Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12


بیٹا زرا میرے بالوں میں تیل تو ڈال دو۔زکیہ بیگم نے میگزین پڑھتی حزیمہ کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا۔
جی اماں ابھی لائی۔
حزیمہ نے زکیہ بیگم کے ہاتھ سے تیل لے کر ہتھیلی میں ڈالا اور اپنے ہاتھوں سے کسی ماہر کی طرح مالش کرنے لگی۔
اماں جی آپ کے بال تو بہت پیارے ہیں۔
بیٹا ہماری اماں بچپن سے ہی ہمارے سر پر خوب سارا تیل لگاتی تھی۔اور تیل بھی یہ والا نہیں بلکہ کڑوا تیل۔
کڑوا تیل کون سا ہوتا ہے ؟؟ اماں
بیٹا کڑوا تیل بھی بظاہر ہوتا تو ایسا ہی ہے۔لیکن جب وہ سر میں ڈالتے ہوۓ اگر غلطی سے کبھی آنکھ میں لگ جاۓ تو ہم گھنٹوں بیٹھ کے روتے رہتے تھے۔کیونکہ آنکھ میں جیسے مرچی لگتی ہے ویسے ہی محسوس ہوتا تھا۔لیکن اس سے بال مضبوط ہوتے ہیں یہ ہماری اماں کا کہنا تھا۔
حزیمہ نے زکیہ بیگم کے کے سر کی مالش کر کے برش سے کنگی کرکے چٹیا بنا کر انہیں دکھائی۔اماں جی دیکھیں ٹھیک بنی ہے۔
پتر ٹھیک ہے بس تھوڑی ڈھیلی ہے اگلی بار صیح کس کے بنانا۔
اوکے مسکرا کر کہتے ہوۓ حزیمہ ہاتھ دھونے کے لئے مڑی تو زکیہ بیگم بولی بیٹا زرا میر کے سر کی بھی مالش کر دے۔
شاہ میر جو ٹی وی دیکھنے میں محو تھا ۔ماں کی بات پر اس کے ہونٹوں ہر مسکرہٹ دوڑ گئی۔جبکہ زکیہ بیگم کے ہاس کھڑی حزیمہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کہے۔
شاہ میر پتر یہاں آ جا چھوڑ دے اس موۓ ٹی وی کا پیچھا۔
شاہ میر نے ماں کی طرف مڑ کر دیکھا اور ہاتھ سے ریموٹ صوفے پر رکھتے ہوۓ اٹھ کر آ کر حزیمہ کے آگے بیٹھ گیا۔
حزیمہ نے زکیہ بیگم کی طرف دیکھا جو توجہ سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔بیٹا شروع کرو
جی اماں !یہ کہہ کر اس نے ہاتھ میں تیل ڈال کر اپنی انگلیوں سے آہستہ آہستہ مالش کرنی شروع کی۔شاہ میر آنکھیں بند کیے اس کے آگے بیٹھا رہا ۔
پانچ منٹ کے بعد حزیمہ نے ہاتھ پیچھے کر لئے۔
شاہ میر وہیں صوفے پر سو نے کے لئے لیٹ گیا۔
دیکھا بہو کے ہاتھوں میں کیسا جادو ہے تجھے تو سکون سے نیند ہی آ گئی۔حزیمہ ہاتھ دھو کر واپس آئی تو زکیہ بیگم کی بات پر مسکرا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔


سکندر اگلے دن سمیرا کے گھر گیا اس کی ماں کو تو کوئی ہوش ہی نہیں تھا۔
اس کے بھائی نے انہیں کمرے میں بٹھایا اور پھر سکندر کے پوچھنے پر اسے کا پر شک ہے۔
اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
سعد نے اس سے سکندر کا تعارف کروایا کے یہ ٹی وی والے ہیں اور تمہاری مدد کریں گے اس لئے تمہیں اگر کچھ معلوم ہے تو بتا دو۔
تبھی وہاں سمیرا کی ماں چلی آئی۔نہ صاحب ہمیں معاف کرو ہم اپنی بیٹی کو تو کھو چکے ہیں لیکن میں اپنے بیٹے کو نہیں کھونا چاہتی۔
میری بیٹی کا بدلہ میرا خدا لے گا۔
سعد نے دونوں ماں بیٹے کو سمجھایا کے اگر وہ کیس کریں تو روحینہ گواہی دے گی۔
لیکن وہ دونوں مکر گئے۔اور قریب ہی چوہدری بلال کا آدمی اسے معلومات دینے کے لئے نکل گیا ۔
سعد اور سکندر مایوس ہو کر واپس آ گئے۔سکندر اور سعد واپس شہر کی طرف لوٹ آۓ۔
رات بارہ بجے کے قریب روحینہ کی آنکھ کسی کھٹکے سے کھلی دروازے پر کوئی زور زور سے دستک دے رہا تھا۔روحینہ کے ساتھ رابعہ اور تایا حمید کی بھی آنکھ کھل گئی۔
تایا حمید نے ان دونوں کا اندر جانے کا کہا اور خود آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔
پسٹل ہاتھ میں لئے چار آدمی اندر داخل ہوۓ تایا حمید پر پسٹل تان لیا۔
تمہارا بیٹا ہمارے خلاف کیس کرنا چاہتا ہے اور تمہاری بیٹی چوہدری کے خلاف گواہی دی گی۔
ان دونوں کو قابو میں رکھو نہیں تو کسی دن دونوں کی لاش کسی جاڑی سے ملے گی۔
وہ لوگ دھمکیاں دیتے ہوۓ نکل گئے۔
تائی رابعہ نے بیٹھ کر سر پکڑ لیا اور روحینہ کو کوسنے لگی۔
تایا حمید نے اسی وقت سعد کو کال کی اور سارا واقعہ کہہ سنایا۔
سعد نے ساری بات سن کر ہونٹ بھینچ لئے اور ابا کو کہا کے وہ سامان باندھ لے ۔وہ کل آ کر ان تینوں کو اپنے ساتھ شہر لے آۓ گا۔


شاہ میر کمرے میں آیا تو حزیمہ اپنے بالوں میں کنگی کر رہی تھی۔
شاہ میر واش روم میں گھس گیا وہ واپس آیا تو حزیمہ سونے کی تیاری کر رہی تھی۔اس کے بال پشت پر بکھرے ہوۓ تھے۔
وہ صوفے پر بیٹھی تو اس نے شاہ میر کو اپنی طرف دیکھتے پایا اس نے جلدی سے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اور پاؤں اوپر کر کے کمبل اپنے اوپر ڈال لیا۔
بات سنو !
حزیمہ نے شاہ میر کی طرف سولیہ نظروں سے دیکھا۔
بیڈ پر آ کر سو جاؤ۔
نہیں میں یہی ٹھیک ہوں۔
میں کیا کہہ رہا ہوں تمہیں سمجھ نہیں آرہی
لیکن میں یہاں ٹھیک ہوں۔
شاہ میر غصے سے حزیمہ کی طرف بڑھا اور اسے کھینچ کر صوفے سے اٹھایا۔
کیوں انکار کر رہی ہو۔تم کیوں انکار کر رہی ہو تمہارا کیا خیال ہے میں تمہیں اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے کہہ رہا ہوں ۔
نہیں میں نے اس لئے نہیں کہہ رہی ۔میں شروع دن سے وہاں سو رہی ہوں تو مجھے اب وہیں نیند آتی ہے۔
جانتی ہو آج اماں نے تم سے میرے سر کی مالش کیوں کروائی ہے۔کیونکہ آج صبح مجھے جگانے سکینہ بی آئی تھی اور انہوں نے تمہیں صوفے پر لیٹے دیکھ لیا تھا۔میں ابھی بھی ایک لمبا لیکچر سن کر آ رہا ہوں۔
میری بات تمہاری سمجھ میں آ گئی ہے۔
جی !! حزیمہ نے بمشکل اپنے منہ سے لفظ نکالا۔وہ شاہ میر کے اتنے قریب تھی کے اس کے کلون کی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرا رہئ تھی۔
شاہ میر نے بھی آج پہلی بار اسے اتنے قریب سے دیکھا تھا۔ شاہ میر نے اس کے کانپتے وجود کو دیکھا اس کی جھکتی اٹھتی لرزتی پلکیں شاہ میر کچھ پل کے لئے مدہوش ہو گیا۔
اس نے اپنے دہکتے ہونٹ اس کی پیشانی پر رکھ دئے۔پھر باری باری اس کی آنکھوں کو چومتا ہوا وہ حزیمہ کی مزاحمت پر ہوش میں آیا اور جھٹکے سے اسے اپنے سے دور کرتا ہوا کمرے سے نکلتا چلا گیا۔
حزیمہ کی نظروں نے دروازے تک اس کا پیچھا کیا اور وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھے وہیں صوفے پر بیٹھتی چلی گئی۔