Dil Hari By Zarish Noor Readelle50167 Last updated: 28 September 2025
Rate this Novel
Dil Hari
By Zarnish Noor
شاہ میر اور حزیمہ جب سے آفس سے آۓ تھے ۔وہ دیکھ رہا تھا حزیمہ کچھ الجھی ہوئی تھی۔کھانا کھاتے ہوۓ اس کا دھیان کھانے کی طرف بالکل بھی نہیں تھا۔اس نے کھانا بس براۓ نام ہی کھایا تھا۔ وہ زکیہ بیگم کے ساتھ تھوڑی دیر باتیں کرتی تھی لیکن آج اس نے ان کے سوالوں پر بھی ہوں ہاں سے زیادہ جواب نہیں دیا تھا۔ عرشمان کو اس نے گود میں تو اٹھایا ہوا تو تھا ۔لیکن وہ کسی نادیدہ چیز کو گھور رہی تھی۔ شاہ میر کمرے میں آیا تو حزیمہ کو صوفے پر پاؤں پسار کر بیٹھے دیکھا۔وہ واش روم میں شاور لے کر باہر آیا وہ تب بھی اسی پوزیشن میں بیٹھی تھی۔ شاہ میر اس سے بات کرنے کی غرض سے اس کے ساتھ جا کر صوفے پر بیٹھا اور اسے متوجہ کرنے کے لئے گلہ کھنکارا تب وہ شاہ میر کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر جلدئ سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ کیا ہوا ہے ؟؟ تم کچھ پریشان لگ رہی ہو؟؟؟؟ نہیں کچھ بھی نہیں ہو۔۔ پھر بھی اگر تم مجھ سے شئیر کرنا چاہو تو؟؟؟ وہ کچھ دیر سوچتی رہی۔شاہ میر غور سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھتا رہا۔ آپ سے ایک بات پوچھوں؟؟؟ شاہ میر نے اثبات میں سر ہلایا۔ آپ نے مجھ شادی کے لئے اقرار کیوں کیا تھا؟؟ تمہارے والد کے مجھ پر بہت سے احسانات ہیں ۔وہی اتارنے کے لئے۔اسے نے کوئی لگی لپٹی لگاۓ بغیر کہا۔ وہ جانتی تھی وہ سچ کہہ رہا ہے۔ اور یہ کیوں کہا تھا کے ہماری شادی کے بارے میں سب کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کے میرا خیال تھا تمہارے جیسی لڑکیاں گھر نہیں بسا سکتی ۔اس لئے کل کو جب تم اور میں الگ ہوں تو زیادہ لوگوں کو نہ پتہ چلے۔ کیا مطلب میرے جیسی لڑکیاں؟؟ جیسی تمہاری ڈریسنگ ہوتی تھی۔تمہارا ایٹیٹیوڈ پھر اتنے بڑے باپ کی بیٹی لندن کی آزاد فضاؤں میں رہنے والی میرے جیسے دس بارہ لاکھ کمانے والے انسان کے ساتھ کیسے ایڈجسٹ کرے گی۔ پھر اب بتایا کیوں ؟؟مطلب آج آفس میں آپ نے سب کے سامنے مجھے اپنی وائف کے طور پر انٹروڈیوس کروایا ہے سعد سے ۔اس کی وجہ پوچھ سکتی ہوں؟؟ بالکل پوچھ سکتی ہوں۔ میرا خیال ہے تم میں وہ خوبیاں ہیں جو ایک آچھی بیوی میں ہونی چاہئے۔اور تم ایڈجسٹ ہونے کی کوشش کر رہی ہو۔ اب سو جاؤ مجھے بھی نیند آ رہی ہے۔ وہ اس کی الجھن سمجھ چکا تھا اور شاید اس کے سوال بھی ختم ہو گئے تھے۔کیونکہ وہ اب خاموشی سے اپنے موبائل میں گم ہو چکی تھی۔ شاہ میر چاہتا تھا لے وہ اسے روک کر اور باتیں کرے لیکن اس کا دھیان اب اپنے موبائل کی طرف تھا۔ وہ تھوڑی دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر لائٹ آف کر کے لیٹ گیا ۔ حزیمہ نے اس کے اٹھنے کے بعد نظر اٹھا کر اسے دیکھا ۔وہ جانتی تھی وہ اس سے بات کرنا چاہتا ہے ۔لیکن وہ چاہتی تھی اب وہ پہل کرے ۔حزیمہ تو پہلے دن میٹنگ روم میں ہی دل ہار بیٹھی تھی ۔لیکن اب شاہ میر کے دل میں اس کے لئے محبت کی کونپل کب پھوٹتی ہے یہ تو وقت ہی بتاۓ گا۔ **********++ روحینہ آج سکوم آئی تو اسے پتہ چلا سمیرا آج پھر سکول نہیں آئی ۔آج مسلسل تیسرا دن تھا وہ غیر حاضر تھی ۔حزیمہ نے چھٹی کے وقت اس کے گھر جانے کے بارے میں سوچا اور پیریڈ لینے چلی گئی۔ چھٹی کے وقت وہ سمیرا کے گھر کے قریب رہنے والی ایک طالب علم کے ساتھ ان کے گھر کے لئے روانہ ہوگئی۔ وہ گھر سے تھوڑے فاصلے پر تھی تبھی اسے ان کے گھر کے باہر بہت سے لوگ نظر آۓ۔ گھر کے پاس پہنچی تو وہاں ایک کہرم مچا ہوا تھا۔سمیرا کی ماں اپنا سینہ پییٹ رہی تھی۔ کسی اے پوچھنے پر روحینہ کو پتہ چلا کے سمیرا پچھلے دو دن سے غائب تھی اور آج دوپہر کو اس کی لاش گاؤں کے باہر جھاڑیوں سے ملی تھی۔ روحینہ کے پاؤں کے نیچے سے تو زمین سرک گئی اس چار دن پہلے کا سمیرا کا چہرا اس کی نظروں میں گھوم رہا تھا ۔جب وہ بہت پریشان سی سکول سے نکلی تھی۔ روحینہ ایک کونے میں کھڑی آنسو بہاتی رہی۔ رات کو وہ گھر پر آئی تو بس گم صم تھی اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔اس کی پیاری سی سہیلی کسی کی حوس کا شکار ہو کر آج منوں مٹی تلے سو گئی تھی۔ تائی کے بہت منت کرنے پر بھی اس نے کھانا کا ایک لقمہ بھی نہیں کھایا۔ رات کو دس بجے سعد کی کال آئی تو اس کی ہمت جوب دے گئی اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور روتے ہوۓ اس نے سعد کو سب کچھ بتا دیا جو اسے میرا نے بتایا تھا۔ سعد نے اس کی ساری بات سن کر ہونٹ بھینچ لئے اور روحینہ کو تسلی دی کے وہ کچھ کرتا ہے۔ ********************
