Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Diyar E Wehsat (Episode 11)

Diyar E Wehsat By Zeenia Sharjeel

صبح کا آغاز ہونے پر ہیر نیند سے بیدار ہوئی جاگنے کے ساتھ اُس کی نظر اپنے قریب سوئے شیر عباس پر پڑی مسلسل پانچ دن سے وہ ہوٹل سے کافی لیٹ واپس گھر آرہا تھا زیادہ تر شیر عباس رات میں اُس کے سونے کے بعد واپس آتا۔۔۔ پچھلے دو دن سے وہ ہیر کے جاگنے سے پہلے ہی ہوٹل کے لیے نکل گیا تھا۔۔۔ ہیر اُس بات کا شکر ادا کررہی تھی کہ اُسے ہیر پیلس میں کوئی ایسی انہونی چیز یا پھر عجیب واقعہ نہیں دکھا جس سے وہ ڈر جاتی یا پریشان ہوجاتی

جاگنے کے بعد وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اور کھڑکی کے پاس آئی معمول کے مطابق اُس نے کھڑکی کا پردہ ہٹایا سورج کی روشنی سے نہ صرف کمرہ روشن ہوا تھا بلکہ سورج کی روشنی نے سوئے ہوئے شیر عباس کی نیند میں بھی خلل ڈالا

“یار یہ پردے تو برابر کرو ہیر دیکھ بھی رہی ہو کہ میں سو رہا ہوں”

نیند سے ڈوبی ہوئی آواز میں شیر عباس بولا تو ہیر پردے برابر کئے بغیر شیر عباس کے سر پر کھڑی ہوگئی

“جی بالکل میں وہی دیکھ رہی ہوں آپ کافی گہری نیند سو رہے تھے اِسی وجہ سے آپ کو جگایا ہے میں نے۔۔۔ عباس یہ سب چل کیا رہا ہے یہ کوئی روٹین ہے آپ کے واپس آنے کا، پورے پانچ دنوں سے آپ بالکل ہی بھول بیٹھے ہیں کہ ایک عدد بیوی بھی ہے آپ کی، جس کو آپ شادی کرکے اس لیے تو نہیں لائے کہ اُس کو اپنے محل میں قید کرکے خود اُس کی ذات فراموش ہو کر بیٹھ جائے”

ہیر شیر عباس کے سر پر کھڑی اُس کے جاگنے کے بعد اُس کی کلاس لیتی ہوئی بولی شیر عباس نے نیند سے بھری آنکھوں سے ہیر کی جانب دیکھا اور ہیر کی کلائی پکڑ کر اُسے اپنے اوپر گرالیا

“آؤچ کیا کررہے ہیں”

توازن برقرار نہ ہونے کی وجہ سے ہیر شیر عباس کے سینے پہ آگری اِس سے پہلے وہ اُس کے اوپر سے اٹھتی شیر عباس نے ہیر کو اپنے بازوؤں میں قید کرلیا

“صبح صبح یوں لڑتی ہوئی بالکل لڑاکا بیوی والا لُک دے رہی ہو میری جان، شیر عباس اپنی ذات سے تو فراموش ہوسکتا ہے مگر اپنی خوبصورت بیوی کو بالکل بھی نظر انداز نہیں کرسکتا مگر مجبوری ہے کہ روزگار بندے کو اپنا اور گھر والوں کا خیال رکھنے کے لیے مشقت کرنا پڑتی ہے”

ہیر کو بازوؤں میں سمائے وہ پیار سے اُسے بتانے لگا اپنی نیند خراب ہونے کے باوجود ہیر کا شکوہ کرنا اُسے احساس دلایا گیا تھا کہ وہ اُس کو مِس کرتی ہے دنیا میں کوئی ایسا موجود ہے جو اُس کا انتظار کرتا ہے

“ایسی کونسی مشقتیں ہیں جو رات کو بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہوتی ہیں میں نے کل رات دو بجے تک آپ کا انتظار کیا تھا”

ہیر آج صبح شیر عباس کو بیڈ روم میں پاکر اُس سے لڑنے کے موڈ میں تھی مگر ہیر کے انداز پر شیر عباس کو ہنسی آنے لگی

“یار تمہیں بتایا تو تھا ہوٹل میں اِن دنوں کافی رش ہے ٹورسٹ کے ساتھ گیسٹ بھی آئے ہوئے ہیں، کچھ چینجز، کچھ کام بھی کرواۓ ہیں ہوٹل میں اِس لیے روٹین بالکل آؤٹ ہوگیا تھا لیکن اب تمہیں اپ سٹ ہونے کی ضرورت نہیں ہے آج میں ہوٹل کے لیے کافی لیٹ نکلنے والا ہوں”

شیر عباس ہیر کو بتاتا ہوا اُسے بیڈ پر لٹا کر خود اُس پر جھک گیا

“میں آج آپ کو لیٹ بھی نکلنے نہیں دو گی میں سارا وقت اتنے بڑے محل میں اکیلی رہتی ہوں آج آپ سارا وقت میرے ساتھ گزاریں گے”

ہیر شیر عباس کا قریب سے چہرہ دیکھتی ہوئی اُس سے بولی

“ایک شرط پر پھر آج ہم دونوں سارا وقت ایک دوسرے کے اتنا ہی قریب رہ کر گزارے گے جتنا اِس وقت قریب ہیں”

شیر عباس کی آنکھوں میں شرارت کی بجاۓ سنجیدگی تھی شاید وہ اب اپنے اور اُس کے رشتے کو سنجیدگی سے گزارنے کے لیے خود کو آمادہ کرچکا تھا، جبکہ شیر عباس کی بات پر ہیر نے اُس کو آنکھیں دکھائی

“ایسا نہیں ہوتا عباس دن رات میں فرق ہوتا ہے اتنے قریب رہ کر آپ نے شرافت کا مظاہرہ تو بالکل بھی نہیں کرنا پیچھے ہٹیں مجھے باتھ لینا ہے اُس کے بعد روم سے باہر بھی نکلنا ہے”

ہیر شیر عباس کا ارادہ جان کر جھینپتی ہوئی بولی

“ایسا کرو تم جان لےلو اپنے شوہر کی”

شادی کو دو ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود وہ اِس طرح جھجھک رہی تھی شیر عباس ہیر کی بات سن کر ناراض ہوتا بولا تو ہیر نے فوراً شیر عباس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا

“اچھا مجھے تم یہ بتاؤ تمہیں پیار نہیں آتا اپنے شوہر پر”

شیر عباس ہیر کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سا ہٹاتا ہوا ہیر سے پوچھنے لگا تو ہیر شرارت میں انکار کرتی نفی میں سر ہلانے لگی جس پر شیر عباس نے ہیر کو آنکھیں دکھائی

“بہت ہی خشک سی اَن رومنیٹک بیوی ملی ہے مجھ کو۔۔۔ سنو ایک کام کی بات، مجھے تم پر بہت پیار آتا ہے اور میں اِس وقت تم سے بہت سارا پیار کرنے کے موڈ میں ہوں”

شیر عباس ہیر کو اپنا ارادہ بتاتا ہوا اس کی گردن پر جھکا محبت بھرا لمس اپنی گردن پر محسوس کرکے ہیر نے ایک دم شیر عباس کا نام پکارا تو شیر عباس نے اپنی انگلی ہیر کے ہونٹوں پر رکھ دی

“آج تم مجھے منع کرکے یا کچھ بھی بول کر بالکل بھی ڈسٹرب نہیں کرو گی”

شیر عباس نے جتنے سیریس انداز میں بولا ہیر بالکل خاموش ہوگئی

کیا سچ میں وہ اُس کی محبت کے لائق تھی، دو مرتبہ دھوکے میں اُس کے ساتھ کوئی دوسرا۔۔۔۔ کیا شیر عباس کو اُس بات سے فرق نہیں پڑتا تھا یا پھر یہ بات شیر عباس کے لیے معنی نہیں رکھتی تھی کہ پہلے اِس کی بیوی کے ساتھ کوئی دوسرا۔۔۔

“ہیر پلیز اِس طرح سوچوں میں مت چلی جایا کرو یہاں دیکھو میری طرف”

شیر عباس نے ہیر کو کھویا ہوا دیکھا تو وہ ہیر سے بولا ہیر اپنی سوچوں سے نکل کر شیر عباس کو دیکھنے لگی شیر عباس نے ہیر کا چہرا تھام لیا

“ہیر اِس وقت میں چاہتا ہوں تم کوئی دوسری بات مت سوچو صرف مجھے اپنے شوہر کو اپنے ذہن میں رکھو اور بس”

شیر عباس کی بات سن کر ہیر نے اقرار میں سر ہلایا وہ شیر عباس کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی شیر عباس خود کو بھی مسکرا کر اس کے ہونٹوں پر جھکا آج وہ ہیر کو مکمل طور پر اپنانے کا ارادہ کر بیٹھا تھا ہیر نے بھی وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوۓ اپنا آپ شیر عباس کے حوالے کردیا

آج صبح کا آغاز اُن کے ملاپ کے ساتھ جتنا حسین تھا کل رات میں انجام اتنا خوفناک نکلے گا یہ اُن دونوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں تھا

***””””***

امامہ تھوڑی دیر پہلے ہی آفس آئی تھی لیکن محلے کی برابر والی رابعہ آنٹی نے اُس کو موبائل پر جو خبر سنائی امامہ گھبرائی ہوئی شاویز کے آفس کے روم میں داخل ہوئی

“ریلیکس امامہ کیا ہوا آپ کو اِس قدر گھبرائی ہوئی کیوں ہیں”

تیزی سے شاویز کے روم میں آتی ہوئی وہ لڑکھڑا کر گرنے والی تھی اگر شاویز اُس کو تھام نہ لیتا تو برے طریقے سے امامہ کو چوٹ لگتی

“مم۔۔۔ مجھے چھٹی چاہیئے مجھے واپس اپنے گھر جانا ہے سر، گھر میں معلوم نہیں کیسے آگ لگ گئی”

اُمامہ اپنا رونا کنٹرول کرتی ہوئی شاویز کو بتانے لگی

“او گاڈ ایسا کیسے ہوگیا آپ کو کس نے بتایا یہ سب آپ کے گھر میں سب سیو ہیں”

شاویز خود بھی امامہ کے بات پر اُس کو پریشان دیکھ کر فکرمند سا امامہ سے پوچھنے لگا۔۔۔ امامہ روتی ہوئی خدا کا شکر ادا کرتی اثبات میں سر ہلانے لگی

“اتفاق سے ابو آج صبح ہی چھوٹی بہن کے پاس جانے کے لئے دوسرے شہر روانہ ہوئے تھے جس وقت یہ حادثہ ہوا امی کو محلے والوں نے گھر سے نکال لیا وہ اس وقت اسپتال میں موجود ہیں”

امامہ شاویز کو تمام صورت حال بتاتی ہوئی رونے لگی

“آچھا آپ اِس طرح پریشان مت ہو، آئیے میں آپ کو آپ کی مدر کے پاس لے جاتا ہوں”

اِس وقت شہناس کا سوچ کر امامہ اتنی گھبرائی ہوئی تھی شاویز کو انکار نہیں کرسکی

جس وقت وہ ہسپتال میں شہناس کے پاس پہنچی شہناس اور امامہ ایک دوسرے کو دیکھ گلے لگتی ہوئی رونے لگیں

“امامہ آپ تو کافی بریو ہیں اس طرح کیوں ری ایکٹ کررہی ہیں شکر ہے آپ کی مدر بالکل ٹھیک ہیں، آپ کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے”

شاویز ان دونوں کو روتا ہوا دیکھ کر بیچ میں مداخلت کرتا بولا

“سب کچھ برباد ہوگیا پورا گھر جل کر راکھ ہوگیا تمہارے ابو کو معلوم ہوگا، وہ تو ویسے ہی دل کے مریض بن گئے ہیں کیسے برداشت کر پائیں گے یہ بری خبر”

شہناس آگے کا سوچ کر رونے لگی گھر ان کا اپنا نہیں مگر نقصان تو بڑا ہی تھا اس گھر کا سارا سامان فرنیچر دوسرا سازو سامان جل کر برباد ہوگیا تھا

“ابو کو یا ہیر فی الحال کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے، ابھی وہ لوگ دور ہیں پریشان ہوگے۔۔۔ میں صائمہ سے بات کرتی ہوں وہ اپنے بھائی سے بول کر جلد کسی دوسرے رینٹ کے گھر کا ارینج کروا دی گی آپ پریشان مت ہو”

امامہ شہناس کے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی اور صائمہ کے موبائل پر کال ملانے لگی تو شاویز بولا

“امامہ پلیز آپ کو کسی چیز کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کسی دوسرے کو کچھ کہنے کی بجائے آپ اِس وقت اپنی مدر کو لےکر میرے ساتھ میرے گھر پر چلیں پھر بعد میں جو آپ کو مناسب لگے گا آپ ویسا کرلیے گا”

شاویز کی پیشکش پر امامہ خاموشی سے شہناس کو دیکھنے لگی جبکہ شہناس مشکور نگاہوں سے 35 سالہ خوشکل اُس مرد کو دیکھنے لگی جو اِس برے وقت اُن کے لیے فرشتہ بن کر آیا تھا

***””””***

“اُف ہاشم کیا ہوگیا آپ کو یہ شاپنگ مال ہے آپ نے مجھے کو یہ ڈریس ٹراۓ کرنے کو کہا تھا اور خود بھی یہاں آگئے کیا کررہے ہیں آپ پلیز جائیے یہاں سے”

آرزو ہاشم کے کہنے پر ایک ڈریس ٹراۓ کرنے ڈریسنگ روم میں آئی تھی چند سیکنڈ بعد ہاشم کو اُس چھوٹے سے باکس نما کمرے میں دیکھ کر پریشانی کے عالم میں آہستگی سے بولی

“مجھے پہلے ہی معلوم تھا اس ڈریس میں تم خوبصورت لگنے والے ہو اور سب کے سامنے تو یہ سب نہ کرنے والا نہیں”

ہاشم آرزو کو اپنے بازؤوں میں قید کرکے اُس کے ہونٹوں کو جھکا تو ڈر کے مارے آرذو نے اُس کو پیچھے دھکیلا

“توبہ ہے ہاشم کیا کررہے ہیں پلیز جائیے یہاں سے اِس سے پہلے کوئی آپ کی حرکت دیکھ لے اور یہاں ہماری کمپلین ہوجائے”

آرذو ہاشم کی بڑھتی ہوئی بےقراری کو دیکھ کر بولی ہفتے بھر سے ہاشم کی قربت میں ہاشم نے اُس کو یہی احساس دلایا تھا کہ وہ صرف چاہے جانے کے اور محبت کرنے کے قابل تھی آرذو ساری فکریں ساری پریشانیاں بھلاکر ہاشم کے ساتھ پر خوش تھی۔۔۔ اُن دونوں کو خوش دیکھ کر ایوب خان اور گلنار بھی خوش تھے یوں ہفتے بھر سے اُن لوگوں کی زندگی بےحد سکون سے گزر رہی تھی

“یہ ڈریس بالکل پرفیکٹ ہے جلدی سے باہر آجاؤ میں ویٹ کررہا ہوں”

ہاشم محبت بھری شرارت کرکے ڈریسنگ روم سے باہر نکل چکا تھا جبکہ آرزو سامنے بڑے آئینے میں خود کو دیکھ کر بلش کر گئی

“مطلب کیا ہے تمہارے کہنے کا آگ کیسے لگ گئی تم آنٹی اور انکل اِس وقت کہاں پر ہو۔۔۔ مجھے بتاؤ میں اور آرزو تھوڑی دیر میں پہنچتے ہیں تم لوگوں کے پاس”

اپنی سالی امامہ کی موبائل پر آنے والی کال سن کر ہاشم ان لوگوں کے لیے فکر کرتا امامہ سے پوچھنے لگا

“ابو تو ہیر سے ملنے کے لئے آج صبح ہی گلگت کے لئے روانہ ہوچکے تھے اُن کو طبیعت خرابی کی وجہ سے ابھی کچھ بھی نہیں بتایا ہم دونوں ٹھیک ہیں ویسے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے آپ کو جیسے مناسب لگے آپ ویسے آرذو کو بتادیئے گا، میں اور امی جہاں پر موجود ہے میں آپ کو وہاں کا ایڈریس سینڈ کردیتی ہوں”

امامہ اِس وقت شہناس کے ساتھ شاویز کے گھر پر موجود تھی شہناس کے کہنے پر ہی اس نے ساری صورتحال ہاشم کو بتائی تھی

“اوکے تم مجھے ایڈریس سینڈ کرو اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں بس تھوڑی دیر میں آرزو کو لے کر پہنچ رہا ہوں”

ہاشم بوتیک سے باہر کھڑا امامہ سے موبائل پر کہنے لگا

“کس سے بات کررہے ہیں، ابھی کچھ کھانے سے پہلے تو میں کہیں بھی جانے والی نہیں ہوں مجھے بہت سخت بھوک لگ رہی ہے”

آرزو کے بولنے پر ہاشم نے پلٹ کر اُس کو دیکھا

“اوکے چلو پہلے کچھ کھالیتے ہیں”

ہاشم اپنے تاثرات نارمل کرتا ہوا آرزو سے بولا ویسے بھی جو خبر اُس کے پاس آرزو کے لیے موجود تھی اُسے سن کر آرزو کی بھوگ مر جاتی اِس سے بہتر یہی تھا کہ آرذو پہلے کچھ کھالیتی

“ہاشم ایک بات تو بتائیے جب صبح دا جی مجھے دعائیں دیتے ہیں تو آپ میری طرف دیکھ کر مسکراتے کیوں ہیں”

فوڈ کورٹ میں بیٹھی ہوئی آرزو ہاشم سے سوال کرنے لگی جس پر ہاشم اِس وقت بھی مسکرا دیا

“تمہیں اُن دعاؤں کا پس منظر سمجھ نہیں آیا ابھی تک”

ہاشم مسکراتا ہوا آرذو سے پوچھنے لگا

“کیسا پس منظر”

آرذو کنفیوژ ہوکر ہاشم سے پوچھنے لگی

“میری عقلمند بیوی دا جی اور ماں جی دونوں ہی انتظار میں ہیں کہ کب تم اُن دونوں کو گڈ نیوز سنادو وہ والی”

ہاشم نے آرذو کو سمجھانے کے ساتھ دو بیٹھے کپل کی طرف اشارہ بھی کیا جس کی ٹیبل پر موجود کی کیری کارڈ میں نومولود بچہ موجود تھا، اشارہ اس لیے کیا تھا تاکہ آرذو گڈ نیوز کا مطلب اچھی طرح سمجھ جائے

“اُف سیریسلی ہاشم۔۔۔ دا جی اور ماں جی ایسا اتنی جلدی چاہتے ہیں”

آرزو نومولود بچے کو دیکھ کر بلش کرتی پوچھنے لگی

“صرف دا جی اور ماں جی ہی نہیں بلکہ تمہارا شوہر بھی ایسا ہی چاہتا ہے”

ہاشم آنکھوں میں محبت سماۓ آرزو کو دیکھ کر بولا تو آرزو پلکے جھکا گئی اُس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا

“اچھا شرمانہ بعد میں پہلے مینیو کارڈ دیکھو کیا لینا ہے پھر ہم دونوں کو ایک جگہ اور بھی جانا ہے”

ہاشم آرذو کے شرمانے پر اُس سے بولا

“آپ آرڈر کریں میں فریش ہوکر آتی ہوں تھوڑی دیر میں”

آرزو ہاشم سے بولتی ہوئی کرسی سے اٹھ کر واش روم والے پورشن میں جانے لگی

***””””***

خالی شاپس جو (Toilet) کے راستے میں آتی تھیں اچانک وہاں سے کوئی لڑکا نمودار ہوا جس نے آرذو کو بازو سے پکڑ کر تیزی سے شاپ کے اندر کھینچا۔۔۔ منہ بند ہوجانے کی وجہ سے آرذو چیخ بھی نہ پائی

“شور مت مچانا پلیز یہ میں ہوں تبریز”

تبریز آرذو کے ہونٹوں سے اپنا ہاتھ ہٹاتا ہوا بولا ساتھ ہی اس نے شاپ کی لائٹ کھول دی آرذو تبریز کو سامنے دیکھ کر پہلے تو ڈر گئی پھر ہمت کرتی ہوئی بولی

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ زلیل حرکت کرنے کی تمہیں میں نے فون پر بھی سمجھایا تھا کہ میرا پیچھا چھوڑ دو میں اب شادی شدہ ہو تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آتی”

آرذو تبریز کو دیکھ کر غصّہ کرتی ہوئی بولی

“ہاں نہیں سمجھ میں آتی تمہاری بات نہ ہی مجھے اِس بات کو سمجھنا ہے کہ اب تم میری نہیں کسی اور کی ہو چاہے تو ہزار مرتبہ تمہارا شوہر مجھے اریسٹ کروا دے، آرزو بات تمہیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ تم کسی دوسرے کی بیوی ہو محبت کرتا ہوں میں تم سے۔۔۔ دور جانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تمہارے بغیر جی نہیں سکتا”

تبریز نے بولتے ہوئے آرزو کو بازو سے تھامنا چاہا تو آرذو اُس کا ارادہ بھانپ کر تبریز کو دور دھکیل چکی تھی

“اپنی حد میں رہو تبریز اور میری بات کان کھول کے سن لو ہاشم سے شادی ہونے کے بعد میرا تم سے اب کوئی تعلق نہیں ہے میں ہاشم کی بیوی ہوں انہی سے محبت کرتی ہو تمہاری بھلائی اِسی میں ہے کہ میرا خیال اپنے دل سے نکال دو”

آرزو تبریز کو اچھی طرح باور کرواتی ہوئی بولی اور شاپ سے باہر جانے لگی۔۔۔ وہ اِس قدر ڈھیٹ تھا کہ پولیس کے ڈنڈے کھانے کے باوجود اُس کو عقل نہیں آئی تھی

“پیسے والے شوہر کو دیکھ کر بھلے تمہاری محبت مجھ سے ختم ہوگئی ہو لیکن لوٹ کر تمہیں میرے پاس آنا ہے، اور ایسا بہت جلد ہوگا”

تبریز اس کو جاتا ہوا دیکھ کر بولا آرذو بناء اُس کی بات کو سنجیدہ لیے شاپ سے باہر نکل گئی

***””***

“اَبُو آپ کو یقین کیوں نہیں آرہا ہے میں بہت خوش ہوں عباس بہت اچھے انسان ہیں میرا بہت خیال رکھتے ہیں”

شام میں صدیقی کا ہیر کے پاس پہنچنا ہوا تھا تب سے تیسری مرتبہ وہ ہیر کو دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگا

“تمہارے چہرے پر نہ ہی پہلے جیسی رونق ہے نہ ہی تمہاری صحت پہلی جیسی رہی ہے”

صدیقی ہیر کو دیکھ کر بولا جیسے وہ اُس کی بات پر مطمئن نہیں تھا رات کے کھانے کی ٹیبل پر صرف وہ دونوں ہی موجود تھے

“پچھلے دنوں تھوڑی بیمار ہوگئی تھی اِس لیے آپ کو ویک لگ رہی ہوگیں آپ کھانا تو سہی سے کھائیے”

اب وہ اپنے ابو کو کیا بتاتی کہ پچھلے دنوں اُس کے ساتھ یہاں پر کیا کیا ہوچکا ہے صدیقی کا دھیان اپنی جانب سے ہٹانے کے لیے ہیر خود ہی صدیقی کی پلیٹ میں چاول نکالنے لگی

“اتنے بڑے محل نما گھر میں تم اکیلی رہتی ہو یہاں کوئی نوکر چاکر نہیں ہے شیر عباس بھی نہیں دکھائی نہیں دے رہا”

صدیقی کھانا کھانے کے ساتھ ہیر سے پوچھنے لگا وہ شام میں یہاں پہنچا تھا تب سے اس نے اِس جگہ پر ہیر کے علاوہ کسی دوسرے کو نہیں دیکھا تھا جتنا بڑا یہ محل تھا اتنا ہی وحشت ذدہ معلوم ہوتا تھا

“ملازم تو سارے آپ کو اب صبح ہی یہاں پر نظر آئیں گے، شام تک سب کام ختم کرکے یہاں سے چلے جاتے ہیں ہاں فرغب بی یہی پر موجود ہوتی ہیں لیکن آج وہ نظر نہیں آرہی ہیں، نہ جانے کہاں چلی گئی ہیں اور عباس اِن دنوں کافی مصروف ہیں اُن کا ہوٹل سے لیٹ ہی واپس آنا ہوتا ہے”

ہیر خود بھی کھانا کھاتی ہوئی صدیقی کو بتانے لگی اُس نے آج صبح ہی شیر عباس کو بتایا تھا کہ اُس کے ابو شام تک یہاں پہنچنے والے ہیں اور یہ بھی کہ وہ آج جلدی ہوٹل سے آجائے، جتنی بےدلی سے شیر عباس نے اُس کی بات سنی تھی ہیر کو یہی امید تھی شیر عباس کا روز کی طرح آج بھی لیٹ آنے کا ہی پروگرام ہوگا ہاں فرغب بی کہاں تھی وہ اسے کیوں نہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی ہیر اِس بات سے لاعلم تھی جب سے وہ یہاں آئی تھی اُس نے فرغب بی کو ہمیشہ ہی اِس پیلس میں موجود پایا تھا

“لگتا ہے شہناس کی کال آرہی ہے میں تمہاری امی کو بتادو کہ خیریت سے پہنچ گیا ہوں تم لوگوں کے پاس”

صدیقی اپنا کھانا ختم کرکے اپنے جیب سے بجتا ہوا موبائل نکالنے کے ساتھ بولا

“ابو یہاں سگنلز تھوڑا مسلہ کرتے ہیں آپ باہر لان میں جاکر اَمّی سے بات کرلیں”

ہیر صدیقی سے بولی تو وہ موبائل باہر لے گیا ہیر ٹیبل پر سے برتن سمیٹنے لگی فرحانہ صبح ہی آکر اِن برتنوں کو دھولیتی

***”””‘***

شہناس اور امامہ سے بات کرکے وہ ہیر کے بتائے ہوئے کمرے میں آرام کرنے کے غرض سے آگیا ہیر سے باتیں کرتے کرتے سفر کی تھکان کی وجہ سے کب صدیقی کی آنکھ لگی صدیقی کو معلوم نہ ہوا۔۔۔ نہ جانے اِس وقت کتنے بجے تھے جب اُس کی آنکھ کسی کے رونے کی آواز پر کُھلی

“ہیر”

پہلا خیال صدیقی کو ہیر کا ہی آیا وہ بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکلا۔۔۔ رونے کی آواز اور بھی واضح ہونے لگی لیکن یہ آواز ہیر کے کمرے سے نہیں مختلف سمت سے آرہی تھی

اتنی سنسان جگہ وحشت پھیلا دینے والا ماحول صدیقی کو گھبراہٹ سی ہونے لگی لیکن تجسس ایسی شے ہے جو انسان کو وہ کرنے پر مجبور کردیتا ہے جس میں رسک شامل ہو۔۔۔ تجسس کے ہاتھوں صدیقی اُس آواز کا پیچھا کرتا ہوا راہداری میں موجود اُسی کمرے میں چلا گیا

“کون ہے بھائی یہاں پر”

وہ خالی کمرے کو دیکھ کر بلند آواز میں بولا باریک قہقہے کی آواز صدیقی کے کانوں سے ٹکرائی تو صدیقی سرخ بتی میں سامنے دیوار پر موجود آئینے کو دیکھتا ہوا اُس کے پاس آکر کھڑا ہوگیا

“کیا اِس وقت یہاں پر کوئی ہے”

صدیقی اپنا عکس آئینے میں دیکھ کر ایک مرتبہ پھر بولا اور آئینے کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا

“یہ کیا ماجرہ ہے مجھے واپس جانا چاہیے یا پھر اِن سیڑھیوں سے نیچے اتر کر دیکھنا چاہیے”

خفیہ راستہ دیکھ کر صدیقی عجیب کشمکش میں مبتلا ہوچکا تھا اگر اُس کا داماد اُس کو ایسے اپنے گھر میں بےتکلف گھومتا پھرتا دیکھتا تو یقیناً اُس کے بارے میں عجیب ہی سوچنا

لیکن اس طرح اُس کے داماد کی رہائش گاہ پر خفیہ جگہ کا ہونا اور یوں آوازوں کا آنا۔۔۔ شیر عباس کے کردار کو بھی کافی مشکوک کرچکا تھا صدیقی خدا کا نام لے کر سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا نیچے بڑا سا بیسمینٹ کسی کمرے کی طرح سے سجا ہوا تھا صدیقی چاروں طرف نظریں دوڑاتا ہوا بیڈ کے پاس آیا۔۔۔ اس سے پہلے صدیقی بلند آواز میں کسی کو مخاطب کرتا ہے اچانک بیڈ کے نیچے سے دو ہاتھ برآمد ہوئے اور صدیقی کی ٹانگوں کو پکڑ کر اُسے اپنی جانب کھینچنے لگے

دہشت ناک چیخ صدیقی کے حلق سے نکلی۔ چھپکلی اور انسان جیسی عجیب سی مخلوق جس کے منہ سے مسلسل رال ٹپک رہی تھی وہ صدیقی کے پکڑے ہوۓ پاؤں چھوڑ کر بیڈ کے نیچے سے نکل رہی تھی۔۔۔ صدیقی خوف کے مارے پھٹی آنکھوں سے اُس مخلوق کو دیکھ کر ڈر کے مارے سیڑھیوں کی جانب بھاگا

اپنی پشت سے آتی باریک چیخ کی آوازیں صدیقی کو مزید دہشت میں مبتلا کر گئی وہ سڑھیوں سے اوپر پہنچ کر خوف سے اتنا حواس باختہ ہوچکا تھا کہ اپنے کمرے میں جانے کی بجائے بھاگتا ہوا ہیر پیلس کے احاطے سے باہر نکل گیا جہاں اُس کی ٹکر انسانی وجود سے ہوئی وہ کوئی اور نہیں بلکہ اُس کا داماد شیر عباس تھا

“وہ وہاں نیچے تہہ خانے میں کوئی بہت بھیانک سی چیز ہے مار دے گی وہ مجھے مار ڈالے گی”

صدیقی ڈر کے مارے خوف سے شیر عباس کے سامنے بولتا ہوا رکا نہیں بھاگتا ہوا جنگل کی سمت نکل گیا

“سر میں جاتا ہوں کہ اُس آدمی کے پیچھے وہ جنگل کی طرف گیا ہے اندھیرے میں وہاں جانا اُس کے لیے خطرہ ناک ہے”

ایبک جو کہ شیر عباس کے ساتھ ابھی ہوٹل سے واپس لوٹا تھا شیر عباس کو مخاطب کرتا ہوا اُس سے بولا

“نہیں اُس کو میں دیکھ لیتا ہوں تم بیسمینٹ میں جا کر دیکھو کچھ گڑ بڑ تو نہیں، تمام معاملات سیٹ ہیں”

شیر عباس ایبک سے بولتا ہوا صدیقی کے پیچھے غذر کے جنگل میں نکل گیا صدیقی جو کہ خوف میں مبتلا ڈر کے مارے اندھیرے میں سنسان جنگل میں بھاگے جارہا تھا وہ اونچائی پر چڑھنے لگا

پتھریلی چٹان سے جیسے ہی اُس کا پاؤں پھسلا، دلخراش چیخ صدیقی کے منہ سے گونج کر غذر کے جنگل میں پھیل گئی اُس نے درخت کے ایک موٹے سے تنے کو پکڑ کر نیچے گہری کھائی میں خود کو گرنے سے بچالیا

“شیر عباس۔۔۔ یہ تم ہو ناں شیر عباس۔۔۔۔ بیٹا مجھے اوپر کھینچو مجھے بچالو”

اندھیرے میں صدیقی کو یہی گمان گزرا کہ اُس بڑی چٹان کے اوپر والے حصّے پر کھڑا اُس کا داماد شیر عباس ہی تھا صدیقی اپنے لیے شیر عباس سے مدد مانگنے لگا

“اگر آج تمہیں بچالیا تو خود کو زندگی بھر معاف نہیں کر پاؤں گا”

