Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

شاہ میر معمول کے مطابق آفس میں پہنچا۔خلاف معمول آج کچھ زیادہ چہل پہل لگ رہی تھی۔
شاہ میر اپنی اسسٹنٹ زویا بخاری کے پاس تھوڑی دیر رکا اسے کچھ انسٹرکشن دے کر
آگے بڑھ گیا ۔تبھی زویا نے پکارا سر آج فارس سر نے سب کو نو بجے یٹنگ آفس میں پہنچنے کے لئے بولا ہے۔
شاہ میر نے اپنی گھڑی پر وقت دیکھا نو بجنے میں دس منٹ باقی تھے۔وہ اپنا بیگ اپنے روم میں رکھ کر میٹنگ روم کی طرف چل پڑھا۔
میٹنگ روم میں اس وقت سارے ورکر موجود تھے۔
شاہ میر کو آتا دیکھ کر فارس آفندی نے بولنا شروع کیا۔
آج سے اس چینل کی تمام زمہ داری میرے بیٹے سکندر آفندی دیکھے گا ۔
اور شاہ میر ملک مینیجنگ ڈائریکٹر ہوں گے۔
فارس آفندی نے اشارے سے شاہ میر کو اپنے پاس بلایا۔
شاہ میر باوقار سی چال چلتا ہوا فارس آفندی کے دائیں طرف آ کر کھڑا ہوا۔
فارس آفندی نےاپنے ہاتھ سے مائیک شاہ میر کی طرف بڑھایا۔
شاہ میر نے مضبوطی کی ساتھ مائیک کو پکڑا اور رک رک کر بولنا شروع کیا۔
اسلام علیکم ! لیڈیز اینڈ جینٹل میں آپ سب کا شکریہ یہاں آنے کے لئے۔فارس سر آپ کا شکریہ ۔”شاہ میر نے فارس کی طرف تھوڑا سا جھک کر ان کا شکریہ ادا کیا۔”
لیکن میں خود کو اس عہدے کے قابل نہیں سمجھتا۔
اتنا کہہ کر شاہ میر اس روم سے نکلتا چلا گیا۔
اپنے روم میں آکر اس نے غصے سے اپنا کوٹ اتارا اور اپنی سیٹ ہر بیٹھ گیا۔
وہ مٹھیاں بھینچتا ہوا اپنے غصے کو کنٹرول کرنے لگا۔
اس کا جلد سے جلد یہ چینل چھوڑنے کا ارادہ تھا۔اسے بہت عرصے سے بہت سے چینلز سے آفرز آ رہی تھیں۔
شاہ میر کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو حد سے زیادہ خدار ہوتے ہیں۔
اسے فارس آفندی کی آفر پسند نہیں آئی۔اس کا خیال تھا وہ اسے اپنا داماد ہونے کی وجہ سے یہ سیٹ دے رہے ہیں۔
شاہ میر اپنی سوچوں میں الجھا بیٹھا تھا تبھی فارس آفندی دستک دے کر اندر داخل ہوۓ۔شاہ میر ان کے احترام میں کھڑا ہو گیا۔
فارس آفندی نے بیٹھ کر چند ادھر ادھر کی باتیں کیں پھر وہ مین ٹاپک پر آۓ۔
شاہ میر میں نے آپ کو آج جو آفر کی ہے ۔وہ میں نے آپ کو اپنا داماد ہونے کی حیثیت سے نہیں کیں۔بلکے آپ اتنے قابل ہیں کے آپ کسی بھی اور چینل میں بھی جائیں وہ تو آپ اس سے زیادہ ڈیزرو کرتے ہیں۔
لیکن اگر آپ کو یہ بات بری لگی ہے تو میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔
نہیں سر اس کی ضرورت نہیں لیکن ہاں مجھے یہ بات بری لگی ہے۔
چلیں آگے سے جب تک تم نہیں چاہو گے ایسا کچھ نہیں ہو گا۔
سر میں ریزائن کرنا چاہتا ہوں۔
شاہ میر یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟؟ فارس آفندی نے حیرانگی سے اس سے سوال کیا۔
سر میرا خیال ہے آپ کا اور میرا رشتہ اب بدل چکا ہے اور اب میرا خیال ہے میرا یہاں کام کرنا مناسب نہیں ہے۔
وہ کچھ دیر سوچتی نظروں سے شاہ میر کو دیکھتے رہے۔
جب وہ بولے تو ان کالہجہ ہموار تھا۔
وہ اپنی سیٹ سے تھوڑا آ گے ہو کر شاہ میر کی طرف جھک کر بولے۔
شاہ میر میں جانتا ہوں تم بہت خودار آدمی ہو۔میں نے تمہارے اندر بہت سی خوبیاں دیکھیں ہیں اسی لئے میں نے اپنی بیٹی تمہیں سونپی ہے۔
لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں چاہے جیسے بھی حالات ہوں تمہارے پروفیشن اور پرسنل لائف الگ رہے گی ۔تمہیں میری اور میری فیملی کی طرف سے اگر کبھی کوئی بات ایسی محسوس ہوئی جو تمہارے اصولوں کے خلاف ہو ۔تم بتاۓ بغیر یہ جاب چھوڑ سکتے ہیں۔
شاہ میر نے اثبات میں سر ہلا دیا اس کے پاس کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔
فارس آفندی جانے کے لئے کھڑے ہو گئے شاہ میر ان کے احترام میں کھڑا ہو گیا۔فارس آفندی اس کے پاس آۓ اسے گلے سے لگایا اور باہر نکل گئے۔
شاہ میر بہت ہی عجیب سے احساسات سے دو چار ہوا۔


شاہ میر گھر پہنچا تو حزیمہ زکیہ بیگم کے کمرے میں انہیں کھانا کھلا رہی تھی۔شاہ میر اندر داخل ہو اس نے اپنا سر ان کے آگے جھکایا تو جھکتے ہوا اس کا سر حزیمہ کے سر کے ساتھ ٹکرایا ۔وہ جلدی سے پیچھے ہو گئی۔
ؤہ زکیہ بیگم سے مل کر عرشمان سے کے پاس چلا گیا جو بیڈ پر لیٹا تھا ۔اس نے عرشمان کو اٹھاتے ہوۓ ایک نظر حزیمہ کی طرف ڈالی جو اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی بیڈ سے نیچے اتر رہی تھی۔
حزیمہ نے لیمن کلر کی قمیض شلوار پہنی ہوئی تھی جس ہر سفید رنگ کا دھاگے کا کام کیا ہوا تھا۔شاہ میر نے اس آج پہلی بار ایسے کپڑوں میں دیکھا تھا وہ بہت آچھی لگ رہی تھی۔
کھانا کھانے کے بعد شاہ میر عرشمان کو اٹھاۓ کمرے میں داخل ہوا تو حزیمہ اپنے سونے کے لئے صوفے ہر جگہ بنا رہی تھی۔
شاہ میر بیٹے کو لے کر بیڈ پر لیٹ گیا۔جبکہ حزیمہ صوفے پر لیٹ گئی۔
رات کے کسی پہر بچے کے رونے کی آواز سے حزیمہ کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا شاہ میر عرشمان کو اٹھاۓ کمرے میں گھوم رہا تھا۔
حزیمہ ڈوپٹہ اوڑھتی ہوئی اٹھی اور شاہ میر سے بچہ لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو اس نے جلدی سے اسے دے دیا۔حزیمہ کو شرمندگی سی ہوئی کیا پتہ وہ کب سے بچے کو چپ کروا رہا ہے۔
آپ سو جائیں میں اسے باہر لے جاتی ہوں شاید اسے نیند نہیں آرہی۔
یہ کہہ کر وہ عرشمان کو ل کر باہر چلی گئی۔
شاہ میر تھوڑی دیر باہر سے آوازیں سنتا رہا اور جب باہر سے بچے کے رونے کی آواز بند ہوئی تو لیٹ گیا جلد ہی اسے نیند نے آ گھیرا۔
صبح اس کی آنکھ کھلی تو عرشمان کو ساتھ لپٹاۓ حزیمہ بیڈ پر ہی سو رہی تھی۔
شاہ میر تھوڑی دیر ان دونوں کو دیکھتا رہا سوۓ ہوۓ وہ دونوں بہت پیارے لگ رہے تھے۔
اچانک شاہ میر کو حیا کا خیال آیا تو اس کا دل اچاٹ ہو گیا۔