Dil Hari By Zarish Noor Readelle50167 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
شاہ میر تیار ہو کر ناشتے کے لئے ڈائنگ توم میں آیا تو زکیہ بیگم نے حزیمہ کے بارے میں استفارہ کیا۔
اماں وہ سو رہی ہے۔رات کو عرشمان روتا رہا ہے ۔تو وہ دیر سے سوئی ہے۔
بیٹا تم رات کو بچے کو سکینہ اور روزی کے پاس چھوڑ دیا کرو۔ابھی شادی کو دو دن بھی نہیں ہوۓ اور تم نے اس پر اتنی بڑی زمہ داری ڈال دی ہے۔
شاہ میر نے اثبات میں سر ہلایا۔
آج تمہیں چھٹی ہے نہ تو اسے اپنے میکے لے جاؤ۔
ٹھیک ہے۔
وہ کمرے میں آیا تو وہ واش روم سے نکل رہی تھی ۔اس نے لال ٹاپ جو مشکل سے اس کے گھٹنوں تک آ رہا تھا اور ساتھ جینز پہنی ہوئی تھی۔
شاہ میر کے اندر ناپسندیدگی کی ایک لہر دوڑ گئی۔
وہ آئینے کے آگے کھڑی بال بنا رہی تھی۔
شاہ میر سینے پر ہاتھ باندھ کر اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔
حزیمہ اس کی طرف مڑی تو شاہ میر نے اسے سر سے پاؤں تک تنقیدی نظروں سے دیکھا۔
یہ کیا پہنا ہے تم نے؟؟
حزیمہ نے ایک نظر اپنے کپڑوں پر ڈالی اور سوالیہ نظروں سے شاہ میر کی طرف دیکھا۔
مجھے ایسی عورتیں بہت بری لگتی ہیں ۔جو خود کو نمائش کے لئے دوسرے مردوں کے سامنے پیش کرتی ہیں۔عورت کو ایسا لباس زیب تن کرنا چاہئے جسے دیکھ کر دل سے اس کا احترام کرنے کا دل کرے۔
حزیمہ انکھوں میں حیرت و استعجاب لئے اسے دیکھتی رہی۔
تم پر کوئی زبردستی نہیں ہے ۔میں تو صرف اپنا پوائنٹ آف وویو دے رہا تھا۔
یہ کہہ کر وہ پلٹ گیا دروازے کے پاس جا کر وہ مڑا ! میں یہ کہنے آیا تھا تم تیار ہو جاؤ تمہارے بابا کی طرف چلتے ہیں۔
کچھ سوچتی حزیمہ نے اس کی بات پر سر اثبات میں ہلایا۔
تھوڑی دیر کے بعد حزیمہ تیار ہو کر باہر آئی تو اس نے بلیک قمیض شلوار پہنی ہوئی تھی جس کے ساتھ بڑا سا نیٹ کا دوپٹہ رکھا ہوا تھا۔
حزیمہ شاہ میر کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گئی جو وائٹ قمیض شلوار پر بلیک چادر رکھے اپنی کلائی میں گھڑی پہن رہا تھا۔
حزیمہ پہلے دن سے ہی اس سے امپریس تھی لیکن شادی کے ان دو تین دنوں میں اسے لگ رہا تھا وہ اس کے آس پاس ایک حصار باندھ رہا تھا۔جس میں وہ اس کی طرف کھینچی چلی جا رہی تھی۔
حزیمہ زکیہ بیگم سے اجازات لینے ان کے کمرے کی برف بڑھ گئی ۔شاہ میر کی نگاہوں نے دور تک اس کا تعاقب کیا ۔اس نے حزیمہ کا ٹھٹھکنا اور پھر رک کر اسے دیکھنا محسوس کر لیا تھا۔
شاہ میر کی گاڑی فارس آفندی کے شاندار گھر کے کارپورچ میں رکی تو فارس آفندی ، زائرہ آفندی اور سکندر آفندی پہلے سے استقبال کے لئے موجود تھے۔
حزیمہ شاہ میر کے گاڑی سے اترنے کے بعد گاڑی سے اتری اور اس کے پیچھے چل دی۔
فارس آفندی دیکھ کر خوش ہو گئے۔وہ جانتے تھے ان کی بیٹی ایک شیرنی ہے اسے کوئی شیر ہی قابو کر سکتا ہے۔اسی لئے انہوں نے شاہ میر کا انتخاب کیا تھا۔
زائرہ آفندی نے حزیمہ کو گلے لگایا تو کہیں آنسو پلکوں کی با ڑ توڑ کر نکل گئے۔
حزیمہ نے ماں کے آنسو صاف کیے اور نفی میں سر ہلایا۔
فارس آفندی سے وہ سرد مہری سے پیش آئی۔
سکندر آفندی اور وہ بہت خوش دلی سے ملے۔
فارس آفندی نے بیٹی کی سردمہری محسوس کی لیکن وہ جانتے تھے وہ وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گی۔
کھانا بہت آچھے ماحول میں کھایا گیا۔حزیمہ شاہ میر کی سامنے والی چئیر پر بیٹھی ۔یہاں پہنچنے کے بعد شاہ میر کھانے کی میز پر اسے دیکھ رہا تھا۔
شاہ میر نے فارس آفندی سے باتیں کرتے ہوۓ ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور واپس اپنی باتوں میں مشغول ہو گیا۔
شاہ میر نے دیکھا وہ تینوں کم ہی کھا رہے تھے ۔زیادہ وقت وہ ان دونوں کو ہی کوئی نہ کائی چیز دے رہے تھے۔
حزیمہ کے ساتھ سکندر بیٹھا ہوا تھا ۔وہ بہت شفقت سے اس سے پیش آ رہا تھا ۔اور دونوں چھوٹی چھوٹی باتیں کر رہے تھے۔
کھانے کے بعد حزیمہ اور سکندر کچن میں گھس گئے۔وقفے وقفے سے حزیمہ کے کھلکھلانے کی آوازیں آرہی تھی۔
تھوڑی دیر کے بعد دونوں بہن بھائی باہر آۓ تو حزیمہ کے ہاتھ میں ٹرے میں کافی کے تین کہ تھے۔
اس نے شاہ میر کے ہاتھ میں کافی دی حزیمہ اور اس کی انگلیاں مس ہوئی ۔حزیمہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔
حزیمہ جا کر شاہ میر کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی۔
شاہ میر کافی کیسی ہے؟؟
بہت آچھی ہے۔شاہ میر نے متانت سے جواب دیا۔
تمہیں پتہ ہے حزیمہ کو میں نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کے جب یہ شادی کے بعد پہلی بار واپس آۓ گی تو میں اس کے شوہر کو اپنے ہاتھوں سے کافی بنا کر دوں گا۔
حزیمہ آپ لوگ عرشمان کو بھی لے آتے نہ؟؟
اب کی بار سوال زائرہ بیگم کی طرف سے آیا تھا۔
جی مما وہ رات بہت دیر سے سویا ہے تو اس لئے جب ہم آۓ تو وہ سو رہا تھا۔
شاہ میر آپ اپنی اماں کو بھی ساتھ لے آتے نہ۔
آنٹی انہیں آنے جانے میں مسئلہ ہوتا ہے نہ تواس لئے وہ کم ہی کہیں جاتی ہیں۔
واپسی پر حزیمہ نے شاہ میر سے کہا کے وہ کچھ کپڑے لینا چاہتی ہے ۔وہ لوگ ایک سٹور میں گئے جہاں سے حزیمہ نے بہت سے کپڑے لئے۔
پیمنٹ کے لئے کب حزیمہ نے اپنا کارڈ دیا تو شاہ میر نے اس کا کارڈ اپنی پاکٹ میں رکھ لیا اور اپنے کارڈ سے پیمنٹ کی۔
گاڑی میں بیٹھ کر شاہ میر نے حزیمہ کا کارڈ اسے واپس کیا۔
میں نے اپنے کپڑے لئے تھے تو پے بھی تو مجھے کرنا تھا نہ۔
اب آپ میری زمہ داری ہیں یہ بات زہن نشین کر لیں ۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❣️❤️❤️
