Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode 15

شاہ میر بمشکل حزیمہ تک پہنچا اس کے دونوں کلائیوں پر کٹ لگے تھے۔
اس نے آگے بڑھ کر اسے بانہوں میں اٹھا لیا اور گاڑی کی طرف بھاگا ۔
اس کی رفتار بہت تیز تھی۔سکندر اور مصطفی جب گاڑی کے پاس پہنچے وہ گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔
سکندر بیک سیٹ پر حزیمہ کا سر اپنی گود میں رکھ کر بیٹھ گیا۔
مصطفی نے فرنٹ سیٹ سنبھالی شاہ میر نے اپنی زندگی کی ریش ڈرائیونگ کی اور ہاسپٹل پہنچا ۔حزیمہ کو سٹریچر پر ڈال کر وہ اونچی آواز میں لوگوں کو آگے سے ہٹنے کے لئے بولتے ہوۓ سٹریچر آگے بڑھا رہا تھا۔
حزیمہ کو جب آئی سی یو میں لے جایا گیا تو شاہ میر کے دونوں ہاتھ خون سے رنگے ہوۓ تھے۔اس نے انھی ہاتھوں سے موبائل نکالا اور پہلی کال اپنے ڈرائیور جو کی۔
دیکھئے رحیم بابا اماں عرشمان اور سکینہ بی کو اگلے آدھے گھنٹے میں آفندی ہاؤس پہنچو۔
اس کے بعد اس نے چینل کال کی اور آرڈر دیا کے اس کا ریکارڈ کیا گیا پروگرام اگلے ایک گھنٹے میں چلنا چائیے۔
کال بند کر کے شاہ میر سکندر کی طرف بڑھا اور اس کے پاس جا کر بیٹھا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
سکندر وہ ٹھیک ہو جاۓ گی وہ سکندر سے زیادہ خود کو یقین دلا رہا تھا۔
*++++++
مجتبی لاکھانی بری طرح پھانسا تھا ۔اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا تھا کے اس کی بیوی کواتنا نقصان پہنچنا چاہئیے کے وہ زندہ رہے لیکن شاہ میر ملک کو سبق بھی حاصل ہو جاۓ۔
اس کا خیال تھا کے اس سب کے بعد وہ اس کے خلاف کچھ نہیں کرے گا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کے اس نے یہ اب کر کے اس کے غصے کو ہوا دی تھی۔
اب وہ پولیس میڈیا سب اے چھپتا پھر رہا تھا۔
اس کے سارے ٹھکانوں پر پولیس کی ریڈ پڑ چکی تھی اور وہ ہر جگہ سے ابھی تک بچ کر نکل آیا تھا۔لیکن وہ جانتا تھا وہ اب زیادہ دیر چھپ کر نہیں رہ سکے گا۔
آج نہیں تو کل وہ پولیس کے ہاتھ چڑ جاۓ گا اور اس بار اسے کوئی نہیں بچا سکے گا۔
حزیمہ کو آج دو دن کے بعد ہوش آیا تھا۔سکندر کو شاہ میر نے زبردستی گھر بھیج دیا تھا۔
فارس آفندی نے شاہ میر کو بہت کہا کے وہ گھر جاۓ۔لیکن وہ نہیں مانا اسے اس لڑکی کے ساتھ کی گئی اپنی زیادتیاں یاد آ رہی تھیں ۔وہ چاہتا تھا کے وہ صرف ایک بار ٹھیک ہو جاۓ وہ اپنی ہر زیادتی کی تلافی کرے گا۔
اسے ان دو سالوں میں پہلی بار لگا کے وہ حیا کو بھول گیا ہے۔اس نے اپنے دل کو ٹٹولا تو وہاں پر حزیمہ اپنا قبضہ جما چکی تھی۔
وہ جب سے ہوش میں آئی تھی شاہ میر ایک بار بھی اس کے سامنے نہیں گیا تھا۔
وہ ہاسپٹل کے اس روم کی ہر آہٹ پر دروازے کی طرف دیکھتی تھی کے شاید وہ ہو۔
وہ اس کے بارے میں ہوچھنا چاہتی تھی لیکن کس سے پوچھے۔
آج وہ رات کو گھر چلا گیا۔فارس آفندی ہاسپٹل میں اس کے پاس رکے تھے۔
جب رات کو سب چلے گئے۔ تو فارس آفندی بینچ کھسیٹ کر اس کے بیڈ کے پاس لاۓ اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولے ۔
تم مجھ سے ناراض ہو؟؟
حزیمہ نے ان کی طرف غور سے دیکھا اور مسکرا دی۔اب نہیں ہوں
اب کیوں نہیں ہو؟؟
کیونکہ آپ کا فیصلہ میرے لئے بالکل صیح تھا۔شاہ میر بہترین شوہر ہیں۔بہت آچھے انسان ،بہت آچھے بیٹے اور بہت آچھے باپ بھی۔اس شخص کے ساتھ رہتے ہوۓ مجھے احساس ہوا کے آپ نے میرے لئے کیوں انہیں چنا۔
میں شروع میں آپ سے بہت ناراض ہوئی تھی کے آپ نے میرے لئے ایک بچے کے باپ کو پسند کیا۔
کیا میں اتنی گئی گزری تھی۔
بیٹا میں چاہتا تھا تم ایلیٹ سوسائٹی کے کسی مرد کو پسند کرو اس سے پہلے میں تمہاری شادی کسی بہت آچھے شخص سے کر دوں۔
ہماری سوسائٹی میں مرد شادی تو کرتی ہیں لیکن وہ اپنی بیویوں سے زیارہ دوسروں کی بیویوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں ۔
بیٹا میری ایک ہی بہن تھی ساشہ آفندی بہت خوبصورت پڑی لکھی۔لیکن پتہ نہین کب اور کہاں اس کی نظر حسن احمد پر پڑ گئی ۔
ان دونوں کی شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔
لیکن شادی کے دوسرے مہینے ہی وہ واپس لوٹ آئی ۔حسن ایک شرابی تھا اس نے ایک شادی امریکہ میں کی ہوئی تھی۔اس کے دن سونے میں اور راتیں رنگین گلیوں میں گزرتی۔
اس نے اس شخص سے بہت محبت کی لیکن اس کی بےوفائی کو برداشت نہ کرسکی اور موت کا گلے لگا لیا۔
اس لئے میں بہت ڈرا ہوا تھا۔میں تو تمہیں انگلینڈ پڑھنے کے لئے بھی نہ بھیجتا اگر سکندر مجھے مجبور نہ کرتا۔
فارس آفندی کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔
تم جانتی ہو شاہ میر ان تین دنوں میں ایک پل بھی تمہارے پاس سے نہیں ہلا۔
حزیمہ نے ثبات میں سر ہلایا۔وہ جانتی تھی کے جب اسے ہوش آیا اس کے بعد بھی وہ یہی کہی تھا ۔وہ اس کی نظروں کی تپش محسوس کر سکتی تھئ۔وہ جانتی تھی وہ کہیں سے اسے چھپ کر دیکھ رہا ہے۔


شاہ میر ہاسپٹل سے سیدھا آفندی ہاؤس آیا تھا۔شادی کے بعد وہ دوسری بار آیا تھا یہاں زائرہ آفندی اور سکندر اس کے آنے پر بہت خوش تھے۔
سائرہ آفندی اس کی وضع قطع سے بہت متاثر ہوئیں ۔جس طرح اس نے جھک کر اپنی ماں سے پیار لیا ویسے ہی وہ ان کے آگے بھی جھکا۔
ان کے سٹیٹس میں بچے کہاں ایسے بڑوں سے ملتے تھے یا احترام کرتے تھے۔
خود ان نے فارس آفندی نے اپنے بچوں کی بہت آچھی پرورش کی تھی ۔ان کے دونوں بچے بہت آچھے تھےلیکن شاہ میر کی بات ہی کچھ اور تھی۔
اس نے دیکھا وہ اپنی ملازمہ سے بھی سلام دعا کی اور اس کی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا۔
جب وہ پہلے ان کے گھر آیا تھا تو انہیں خاصہ مغرور سا لگا تھا۔
فارس آفندی اس کی بہت تعریفیں کرتے تھے لیکن زائرہ ہمیشہ کہتیں تھیں ایسا مجھے کچھ خاص نہیں لگا وہ جتنا آپ اس سے متاثر ہیں۔
اسے بہت نیند آرہی تھی ۔اس نے کھانے کے لئے منع کر دیا لیکن کمرے میں جانے سے پہلے اس نے عرشمان کو اپنی بانہوں میں لیا اسے پیار کیا اور بہت احتیاط سے اسے واپس بے بی کاٹ میں ڈال کر ماں سے اجازات لے کر سونے چلا گیا۔


