Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Diyar E Wehsat (Episode 1)

Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel

گلگت سے دو گھنٹے کی مسافت پر ضلع غذر زمین پر کسی جنت کے ٹکڑے سے کم نہیں۔۔۔ گہرا نیلا آسمان، روئی کی طرح بادلوں کے اڑتے ٹکڑے غذر وادی سے اونچائی پر بنے ہیر پیلس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے تھے۔۔۔ سفید سنگِ مرمر سے بنا ہوا ہیر پیلس باہر سے دکھنے میں جتنا خوبصورت اور دلکش پس منظر پیش کرتا، اندر سے اتنا ہی پراسرار نظر آنے والا یہ ہیر پیلس اپنے اندر نہ جانے کتنے اسرار چھپائے ہوئے تھا۔۔۔ ہیر پیلس کا اسرار بیدار ہوئی اِس رات کے ساتھ بھی اِس وقت بھی چاروں سُو پھیلنا شروع ہوگیا تھا، سناٹے میں دور سے آتی کسی جنگلی بھیڑیے کے رونے کی آواز ماحول میں ویسے ہی پُر اسراریت پیدا کرنے کے لئے کم نہ تھی

مائیکل کو دو ہی دن گزرے تھے یہاں پر ملازمت کرتے ہوئے یہاں اسے ہیر پیلس کے اندرونی حصّے کی نگرانی اور دیکھ بھال کے لئے رکھا گیا تھا کیونکہ مائیکل سے پہلے یہ کام ماریہ کے ذمہ میں موجود تھا اور ماریہ کے اچانک غائب ہوجانے پر ماریہ کی جگہ مائیکل میں سنبھال لی تھی،

ہیر پیلس کے تمام ملازمین کے ساتھ فرغب بی نے مائیکل کو بھی ہیر پیلس میں لاگو ہوئے اصول اور قوانین اچھی طرح بتادیے تھے۔۔۔ شام 7 بجے کے بعد تمام ملازمین کا ڈیوٹی ٹائم ختم ہوجاتا تھا۔ تب رات میں کسی ملازم کو ہیر پیلس کے اندار آنے کی یا پھر بلاضرورت گھومنے کی اجازت نہ تھی

اِس وقت رات کا دوسرا پہر شروع ہوچکا تھا جب مائیکل نے ہیر پیلس کے اندرونی حصّے میں قدم رکھا یہ ایک بڑا سا ہال نما گول کمرہ تھا، جس کی چھت پر ایک بڑا سا کرسٹل کا فانوس موجود تھا جو اِس وقت ہوا کے زور پر بےحد آہستگی سے ہلتا ہوا ماحول میں ایک خاص قسم کے ردھم پیدا کررہا تھا۔۔۔ اونچی اونچی دیواریں جن پر لگے جنگلی جانوروں کے سر ماحول کو عجب سنسنی پیدا کررہے تھے۔۔۔ اِسی طرح تھوڑے آگے دیواروں پر لگی عجیب و غریب وحشت سے بھرپور پینٹنگز ماحول کو اور بھی پراسرار بنارہی تھی۔۔۔ وہی بڑی بڑی کھڑکیوں سے اندر آتی چاند کی روشنی پراسراریت کو ایک الگ ہی تقویت بخش رہی تھی

اس ہال نما گول کمرے کے چاروں اطراف راہداریاں نکلتی ہوئی کہیں اندر غائب ہورہی تھی انہی میں سے ایک راہداری جو دائیں جانب موجود تھی، وہاں ہیر پیلس کے کسی بھی ملازم کو جانے کی اجازت نہیں تھی علاوہ فرغب بی کے اور ایبک کے۔۔۔ ہیر پیلس میں بسنے والے مکین کی لسٹ زیادہ طویل نہ تھی، اِس ہیر پیلس کا مالک جس کی عمر 28 سے 29 سال تھی۔۔۔ اُس نوجوان کی شخصیت بھی کسی پہیلی کی طرح محسوس ہوتی تھی اُس کے چہرے پر چھائی بلا کی سنجیدگی اور کرختگی۔۔۔ خاص طور پر اُس کی کالی گہری آنکھیں سامنے موجود شخص پر ایک خاص قسم کا تاثر چھوڑتیں، جس سے وہ شخص اُس کی شخصیت کے آگے دب سا جاتا

مائیکل کو علم تھا آج ہیر پیلس کے مالک کو ضروری کام کے سلسلے میں کہیں جانا تھا۔۔۔ ایبک جوکہ اُس کا وفادار ملازم تھا وہ آج اپنے مالک کے ساتھ موجود تھا۔۔۔ تجُسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر مائیکل رات کے اِس پہر ہیر پیلس کے اندر داخل ہوگیا تھا تاکہ اس پیلس میں موجود اسرار کا پتہ لگا سکے

اِس وقت اُس راہداری میں کافی زیادہ اندھیرا تھا جہاں دن میں بھی کسی ملازم کو جانے کی اجازت نہ تھی۔۔۔ اس راہداری میں چار کمرے موجود تھے دو بائیں جانب اور دو دائیں جانب مائیکل نے اندازہ لگالیا دائیں جانب کونے والا کمرہ، کمرہ نہیں بلکہ یہ اس پیلس کے بیک یارڈ میں کھلتا دروازہ تھا جس میں ایک قبر بھی ہیر پیلس کے اسرار کا ایک حصہ تھی وہاں پر بائیں جانب کمرے میں مائیکل نے فرغب بی کو دن کے اجالے میں جاتے اور ہیر پیلس کے مالک کو اس کمرے سے باہر نکلتے دیکھا تھا مائیکل نے بےحد آئستگی سے اس کمرے کا دروازہ کھولا، یہ وہ کمرہ تھا جو اپنے اندر کئی راز چھپائے ہوئے تھا۔۔۔ مائیکل چہرے پر آیا پسینہ صاف کرتا ہوا اُس کمرے کے اندر پہنچ کر ٹارچ کی روشنی سے کمرے کے چاروں اطراف جائزہ لینے لگا۔۔۔ یہ بڑا سا کمرہ اندر سے بالکل خالی تھا مائیکل ٹارچ کی روشنی کی مدد سے دیوار پر لگے سوئچ بورڈ پر موجود بٹن آن کرچکا تھا سرخ رنگ کی بتی سے کمرہ روشن ہوگیا۔۔۔ خالی کمرہ دیکھ کر مائیکل تھوڑا سا حیرت زدہ ہوا تھا، اس کمرے میں ایک آدم قد آئینہ کے سوا کچھ بھی نہ تھا اُس کے باوجود مائیکل کی حیرانگی ایک دم پریشانی میں مبتلا ہوچکی تھی

“لالالالا۔۔۔۔”

کیونکہ خالی کمرے میں اچانک سے نسوانی آواز پیدا ہونا شروع ہوگئی جیسے کوئی لڑکی بڑے مگن انداز میں گنگنا رہی ہو، خالی کمرے میں یوں اچانک پیدا ہونے والی آواز سے مائیکل خوف میں مبتلا ہوگیا، خوف کے باعث اس کے ہاتھ سے ٹارچ چھوٹ کر نیچے گرچکی تھی، مائیکل واپس باہر جانے کے لیے تیزی سے دروازے کی جانب بڑھا اس سے پہلے وہ کمرے کا دروازہ کھولتا دروازہ خود بخود باہر سے کُھل گیا سامنے موجود پچپن سالہ عورت موم بتی کا جلتا ہوا کینڈل ہولڈر ہاتھ میں پکڑے سفید چہرہ، کھلے شانوں سے آگے آتے لمبے بال لئے اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ دلخراش چیخ مائیکل کے منہ سے نکلی

“اس کمرے میں تم کس کی اجازت سے آئے ہو”

فرغب بی کے سخت لہجے میں پوچھنے گئے سوال پر مائیکل کے حواس بحال ہونا شروع ہوئے اپنے سامنے کھڑی فرغب بی اس وقت مائیکل کو اس پراسرار پیلس کا ہی حصہ معلوم ہورہی تھیں

“میں۔۔۔ وہ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ یہاں پر۔۔۔” مائیکل گھبراتا ہوا فرغب بی سے بولا جو کینڈل ہولڈر ہاتھ میں پکڑے اُس کی جانب قدم بڑھاتی ہوئی کمرے میں چلی آئی تھی جس کی وجہ سے مائیکل پیچھے کی جانب قدم اٹھاتا واپس کمرے کے اندر بیج و بیج آگیا۔۔۔ گنگناتی ہوئی نسوانی آواز ابھی بھی آرہی تھی مگر اب وہ مدھم ہوچکی تھی لیکن مائیکل کا دل اِس وقت بھی خوف سے سوکھے پتے کی طرح کانپنے لگا تھا

“یہ آواز۔۔۔۔ فرغب بی یہ آواز سنی آپ نے”

مائیکل خوف کے مارے اپنے سامنے کھڑی فرغب بی سے پوچھنے لگا۔۔۔ ویسے ہی ایک نسوانی چیخ کی آواز پورے کمرے میں زوردار طریقے سے گونجی

“بچاو یہ مجھے مار ڈالے گا”

اس چیخ پر مائیکل کا دل بری طرح خوف سے دھل اٹھا۔۔۔ فرغب بی بنا کوئی تاثر لیے وہی کھڑی تھیں مگر خوف کے سبب مائیکل کے اپنے حواس جاتے رہے وہ اسی کمرے میں گر کر بےہوش ہوگیا

***”””***

“اف مہنگائی تو دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہے۔۔۔ دو لوگوں کی تنخواہ بھی کم پڑجاتی ہے سمجھ میں نہیں آتا پورا مہینہ تمہاری اور تمہارے ابو کی تنخواہ میں کیسے کھینچوں”

شہناس صبح سویرے ناشتہ بنانے کے ساتھ ٹینشن میں مسلسل بولے جارہی تھی تبھی کچن میں کھڑی امامہ اس کو دیکھتی ہوئی بولی

“دو کیا چار لوگ بھی اس گھر میں کمانے لگ جائیں تب بھی آپ کا مہنگائی کا رونا وہی کا وہی رہے گا، خرچے نہیں دیکھے آپ نے اِس گھر میں بلاوجہ کے”

امامہ یعنی شہناس کی سب سے بڑی فرمابردار بیٹی ناشتہ بنانے میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہوئے اس سے بولی

“یہ دونوں چھوٹی سچ میں ہر دوسرے دن پاکٹ منی کے علاوہ پیسے مانگ مانگ کر ناک میں دم کردیتی ہیں میں تو آگے مستقبل کا سوچتی ہوں تو اور بھی زیادہ پریشان ہونے لگتی ہوں کیسے بیاہو گی تم تینوں کو”

شہناس فکرمند لہجے میں بولتی ہوئی امامہ کو دیکھنے لگی وہ اس کی سب سے بڑی بیٹی تھی جو اگلے سال 26 سال کی ہوجاتی، اپنی باقی دونوں چھوٹی بہنوں سے بالکل مختلف شکل و صورت کی

آرزو اور ہیر تو شکل و صورت کی خوبصورت تھی مگر امامہ کے دبی ہوئی رنگت اور پیدائشی دائیں پاؤں میں نقص کی وجہ سے شہناس اور صدیقی اس کے لیے کافی پریشان رہتے، تین جوان لڑکیوں کو دیکھ کر گھر میں جو بھی رشتہ آتا وہ امامہ کی بجائے آرزو یا پھر ہیر کو پسند کرکے چلا جاتا

“آپ نے آج صبح پھر وہی فضول موضوع شروع کردیا، کتنی بار بولا ہے میری بجاۓ آرذو اور ہیر کی فکر کیا کریں ان کے مستقبل کے بارے میں سوچا کریں۔۔۔ شادی جیسی فضول کی چیز مجھے نہیں کرنی اور نہ ہی اس گھر میں کوئی نارمل شخص مجھے بیاہنے آئیگا”

امامہ شادی کے موضوع پر کیبنٹ میں سے چائے کے کپ نکال کر زور سے کیبنٹ کا دروازہ بند کرتی ہوئی تلخی سے بولی

“ارے بھئی کیبنٹ کو تو آہستہ سے بند کرو توڑنا ہے کیا۔۔۔ چاہے اب کی بار کیسا بھی رشتہ آئے میں نے اس سال تم کو بیہانا ہی بیانا ہے تاکہ باقی دو کا بھی سوچو، اب اپنا موڈ مت خراب کرو جاؤ کمرے میں جاکر ان دونوں کو بھی اٹھاؤ جو بستر پر پڑی نہوست پھیلا رہی ہیں”

شہناس امامہ کے غصے کو خاطر میں نہ لاتی ہوئی بولی وہ اکثر اپنی شادی کے موضوع پر ایسے ہی چڑنے لگتی تھی

“کمرے کا اسپلٹ اور پنکھا دونوں بند کرکے آئی تھی مگر مجال ہے دونوں ٹس سے مس ہوئی ہو، آپ ہی کمرے میں جاکر اُن دونوں کے دن کا آغاز اپنی چپل اٹھاکر اچھے سے کریں مجھے تو ابھی آفس کے لیے بھی تیار ہونا ہے”

امامہ شہناس سے بولتی ہوئی اپنا سارا وزن دائیں ٹانگ پر ڈالتی ہوئی کچن سے باہر چلی گئی شہناس مایوسی سے امامہ کی چال میں خرابی دیکھنے لگی جو کتنی ہی علاج کرانے کے بعد صحیح نہیں ہوئی تھی اوپر سے اس کی دبی ہوئی رنگت، جو بھی کوئی اس کو دیکھنے آتا مایوس ہوکر چلا جاتا تھا شروع شروع میں تو ایسی صورتحال پر امامہ حساس ہوجاتی پر اب وہ اپنے آپ کو کافی مضبوط کرچکی تھی اور ساتھ ہی اُس نے ایک کمپنی میں ملازمت کرلی تھی۔۔۔ بس وہ شادی اور رشتہ جیسے موضوع پر اچھا خاصہ چڑھ جایا کرتی تھی

***”””***

“ہیر آرزو اب میں آخری بار تم دونوں کو بول رہی ہوں کہ جاگ جاؤ نہیں تو جوتی سے تم دونوں کے دن کا آغاز کروں گی، جلدی سے ناشتے کی ٹیبل پر آجاؤ”

شہناس ڈائننگ ہال سے ہی تیز آواز میں اپنی دونوں چھوٹی بیٹیوں کو ڈانٹتی ہوئی بولی

“کیوں صبح ہی صبح بچیوں پر غصہ کررہی ہو”

صدیقی اپنے بیڈروم سے نکل کر لاؤنج میں آتا ہوا شہناس سے بولا، اس نے محسوس کیا تھا کہ کل رات سے ہی شہناس کا موڈ کچھ خراب سا تھا

“آپ کی بیٹیاں اب کوئی چھوٹی بچیاں نہیں ہیں صدیقی صاحب بلکہ جوان ہوچکی ہیں تینوں کی تینوں۔۔۔ تین تین سیلیں میرے سینے پر پڑی ہیں اور آپ کہتے ہیں غصہ نہ کروں۔۔۔ کل زبیدہ آئی تھی بول کر چلی گئی ہے کہ جو لوگ امامہ کو دیکھنے آۓ تھے ہیر کو پسند کرکے چلے گئے ہیں آپ ہی بتائیے غصہ نہ کرو تو اور کیا کرو”

شہناس صدیقی سے جھنجھلاتی ہوئی بولی

“ہیر نے تو ابھی انٹر کیا ہے اتنی چھوٹی عمر میں کیسے شادی کردو اُس کی، ابھی تو وہ بیس سال کی بھی نہیں ہوئی ہے، زبیدہ سے کہہ دو ان لوگوں کو انکار کردے۔۔۔ اور اس کی نظر میں جب کوئی مناسب اور معقول رشتہ ہو تب ہی وہ دوبارہ یہاں آۓ”

صدیقی سر جھٹک کر بات ختم کرتا ہوا ساتھ ہی ناشتہ کرنے لگا جبکہ شہناس استہزائیہ انداز میں ہنسی

“وہ رشتہ ہر لحاظ سے معقول اور مناسب ہی ہے صدیقی صاحب لیکن آپ نے جو منطق پالی ہوئی ہے ناں کہ پہلے بڑی کی شادی کرنی ہے یہ ذرا بھی معقول اور مناسب نہیں ہے۔۔۔ امامہ کے چکر میں آگر باقی دونوں کی بھی عمریں نکل گئی تو ساری عمر اپنی چوکھٹ پر بٹھاکر رکھئے گا تینوں بیٹیوں کو، کیا ہوجاتا اگر اوپر والا تین بیٹیوں کی بجاۓ ایک بیٹا ہی دے دیتا”

شہناس آخری بات ٹھنڈی آہ بھرتی ہوئی بولی تو صدیقی خاموش ہوگیا کیونکہ ہیر اور آرزؤ کے ساتھ امامہ بھی آفس جانے کے لئے تیار ہوکر لاؤنچ میں آچکی تھی

***””””***

باہر پوری طرح سے دن طلوع ہوچکا تھا وسیع و عریض باغیچہ، پیڑ اور پودے خوش دکھائی دے رہے تھے، سورج کی کرنیں غذر کے پہاڑوں کے اوٹ سے پورے ہیر پیلس پر پھیلی ہوئی تھی۔۔۔ مرکزی گول کمرے کے بیچ و بیچ چھت پر لگا بڑا سا فانوس ابھی بھی ہولے ہولے ہل رہا تھا وہ ہال نما کمرے میں دائیں جانب صوفے پر بیٹھا ہوا اپنے سامنے مجرموں کی طرح سر جھکائے مائیکل کو دیکھ رہا تھا فرغب بی بھی اُسی کے پاس کھڑی تھی

“جب فرغب بی نے تمہیں تمہارے کام کے ساتھ یہاں کام کرنے کے سارے اصول سمجھا دیے تھے اس کے بعد تم رات کے وقت ہیر پیلس کے اندر اس کمرے میں کیا کررہے تھے، جہاں کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے”

وہ صوفے پر بیٹھا اپنے سامنے سر جھکا کر کھڑے مائیکل سے پوچھنے لگا۔۔۔ اُس کی آواز دھیمی مگر لہجہ سخت تھا

“سر مجھ سے غلطی ہوگئی پلیز مجھے معاف کردیں”

مائیکل نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ذرا سا سر اٹھا کر مقابل کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔ جہاں سنجیدگی کے ساتھ ایسا تاثر موجود تھا کہ مائیکل دوبارہ سر جھکانے پر مجبور ہوگیا۔۔۔ وہ مائیکل کی بات سن کر صوفے سے اٹھ کر چلتا ہوا مائیکل کے سامنے آکر کھڑا ہوا

“غلطی کی معافی نہیں بلکہ سزا دی جاتی ہے مائیکل، یہ بات یہاں جاب کرنے والے ہر ملازم کو معلوم ہے اور تم نے غلطی بھی وہ کی ہے جس کی سزا بہت بھیانک ہے”

مائیکل اُس کی بات سن کر خوف سے سامنے کھڑے اِس پیلس کے مالک کو دیکھنے لگا مائیکل کی نظروں کے سامنے کل رات والا وہی کمرے کا بھیانک منظر بھی گھوم گیا

“سر پلیز اسے میری آخری غلطی سمجھ کر مجھے معاف کردیں آئندہ میں آپ کو کبھی بھی شکایت کا موقع نہیں دوں گا وعدہ کرتا ہوں آپ سے”

مائیکل اُس کے قدموں میں جھکتا ہوا بولا تو وہ مائیکل کی بات سن کر ہلکی سی گردن موڑ کر فرغب بی کو دیکھنے لگا ہے جو اسی کو دیکھ رہی تھی

“یہ تمہاری پہلی غلطی تھی مائیکل اسے تم اپنی آخری غلطی سمجھنا، ورنہ اگلی بار تمہیں سزا تمہاری بیوقوفی دلوائے گی اب تم یہاں سے جاسکتے ہو”

اس کی آواز پر مائیکل نے اپنی سانس بحال کی اور مشکور نگاہوں سے ہیر پیلس کے مالک کو دیکھتا ہوا جانے کا ارادہ کرنے لگا۔۔۔ اس سخت گیر انسان سے مائیکل کو رعایت کی توقع ہرگز نہ تھی

“ٹہرو مائیکل سب سے امپورٹنٹ بات تو میں تم سے پوچھنا ہی بھول گیا”

اس کی آتی ہوئی آواز پر مائیکل کے باہر جاتے قدم تھمے مائیکل نے پلٹ کر دیکھا تو وہ دیوار پر لگی تلوار اتار کر اسے میان سے نکلتا ہوا مائیکل سے پوچھنے لگا

“کل رات تم نے اُس کمرے میں کیا دیکھا”

تلوار ہاتھ میں پکڑے، قدم اٹھا کر چلتا ہوا وہ مائیکل کے پاس آ کر پوچھنے لگا۔۔۔ اُس کے تجسس بھرے لہجے اور سرد آنکھوں کے تاثر سے مائیکل کے پسینے چھوٹنے لگے

“کک۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں سر،۔۔۔ وہ کمرہ تو بالکل خالی تھا”

مائیکل رات والا منظر یاد کرتا ہوا گھبرا کر بولا

“اس کمرے میں کچھ سنائی دیا تھا تمہیں”

دوبارہ فرغب بی کو دیکھنے کے بعد وہ مائیکل کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ اُس کا پراسرار لہجہ اور کاٹ دار نگاہوں کی تاب نہ لاتے ہوئے مائیکل اپنا سر جھکا گیا

“بچاؤ یہ مجھے مار ڈالے گا”

مائیکل کو وہی نسوانی آواز یاد آئی۔۔۔ خوف کے مارے مائیکل نے جلدی سے نفی میں اپنا سر ہلایا

“نن۔۔۔ نہیں سر میں نے وہاں کوئی آواز نہیں سنی”

مائیکل اس سے نظر ملائے بغیر زمین میں اپنی نظریں گاڑھے بولا۔۔۔ مائیکل کی بات پر مقابل کے لہجے میں شامل پراسراریت اُس کی مسکراہٹ میں سما گئی۔۔۔ وہ ہاتھ میں پکڑی تلوار مائیکل کی گردن پر رکھ کر پراسرار مسکراہٹ چہرے پر سجائے آئستہ آواز میں مائیکل سے پوچھنے لگا

“یقیناً تم کل رات ہوئے حادثے کو برا خواب سمجھ کر بھول جانے کی کوشش کرو گے۔۔۔ اگر ایسا نہیں ہوا مائیکل تو سمجھ لو پھر۔۔۔۔

تیز دھار تلوار اپنے شہہ رگ پر محسوس کرکے مائیکل کی روح فنا ہونے لگی۔۔۔ وہ مقابل کی بات کاٹتا ہوا جلدی سے بولا

“ایسا ہی ہے سر کل رات میں اس کمرے میں گیا ہی نہیں تھا بلکہ ایک برا خواب جو میں نے کل رات دیکھا تھا، اب میں اسے یاد کرنا بھی نہیں چاہتا”

مائیکل سانس روکتا ہوا جلدی جلدی سے بولنے لگا۔۔ جب اس کی گردن سے تلوار ہٹی تب اس کی جان میں جان آئی

“صاحب جی انسپکٹر صاحب دوبارہ ماریہ کی گمشدگی کے سلسلے میں آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں بولیں تو انہیں اندر لے آؤ”

دوسرا ملازم ہال میں آتا ہوا بولا۔۔ وہ مائیکل کے خوف سے زرد چہرے پر نظر ڈال کر وہاں سے چلا گیا

***””””***

ہاشم اس وقت ہاسپٹل میں موجود ڈاکٹر فہمیدہ کے کمرے میں بیٹھا ہوا خالی دماغ سے ٹیبل پر اپنے سامنے رکھے اس فارم کو دیکھنے لگا جس پر اُس کے سائن سے وہ اپنی زندگی میں ایک بڑی نعمت سے محروم ہوجاتا

“مسٹر ہاشم خان آپ سوچنے میں وقت ضائع کررہے ہیں، آپ جلد کوئی ڈیسیجن لیں تاکہ ہم اپنا کام شروع کریں”

ڈاکٹر فہمیدہ کی آواز اسے سوچوں سے واپس حال میں لے آئی ماہ نور کا مسکراتا ہوا چہرہ یاد کرکے اس نے اپنے ذہن کو ایک فیصلے پر آمادہ کیا اور ٹیبل سے پین اٹھا کر پیپر سائن کرنے لگا اس کے بعد ڈاکٹر فہمیدہ وہ پیپر لے کر روم سے باہر جاچکی تھی جبکہ ہاشم تھکے ہوئے انداز میں اپنے سر پیچھے کرسی سے ٹیک کر آنکھیں بند کرچکا تھا

ماہ نور اس کی بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی خالہ زاد بھی تھی ہاشم اور مانور کی پسند دیکھتے ہوئے ان دونوں کی فیملیز نے ان دونوں کی شادی کردی تھی۔ ہاشم کا باپ دنیا چھوڑ کر تب جاچکا تھا جب ہاشم کی عمر محض 12 سال تھی اس کی پرورش اس کی ماں گلنار کے ساتھ دادا ایوب خان نے کی

اولاد کی اکلوتی اولاد ہونے کے سبب ایوب خان نے ہمیشہ ہاشم خان کی جائز اور ناجائز خواہشات کو پورا کیا تھا۔۔۔ ماہ نور سگی بھانجی ہونے کے باوجود اپنی کچھ عادتوں کی وجہ سے گلنار کو خاص پسند نہ تھی لیکن بیٹے کی خواہش اور سسر کے فیصلے کے آگے گلنار خاموش ہوگئی اور یوں ہاشم کی زندگی میں ماہ نور دلہن بن کر آگئی

شادی کے تین سال بعد جب ماہ نور نے پہلی مرتبہ خوشی کی خبر سنائی تو ایوب خان کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی صدقہ خیرات کے ساتھ انھوں نے وارث آنے کی خوشی میں بڑی بڑی دعوتیں تقریبات کے انتظامات کیے مگر اوپر والے کو کچھ اور ہی منظور تھا چھ ماہ کی پریگنینسی کے بعد ماہ نور کا مس کیرج ہوگیا جس کے باعث سب کی خوشیاں پھیکی پڑ گئی۔۔۔ پورے تین سالوں کے بعد وہ دوبارہ ماں بننے کے عمل سے گزر رہی تھی مگر تقدیر نے اس بار بھی کچھ اور ہی ٹھان رکھی تھی ابھی ماہ نور کا پانچواں مہینہ شروع ہوا تھا تب اس کی اچانک طبیعت خراب ہونے کے سبب ہاشم ماہ نور کو ہاسپٹل لے آیا جہاں ہاشم کو یہ بری خبر سننے کو ملی کہ اس کا بچہ ہارٹ بیٹ رکنے کی وجہ سے دنیا میں آنے سے پہلے ہی ختم ہوچکا ہے۔۔۔

ہاشم کو لگا تھا کہ اس بار بھی ماہ نور پچھلی بار کی طرح ڈی این سی کے عمل سے گزرے گی لیکن ڈاکٹر کے مطابق یوٹرس ویک ہونے کی وجہ سے اب اگلی بار ماہ نور کے لیے پریگنینسی خطرے کا سبب بن سکتی تھی، اس لئے ڈاکٹر نے یوٹرس ریموو کرنے کا مشورہ دیا تھا، یہ بہت بڑا قدم تھا جو ہاشم نے ماہ نور کا سوچتے ہوئے بغیر کسی کے مشورے کے اٹھایا

***”””***

“اوہو تبریز تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے جب میری کال نہ آئے تو سمجھ جایا کرو کہ اس وقت میں بزی ہوں جب فری ہوگی ویسے ہی تمہیں کال کرلوں گی، دیکھو میرے گھر میں تمہارے بارے میں ابھی کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔۔۔ نہ ہی امی ابو کو نہ ہی میری بہنوں کو، اس لیے تمہارا یوں بار بار مجھے کال کرنا ان لوگوں کو شک میں مبتلا کرسکتا ہے اِس لیے تھوڑا احتیاط سے کام لیا کرو”

