Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Diyar E Wehsat (Episode 7)

Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel

“ابھی تک ایسی ہی بیٹھی ہیں آپ، ناشتہ نہیں کیا آپ نے۔۔۔۔ میں نے آپ کو بتایا بھی تھا کہ شیر عباس کو ضدی لوگ زیادہ پسند نہیں ہیں”

فرغب بی ہیر کے پاس آکر اُس سے بولیں۔۔۔ ناشتے کی ٹرے اٹھا کر انہوں نے ساتھ کھڑی فرحانہ کو دے دی۔۔۔ فرحانہ ٹرالی میں موجود دوپہر کا کھانا میز پر رکھ چکی تھی

“مجھے بھی ایسے لوگ سخت ناپسند ہیں جو اپنے زبردستی کے فیصلے دوسروں پر مسلط کرکے خوش ہوتے ہو، عباس جو میرے ساتھ کررہے ہیں وہ بالکل ٹھیک نہیں ہے”

ہیر اُکھڑے ہوئے لہجے میں بناء ڈرے فرغب بی سے بولی۔۔۔ اِن چند دنوں میں اتنا تو وہ جان گئی تھی کہ شیر عباس فرغب بی سے کافی قریب تھا

ہیر پیلس میں فرغب بی کا درجہ ملازموں جیسا ہرگز نہ تھا بلکہ بہت سے اختیارات فرغب بی کو حاصل تھے وہ شیر عباس سے بناء پوچھے ملازموں پر اپنی مرضی صادر کردیتی شیر عباس انہیں کچھ نہیں بولتا

“ایسی کونسی اپنی مرضی شیر عباس آپ کے ساتھ کررہے تھے جس پر آپ خوش نہیں ہیں”

فرغب بی ہیر کو دیکھتی ہوئی صوفے پر بیٹھ کر اُس سے پوچھنے لگیں تو ہیر فوراً بولی

“وہ مجھے یہاں سے جانے نہیں دے رہے ہیں میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں تھوڑے دنوں کے لیے کیوکہ مجھے عجیب وحشت محسوس ہوتی ہے اِس جگہ پر”

ہیر اپنے ساتھ ہوا پہلے دن کا واقعہ اُن کو نہیں بتاسکتی تھی جو اس کے ساتھ یہاں پہلی رات ہوچکا تھا وہ خود بھی بھول جانا چاہتی تھی۔۔۔ ہیر کی بات سن کر فرغب بی صوفے سے اٹھ کر اُس کے پاس آئیں اور چاولوں سے بھری پلیٹ ہیر کو تھماتی ہوئی بولیں

“جب ایک لڑکی کو شادی کرکے رخصت کیا جاتا ہے تو اُس لڑکی کے والدین اُس کو یہی سمجھاتے ہیں کہ اب اُس لڑکی کا اصلی گھر اُس کے شوہر کا گھر ہے۔۔۔ اور ہر لڑکی نئی جگہ پر ایڈجسٹ کرنے میں تھوڑا پریشان ہوتی ہے، پھر آئستہ آئستہ اُس لڑکی کو اپنے شوہر کے گھر کی عادت ہوجاتی ہے”

فرغب بی ہیر کو سمجھانے کے ساتھ اُس کو کھانا کھانے کا اشارہ کرنے لگیں۔۔۔ وہ بڑی تھیں تبھی ہیر نے اُن کی بات رکھتے ہوئے چند لقمے منہ میں ڈال کر پلیٹ سائیڈ پر رکھ دی

“یہ جگہ منحوس ہے آسیب زدہ ہے۔۔۔ اِس بات میں کتنی سچائی ہے پلیز مجھے سچ جاننا ہے آپ سے”

ہیر اپنے اندر ابھرتے سوالوں کا جواب چاہتی تھی جو معلوم نہیں شیر عباس اُس کو دیتا یا نہیں تبھی وہ فرغب بی سے پوچھنے لگی

“ایسا یہاں کے بسنے والے مقامی لوگ مانتے ہیں مگر ایسا کچھ نہیں ہے”

فرغب بی ہیر کو جواب دیتی ہوئی بولی تو ہیر نے فوراً دوسرا سوال داغا

“مائیکل کون تھا کیا اُس کی موت کا تعلق اِس جگہ سے ہے”

ہیر کے پوچھنے پر فرغب بی دوبارہ بولیں

“مائیکل عیسائی لڑکا یہاں کام کرنے آیا تھا لیکن اُس کی موت کا اِس جگہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔۔ اُس کی موت کا ذمہ دار کوئی جنگلی جانور تھا مائیکل کا سر جنگل سے برآمد ہوا تھا جبکہ باقی کا ڈھر ابھی تک لاپتہ ہے لیکن مائیکل کی ماں ہر دوسرے شخص کو یہی کہتی پھرتی ہے کہ مائیکل کی موت کا ذمہ دار ہیر پیلس میں موجود آسیب ہے”

فرغب بی ہیںر کی الجھن دور کرتی ہوئی اسے بتانے لگیں جیسے کہ اُن کو حکم دیا گیا تھا

“ہال میں اُس کاریڈور میں ایسا کیا ہے جو وہاں پر کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے اور آج صبح آپ اُس کمرے میں کیا کررہی تھیں”

ہیر کے ذہن میں مچلتا ہوا ایک اور سوال زبان پر آیا

“اگر کسی دوسرے کو کسی کام کے لئے منع کیا جاتا ہے تو وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ شخص نقصان نہ اٹھائے۔۔۔ ہال کے اُس پورشن میں موجود کمروں میں صرف پرانا، ناکارہ سامان موجود ہے اور کچھ ایسی بوتلیں ہیں جن میں ایسے خطرناک کیمیکلز اور زہریلے کیڑے مکوڑوں کی دوائیں موجود ہیں جس سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔۔۔ جہاں برسوں پرانا سامان کاٹھ کباڑ رکھا ہو تو وہاں ملازموں کا کیا کیا کام، اِس لیے اُس حصّے میں کسی بھی ملازم کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔ اور رہی میرے اُس کمرے سے نکلنے کی بات تو اِس پورے ہیر پیلس کے چپے چپے کی نگرانی میری ذمہ داری ہے، آپ مجھے ہر اُس جگہ پر پائی گئیں جہاں باقی دوسروں کو جانے کی اجازت نہیں”

فرغب بی اپنے طور پر ہیر کو بہت کچھ جتاتی ہوئی بولیں مگر اُن کے تاثرات ایسے تھے ہیر کے دل میں ابھی بھی کوئی شک و شبہ باقی ہے تو وہ پوچھ لے

“آج صبح میں نے کسی کے گنگنانے کی آواز سنی اور وہ اُسی پورشن سے آرہی تھی، میری سماعتیں دھوکا نہیں کھا سکتی۔۔۔ جب اُس پورشن میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں تو پھر وہاں پر کون گا رہا تھا”

ہیر فرغب بی کو غور سے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی جیسے فرغب بی اُس کی بات پر اب کیا جواز پیش کرتی ہیں جبکہ فرغب بی ہیر کی بات پر مسکرائی جیسے اُس نے بچوں والی بات کی ہو

“یہ پہاڑی علاقہ ہے، چاروں طرف پہاڑ ہونے کی وجہ سے جب تیز ہوائیں چلتی ہیں تو اکثر ایسی ہی آوازیں پیدا ہوتی ہیں جیسے کوئی گا رہا ہو۔۔۔ کچھ لوگوں کی الٹی سیدھی باتیں سن کر آپ نے بلاوجہ میں وہم اپنے دل اور دماغ میں پال لیے ہیں انہیں خود پر حاوی نہ ہونے دیں”

فرغب بی کی بات سن کر ہیر ایک دم بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی

“اور آج صبح جو اپنی پینٹنگ میں نے اُس کمرے میں دیکھی تھی اور صندوق میں رکھا ہوا وہ قطبہ جس پر میرا نام درج تھا اُس کے بارے میں آپ کیا بولیں گیں”

ہیر کی بات سن کر فرعب بی اُس کو حیرت سے انجان تاثر دیتی ہوئی بولیں

“آپ کی پینٹنگ اور قطبہ۔۔۔ مطلب قبر کا قطبہ، آپ کے نام کا۔۔۔ کہا دیکھ لیا آپ نے، ذرا مجھے بھی تو معلوم ہو”

فرغب بی حیرت کا اظہار کرتی ہوئی الٹا ہیر سے پوچھنے لگیں

“اسی کمرے میں جہاں وہ بوتلیں پرانا کاٹھ کباڑ کا سامان موجود ہے”

ہیر فرعب بی کے حیرت کرنے پر اُن کو بتانے لگی۔۔۔ قبر کے قطبے پر اپنا نام دیکھ کر وہ کس قدر خوفزدہ ہوگئی تھی

“ویسے تو شیر عباس نے منع کیا تھا کہ آج کے دن آپ اُن کے کمرے سے باہر نہیں نکلیں گیں لیکن آج میں آپ کی ساری الجھنیں دور کرکے رہوں گیں آپ آئیے میرے ساتھ بتائیے مجھے کہاں ہیں آپ کی پینٹنگ اور وہ قطبہ”

فرعب بی ہیر کو بولتی ہوئی اسے اپنے ساتھ اسی کمرے میں لے گئیں۔۔۔ ہیر اپنا دل مضبوط کیے فرغب بی کے ساتھ اُس کمرے میں موجود تھی مگر وہاں حیرت سے چپ کھڑی تھی اس کمرے میں نہ تو وہ پینٹنگ موجود تھی اور نہ ہی وہ صندوق۔۔۔

“میری آنکھیں دھوکا نہیں کھا سکتی وہ پینٹنگ اِسی جگہ پر موجود تھی مجھے اچھی طرح یاد ہے”

ہیر مزید پریشان ہوکر فرغب بی سے بولی۔۔۔ صبح مائیکل کی ماں کا ہوا میں تحلیل ہوجانا، جنگل کا سرکتے ہوئے اُس کے جانب آنا، یہاں تک کہ برگد کے پیڑ میں چھپی اُس مخلوق کا اُس سے مخاطب ہونا۔۔۔ یہ سب اُس کا وہم ہوسکتا تھا مگر وہ پینٹنگ اور صندوق میں موجود قطبہ اُس کا وہم نہیں تھا

“کبھی کبھی آنکھوں کا دیکھا بھی دھوکہ ہوسکتا ہے آپ اپنے ذہن پر بوجھ نہ ڈالیں جائیے اپنے کمرے میں آرام کریں”

فرغب بی اُس کی الجھنیں دور کرنا چاہتی تھیں مگر وہ مزید الجھ گئی فرغب بی بولنے کے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکلنے لگیں تبھی ہیر ان کے پیچھے چلتی ہوئی راہداری سے باہر نکلی اچانک اسے وہ قبر یاد آئی بناء قطبے والی

“پچھلے حصّے پر وہ قبر کس کی ہے”

ہیر کی بات سن کر فرغب بی نے پلٹ کر اُس کو دیکھا اُن کے تاثرات میں تھوڑی دیر پہلے والی نرمی نہیں عجیب سی سنسنی تھی

“اب آپ کو آرام کرنا چاہیے آپ بلاوجہ اپنے دماغ کو تھکا رہی ہیں، جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے”

فرغب بی ہیر کو بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔۔۔ ہیر کو بھی وہاں پر کھڑے رہنا بےکار لگا وہ اپنے کمرے میں آگئی

شاور لینے کے لیے اُس نے اپنے وارڈرب سے کپڑے نکالے کمرے کی کھڑکی کے پردوں سے اچھی طرح ڈھانپ دیا۔۔۔ اپنی شرٹ کی زپ کھولتے ہوۓ اُس نے محسوس ہوا

جیسے کوئی چھپی ہوئی آنکھ اُس کو دیکھ رہی ہو۔ ایسا اُسے آج ہی محسوس نہیں ہوا اکثر محسوس ہوتا تھا وہ جلدی سے اپنے گرد ٹاول لپیٹ کر وہاں سے واشروم چلی گئی

***””””***

اپنے کمرے میں آکر چکر کاٹتا ہوا شاید وہ پاگل ہونے کو تھا ہاتھ میں پکڑی ہوئی آرزو کی تصویر جو کہ وہ تھوڑی دیر پہلے گلنار سے مانگ کر یہاں کمرے میں داخل ہوا تھا اس نے پرزے پرزے کر کے ہوا میں تصویر کے ٹکڑوں کو اڑا دیا تھا

یہ باکردار نیک شریف اور خاندانی لڑکی دیکھی ہے ماں جی نے میرے لئے۔۔۔

دل ہی دل میں سوچتے ہوئے ہاشم کو مزید غصّہ آنے لگا۔۔۔ آج کے دن خاص طور پر گلنار نے اُس کو آفس سے جلدی گھر آنے کو بولا تھا کیونکہ آرزو کے والدین شادی کی تاریخ فکس کرنے اور اُس سے ملنے آنے والے تھے

صدیقی کو پہلی نظر میں دیکھ کر ہاشم فوراً پہچان چکا ہے یہ وہی آدمی تھا جس نے ریسٹورینٹ میں اُس بائیک والے لڑکے کے تھپڑ مارا تھا جس سے اُس کا جھگڑا ہوا تھا اور اپنے ساتھ اُس لڑکی کو لے گیا تھا جو تھوڑے دنوں پہلے اُس کی گاڑی کے سامنے آکر بےہوش ہوگئی تھی

کیا آرزو وہی لڑکی تھی؟؟ کیا اُس لڑکی سے اُس کی شادی ہونے والی تھی جو اپنی شادی سے ایک رات پہلے گھر سے بھاگ گئی تھی۔۔۔۔

وہ عجیب کیفیت میں صدیقی اور شہناس کے سامنے بیٹھا ہوا اُن کے سوالات کا مختصر سا جواب دے رہا تھا اِس وقت ہاشم کا دماغ اتنا غیر حاضر تھا کہ ماہ نور نے صدیقی اور شہناس کے سامنے آکر بدتمیزی اور بد کلامی کرنا شروع کردی تب بھی وہ ماہ نور کو کچھ نہیں بول سکا

لیکن اِس وقت وہ اپنے کمرے میں موجود باہر سے آتی ماہ نور، گلنار کی اور ایوب خان کی آوازوں کو نظر انداز کرتا ہے یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ وہ ایسی لڑکی سے شادی ہرگز نہیں کرے گا جس کا کردار ہر لحاظ سے مشکوک ہو ہاشم فیصلہ کرتا ہوا کمرے سے باہر نکلا تاکہ ایوب خان اور گلنار کو شادی سے منع کرسکے

***””””***

“تمہارے اندر سے لحاظ دن بہ دن ختم ہوتا جارہا ہے ماہ نور، تمہیں ذرا بھی تمیز نہیں ہے گھر آئے کسی مہمان کے سامنے کس طرح پیش آتے ہیں”

ایوب خان غُصّے میں کھڑے ماہ نور کو دیکھ رہے تھے جبکے گلنار غصّے میں ماہ نور کو دیکھتی ہوئی بولی

“وہ لوگ مہمان نہیں تھے بلکہ آپ دونوں بلاوجہ اُن لوگوں سے رشتہ داریاں جوڑنے میں لگے ہیں۔ ایسے کچرا قسم کے لوگوں کو آپ دونوں اگر اپنے تک محدود رکھیں تو مجھے کوئی پرابلم نہیں مگر آپ دونوں ان لوگوں کا ہاشم سے رشتہ جوڑ رہے ہیں یہ بات میں ہرگز برداشت نہیں کروں گی”

ماہ نور دو بدو گلنار کے مقابلے میں آتی اُس سے بولی تو ایوب خان خاموش نہیں رہ سکے

“اگر تم ہاشم کی فکر شروع دن سے کرتی تو آج ہمیں ہاشم کے لیے فکر مند نہیں ہونا پڑتا، پرپوتے کی خواہش بھی ہم اپنے سینے میں دبائے اِس دنیا سے رخصت ہوجاتے اور تمہاری گستاخیوں کو نظر انداز بھی کردیتے مگر تمہیں تو شاید ہاشم کی اور ہماری عزت کا احساس بھی نہیں ہے”

ایوب خان شدید غُصّے کے عالم میں ماہ نور سے بولے تو ماہ نور طنزیہ انداز میں مسکرائی

“دا جی آپ مجھ سے مخاطب نہ ہو تو اِسی میں آپ کی بھلائی ہے نہیں تو میری گستاخ زبان کے نشتر برداشت نہیں کر پائیں گے آپ۔۔۔ ویسے ہی آپ کا ناتواں دل کمزور ہوچکا ہے اِس لیے تھوڑا سنبھل کر بات کریں۔۔۔ اُن لوگوں کے سامنے میں نے ایسا کچھ نہیں کہہ دیا جس پر آپ دونوں ہی مجھ پر ناراض ہورہے ہیں لیکن جس دن اُن لوگوں کی بیٹی ہاشم کی بیوی بن کر اِس گھر میں آئی تب دیکھئے گا میں کیسے اُس لڑکی کی اور آپ کے اِس خاندان کی عزت و وقار کی دھجیاں بکھیرتی ہوں”

ماہ نور ایوب خان کو دھمکی بھرے لہجے میں بولی جس سے ایوب خان کے چہرے پر ایک رنگ آتا ہوا اور دوسرا جاتا ہوا دکھائی دینے لگا۔۔۔ ہاشم جو اپنی پریشانی لےکر کمرے سے آیا تھا ماہ نور کی چلتی ہوئی زبان دیکھ کر وہ غُصّے میں ماہ نور کا رُخ اپنی جانب کرتا ہوا بولا

“معافی مانگوں دا جی سے ابھی اور اِسی وقت”

ہاشم کڑے تیوروں کے ساتھ غُصّے میں ماہ نور کو دیکھتا ہوا بولا

“میری جوتی بھی معافی نہیں مانگے گی تمہارے گھر والوں سے”

ماہ نور کی زبان درازی پر اِس سے پہلے ہاشم کا ہاتھ ماہ نور پر ہاتھ اٹھتا

“ہاشم”

گلنار زور سے چیخی تب ہاشم ماہ نور کی طرف سے توجہ ہٹاکر فرش پر گرے ہوۓ ایوب خان کی طرف دوڑا

***””””***

رات کا پہر شروع ہوتے ہی چاروں طرف دھند اپنا ڈیرہ جمالیا کرتی اِس وقت بھی دھند نے ہیر پیلس کو اپنے اندر سمایا ہوا تھا۔۔۔ دور دور تک سناٹے پھیلے ہوئے تھے ایک دم کسی جنگلی جانور یا چمکاڈر کی آواز سناٹے کو چیرتی ہوئی خاموشی میں خلل پیدا کرتی، اُس کے بعد دوبارہ سناٹے اور خاموشی واپس اپنا ڈیرہ جمالیتے

آج شدید دھند اور یخ بستہ ہوا چلنے کے سبب کوئی ذی روح دور دور تک دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ ایسے میں شیر عباس بھی شام ڈھلے ہوٹل سے جلدی واپس آگیا تھا مگر اُس نے محسوس کیا ہیر کافی چپ چپ تھی شاید صبح والی بات کو لےکر وہ ابھی تک اُس سے خفا تھی۔۔۔ رات کھانے کے بعد جب شیر عباس اپنے کمرے میں آیا تب اُس نے ہیر کو ایل ای ڈی کے سامنے بیٹھے دیکھا۔۔۔ ہیر شیر عباس کی موجودگی کا نوٹس لیے بغیر اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھی تھی تبھی شیر عباس خود ہیر سے گویا ہوا

“یہ بھلا کوئی دیکھنے کی چیز ہے مجھے تو کافی بور کردیتے ہیں ایسے پروگرامز”

شیر عباس اسکرین پر اینیمل پلانٹ چائینل دیکھ کر تبصرہ کرتا ہوا ہیر سے بولا جو جانوروں کے متعلق معلومات کافی دلچسپی سے سن رہی تھی یا پھر شیر عباس کو بھرپور طریقے سے نظرانداز کرنے کے لئے اسکرین پر چلتا ہوا پروگرام کافی غور سے دیکھ رہی تھی

“آپ کو تو شاید اپنے کمرے میں میری موجودگی بھی بور کردیتی ہوگی یہ اب آپ کی بدقسمتی ہے کہ آپ کو میری جیسی بیوی ملی”

ہیر شیر عباس کی جانب دیکھے بغیر اس پر تبصرہ کرتی ہوئی بولی جس پر شیر عباس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی

“تم مجھے میرے کمرے میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہی کب ہو۔۔۔ یا تو اِس ایل ای ڈی کے آگے بیٹھ جاتی ہو یا پھر الماریوں میں گھس کر کچھ نہ کچھ کھنگالتی رہتی ہو جب اِن دونوں چیزوں سے تمہارا دل بھر جائے تو موبائل پر فضول قسم کے گیم کھیلتی رہتی ہو”

شیر عباس اُمڈ آنے والی مسکراہٹ کو چھپاتا ہوا سیریس ہو کر ہیر سے بولا تو ہیر اسکرین پر جمی اپنی نظریں ہٹاکر شیر عباس کو دیکھنے لگی

