Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

اسلام علیکم سر !!
وعلیکم سلام !! کیسے ہیں آپ رحیم بابا ؟؟
میں ٹھیک ہوں بیٹا ۔ آپ کیسے ہیں؟
اللہ کا شکر ہے۔
بیٹا آج آپ لیٹ ہو گئے ہیں؟؟
جی وہ بس ویسے ہی شاہ میر کو سمجھ نہیں آئی کے کیا جواب دوں۔ وہ آگے بڑھ گیا ۔اپنے آفس میں آ کر بھی وہ الجھا الجھا سا بیٹھا رہا۔مما کی روز کی ایک ہی تکرار سے وہ تنگ آ گیا تھا۔
دیکھو شاہ میر بچے کے لئے ہی سہی لیکن شادی کر لو تم کب تک ملازموں کے سر بچے کو چھوڑو گے۔
اماں مجھ سے اس بارے میں دوبارہ مت کہئے گا ۔میں نے شادی نہیں کرنی میری شادی ایک بار ہو چکی ہے اور اب بس میری زندگی میں اب شادی کہیں نہیں ہے۔
تبھی دروازے پر دستک دے کر حزیمہ اندر داخل ہوئی۔شاہ میر اپنے خیالوں سے باہر آیا۔اسے اس وقت اس کا آنا بہت برا لگا تھا۔
جی فرمائیے میڈم کیسے آنا ہوا ؟؟
جی مسٹر شاہ میر آج بابا آفس نہیں آۓ ہیں اور یہ انہوں نے آپ کے لئے یہ فائل بھیجی ہے۔حزیمہ نے ایک فائل شاہ میر کی طرف بڑھاتے ہوۓ بولی۔
آپ یہ کسی اور کے ہاتھ بھی میرے روم میں
بھجوا سکتی تھیں۔شاہ میر نے کڑے تیوروں سے گھورتے ہوۓ کہا۔
حزیمہ کا چہرہ زلت کے احساس سے سرخ پڑ گیا۔
وہ اپنی جگہ سے آگے بڑھی اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر شاہ میر کی طرف جھک کر بولی !!مسٹر شاہ میر آپ بہت خود پسند اور گھمنڈی انسان ہیں۔یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئی۔باہر نکلتے ہوۓ اس نے دروازہ اتنے زور سے بند کیا کہ سب لوگ خاموش ہو کر حزیمہ کو دیکھنے لگے ۔جو بہت غصے میں اپنے روم کی طرف بڑھ گئی۔
حزیمہ کا دل کر رہا تھا وہ سب کچھ تہس نہس کر دے۔لیکن وہ اپنا تماشہ نہیں بنوانا چاہتی تھی ۔اس لئے کمرے میں مٹھیاں بھینچے یہاں سے وہاں چکر لگا رہی تھی۔
فارس آفندی نے حزیمہ کی پاکستان آمد اور اس کے چینل جوائن کرنے کی خوشی میں اپنے گھر پر ایک پارٹی رکھی تھی ۔پارٹی گھر لے لان میں رکھی گئی تھی۔
پورا آفندی ہاؤس اس وقت روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔سیکیورٹی کا بھی سخت انتظام کیا گیا تھا۔ملک کے نامور صحافی اپنی بیگمات کے ہمراہ مدعو تھے۔ سارے مہمان آ گئے تھے لیکن جس کے لئے یہ پارٹی رکھی گئی تھی وہ کہیں نہیں تھیں۔بے ہنگم سا لائیو میوزک چل رہا تھا۔فرمائشی گانا تھا جو کے اکثر لوگوں کو پسند نہیں آ رہا تھا۔
زائرہ آفندی اور فارس آفندی ایک ایک مہمان کے پاس جا رہے تھے۔تبھی گیٹ سے اندر شاہ میر اندر داخل ہوا فارس آفندی جلدی سے اس کی طرف بڑھے ۔وہ اس بہت گرمجوشی سے ملے ۔
بہت خوشی ہوئی شاہ میر تم آۓ۔”شاہ میر نے آنے سے انکار کر دیا تھا لیکن فارس آفندی کے مجبور کرنے پر وہ چلا آیا۔”
تبھی ایک سائیڈ ہر بیٹھے فنکار نے نیا گانا شروع کیا۔
سات سمندر پار گئی میں
خود ہی خود کی نہیں رہی میں
تبھی ایک سائیڈ سے سی گرین کلر کی ساڑھی میں ملبوس حزیمہ آتی دیکھائی دی ۔اس کی پہلی نظر شاہ میر پر ہی پڑھی ۔شاہ میر بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔حزیمہ کے دیکھنے پر اس نے نظریں پھیر لیں ۔وہ آج کی پارٹی کی جان تھی۔ہر نظر آ کر اس پر ہی رک رہی تھی ۔وہ اپنی جاندار مسکراہٹ سے ہر کسی کو اپنے سحر میں جھکڑ رہی تھی۔
حزیمہ کی ڈریسنگ دیکھ کر شاہ میر کو وہ اور بھی بری لگی۔جس کےے بلاؤز سے اس کی کمر او ر پیٹ نمایاں نظر آ رہا تھا۔سلیوس لیس بازو سے اس کے سفید بازو نمایاں ہو رہے تھے۔شاہ میر ایک سائیڈ پرجا کر بیٹھ گیا۔جہاں سے وہ کسی کو نظر نہیں آ رہا تھا۔
حزیمہ کو دیکھ کر شاہ میر کی رگ رگ میں اس کے لئے نفرت بڑھ رہی تھی۔اسے خود بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کے وہ اسےکیوں اتنی بری لگ رہی تھی ۔
حزیمہ کی نظریں نہ چاہتے ہوۓ بھی اسے ہی ڈھونڈ رہی تھی۔پھر وہ اسے ایک کونے میں بیٹھا نظر آ ہی گیا۔
کھانے کا دور چلا تو حزیمہ فارس آفندی کے پاس آئی ۔پاپا آپ کا چہیتا اینکر کونے میں بیٹھا ہے اسے بھی کھانے کے لئے لے آئیں۔
وہ حزیمہ کی بات پر کھل کر ہنسے ” میرے چہیتا۔”
اور شاہ میر کی طرف چلے گئے۔
کھانے کے بعد فارس آفندی شاہ میر اور کچھ نامور صحافی اپنی باتوں میں مگن تھے ۔تبھی وہاں حزیمہ چلی آئی۔
آؤ حزیمہ تم بھی اپنی راۓ دو موجودہ حکومت کے بارے میں اس کی کارکردگی کے بارے میں۔
سر آپ سب لو گوں کی موجودگی میں میں کیا کہوں۔بس اتنا کہوں گی کے اس حکومت کو بھی وقت دیں جیسے اس سے پہلے کی پارٹیز کو ہم تیس تیس سال دیکھ چکے ہیں۔
جو کام وہ لوگ تیس سال میں نہیں کر سکے وہ کام ہم چاہتے ہیں یہ حکومت کچھ دنوں میں کر لے۔
اور اتنے دنوں میں شاہ میر کو اس کی یہ واحد بات تھی جو آچھی لگی تھی۔