Dil Hari By Zarish Noor Readelle50167 Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
حزیمہ ڈریسنگ روم سے باہر آئی تو لائٹ آف تھی۔ باہر سے ہلکی ہلکی روشنی آ رہی تھی۔حزیمہ نے ایک نظر بیڈ پر بے غم سوۓ شاہ میر پر ڈالی اور سامنے پڑے صوفے پر پاؤں پسار کر بیٹھ گئی۔
اس کا رونے دھونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا کیونکہ وہ کوئی عام لڑکی تو نہیں تھی جو اپنی شادی کی پہلی رات اپنے شوہر کے ٹھکراۓ جانے کا غم مناۓ ۔
وہ تو سوچ رہی تھی کے وہ صبح سویرے شاہ میر سے پہلے ہی آ فس کے لئے نکل جاۓ گی۔
یہی کچھ سوچتے ہوۓ نہ جانے کب اس کی آنکھ لگی ۔اس کی آنکھ کھٹکے سے کھلی اس نے دیکھا شاہ میر وضو کر کے واش روم کےُدروازے سے نکل رہا تھا۔ وہ حزیمہ پر ایک نظر ڈال کر نماز پڑھنے کے لئے نکل گیا۔
حزیمہ نے وقت دیکھا تو چار بج رہے تھے ۔وہ اٹھی وضو کیا اور جاۓ نماز بچھا کر نماز کے لئے کھڑی ہو گئی۔
نماز پڑھ کر کافی دیر وہ خالی دماغ کے ساتھ بیٹھی رہی ۔کچھ دیر کے بعد اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھاۓ ۔
اے میرے رب !اے ساری کائنات کے مالک دن کو رات میں ،اور رات کو دن میں بدلنے والے۔زندگی اور موت کے مالک،ہر چرند پرند کو اپنی قدرت کاملہ سے رزق عطا کرنے والے۔اے میرے رب میں تیری گناہ گار بندی ہوں مجھے معاف فرما دے۔
اے میرے رب میں تیری ادنی سی بندی ہوں مجھے سیدھے راستے پر چلنے والوں میں شامل کر دے۔تو اپنے بندوں پر ان کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا،اے میرے رب میرے لئے بہتر فیصلہ فرما ۔جو تیری چاہت ہے وہی میری چاہت ہے ۔مجھے معاف فرما۔
وہ بے ربط الفاظ ادا کر رہی تھی۔اس نے دعا ختم کر کے جاۓ نماز اٹھائی تو دیکھا سامنے شاہ میر بیٹھا گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
حزیمہ نظریں جھکا ۓ کمرے سے نکل گئی۔لیکن باہر آ کر اسے سمجھ نہیں آئی کے کہاں جاۓ ۔وہ وہی پہ کھڑی اپنے آس پاس کا جائزہ لینے لگی۔تبھی اسے اپنے پیچھے کھٹکے کی آواز آئی۔وہ بن دیکھے ہی سمجھ گئی کون ہو گا۔
میرے ساتھ آؤ ! یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔
حزیمہ اس کی تقلید میں آگے بڑھ گئی۔
کچن میں داخل ہو کر شاہ میر نے ڈائینگ کی چئیر کھسکا کر آگے کر کے حزیمہ کو بیٹھنے کے لئے بولا۔
اور خود کافی میکر میں کافی بنانے لگا۔
حزیمہ اسے دیکھتی رہی وہ کسی ماہر کی طرح کافی بنا رہا تھا۔کافی بنا کر دو کپ میں ڈالی اس نے ایک کپ حزیمہ کے آگے رکھا دوسرا کپ اپنے رکھ کر وہ حزیمہ کے سامنے چئیر پر بیٹھ گیا۔
دیکھو فارس سر خود میرے پاس آۓ تھے تمہارا رشتہ لے کرآۓتھے۔ تمہارے جیسی لڑکیاں مجھے کبھی پسند نہیں آئیں ۔مجھے سادہ سی گھریلو سی لڑکیاں پسند ہیں ۔میرے کالج اور یونیورسٹی دور میں بہت سی لڑکیاں نےمیری زندگی میں شامل ہونےکی کوشش کی لیکن میں نے کسی کی حوصلہ آفزائی نہیں کی۔
میری زندگی میں تم سے پہلے میری زندگی میں واحد لڑکی میری محبوب بیوی حیا تھی ۔لیکن زندگی نے اسے اتنی مہلت نہیں دی کے وہ اور میں ایک ساتھ طویل سفر کے مسافر بنتے۔
وہ اور بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا لیکن حزیمہ کے دماغ میں اس کے جملے میری پہلی بیوی کی باز گشت گونج رہی تھی۔
وہ ابھی باتیں کر رہا تھا لیکن حزیمہ میں اور کچھ سننے کی سکت نہیں تھی ۔وہ وہاں سے بھاگتی ہوئی آئی اور آکر واش روم میں بند ہو گئی۔
شاہ میر کو اس کا اسطرح سے جانا بہت برا لگا تھا۔وہ سمجھتا تھا فارس آفندی نے حزیمہ کو سب کچھ بتا کر اس کی شادی شاہ میر سے کی ہے ۔
وہ اپنی کافی ختم کر کے اپنی ماں کے روم میں آگیا جہاں اس کا لاڈلا سو رہا تھا۔وہ ماں کے برابر لیٹ گیا اور اپنے بیٹے کو اپنی بانہوں میں لے کر گہری نیند سو گیا۔
حزیمہ واش روم میں کافی دیر رونے کی بعد باہر آئی تو کمرا خالی تھا ۔وہ واپس لاؤنج میں آئی تو کچن سے کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہی تھی۔وہ کچن میں گئی تو وہاں ایک درمیانی عمر کی عورت اور ایک انیس بیس سال کی لڑکی ناشتہ بنانے میں مصروف تھیں ۔
حزیمہ کو دیکھ کر لڑکی نے جلدی سے سلام کیا اس کی آواز پر وہ عورت بھی پلٹی ۔
سلام بی بی جی
وعلیکم سلام!