شیر عباس چٹان سے بھی زیادہ سخت اور پتھریلے لہجے میں صدیقی کو دیکھتا ہوا بولا جو تنے کو پکڑا ہوا اُس کے رحم و کرم پر ابھی تک بچا ہوا تھا صدیقی کا ہاتھ جیسے ہی اُس درخت کے تنے کو چھوڑتا وہ سیدھا نیچے گہری کھائی میں جاتا

“یہ تم کیا کہہ رہے ہو بیٹا، میں ہیر کا باپ ہوں۔۔۔ میرا تم سے قریبی رشتہ ہے” صدیقی موت کو اتنا قریب دیکھ کر شیر عباس کو اُس سے اپنا رشتہ یاد دلانے لگا

“یہ رشتہ تو ہمارے درمیان ابھی قائم ہوا ہے تمہارا مجھ سے ایک اور قریبی رشتہ جڑا تھا یہی کوئی بیس سال پہلے یاد کرو”

شیر عباس چٹان پر پنجو تلے بیٹھتا ہوا تھوڑا سا جھک کر صدیقی سے بولا

“بیس سال پہلے۔۔۔ آبی، تم۔۔ تم ابی ہو۔۔ ہیر کے۔۔۔۔

صدیقی پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، وہی درخت کا تنا صدیقی کے وزن سے ہلنے لگا

“آبی مجھے بچالو خدا کا واسطہ ہے تمہیں، میں بہت شرمندہ ہوں میں ہیر کا مجرم ہوں مجھے معاف آہہہہہہہ”

صدیقی شیر عباس سے بولتا ہوا درخت کا تنا ٹوٹنے کی وجہ سے کھائی میں گرتا چلا گیا۔۔۔ شیر عباس اپنے دل میں رحم دلی یا ہمدردی کی بجائے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ لئے اُس انسان کا انجام دیکھنے لگا جس سے بدلہ لینا اُس کی زندگی کا اولین مقصد تھا جو آج تمام ہوا

“یا میرے اللہ ہیر پیلس کا وہ آسیب کوئی اور دوسرا نہیں بلکہ خود شیر عباس صاحب ہیں جو انسانوں کی جان لیتے ہیں۔۔۔ توبہ توبہ”

جو منظر اُس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ اُس نے دور سے ہی اپنے پاس موجود کیمرے میں محفوظ کرلیا تھا۔۔۔ رات کے وقت اِس جنگل میں رکنا اُس کے لیے بھی خطرے سے خالی نہ تھا وہ وجود سوچتا ہوا تیزی سے قدم اٹھائے جنگل سے باہر نکل کر آبادی کی طرف جانے لگا

***”””***

جانے پہچانے لمس پر ہیر کا سویا ہوا ذہن آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگا۔۔۔ انگلیوں کا لمس جو تھوڑی دیر پہلے اُس کے چہرے کے نقوش کو چھورہا تھا اب وہی لمس اُس کی پنڈلیوں کو چھوتا ہوا تھائیس سے اوپر آنے لگا تو ہیر نیند سے لبریز آنکھوں کو کھول کر اپنے قدموں کے پاس بیٹھے شیر عباس کو دیکھ کر ایک دم ڈر گئی

“اُف عباس آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا اِس وقت”

ہیر بیڈ سے اٹھ کر شیر عباس کو غور سے دیکھتی ہوئی بولی ایک پل کے لئے اسے ہیر پیلس میں گزری تھی اپنی پہلی رات یاد آگئی

“آج مقصد ڈرانا نہیں تھا، یوں کنفیوژ ہوکر مت دیکھو مجھے۔۔۔ میں تمہارا شوہر ہوں کوئی جن یا آسیب نہیں”

شیر عباس نے ہیر سے کہتے ہوۓ اسے اپنی جانب کھینچ کر بانہوں میں بھر لیا۔۔۔ ہیر اپنے شانے پر شیر عباس کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے اس کا چہرہ دیکھنے لگی جہاں ہیر کو آج ایک الگ ہی قسم کا اطمینان دکھائی دے رہا تھا

“آج کافی ریلکس لگ رہے ہیں جیسے کوئی بہت بڑا کام سر انجام دیا ہے”

ہیر شیر عباس کا چہرہ غور سے دیکھ کر اُس سے پوچھنے لگی ہیر کی بات پر شیر عباس گہری مسکراہٹ کے ساتھ ہیر کو دیکھتا ہوا بیڈ پر دراز ہوگیا

“آہستہ آہستہ چہرہ پڑھنے کا فن آرہا ہے تمہیں میری جان، آج سچ میں بہت بڑا کام سر انجام دیا ہے بالکل صحیح پہچانا۔۔۔ آج میرا دل اندر سے پُرسکون ہوچکا ہے ایک الگ ہی قسم کا اطمینان محسوس کررہا ہوں میں۔ بہت خوش ہے آج تمہارا شوہر”

شیر عباس بیڈ پر لیٹا ہوا ہیر کو دیکھ کر بولا اور پھر ہاتھ کے اشارے سے ہیر کو اپنے پاس بلانے لگا ہیر شیر عباس کے بلانے پر اس کے پاس آتی اپنا سر شیر عباس کے سینے پر رکھ کر لیٹ گئی

“آخر ایسا کونسا کام ہے جس کو انجام دینے کے بعد آپ اتنے پرسکون ہیں کیا اپنی خوشی مجھ سے شیئر نہیں کریں گے”

ہیر شیر عباس کے سینے پر سر رکھے اُس سے پوچھنے لگی تو شیر عباس نے ہیر کے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اُس کا چہرہ اپنے سامنے کیا

“نہیں کرسکتا میری جان کیوکہ میں تمہیں ڈرانا نہیں چاہتا نہ ہی تمہیں خود سے دور کرنا چاہتا ہوں”

شیر عباس ہیر کا چہرہ دیکھ کر سنجیدہ لہجے میں بولا تو ہیر عجیب نظروں سے شیر عباس کو دیکھنے لگی

“کبھی کبھی بہت عجیب سی باتیں کرتے ہیں آپ جو مجھے بالکل بھی سمجھ نہیں آتی”

ہیر شیر عباس کو دیکھ کر الجھتی ہوئی بولی تو شیر عباس ہیر کو کمر سے پکڑ کر بیڈ پر لٹاتا ہوا ہیر کے اوپر جھکا

“اس وقت کوئی دوسری بات سمجھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے بس اتنا جان لو کہ میں تمہیں پیار کرنا چاہتا ہوں، مجھے جشن منانے دو اپنی خوشی کا اُس ٹھنڈک کو تم بھی محسوس کرو جو میں اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس کررہا ہوں”

شیر عباس خمار بھری آواز میں بولتا ہوا ہیر کی گردن پر جھکا تو ہیر شیر عباس کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرکے تھوڑا کسمسائی

“کم سے کم آج تو آپ کو ہوٹل سے جلدی آنا چاہیے تھا ابُو آپ کا انتظار کرتے کرتے سوگئے، اب صبح پلیز اُن سے مل کر ہوٹل جائے گا میری خاطر، عباس آپ سن رہے ہیں ناں میری بات”

ہیر شیر عباس کو دونوں شانوں سے تھام کر پیچھے کرتی ہوئی پوچھنے لگی

“اف کورس میری جان میں تمہارے ابو سے ضرور ملنا پسند کرو گا، اگر تم چاہ رہی ہو تو ابھی مل لیتا ہوں اُن سے جاکر”

شیر عباس ہیر کی بات پر بولتا ہوا اٹھنے لگا تبھی ہیر نے شیر عباس کو بازو سے پکڑلیا

“ابھی وہ سکون کی نیند سوچکے ہیں ڈسٹرب ہو جائیں گے”

ہیر صدیقی کی فکر کرتی ہوئی بولی تو پُر اسرار سی مسکراہٹ شیر عباس کے لبوں کو چھو گئی

“بالکل ٹھیک کہا تم نے انسان کو گہری پرسکون نیند سے جگانا کوئی اچھی بات نہیں جیسے شوہر کا رومانٹک موڈ برباد کرنا کوئی اچھی بات نہیں”

شیر عباس ہیر کو جتاتا ہوا بولا تو ہیر کو خاموش ہونا پڑا تھوڑی دیر بعد وہ ہیر کو اپنی جانب مکمل طور پر مائل کرکے خود بھی اُس کی ذات میں کھو چکا تھا

***”””***

“اَمّی آپ نے مجھے آفس کے لیے جگایا کیوں نہیں، کتنی دیر ہوچکی ہے”

امامہ کی نیند سے آنکھ تو وہ شہناس سے پوچھنے لگی جو پہلے سے ہی جاگی ہوئی تھی

“شاویز منع کرکے گیا تھا بول رہا تھا کہ تمہیں کہہ دو، دو چار دن آفس آنے کی ضرورت نہیں”

شہناس امامہ کو بیدار دیکھ کر بتانے لگی تو امامہ شاویز کے نام پر پورے کمرے کا جائزہ لینے لگی یہ شاویز کا ہی تو گھر تھا جہاں پر وہ اور شہناس کل سے قیام پذیر تھے

“شاویز سر کا یہی احسان بہت ہے کہ انہوں نے اپنے گھر میں ہمیں جگہ دی، آفس سے بھی آف کرلینا ٹھیک نہیں ہے میں آفس جارہی ہوں”

امامہ شہناس کو دیکھ کر اپنا ارادہ بتاتی ہوئی بیڈ سے اٹھنے لگی تو اُسے شہناس نے روکا

“اگر اس نے منع کیا ہے تو کچھ سوچ کر ہی تمہیں آفس نہ جانے کا بولا ہوگا کیوں اُس کی بات کی نفی کررہی ہو کہیں وہ برا ہی نہ مان جائے”

شہناس کے روکنے پر امامہ اُسے دیکھنے لگی

“شاویز سر کے گھر پر رہ کر اُن کا احسان لینے سے بہتر ہے کل ہم ہاشم بھائی کے ساتھ اُن کے کہنے پر اُن کے گھر چلتے، کتنا اصرار کررہے تھے وہ بار بار آپ کو کہ آپ اُن کے ساتھ چلیں لیکن معلوم نہیں کیوں آپ کو یہاں رکنے میں زیادہ دلچسپی ہے”

امامہ کو یہاں رکنے میں ذرا برابر بھی دلچسپی نہیں تھی اس لیے وہ شہناس سے بولی۔۔۔ رات میں ہاشم اور آرزو کا یہاں آنا ہوا تھا ہاشم نے شہناس سے بہت زیادہ اصرار کیا کہ وہ اور امامہ اُس کے ساتھ اُس کے گھر چلے مگر شہناس نے ہاشم کو سہولت سے انکار کردیا

“مجھے تمہارے باس کے گھر رکنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن سچ پوچھو تو یہ لڑکا مجھے پہلی نظر میں ہی بہت اخلاق والا لگا کیسے ہم دونوں کو پریشان دیکھ کر فوراً اپنے گھر لے آیا ویسے تو ہاشم نے بھی اخلاقی تقاضہ نبھاتے ہوئے ہمیں اپنے ساتھ چلنے پر کافی اصرار کیا مگر وہ آرذو کا سسرال ہے اور ہاشم کی پہلی بیوی۔۔۔ اللہ معاف کرے اُس کی زبان سے تو”

شہناس ماہ نور کا تصور کرکے کانوں کو ہاتھ لگاتی ہوئی بولی شہناس کی بات پر امامہ خاموش ہوگئی تو شہناس دوبارہ بولی

“بس تمہارے اَبُو کے واپس آنے کا انتظار ہے وہ آکر خود ہی کہیں ہمارے رہنے کا انتظام کرلیں گے”

شہناس کی بات سن کر امامہ اب کی بار حیرت سے شہناس کو دیکھتی ہوئی بولی

“آپ کا مطلب ہے ہم تین چار دن تک یہی پر رہیں گے، امّی کیا ہوگیا آپ کو۔۔۔ ہاشم بھائی داماد سہی مگر وہ اپنے ہیں اور شاویز سر سے تو ہمارا کوئی رشتہ بھی نہیں ایسے کیسے ہم دونوں یہاں رک سکتے ہیں”

اُمامہ شہناس کو سمجھاتی ہوئی بولی۔۔۔ وہ جانتی تھی شہناس آرزو کے سُسرال میں اِس لیے بھی نہیں جانا چاہتی تھی کیونکہ شادی کے شروع دنوں میں ہاشم کا رویہ اُن لوگوں سے بےحد کھنچا کھنچا سا تھا مگر یہاں شاویز کے گھر رہ کر اُمامہ کو عجیب لگ رہا تھا

“آج صبح ہی آفس جانے سے پہلے شاویز مجھے بول کر گیا ہے کہ میں اُسے اپنا بیٹا سمجھو اور جب تک گھر کا کوئی معقول انتظام نہیں ہوجاتا۔۔۔ بناء کسی ٹنشن کے یہی رہو ویسے یہ شاویز کی بیوی کہاں پر ہے”

شہناس شاویز کی بات بتاکر امامہ سے اُس کی بیوی کے بارے میں پوچھنے لگی کیوکہ اُس نے کل شاویز کی تین سالہ بیٹی وانیہ تو دیکھی تھی مگر اُس کی بیوی نہیں دکھائی دی تھی

“ڈیتھ ہوچکی ہے اُن کی وائف کی وانیہ کی پیدائش پر۔۔۔ میں ذرا فریش ہوکر ابو کو کال کرتی ہو تاکہ وہ اپنے آنے کا پروگرام تو بتائے”

امامہ شہناس سے بولتی ہوئی بستر سے اٹھی صدیقی کے بعد اُس کا ارادہ صائمہ سے بات کرنے کا تھا تاکہ صائمہ اُسے بتاسکے کہ گھر کا کوئی انتظام ہوا کہ نہیں

***””””***

صبح سویرے آرذو کی آنکھ کھلی تو وہ روز کی طرح خود کو ہشاش بشاش محسوس نہیں کررہی تھی بلکہ کل والے حادثے سے شہناس اور امامہ کی طرح اُس کا ذہن بھی کافی پریشان تھا پھر اُس کی سوچ تبریز کی طرف چلی گئی تو آرزو مزید پریشان ہوگئی تبریز کی کل والی حرکت غصّہ کرنے لائق تھی اِس کے باوجود اُس نے تبریز کی حرکت ہاشم کو نہیں بتائی تھی کیونکہ ہاشم کل اسے شہناس اور امامہ کے پاس لے گیا تھا ان دونوں سے ساری صورت الحال جان کر وہ اپنی ٹینشن بھول گئی

اس وقت بیڈ پر لیٹی ہوئی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی تبھی برابر میں سویا ہوا ہاشم نیند سے بیدار ہوا۔ آرذو کو یوں گم سم لیٹا ہوا دیکھ کر ہاشم اُس کے قریب آکر اپنی کہنی آرزو کے تکیے پر ٹکائے ذرا سا اٹھ کر آرزو کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“یوں صبح سویرے گم سم کیا سوچا جارہا ہے”

ہاشم کو اپنے قریب دیکھ کر آرزو اپنی سوچوں سے باہر نکلی

“امی اور آپی کے لیے پریشان ہوں معلوم نہیں وہ کسی دوسرے کے گھر میں کس طرح ایڈجسٹ کررہی ہوگیں”

تبریز کی سوچ رفع دفعہ کرتی آرذو ہاشم سے بولی

“کتنا زیادہ تو بولا تھا کل آنٹی کو وہاں رہنے سے بہتر ہے یہاں آجائیں ہمارے پاس۔۔۔ معلوم نہیں کیا سوچ کر وہ نہیں مانی، خیر تم پریشان مت ہو میں اپنے دوست سے بولتا ہوں کہیں رینٹ پر دیکھ کر بتادے کوئی گھر”

ہاشم آرذو کو فکرمند دیکھ کر اُس کا گال تھپتھپاتا ہوا بولا لیکن رینٹ کا گھر اُن لوگوں کے لئے ڈھونڈنے میں اُسے کوئی خاص دلچسپی اِس لیے نہیں تھی کیوکہ وہ کل اپنی ساس کو کئی مرتبہ اپنے ساتھ چلنے کا کہہ چکا تھا مگر وہ کسی طرح راضی نہیں تھی۔۔۔ جب وہ اُس کے ساتھ چلنے پر راضی نہیں تھی تو اُس کے ڈھونڈے ہوئے گھر میں کیوں رہتی صدیقی صاحب یہاں پہنچ کر خود اپنا مسئلہ حل کرلیتے تو یہی بہتر تھا

“اے اٹھ کر کہاں جارہی ہو”

آرزو کو بیڈ سے اٹھتا ہوا دیکھ کر ہاشم اُس کا ہاتھ پکڑتا ہوا تو اُس سے پوچھنے لگا

“آفس جانے کے لیے تیار نہیں ہونا آپ کو”

آرذو ہاشم کو دیکھتی ہوئی حیرت سے پوچھنے لگی جس پر ہاشم نے ایسی نظروں سے آرزو کو دیکھ کر نفی میں سر ہلایا، جس پر آرزو ہاشم کو گھور کر دیکھتی ہوئی بولی

“تو پھر آپ ایسا کریں آج سارا دن اپنے کمرے میں یونہی لیٹے لیٹے آرام فرمائیں کیونکہ میں تو کمرے سے باہر جارہی ہوں”

آرذو اُس کا بدلتا ہوا موڈ دیکھ کر شرارتاً بولتی ہوئی دوبارہ بیڈ سے اٹھنے لگی۔۔۔ ہاشم اس کو دوبارہ بیڈ پر لٹاکر اب کی بار اُس کے چہرے پر جھکا

“اگر تم ہی کمرے سے باہر چلی گئی تو پھر میرے اکیلے کمرے میں رہنے کا کیا فائدہ”

وہ آرزو کے قریب اپنا چہرا لاکر رومانٹک موڈ میں کہنے لگا

“اچھا اور کمرے میں آپ کے پاس رہنے سے میرا کیا فائدہ”

آرذو اپنی مسکراہٹ چھپاکر انجان بنی ہاشم سے پوچھنے لگی

“وہ فائدہ ابھی نہیں نو ماہ بعد پتہ چلے گا”

ہاشم سنجیدگی سے بولتا ہوا آرزو کے چہرے پر جھکا ویسے ہی کمرے کا دروازہ کھلا

“یہ کیا بدتمیزی ہے ایسے کمرے میں کون آتا ہے”

ہاشم ناگواری سے بولتا ہوا بیڈ سے اٹھا مگر کمرے کے اندر آنے والی ہستی کو دیکھ کر ہاشم اور آرذو دونوں ہی خاموش ہوگئے۔۔۔ ماہ نور کو دیکھ کر صحیح معنوں میں آرذو کی ہوائیاں اُڑنے لگی اور ماہ نور بھی ہاشم کے ساتھ آرزو کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے شاکڈ ہوئی تھی

“اوہو تو یہاں فل موڈ آن ہے تمہارا۔۔۔ میں تمہیں سرپرائز کرنے اچانک یہاں چلی آئی تھی لیکن اِس لڑکی کو تمہاری بیوی کی صورت دیکھ کر تو میں خود سرپرائز ہوگئی۔۔۔ اب بھی انکار کرو گے کہ تمہارا اِس سے پہلے سے کوئی افیئر نہیں تھا”

ماہ نور ہاشم کے سامنے آتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی وہ آج صبح ہی دبئی سے واپس آئی تھی ہاشم کی دوسری بیوی کو دیکھنے وہ یہاں پہنچی مگر وہی فلیٹ والی لڑکی کو دیکھ کر ماہ نور کو بری طرح مرچیں لگی تھی

“تم ایسا کیوں سمجھتی ہو کہ میں تمہیں کوئی وضاحت دو گا تمہیں جو سمجھنا ہے تم سمجھو اور جو کرنا ہے وہ کرو”

ہاشم ماہ نور کو دیکھتا ہوا اس سے بولا اگر وہ سارے اتفاقات ماہ نور کو سمجھانے بیٹھتا تب بھی ماہ نور وہی سوچتی اور سمجھتی جو اُس کے ذہن میں پہلے سے چل رہا تھا تو پھر ہاشم کو کیا ضرورت تھی اپنی انرجی ویسٹ کرنے کی

“سمجھ تو میں تمہیں اور تمہاری اِس تھرڈ کلاس بیوی کو اچھی طرح گئی ہوں اور اب میں جو کرو گی اُس کا تم دونوں ویٹ کرو”

ماہ نور ہاشم کو دھمکی بھرے انداز میں جبکہ اُس کے ساتھ کھڑی آرزو کو زہر بھری نگاہوں سے گھور کر وہاں سے چلی گئی

“ہاشم اب کیا ہوگا”

ماہ نور کے کمرے سے جانے کے بعد آرزو پریشان ہوکر ہاشم سے پوچھنے لگی

“ٹینشن نہیں لو وہ کچھ نہیں کرسکتی”

ہاشم آرزو کو ریلکس کرتا ہوا واشروم چلا گیا جبکہ آرذو ماہ نور کا سوچ کر اور بھی زیادہ پریشان ہوگئی صرف تبریز ہی تو اُس کی زندگی میں مصیبت نہیں تھا یہ لڑکی ہاشم کی پہلی بیوی بھی تو کسی مصیبت سے کم نہ تھی

***””””***

“ہیر نہیں۔۔۔ پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔۔۔ میں کیسے رہ پاؤں گا تمہارے بغیر”

روتی چیختی اُس کی فریاد پر آج غذر کا جنگل بھی اُس کے ساتھ رو رہا تھا ہیر کی ڈیڈ باڈی کو جب ہیر پیلس میں لایا گیا تب وہ سفید کفن میں ہیر کی ڈیڈ باڈی کو دیکھ نہیں پایا تھا، وہ بھاگتا ہوا جنگل کی طرف نکل گیا تھا تب فرغب بی نے ملازم کو بھیج کر شیر عباس کو واپس ہیر پیلس بلوایا۔۔۔ احمد عالم خود جوان بیٹی کی موت پر غم سے نڈھال بیٹھے تھے باریک روتی ہوئی نومولود آواز بھی اُن باپ بیٹے اور فرغب بی کے رونے کی آواز سے دب چکی تھی سب اُس ننھی سی ذات کو فراموش کیے بیٹھے تھے جیسے دو دن پہلے ہیر اِس دنیا میں لائی تھی

“صاحب جی بارش تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے اور قبرستان کے راستے پر جانا اِس وقت مسئلہ پیدا کرسکتا ہے پھر آپ حکم دیں کہ کیا کیا جائے”

احمد عالم غم سے چور اپنے ملازم کو دیکھنے لگے جو اُن سے سوال کرکے جواب کے انتظار میں کھڑا تھا

“پچھلے حصّے پر کھدائی کا کام شروع کروا دو”

خراب موسم کے باعث زمین اتنی سخت اور پتھریلی ہوجاتی کہ کھدائی کرنا مشکل ہوجاتا۔۔۔ احمد عالم اپنے ملازم سے بولتے ہوۓ شکستہ قدم اٹھاکر بڑے سے فانوس کے نیچے بیٹھ گئے جہاں ہیر کی ڈیڈ باڈی کو لاکر رکھا گیا تھا

آخر کیوں انہوں نے اپنی اولاد سے غفلت برت کیوں اُس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کروایا وہ کیا کیا اذیتیں برداشت کرتی اور تکلیفیں اُٹھاۓ اِس دنیا سے رخصت ہوچکی تھی کاش وہ پہلے ہی جان پاتے کہ اُن کی نازوں میں پلی بیٹی کس قدر ظلم برداشت کرچکی ہے آخر کیوں انہوں نے اُس کی غلطی پر اُس سے ناتا توڑ لیا تھا

“سر کراچی سے ڈی ایس پی شیراز بھٹی کا فون آیا ہے وہ آپ سے ضروری بات کرنا چاہتے ہیں کیس کے سلسلے میں”

ملازم ایک مرتبہ پھر احمد عالم کے پاس آتا ہوا اُن سے بولا

“ان سے بول دو کہ احمد عالم اپنا کیس واپس لے چکے ہیں”

احمد عالم سفید کفن میں لیٹی ہوئی ہیر کا چہرہ دیکھ کر بولے تو فرغب بی صدمے کی کیفیت میں احمد عالم کا فیصلہ سن کر انہیں دیکھنے لگیں

“یہ جو ہمیشہ کے لئے ابدی نیند سوچکی ہے میں نے اُس کو ماں کی طرح اپنے ہاتھوں میں پال کر بڑا کیا ہے۔۔۔ اِس کے قاتل کو آپ سزا دلوائے بغیر معاف کردیں گے میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گی”

فرغب بی رو کر جذباتی انداز میں احتجاج کرتی احمد عالم کے سامنے بولیں

“دنیا کی کوئی عدالت اُس شخص کو ایسی سزا نہیں دی گی جو سزا میں اُس کے لئے منتخب کرو گا جیسے میری بیٹی پل پل اذیتیں سہہ کر تکلیفیں برداشت کرتی ہوئی اِس دنیا سے جاچکی ہے بالکل اسی طرح اُس شخص کو بھی اِن اذیتوں کا ذائقہ چکنا پڑے گا، وہی سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا اسی کرب سے گزرنا پڑے گا اور اسی غم سے دوچار ہونا پڑے گا جس سے میں دوچار ہورہا ہوں قانون کی سزا سے بڑھ کر وہ شخص سزا کا مستحق ہے جس نے میری ہستی کھیلتی بیٹی مجھ سے چھین لی”

احمد عالم فرغب بی سے بولتے ہوئے اشک بہاتے ہوئے شیر عباس کے آنسو دیکھ کر اُس سے بولے

“جتنا رونا ہے آج رولو، آج کے بعد میں کبھی بھی تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھوں گا میں تمہیں مضبوط مرد دیکھنا چاہتا ہوں اپنے سینے میں موجود دھڑکتے ہوۓ اِس پرزے کو اتنا سخت بنالو کہ کوئی اس دل کی نرمی کا فائدہ نہ اٹھا پاۓ”

احمد عالم شیر عباس سے بول رہے تھے باریک روتی آواز زور پکڑتی جارہی تھی فرغب بی اُس آواز کے پیچھے کمرے میں جانے لگیں تو شیر عباس بھی ان کے پیچھے چلا آیا فرغب بی نے جھولے میں موجود سفید چادر میں کسی گٹری نما چیز کو گود میں اٹھالیا

“فرغب بی یہ۔۔۔۔

کم سن کم عمر شیر عباس فرغب بی کے پاس آیا اور حیرت زدہ ہوکر اُس عجیب و غریب مخلوق کو دیکھنے لگا جو چمکتی ہوئی ہری آنکھوں سے اُسی کو دیکھ کر اپنے منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکال رہی تھی

***”””***

“آپ۔۔۔ آپ کل کہاں غائب ہوگئیں تھی”

ہیر صدیقی کو کمرے میں نہ پاکر پریشان تھی سامنے سے آتی فرغب بی کو دیکھ کر ایک دم اُن سے پوچھنے لگی

“یہی آبادی میں میری ایک جاننے والی رہتی ہیں، اُن کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی انہی کو دیکھنے گئی تھی رات ہوتے معلوم ہی نہیں پڑا وقت کا تو وہی رک گئی آپ صبح صبح اتنی پریشان کیوں نظر آرہی ہیں سب خیریت ہے”

فرغب بی ہیر کو دیکھتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگیں

“نہیں ایسی تو کوئی خاص بات نہیں ہے بس ابو کمرے میں نظر نہیں آرہے تھے تو اُنہی کے بارے میں سوچ رہی تھی”

ہیر اپنی پیشانی پر سے سوچو کا جال غائب کرتی مسکرا کر فرغب بی سے کہنے لگی

وہ سچ میں صدیقی کو کمرے میں نہ پاکر پریشان تھی مگر اپنی پریشانی کا اظہار اسے فرغب بی کے سامنے کرنا مناسب نہیں لگا فرغب بی نے ہیر کی بات پر کوئی خاص تاثر نہیں دیا بس اثبات میں سر ہلا کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئیں تو ہیر بھی اپنے بیڈروم کا رخ کرتی شیر عباس کو جگانے کے لیے جانے لگی

***””””***

“ہیر تھوڑی دیر سونے دو مجھے آج لیٹ ہی جاؤ گا ہوٹل”

ہیر کے جگانے پر شیر عباس نیند میں بناء آنکھیں کھولے ہیر سے بولا

“عباس میں ابو کی وجہ سے پریشان ہوں آپ کو اپنی نیند کی پڑی ہے پلیز اٹھے ناں”

ہیر اب کی بار خفگی کا اظہار کرتی شیر عباس سے بولی تو شیر عباس آنکھیں کھول کر ہیر کو دیکھنے لگا، نیند کے خمار سے اُس کی آنکھیں ابھی سرخ ہورہی تھی

“اب کیا پریشانی ہوگئی ہے تمہارے ابو کو”

وہ بےزار لہجے میں ہیر کو دیکھتا ہوا بیڈ پر اٹھ کر بیٹھتا ہوا بولا۔۔۔ چہرے کے تاثرات سے صاف ظاہر تھا جیسے اُسے اپنی نیند میں مداخلت ذرا پسند نہیں آئی تھی

“پریشانی ابو کو نہیں پریشانی مجھے ہوگئی ہے ابُو کمرے میں موجود نہیں ہیں نہ ہی اُن کا سامان کمرے میں موجود ہے، معلوم نہیں اتنی صبح کہاں چلے گئے ہیں موبائل بھی بند جارہا ہے”

ہیر شیر عباس کے تاثرات نظر انداز کرتی فکر مند لہجے میں شیر عباس کو بتانے لگی مگر وہ یونہی بےزار دکھائی دے رہا تھا جیسے اِس معاملے میں اُس کو کوئی خاص دلچسپی نہ ہو

“اُن کے ساتھ اُن کا سامان بھی غائب ہے تو اِس کا مطلب ہے وہ واپس چلے گئے ہوگے اِس میں اتنا پریشان ہونے والی کونسی بات ہے ہیر”

شیر عباس جو بےدلی سے اٹھ کر بیڈ پر بیٹھا تھا واپس لیٹتا ہوا بولا

“وہ ایسے کیسے بتائے بغیر صبح صبح جاسکتے ہیں عباس”

ہیر دوبارہ پریشان لہجے میں شیر عباس کے پاس بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی

“یہ بات تو تم اپنے ابو سے تب پوچھنا جب وہ اپنا موبائل آن کرلیں فل الحال کمرے کی لائٹ بند کردو یار”

شیر عباس کے بولنے پر ہیر ناراضگی سے شیر عباس کو دیکھنے لگی

“کیا میں تھوڑی دیر اور سو جاؤ ہیر”

ہیر کے ناراضگی سے دیکھنے پر شیر عباس اُس سے پوچھنے لگا

“جی بالکل آپ سکون سے اپنی نیند پوری کریں”

ہیر شیر عباس بولتی ہوئی کمرے کی لائٹ بند کرکے کمرے سے باہر چلی گئی

ہیر کے جانے کے بعد شیر عباس دوبارہ بیڈ پر بیٹھتا ہوا سائیڈ ٹیبل پر رکھے اپنے موبائل پر ایبک کو کال ملانے لگا

“سر میں نے علاقے کے ایس ایچ او سے بات کرلی ہے، باتوں سے وہ کافی پازیٹو لگ رہا ہے”

ایبک کی آواز شیر عباس کے کان سے ٹکرائی تو وہ بیڈ سے نیچے اتر کر کھڑکی کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا

“گڈ۔۔۔ تم اُس کو سمجھادو کہ معاملہ زیادہ طول نہیں پکڑنا چاہیے۔۔۔ اُس موت کو حادثے کا نام دے کر اگر فائل کلوز ہوجاتی ہے تو معاملہ میرے فیور میں آجائے گا اور جب معاملہ میرے فیور میں آگیا تو اُس ایس ایچ او کی پرموشن کے لیے کمشنر سے فیور میں کرو گا۔۔۔ اُس کو بتادینا”

شیر عباس ایبک سے بات کرکے واپس بیڈ پر لیٹ گیا تاکہ وہ سکون سے سو سکے لیکن تبھی اُس کے موبائل پر ایک انجان نمبر سے میسج آیا جو اُس کی نیند اور ہوش دونوں اڑانے کے لیے کافی تھا

یہ وہ ویڈیو تھی جس میں صدیقی اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہوا اپنے لیے اُس سے مدد طلب کررہا تھا مگر شیر عباس چٹان پر پنجو تلے بیٹھا اُس کی مدد کرنے کی بجائے صدیقی کو کھائی میں گرتا ہوا دیکھ کر خوش ہورہا تھا

***”””***