Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6


بھیا آپ جانتے آپ کی وجہ سے مما دن رات روتی رہی ہیں ۔بھیا آپ نے مما کے ساتھ آچھا نہیں کیا ۔آپ کے اختلافات بابا کے ساتھ تھے تو آپ نے اس کی سزا مما کو کیوں دی۔
فارس اس وقت گود میں لیپ ٹاپ رکھے دونوں ٹانگیں سامنے ٹیبل پر رکھے اپنے کام میں مصروف تھا۔
حزیمہ میں خود کو سزا دے رہا تھا۔ماں باپ کی نا فرمانی کی سزا۔میں بابا کا کہا نہیں مانا تو اللہ نے مجھے اس کی سزا بھی دی۔
جس لڑکی کے لئے میں نے بابا کی نا فرمانی کی وہ لڑکی مجھے سے میرے سٹیٹس کی وجہ سے پیار کرتی تھی ۔
تبھی مین گیٹ سے اندر فارس آفندی داخل ہوۓ ۔سکندر اور حزیمہ انہیں دیکھ کر کھڑے ہو گئے ۔فارس آفندی جلدی سے آگے بڑھے اور آکر سکندر کے سامنے کھڑے ہو گئے ۔
کیسے ہو سکندر ؟؟ آج میرے اس گھر میں کیسے آنا ہوا جسے تم ایک لڑکی کے لئے دھتکار کر چلے گئے تھے۔
بابا پلیز! حزیمہ نے آگے بڑھ کر فارس آفندی کو روکنا چاہا لیکن سکندر نے اس روک دیا۔
کتنے دن کے لئے آۓ ہو ؟؟
مہمان کی طرح آے ہو تو مہمان کی طرح ہی واپس بھی چلے جانا۔
جو بیٹے جوانی کے جوش میں ماں باپ کو انتظار کی سولی ہر لٹکا کر چلے جاتے ہیں نہ ایسے بیٹوں سے نہ ہونا بہتر ہے۔
سکندر اس وقت تیار تھا ۔وہ آج واپس امریکہ جا رہا تھا ۔اس کا خیال تھا فارس آفندی اسے معاف کر دیں گے لیکن وہ غلط تھا۔
وہ ان کا جو دل دکھا چکا تھا اس کے بعد شاید اتنی جلدی اسے معافی نہیں ملنی تھی۔
حزیمہ بھاگتی ہوئی سٹڈی میں آئی جہاں سکندر آفندی بیٹھے بظاہر مطالعے میں مصروف تھے لیکن در حقیقت ان کی ساری توجہ باہر ہو دہی گفتگو پر تھی ۔جہاں زائرہ بیٹے کے لئے رو ہی تھی اور وہ ان کے قدموں میں بیٹھا انہیں اپنے واپس آ نے کی یقین دہانی کرو رہا تھا۔
بابا پلیز بھیا کو دوک لیں ۔حزیمہ نے روتے ہوۓ فارس آفندی کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔
نہیں حزیمہ اس جانے دو میں اسے معاف نہیں کر سکتا ۔اس کی وجہ سے میں نے کوگوں کی بہت باتیں سنی ہیں ۔میں نہیں میں دوبارہ سے اس کنڈیشن سے گزروں۔
بابا پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کو میری قسم
حزیمہ فارس آفندی نے حیرانگی سے حزیمہ کو دیکھا۔
بابا پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر تم میری ایک بات مانو گی۔
میں آپ کی بہت ساری باتیں مانوں گی ۔
نہیں صرف ایک ۔۔۔۔۔
اوکے بولیں کونسی؟؟
ابھی نہیں وقت آنے پر بتاؤں گا۔
اوکے! پھر چلیں باہر بھیا کو روک لیں۔


