Dil Hari By Zarish Noor Readelle50167 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
شاہ میر اور حزیمہ جس وقت گھر پہنچے رات کے دس بج رہے تھے۔شاہ میر گھر پہنچتے ہی زکیہ بیگم کے کمرے میں پہنچا اس نے سے مل کر وہ سکینہ بی سے عرشمان کو لے کر اس کے ساتھ کھیلنے لگا۔
حزیمہ بھی اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوئی اور زکیہ بیگم کے ہاس ہی بیٹھ گئی۔وہ کن اکھیوں سے شاہ میر کو دیکھ رہی تھی جو دنیا جہاں کو بھلاۓ عرشمان کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
زکیہ بیگم نے حزیمہ سے اس کے ماں باپ کی خیریت دریافت کی۔
تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد حزیمہ اپنے کمرے میں آگئی
شاہ میر بارہ بجے کمرے میں آیا تو وہ موبائل پر مصروف تھی ۔شاہ میر نے صوفے پر بیٹھ کر اپنے جوتے اتاری ساتھ ساتھ ایک اچٹتی سی نظرحزیمہ پر بھی ڈال لیتا تھا۔
حزیمہ نے کال بند کر کے بیڈ سے اتر آئی ۔اب وہ انتظار کر رہی تھی کے شاہ میر صوفہ خالی کرے اور وہ وہاں بیٹھے۔شاہ میر اپنی جگہ سے اٹھا اور بیڈ کی طرف بڑھا حزیمہ جلدی سے صوفے کی طرف بڑھی تو دونوں کی زور کی ٹکر ہوئی۔
شاہ میر نے حزیمہ کو گھورا۔
مجھے کیوں گھور رہے ہیں۔آپ کے پاس بھی آنکھیں ہیں آپ بھی دیکھ کر چل سکتے ہیں نہ۔
راستہ دو! شاہ میر نے اس کے جواب میں بس اتنا ہی کہا۔
میں کوئی گاڑی ہوں جو آپ کو راستہ دوں ۔گزر جائیں نہ میں تو ایک جگہ پر کھڑی ہوں ۔حزیمہ شاہ میر کے جواب پہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہو گئی۔
شاہ میر نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور اپنے اور اس کے درمیان کا فاصلہ ختم کرتا ہوا اس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
حزیمہ کا دل زور زور اے دھڑکنے لگا ۔اسے لگا ابھی نکل کر باہر آ جاۓ گا۔
شاہ میر اس کی طرف جھکا اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر آگے بڑھ گیا۔
وہ واش روم سے نکلا تو حزیمہ کو اسی پوزیشن میں کھڑا پایا جیسے چھوڑ کر گیا تھا۔بس اس نے اپنا دایاں ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا ہوا تھا۔
شاہ میر مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا اور گلہ کھنکھار کر اسے متوجہ کیا۔
حزیمہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔
سونا نہیں ہے آج؟؟
جی یہ کہہ کر حزیمہ آگے بڑھی تو شاہ میر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک جھٹکا دیا اور وہ اس کے سینے سے آ لگی ۔
حزیمہ نے آنکھ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو وہ اس کی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکی۔
اس کی نظریں جھکانے پر شاہ میر کو حیا کی یاد آئی اور اس کی گرفت حزیمہ کے گرد کمزور ہو گئی۔
وہ حزیمہ کو چھوڑ کر بالکونی کی طرف بڑھ گیا۔
حزیمہ کی آنکھوں میں زلت کے احساس سے آنسو آ گئے۔
روحینہ اور سمیرا آج سکول سے واپس آ رہی تھیں۔تبھی گاؤں کے چوہدری ریاض کا بیٹا بلال چوہدری کی گاڑی ان کے پاس آ کر رکی۔
وہ دونوں ڈر کر ایک دوسرے کے چھپنے کی کوشش کرنے لگیں۔
بلال اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا نیچے اترا اور سیگریٹ کے کش لگاتا ہوا سمیرا کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔
کیسی ہو استانی ؟ وہ لوفر انداز میں سیگریٹ کا دھواں سمیرا کے منہ پر چھوڑتا ہوا بولا۔
راستہ دو ہمیں؟؟
ارے میں نے کون سا تمہارے راستے میں کوئی کانٹے بچھاۓ ہوۓ ہیں جہاں سے دل کرتا ہے گزر جاؤ۔
ویسے تمہارا دل کرے تو گم ہمارے دل پر بھی پاؤں رکھ کر گزر سکتی ہوجان من۔
سمیرا نے اسے غصیلی نظروں سے دیکھا۔
ایسے تو نہ دیکھو جانہ ۔
بلال چوہدری آج کے بعد میرا راستہ نہیں روکنا نہیں تو میں بھا کو بتاؤں گی۔
چوہدری بلال نے ایک زوردار قہقہ لگایا۔
بھا کو بتاۓ گی۔
تبھی دور کھیتوں سے کسی موٹر سائیکل کی آواز آئی تو وہ گاڑی میں بیٹھ کر رفو چکر ہو گیا۔
موٹر سائیکل قریب آئی تو اس میں سعد تھا۔
تم دونوں ادھر کھڑی کیا کر رہی ہو؟؟؟
کچھ نہیں گھر جا رہی تھی تمہیں آتا دیکھ کر رک گئے ہیں۔ روحینہ نے جلدی سے بات بنائی۔
وہ گھر پہنچی تو سعد تایا حمید کو بتا رہا تھا کے اسے ایک نیوز چینل میں جاب مل گئی ہے۔
روحینہ سن کر بہت خوش ہوئی اور تائی کی گھوریوں کو نظر انداز کرتی ہوئی بولی۔سعد مجھے تو ٹریٹ چاہئے۔
آچھا بولو کیا کھانا؟؟؟
مجھے نہ نزیرے کے ٹھلے سے گول گپے کھانے ہیں۔
چلو ٹھیک ہے میں جا کر لے آتا ہوں۔
ارے ارے بچہ ابھی تھکا ہارا گھر آیا ہے اور ابھی واپس جاۓ گا ۔کوئی نہیں کل لے آنا۔تائی رابعہ روحینہ کو گھورتے ہوۓ بولی۔
نہیں اماں کوئی بات نہیں میں لے آتا ہوں اور میں کون سا پیدل آیا ہوں جو تھک گیا ہوں۔
شاہ میر کی نماز کے وقت آنکھ کھلی وہ وضو کر کے واپس آ یا تو دیکھا حزیمہ کا ایک بازو صوفے سے نیچے لٹک رہا تھا۔اس نے اس کا بازو اٹھا کر اوپر رکھا ۔اس کے ہاتھ لگانے سے حزیمہ کی آنکھ کھل گئی تھی لیکن اس نے آنکھیں نہیں کھولیں۔
شاہ میر تھوڑی دیر کھڑا اسے دیکھتا رہا اور پھر باہر نکل گیا۔
دروازے کے بند ہونے کی آواز پر حزیمہ نے آنکھیں کھول دیں اور پاؤں صوفے پر لٹکا کر بیٹھ گئی۔کافی دیر بیٹھنے کے بعد وہ کمائی لیتی ہوئی اٹھی اور وضو کی نیت سے واش روم میں گھس گئی اور ساتھ وہ سوچ رہی تھی کتنا خوش نصیب آدمی ہے یہ اس کی نماز کے لئے آنکھ کھل جاتی ہے۔
حزیمہ جوں جوں اسے جانتی جا رہی تھی اس کے ساتھ اس کی محبت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
روحینہ دوسرے دن سکول پہنچی تو اسے سمیرا کچھ پریشان لگی ۔
کیا ہوا ہے سمیرا؟؟؟
کچھ نہیں وہ ٹالنے والے انداز میں بولی۔
روحینہ کے اصرار کرنے پر اس نے بتایا کے چوہدری بلال ہر روز اس کے گھر کے باہر یا راستے مئں کہیں نہ کہیں کھڑا ہوتا ہے۔اور اسے پر یشان کرتا ہے۔
روحینہ نے اسے مشورہ دیا کے وہ اپنے بھائی کو بتا دے۔
وہ اس سے اتفاق کرتی تھی لیکن پھر اسے اپنے بھائی کی زندگی بھی پیاری تھی۔
آج حزیمہ بھی آفس آئی تھی ۔وہُ اور شاہ میر الگ الگ آفس آۓ تھے۔
حزیمہ سارا دن بہت مصروف رہی شام کو آٹھ بجے شاہ میر کے پروگرام کے وقت وہ فارغ ہو کر کنٹرول روم میں آگئی اور پوری دلجمعی سے اس کا پروگرام دیکھنے لگی۔
پروگرام میں وقفے کے دوران کسی کام سے شاہ میر کنٹرول روم میں آیا تو حزیمہ کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔غیر ارادی طور ہر اس کے منہ سے نکلا تم کیا کر رہی ہو یہاں؟؟؟؟
حزیمہ نے جلدی سے اپنے ہاس پڑی فائل اٹھا لی بس یہ لینے آئی تھی۔
شاہ میر اسے فائل اٹھاتے دیکھ چکا تھا اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
شاہ میر کنٹرولر کو کچھ ہدایات دینے لگا۔
تبھی سکندر کا نیا اسسٹنٹ سعد اندر داخل ہوا میم آپ کو سر اپنے آفس میں بلا رہے ہیں ۔
جی آتی ہوں۔
تبھی شاہ میر کی نظر سعد پر پڑھی۔
ارے سعد تم یہاں؟؟؟
اسلام علیکم شاہ میر بھائی۔
وعلیکم سلام کیسے ہو؟؟
جی میں ٹھیک ہوں۔
اب حزیمہ بھی ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئی۔
یہاں کیسے؟؟
بھائی میں یہاں سکندر سر کا اسسٹنٹ ہوں۔
آچھا بہت آچھی بات ہے۔
جی بھائی بس آپ کو دیکھ کر ہی میں اس پروفیشن میں آیا ہوں۔
بہت آچھی بات ہے محنت جاری رکھو۔
تبھی شاہ میر کی نظر حزیمہ پر پڑھی جو شاہ میر کی طرف سولیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
سعد ان سے ملو یہ ہیں حزیمہ میری وائف۔
اور حزیمہ یہ میرے گاؤں سے ہے ہمارا پڑوسی بہت قابل لڑکا ہے یہ ہمارے گاؤں کا۔
رامی علیک سلیک کے بعد سعد وہاں سے چلا گیا۔
اور کنٹرول روم میں بیٹھے سبھی لوگ ابھی تک شاہ میر کی پہلی بات پر شاک میں بیٹھےتھے۔
ان دونوں کے کنٹرول روم سے باہر جاتی ہی سب شروع ہو گئے۔ارے شاہ میر سر اور میم کی شادی ہو گئی ہے اور کسی کو پتہ بھی نہیں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
