Dil Hari By Zarish Noor Readelle50167 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
سعد آج گاؤں سے روحینہ اماں اور ابا کو بھی ساتھ لے آیا تھا۔رابعہ بیگم گاؤں چھوڑتے ہو ۓ بہت آبدیدہ تھیں۔
روحینہ نے بھی ایک آخری چکر اپنے سکول کا لگایا اور دل گرفتہ سی واپس آئی۔
جس وقت وہ لوگ شہر پہنچے رات ہو گئی تھی۔
سعد انہیں فلیٹ پر چھوڑ کر خود ان کے کھانے کے لئے کچھ لینے چلا گیا۔
وہ لو ٹا تو رابعہ بیگم روحینہ کو لتاڑ رہی تھیں۔سب کچھ اس لڑکی کی وجہ سے ہوا ہے ۔اگر یہ اپنا منہ بند رکھتی تو ہمیں آج اپنا گھر نہ چھوڑنا پڑتا۔
سعد نے کھانا کچن میں رکھا اور روحینہ کو جا کر کھانا لگانے کے لئے بولا اور خود آ کر رابعہ بیگم کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
دیکھ سعد اب تو مجھے لیکچر نہ دینا۔مجھے پتہ ہے تو اب اس لڑکی کی وکالت کرے گا۔
سعد نے ان کے گرد اپنے بازوں پھیلاۓ اماں آپ جانتی ہیں ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش رہنا خود پر ظلم ہے۔آج اگر روحینہ خاموش رہتی تو کل یہ سب کچھ اس کے ساتھ بھی ہو سکتا تھا۔
اماں انسانوں کو اشرف المخلوقات اسی لئے کہا گیا ہے کیونکہ ہمیں آچھے اور برے کی رمیز ہے ۔ہم ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہتے ہیں ۔
اماں اگر ہر شخص صرف اپنے بارے میں سوچے تو پھر یہ دنیا کیسے چلے گی۔
اماں آج کے بعد آپ روحینہ کو کچھ نہیں کہیں گی۔
شاہ میر ملک آج کل ایک بہت ہی پاورفل سیاستدان کے خلاف پروگرام کر رہا تھا۔اس سیاستدان پر الزام ہوتا ہے کے اس نے اپنے گھر میں کام کرنے والی ایک لڑکی کے ساتھ زیادتی کی ہے۔
دانی نامی لڑکی نے فون پر شاہ میر سے رابطہ کیا تھا اور مجتبی لاکھانی کی ساریی حقیقت کھول دی تھی۔
شاہ میر نے اس لڑکی کو شہر بلایا تھا ۔اور اب اسے اور اس کے ماں باپ کو کسی خاص جگہ پر رکھا ہوا تھا۔
جہاں کے بارے میں کسی کو بھی پتہ نہیں تھا۔
وہ ایک دو دن میں اس لڑکی کو اپنے پروگرام بلا کر لائیو شو کرنے والا تھا۔اس لئے ان دنوں اسے دھمکی بھرے پیغامات موصول ہو رہے تھے۔
ابھی شاہ میر نے پروگرام ختم کیا تھا ساتھ ہی گھر سے کال آئی کے عرشمان کی طبعیت خراب ہے ۔اس لئے وہ اپنی چیزیں سمیٹتا ہوا انٹرکام پر حزیمہ سے بات کرنے لگا۔
حزیمہ فری ہو گئی ہو؟؟
جی ہاں! کیوں؟؟
ہمیں گھر کے لئے نکلنا ہو گا۔اماں کی کال آئی ہے عرشمان کی طبعیت خراب ہے ۔
ٹھیک ہے چلتے ہیں میں بس اپنی چیزیں سمیٹ لوں۔
اوکے میں گاڑی میں تمہارا ویٹ کر تا ہوں۔
اوکے!
وہ جلدی سے اپنی چیزیں سمیٹ کر بھاگنے کے انداز میں نیچے آئی۔
شاہ میر گاڑی سٹارٹ کیے اسی کا انتظار کر رہا تھا۔حزیمہ بھاگتی ہوئی آئی اور پھولے سانس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی۔
شاہ میر نے مسکرا کر اسے دیکھا۔تم آرام سے بھی آ سکتی تھی ۔میں نے تمہیں دیر سے آنے پر کچھ نہیں کہنا تھا۔وہ جو آفس میں تمہارا بھائی بیٹھا یہ سب دیکھ رہا ہوا تو کہے گا کیا پتہ میں تم پر کون سے ظلم کے پہاڑ توڑتا ہوں ۔
حزیمہ نے حیران ہو کر شاہ میر کو دیکھا وہ عموما اتنی باتیں کرتا نہیں تھا۔
کیا ہوا مجھے نظر لگانے کا ارادہ ہے جو اتنے غور سے دیکھ رہی ہو۔
حزیمہ نے سٹپٹا کر نظریں پھیر لیں وہ اسے کیسے بتاتی کے وہ اسے اس وقت کتنا اپنا اپنا لگ رہا تھا۔
ان کی گاڑی نے تھوڑا سا فاصلہ طہ کیا تھا شاہ میر نے سائیڈ مرر میں ایک بلیک کرولا کو ان کا پیچھا کرتے دیکھا ۔اس نے ایک نظر حزیمہ کی طرف دیکھا لیکن وہ اپنے خیالوں میں گاڑی سے باہر دیکھ رہی تھی۔
شاہ میر نے اپنی گاڑی کی رفتار تیز کر دی ساتھ ہی اپنا موبائل حزیمہ کی طرف بڑھایا۔
کانٹیکٹ لسٹ میں ڈی ایس پی مصطفی چانڈیو کا نمبر ہے کال ملاؤ اور فون سپیکر پر رکھو۔
حزیمہ نے سکندر کے چہرے پر پریشانی دیکھی اور بغیر کسی سوال جواب کے اس کی ہدایات پر عمل کیا۔
ہیلو مصطفی !شاہ میر بات کر رہا ہوں۔
جی شاہ میر کیسے ہو ؟؟
ابھی تک تو ٹھیک ہوں آگے کا نہیں پتہ ۔
کیا مطلب کیا کہہ رہے ہو
مصطفی میری بات غور سے سنو میں اس وقت گھر جانے والے راستے پر ہوں لیکن میں گھر جانے کا خطرہ نہیں مول سکتا ۔میں اپنی گاڑی کو اپنے گھر سے آگے لے کر جا رہا ہوں ۔تم مجھے بتاؤ کتنی دیر تک مجھ تک پہنچ سکتے ہو۔
میں پندرہ منٹ میں پہنچ آؤں گا۔تم بس کال کٹ نہیں کرنا ۔
اوکے ۔
شاہ میر نے اپنی گاڑی کی سپیڈ تیز کی اور اپنے گھر والے راستے کی بجاۓ سی سائیڈ جانے والے راستے پر گاڑی ڈال دی۔
پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد دور کہیں شاہ میر کو پولیس سائرن کی آواز سنائی دی اور اس نے اپنے پیچھے آتی گاڑی کو جلدی سے بائیں طرف مڑتے دیکھا۔
تب تک ہولیس کی گاڑی شاہ میر کے پاس پہنچ چکی تھی ۔ایک گاڑی جس میں مصطفی تھا وہ شاہ میر کی گاڑی کے ہاس رک گئی ۔جبکہ دوسری گاڑی شاہ میر کی نشاندہی پر اس گاڑی کا پیچھا کرتے ہوۓ روانہ ہو گئی۔
اگلے دس منٹ مصطفی کو وائرلیس پہ پیغام موصول ہوا کے وہ گاڑی تو مل گئی ہے لیکن خالی ہے۔
مصطفی نے اپنے ماتحت آفیسر کو چند ضروری ہدایات دیں اور شاہ میر سے اجازات لیتا ہوا روانہ ہو گیا۔
شاہ میر بھی گھر کی طرف روانہ ہوا۔گھر پہنچ کر شاہ میر اور حزیمہ زکیہ بیگم کے پاس آۓ تو انہوں نے بتایا کے عرشمان اب بہتر ہے دوائی دینے کے بعد وہ سو گیا تھا اور اس کا بخار بھی اتر چکا ہے۔
شاہ میر نے آگے بڑھ کر بےبی کاٹ میں جھک کر اس کی پیشانی چومی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
حزیمہ نے دیکھا عرشمان سوتے میں کسمسا رہا تھا ۔اس نے اسے اٹھا کر دیکھا تو اس کے سارے کپڑے گیلے تھے۔
اس نے اسے بےبی کاٹ سے نکال کر بیڈ پر رکھا اور سکینہ بی سے اس کے کپڑے مانگے وہ اس کا پیمپر بدل کر کپڑے تبدیل کر رہی تھی تبھی شاہ میر اندر داخل ہوا ۔حزیمہ کو عرشمان کے ساتھ مصروف دیکھ کر خاموشی سے باہر نکل گیا۔
حزیمہ اس کے کپڑے تبدیل کر کے اسے سلا کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
وہ کمرے میں آئی تو شاہ میر بیڈ پر بیٹھا موبائل پہ بات کرنے میں مصروف تھا۔
حزیمہ واش روم میں کپڑے چینج کر کے واپس آئی ۔تو شاہ میر نے موبائل اس کی طرف بڑھا دیا۔
اسلام علیکم!
