھبرائی ہوئی آواز میں اُس سے بولی تو آرذو کی بات سن کر وہ مزید گاڑی کی اسپیڈ تیز کرچکا تھا جس سے آرزو کا موبائل نیچے گر گیا۔۔۔ معلوم نہیں کال ابھی بھی کنیکٹ تھی کہ ہاشم اپنی بات بول کر کال کاٹ چکا تھا
“میں بول رہی ہوں گاڑی روکو کون ہو تم”
اب کی بار آرزو مزید اونچا بولی تو ڈرائیور نے گاڑی کی لائٹ آن کردی اور فرنٹ مرر کا رخ اُس نے اپنے چہرے کی طرف کیا۔۔۔ مرر میں اُس کا چہرہ دیکھ کر آرذو کی خوف سے آنکھیں پھیل گئی
***”””***
“تم ایسی بےزار شکل بناکر بیٹھی ہو ہیر جیسے موقع ملنے کی دیر ہے فوراً یہاں سے فرار ہوجاؤ”
شیر عباس اپنے سامنے کرسی پر بیٹھی ہیر کو ٹوکتا ہوا بولا۔۔۔ اُس کی شادی کی خوشی میں یہ اُس کے اسٹاف کی طرف سے دی گئی چھوٹی سی دعوت تھی جس میں وہ ہیر کو بہت اصرار کر کے اپنے ساتھ لایا تھا مگر بےزاری ہیر کے چہرے سے چھلک رہی تھی اِس لیے شیر عباس ہیر کو ٹوکتا ہوا بولا
“بے زار شکل کیو نہ بناؤ؟ میں یہاں کون سا کسی کو جانتی ہوں بلاوجہ مجھے اپنے ساتھ لے آئے اور خود اپنے دوستوں میں مگن ہیں آپ”
ہیر شیر عباس کو دیکھ کر منہ بناتی ہوئی اُس سے شکوہ کرنے لگی جو اُس کو اپنے ساتھ یہاں لاکر اپنے دوستوں میں مصروف ہوگیا تھا وہ کب سے اکیلی بیٹھی بور ہورہی تھی
“تو یار وہ دوست ہیں میرے کیا جاکر ملوں گا نہیں اُن سے، اب آگیا ہوں ناں تمہارے پاس”
شیر عباس ہیر کو گھورتا ہوا بولا وہ دور سے ہیر کے اُکتائے ہوئے انداز سے ہیر کے خراب موڈ کا اندازہ لگا چکا تھا اس لیے اُسکے پاس چلا آیا اس سے پہلے ہیر شیر عباس سے کچھ کہتی ضروری اناؤنسمنٹ ہونے لگی
“لیڈیز اینڈ جنٹلمین اب پیش خدمت ہے آپ کے سامنے ایک خوبصورت گانا، یہ گانا دراصل ایک ہسبینڈ کے دل کی آواز ہے دیکھتے ہیں اُن کی وائف اپنے ہسبینڈ کے دل کی آواز کو پہچان سکتی ہیں یا نہیں”
ایک لیڈی مائیک پر اناؤنس کر کے چلی گئی تو ہال میں تالیاں گونجنے لگیں
“لوگ بھی بڑے عجیب و غریب ہوتے ہیں۔۔۔ ہسبیڈ خود اپنے دل کی آواز اپنی بیوی تک پہنچا دیتا گانا تو سنگر گا کے نکل جائے گا بلاوجہ یہاں ساری عورتیں خوش فہمی میں مبتلا رہیں گے کہ اُن کے لئے ان کے ہسبینڈ نے یہ سونگ ڈیڈکیٹ کیا ہوگا”
ہیر ناک چڑھا کر بولی تو شیر عباس پہلے ہیر کی بات پر چپ رہا پھر وقفے کے بعد بولا
“یہ بھی تو ہوسکتا ہے اُس بےچارے آدمی نے پہلے کبھی کسی کے سامنے گانا نہیں گایا ہو وہ نروس فیل کررہا ہو اِس لیے اُس نے کسی دوسرے کو گانا گانے کے لیے کہہ دیا ہو”
شیر عباس اُس ہسبینڈ کی حمایت لیتا ہوا ہیر سے بولا
“پہلی بات یہ کہ مرد بےچارے بالکل نہیں ہوتے اور نروس ہونے والی کون سی بات ہے بھئی جب شادی کرلی تو خود کی بیوی کی لیے تعریفی کلمات بولنے میں کیسی شرم۔۔۔۔ اتنا ہی تو بولنا ہے کہ تم اچھی لگتی ہو مجھے”
ہیر نے اپنی رائے دیتے ہوئے سر جھٹکا تو شیر عباس کا دل چاہا وہ سنگر کو گانا گانے سے روک دے اور ہیر کو خود ہی بول دے کہ وہ اُس کو اچھی لگتی ہے مگر تب تک گانا شروع ہوگیا گانے کے بول ایسے تھے کہ ہیر کا موڈ بحال ہونے لگا
“جب کوئی بات بگڑ جائے، جب کوئی مشکل پڑ جائے، تم دینا ساتھ میرا وہ ہم نوا۔۔۔۔ نہ کوئی ہے نہ کوئی تھا زندگی میں تمھارے سوا۔۔۔۔ تم دینا ساتھ میرا او ہمنواں۔۔۔
گانے کے دوران جب مدہم سروں میں میوزک بج رہا تھا تب شیر عباس اپنی کرسی سے اٹھ کر سنگر کی طرف جانے لگا ہیر کنفیوز ہوکر شیر عباس کو دیکھنے لگی
“ہو چاندنی جب تک رات دیتا ہے ہر کوئی ساتھ۔۔۔ مگر تم اندھیروں میں نہ چھوڑنا میرا ساتھ۔۔۔ جب کوئی بات بگڑ جاۓ جب کوئی مشکل پڑ جاۓ تم دینا ساتھ میرا او ہمنوا۔۔۔
شیر عباس مائیک پکڑے ہیر کو دیکھتا ہوا اُس کے لیے باقی کے بول خود گانے لگا جبکہ ہیر حیرت سے منہ کھولے شیر عباس کو دیکھنے لگی
وہ اِس وقت اپنے ہاتھ کی انگلی میں ہیرے کی انگوٹھی دیکھ کر ایک ماہ پہلے والی اُس رات کو یاد کرنے لگی جب شیر عباس نے نہ صرف سب کے سامنے اُس کے لیے گانا گایا تھا بلکہ واپس گھر آنے کے بعد ہیر کو یہی انگوٹھی پہناتے ہوۓ اِس بات کا اقرار بھی کیا کہ وہ اُس کو اچھی لگتی ہے
اچھی لگنے کے باوجود اُس کے شوہر نے اس کے ساتھ دھوکا کیا، اُس کو کس طرح خوف میں مبتلا رکھا کاش وہ اُس کو اچھی نہیں لگتی تو پھر شاید اُس کا شوہر اُس کے ساتھ وہ سب نہ کرتا۔۔۔ ہیر بیڈ روم میں موجود سوچنے لگی
صبح کا وقت تھا، شیر عباس 2 گھنٹے پہلے ہوٹل جانے کے لئے تیار ہوکر ہیر پیلس سے نکل چکا تھا۔۔۔۔ رات نہ جانے وہ کون سا پہر تھا جب شیر عباس سونے کی غرض سے بیڈروم میں آیا تھا۔۔۔ شیر عباس کے بیڈ پر لیٹنے سے ہیر کی آنکھ کھلی تھی مگر وہ شیر عباس کو لیمپ کی روشنی میں دیکھ کر دوسری سمت اپنا رخ کرتی سوچکی تھی۔۔۔ صبح سے ہی ہیر کو اپنا موبائل کہیں نظر نہیں آرہا تھا مطلب شیر عباس نہیں چاہتا تھا وہ اب اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ کرے۔۔۔ ہیر غصے میں اپنے بیڈ روم میں لگے اُس خفیہ کیمرہ کو دیکھنے لگی جس سے اُس پر نظر رکھی جاتی تھی ہیر کمرے سے باہر نکلنے والی تھی تبھی فرغب بی کمرے کے اندر چلی آئیں
“یوں شوہر سے ضد لگانا کوئی اچھی بات نہیں ہے، شیر عباس کو معلوم ہوگا آپ نے ناشتہ نہیں کیا تو وہ کل کی طرح آپ سے خفا ہو گے”
ناشتے کی ٹرے جوں کی توں دیکھ کر فرغب بی ہیر سے بولیں
“کیا اچھی بات ہے کیا نہیں۔۔۔ کم سے کم یہ باتیں آپ کے اور عباس کے منہ سے زیب نہیں دیتیں۔۔۔ آپ بھی عباس کے ساتھ اُن کے ہر برے عمل میں برابر شامل رہی ہوگیں۔۔۔ خوف نہیں ہے آپ دونوں کو اللہ کا۔۔ ترس نہیں آرہا آپ کو مجھے اِس حالت میں دیکھ کر۔۔۔ آپ کو اللہ کا واسطہ ہے فرغب بی آپ نے مجھ پر جب ترس نہیں کھایا تو اب کھالیں، پلیز مجھے اِس قید سے آزاد کردیں ورنہ میں یہاں سسک سسک کر مرجاونگی”
ہیر بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اور فرغب بی سے کہنے لگی فرغب بی ہیر کی بات اَن سنی کرکے بنا کچھ بولے کمرے سے باہر جانے لگیں تو ہیر کو نہ جانے کیوں شدید غصہ آیا
“فرغب بی”
ہیر زور سی چیختی ہوئی فرغب بی کے پاس آئی اِس سے پہلے فرغب بی کمرے سے باہر نکلتیں ہیر نے اُن کو بیڈ کی جانب دھکا دیا اور خود تیزی سے کمرے سے نکل کر باہر سے کمرہ لاک کردیا
“ہیر دروازہ کھولیں ورنہ شیر عباس آپ پر بہت غصہ کریں گے”
فرغب بی دروازہ بجاتی ہوئی ہیر سے بولیں مگر موقع دیکھتے ہی ہیر راہداری عبور کر کے ہال میں آئی۔۔۔ ملازموں نے اُس کے کمرے سے نکل آنے کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔۔۔۔ ہیر خاموشی سے اپنے گرد لپٹی ہوئی چادر کو درست کرتی ہال سے باہر نکل گئی، ہیر پیلس کا احاطہ پار کرکے اُس کے قدموں میں تیزی آگئی وہ کیسے بھی یہاں سے جلد سے جلد نکلنا چاہتی تھی اُس کو خبر نہیں تھی شیر عباس اِس وقت اُس کو کیمرے کی آنکھ سے دیکھ کر پکڑ لے گا یا وہ یہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوسکے گی
***””””***
احتجاجاً رو رو کر اب اُس کی آنکھیں خشک ہوچکی تھی کل رات اُس کو کیڈنیپ کیا گیا، کل رات سے وہ اپنے گھر سے لاپتہ تھی کل کی رات اپنی سیاہی اُس کے چہرے پر مل کر گزر چکی تھی اور اب دن کا آغاز ہوچکا تھا لیکن ابھی تک اُس کو اغوا کرنے والا شخص اُس کے سامنے نہیں آیا تھا کسی اجنبی آدمی کو کار ڈرائیو کرتا دیکھ کر وہ بری طرح خوف ذدہ ہوچکی تھی، کل رات سے وہ اس کمرے میں قید تھی جہاں نہ تو کوئی کھڑکی تھی نہ ہی کوئی روشندان کمرے میں ایک چھوٹا سا بیڈ اور کرسی ٹیبل موجود تھی تب اچانک اس کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک عورت ٹرے لےکر اندر داخل ہوئی
“کون ہو تم، مجھے کس وجہ سے یہاں لایا گیا ہے۔۔۔ جواب کیوں نہیں دے رہی ہو؟؟ مجھے بتاؤ پلیز مجھے یہاں کیوں قید کیا گیا ہے۔ کون ہے وہ جس کے کہنے پر مجھے اغوا کیا گیا ہے پلیز کچھ تو بولو”
آرزو اُس عورت سے پوچھتی رہ گئی مگر وہ عورت کچھ نہیں بولی کھانے کی ٹرے رکھ کر وہاں سے چلی گئی آرزو کو ایک مرتبہ پھر رونا آنے لگا اُسے ہاشم کا، اپنے گھر والوں کا، اپنے سسرال والوں کا خیال آنے لگا نہ جانے اب تک وہ سب لوگ کیا کیا سوچ بیٹھے ہونگے یونہی ایک گھنٹہ گزر گیا اب وہ عورت ایک مرتبہ دوبارہ کمرے میں آئی اب کی بار آرزو اپنے کانوں میں پہنے ہوئے ڈائمنڈ کے چھوٹے چھوٹے ائیرینگز اور ہاتھوں کی انگلیوں کی رینگز اتارنے لگی
“یہ تم رکھ لو، دیکھو یہ لوگ تمہیں جتنے پیسے دیں گے، یہ ان سے کئی زیادہ قیمتی ہیں مگر پلیز مجھے یہاں سے جانے دو”
آرزو اس عورت کے ہاتھ میں اپنی اتاری ہوئی جیولری رکھ کر بولی وہ عورت اب بھی کچھ نہیں بولی ٹرے میں موجود کھانا جوں کا توں ویسے ہی دیکھ کر وہ عورت ٹرے واپس لے جانے لگی
“سنو پلیز مجھے یہاں سے باہر نکال دو”
آرزو اس کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوئی دوبارہ بولی مگر وہ عورت ایسے ری ایکٹ کررہی تھی جیسے گونگی اور بہری ہو۔۔۔ اس عورت کو کمرے سے جاتا دیکھ کر آرزو کو غصہ آنے لگا
“جس نے مجھے اغواء کیا ہے اُس بزدل اور کمزور انسان سے بولو یہاں میرے سامنے آکر بات کریں مجھ سے”
آرزو اب کی بار چیخ کر بولی مگر وہ عورت کمرے سے جاچکی تھی آرزو وہی چھوٹے سے بیڈ پر بیٹھ کر رونے لگی تب اسے محسوس ہوا ایک سے زیادہ فرد کمرے سے باہر موجود ہیں، جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھلا وہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئی
“کک۔۔۔ کون ہو تم”
اِس آدمی کو آرزو بالکل بھی نہیں پہچانتی تھی جو ہاتھ میں گن پکڑا ہوا اُس کی طرف بڑھ رہا تھا آرذو ڈر کے مارے بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی وہ آدمی ہاتھ میں پکڑی گن سے آرزو کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا آرزو اس کے ہاتھ میں گن دیکھ کر خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئی وہی عورت دوبارہ کمرے میں چلی آئی اور آرزو کی آنکھوں پر کالے رنگ کی پٹی باندھنے لگی
“یہ کیا کررہے ہو تم لوگ”
کرسی سے جب اُس کے دونوں ہاتھ باندھے گئے تب آرزو گھبراتی ہوئی بولی پھر آرزو کو محسوس ہوا جیسے وہ دونوں کمرے سے باہر جاچکے ہیں اب کمرے میں اُس کے علاوہ کوئی موجود نہ تھا تب آرزو کے کان میں ایک مرتبہ پھر دروازہ کھلنے کی آواز آئی
“کون ہے، کون ہے یہاں پر”
کوئی اُس کی طرف قدم بڑھاتا ہوا آرہا تھا جوتوں کی آواز سے آرزو نے اندازہ لگایا تبھی وہ گبھراتی ہوئی آنے والے شخص سے پوچھنے لگی
“مجھے پلیز واپس جانے دو میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا”