فارس آفندی اور شاہ میر مالک آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
فارس آفندی کی بات سن کر شاہ میر ملک ہونٹ بھینپے بیٹھا تھا ۔اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کے وہ کیے کہے۔
سر ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔۔۔
آپ جانتے ہیں کے میں ایک بیٹے کا باپ ہوں ۔
میں تمہارے بارے میں سب جانتا ہوں ۔
ٹھیک ہے پھر لیکن یہ سب بالکل سادگی کے ساتھ ہو گا۔اور ہمارے سرکل آپ کے اور مابین اس رشتے کے بارے میں کسی کو بھی فی الحال نہیں پتہ چلنا چاہئے۔
ٹھیک ہے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔جیسے آپ چاہیں۔
سر آپ کی بیٹھی کو وہی زندگی گزارنی ہو گی جو میں افورڈ کر سکتا ہوں۔
ایسا ہی ہو گا۔


دلہن بنی بیٹھی حزیمہ مولوی صاحب کے منہ سے نکلنے والے نام پر ششدر تھی۔اسے تو فارس آفندی نے صرف یہ کہا تھا کے وہ ان کے پسند کیے لڑکے سے شادی کرے گی۔لیکن ان کا پسند یہ تھی۔
حزیمہ فارس آپ کو شاہ میر ملک سے نکاح بعوض مہر سکہ رائج الوقت بیس لاکھ روپے قبول ہے۔
مولوی صاحب نے اپنے الفاظ دوہراۓ۔
حزیمہ نے اپنے دائیں طرف بیٹھی ماں کی طرف دیکھا اور اپنا سر جھکا دیا۔
شاہ میر کی طرف سے اس کی اماں پھپھو پھپھا اور کچھ دوست شامل ہوۓ تھے ۔
فارس آفندی نے بھی اپنے کچھ قریبی دوستوں کو بلایا تھا۔


حزیمہ سکندر تم اب فارس سکندر کی بیٹھی نہیں بلکہ شاہ میر ملک کی بیوی ہو۔تمہیں اپنا لائف سٹائل بدلنا پڑھے گا۔اور تم اب وہ کرو گی جو میں چاہو گا۔
یہ کہہ کر وہ مغرور شخص اپنے کپڑے لے کر واش روم میں گھس گیا اور دلہن کے روپ میں سجی سنواری بیٹھی حزیمہ سوچ رہی تھی اس کے بابا نے کیا دیکھ کر اسے اس شخص کے پلے باندھ دیا تھا۔
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی تبھی زور اے واش روم کا دروازہ بند کرتا ہوا شاہ میر باہر آیا۔
اس نے حزیمہ کے اس روپ سے الجھن ہو رہی تھی۔ وہ بےچین ہو رہا تھا کہیں وہ اس لڑکی کے اس روپ سے ہار نہ جاۓ ۔وہ اس سے نفرت کا دعوے دار تھا۔لیکن یہ تو وقت ہی بتاۓ گا کے اسے اس لڑکی سے عشق ہونے والا تھا۔
شاہ میر نے دونوں مٹھیاں بھینچیں اور آواز میں ناگواری سموۓ بولا اب جلدی سےبیڈ خالی کرو مجھے نیند آ رہی ہے ۔
حزیمہ نے اس شخص کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور آہستہ سے بیڈ سے اٹھ گئی لیکن جلدی میں اس کا پاؤں لہنگے میں اٹکنے کی وجہ سے وہ آگے کو گری اور بالکل غیر ارادی طور پر شاہ میر نے اسے تھام لیا۔
شاہ میر کے ایک ہاتھ حزیمہ کی کمر پر بلکہ دوسرے ہاتھ سے اس نے اسے کندھے سے پکڑ رکھا تھا۔حزیمہ نے ڈر کی وجہ سے آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔شاہ میر نے اس نظر اس کی بند آنکھوں سے ہوتی ہوئی اس کے لرزتے لبوں پر رک گئی۔وہ اس کی طرف جھکا لیکن اس سے پہلے ہی حزیمہ نے آنکھیں کھول جن میں حیرت ہی حیرت تھی۔حزیمہ کی کھلی آنکھیں دیکھ کر شاہ میر نے اسے جھٹکے سے اپنے سے دور کیا اور آگے بڑھ کر سر تک کمبل تان کر سو گیا۔
لائٹ بند کر دینا پلیز۔
شاہ میر کی اس بات پر حزیمہ نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا لیکن وہ کمبل واپس منہ پر رکھ چکا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️