وعلیکم سلام ! کیسی ہو دوسری طرف فارس آفندی تھے۔
ٹھیک ہوں اس نے مختصر جواب دیا اور ساتھ کن اکھیوں سے شاہ میر کی طرف دیکھا ۔جو مکمل طور پر اس کی طرف ہی متوجہ تھا ۔حزیمہ نے رخ موڑ لیا۔
میں چاہتا ہوں تم لوگ کچھ دنوں کے لئے ہماری طرف شفٹ ہو جاؤ جب تک یہ معاملہ سلجھتا۔
نہیں ہم لوگ اپنے گھر میں ہی ٹھیک ہیں۔
دیکھو حزیمہ تم شاہ میر کو بھی سمجھاؤ اور بس کچھ دنوں کی بات ہے۔
نہیں شاہ میر جو کہہ رہے وہی ٹھیک ہے۔یہ کہہ کر اس نے دوسری سائیڈ کی بات سنے بغیر کال کٹ کر دی۔
وہ لائٹ آف کر کے شاہ میر کے برابر لیٹ گئی۔
شاہ میر تھوڑی دیر کچھ سوچتا رہا پھر اس نے اپنے دائیں طرف مڑ کر دیکھا اسے لگا وہ رو رہی ہے ۔اس نے سائیڈ لیمپ روشن کیا تو حزیمہ نے رخ پھیر لیا۔
شاہ میر نے نرمی سے اسے اپنی طرف موڑا تو رونے کی وجہ اے اس کی آنکھیں سوجھی ہوئی تھی۔نہ جانے وہ کب سے رو رہی تھی۔اسے گاڑی میں بھی فیل ہوا کے وہ رو رہی ہے لیکن اس اسے اپنا وہم جانا۔
کیا ہوا کیوں رو رہی ہو ؟؟شاہُ میر نے فکرمندی سے پوچھا۔
حزیمہ اٹھ کر بیٹھ گئی آپ پوچھ رہے ہیں کیا ہوا ہے۔
آپ جانتے ہیں اگر آج وقت پر پولیس نہ پہنچتی تو کیا ہوتا۔
شااہ میر تھوڑا ریلیکس ہوا۔میں سوچا نہ جانے تمہیں کیا ہوا ہے۔
آپ کو یہ بات معمولی لگ رہی ہے میرے لئے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔
میں اپنی جان دے دیتا لیکن تمہیں کچھ نہیں ہونے دیتا ۔میں اپنے سے جڑےرشتوں کا خیال رکھنا جانتا ہوں۔
آپ کو کچھ ہو جاتا تو میں ایسی زندگی جی کر کیا کرتی۔اسے روانی میں بولتے سمجھ ہی نہیں آئی کے وہ کیا کہہ رہی ہے۔
بات تب اس کی سمجھ آئی جب اس نے شاہ میر کو دل چسپی سے اپنی طرف دیکھتے پایا۔اس نے زبان اپنے دانتوں تلے دبا لی اور نظریں جھکا لیں۔
شاہ میر اپنے اور اس کے درمیاں فاصلے کو پاٹتے ہوۓ اس کے قریب ہوا اور اس کے گرد بازوں پھیلا کر اسے اپنے قریب کر لیا اور جھک کر اس کی تھوڑی پر موجود تل پر اپنے ہونٹ رکھ دئے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