آرزو دوبارہ بولی اسے محسوس ہوا جیسے وہ اُس کے سامنے بیٹھا ہو
“نن۔۔۔ نہیں پلیز”
آرزو کو اپنے کانوں کو چھوتی اُس کی انگلیاں محسوس ہوئی وہ بری طرح خوفزدہ ہوگئی مگر اسے محسوس ہوا کہ وہ جو بھی کوئی تھا اُس کے آئیر رینگز اسے دوبارہ پہنا رہا تھا شاید وہ عورت اُس کے ائیرنگ اِس آدمی کو دے چکی تھی
“تب۔۔۔ ریز۔۔۔
ٹوٹا ہوا نام جیسے ہی آرزو کے منہ سے ادا ہوا انگلی میں انگوٹھی ڈالتے اُس آدمی کے ہاتھوں کی حرکت چند پل کے لیے رک گئی
“مم۔۔۔ میں جانتی ہوں تم تبریز ہو۔۔۔ اِس طرح تم مجھے کبھی حاصل نہیں کرسکتے میں ہاشم کی بیوی کو کسی دوسرے کی عزت تمہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے ایک شادی شدہ لڑکی کا خیال اپنے دل میں لاتے ہوئے میں تمہیں بتاچکی ہوں کہ میں تم سے محبت نہیں کرتی اور تمہاری اِس حرکت نے میرے دل میں تمہاری عزت بھی ختم کردی ہے میں ہاشم کی بیوی ہوں اُن کے ساتھ نہ تو منافقت کرسکتی ہوں اور نہ ہی اُن سے بےوفائی کرنے کا سوچ سکتی ہوں تمہاری اِس حرکت نے مجھے کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا، معلوم نہیں اب میں کبھی اپنے گھر والوں کو اور ہاشم کو دیکھ پاؤں گی یا نہیں یا پھر سب لوگ ہاشم سمیت میرا اعتبار بھی کریں گے یا نہیں لیکن میں تم سے شدید نفرت کرتی ہو سنا تم نے میں تم سے شدید نفرت کرتی ہوں تم کبھی بھی میری نفرت کو دوبارہ محبت میں نہیں بدل پاؤ گے کیونکہ ہاشم کی محبت نے میرے دل میں اپنا ڈیرہ جمالیا ہے، لاکھ کوشش کے باوجود تم اُس محبت کو میرے دل سے نہیں نکال سکتے”
بےبسی کے مارے چیخ چیخ کر بولتے ہوئے آرزو کا گلا دکھنے لگا اس کے لفظ تب منہ میں ہی رہ گئے جب اسے اپنے دائیں ہاتھ پر نمی گرتی محسوس ہوئی مگر وہ اس وقت رو نہیں رہی تھی کیا اس کے سامنے بیٹھا شخص رو رہا تھا شاید۔۔۔ آرذو بالکل چپ ہوگئی چند سیکنڈ بعد آرذو کو احساس ہو جیسے وہ کمرے میں اکیلی ہے وہاں پر کوئی دوسرا موجود نہیں
***””””***
“وہ کیسے یہاں سے جاسکتی ہے فرغب بی آپ نے روکا کیوں نہیں اُسے”
شدید غصے کے عالم میں شیر عباس فرغب بی سے ایک مرتبہ دوبارہ پوچھنے لگا بہت ضروری کام کی وجہ سے نہ تو وہ کیمرے کی مدد سے ہیر پر نظر رکھ سکا تھا نہ ہی کل سارا دن ہیر پیلس آسکا دوسرے دن یعنی آج جب اُس کی واپسی ہیر پیلس ہوئی تب فرغب بی نے اُس کو ہیر کے فرار ہونے کی خبر سنائی جس کو سننے کے بعد شیر عباس کا غصہ ساتویں آسمان کو چھونے لگا تھا
“میں آپ کو ساری صورت حال بتاچکی ہوں، ہال میں کام کرتے کسی ملازم کو معلوم نہیں تھا کہ ہیر کو قید کر کے رکھا گیا ہے بس اسی بات کا انہوں نے فائدہ اٹھایا۔۔۔ وہ کس طرح مجھے آپ کے کمرے میں بند کر کے یہاں سے فرار ہو گئیں آپ کیمرے کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں”
فرغب بی کی بات سن کر شیر عباس کو ہیر پر مزید غصہ آنے لگا
“اُس کی ماں اور بہن اپنا گھر تبدیل کرچکی ہیں ہیر کے پاس نہ تو اُن کا کوئی ایڈریس ہے نہ ہی اُس بیوقوف لڑکی کے پاس اپنا موبائل ہے جو وہ ان سے رابطہ کرسکے اب کیسے وہ اپنے گھر والوں تک پہنچ سکے گی ایک تو میں پہلے ہی پریشان تھا اور اب یہ مسئلہ بھی کھڑا ہوگیا میرے لیے”
غصے نے بولتے ہوۓ شیر عباس نے ہونٹ بھینچے اِس وقت شیر عباس کا غُصے سے برا حال تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے کمرے کی چیزیں تہس نہس کرچکا تھا
“پھر اب کیا ہوگا شیر عباس ہیر کو ہم کیسے تلاش کریں گے”