بی بی جی آپ کو کچھ چاہئے ہے؟؟؟
نئیں !آپ اپنا کام کریں۔
بی بی جی!حزیمہ باہر جانے لگی تو درمیانی عمر کی عورت نے اسے پکارا۔
بی بی جی آپ کو بڑی بیگم صاحبہ اپنے کمرے میں بلا رہی ہیں وہ کہہ رہی تھی کے آپ جاگے تو آپ کو ان کا پیغام دوں۔
اوکے !وہ مختصر جواب دے کر پلٹ گئی۔
اس نے کمرے کے باہر آکر دو تین لمبے سانس لئے اور دستک دے کر کمرے میں داخل ہوئی۔
اسلامعلیکم ! اماں
وعلیکم سلام!کیسی ہو بیٹی؟؟
جی ٹھیک ہوں!
یہ کہہ کر وہ ان کے سامنے چئیر پر بیٹھ گئی۔
وہ نظریں جھکاۓ بیٹھی رہی۔
شاہ میر تمہارے پاپا کی بہت تعریف کرتا ہے۔وہ اسے بالکل اپنے بیٹے کی طرح چاہتے تھے اور اب تو انہوں نے اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیا ہے اپنی لاڈلی بیٹی کو اس کی زندگی میں شامل کر کے۔
وہ ان کی بات پر بس مسکرائی۔
حزیمہ نے کمرے کا جائزہ لینے کے لیے نظر دوڑائی تو اس کی پہلی نظر ہی سامنےبیڈ پر لیٹے شاہ میر پر پڑی جو چھوٹے سے بہت خوبصورت بچے کو اپنی بانہوں میں لئے سو رہا تھا۔
حزیمہ اسے یک ٹک دیکھنے لگی! خوبصورت بال اس کے ماتھے پر بکھرے ہوۓ تھے ۔سوتے ہوۓ بھی اس کی شخصیت میں ایک مغرور پن نظر آ رہا تھا۔کثیر سیگریٹ نوشی کی وجہ سے اس کے ہونٹ کالے کیے ہوۓ تھے ۔وہ ایک بہت خوبصورت اور وجیع مرد تھا۔ کوئی بھی لڑکی اس کی اسیر ہو سکتی تھی۔
وہ اسے دیکھنے میں اتنا مگن تھی کے اسے احساس ہی نہیں ہوا کے وہ جاگ چکا ہے اور اپنی دلکش آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
حزیمہ کی توجہ تب ہٹی جب عرشمان کے رونے کی آواز آئی ۔اس نے دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔حزیمہ نے اپنی نظریں پھیر کر سامنے دیکھا جہاں زکیہ بیگم بیٹھی تھی۔
لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔حزیمہ کو شدید قسم کی شرمندگی نے آ گھیرا ۔
شاہ میر بیڈ سے اٹھ کر عرشمان کو اٹھاۓ حزیمہ کے پاس سے باہر نکلتا چلا گیا۔
اور حزیمہ شرمندگی کے باعث تب تک وہاں بیٹھی رہی جب تک اسے ملازمہ نے آ کر ناشتے کے لئے نہیں بلایا۔
وہ مرے ہوۓ قدموں کے ساتھ باہر آئی لیکن اسے کچھ حوصلہ ہوا کیوں کے شاہ میر نے اس کی طرف نہیں دیکھا وہ پوری طرح سے اپنے ناشتے کی طرف متوجہ تھا۔
حزیمہ نے زکیہ بیگم کے ساتھ والی سیٹ سنبھالی جہاں سے وہ شاہ میر کی نظروں سے بچ سکے۔
شاہ میر نے اپنا ناشتہ ختم کر کے سکینہ بی کی طرف متوجہ ہوا کو چاۓ رکھنے ڈائینگ تک آئی تھیں۔
سکینہ آپا جب عرشمان اٹھے تو اس کے کپڑے چینج کرو ا دی جئیے گا۔
اس کے بعد وہ حزیمہ کی طرف مڑا !
آپ نے چلنا ہے اپنے بابا کی طرف؟؟
جی نہیں۔حزیمہ کے انکار پر اس نے اسے غور سے دیکھا اور گردن اثبات میں ہلاتا ہوا اٹھ گیا ۔
اس کے اٹھتے ہی زکیہ بیگم نے حزیمہ کو بھی اٹھنے کے لئے بولا! بیٹا شوہر کو دروازے تک چھوڑ کر آتے ہیں۔
حزیمہ نے مری ہوئی آواز میں جی کہا اور شاہ میر کے پیچھے چل دی۔
فلیٹ کے دروازے کے باہر شاہ میر رکا پیچھے مڑ کر پیچھے اے سر جھکاۓ آتی ہوئی حزیمہ کو دیکھا اس کے پاس پہنچنے پر بولا۔
اماں ایسے ہی کہتی رہتی ہیں میں انہیں سمجھا دوں گا ۔آپ کو یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا اور حزیمہ وہیں کھڑی اس کی چوڑی پشت کو دیکھتی رہی ۔جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