“آپ تو مجھے بڑا ہی کوئی اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں غلطی سے اگر ہوٹل سے جلدی واپس آجائے تو اپنا آفس یہی کمرے میں کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔۔ اگر اِس بےکار سے لیپ ٹاپ سے آپ کو فرصت ملے تو اُس ایبک کے ساتھ یا پھر اکیلے ہی باہر واک پر چل نکلتے ہیں”

ہیر شیر عباس کے شکوہ کرنے پر الٹا طنز کرتی ہوئی شیر عباس سے بولی

“یہ تو غلط بات ہے یار واک پر چلنے کے لیے ہر بار میں ایبک سے پہلے تم سے پوچھتا ہوں اور تم ہر بار ہی مجھے منع کردیتی ہو”

شیر عباس ہیر کو ٹوکتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اس نے ریموٹ کنٹرول اٹھا کر ایل ای ڈی آف کرنا چاہا تو ہیر نے شیر عباس سے ریموٹ چھین لیا

“کیوکہ مجھے اتنی سنسان جگہ پر اتنے سرد موسم میں واک کرنا پسند نہیں ہے اِس لیے نہیں جاتی میں آپ کے ساتھ، اب آپ خاموش ہوکر مجھے اِن ببر شیروں کو دیکھنے دیں”

ہیر شیر عباس سے بولتی ہوئی اپنی توجہ دوبارہ اسکرین کی جانب کرچکی تھی۔۔۔ صبح وہ بگڑے ہوۓ موڈ میں کتنی دل دکھانے والی باتیں کررہا تھا اور اب کیسے فری ہورہا تھا اچھا ہی تھا جو وہ اِس وقت اُس کو لفٹ نہیں کرواتی

“یہ جو تمہارے سامنے بیٹھا ہے وہ بھی ببر شیر سے کم نہیں میرے خیال میں تمہیں اس شیر پر زیادہ غور کرنا چاہیے جو تمہارا اپنا ہے تمہارے پاس موجود ہے”

شیر عباس بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے نیم دراز ہوا ہیر کو دیکھتا ہوا بولا تو ہیر آئی برو اچکا کر شیر عباس کو دیکھنے لگی

“اس شیر میں کوئی ایسی خاص بات نہیں ہے مجھے اِن شیروں کے متعلق جاننے میں زیادہ دلچسپی ہے”

ہیر اسکرین کی طرف انگلی سے اشارہ کرتی ہوئی شیر عباس کو جتاتی ہوئی بولی

“تو ان شیروں کے متعلق ساری معلومات میں دے دیتا ہوں تمہیں، بتاؤ کیا جاننا چاہتی ہو تم”

شیر عباس ہیر کے قریب تھوڑا سرکتا ہوا بولا تو ہیر نے بناء کچھ بولے ریموٹ کا والیوم تیز کردیا تاکہ شیر عباس اسے مزید ڈسٹرب نہ کرے

“اب یہ نر اپنی مادہ کے پاس جانے کے لئے تیار ہے”

اسکرین پر ڈبنگ کی آواز کے ساتھ اب جو سین اسٹارٹ ہونے لگا تھا ہیر کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے وہ بری طرح شرمندہ ہوگئی جبکہ شیر عباس ہیر کے فیس ایکسپریشن دیکھ کر محظوظ ہونے لگا۔۔۔ ہیر کا شرم سے سرخ چہرا دیکھ کر شیر عباس نے مسکراتے ہوئے ریموٹ ہیر کے ہاتھ سے لےکر سوئچ آف کا بٹن دبایا تو اسکرین پر تاریخی چھاگئی اب کی بار ہیر نے احتجاج نہیں کیا

“تمہارے شیر میں کیا خاص بات ہے اُس کا تم تبھی پتہ لگا سکتی ہو جب تم اپنے شیر میں دلچسپی لو۔۔۔ اور آج شیر عباس چاہتا ہے کہ اُس کی مادہ دل و جان سے اُس میں دلچسپی لے”

شیر عباس نے بولتے ہوئے ہیر کو بازو سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا

“عباس”

شیر عباس کے کھینچنے پر ہیر ایک ہی جست میں شیر عباس کے سینے سے ٹکرائی۔۔۔ شیر عباس بیڈ پر لیٹا ہوا تھا جبکہ ہیر مکمل طور پر اس کے سینے پر جھکی ہوئی تھی دونوں کے دل زور سے دھڑکے دونوں ایک دوسرے کی دھڑکنوں کو صاف محسوس کرسکتے تھے

“عباس چھوڑیں مجھے کتنا ٹائم گزر چکا ہے اب ہمہیں سونا چاہیے”

ہیر شیر عباس کے اوپر جھکی ہوئی مکمل طور پر شیر عباس کی گرفت میں تھی۔۔۔ ہیر کے اٹھنے کی کوشش شیر عباس ہیر کی نازک کمر پر اپنے بازو حمائل کرکے ناکام بناچکا تھا

“اِس بات کا تمہیں احساس کرنا چاہیے واقعی کتنا وقت گزر چکا ہے اتنے دنوں میں تمہاری شرم اور جھجھک کو اب ختم ہوجانا چاہیے”

شیر عباس ہیر سے بولتا ہوا اسے نرمی سے بیڈ پر لٹاکر اُس کے اوپر جھکا

ہیر کا دل زور سے دھڑکا ساتھ ہی اُسے وہ بھیانک رات یاد آئی جب وہ پہلی بار ہیر پیلس آئی تھی اپنے چہرے پر شیر عباس کی انگلیوں کا لمس محسوس کرکے وہ اپنی سوچوں سے واپس لوٹی

“عباس مم۔۔۔ مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے، کچھ بہت ضروری”

ہیر کچھ سوچ کر فیصلہ کرتی ہوئی بولی یہ بات شاید کوئی شوہر برداشت نہیں کرسکتا مگر وہ شیر عباس کو دھوکے میں کیسے رکھ سکتی تھی

“میں اِس وقت کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں ہوں ہیر۔۔۔۔ شروع دن سے میں نے تمہاری گریز کو محسوس کرکے تمہیں وقت دیا اب تمہیں میرا بھی خیال کرنا چاہیے”

شیر عباس ہیر کے چہرے پر جھکا اُس کے ہونٹوں پر انگلیاں پھیرتا ہوا بولا تو ہیر خاموش ہوگئی

شیر عباس گہری نگاہوں سے ہیر کا چہرہ دیکھتا ہوا اُس کے ہونٹوں پر جھکا شیر عباس کے اِس عمل پر ہیر خود میں سمٹ کر رہ گئی۔۔۔ جذبات کا ایک طوفان تھا جو اُن دونوں کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا اگر دروازے پر دستک نہ ہوتی

“کون”

رات کے اِس پہر کسی کا بیڈ روم میں دستک دینا یعنی کوئی ایمرجنسی تھی شیر عباس بیڈ سے اٹھ کر دروازہ کھولنے لگا تب تک ہیر بھی سنبھل چکی تھی

“سر ایک بری خبر ہے ہوٹل میں آگ لگ چکی ہے، ابھی عامر کی کال آئی تھی اسی نے مجھے انفارم کیا ہے”

ایبک گھبراہٹ میں مبتلا شیر عباس کو بتانے لگا

“واٹ”

شیر عباس شاکڈ کے عالم میں کچھ بول بھی نہیں سکا

“ہیر جیکٹ دو جلدی سے میری”