فرغب بی شیر عباس کے غُصے میں دیکھ کر پوچھنے لگیں فرغب بی کو اچھی طرح علم تھا شیر عباس پہلے ہی پریشان تھا اور ہیر کے اس طرح فرار ہونے سے وہ مزید پریشان ہوچکا تھا
“ظاہری بات ہے ہاتھ پر ہاتھ رکھے تو نہیں بیٹھ سکتا، آپ پیکنگ کریں رات تک ہمہیں کراچی کے لیے نکلنا ہے”
شیر عباس فرغب بی سے بولتا ہوا اپنے جیب سے موبائل نکالنے لگا جس میں ایس پی ابرار کا نمبر فیڈ تھا جن کی پوسٹنگ آج کل کراچی میں ہوچکی تھی
***”””***
ہاشم اِس وقت شکستہ قدموں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا گلنار اور ایوب خان کے ساتھ ماہ نور بھی لیونگ روم میں موجود اُس کی آمد کی منتظر تھی۔۔۔ ہاشم کے چہرے پر چھائی مایوسی صاف بتارہی تھی کہ آرزو کا ابھی تک اُس کو کچھ معلوم نہیں ہوسکا تھا۔۔۔ وہ لیونگ روم میں آکر سب لوگوں کے درمیان صوفے پر برجمان ہوگیا
“ابھی تک آرزو کا پتہ نہیں چل سکا بیٹا، شہناس سے معلوم کرو آرزو کی دوستوں کے بارے میں یا پھر کوئی ان لوگوں کے ایسے رشتے دار جہاں آرزو کی موجودگی ممکن ہوسکتی ہے”
گلنار ہاشم کا اترا ہوا پریشان چہرہ دیکھ کر بولی
“آپ کو کیا لگ رہا ہے اب تک ایسی ہی بیٹھا تھا سب جگہ تلاش کیا ہے مگر اُس کا کچھ اتا پتہ نہیں چل رہا۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا آخر وہ گئی کہاں”
ہاشم پریشانی کے عالم میں بولا تو گلنار مزید پریشان ہونے لگی
“معلوم نہیں بچی کس حال میں ہوگی۔۔۔ میرے خیال میں ہمہیں پولیس کی مدد لینی چاہئے”
ایوب خان کے بولنے پر گلنار اور ماہ نور ایوب خان کو دیکھنے لگیں
“میں بھی یہی سوچ رہا ہوں جہاں جہاں آرذو کو تلاش کرسکتا تھا میں نے کیا لیکن اب اِس معاملے میں پولیس کو آنولو کرنا ہی پڑے گا”
ہاشم نے ایوب خان کی بات کی تائید کی تو ماہ نور نے بیچ میں مداخلت کرنی چاہی، جو پولیس کا ذکر سن کر تھوڑا گھبرا گئی تھی مگر اس سے پہلے گلنار ہاشم کی بات کو رد کرتی ہوئی بولی
“اگر پولیس میں معاملہ جائے گا تو خاندان بھر میں بدنامی اور جگ ہنسائی ہوگی”
گلنار کے بولنے پر ہاشم سیدھا ہوکر بیٹھا
“تو پھر آپ کیا چاہ رہی ہیں بدنامی اور جگ ہنسائی کے خوف سے چپ کرکے بیٹھ جاؤ، کسی نے میری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے چھوڑوں گا نہیں میں اُسے بالکل نہیں”
ہاشم اب کی بار غصے میں بولا تو ماہ نور نے بھی لب کشائی کرنا ضروری سمجھا
“آپ سب لوگ آرزو کے لئے اتنا پریشان ہورہے ہیں یہ بھی تو ہوسکتا ہے وہ اپنی مرضی سے یہاں سے چلی گئی ہو”
ماہ نور کی بات پر تمام افراد نے اُس کی جانب دیکھا جبکہ ہاشم کے تاثرات اُس کی بات پر بالکل سرد ہوگئے وہ صوفے سے اٹھ کر ماہ نور کے پاس آیا
“مطلب کیا ہے تمہاری اِس بات کا”
ہاشم ماہ نور کے پاس آتا ہوا اس سے سنجیدہ لہجے میں پوچھنے لگا تو ماہ نور بھی اٹھ کر ہاشم کے سامنے کھڑی ہوگئی
“مطلب تم آرزو کی ماں سے پوچھو وہ حقیقت تمہیں زیادہ بہتر سمجھا سکتی ہے تم سے شادی سے پہلے آرذو کا رجحان کسی دوسرے لڑکے کی طرف۔۔۔
ماہ نور کے جملہ مکمل کرنے سے پہلے ہاشم نے تنبیہ کرنے والے انداز میں انگلی اٹھائی
“آرزو کے لئے اگر ایک بھی غلط لفظ تمہارے منہ سے نکلا تو میں تمہارا لحاظ نہیں کروں گا”
ہاشم کا تنبہی کرنے والا انداز ایسا تھا کہ گلنار اور ایوب خان بھی خاموش ہوگئے ماہ نور بھی چپ کرگئی ہاشم غضیلی نگاہ ماہ نور پر ڈال کر کمرے سے جانے لگا تبھی ماہ نور دوبارہ بولی