وہ کمرے میں پہنچا تو بہت مطمئن تھا ۔وہ ان تین دنوں کے بارے میں سوچنے لگا ۔
اس کی زندگی کے مشکل ترین دن تھے۔
اسے ہر پل بس یہی خوف رہا کے کہیں حزیمہ کو کچھ نہ ہو جاۓ ۔
اسے ان دنوں میں پتہ چلا کے وہ اس کے لئے کیا اہمیت رکھتی ہے۔
وہ جب سے اس کی زندگی میں شامل ہوئی تھی وہ بدل گیا تھا۔
پہلے وہ اسے بالکل بھی پسند نہیں تھی۔اس نے اس سے شادی صرف فارس آفندی کا دل رکھنے کے لئے کی تھی۔
پھر وہ اس کی زندگی میں شامل ہوئی۔اس کے کہے بغیر اس کا صرف دیکھ کر وہ ہر کام کرنے لگی جو وہ کرتا تھا۔
زکیہ بیگم کا خیال رکھنا عرشمان کا خیال رکھنا۔ اس کی پسند کے کپڑے پہننا سر ہر دوپٹہ رکھنا۔
اس کی بےاعتنائی کے باوجود اس کا ہر کام کرنا بغیر کوئی شکایت کیے۔
لیکن وہ اس بات سے انجان تھا کے وہ اس کے دل کی مسند پر بہت اونچے مقام پر بیٹھی ہوئی ہے۔


وہ آج ہاسپٹل آیا تو فارس آفندی اسے آتا دیکھ کر بولے۔
میں اب چلتا ہوں۔
وہ انہیں چھوڑنے باہر تک آیا ۔
واپس گیا تو وہ ابھی تک آنکھیں موندے لیٹی تھی ۔وہ جاگ رہی تھی لیکن سوتی بن گئی۔
شاہ میر گھر سے اس کے لئے لایا ناشتہ نکالنے لگا۔
حزیمہ آنکھیں کھول دو میں جانتا ہوں تم جاگ رہی ہو۔
حزیمہ نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں۔
اس نے اس کی طرف ایک مسکراہٹ اچھالی اور اس کے پاس بیڈ پر اپنے لئے جگہ بنا کر بیٹھ گیا۔
حزیمہ اسے یک ٹک دیکھ رہی تھی۔
کیا ہوا نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا؟؟
حزیمہ نے نظریں جھکا لیں۔
آپ کو کیسے پتہ چلا میں جاگ رہی ہوں؟؟
تمہاری پلکوں کی لرزش سے۔اس نے اس کی پلکوں پر پھونک مارتے ہوۓ کہا۔
حزیمہ نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں۔
چلو اب میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کرواتا ہوں۔
ایک گلاس دودھ کے کپ کے ساتھ ایک سلائس بریڈ کا لیا۔
بس اتنا سا ناشتہ وائف جی کھائیے پئیے تاکے آپ جلدی سے ٹھیک ہوں ۔نہیں تو میرا اور ہمارے بیٹے کا خیال کون رکھے گا۔
وہ دھیمے سےُمسکرا دی۔
شاہ میر نے جھک لر اس کی پیشانی پر اپنے محبت کی مہر ثبت کی۔
اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولا اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں ساری زندگی خود کو نہ معاف کر پاتا کے میں نے تمہیں اپنے ہاتھوں سے کھو دیا۔


آج اس واقعے کق پورا ایک سال گزر چکا ہے۔ان کی زندگی اب بھی ویسی ہی ہے صبح دونوں ساتھ آفس جاتے اور شام کو ساتھ واپس لوٹتے ۔عرشمان اب بڑا ہو گیا تھا۔
وہ ماں اور باپ دونوں سے بہت پیار کرتا تھا۔
زکیہ بیگم ان دونوں کو خوش دیکھ کر خوش تھیں۔
آج سکندر کا نکاح تھا روحینہ کے ساتھ۔
سکندر نے روحینہ کے بارے میں شاہ میر کو بتایا تھا اور پھر اس نے فارس آفندی سے بات کی ۔
وہ لوگ عرشمان کے ساتھ ہال میں پہنچے تو سب لوگ آگئے تھے۔
نکاح کے بعد سکندر کو روحینہ کے برابر بڑھایا گیا تو شاہ میر نے سکندر کو خوب تنگ کیا۔
سب لوگ بہت خوش لگ رہے تھے۔
اور دور کھڑی حزیمہ شاہ میر کو سیکھ کر سوچ رہی تھی۔
زندگی میں کبھی کسی کی ضرورت نہ بنوکیونکہ ضرورت تو کوئی بھی پوری کر سکتا ہے۔
بننا ہے تو کمی بنو کیونکہ کمی کوئی بھی پوری نہیں کر سکتا تھا۔
اس کی نظریں شاہ میر پر جمی تھیں جو بہت خوش لگ رہا تھا۔
شاہ میر نے ہنستے ہوۓ حزیمہ کی طرف دیکھا اور اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔
وہ بھی مسکرا کر اپنی میکسی سنبھالتی ہوئی اس کی طرف چل دی۔
ختم شد