آرزو کمرے کے دروازے سے باہر جھانکتی ہوئی موبائل کان پر لگاۓ آہستہ آواز میں تبریز سے بولی جو کافی دیر سے اُس کو کال کیے جارہا تھا اور وہ شاور لینے کی وجہ سے اُس کی کال رسیو نہیں کر پارہی تھی

“تم سے زیادہ ڈرپوک لڑکی تو آج تک میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی جو پیار تو کرسکتی ہے مگر سب کے سامنے اقرار نہیں کرسکتی آرزو تم بیس سال کی عقل و شعور رکھنے والی ایک بالغ لڑکی ہو۔۔۔ اپنے فیصلے خود لے سکتی ہو، اگر اِس طرح ڈر ڈر کر مجھ سے باتیں کرتی رہی تو آگے کیسے کام چلے گا یار، کیسے ہماری بات آگے بڑھے گی”

تبریز ہمیشہ کی طرح اس کی بذدلی پر خائف ہوتا بولا۔۔۔ آرذو دو گلی چھوڑ کر اُسی کے مُحلے میں رہتی تھی کالج آتے جاتے آرزو کو دیکھ کر تبریز کا دل اُس پر آچکا تھا تھوڑی کوشش کرنے کے بعد آرذو اس کی محبت پر یقین بھی کرچکی تھی مگر وہ اپنے گھر والوں سے بےانتہا ڈرتی تھی

ایک سال پہلے صدیقی صاحب اپنی فیملی کو لےکر اس علاقے میں شفٹ ہوئے تھے۔۔۔ ان کا ایک سے دو سال بعد کسی نئے علاقے کے دوسرے مکان میں شفٹ ہوجانے کا یہ سلسلہ جانے کب سے چل رہا تھا

“تم میرے ابو کو نہیں جانتے تبریز وہ دکھنے میں جتنے سادہ طبیعت کے مالک لگتے ہیں اگر کبھی تم ان کو غصے میں دیکھ لو تب تمہیں اندازہ ہو کہ میں اتنا کیوں ڈرتی ہو۔۔۔ ہم تینوں بہنوں کو بےشک انہوں نے بہت پیار محبت سے پالا ہے مگر اس کے باوجود کچھ باتیں ایسی ہیں یا اصول سمجھ لو، جو ہم بہنیں اس کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتیں”

آرزو آہستہ آواز اور محتاط انداز میں تبریز کو بات سمجھانے لگی کیونکہ اُس کا دماغ تبریز سے موبائل سے بات کرنے کے ساتھ ساتھ لاؤنچ سے آتی اپنے گھر والوں کی آوازوں پر بھی لگا ہوا تھا

“تو تمہیں ان اصولوں کے بارے میں، اور اپنے ابو کی نیچر کے بارے میں مجھ سے محبت کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔۔۔ میری ایک بات یاد رکھنا آرذو میں تم سے شدید محبت کرتا ہوں۔۔۔ چاہے تمہارے گھر والے ہم دونوں کے رشتے کے لئے راضی ہو یا نہ ہو تمہیں ہر قیمت پر میرا ساتھ دینا ہوگا کیونکہ میں اپنی ضد کا بہت پکا ہو ایک بار جو بات میرے دل میں سما جائے پھر وہ کام میں کرکے رہتا ہوں نتیجے کی پروا کیے بغیر”

تبریز کی نیچر کو آرذو آٹھ ماہ میں ہی سمجھ چکی تھی وہ انتہا کا ضدی لڑکا تھا اس لئے آرزو ایک پل کے لئے تبریز کی بات سن کر خاموش ہوگئی مگر اگلے ہی پل اسے محسوس ہوا جیسے کمرے کی جانب کوئی آرہا تھا وہ فوراً چوکنا ہوئی

“اوہو تبریز کیا تم اس وقت مجھے اپنی باتوں سے ڈرانے لگ گئے ہو بھلا میں کیوں تمہارا ساتھ چھوڑنے لگی۔۔۔ اچھا ابھی موبائل رکھو، رات میں بات کرتے ہیں”

آرذو تبریز سے اپنی بات بول کر بناء اس کا جواب سنے شہناس کے کمرے میں آنے سے پہلے کال کاٹ چکی تھی

“کب سے تمہارے ابو تمہارا پوچھ رہے ہیں، آ کیو نہیں رہی ٹیبل پر، چائے ٹھنڈی ہورہی ہے”

شہناس کمرے میں آتی آرذو کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔ وہ شہناس کو دیکھ کر جلدی سے موبائل بیڈ پر اچھال کر بالوں میں لیٹا ہوا تولیہ اتارتی بال خشک کرنے لگی

“ارے ایسے کیسے آجاؤ چائے پینے چاۓ تو دوبارہ گرم ہوسکتی ہے بال خشک ہونے کے بعد مجھ سے نہیں سلجھتے معلوم تو ہے آپ کو”

آرزو شہناس کو دیکھ کر ہیئر برش اسی کو تھماتی ہوئی بولی تاکہ شہناس اس کے بالوں کو سلجھا دے۔۔۔ شہناس برش لےکر گھورتی ہوئی آرذو کو دیکھ کر بولی

“ابھی تم اپنی زلفیں سلجھا رہی تھی موبائل کان پر لٹکاکر باتیں مٹا رہی تھی”

آرزو اپنی چوری پکڑے جانے پر جھینپ مٹاتی ہوئی بولی

“سونیا کا فون آگیا تھا اسی سے سلام دعا کررہی تھی، آپ ناں امی ایسے مت شروع ہوجایا کریں، روز شام کی چائے رات کا کھانا گھر والوں کے ساتھ ہی کھانا ہوتا ہے اگر بندہ کبھی دسترخوان پر نہ آۓ تو اس میں ایسی کوئی قباحت نہیں”

آرزو شہناس سے بولی جو برش ہاتھ میں پکڑے اس کے بال سلجھا رہی تھی آرزو کی بات سن کر وہ فوراً اپنی بیٹی کو جتاتی ہوئی بولی

“قباحت اور کسی کو نہیں ہوتی تمہارے ابو کے علاوہ، گھر میں ایک اصول بچپن سے چلا آرہا ہے کہ کھانے کی میز پر سب کو موجود ہونا چاہیے تو آگے سے خیال رکھا کرو اس بات کا اور دوسرا یہ موبائل سہیلیوں سے سلام دعا کے لیے نہیں دیا گیا ہے تمہیں بلکہ کالج جانے میں کوئی مسئلہ نہ ہو اس لئے تمہارے ابو نے تمہیں موبائل لےکر دیا ہے اس کا استعمال محدود رکھو تو ہی یہ موبائل تمہارے پاس ٹکا رہے گا”

شہناس آرذو کے بالوں سلجھانے کے ساتھ اس کو باور کراتی ہوئی بولی تو آرزو خاموش ہوگئی

***””””***

“بچاؤ یہ مجھے مار ڈالے گا”

دو دن سے مائیکل کے کانوں میں اس کمرے سے آتی آواز گونج رہی تھی وہ چاہ کر بھی اس لڑکی کی آواز کو نظر انداز نہیں کر پارہا تھا وہ لڑکی جو بھی تھی لازمی مشکل میں تھی اور اس کو مدد کی ضرورت ہوگی لیکن اس لڑکی کی مدد کا سوچتے ہی مائیکل کا دھیان ہیر پیلس کے مالک شیر عباس کی جانب چلا جاتا تو وہ اس لڑکی کی مدد کا ارادہ ترک کردیتا پچھلے دو دن سے وہ اسی کشمکش میں تھا کہ کیا کرے۔۔۔ سوچو کے گھوڑے دوڑانے پر اتنا تو وہ جان گیا تھا کہ اسی کمرے میں کوئی ایسی چھپی ہوئی خفیہ جگہ تھی جہاں اس لڑکی کو قید کر رکھا گیا ہے پچھلے دو دن میں مائیکل نے ہیر پیلس کی نگرانی کے دوران وقفے وقفے سے باقی کے سارے کمروں کا جائزہ لےلیا تھا مگر اس پراسرار کمرے کا اسرار مائیکل چاہ کر بھی نہیں کھوج پایا تھا۔۔۔ ماریہ ابھی تک گم شدہ تھی اس کے بارے میں جاننے کے لیے پولیس پرسوں ہیر پیلس آئی تھی مگر ماریہ کا کچھ بھی معلوم نہیں ہوسکا تھا

آج رات بھی اتفاق سے شیر عباس ہیر پیلس میں موجود نہ تھا اور یہ بات مائیکل کے علم میں تھی، فرغب بی گہری نیند میں سوئی تھی مائیکل اس بات کی تسلی کرتا ہوا فرغب بی کے کمرے سے باہر نکلا اس وقت گھڑی کی سوئیاں بارہ بجے کا پتہ دے رہی تھی ہیر پیلس کی دیواریں، کھڑکیاں اور روشن دان، راہ داریاں سب کے سب خاموشی اور رات کے سناٹے میں ڈوبے ہوئے تھے

مائیکل آج رات بھی پرسوں رات کی طرح اسی کمرے میں موجود تھا آج اس نے اپنے پاس ٹارچ کے علاوہ ایک عدد منی پستول بھی رکھی ہوئی تھی، آج جب مائیکل نے اس کمرے کی سُرخ بتی جلائی تو کمرے میں گہرے سکوت کا عالم تھا۔۔۔ سرخ بتی میں چاروں طرف نظریں دوڑانے پر آج بھی مائیکل کو کچھ نظر نہیں آیا۔۔۔ وہ کمرے میں بچھے کالین کو اٹھاکر فرش کو اچھی طرح سے جانچنے کے بعد، کمرے کی چاروں دیواروں کو چھوتا ہوا اس بات کا جائزہ لینے لگا کہ آیا کمرے میں کوئی مشکوک چیز اس کی نظر سے گزرے مگر ایسا نہ ہوا تو مائیکل مایوس ہوکر کمرے سے باہر جانے لگا تب کسی خیال کے تحت وہ دوبارہ پلٹا اور شیشے میں اپنا عکس دیکھنے لگا۔۔۔ دیوار پر موجود بڑے سے آئینے کے قریب آکر ہاتھ شیشے کی طرف بڑھاتا ہوا شیشے کو ہلکا سا پُش کرنے کی دیر تھی، آئینہ کسی دروازے کی مانند کُھلتا چلا گیا

نیچے کی جانب جاتی ہوئی سیڑھیاں دیکھ کر مائیکل تھوڑا محتاط ہوا، یہ کوئی بیسمینٹ تھا، اپنی گھبراہٹ کو کم کرتا ہوا آستین سے چہرے پر آیا پسینہ صاف کرکے، وہ ہاتھ میں پستول لئے سیڑھیاں نیچے اترنے لگا۔۔۔ مائیکل نیچے کا منظر دیکھ کر عجیب کشمکش میں مبتلا ہوا تھا یہ ایک بڑا سا خوبصورت کمرہ تھا مائیکل کو محسوس ہورہا تھا جیسے وہ کمرہ کسی کے زیر استعمال ہے، اس کمرے کی خوبصورتی اور سجاوٹ کو دیکھتا ہوا مائیکل آگے کی جانب بڑھنے لگا ویسے ہی کوئی شے اُس کے پاؤں سے ٹکرائی مائیکل کی نگاہیں نیچے زمین پر پڑی ایک لمبی موٹی سی زنجیر جس کے سرے کو بیڈ کے پاۓ سے باندھا گیا تھا اگر مائیکل پلٹ کر دیکھتا تو زنجیر کا دوسرا سرا یقیناً مائیکل کی پشت پر موجود تھا اُسی لمحے مائیکل کو اپنی پشت پر سے کسی کے غرانے کی آواز آئی مائیکل جیسے ہی ہاتھ میں پستول لیے پیچھے مڑا۔۔۔ پوری شدت سے تیز دھار کے چاقو نے اس کی گردن پر وار کیا گیا

مائیکل کی درد ناک چیخ کی آواز ہیر پیلس کے سناٹے کو چیرتی چلی گئی جبکہ اس کی گردن کسی فوٹبال کی طرح ہوا میں اڑتی ہوئی روشن دان سے باہر نکل کر کافی دور جاگری جبکہ مائیکل کے باقی کے دھڑ سے خون فوارے کی مانند پھوٹنے کے ساتھ ہی مائیکل زمین بوس ہوچکا تھا۔۔۔ ہیر پیلس میں اترتی ہوئی یہ پراسرار رات اب آہستہ آہستہ وحشت زدہ رات میں ڈھل رہی تھی

***””””***

“میں نے بولا بھی تھا کہ اگلی بار تمہیں سزا میں نہیں خود تمہاری بیوقوفی دلوائے گی مگر میری بات تم سمجھ نہیں سکے مائیکل۔۔۔ افسوس ہوا مجھے تمہاری موت کا لیکن یہ راز جاننے کے بعد اب تمھارا زندہ رہنا بھی مناسب نہیں تھا”

تھرڈ فلور پر اپنے ہوٹل کے آفس کے کمرے میں بیٹھا ہوا شیر عباس لیپ ٹاپ پر بیسمینٹ میں ہوا سارا واقعہ دیکھتا ہوا تاسف سے بولا۔۔۔ آگے ٹیبل پر ہاتھ بڑھا کر شیر عباس نے اپنا موبائل اٹھایا اور ایبک کو کال ملانے لگا

“ہاں ایبک میں اس وقت ہوٹل میں ضروری کام کی وجہ سے موجود ہوں تم بیسمنٹ میں جاکر مائیکل کی لاش کو ٹھکانے لگادو یاد رہے پہلے کی طرح کام اب کی بار بھی بہت احتیاط سے کرنا ہے۔۔۔۔ مائیکل کی لاش کا بھی ماریہ کی لاش کی طرح کسی کو علم نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ فرغب بی کو بھی بتادینا کہ میں ہوٹل سے ہی کل شہر کے لئے روانہ ہوجاؤں گا”

شیر عباس اپنے خاص آدمی ایبک کو ضروری ہدایت دیتا ہوا کال کاٹ چکا تھا تبھی اس کے موبائل پر مظہر کی کال آنے لگی جسے شیر عباس رسیو کرچکا تھا اس کے کچھ بولنے سے پہلے مظہر نے بولنا شروع کردیا