“کچھ غلط تو نہیں بول رہی ہوں میں تمہاری بیوی کے کردار کے بارے میں آرذو سے تمہاری شادی سے پہلے، آرذو کا افیئر تمہارے ساتھ بھی رہا ہے، آرزو وہی لڑکی تھی ناں جس کے ساتھ تم اپنے دوست کے فلیٹ میں راتیں گزرتے آۓ ہو، تو معلوم کرلو جاکر آرزو کی ماں سے تم سے پہلے وہ کسی دوسرے آدمی کے ساتھ اس طرح فلیٹوں میں راتیں گزارتی آرہی ہے”
ماہ نور کے بولنے پر شدید غم و غصے کے عالم میں ہاشم ماہ نور کی جانب بڑھا اگر ایوب خان ہاشم کو بازو سے پکڑ کر نہیں روکتے تو وہ ماہ نور کا حشر سچ میں بگاڑ ڈالتا
جبکہ ماہ نور نے ایسی بات کی تھی جس سے گلنار اور ایوب خان بالکل شاکڈ ہوچکیں تھے۔۔۔ ہاشم کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر وہاں سے اپنے کمرے میں چلا گیا
***”””***
تیزی سے رات میں ڈھلتا دن اب اتنی بھی روشنی نہیں رکھتا تھا اندھیرا بڑھنے پر ہیر کو پریشانی شروع ہوچکی تھی۔۔۔ لمبی مسافت طے کرکے گلگت سے کراچی آنا بالکل آسان نہ تھا جیسے تیسے وہ کراچی تو پہنچ چکی تھی مگر نہ تو اُسے شہناس اور امامہ کے پتہ معلوم تھا نہ ہی آرذو کے سسرال کا ایڈریس۔۔۔ خوشبو (دوست) کا گھر اُس کو پتہ تھا لیکن خوشبو کا شوہر مظہر شیر عباس کا دوست تھا، شیر عباس باآسانی ہیر کا وہاں سے پتہ لگا لیتا۔۔۔ ہیر پیلس سے بھاگتے ہوئے یہی بات اُس کے ذہن میں اپنے پنجھے گاڑھے بیٹھی تھی کہ وہ اپنے باپ کے قاتل کے ساتھ نہیں رہ سکتی لیکن اِس وقت کی صورت حال سے وہ بری طرح پریشان ہوچکی تھی تبھی اپنے نام کی آواز پر وہ چونکی
“ہیر ہیں ناں آپ”
ہیر نے دیکھا وہ جو کوئی بھی تھا گاڑی سے اتر کر غور سے اُس کو دیکھ رہا تھا ہیر کے پاس آتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“سوری میں نے آپ کو بالکل نہیں پہچانا”
ہیر اس اجنبی مرد کو دیکھتی ہوئی بولی لیکن وہ شخص اُس کا نام جانتا تھا تو لازمی اس کی فیملی کا بھی علم رکھتا ہوگا اس بات سے ہیر تھوڑی بہت ڈھارس ملی تھی
“میں آپ کا بہنوئی ہوں شاویز، امامہ کے موبائل میں آپ کی تصویر دیکھ رکھی ہے لیکن آپ تو گلگت میں ہوتی ہیں ناں”
شاویز تھوڑا حیرت زدہ سا ہیر کو دیکھ کر پوچھنے لگا ہیر بہنوئی لفظ پر حیران ہوئی۔۔۔ شاویز مطلب یہ تو امامہ کے باس کا نام تھا جن کے گھر میں صدیقی کے انتقال کے بعد سے شہناس اور امامہ رہائش پذیر تھیں اتنا تو وہ جانتی تھی لیکن یہ ہسبنڈ والی کہانی کب کیسے ہوئی وہ لاعلم تھی
“جی میں آج ہی کراچی پہنچی ہوں ایڈریس مجھ سے کھو گیا اور میرے پاس موبائل بھی موجود نہیں ہے پلیز آپ مجھے آپی اور امی کے پاس لے جائیں”
امید کی راہ دکھتے ہی ہیر دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کرتی جلدی سے شاویز سے بولی
“شیر عباس نے آپ کو اکیلے آنے دیا حیرت ہے وہ اتنی لاپروا طبعیت کا مالک لگتا تو نہیں”
شاویز کی بات پر ہیر کو کرنٹ سا لگا
“آپ میرے ہسبینڈ کو میرا مطلب ہے عباس کو جانتے ہیں آپ”
شاویز کے جملے سے صاف محسوس ہورہا تھا وہ شیر عباس کو جانتا تھا یہ سوچ کر ہیر کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی
“آہ۔۔۔ نہیں، امامہ نے ہی ذکر کیا تھا تو معلوم ہوا آپ کے شوہر کا نام شیر عباس ہے۔۔۔ آئیے گھر چلتے ہیں آنٹی اور امامہ آپ کو دیکھ کر کافی خوش ہوں گیں”
ہیر کے چہرے پر عجیب سے گھبراہٹ طاری ہوتا دیکھ کر شاویز بھی بات بدل گیا۔۔۔ وہ فلحال ہیر کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا جو بنا سامان کے اتنی دور سے سفر کرکے کراچی آئی تھی اور سڑکوں پر بھٹک رہی تھی
