Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dastan e Junoon (Episode 01)

Dastan e Junoon by Hamna Mohsin

ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻋﻨﺎﯾﺎ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ . ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﮨﺮ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺩ ﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ . ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺩﻭ ﮔﯿﻨﭩﮯ ﺳﮯ ﻋﻨﺎﯾﺎ ﮐﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺪ ﺗﮭﺎ . ﺍﺱ ﮐﺎ ﻏﺼﮧ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﭘﮧ ﺗﮭﺎ .

ﺍﺏ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﻮ ﮔﯽ ﻋﻨﺎﯾﺎ . ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﮰﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﯽ ﭼﺎﺑﯿﺎﮞ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﻞ ﻧﻤﺎ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﺳﮯ ﺑﺎ ﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ.

وہ ایک بہت بڑے پولیس افسر کا بیٹا تھا. مگر انتہائ بگڑا ہوا لڑکا تھا. اکلوتا ہونے کے باعث وہ ناز و نعم سے پلا تھا. کالج میں اس کا ایک اپنا گینگ تھا.جس کا وہ سربراہ تھا. سب سے لڑنا, مار پیٹ, دھونس جمانا اس کے پسندیدہ کام تھے.

مگر اس ایک لڑکی عنایا نے اس کو سب کچھ بھلا دیا تھا.

————————-

عنایا کا کالج میں پہلا دن تھا. وہ نہیں جانتی تھی کہ آج کی جانے والی بات چیت اس کی زندگی میں کیا بھونچال لاۓگی.

اوۓاوۓ فیصی وہ دیکھ , فرسٹ ائیر سٹوڈنٹ, فیصل کے گروپ کے سعد نے عنایا کی طرف اشارہ کرتے ہوۓکہا.

فیصل نے عنا یا کی طرف دیکھا اور اپنے گروپ کی طرف دیکھ کر کہا. چلو تم سب جاؤ. سر فیصل کی کلاس کا ٹائم ہو گیا ہے. سب ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے.

فیصل جو عنایا کو جا تے ہو ۓ دیکھ رہا تھا. تیزی سے عنایا کے پیچھے گیا.

ایکسکیوز می میم, میرا والٹ یہاں گرا تھا. آپ نے دیکھا کیا? فیصل نے جھوٹ بول کر عنا یا کو مخاطب کیا.

نہیں. مجھے نہیں پتا. عنا یا نے اس کو دیکھے بنا جواب دیا.

اس میں پورے تیس ہزار روپے تھے.میرا ATM Card تھا. اگر آپ نے دیکھا یا اٹھایا ہے تو……. فیصل نے جان کر جملہ ادھورا چھوڑا.

عنایا کو شدید غصہ چڑھا. اس نے غصے سے فیصل کی طرف دیکھا. اور چیخی. کیا مطلب, میں نے آپ کا پرس اٹھایا, چور لگتی میں آپ کو¿

ارے اب کسی کے چہرے پہ تو نہیں لکھا ہوتا نا کہ کون کیا ہے¿ آپ تو ایسے بھڑک رہیں کہ مجھے شک ہو رہا کہ شاید آپ نے ہی …..فیصل اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوۓ بولا

عنایا کا دماغ گھوم چکا تھا. اس کا دل چاہا کہ سامنے کھڑے لڑکے کا قتل کر دے. کالج کے کچھ طلبا بھی وہاں جمع ہو گۓ تھے. عنایا کو کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے ایک زوردار تپھڑ فیصل کے گال پر رسید کیا. وہاں موجود طلبا حیران رہ گۓکیونکہ اب عنایا نے بہت بڑی غلطی کر دی تھی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *