Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

آج حزیمہ کو ایک نامور ٹی وی چینل کے پروگرام میں ایک ایکسپرٹ کے طور پر بلایا گیا تھا۔
حزیمہ کے ساتھ کچھ حکومتی اور کچھ اپوزیشن کے لوگ بھی موجود تھے۔یہ اپنی طرز کا ایک یونیک پروگرام تھا ۔جس میں بجاۓ اینکر کے تند وتیز سوالات کی جگہ ناظرین کو بلایا گیا تھا۔تاکہ لوگ اپنے نمائندوں سے آمنے سامنے بات کر سکیں۔
حزیمہ پروگرام شروع ہونے سے کوئی دس منٹ پہلے پہنچی تھی ۔پروگرام کی ڈائریکٹر ہانیہ میر حزیمہ کی بہت آچھی دوست تھی۔
ویلکم حزیمہ!
تھینک یو!
کیسی ہو!
میں ٹھیک ہوں ! تم کیسی ہو؟؟
میں بھی ٹھیک ہوں ۔تم اکیلی آئی ہو؟؟
کیوں کسی اور کو بھی آنا تھا؟
کیوں تمہیں نہیں پتہ آپ لوگوں کی چینل سے شاہ میر سر بھی آ رہے ہیں نہ؟؟
ویل …….میں تو گھر سے آئی ہوں تو وہ آ رہے ہوں گے۔
تھوڑی دیر کے بعد ہی شاہ میر بھی وہاں چلا آیا۔وہ شاید جانتا تھا کے وہ یہاں آنے والی ہے۔
حزیمہ اسے دیکھ کر اپنی دوسری طرف موجود شخصیت کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئی۔ شاہ میر اس کی برابر والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
اینکر مسعود احمد پروگرام کاآغاز کیا تو حزیمہ سامنے کی طرف دیکھنے لگی اس نے ادھر ادھر نظر گھماتے ہوۓ غیر ارادی طور پر شاہ میر کو دیکھا وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔اس سے پہلے حزیمہ اپنی نظروں کا زاویہ بدلتی شاہ میر نے سر کی جنبش سے حزیمہ کو سلام کیا ۔
حزیمہ نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا اور سامنے دیکھنے لگی۔
پروگرام کے دوران اپوزیشن پارٹی کے سمیع خان کسی بات پر الجھ کر حزیمہ کو برا بھلا کہنے لگے۔
دیکھئے محترمہ آپ کو ابھی پاکستان آۓ ہوۓ ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوۓ ۔آپ کیا جانتی ہیں پاکستان میں پچھلے تین سال سے کیا ہو رہا ہے۔
ان کی بات کا جواب دینے کے لئے حزیمہ نے منہ کھولا ہی تھا اس سے پہلے شاہ میر بول پڑا ۔
دیکھیا سر بےشک ہم لوگ پاکستان سے دور ہوں لیکن ہم یہاں کے بارے میں تمام معلامات رکھتے ہیں۔اور یہ کون سا کوئی چاند پر گئیں تھیں جہاں پر دنیا کے بارےنیوز نہیں پہنچا رہیں تھیں۔
دو گھنٹے کے پروگرام میں خوب گرما گرمی ہوئی ۔
ہروگرام کے بعد شاہ میر وہاں سے نکل گیا جبکے حزیمہ ڈرائیور کا انتظار کرنے لگی۔تبھی اس نے شاہ میر کو دوبارہ اندر آتے دیکھا۔
حزیمہ آپ آئیے میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں میں نے سر سے کہا تھا کے میں آپ کوڈراپ کر دوں گا۔
نہیں آپ کو تکلیف ہو گی ۔میں پاپا کو کال کروں گی وہ ڈرائیور کو بھیج دیں گے۔
نہیں تکلیف کیسی آپ آ جائیے۔
حزیمہ کو اپنا بیگ اٹھا تا دیکھ کر وہ آگے چل دیا۔