“مجھے کوئی وضاحت مت دینا عباس کہ تم میری شادی پر نہیں آرہے ہو میری ایک بات کان کھول کر سن لو اگر تم پرسوں میری بارات میں نہیں پہنچے پھر مجھے اپنے دوستوں کی لسٹ میں شامل مت کرنا”

آج صبح جب مظہر کو عباس کی طرف سے شادی میں نہ آنے کا ایکسکیوز بھرا میسج ملا تھا تب سے مظہر کا موڈ خراب تھا وہ صبح سے ہی عباس کا نمبر ٹرائے کررہا تھا لیکن شاید عباس صبح سے اپنی رہائش گاہ پر موجود تھا جہاں اس کا عالیشان پیلس تھا وہاں شروع سے ہی سگنلز کا ایشو رہتا تھا اور اس وقت کال پر بات کرنا یقیناً وہ ہیر پیلس کی بجاۓ اپنے ہوٹل میں موجود ہوگا

“میرے دوستوں کی لسٹ لمبی چوڑی نہیں ہے یہ بات تم اچھی طرح جانتے ہو اور میں تمہاری بارات کا فنکشن ضرور اٹینڈ کرتا اگر مجھے بہت ضروری کام سے۔۔۔۔۔

عباس کی بات پوری بھی نہیں ہو پائی تھی مظہر اُس کی بات کاٹتا ہوا بولا

“میں نے پہلے ہی تم سے کہا تھا مجھے کوئی وضاحت مت دینا اگر تم اپنے قیمتی وقت میں سے میرے لئے وقت نکالو گے تو مجھے خوشی ہوگی اب آگے تمہاری مرضی ہے کہ تم آؤ یا نہ آؤ”

مظہر بولتا ہوا کال کاٹ چکا تھا عباس گہری سانس کھینچ کر اپنا موبائل میں واپس ٹیبل پر رکھتا ہوا اپنا پلان چینج کرنے لگا۔۔۔

کراچی کے لیے اسے صبح نکلنا ہی تھا لیکن اب وہ پہلے اپنے کام کو ترجیح دینے کی بجائے مظہر کی بارات کا فنگشن اٹینڈ کرتا کیونکہ مظہر اس کے کالج کے زمانے کا بہت اچھا دوست رہا تھا

***”””***

“امی مان جائیے نہ پلیز وہاں میری باقی کی دوسری دوستیں بھی موجود ہوگیں۔۔۔۔ آپ ابو سے میرے جانے کی پرمیشن لے لی گیں تو ابو مجھے خوشبو کی شادی میں جانے کی اجازت دے دیں گے۔۔۔ دیکھیں آپ نے آرزو کے لیے بھی تو ابو سے تھوڑے دن پہلے پرمیشن لی تھی وہ کالج کی طرف سے پکنک پر چلی گئی تھی میرے لیے میں اجازت مانگ لیں تاکہ میں بھی اپنی فرینڈ کی شادی اٹینڈ کرسکوں”

ہیر اپنی سہیلی کی بارات میں جانے کے لیے شہناس سے پرمیشن مانگ رہی تھی اور مسلسل شہناس کے انکار پر اب وہ شہناس کے سامنے منتوں پر اتر آئی تھی جبکہ امامہ اور آرزو بھی کمرے میں موجود تھی امامہ کل آفس کے لیے اپنا ڈریس آئرن کررہی تھی جبکہ آرزو کافی دیر سے موبائل پر میسج کرنے میں مصروف تھی۔۔۔ اپنے ذکر پر اس کی توجہ ہیر اور شہناس کی جانب گئی

“ہیر ہر وقت بچی بن کر ضد مت کیا کرو مجھ سے، اس دن یہ پکنک سے لوٹ کر کتنی دیر سے گھر پہنچی تھی تب تک کتنی باتیں سنتی رہی ہوں میں تم لوگوں کے ابو سے۔۔۔۔ اور اگر تمہیں جانے کی پرمیشن مل بھی گئی تو تمہارے دس مسئلے الگ طرح کے شروع ہوجاۓ گیں۔۔۔ کیا پہن کر جاؤ گی خوشبو کی برات میں،، اس کو کیا گفٹ دوں گی اِس لئے خاموش ہوکر چپ چاپ گھر میں بیٹھو”

شہناس اب کی بار اکتاۓ ہوئے لہجے میں بولی جس پر ہیر جلدی سے بولی

“میرے پہننے کا یا خوشبو کے گفٹ کا کوئی بھی مسئلہ نہیں ہوگا۔۔۔ آپ بس ابو سے پرمیشن لے لیں گفٹ کے لئے پیسے مجھے آپی دے دیں گیں اور کل برات والے دن میں بلیک کلر کا آرذو کا ڈریس پہن لوں گی”

ہیر شہناس کو باقی چیزوں کا سلوشن دیتی ہوئی جلدی سے بولی تو امامہ اور آرذو گھور کر ہیر کو دیکھنے لگیں

“اوہ بہن ہوش میں آؤ، اپنا بلیک کلر والا فراک میں تمہیں پہننے کے لئے ہرگز نہیں دوگی کیونکہ وہ میں نے خود ابھی تک اسے استعمال نہیں کیا۔۔۔ اس لیے اس ڈریس کو پہننے کے متعلق خوابوں میں بھی مت سوچنا”

آرذو لحاظ کئے بغیر ہیر کو انکار کرتی ہوئی بولی اور واپس اپنا موبائل دیکھنے لگی کیونکہ وہ ڈریس اس نے اپنی برتھ ڈے میں پہننے کے لیے تیار کیا تھا جوکہ اگلے ماہ آنے والی تھی اس سے پہلے ہیر اسے کچھ بولتی امامہ بول اٹھی

“اور ہیر بی بی میں تمہیں تمہاری فرینڈ کے گفٹ خریدنے کے لئے پیسے کیوں دونگی مہینے کا آخر چل رہا ہے۔۔۔ ان دنوں تو مجھے کسی کی پیدائش ہو یا پھر برتھ ڈے اس پر شدید غصہ آتا ہے،، اس وقت تو میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کھلے پیسے بھی نہیں ہیں اس لئے مجھے معاف ہی کرو”

امامہ اپنے کپڑے پریس کرتی ہیر کو صاف لفظوں میں انکار کرتی ہوئی بولی

“ایک نمبر کی مطلبی ہو تم دونوں میرے چھوٹے ہونے کا فائدہ اٹھاکر مجھ سے کتنے کام لیتی ہو اور خود ذرا سا بھی کام نہیں آسکتی۔۔۔ اب بنوانا تم کوئی بھی پسندیدہ کھانے اپنے بھوکے کلیکز کے لیے اور تم ایک نمبر کی مطلبی اب مکمل کرکے دوگی تمہیں تمہارے نوٹس اور اسائنمنٹ۔۔۔ اور آپ امی، آپ مجھے ایسے کیا دیکھ رہی ہیں آپ تو لگتا ہے صرف ان دونوں کی ماں ہیں مجال ہے جو آپ نے کبھی میری ایک مرتبہ میں کوئی بھی ضد کو پورا کیا ہو، مجھے تو پیدا کرکے بھی آپ نے دادی کے حوالے کردیا تھا کاش وہ زندہ ہوتیں تو مجھے آپ کی منتیں نہیں کرنا پڑتی”