شیر عباس کمرے میں آکر ہیر سے پریشان لہجے میں بولتا ہوا اپنا والٹ اور موبائل اٹھانے لگا جبکہ ایبک ابھی تک کمرے کے دروازے پر ہی موجود تھا

“عباس آگ کیسے لگ گئی ہوٹل میں پلیز مجھے بتائیے”

ہیر شیر عباس کو جیکٹ تھماتی ہوئی خود بھی پریشان ہوکر پوچھنے لگی کیونکہ چہرے سے شیر عباس کافی زیادہ ڈسٹرب لگ رہا تھا

“یہ تو وہاں پہنچ کر معلوم ہوگا تم میرا انتظار مت کرنا سو جانا۔۔۔ معلوم نہیں کب واپس آنا ہو میرا”

شیر عباس عجلت میں جیکٹ پہنتا ہوا ہیر کا پریشان چہرہ دیکھ کر اُس سے بولا اور کمرے سے باہر نکلا

“ڈرائیونگ میں کرلیتا ہوں دھند کافی ہے آج”

ایبک شیر عباس کے ساتھ چلتا ہوا بولا شیر عباس تیز قدم اٹھاتا ہوا راہ داری سے ہال میں جارہا تھا تب ہیر کو شیر عباس کی آواز سنائی دی

“نہیں تم یہی رکو، اگر تمہاری ضرورت ہوگی تو میں تمہیں کال کرکے بلالوں گا”

ہیر نے افسردہ دل کے ساتھ اپنے بیڈروم کا دروازہ بند کیا نہ جانے آگ سے ہوٹل کا کتنا حصہ متاثر ہوا ہوگا شیر عباس کو کتنا نقصان ہوگا

ہیر لائٹ بند کرکے بیڈ پر لیٹ گئی نیند نہ جانے کب اس پر مہربان ہوئی ہیر کو خبر بھی نہ ہوسکی

لیکن اُس کا ذہن تب بےدار ہوا جب بھاری بھرکم وجود اُس پر مکمل قابض تھا نہ جانے رات کا وہ کونسا پہر تھا ہیر اندازہ نہیں لگا پائی۔ وہ اُس کی گردن پر جھکا ہوا اپنے ہونٹوں سے دیوانہ وار اس کی گردن کو جگہ جگہ چوم رہا تھا

“عباس”

ہیر ماؤف ہوتے ذہن کے ساتھ شیر عباس کا نام پکارتی ہوئی بولی۔۔۔۔ اپنی شرٹ کُھلتے بٹن محسوس کر کے ہیر نے اپنی آنکھیں کھولنی چاہی مگر کمرے میں اِس وقت مکمل اندھیرا تھا

“آپ واپس کب آئے۔۔ ہوٹل میں آگ کیسے لگی تھی زیادہ نقصان تو نہیں ہوا۔۔۔ سب ٹھیک ہے ناں۔۔۔ آآآ”

ہیر شیر عباس سے جاننا چاہتی تھی مگر اس نے ہیر کے بالوں کو مٹھی میں جھگڑا ہیر کے منہ سے سسکی نکلی

وہ ہیر کے ہونٹوں پر جھکا اپنی گرم سانسیں ہیر کی سانسوں میں انڈیلنے کے بعد مکمل طور پر ہیر کو اپنی گرفت میں لیے اُس پر آہستہ آہستہ پورا قابض ہوچکا تھا۔۔۔ ہیر شیر عباس کی دسترس میں بےچین ہونے لگی مگر وہ شیر عباس کو پیچھے نہیں ہٹا پائی

***””””***

جب وہ صبح سویرے بیدار ہوئی شیر عباس روز کی طرح اس کے برابر میں موجود نہیں تھا لیکن رات میں وہ کس ٹائم ہوٹل سے واپس آیا تھا ہیر کو خبر نہیں ہوسکی تھی۔۔۔ ہیر نے ٹیبل پر رکھا اپنا موبائل اٹھاکر دیکھا تو رات کے ساڑھے تین بجے شیر عباس کے نمبر سے اُس کے موبائل پر مس کال شو ہورہی تھیں۔۔۔ ہیر نے شیر عباس کا نمبر ملایا تو بےزاری کے عالم میں سگنل نہ ہونے کی وجہ سے اٹھ کر وہ کھڑکی کے پاس چلی آئی، کھڑکی کے پٹ کھولتے ہی تازہ خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اُس کے چہرے سے ٹکرایا ہیر شیر عباس کو کال کرنے لگی

“ہاں ہیر بولو”

کال ریسیو کرتے ہی اُس کی سماعت سے شیر عباس کی آواز ٹکرائی تھی لہجہ صاف بتارہا تھا وہ اِس وقت مصروف تھا شاید ڈرائیونگ کررہا تھا

“آپ صبح ہوتے ہی دوبارہ ہوٹل کے لیے نکل گئے کم سے کم مجھے جگا تو دیتے”

ہیر اپنی طرف سے اندازہ لگاتی ہوئی شیر عباس سے بولی

“دماغ سیٹ ہے تمہارا، رات کو ہوٹل جانے کے لیے نکلا تھا ابھی تو میں ہوٹل سے واپس آرہا ہوں راستے میں ہوں بس پہنچنے والا ہوں۔۔۔ کیا ابھی نیند سے جاگی ہو رات میں کال کررہا تھا تمہیں تاکہ بتادو واپس آنے میں لیٹ ہوجاؤ گا۔۔۔ ہیلو کہاں کھو گئی۔۔۔ سن رہی ہو میری بات۔۔۔۔ ہیر میری آواز آرہی ہے۔۔۔ ہیلو”

شیر عباس بولے جارہا تھا جبکہ وہ خوفزدہ سی ایسے گھڑی تھی جیسے اُس کے جسم سے کسی نے روح کھینچ لی ہو۔۔۔ اگر شیر عباس رات بھر ہوٹل میں موجود تھا تو پھر یہاں کل رات اُس کے قریب اس کمرے میں کون آیا تھا۔۔۔ خوف کے مارے ہیر کے ہاتھ پاؤں کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔۔۔ وہ اپنی اُجاڑ حالت لےکر اپنے وجود کو گھسیٹتی ہوئی آئینے کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی اور خود کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر بےآواز رونے لگی

“مم۔۔۔۔ میں یہ سب برداشت نہیں کر پاؤ گی۔۔۔ بالکل برداشت نہیں کرپاؤ گی”

ہیر اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی کمرے کا دروازہ کھولنے لگی تبھی کالے رنگ کی قمیض شلوار میں کوئی شخص تیزی سے راہداری سے گزرتا ہوا ہال کی طرف جانے لگا

“رکو۔۔۔ میں کہتی ہوں وہی رک جاؤ”

ہیر زور سے چیخ کر بولی اور تیزی سے چلتی ہوئی اُس شخص کے پاس آئی، اپنے سامنے کھڑے ایبک کو دیکھ کر وہ ششدر رہ گئی

“تم۔۔۔ تم آئے تھے کل رات میرے کمرے میں۔۔۔ تمہیں ہی تو عباس نے بولا تھا کہ تم اُن کے ساتھ ہوٹل نہیں جاؤ گے بلکہ یہی رہو گے۔۔۔ کیسے ہمت کی تم نے مجھے چھونے کی جواب دو”

ہیر شدید غصّے کے عالم میں ایبک کی ہری آنکھوں کو دیکھ کر اس کا گریبان پکڑتی ہوئی زور سے چیخ کر اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ گھر کے نوکر سمیت فرغب بی ہیر کی تیز آواز پر اُس کی جانب متوجہ ہوکر وہی چلی آئیں

“آپ کو غلط فہمی ہورہی ہے۔۔۔ میں آپ کے ساتھ ایسی گری ہوئی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا آپ شیر عباس صاحب کی عزت ہیں”

ہیر کے لفظوں کا مفہوم سمجھ کر وہ اپنے اوپر لگنے والے الزام پر بوکھلا گیا اور نرم لہجے میں پریشان ہوکر بولا۔۔۔۔ اتنا سنگین الزام وہ بھی گھر کے ملازمین اور فرغب بی کے سامنے اپنے اوپر لگتا دیکھ کر ایبک بری طرح شرمندہ ہوا تھا

“بکواس بند کرو اپنی میں اچھی طرح پہچان گئی ہوں تمہیں، آنے دو عباس کو تمہاری اصلیت اور تمہارا مکروہ چہرہ اُن کے سامنے لاؤں گی۔۔۔ سب بتاؤں گی میں عباس کو”

ہیر نے غصّے اور صدمے میں ابھی تک ایبک کا گریبان پکڑا ہوا تھا ایبک نے ہیر کے ہاتھوں کو اپنے گریبان سے ہٹانے کے لیے اُس کے ہاتھوں کو چھوا تک نہ تھا۔۔۔ فرغب بی نے آگے بڑھ کر ہیر کے ہاتھ ایبک کے گریبان سے ہٹاۓ اور ساتھ ہی وہ ہیر سے بولیں

“آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ایبک شیر عباس کا وفادار ہے وہ اتنا سنگین جرم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور ویسے بھی کل رات شیر عباس نے فون کرکے اِسے اپنے پاس ہوٹل بلالیا تھا یہ تو تھوڑی دیر پہلے ہی واپس آیا ہے”

فرغب بی کی بات پر جیسے ہیر کو یقین ہی نہیں آیا تھا

“کیا لگتا ہے آپ کو پاگل ہوں میں۔۔۔ جواب دیجیے مجھے، کیا میں پاگل ہو جو اتنی بڑی بات اپنی طرف سے بول رہی ہوں”

ہیر زور سے چیخ اٹھی تمام ملازمین، ایبک یہاں تک کہ فرغب بی بھی خاموش تھیں صرف دیوار پر لگے جنگلی جانوروں کے سر زور زور سے ہنس رہے تھے ہال میں بڑا سا کرسٹل کا فانوس آہستہ آہستہ رقص کرتا ہوا اُس کا مذاق اڑا رہا تھا۔۔۔۔ پینٹکز میں موجود خون آلود چہرے اُس کے دوبارہ لٹنے کا تماشہ دیکھ رہے تھے

“خاموش ہوجاؤ تم سب کے سب، یوں مت ہنسو میرے اوپر”

ہیر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے کانوں کو بند کرتی ہوئی پوری شدت سے چیخی کیونکہ اُس پر ہنستی ہوئی، اُس کا مذاق اڑاتی ہوئی یہ آوازیں اس کو تکلیف دے رہی تھیں

“کیا ہورہا ہے یہاں پر”

شیر عباس کی آواز پر فرغب بی کے ہیر کی جانب بڑھتے ہوئے قدم رک گئے جبکہ ہیر شیر عباس کو دیکھ کر کسی کی پرواہ کیے بغیر تیزی سے بھاگتی ہوئی شیر عباس کی جانب آئی اور اُس کے سینے میں منہ چھپا کر بری طرح رونے لگی

“یہاں کیا کھڑے ہو تم سب کے سب جاؤ جاکر اپنا کام کرو”

فرغب بی کے ٹوکنے پر سارے ملازم اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے، ہیر ابھی تک شیر عباس کے سینے میں منہ چھپائے بری طرح رو رہی تھی شیر عباس خاموش کھڑی فرغب بی اور شرمندہ سا کھڑا ایبک کو دیکھتا ہوا ہیر سے بولا

“ہیر کمرے میں چلو”

شیر عباس ہیر سے بنا کچھ پوچھے یا بنا کچھ جانے ہیر کو اپنے سے الگ کرتا نرمی سے بولا

“عباس آپ دیکھیں ناں اِس کی آنکھوں کا رنگ بھی ہرا ہے۔۔۔ وہ بھی اُس رات ایسے ہی کالے لباس میں کمرے میں آیا تھا۔۔۔ یہ کوئی وہم نہیں ہے میرا، نہ ہی میں نے کوئی خواب دیکھا ہے میں سچ بول رہی ہوں میرا یقین کریں آپ”

ہیر زاروقطار روتی ہوئی شیر عباس کو دیکھ کر اسے بتانے لگی

“اوکے تم سچ بول رہی ہو، ابھی اپنے کمرے میں چلو۔۔۔ یہاں سارے نوکر موجود ہیں ہم کمرے میں چل کر بات کرتے ہیں”

شیر عباس دوبارہ نرمی سے بولتا ہوا ہیر کے شانے پر اپنا بازو دراز کیے اُسے اپنے ساتھ لگاۓ کمرے میں لے جانے لگا

***””””***

“تمہاری چھوٹی بیٹی نظر نہیں آرہی کیا وہ نہیں آئی اپنی بہن کی شادی میں”

پڑوس میں رہنے والی خاتون شہناس سے پوچھنے لگی جو بینکوئیت ہال میں ہر آنے والے مہمانوں سے مل رہی تھی

“لینڈسلایڈنگ کی وجہ سے راستے بند ہوگئے اِس لیے ہیر نہیں آسکی”

شہناس اُن خاتون کو بتاتی ہوئی صدیقی کے پاس چلی آئی۔۔۔ یہ سچ بھی تھا پہلے تو شیر عباس نے خود سے ہیر کو بھیجنے سے منع کردیا تھا مگر پھر ہیر کے ضد کرنے پر اُس کی طبعیت خرابی کی وجہ سے شیر عباس نے اپنا ارادہ بدلا مگر ہفتے بھر سے غذر میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد برف باری کی وجہ سے، شہر تک جانے والے راستے بند کرنے پڑے

“کیا ہوا کچھ پریشان لگ رہے ہیں”

شہناس صدیقی کے پاس آتی ہوئی اُس کا چہرا دیکھ کر پوچھنے لگی

“ہاشم کی پہلی بیوی کیا وہ بھی آئی ہے یہاں پر”

صدیقی فکر مند لہجے میں لوگوں کی گہماگہمی دیکھتا ہوا شہناس سے پوچھنے لگا

“کیا آپ کو ایوب خان اور گلنار صاحبہ اتنے بےوقوف لگتے ہیں کہ اپنی بےعزتی کا سامان یہاں خود لےکر آئے گیں۔۔۔ ابھی زبیدہ بتارہی تھی ہمارے اُس دن جانے کے بعد خوب ہنگامہ کیا تھا اُس چلتی پھرتی قینچی نے، ایسا تماشہ لگایا کہ ایوب خان کی طبعیت بگڑ گئی یہاں تک کہ انہیں اسپتال لے جانا پڑا ایمرجنسی میں، ہاشم نے اُسے چھوڑنے کی دھمکی دی تب جاکر وہ سنبھلی اور یہاں نظر نہیں آرہی ہے”

شہناس لوگوں کے خیال سے راز دارنہ انداز میں ساری روداد صدیقی کو بتانے لگی

“اتنی باتیں زبیدہ کو کہاں سے معلوم ہوگئیں”

صدیقی حیرت کرتا شہناس سے پوچھنے لگا

“ارے ہاشم کے گھر جو نوکرانی کام کرتی ہے شمع، اُسی کی زبانی زبیدہ کو سب معلوم ہوا۔۔۔ اللہ معاف کرے ایسی تیز طرار لڑکی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی کیسے منہ بھر بھر کر ہماری بےعزتی کررہی تھی پھر بس نہیں چلا تو ساس اور دادا سُسر کو کوسنے لگی”

شہناس اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتی ہوئی بولی

“مجھے تو اُس لڑکی کے مزاج دیکھ کر اپنی آرذو کی فکر ہورہی ہے”

صدیقی شہناس سے فکرمندانہ لہجے میں بولا کیوکہ ہاشم کی پہلی بیوی حقیقتاً کوئی پہنچی ہوئی شے تھی جس کی زبان کے جوہر وہ تھوڑے دن پہلے خود دیکھ چکا تھا

“بلاوجہ کی ٹینشن مت لیں صدیقی صاحب اپنی دلی خوشی اور ہاشم کی آمادگی پر ہی گلنار صاحبہ ہماری آرذو کو اپنے گھر کی بہو بناکر لے جارہی ہیں۔۔۔ خیال تو اب ہاشم کو اور اُس کے گھر والوں کو ہماری آرزو کا رکھنا پڑے گا خیر سے ہمیں اوپر والے کا شکر ادا کرنا چاہیے آج ہم اپنی دوسری بیٹی کے فرض سے بھی سبکدوش ہوگئے”

شہناس صدیقی کو مطمئن کرتی دور کھڑی زبیدہ کے پاس جانے لگی جو اُسے اشارے سے بلارہی تھی

***””””***

“کیا کررہی ہو آرزو اِس طرح کیوں رو رہی ہو، خاموش ہوجاؤ شاباش پانی پیو”

تھوڑی دیر پہلے نکاح کا عمل انجام میں آیا تھا جس کے بعد روتے روتے آرزو کی سسکیاں بننے لگیں۔۔۔ امامہ نے جلد کمرے سے لڑکیوں کو باہر نکال دیا، خود وہ پانی کا گلاس تھامے آرزو کو پانی پلاتی ہوئی بولی

“آپی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے میرا دل نہیں چاہ رہا کہ میں رخصت ہوکر اپنے گھر سے کسی دوسرے کے گھر چلی جاؤ”

آرذو دلہن کے لباس میں روتی ہوئی امامہ سے بولی تو امامہ اُس کی بات پر تعجب کرتی ہوئی بولی

“پاگل ہوگئی ہو آرذو شادی تو ہر لڑکی کی ہوتی ہے ایسے بھلا کون لڑکی بولتی ہے”

امامہ آرزو کو دیکھ کر سمجھانے لگی

“ہر لڑکی اپنی شادی پر خوش ہوتی ہے میری طرح کی قسمت نہیں ہر لڑکی کی”

آرذو امامہ کو دیکھ کر شکوہ کرتی بولی تو امامہ اُس کی بات پر اداسی سے مسکرا دی

“کسی کسی لڑکی کی قسمت میں تو شادی کا سکھ ہی نہیں لکھا ہوتا بےقوف لڑکی، ایسے ناشکری کی باتیں کرکے اپنے نصیب کو برا بھلا نہیں کہتے۔۔ عقلمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ پچھلی ساری باتیں بھول کر تم دل سے ہاشم بھائی کو اپنا شوہر قبول کرو۔۔۔ انہیں خوش رکھو اور خود بھی خوش رہنے کی کوشش کرو”

امامہ آرذو کو سمجھاتی ہوئی بولی

“مجھے اُن سے بہت ڈر لگ رہا ہے آپی وہ۔۔۔ وہ مجھ پر غصّہ کریں گے میں جانتی ہوں، شاید وہ مجھے اچھی لڑکی بھی نہ سمجھے”

آرذو گھبراہٹ میں اپنے خدشے کا اظہار امامہ سے کرتی ہوئی بولی

“کیا الٹی سیدھی باتیں کیے جارہی ہو، ایسے ہی غصّہ کریں گیں۔۔۔ جس انسان کو اتنی پیاری لڑکی بیوی کی صورت مل رہی ہو وہ ایسے ہی غصّہ کرے گا، ایسی باتیں مت سوچوں اچھا اچھا سوچوں سب”

امامہ دوبارہ آرذو کو سمجھاتی ہوئی بولی

“ہیر نے کال بھی نہیں کی ناں کیا ہوجاتا اگر وہ آج کے دن ناراضگی ختم کرکے مجھ سے بات کرلیتی”

نہ جانے کون کون سی باتیں سوچ کر آرزو اپنا دل چھوٹا کیے جارہی تھی

“ارے یار ہیر کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ اُس بےچاری کو کال ملائی تھی میں نے جب شام میں تم پارلر میں تھی۔۔۔ عباس بھائی بول رہے تھے وہ نیند کی گولی لےکر سو رہی ہے۔۔۔ اب تمہارا صبح گھر آنا ہوگا تو میں بات کروا دوگی چلو اب اٹھو باہر سب ویٹ کررہے ہیں”

امامہ آرذو سے بولتی ہوئی اُسے اٹھنے میں مدد دینے لگی تاکہ روم سے باہر اسٹیج پر لے جاۓ۔۔۔ جہاں ہاشم اور اُس کے گھر والوں کے ساتھ باقی گیسٹ بھی دلہن کا ویٹ کررہے تھے

***””””***

جب اُس نے ماہ نور سے شادی کی تھی تب اُس کو ذرا بھی احساس نہیں ہوا تھا اُس کی قسمت میں دو شادیاں لکھی تھی کیوکہ اُسے ماہ نور سے محبت تھی۔۔۔ وہ محبت میں ماہ نور کی غلطیاں اور خطاؤں کو نظرانداز کرتا چلا گیا مگر ماہ نور نے ہمیشہ اُس کی محبت اور نرم مزاجی کا فائدہ اٹھایا۔۔۔ وہ کسی صورت کسی بھی بات پر کامپرومائیز کرنے کو تیار نہیں تھی

ماہ نور کا بدصورت رویہ دیکھ کر، اور ہر دوسرے دن لڑائی جھگڑے دیکھنے کے بعد ہاشم بری طرح اُکتا چکا تھا۔۔۔ ماہ نور کے ساتھ گزری چھ سالہ شادی شدہ زندگی میں مشکل سے دو یا تین ماہ کا عرصہ اُن دونوں کے بیچ خوشگوار وقت گزرا تھا یا پھر محبت کی مدّت اتنا ہی عرصے ہوتی ہے