ہیر شہناس اور امامہ کا نام سن کر ایک مرتبہ پھر تسلی کرتی گاڑی میں شاویز کے ساتھ بیٹھ گئی
***”””***
“تم نے مجھے کال کیوں کی ہے ایڈیٹ، تمہاری وجہ سے ہاشم کو مجھ پر شک ہوسکتا ہے ویسے ہی آج وہ غُصّے میں پاگل ہورہا ہے اگر اسے ذرا بھی بھنک پڑگئی کہ آرزو کی کڈنیپنگ میں تمہارے ساتھ میرا بھی ہاتھ ہے تو وہ مجھے زمین میں زندہ گاڑھ دے گا”
ماہ نور اپنے کمرے میں آہستہ آواز اور دبے غُصّے میں تبریز سے بولی۔۔۔ تبریز آرزو کے متعلق جانکاری کروانے کے بعد ہی اُس نے تبریز سے کانٹیکٹ کرکے، اُس کے ساتھ مل کر سارا پلان بنایا تھا۔۔۔۔ یہ سب اُس نے ہاشم کی محبت میں یا پھر اُس کو حاصل کرنے کے لئے ہرگز نہیں کیا تھا وہ ہاشم کی زندگی سے نکلنے سے پہلے آرزو کو بھی ہاشم کی زندگی سے نکالنا چاہتی تھی
“وہ اب مجھ سے محبت نہیں کرتی ہے میں نے فیصلہ کرلیا ہے میں اُس کو ہاشم کے پاس واپس بھیج رہا ہوں”
تبریز ہارے ہوئے لہجے میں بولا تو اُس کی بات سن کر ماہ نور کا دل چاہا وہ تبریز کا چہرہ طمانچے مار کر لال کردے
“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے اگر وہ ہاشم کے پاس اُس کے گھر میں واپس آگئی تو ہاشم کو ہمارے بارے میں سب بتادے گی۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے اُس کے بعد ہاشم ہمہیں چھوڑ دے گا وہ جان سے مار ڈالے گا تمہیں بھی میرے ساتھ”
ماہ نور دانت پیس کر غصے میں بولی نہ جانے ایسے گدھے جیسے عاشق کے ساتھ اُس نے ڈیل ہی کیوں کی تھی جو اُسے پہلے ہی کافی کنفیوز لگ رہا تھا کہ کڈنیپنگ جیسا اسٹیپ لینا درست ہے کہ نہیں
“تم بےفکر رہو تمہارا نام کہیں نہیں آئے گا کسی کو شک نہیں گزرے گا تمہاری اِس کام میں انولومنٹ شامل ہے”
تبریز ایک بار پھر بولا تو ماہ نور نے غصے میں اُس کی بات کاٹ دی
“اگر وہ اب تم سے محبت نہیں کرتی تو اُسے ہاشم کے پاس دوبارہ بھیجنے سے بہتر ہے تم آرزو کا مرڈر کرکے اسکی لاش کہیں پھینک دو”
ماہ نور تبریز سے موبائل پر بولتی ہوئی پلٹی تو ہاشم کو اپنی پشت پر کھڑا دیکھ کر اس کی زبان گنگ رہ گئی، وہ سناٹے میں آگئی ہاشم ماہ نور کے ہاتھ سے اُس کا موبائل لےکر اپنے کان پر لگا چکا تھا
“میں اُس کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا، وہ بہت زیادہ رو رہی تھی اپنے شوہر کے لیے میں اُس کو مزید روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا”
تبریز کی آواز سن کر کال ڈسکنیکٹ کرنے کے بعد ہاشم سرد اور پتھریلے تاثرات کے ساتھ ہاتھ میں خاکی رنگ کا لفافہ پکڑے غضبناک تیور لیے ماہ نور کو دیکھ رہا تھا
“ہاشم وہ۔۔۔ میں نے پتہ لگالیا ہے کہ آرزو کہاں ہے میں نے کہا تھا ناں وہ اپنے ایکس کے ساتھ۔۔۔
اس سے پہلے ماہ نور کا ادھورہ جملہ مکمل ہوتا ہاشم کا مارا ہوا زناٹے دار تھپڑ ماہ نور کا گال سن کر گیا
“میں اپنے مکمل ہوش و حواس میں ہاشم خان تمہیں اپنے رشتے سے آزاد کرتا ہوں۔۔۔ یہ رہے سائن شدہ طلاق کے پیپرز”
ہاشم ہاتھ میں پکڑا ہوا لفافہ ماہ نور کے منہ پر مار کر غُصّے میں کمرے سے جانے لگا
آرزو کے غائب ہوتے ہی اس کا دماغ سب سے پہلے تبریز کی جانب گیا تھا تبریز کے متعلق معلومات کروانے پر ہاشم کو یہی پتہ چلا تھا کہ وہ زمانت کے بعد ملک چھوڑ کر جاچکا تھا ہاشم کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا اس کڈنیپنگ میں تبریز کے ساتھ ماہ نور کی انولومینٹ ہوسکتی ہے اپنی گاڑی میں بیٹھتا ہوا وہ ایس پی شیخ اسامہ کو کال ملانے لگا