**ؔؔ*
سعد دیکھو میں تمہیں کہہ رہی ہوں میری ڈائجسٹ مجھے جلدی سے واپس کرو۔
آچھا ڈائجسٹ چاہئے ؟؟
روحینہ نے زور و شور سے سر اثبات میں ہلایا۔
اوکے !اگر ڈائجسٹ چاہئے تو پہلے مجھے پکوڑے بنا کے دو۔
مرتی کیا نہ کرتی کے مصدق روحینہ چپ چاپ صحن کے کونے میں بنے چھوٹے سے کچن کی طرف چل دی ۔کیونکہ اگر تائی رابعہ کو روحینہ کے ڈائجسٹ پڑھنے کا پتہ چل جاتا تو اس کی خیر نہیں تھی۔
روحینہ نے پرائیوٹ بی اے کیا ہوا تھا۔وہ اپنے گاؤں میں موجود واحد پرائیوٹ سکول میں پڑھاتی تھی۔ اسی سکول میں اس کی دوست سمیرا تھی جس کا بھائی شہر میں پڑھتا تھا ۔وہ شہر سے اس کے لئے کتابیں اور ڈائجسٹ لاتا تھا ۔اور روحینہ اس سے وہ لے کر پڑھتی تھی۔
روحینہ کی ماں اسے کے پیدا ہوتے ہی اس دنیا سے چل دی۔اور باپ تو تھا ہی نشئی کبھی گاؤں کے کس کونے میں پڑھا ہوتا اور کبھی کہاں ۔روحینہ کو اس کی تائی نے ہی پالا تھا تائی رابعہ اور تایا حمید کا اپنا ایک ہی بیٹا سعد تھا۔تایا کی اپنی پرچون کی دوکان تھی جس سے آچھا منافع حاصل ہوتا تھا۔
اس طرح ان کا گزر بسر آچھا تھا ۔سعد شہر میں پڑھتا تھا۔وہ پڑھائی میں بہت آچھا تھا۔وہ جرنلزم یں ماسٹرز کر رہا تھا۔ان دونوں کے کوئی سگا بھائی بہن نہیں تھا ۔اس لئے وہ دونوں ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے تھے۔
سعد بالکل بڑے بھائیوں کی طرح پیش آتا تھاروحینہ سے تائی کا رویہ بھی با ٹھیک ہوتا تھا۔وہ اسے کچھ بھی نہیں کہتئ تھی لیکن روحینہ کے باپ کو گھر کے اندر داخل نہیں ہونے دیتی تھی ۔
روحینہ پہلے پہل اپنے باپ کو تائی سے چھپا کر روٹی دے دیتی تھی۔اور پھر اس نے سعد سے بات کی تو وہ انہیں اپنے ساتھ شہر لے گیا اور انہیں ہسپتال میں بھرتی کروا دیا۔ سعد نے اسے بتایا تھا کے وہ ہسپتال والوں کو ہر ماہ آچھے خا صے پیسے دیتا ہے ۔
وہ آج بہت دنوں کے بعد سمیرا سے ملنے آئی تھی۔
تمہیں پتہ ہے سعد بتا رہا تھا ابا کو وہاں بہت آچھا کھانا بھی دیتے ہیں۔
چلو آچھا ہے تمہاری فکریں تو ختم ہوئیں۔


حزیمہ گھر پہچی تو اس کے لئے سرپرائز تھا ۔سامنے ہی اس کا بھائی سکندر تھا۔وہ دونوں پورے چھے سال کے بعد مل رہے تھے۔
بھیا کہہ کر حزیمہ سکندر کے گلے لگ گئی۔
اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
وہ شاید اب بھی نہ آتا اگر حزیمہ اگر اسے اپنی قسم نہ دیتی تو۔
سکندر آکسفورڈ کا پڑھا تھا آج سے سات سال پہلے جب وہ لندن سے لوٹا تو فارس آفندی نے اس کے آنے کی خوشی میں بہت بڑی پارٹی رکھی ۔اسی پارٹی میں سکندر کو گارس آفندی کے بزنس حریف سفیان خانزادہ کی حسین وجمیل بیٹی روحا پسند آ گئی ۔
جب سکندر نے باپ سے پسندیدگی کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا سوچے بھی مت۔وہ اس لڑکی کو اپنی بہو کبھی نہیں بنائیں گے۔