ہاشم کی نظریں اسٹیج پر آتی اُس پری چہرہ پر پڑی جس سے گھنٹہ بھر پہلے اُس کا نکاح ہوا تھا۔۔۔۔ اُس دن اگر ماہ نور کے بدتمیزی کرنے پر دا جی کی طبعیت خراب نہ ہوتی تو وہ اِس لڑکی کو کبھی اپنی زندگی میں شامل نہیں کرتا۔۔۔ دا جی کی بگڑتی ہوئی حالت دیکھ کر وہ احتجاجاً ایوب خان یا گلنار سے کچھ نہیں بولا تھا کیوکہ وہ دونوں اِس رشتے پر راضی اور خوش تھے۔۔۔ اُن دونوں کے لیے اُس نے یہ گڑوا گھونٹ پیا تھا

“ہاشم بیٹا یہ کنگن ابّا جی کی طرف سے آرذو کی منہ دکھائی ہے۔۔۔ انہیں آرذو کے ہاتھوں میں ڈال دو”

گلنار کی خوشی سے چہکتی ہوئی آواز پر ہاشم نے فرمابرداری دکھاتے ہوۓ گلنار سے جڑاؤں کنگن لیے

“ہاتھ دو اپنا”

دھیما مگر نہایت کھردرا لہجہ آرزو کے کانوں سے ٹکرایا۔۔۔ ہاشم کی طرف اپنا نازک ہاتھ بڑھاتی ہوئی وہ اندر سے سہم گئی کیوکہ اُس کے ہاتھ پر ہاشم کے ہاتھ کی گرفت کافی سخت تھی

“بہت اچھا ہوتا اگر آج بھی تم اُس دن کی طرح شادی سے بھاگ جاتی۔۔۔ کم سے کم میری قسمت تو مٹی ہونے سے بج جاتی”

دوسرا کنگن ہاتھ میں ڈالتے ہوۓ آرذو کے منہ سے سسکی نکلی۔۔۔ اتنی سختی سے اُس نے آرذو کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔۔۔ اوپر سے ہاشم کا طنز بھرا نشتر آرذو کے دل کو چھلنی کرگیا وہ سر جھکاۓ خاموشی سے صبر کے گھونٹ پی گئی

تھوڑی دیر بعد آرزو کی نظریں ہال کے انٹرینس پر گئیں تو وہی ٹہر گئیں تبریز کو وہاں آتا دیکھ کر آرذو کے جسم میں روانی سے دوڑتا خون خشک ہونے لگا۔۔۔ وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں لیے سامنے سے آتے تبریز کو دیکھنے لگی۔۔۔ برابر میں بیٹھا ہاشم آرذو کی حالت سے باخبر ہوا تو اُس نے آرزو کی تعاقب میں سامنے سے آتے اُسی بدتمیز بائیک والے لڑکے کو دیکھا، نہ چاہتے ہوۓ بھی ہاشم کا پارہ ہائی ہونے لگا

مٹھی میں پھولوں کا ہار بھر کر اُس نے گلے سے کھینچ کر وہی پھینکا اور صوفے سے اٹھ کر اسٹیج سے نیچے اترا۔۔۔ آرذو کو لگا جیسے اگلا پل دیکھنا اُسے نصیب نہیں ہوسکے گا۔۔۔ ایک طرف تبریز دوسری طرف تبریز کی جانب بڑھتا ہوا اُس کا شوہر ہاشم۔۔۔ تیسری طرف دور کھڑے صدیقی اور شہناس جو تبریز کو نظروں میں سماۓ ہوۓ تھے مگر ہاشم کو تبریز کی جانب جاتا دیکھ کر صدیقی وہی رک گیا تھا

“کیوں آۓ ہو یہاں پر”

سخت اور پتھریلے لہجے میں ہاشم نے تبریز سے سوال پوچھا۔۔۔ وہ اتنے لوگوں کے ہجوم میں اپنا اور اپنی فیملی کا تماشہ نہیں چاہتا تھا

“اُس بےوفا کا دیدار کرنے جس نے زندگی میرے ساتھ گزارنے کا وعدہ کیا تھا اور سیج تمہاری سجا کر بیٹھ گئی”

تبریز کا لہجہ شور مچاتا اور درد سے بھرا تھا۔۔۔ ہاشم ضبط سے اپنی مٹھیاں بند کر کے رہ گیا

“وہ اب میری بیوی بن چکی ہے آئندہ اگر اُس کے بارے میں سوچا یا اُس کی طرف دیکھا بھی تو جان لےلو گا میں تمہاری۔۔۔ اگر تم چاہتے ہوں کہ میں تمہیں بخش دوں تو سیدھی شرافت سے یہاں سے چلے جاؤ نہیں تو تمہارے انجام پر رونے کے لیے تمہارے ماں باپ کو تمہاری لاش تک نہیں ملے گی”

ہاشم صرف اپنے خاندان کی وجہ سے اُس غمگین عاشق کا منہ توڑنے سے خود کو روکے ہوۓ تھا ورنہ وہ اُس کا یہی حلیہ بگاڑ دیتا

“یہ مت سمجھنا کہ میں تم سے یا تمہاری دھمکی سے ڈر کر یہاں سے جارہا ہوں، میں اُسے اور تمہیں صرف یہی بتانے آیا ہوں کہ مجھے بھولنا نہیں، یہ بات اپنی بیوی کو بھی بتادینا اُسے میں اتنی آسانی سے چھوڑوں گا نہیں اور نہ ہی چھوڑنے دوں گا”

تبریز ہاشم کو بولتا ہوا رکا نہیں خود ہی وہاں سے چلا گیا جبکہ ہاشم دانت پیس کر زیر لب تبریز کو گالی دیتا ہوا واپس اسٹیج پر جانے لگا

“کون تھا وہ بیٹا، کیا آپ جانتے ہیں اُسے”

صدیقی کی آواز پر ہاشم خار بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا اِس وقت صدیقی کے لہجے میں گھبراہٹ اور تجسس صاف عیاں تھا

“مجھ سے زیادہ اچھی طرح اُسے آپ جانتے ہیں”

ہاشم غُصے میں بےحال ہوکر بغیر لگی لپٹی رکھے روکھے لہجے میں صدیقی کو جتاتا ہوا بولا تو صدیقی اپنا سا منہ لےکر رہ گیا خار بھری جتاتی ہوئی نظر ہاشم اپنے سُسر پر ڈال کر دس قدم کے فاصلے پر اسٹیج پر بیٹھی آرزو کو قہر برساتی نظروں سے دیکھنے لگا آرزو اس کے دیکھنے پر زمین میں گڑھ گئی

“کیا ہوا ہاشم سب خیریت ہے”

گلنار دور سے ہی اپنے بیٹے کا بگڑا ہوا موڈ دیکھ چکی تھی مگر بات کیا تھی اُس کو اندازہ نہیں ہوا اِس لیے ہاشم کے پاس آتی اُس سے پوچھنے لگی

“اور کب تک چلے گا یہ ڈرامہ، بےذار آگیا ہوں میں ماں جی گھر چلیں اب”

ہاشم گلنار سے بولتا ہوا اسٹیج پر جانے کی بجاۓ بینکوئیٹ سے باہر نکل گیا

*****