Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3


حیا کی شاہ میر کی زندگی میں آئی اسے لگا کے وہ دنیا کا امیر ترین آدمی ہے ۔وہ کم پڑھی لکھی تھی اسے شہر میں رہنے والے لوگوں کے بہت سے طور طویقے نہیں آتے تھے ۔لیکن وہ شاہ میر کی پسند تھی اس نے شاہ میر کو اور اس کے گھر کو مکمل کر دیا تھا۔شاہ میر کو اب اماں کی بھی فکر نہیں رہی تھی اب وہ گھر میں اکیلی نہیں تھی۔شادی کے چوتھے ماہ ڈاکٹر نے انہیں خوشخبری سنائی کے وہ ماں بننے والی ہے۔وہ بہت خوش تھی اور شاہ میر اس کی خوشی میں خوش تھا۔
اس کے کالج لائف میں بہت سی خوبصورت لڑکیاں اس کی زندگی میں آئیں بہت ساری لڑکیوں خود اس کی طرف پیش قدمی کی لیکن شاہ میر نے کبھی کسی لڑکی کو لفٹ نہیں کروائی ۔اس کا ریزرو سا رویہ دیکھ کر لڑکیاں خود ہی پیچھے ہٹ جاتی تھیں۔
جوں جوں دن گزر رہے تھے حیا کی طبعیت خراب رہنے لگی تھی ۔ڈاکٹرز کہتے تھے کے وہ بہت کمزور ہے اور اسے خون کی کمی ہے۔شاہ میر اس کا ہر طرح کا خیال رکھتا تھا۔اس نے آفس جانا بھی کم کر دیا تھا ۔وہ صرف شام کو دو گھنٹے کے لئے جاتا تھا۔
آج بھی وہ پروگرام ختم کر کے گھر کے لئے نکل رہا تھا تبھی زکیہ بیگم کی کال آئی کے حیا کی طبعیت خراب ہے تم جلدی سے گھر آ جاؤ۔وہ اندھی طوفان کی طرح گھر پہنچا ۔حیا کی حالت دیکھ کر اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے وہ درد کی شدت سے تڑپ رہی تھی۔اس نے اسے بانہوں میں اٹھایا اور گاڑی میں ڈال کر ہاسپٹل پہنچایا۔تین گھنٹے لیبر روم میں رہنے کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کے انہیں آپریشن کرنا پڑے گا۔لیکن ماں اور بچے کو کچھ بھی ہو سکتا ہے اس لئے آپ یہاں لکھ کر دیں کہ اگر ایسا کچھ ہوا تو ہاسپٹل اس کا زمہ دار نہیں ہو گا۔شاہ میر نے دستخط کیے اور بولا ڈاکٹر پلیز میری مسز کو بچا لیں ۔ڈاکٹر نے اسے حوصلہ دیا اور آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھ گئی ۔ایک گھنٹے کے بعد ایک صحت مند بچہ کمبل میں لپٹا ہوا ڈاکٹر نے لا کر شاہ میر لی گود میں دیا۔
مسٹر شاہ میر اللہ کو ایسے ہی منظور تھا ہم ماں کو نہیں بچا سکے۔
شاہ میر کو کچھ ہوش نہیں تھا کے وہ کیسے گھر پہنچا اور کب تدفین ہوئی۔ ایک ہفتہ گاؤں میں رہنے کے بعد وہ واپس شہر آ گیا۔
دو ماہ تو وہ گھر پر ہی رہا اسے کچھ بھی کرنے کا دل نہیں کرتا تھا ۔پھر دو ماہ کے بعد گاؤں سے پھپھو آئیں عرشمان سے ملنے تو انھوں نے شاہ میر کو سمجھایا مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا تمہیں جینا ہے تمہاری ماں ہیں بیٹا ہے ۔مجھے دیکھو میں ماں ہو کر بھی اللہ کی دی ہوئی آزمائش سمجھ کر صبر کر چکی ہوں ۔
ان کی باتوں کا ہی اثر تھا کے پورے دو ماہ کے بعد شاہ میر نے دوبارہ سے آفس جوائن کیا۔
ؔ
فارس آفندی اپنی بیگم زائر ہ آفندی کےساتھ بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے تبھی ان کی لاڈلی بیٹی حزیمہ وہاں آئی بلیو جینز پر بلیو کلر کی ہی شرٹ پہنے بالوں کو ڈھیلہ سا جوڑا بناۓ وہ آفس جانے کے لئے تیار تھی ۔
بابا چلیں!
نہیں بابا کی جان آپ جاؤ میں بعد میں آؤں گا۔
اوکے اللہ حافظ اس نے آکر زائرہ بیگم کے گال پر ایک بوسہ دیا اور اپنا بیگ لئے نکل گئی۔
آفس کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتی ہوۓ بس ایک پل کے لئے اس نے دروازے پر کھڑے سیکیورٹی گارڈ کو سلام کیا اور ان کی طرف دیکھتے ہوۓ دروازہ دھکیلا اور ٹھیک اسی وقت شاہ میر بھی باہر آ رہا تھا ۔حزیمہ نے جوں ہی آگے مڑی اس کا سر جا کر شاہ میر کے چوڑے سینے جا ٹکرایا۔ ایک سرعت اے بھی پہلے شاہ میر نے حزیمہ کا سر پیچھے کیا۔اور غصے میں دھاڑا ہیلو میڈم ہوش میں رہ کر چلیں۔
جی میں ہوش میں ہی ہوں البتہ اپ لگتا ہے صبح صبح ہوائی گھوڑے پر سوار ہیں ۔
شاہ میر نے حزیمہ کے چہرے پر ایک قہر برساتی نظر ڈالی اور باہر نکل گیا۔
حزیمہ آج سارا دن بہت بزی رہی اس نے تمام پروگراموں کا جائزہ لیا اور سب کے ساتھ میٹنگ کر کے ان کے فارمیٹ میں تھوڑی بہت تبدیلی کی ماسواۓ شاہ میر کے پروگرام کے۔
وہ اپنا سامان سمیٹ رہی تھی تبھی شاہ میر کسی آندھی طوفان کی طرح حزیمہ کے روم میں داخل ہوا اوراس کے آگے ایک فائل پھنکی۔
مس آپ کی ہمت کیسے ہوئی کے آہ مجھے شاہ میر ملک کو ڈیکٹیشن دیں ۔وہ بہت غصے میں تھا۔
حزیمہ نے بھی اس پر ایک سخت نظر ڈالی اور وہ فائل اٹھا لی اس نے فائل پر ایک نظر دوڑائی اور شاہ میر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
کیا ہے یہ؟
یہی میں آپ سے پوچھنے آیا ہوں کیا ہے یہ۔
دیکھئے مسٹر یہ میں نے آپ کو نہیں بھیجی ویسے بھی میری اردو کی لکھائی اتنی آچھی نہیں ہے۔
شاہ میر نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا اور حزیمہ کے ہاتھ سے فائل لے کر باہر نکل گیا۔
پیچھے حزیمہ ایک سرد آ بھر کر اپنی سیٹ پر گر گئی ۔وہ اپنے دل سے پریشان ہو گئی تھی جو صبح اس کی آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک بس ہمک ہمک کر ایک ہی بات کہتا تھا کے اسے شاہ میر ملک چاہئے۔اور وہ روز اس کو تھپک تھپک کر سلا رہی تھی۔لیکن وہ نہیں جانتی تھی کے اس کے اس دل اس شخص کے پیچھے اور کتنا اسے خوار کرے گا۔ ❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️