***”””***
آج دوسرا دن بھی گزرنے والا تھا مگر وہ اس بند کمرے میں قید جوں کی توں بیڈ پر لیٹی ہوئی، ہر گزرنے والا گھنٹہ گن رہی تھی جو اُس پر پہلے گزرے ہوئے گھنٹے سے زیادہ بھاری لگتا تھوڑی دیر پہلے وہ عورت کھانے سے بھری پر واپس لےکر اور آرزو پر خاموش نظر ڈال کر کمرے سے جاچکی تھی تبھی اچانک کمرے کا دروازہ کھلا، آنے والی شخصیت نے آرزو کو اٹھ کر بیٹھنے پر مجبور کردیا
“تم آج میری آنکھوں پر پٹی باندھنا یا پھر اپنا چہرہ چھپانا بھول گئے ہو”
آرزو تبریر کو دیکھتی ہوئی بولی تو تبریز شکستہ قدموں کے ساتھ بیڈ کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھا آرزو تھوڑا دور ہوکر بیٹھ گئی اور نفرت بھری نگاہ سے تبریز کا چہرہ دیکھنے لگی
“میرے دل میں بسی تمہاری محبت نے مجھے اتنا مجبور کردیا کہ میں تمہیں خود سے قریب رکھنے کی خاطر ایسا قدم اٹھانے پر مجبور ہوگیا تمہیں اغواء کرکے یہاں لانے کے بعد تمہارا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی مجھ میں، اِس لیے اپنا چہرہ چھپانے کی خاطر تمہاری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا لیکن تم نے مجھے پہچان لیا کیونکہ میرے سوا یہ گھٹیا کام اور کوئی انجام نہیں دے سکتا تھا لیکن میں نے جو بھی کچھ کیا تمہاری محبت میں کیا، تمہیں پانے کی چاہ میں کیا، کل تک میں تمہاری زندگی میں ہیرو کی حیثیت رکھتا تھا لیکن آج ولن بن کر مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا آرذو میں ہمیشہ تمہاری نظروں میں ہیرو بنے رہنا چاہتا ہوں بتاؤ آرذو میں ایسا کیا کروں کہ تمہاری زندگی میں پہلے جیسا مقام حاصل کرلو، کیسے تمھارے دل میں اپنی محبت دوبارہ پیدا کرو ایسا کیا کرو کہ تمہارا دل دوبارہ مجھے چاہنے لگے کل جب تم نے مجھ سے کہا کہ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو تب سے میں خود کو دنیا کا بےبس انسان محسوس کرتا ہوں آرزو صرف ایک مرتبہ صرف ایک مرتبہ بول دو کہ تمہیں مجھ سے نفرت نہیں محبت ہے، تمہاری نفرت کے سہارے زندگی گزارنا بہت مشکل ہے”
تبریز آرذو کے سامنے بیٹھا بےبسی سے رونے لگا لیکن آرذو کو اُس پر ترس نہیں شدید غصہ آنے لگا
“میرا ہنستا بستا گھر اجاڑنے میں تم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور تم چاہتے ہو میں تم سے محبت کرو۔۔۔ محبت کرنے کا دعوی کرتے ہو مجھ سے تو میری خوشی کا احترام کرتے ہوئے دے دیتے میری خوشی کی خاطر اپنی محبت کی قربانی، جینے دیتے سکون سے مجھے اپنے شوہر کے ساتھ لیکن تمہاری محبت مجھے خوشحال اور آباد دیکھ ہی نہیں سکتی ہے اب تم مر کر بھی دوبارہ زندہ ہوجاؤ میں تب بھی تم سے محبت نہیں کرسکتی”
آرذو غصہ کرتی تبریز سے بولی تو تبریز اپنا سر اُس کے قدموں میں رکھ کر رونے لگا
“میں مانتا ہوں میری محبت خود غرض ہے مگر میں تمہیں ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتا ہوں آرزو میرا یقین کرو”
تبریز اس کے قدموں میں سر جھکائے بول ہی رہا تب کسی نے دھکا مار کر کمرے کا دروازہ کھولا
“ہینڈز اپ کوئی چالاکی دکھانے کی ضرورت نہیں ہے پولیس نے اِس بلڈنگ کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے، لڑکی کو ہمارے حوالے کر دو”
تین پولیس اہلکار کے ساتھ ہاشم بھی اس کمرے میں موجود تھا جبکہ بیڈ کے دوسری طرف حیرت زدہ آرزو اُس کے پاس ہی تبریز کھڑا تھا
“آرذو”
ہاشم کے پکارنے پر آرزو نے ہاشم کی طرف قدم بڑھانے چاہے، وہی تبریز نے اپنے پاس چھپی ہوئی پستول نکال لی جسے دیکھ کر آرذو وہی ٹھہر گئی
***”””***