ہیر باری باری امامہ اور آرزو کے ساتھ شہناس پر بھی اپنا غصہ نکال کر کمرے سے باہر نکل گئی

“ہائے میری چھوٹی سی بچی دوسرے کمرے میں جاکر رو رہی ہوگی میں دیکھ کر آتی ہوں اور تمہارے ابو سے بھی بات کرتی ہوں اس کے لئے”

شہناس ہیر کے کمرے میں جانے پر امامہ اور آرذو کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔۔ ہیر کی پیدائش پر اس کی طبیعت کافی زیادہ خراب رہتی تھی اس لئے شروع کے دو سال ہیر کی پرورش اس کی ساس نے کی تھی اور ہیر کا نام بھی انہوں نے ہی رکھا تھا۔۔۔ ہیر نام سے ایک الگ قسم کی پرخاش ہونے کے باوجود شہناس اپنی ساس کا رکھا ہوا نام تبدیل نہیں کر پائی تھی

“امی سنیں چھوٹی سے بول دئیے گا اپنی سہیلی کا دو ڈھائی ہزار تک کا گفٹ لے لے، امامہ دے دوگی اس کو پیسے”

کمرے سے باہر نکلتی شہناس نے پلٹ کر امامہ کی بات پر اس کو اثبات میں سر ہلایا اور کمرے سے باہر نکل گئی

“فل نوٹنکی باز ہے مجھے پورا یقین تھا امی اور تم تو فوراً ہی اُس کے آنسو دیکھ کر پگھل جاؤں گی”

آرزو اپنے موبائل کی اسکرین دیکھتی ہوئی امامہ سے بولی تو امامہ اس کی بات کا جواب دیئے بناء شہناس کے پیچھے ہیر کے پاس جانے لگی۔۔۔ اسے پورا یقین تھا آرذو بھی ہیر کو اپنا بلیک کلر کا ڈریس ضرور پہننے کے لئے دے دیں گی مگر بہن کی محبت میں نہیں بلکہ شہناس کے جوتوں کے ڈر سے

“اتنی سی بات پر میری گڑیا اپنے آنسو بہا رہی تھی اپنی امی کو کیوں بول رہی تھی، میری بیٹی اپنے ابو سے بولتی وہ اس کو کبھی بھی انکار نہیں کرتے”

شہناس سے پہلے ہی کمرے میں صدیقی پہنچا تھا جہاں ہیر بیٹھی روہی تھی۔۔ وہ ہیر کو چپ کرواتا ہوا اسے خوشبو کی شادی میں جانے کی اجازت دے چکا تھا

“اچھا اب رونا بند کرو میرے ساتھ ابھی چل کر خوشبو کے لیے کوئی بھی تحفہ لےلو۔۔۔ کل تمہیں اس کی برات میں جانا ہوگا تو بازار جانے کا ٹائم کہاں ملے گا”

امامہ ہیر کو دیکھ کر مزید اُس کو بہلاتی ہوئی بولی اور صدیقی سے باہر جانے کی پرمیشن لینے لگی تاکہ ہیر کو اس کی سہیلی کے لیے کوئی گفٹ دلاسکے

“ٹھیک ہے ہیر کو اپنے ساتھ لے جاؤ لیکن اندھیرا ہونے سے پہلے دونوں واپس گھر آجانا”

صدیقی امامہ کو اجازت دینے کے ساتھ جیب میں سے والٹ نکالنے لگا

“رہنے دیں ابو پیسے ہیں میرے پاس”

امامہ صدیقی سے بولتی ہوئی ہیر کو اٹھنے کا اشارہ کرنے لگی کیوکہ ڈیڑھ گھنٹے میں ان کو واپسی بھی کرنی تھی

“آرزو مجھے پہننے کے لئے اپنا بلیک والا ڈریس نہیں دے گی”

ہیر اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی شہناس کو دیکھ کر بولی

“اسے مجھ سے جوتے کھانا خاص پسند نہیں ہے وہ ضرور دے دے گی۔۔۔ دوپٹہ اچھی طرح سے لےلو اور جلدی گھر واپسی کرنا”

شہناس ہیر کو ہدایات دیتی ہوئی بولی

“سب خیریت تو ہے آپ کچھ خاموش لگ رہے ہیں”

امامہ اور ہیر کے کمرے سے جانے کے بعد شہناس اپنے شوہر صدیقی کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“پچھلے چند دنوں سے نوٹ کررہا ہوں ایک لڑکا جو ہماری دو گلی چھوڑ کر رہتا ہے مگر کافی زیادہ اس کا ہماری گلی میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔۔۔ تین سے چار مرتبہ میں نے اُس کو ہمارے گھر کے پاس منڈلاتے ہوئے دیکھا ہے”

صدیقی کچھ سوچتا ہوا شہناس کو بتانے لگا امامہ کی جاب کرنے پر بھی وہ بالکل آمادہ نہیں تھا مگر شہناس کے بہت زیادہ اصرار کرنے پر اس نے بہت مشکل سے امامہ کو جاب کرنے کی اجازت دی تھی۔۔۔ وہ بھی امامہ کی حساس ہوتی طبیعت کو دیکھ کر جب کوئی رشتے سے انکار کر کے چلا جاتا تب وہ کافی دنوں تک خاموش رہتی

“جوان بچیوں کا گھر ہے صدیقی وہ کہاوت تو سنی ہوگی آپ نے کہ جہاں بیری ہو وہاں پتھر تو آتے ہیں خیر سے میں بچیوں کو اور اچھی طرح سمجھاؤں گی کہ احتیاط کے ساتھ گھر سے باہر آیا جایا کریں آپ فکر مت کریں”

شہناس صدیقی کو دیکھتی ہوئی بولی

“امامہ کو بول دو کل وہ ہیر کے ساتھ اس کی سہیلی کی برات میں چلی جائے۔۔۔ واپسی پر خود میں ان دونوں کو لے آؤں گا”

صدیقی شہناس سے بولتا ہوا ایل ای ڈی آن کرچکا تھا شہناس صدیقی کی بات پر اثبات میں سر ہلاکر ارزو کے پاس کمرے میں چلی گئی

اپنی تینوں بیٹیوں کو بہت پیار سے پالنے کے باوجود صدیقی کچھ معاملے میں کافی سخت گیر تھا جیسے اس نے اپنی تینوں بیٹیوں کو تعلیم گالز اسکول اور گرلز کالج میں دلوائی تھی، قران شریف بھی قاری کی بجائے معلمہ نے ان تینوں کو پڑھایا تھا۔۔۔ شروع میں امامہ آرزو یا ہیر کو نہ تو دوستوں کے گھر جانے کی اجازت تھی نہ ہی اپنی سہیلیوں کو گھر لانے کی مگر جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی جارہی تھی شہناس کے کہنے پر صدیقی اپنی بیٹیوں کو ان کی دوستوں کے گھر جانے یا پھر کبھی کوئی فنکشن اٹینڈ کرنے کی اجازت دے دیتا

***”””***