Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2


وہ کنٹرول روم سے باہر نکلی تو وہ سامنے ہی کھڑا تھا اپنی اسسٹنٹ سے کچھ ڈسکس کر رہا تھا۔وہ اپنے روم کی طرف جاتے ہوۓ اس کے قریب رکی ۔
مبارک ہو مسٹر شاہ میر!
اس نے ابرو اٹھا کر اسے دیکھاکس بات کے لئے؟
وہ گڑبڑا گئی! جی آپ کے پروگرام کے لئے۔
ہمم ! وہ پھر سے اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گیا۔
حزیمہ کو اس پر اس بار غصہ آ گیا ۔اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ اسے ابھی فارغ کر دیتی لیکن ایسا وہ کر نہیں سکتی تھی۔لیکن اس نے سوچ لیا تھا کے اب وہ اسے مخاطب نہیں کرے گی۔


حزیمہ فارس آفندی کے ساتھ گھر کے لئے نکلی تبھی وہ بھی اپنے روم سے نکلا ۔فارس آفندی اس سے باتوں میں مشغول ہو گئے۔حزیمہ کو کوفت نے آن گھیرا۔بابا میں چلتی ہوں آپ آ جائیے گا۔
ٹھیک ہے بیٹا آپ چلو میں ابھی آتا ہوں۔
حزیمہ ایک اچٹتی نظر شاہ میر پر ڈال کر وہاں سے نکل گئی۔
اسے گاڑی میں بیٹھے کافی دیر ہو گئی تھی لیکن فارس آفندی نہیں آۓ آخر وہ گاڑی سے باہر نکل آئی ۔اس کے موبائل پر اس کی بہترین دوست پری کی کال آ گئی تھی ۔وہ اس کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئی۔اس سے باتیں کرتے ہوۓ اس نے دیکھا فارس آفندی اور شاہ میر دونوں چلے آ رہے تھے۔وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا جب کے فارس حزیمہ کی طرف آ گئے ۔وہ جانتے تھے کے وہ ان سے سخت ناراض ہو گی۔شاہ میر نے گاڑی موڑتے ہوۓ حزیمہ کی طرف دیکھا جو اسے کڑے تیوروں سے گھور رہی تھی۔فارس آفندی اس کے سر پر بوسہ دے رہے تھے اور اسے منا کر گاڑی میں بٹھا رہے تھے۔شاہ میر کو کسی یاد آئی اس نے سر جھٹکا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔


وہ گھر پہنچا تو رات کے آٹھ بج رہے تھے اس نے فلیٹ کا دروازہ کھولا تو اندر کمرے سے عرشمان کے رونے کی آواز آ رہی تھی ۔وہ لاؤنج میں صوفے پر بیٹھ کر جو تے اتارنےلگا وہ تھوڑی دیر عرشمان کی رونے کی آواز سنتا رہا پھر اٹھ کر کمرے میں آ گیا ۔اس نے اسے اٹھایا تو بچہ بھی اس کی بانہون میں آ کر خاموش ہو گیا۔تبھی واش روم کے دروازے سے ملازمہ باہر نکلی ۔سامنے شاہ میر کو دیکھ کر وہ گھبرا گئی وہ صاحب میں وضو کرنے گئی تھی۔
شاہ میر نے اسے گھورا اسے چپ کرو ا کے جاتی نہ اب جاؤ اس کے لئے فیڈر لے آؤ وہ عرشمان کو اٹھاۓ ماں کے کمرے میں آیا ان کے آگے سر رکھا تو انہوں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا ۔
بیٹا وہ سکینہ کہاں ہے؟ انھوں نے ملازمہ کے بارے میں پوچھا!بچہ کب سے رو رہا ہے میں نے آوازیں بھی دی ہیں لیکن وہ پتہ نہیں کہاں تھی۔
اماں وہ واش روم میں تھی ۔تبھی ملازمہ فیڈر لے کر آ گئی۔وہ جانے لگی تو شاہ میر نے اسے بیٹھنے کے لئے بولا۔دیکھئے سکینہ آپا اگر آپ گھر کا کام اور بچے کو نہیں سنبھال سکتی تو آپ گاؤں سے اپنی بیٹی کو بھی بلا لیں لیکن آج کے بعد بچے سے لاپروائی نہیں برتئے گا۔وہ سر ہلاتی ہوئی باہر نکل گئی۔
عرشمان فیڈر پیتے ہوۓ اس کی بانہوں میں ہی سو گیا وہ اسے لے کر اپنے کمرے میں آگیا ۔اسے بیڈ پر ڈال کر اس پر کمفرٹر ڈال کر وہ کھڑا ہوا تو اس کی نظر اپنے بیڈ کے اوپر دیوار پر انلارج تصویر کو دیکھنے لگا ۔تصویر کو دیکھتے ہوۓ اس کی بائیں آنکھ سے ایک آنسو نکلا اور اس کی داڑھی میں گم ہو گیا۔تبھی دروازے پر دستک دے کر ملازمہ اندر آئی ۔صاحب بڑی بیگم صاحب کھانے پر آپ کا انتظار کر رہیں ہیں۔


شاہ میر ملک ملک نامور صحافی ملک فردوس اور زکیہ بیگم کا اکلوتا سپوت تھا ۔گاؤں میں ان کی بہت سی زمینیں تھیں لیکن شاہ میر کو گاؤں میں کو دلچسپی نہیں تھیں اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا ۔اس لئے وہ شہر چلا آیا اس کی پڑھائی کے دوران ہی ایک ایکسیڈنٹ میں اس کے والد کا انتقال ہو گیا اور والدہ زکیہ بیگم معذور ہو گئیں تو وہ انہیں اپنے ساتھ شہر ہی لے آیا اور ایک کل وقتی ملازمہ بھی رکھ لی تین چار سالوں میں اس نے اپنا ایک الگ مقام بنا لیا تھا۔ اور پھر سے اسے گاؤں کی یاد ستائی گاؤں میں اسکی بچپن کی منگ تھی حیا اپنے نام کی طرح حیادار میٹرک پاس سلجھی ہوئی ۔اس کی سگی پھپھو کی بیٹی تھی ان لوگوں نے تو سوچا تھا کے شاہ میر اب آفسر بن گیا ہے وہ کہاں ان کی بیٹی سے شادی کرے گا لیکن ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب شاہ میر اپنی والدہ کو لے کر ان کے گھر گیا اور زکیہ بیگم نے بہت چاہ سے حیا کو اپنے شاہ میر کی دلہن بنا کر شہر لے آئیں ۔