Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dastan e Junoon (Episode 13)

Dastan e Junoon by Hamna Mohsin

عنایا گم سم کھڑی تھی کہ ملازمہ کمرے میں آئ.

بی بی جی , صاحب آپ کا کھانے پر انتظار کر رہے ہیں. ملازمہ نے کہا.

عنایا چپ چاپ اس کے ساتھ چلنے لگی. ملازمہ عنایا کو کمرے کا بتا کر چلی گئی.

عنایا کمرے میں داخل ہوئ تو سامنے کمرے میں ایک کرسی پر فیصل بیٹھا تھا. ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا تھا.

آؤ آؤ عنایا بیٹھو, کھانا کھاؤ. فیصل دوستانہ انداز میں بولا. جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو.

مم مجھے بھوک نہیں ہے. فیصل وہ پلیز وہ میرے گھر والے پریشان ہو رہے ہوں گے. عنایا ڈرتے ڈرتے بولی.

کون پریشان ہو رہا ہو گا¿ گھر والے یا گھر میں موجود باہر والا¿¿¿ ہاں¿¿¿ فیصل کو پھر سے غصہ آنے لگا.

عنایا سہم گئ اور چپ چاپ کھانا کھانے لگی.

کھانا ختم ہوا تو فیصل نے ملازمہ سے چاۓ بنانے کا کہہ دیا.

فیصل بیٹھا مسلسل عنایا کو دیکھ رہا تھا. عنایا کو اس کی نظروں سے گھبراہٹ ہونے لگی. وہ خوف زدہ نظریں جھکاۓ بیٹھی تھی.

عنایا, فیصل نے عنایا کو مخاطب کیا.

جج جی, عنایا نے نظریں اٹھائے بنا جواب دیا.

تم نے میرا حال نہیں پوچھا ¿¿¿ تین دن سے میں بخار میں پڑا تھا. ایک کال بھی نہیں کی تم نے کہ میں کہاں ہوں. فیصل نے شکوہ کرتے ہوۓکہا

مم م مجھے نہیں پپ پ پتا تھا, عنایا مسلسل خوفزدہ تھی.

اب تو پتا چل گیا نا. اب پوچھ لو. فیصل کھڑا ہو کر عنایا کی طرف بڑھا

عنایا گھبرا کر کھڑی ہوئ. کک کیا پوچھوں.

یہی کہ میں کیسا ہوں, تمہیں کتنا یاد کیا, تمہیں کتنا مس کیا, پوچھو نا, فیصل عنایا کا بازو پکڑتے ہوۓ بولا.

فف فیصل پلیز , عنایا نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی مگر فیصل کی گرفت کافی مضبوط تھی.

اتنے میں دروازے پر دستک ہوئ. فیصل پیچھے ہٹا اور کرسی پر بیٹھ گیا.

یس. فیصل بولا.

ملازمہ چاۓ لے کر آئ تھی. چاۓ ختم ہوئ. عنایا نے گھڑی کی طرف دیکھا. دوپہر کے تین بج رہے تھے. عنایا نے فیصل کو دیکھا کہ شاید وہ اسے گھر جانے کی اجازت دے دے. فیصل عنایا کی بےچینی سمجھتا تھا.

گھر جانا چاہتی ہو¿ فیصل نے مسکراتے ہوۓکہا.

عنایا نے ڈرتے ڈرتے اثبات میں سر ہلایا.

اوکے لے جاؤں گا لیکن تین دن بعد, فیصل نے سنجیدگی سے کہا.

عنایا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا. فیصل بالکل سنجیدہ تھا.

اب میری بیوی مسلسل تین دن سے مجھے اگنور رہی تھی. تو اتنی سزا تو ملنی چاہئے نا اسے کہ اب وہ پورے تین دن صرف میرے پاس رہے. فیصل سنجیدگی سے بولا.

نہیں فیصل پلیز نہیں, امی , ابو, آپی, بھائ سب پریشان ہوں گے. پلیز ایسا مت کریں. عنایا درخواست کرنے لگی.

اوکے, اب میری بیوی کا حکم ہے کہ میکے جانا ہے تو بندہ ناچیز کیا کر سکتا ہے. فیصل مسکراہٹ کے ساتھ بولا.

چلو چلیں. فیصل کار کی کیز اٹھاتے ہوۓ بولا. عنایابھی کھڑی ہو گئ.

_——-_—-__________——____

عنایا کا گھر آگیا تھا. وہ گاڑی سے اترنے لگی مگر دروازہ لاک تھا. اس نے بے بسی سے فیصل کی طرف دیکھا. فیصل مسکرانے لگا.

پلیز یہ دروازہ…… عنایا دروازے کی طرف دیکھ کر بولی.

ہاں اسے دروازہ کہتے ہیں, فیصل نے مسکراتے ہوۓکہا

نہیں میرا مطلب ہے کہ دروازہ لاک ہے. پلیز کھولیں اسے. عنایا نے نظریں جھکا کر کہا.

ایک شرط پر. فیصل نے نرمی سے کہا

یہ رنگ پہن کر, فیصل نے ایک چھوٹی سی ڈبیا میں سے نازک سی ڈائمنڈ رنگ نکالتے ہوۓکہا

نہیں, نہیں, میں یہ نہیں لوں گی. عنایا نے انکار کیا.

تو ٹھیک ہے. واپس چلتے ہیں تین دن کے لیے تمہارے سسرال. فیصل نے کار سٹارٹ کرتے ہوۓکہا

نہیں نہیں فیصل پلیز, عنایا یے جھٹ سے ایک ہاتھ آگے کر دیا.

فیصل نے مسکراتے ہوۓاسے رنگ پہنائ, اب تمہارے ہاتھ سے یہ کبھی نہ نکلے.

فیصل نے لاک کھولا. عنایا بایہر نکلنے لگی تو فیصل بولا. یاد رکھنا عنایا.

کیا, عنایا نے مڑ کر پوچھا.

صرف دو دن, فیصل نے ایک بار پھر وارن کیا.

عنایا تیزی سے کار سے نکلی اور اپنے گھر کی طرف بھاگی.

عنایا نے ڈوربیل پر ہاتھ رکھا, ثمن نے دروازہ کھولا. عنایا کی روئ روئ آنکھیں دیکھ کر ثمن سمجھ گئ تھی کہ وہ کہاں سے آرہی ہے.

عنایا, پلیز, اندر یاسر سو مرتبہ پوچھ چکا ہے کہ عنایا کب آۓ گی, سنبھالو خود کو, اس کے سامنے خود کو مضبوط ظاہر کرو. آپی نے سرگوشی کے انداز میں کہا.

جی آپی, عنایا نے گہری سانس لیتے ہوۓ کہااور اندر جانے لگی.

عنایا, یہ رنگ, آپی نے حیرت سے عنایاکے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓکہا.

جی آپی, یہ اسی پاگل نے دی ہے. عنایا نے رنگ اتارتے ہوۓ کہا.

عنایا نے رنگ اتار کر کالج بیگ میں ڈال دی.

__________ —–______—–____

رات کو دس بجے فیصل کی کال آئ.

عنایا کا دل تیزی سے دھڑکا. اب کیا کہنا ہے اسے. عنایا نے سوچا. کال کاٹ دی.

کال دوبارہ آنے لگی. عنایا نے کال دوبارہ کاٹ دی مگر وہ بھی فیصل تھا, ضد کا پکا, کال دوبارہ آنے لگی. عنایا نے کال کاٹ دی . کال پھر سے آنے لگی.

ہیلو, عنایا نے کال اٹینڈ کی.

کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تمہاری پرابلم کیا ہے. فیصل انتہائ غصے میں تھا.

میں سونے لگی تھی. عنایا نے آہستگی سے کہا.

اوکے کل کالج پہنچو, پھر دیکھو, کیسے نیند اڑاؤں گا, فیصل نے غصے سے کال کاٹ دی.

عنایا کو ڈر لگا اور وہ روتے روتے سو گئ.

________________________ ___

صبح عنایا اکیلی کالج پہنچی. رابعہ کے ساتھ وہ کلاس کی طرف بڑھ رہی تھی کہ سامنے فیصل اپنے گروپ کے ساتھ کھڑا تھا. اس نے گھور کر عنایا کو دیکھا. عنایا تیزی سے کلاس میں چلی گئی.

____________________________

عنایا رابعہ کے ساتھ لائبریری میں بیٹھی نوٹس بنا رہی تھی. اچانک ہی وہاں یاسر آ گیا.

ہاۓ بے وفا لڑکی, آج پھر اکیلا چھوڑ آئ مجھے. یاسر عنایا کی ٹیبل پر بیٹھتے ہوۓبولا.

عنایا ڈر گئ. ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ کہیں فیصل نہ آ جاۓ.

ایک انگلینڈ پلٹ نوجوان کالج میں قتل, فیصل کی آواز لائبریری میں گونجی.

عنایا, رابعہ اور یاسر نے پلٹ کر دیکھا. فیصل اور سعد یاسر سے چند فٹ کے فاصلے پر کھڑے تھے. فیصل کے ہاتھ میں چین تھی جسے وہ گول گول گھما رہا تھا. سعد کے ہاتھ میں شیشے کی ٹوٹی ہوئ بوتل. فیصل کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *