Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dastan e Junoon (Last Episode)

Dastan e Junoon by Hamna Mohsin

ﻋﻨﺎﯾﺎ , ﻋﻨﺎﯾﺎ , ﻓﯿﺼﻞ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﻋﻨﺎﯾﺎ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ .

ﻓﯿﺼﻞ , ﺗﻢ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮ ﻧﺎ ¿ ﺳﻌﺪ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﭘﻮﭼﮭﺎ.

سعد, عنایا کہاں ہے ¿ فیصل نے درد سے کراہتے ہوۓکہا

فکر نہ کر فیصل, ایک بار پتہ چل جاۓ اس کا تو دیکھ, کیا حشر ____ سعد بولا.

نہیں سعد پلیز, وہ میری زندگی ہے, جان ہے وہ میری, مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب وہ میری ضد سے میری محبت بن گئ. پلیز سعد, مجھے اس سے ملوا دو پلیز, میں مر جاؤں گا اس کے بنا, میں نہیں رہ سکتا, فیصل آج بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا.

سعد کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے. فکر نہ کر فیصل, مل جاۓ گی بھابھی. پولیس اور ہمارے گروپ کے آدمی اسے جگہ جگہ تلاش کر رہے ہیں. سعد نے تسلی دیتے ہوۓکہا.

سعد, وہ کب آۓ گی. بس ایک بار مجھے اس سے ملوا دے. چلو, میں بھی اسے ڈھونڈنے نکلتا ہوں, فیصل اٹھنے کی کوشش کرنے لگا.

فیصل, میرے بھائ, تو آرام کر, مجھ پہ یقین کر, بہت جلد بھابھی تیرے سامنے ہوں گی. سعد نے فیصل کو لٹاتے ہوۓکہا.

سعد کا موبائل بجنے لگا.

ہاں عمر بول, سعد نے کال اٹینڈ کرتے ہوۓکہا.

کیا, عنایا بھابھی مل گئیں. سعد نے خوشی کا اظہار کیا.

فیصل ایک دم بیڈ سے اترنے لگا. سعد نے اسے زبردستی بیڈ پر لٹایا.

___________________________

پولیس نے عادل کے گھر چھاپا مار کر عنایا کو گرفتار کر لیا تھا. ثمن جیل میں عنایا سے ملنے آئ.

کیوں کیا عنایا تم نے ایسا, ثمن نے بھرائ آواز میں پوچھا.

آپی اس نے یاسر کو, یاسر کو _____ عنایا کپکپاتے لہجے میں بول رہی تھی.

پاگل لڑکی, کاش تم تھوڑا سا صبر کر لیتی. ثمن, عنایا کی بات کاٹ کر بولی. جانتی ہو, اس دن تمہارے جانے کے بعد یاسر آیا تھا. پھپھو کو ساتھ لے کر واپس انگلینڈ چلا گیا وہ. تمہارے بارے میں ایسی باتیں بول کر گیا وہ کہ تم سن لیتی تو شاید فیصل کی جگہ یاسر کو مارتی.

ثمن کی باتوں نے عنایا کو شرمندہ کر دیا.

___________________________

دو دن بعد

___________________________

چلو بی بی تمہاری ضمانت ہو گئ ہے. عنایا کو اطلاع دی گئی

عنایا باہر نکلی تو فیصل کو سامنے مسکراتے دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئ.

___________________________

عنایا کرسی پر بیٹھی تھی اور فیصل اس کے قدموں میں بیٹھا تھا. آج فیصل کی آنکھیں نم تھیں.

بیت برا ہوں نا میں عنایا, فیصل نے بھرائ آواز میں پوچھا

عنایا چپ چاپ اسے دیکھتی رہی.

اب بھی یقین نہیں ہے نا مجھ پر, فیصل کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے.

عنایا, بہت دکھ دیے نا میں نے تمہیں. زبردستی نکاح. زبردستی حق جتانا, زبردستی پاس بلانا, مگر اب اور نہیں. میں نے جان لیا ہے کہ محبت میں زبردستی نہیں ہوتی. تم کہو تو بہت جلد میں تمہیں آزاد ………..

فیصل کے رونے میں شدت آ گئی.

فیصل پلیز, عنایا نے فیصل کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیے. عنایا جو کب سے ضبط کیے بیٹھی تھی. فیصل کے گلے لگ کر رونے لگی

___________________________

عنایا کا گھر آ گیا تھا. عنایا اترنا چاہتی تھی مگر دروازہ لاک تھا.

عنایا نے فیصل کی طرف دیکھا. جو آنکھوں میں چاہت کے رنگ بھرے اسی کو دیکھ رہا تھا.

دروازہ کھولو, عنایا نے نظریں جھکا کر کہا.

ایک شرط پر, فیصل نے دلکش مسکراہٹ سجاۓ کہا.

کیا, عنایا نے سوالیہ نظروں سے پوچھا

رخصتی کی ڈیٹ بتاؤ, فیصل ایک خمار سےبولا

فیصل للل لللل لل, عنایا نے فیصل کو مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا.

گاڑی میں دونوں کے جاندار قہقہے گونج اٹھے.

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *