Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dastan e Junoon (Episode 18)

Dastan e Junoon by Hamna Mohsin

آآآآآ. فیصل کی زوردار چیخ پورے جنگل میں گونجی. فیصل خون میں لت پت زمین پر گرا. فیصل کے جسم سے خون نکل کر تیزی سے زمین پر پھیل رہا تھا.

عنایا یہ ممنظر دیکھ کر سہم گئ تھی. فیصل زمین پر داد سے تڑپ رہا تھا. فیصل کے خون کے چھینٹے عنایا کے کپڑوں پر پڑے تھے. عنایا کے ہاتھوں پر بھی فیصل کا خون لگا ہوا تھا. عنایا کو اور کچھ سمجھ نہ آیا. اس نے ایک طرف کو بھاگنا شروع کر دیا. وہ تیزی سے وہاں سے بھاگ رہی تھی کا اچانک سامنے سے آنے والی کار سے ٹکرا گئ.

_________________________

اوہ نو شٹ یار, کار سے عادل اور تانیہ باہر نکلے.

یہ کیا کیا تانیہ تم نے, عادل نے پریشان ہو کے پوچھا.

مم مجھے کیا پتا تھا کہ یہ لڑکی پاگلوں کی طرح بھاگ رہی ہو گی. تانیہ نے گھبراتے ہوۓکہا

اسی لیے کہہ رہا تھا کہ صبح ڈرائیونگ سکھا دوں گا بٹ نہیں. تمہیں بھی رات کے وقت ہی گاڑی مارنے کا شوق تھا. اب بھگتو. عادل نے غصے سے کہا.

بس تم اب شروع ہو جاۓ. میں نے جان کر تھوڑی نہ مارا. تانیہ نے گھبراتے ہوۓکہا.

تانیہ نے عنایا کی نبض چیک کی. یہ صرف بے ہوش ہوئ ہے. چلو ہاسپٹل لے چلیں. تانیہ نے کہا.

ہاں ہاں بالکل, اس کے بعد تھانے چلیں گے. بے وقوف. عادل نے غصے سے کہا.

پھر اب ¿¿ تانیہ نے گھبراتے ہوۓکہا

اب کیا, گاڑی میں ڈالو, گھر لے جا کر ہوش میں لاکر معافی مانگ کر گیبھیج دیں گے اسے. مجھے ہاسپٹل, تھانے کے چکروں میں نہیں پڑنا. عادل نے کہا.

___________________________

عادل اور تانیہ اور ان کی پانچ سالہ بیٹی زویا کراچی میں رہتے تھے. عادل اسلام آباد میں جاب کرتا تھا. دس دن کی چھٹی پر کراچی آیا تو بیگم کی فرمائش پر اسے ڈرائیونگ سکھانے نکل پڑا. گاڑی کی سپیڈ کم ہونے کی وجہ سے عنایا کو چوٹ نہیں لگی. صرف ڈر اور خوف کی وجہ سے وہ بےہوش ہو گئ تھی.

____________________________

رات کے دو بجے دروازے پر زوردار دستک ہوئ. آنے والا دروازہ توڑنا چاہتا تھا. کاشان نے دروازہ کھولا. آگے سعد پولیس کے ساتھ کھڑا تھا.

عنایا کہاں ہے, بول کہاں چھپایا ہے اسے. سعد نے کاشان کا گریبان پکڑا ہوا تھا.

امی, ابا اور ثمن بھی شور سن کر باہر آ گۓ.

دیکھو بیٹا, ہم خود بہت پریشان ہیں. عنایا کا کچھ پتا نہیں. ابا نے بےبسی سے کہا.

دیکھیں جی, آپ کی بیٹی قتل کر کے بھاگی ہے. وارنٹ گرفتاری ہیں ہمادے پاس اس کے. انسپکٹر صاحب بولے

قق قق قتل . نہیں نہیں میری بیٹی قتل نہیں کر سکتی. وہ وہ تو بہت معصوم ہے. میں جانتی ہوں اپنی بیٹی کو , عنایا نہیں مار سکتی کسی کو. اماں چلاتے چلاتے رونے لگیں.

تلاشی لو گھر کی. انسپکٹر نے اہلکاروں کو اشارہ کرتے ہوۓکہا

گھر کی تلاشی لینے پر عنایا نہ ملی تو پولیس والے کاشان کو پکڑ کر لے گئے.

____________________________

عنایا کو ہوش آیا تو وہ ایک کمرے میں بیڈ پر تھی. تانیہ بیٹھی عنایا کو دیکھ رہی تھی.

ہیلو, تانیہ نے عنایا کی آنکھون کے آگے ہاتھ لہراتے ہوۓ کہا.

تم کون ہو, کہاں رہتی ہو, گھر کہاں ہے تمہارا, اتنی رات کو جنگل میں کیوں بھاگ رہی تھی¿¿¿ تانیہ نے ایک ہی سانس میں سارے سوالات کر ڈالے.

عنایا سوچ میں پڑ گئ. اس نے سوچا کہ اگر وہ ان لوگوں کو حقیقت بتا دے گی کہ وہ فیصل کو مار کر بھاگ رہی تھی تو یہ لوگ اسے پولیس کے حوالے کر دیں گے. پھانسی سے بچ بھی گئ تو فیصل کے گروپ کے لوگ اسے مار دیں گے. اس کے پاس ایک ہی راستہ بچا تھا, یادداشت چلے جانے کا ڈرامہ کرنا.

مجھے کچھ نہیں یاد, عنایا نے سر پکڑتے ہوۓکہا

—–__________———_ ______

تین دن بعد

___________________________

آپ کے patient کو ہوش آ رہا ہے اور وہ کسی عنایا کا نام لے رہے ہیں.

نرس نے سعد کو اطلاع دی.

کیا میں فیصل سے مل سکتا ہوں, سعد نے جلدی سے پوچھا

جی ہم نے انہیں ICU سے روم میں شفٹ کر دیا ہے. آپ مل سکتے ہیں. نرس نے جواب دیا

سعد تیزی سے روم کی طرف بھاگا.

عنایا, عنایا, فیصل مسلسل عنایا کا نام لے رہا تھا.

فیصل, تم ٹھیک ہو نا¿ سعد نے فیصل کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ پوچھا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *