Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1


وائٹ شیراڈ فراٹے بھرتی ہوئی اپنی منزل کی طرف رواں تھی ۔وہ آج پورے دو ماہ کے بعد دوبارہ سے آفس جوائن کر رہا تھا۔وہ کوئی عام شخصیت نہیں تھی ۔اس کا تعلق ملک کے اس شعبے سے تھا جو ایک گھنٹے میں لوگوں کی سوچ کے زوایے بدلتے تھے۔وہ کنگ میکر تھے جن کے پاس نہ تو ہتھیار تھا اور نہ ہی وہ کسی ملک کے سربراہ تھے ۔لیکن پھر بھی صبح سے شام تک ان کی ہی چلتی تھی۔بلیو تھری پیس میں ملبوس نظر کا چشمہ لگاۓ ہلکی ہلکی داڑھی صاف و شفاف رنگت چہرے پر حد سے زیادہ سنجیدگی اس کی شخصیت کو ایک الگ ہی روپ دے رہی تھی۔کچھ عرصہ پہلے تک وہ اتنا سنجیدہ نہیں تھا لیکن ان دو ماہ میں اس کی شخصیت بالکل بدل گئی۔یہ ہیں ملک کے نامور اینکر پرسن شاہ میر ملک جو اپنے پروگرام میں سیاستدانوں کی وہ چھترول کرتے ہیں کے ان کے پروگرام میں آنے سے سبھی ڈرتے ہیں۔
شاہ میر نے آفس میں داخل ہونے سے پہلے اپنی اسسٹنٹ زویا بخاری کو آج کے پروگرام کی فائل دی اور اپنے آفس کی طرف بڑھ گیا۔وہ اس وقت ملک کے مشہور ٹی وی چینل دی نیشنل نیوز کے ساتھ منسلک تھا۔اس کا پروگرام پرائم ٹائم پر رات آٹھ بجے براہ راست ٹیلی کاسٹ ہوتا تھا۔اس کی ریٹنگ بہت ہائی جا رہی تھی ۔پچھلے دہ ماہ سے اس کی جگہ ایک اور اینکر یہ پروگرام کر رہے تھے جس کی وجہ سے پروگرام کی ریٹنگ نیچے گر گئی تھی۔لیکن جب سے اس نے بتایا تھا کے وہ دوبارہ جوائن کر رہا ہے تب سے ہی اسے اتنا کمرشلئز کیا گیا تھا کے آج کے پروگرام کے لئے یوٹیوب پر لوگوں کے ہزاروں لائکس اور کمنٹس آ رہے تھے۔اس کی اسی پاپولرٹی کی وجہ سے وہ جہاں بھی کام کرتا تھا اپنی شرائط پر کرتا تھا۔اس چینل پر کام کرتے ہوۓ اسے پانچ سال ہو گئے تھے۔وہ اپنی سیٹ ہر بیٹھا تھا تبھی اسے انٹر کام پر بتایا گیا کے چینل کے اونر فارس آفندی میٹنگ روم میں سب کو بلا رہے ہیں ۔
وہ میٹنگ روم میں پہنچا تو سبھی لوگ موجود تھے اور اس کا ہی انتظار ہو رہا تھا۔جوں ہی وہ اپنی سیٹ پر بیٹھا فارس آفندی نے بولنا شروع کیا ۔سب سے پہلے میں شاہ میر آپ کو ویلکم کرتا ہوں ۔
شاہ میر نے یک لفظی جواب میں””شکریہ”” ادا کیا۔
اور اب میں آپ لوگوں سے تعارف کرواتا ہوں یہ ہیں میری بیٹی حزیمہ آفندی یہ حال ہی میں آکسفورڈ سے ماس کمیونیکشن اور میڈیا سٹڈیز کی ڈگری لے کر آئی ہیں ۔آج سے یہ یہاں مینجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ حزیمہ کو اس سے پہلے اپنے موبائل میں گم تھی اس نے اب نظر اٹھا ک سب کو دیکھا ۔وہ بہت خوبصورت تھی ہیزل آنکھوں میں زہانت کیی چمک تھی بڑی بڑی آنکھیں صاف رنگت پہلی نظر میں وہ کوئی انگریز لگتی تھی اس نے اپنے بال بھی گولڈن کلر میں ڈائی کیے ہوۓ تھے اس کے بال بہت لمبے تھے جنہیں اس نے کر ل کیے ہوۓ تھے۔بلیو جینز کے اوپر ریڈ کلر کی شرٹ پہنے ناک میں ڈائمنڈ نوز پن اس کی دلکشی کو بڑھا رہی تھی۔اب فارس آفندی سب سے اس کا تعارف کروا رہے تھے۔
حزیمہ ان سے ملو یہ ہیں ہمارے چینل کی جان شاہ میر ملک ۔
شاہ میر جو کے اپنے موبائل میں بزی تھا اس نے ایک پل کے لئے اپنے سیل فون سے نظر ہٹا کر حزیمہ کو دیکھا اور سر کی جنبش سے اس کے سلام کا جواب دیا۔
فارس آفندی سب سے تعارف کروانے کے بعد آج کے شاہ میر کے پروگرام کے بارے میں سب سے ڈسکس کرنے لگے ۔جب کے حزیمہ کی نظریں بار بار شاہ میر کی طرف اٹھ رہی تھی ۔جس کے پروگرام کے بارے میں ڈسکس ہو رہا تھا لیکن وہ اپنے موبائل میں گم تھا جیسے کسی اور کے بارے میں بات ہو رہی ہو۔حزیمہ کو حیرانگی اپنے بابا پر ہو رہی تھی جن کے آگے سب لوگ نظریں جھکاۓ بیٹھے تھے ۔وہیں ایک وہ شخص تھا جو مسلسل اپنے موبائل میں بزی تھا اور لگ رہا تھا یہاں موجود ہی نہ ہو ۔لیکن پھر بھی جس طرح سے اس کا تعارف کروایا گیا تھا وہ جان گئی تھی کے وہ کیا حیثیت رکھتا ہے ۔
شاہ میر تمہارا آج کا ٹاپک کیا ہے؟فارس آفندی نے اس سے پوچھا۔
اب کی بار اس نے اپنا موبائل اپنے سامنے رکھتے ہوۓ بولنا شروع کیا ۔آج کے پروگرام میں سینٹ الیکشن پر بات ہو گی۔اور گیسٹ کون ہیں جنہیں تم نے انوائٹ کیا ہے۔
وہ کچھ حکومتی اور کچھ اپوزیشن کے لیڈروں کے نام لینے لگا ۔ساتھ ہی اس نے موبائل پھر سے اٹھا لیا تھا۔حزیمہ کے موبائل پر کسی کی کال آ رہی تھی اس لئے وہ وہاں سے اٹھ گئی اور شاہ میر کے پاس سے گزرتے ہوۓ اس نے اس کی طرف نظر کی تو حیران ر ہ گئی وہ اپنے موبائل پر کسی لڑکی کی تصویر زوم اپ کر کے دیکھ رہا تھا۔


وہ دیکھ رہی تھی سب لوگ اس کے پروگرام کو لے کر بہت ایکسائٹیڈ تھے۔وہ بھی کنٹرول روم میں جا کر بیٹھ گئی ۔اس نے پروگرام کا آغاز اتنے پر اعتماد طریقے سے کیا اور وہ جس ٹاپک پر بات کر رہا تھا ۔اس پر اس کی معلومات اس نے اپنے سامنے بیٹھے مہمانوں کو چاروں شانے چیت کر دیا تھا۔ایک گھنٹے کے پروگرام میں اس نے اس کے مقابل بیٹھے لو گوں کی پیشانی پر اے سی ٹھنڈک کے باوجود پسینہ آتے دیکھا۔
پروگرام کے اختتام کے بعد سب لوگ اسے مبارک دے رہے تھے اور حزیمہ آفندی نے آگے بڑھ کر یو ٹیوب پر ویوز دیکھے تو حیران رہ گئی پچھلے گزرے ایک گھنٹے میں ایک لاکھ لائکس اور پچاس ہزار کمنٹ تھے اور ہر منٹ کے ساتھ وہ بڑھ رہے تھے۔
اور اے سی کی ٹھنڈک میں بھی اسے گھبراہٹ ہونے لگی۔صبح اسے لگا کے وہ صرف اس شخص سے امپریس ہو رہی ہے ۔لیکن اب اسے لگ رہا تھا کے کچھ غلط ہو رہا ہے۔ایک دن میں اگر وہ اس شخص سے اسقدر امپریس ہو گئی ہے تو آگے اس کا کیا حال ہو گا۔وہ اب سمجھی کے سب لوگ اس سے اس قدر متاثر کیوں تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️