Dil Hari By Zarish Noor Readelle50167 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
سکندر کسی فائل میں گم تھا تبھی اس کے سیل پہ فارس آفندی کی کال آئی۔
سکندر کہاں ہو تم؟؟
پاپا میں آفس میں ہوں ۔خیریت ہے آپ اتنے گھبراۓ ہوۓ کیوں ہیں؟؟
بیٹا ابھی شاہ میر کی کال آئی تھی وہ آفس سے نکلا تو کچھ لوگ اس کا پیچھا کر رہے تھے۔اس نے اپنے کسی ڈی ایس پی دوست کو کال کی تو وہ وقت پر اس کے پاس پہنچ گیا۔
دیکھو تم سیکیورٹی کے بغیر آفس سے نہیں نکلنا۔
اور بریکنگ نیوز بھی چلا دو کے شاہ میر پر کسی نے حملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
ہاپا میں پہلے شاہ میر سے بات کر لوں۔
نہیں تم اس سے بعد میں بات کرنا ۔میں نے اس سے بات کی ہے لیکن وہ نہیں مان رہا لیکن اس کی سیکیورٹی کے لئے یہ سٹیپ لینا ضروری ہو گیا ہے۔
اوکے ! میں ابھی کرتا ہوں کچھ آپ پریشان نہ ہوں۔
شاہ میر حزیمہ کے پاس سے اٹھ کر پانی پینے کی غرض سے کچن میں آیا تو اسی وقت اس کے موبائل پر نوٹفیکشن آیا ۔
شاہ میر نے کھولا تو نیوز کاسٹر اپنے پروفیشنل انداز میں بتا رہی تھی۔
ملک کے مشہور ومعروف صحافی شاہ میر ملک قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے۔
وہ ان دنوں ایک اہم معاملے پر پروگرام پر بحث کرنے پر کچھ نامور لوگوں کے نام سامنے آنے کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
شاہ میر نے جلدی سے سکندر کا نمبر ملایا !
سکندر یار کیا ہے یہ؟؟
شاہ میر تم معاملے کی سنگینی کو نہیں سمجھ رہے ۔یہ سب تمہاری پروٹیکشن کے لئے ہے۔
یار جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں ہو سکتی۔
تمہاری بات ٹھیک ہے لیکن چلو اپنی طرف سے ایک کوشش صیح۔
مجتبی لاکھانی اس وقت اپنے فارم ہاؤس پر ٹی وی سکرین کے آگے بیٹھا پیچ و تاب کھا رہا تھا۔
سکرین پر چلنے والی بریکنگ نیوز اسے اور تاؤ دلا رہی تھیں۔
وہ اپنے خاص آدمی دلاور کے ساتھ موجو د تھا۔
اس دو ٹکے کے صحافی کے بہت پر نکل آۓ ہیں۔
صاحب یہ بہت نڈر اور زہین آدمی ہے ۔خطرہ آنے سے پہلے اس کی بو سونگھ لیتا ہے۔
ہمم اس کے بارے میں کچھ اور سوچنا پڑے گا ۔مصطفی لاکھانی کے چہرے پر اس وقت بڑی شاطر مسکراہٹ تھی۔
حزیمہ نے آج عرشمان کی خراب طبعیت کے باعث آفس سے چھٹی کی تھی۔
لیکن جوں جوں وقت گزر رہا تھا۔عرشمان کی طبعیت بگڑ رہی تھی۔
حزیمہ نے شاہ میر کے نمبر کال کی وہ اسے بتا سکے لیکن اس کا موبائل پاورڈ آف آ رہا تھا۔
سکندر کے نمبر بھی بزی تھا۔حزیمہ نے ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کے لئے بولا اور عرشمان کو لے کر ہاسپٹل کے لئے نکل گئی۔
ہاسپٹل میں عرشمان کا چیک اپ کروا کر واپسی میں گھر سے تھوڑا فاصلے پر ایک موٹر سائیکل روڈ کے عین درمیان میں پڑا تھا اور جو کوئی بھی تھا شاید جان کی بازی ہار چکا تھا۔
ڈرائیور دیکھنے کے لئے نیچے اترا جوں ہی وہ اس شخص کے پاس پہنچا اس شخص مے ڈرائیور کے سر پر پسٹل رکھ لیا۔
ساتھ ہی دو گاڑیاں آ کر ان کی گاڑی کے ساتھ رکی حزیمہ نے بےنی کاٹ میں سوۓ عرشمان کو دیکھا اوراس کا کاٹ اٹھا کر سیٹس کے درمیان رکھ دیا اور اس پہ اپنی چادر ڈال دی ۔شکر تھا کے وہ سو رہا تھا۔
دو آدمیوں نے حزیمہ کی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور اسے گھسیٹتے ہوۓ اپنی گاڑی میںبٹھا کر لے گئے۔
ڈرائیور کےپاس موجود آدمی بولا اپنے صاحب کو جا کر بتا دو اب کچھ بھی کرنے سے پہلے سوچ لینا کے تمہاری بیوی ہمارے پاس ہے۔
ؔ***
شاہ میر جو کے اس وکٹم لڑکی کے ساتھ ہروگرام ریکارڈ کرو رہا تھا۔
شاہ میر اور سکندر نے رات والے واقعے کے بعد ڈیسائیڈ کیا کے ہروگرام براہ راست کرنے میں اس لڑکی کی جان کو خطرہ ہے ا۔اس لئے ہروگرام پہلے ریکارڈ کر لیا جاۓ۔
شاہ میر نے پروگرام کے بعد موبائل دیکھا تو اس پر حزیمہ کی چار مسڈ کالز تھی۔
شاہ میر نے اس کا نمبر ڈائل کیا تو کافی دیر تک بیل جانے کے بعد کسی نے کال کٹ کر دی۔
دوبارہ ڈائل کرنے پر نمبر آف جا رہا تھا۔
اس نے گھر میں لینڈ لائن پر کال کی تو اسے پتہ چلا کے وہ عرشمان کو لے کر ہاسپٹل گئی ہوئی ہے۔
شاہ میر کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔اسے لگا رہا تھا کچھ غلط ہو چکا ہے ۔تبھی سکندر آفس میں ایک شور سا ہوا شاہ میر باہر آیا تو اس کا ڈرائیور عرشمان کو اٹھاۓ موجود تھا ۔
ڈرائیور کی حالت دیکھ کر شاہ میر نے جلدی سےاسے بچے کو لیا اوراس کے کچھ بھئ بولنے سے پہلے وہ اسے اپنے آفس میں لے آیا۔
سکندر بھی اس کے ساتھ ہی وہاں آیا۔
ڈرائیور نے جو کچھ شاہ میر کو بتایا وہ بہت پریشان کن تھا۔
سکندر غصے میں ادھر ادھر ٹہلنے لگا۔
شاہ میر نے اپنا موبائل نکال کر ڈی ایس پی مصطفی چانڈیو کو کال کی اسے ساری صورتحال بتا کر اس نے فون رکھ دیا۔
پھر ڈرائیور کی طرف مڑا وہ لوگ عرشمان کو کیسے چھوڑ گئے ہیں۔
صاحب میں جب گاڑی میں پہنچا تو عرشمان بابا سو رہے تھے ۔ان کا بے بی کاٹ سیٹوں کے درمیان رکھا ہوا تھا اور اس پر بی بی جی کی چادر پڑی تھی۔
شاہ میر کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ان لوگوں تک پہنچے اور ان کا وہ حال کرے کے ان کی سات نسلیں یاد رکھیں۔
وہ گہری سوچ میں ہونٹ بھینچے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں بند کیے بہت ضبط سے بیٹھا تھا۔
تبھی اس کے فون پر کال آئی۔
شاہ میر گاڑی کا پتہ چل گیا ہے جو ڈرائیور نے نمبر بتایا ہے ۔
تم کہاں ہو مصطفی ؟؟میں تمہارے ساتھ چلوں گا۔
مصطفی نے اپنی لوکیشن بھیجی شاہ میر جانے کے لئے اٹھا تو ساتھ ہی سکندر بھی چل دیا۔
شاہ میر نے ڈرائیور کو ہدایات دیں کے وہ بچے کو گھر لے جاۓ اور گھر میں بتاۓ کے حزیمہ آفس میں ہے۔
ڈرائیور نے اثبات میں سر ہلایا اور وہ وہاں سے روانہ ہو گئے۔
سعد روحینہ کو لے کر تو آ گیا تھا ۔لیکن وہ اور روحینہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر بے چین تھے۔وہ ایک مظلوم کو انصاف نہیں دلا سکے۔
سعد کو جب سے شاہ میر پر حملے کا پتہ چلا تھا ۔سعد اور روحینہ دونوں ہی ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔
وہ اس حقیقت کق تسلیم کر چکے تھے اگر انہیں انصاف کے لئے آواز اٹھانی ہے تو پھر اپنی عزت ،آبرو سب کچھ داؤ پر لگانا پڑے گا۔جو کے وہ افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔
روحینہ کو ایک ہرائیویٹ سکول میں جاب مل گئی تھی۔وہ اب کچھ مصروف ہو گئی تھی۔
لیکن آج دو تین دن سے اسے کچھ عجیب لگ رہا تھا۔اس کی وجہ تھی سکندر آفندی جو دو دن پہلے سکول کے سالانہ پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی تھی۔
اور روحینہ کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں جو چمک اور شنسائی تھی ۔وہ دنگ رہ گئی۔
لیکن کل وہ جب سکول سے واپس آ رہی تھی۔سٹاپ پر گاڑی کا انتظار کر رہی تھی ۔تبھی وہاں سکندر کی گاڑی آ کر رکی اور اسے لفٹ آفر کی لیکن روحینہ کے انکار پر وہ گاڑی سے نیچے اتر آیا اور اس کے ساتھ آ کر کھڑا ہو گیا۔
دیکھئیے روحینہ میں گھما پھیرا کر بات نہیں کروں گا ۔مجھے آپ پہلی نظر میں ہی آچھی لگی تھی ۔میں آپ کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں ۔میں آپ سے آپ کی مرضی نہیں پوچھوں گا ۔بلکہ میں صرف آپ کو انفارم کر رہا ہوں کے میں اپنے پیرنٹس کو آپ کے گھر بھیج رہا ہوں۔
روحینہ نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا لیکن اس نے اسے کچھ بھی کہنے کا موقع دئیے بغیر وہاں سے چلا گیا۔
وہ اپنی سوچوں میں اس قدر غرق تھی۔اسے پتہ ہی نہیں چلا کے کب سعد اس کے برابر آ کر بیٹھا اور اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔
کیا ہوا کیا سوچا جا رہا ہے؟؟
ہمم !اس نے چونک کر سعد کی طرف دیکھا اور نفی میں سر ہلایا۔
کوئی بات تو ہے؟؟
وہ تفتیش کرنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا۔
مجھے کیا ہو گا ! کچھ بھی تو نہیں ہوا۔
اس نے کندھے اچکاۓ تم کہہ رہی ہو مان لیتا ہوں۔
مصطفی اور شاہ میر اور سکندراس وقت مصطفی کی گاڑی میں بیٹھے تھے۔
گاڑی ایک ویران جگہ پر جا کر رکی اس کے آس پاس کی ساری جگہ خالی تھی۔
یہاں پر کچھ پرانی گاڑیوں کے حصے پڑے تھے۔
دور تک خالی میدان نظر آ رہا تھا۔
ایک طرف کچھ کوڑا کرکٹ پڑا ہوا تھا۔وہاں پر کرے کھڑے بھونک رہے تھے ساتھ کوڑا ایک سائیڈ پر کر رہے تھے۔
یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے شاہ میر نے کہا۔
وہ لوگ پلٹنے لگے تھے تبھی اندھیرے میں شاہ میر کو کوئی چمکتی چیز دیکھائی دی ۔اس نے اٹھا کر دیکھا تو وہ حزیمہ کا جھمکا تھا۔
اور وہ پاگلوں کی طرح اسے آوازیں دینے لگا ۔وہ بھاگتے ہوۓ چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔
تھوڑا سا آگے اسے اس کا دوپٹہ پڑا ہوا ملا۔
سکندر اور مصطفی بھی اس کے ساتھ ہی چل رہے تھے۔
سکندر کی آنکھوں میں لگ رہا تھا خون اترا ہوا ہو۔
شاہ میر تھوڑا سا آ گے جا کر رک گیا۔اس کی لفٹ سائیڈ پر جہاں کوڑا پڑا ہوا تھا ۔اس سائیڈ پر خون کے نشان تھے۔
اس نے اپنے پاؤں کے پاس دیکھا اور پھر باری باری سکندر اور مصطفی کو دیکھا۔
سکندر تو الٹے قدموں چلنے لگا ۔اس کی آنکھوں کے آگے حزیمہ کا معصوم چہرہ آ رہا تھا۔
شاہ میر نے درزیدہ نظروں سے سکندر کو سیکھا اور ہمت کر کے قدم آگے بڑھاۓ تو اسے اینے میں اہنا سانس رکتا ہوا محسو س ہوا۔
