Dastan e Junoon by Hamna Mohsin NovelR50534 Dastan e Junoon (Episode 08)
Rate this Novel
Dastan e Junoon (Episode 08)
Dastan e Junoon by Hamna Mohsin
پلیز مجھے کاشان بھائ کے پاس جانا ہے. عنایا نے پھر درخواست کی
اوکے, پہلے کھانا پھر باقی باتیں, فیصل نے عنایا سے نرمی سے کہا.
نہیں بس مجھے کاشان بھائ کے پاس لے چلو. عنایا نے رونا بند نہیں کیا تھا.
اففففف, اوکے نہ یار, پہلے کھانا تو کھا لو, شام کے چھ بج رہے ہیں اور تم ہو کہ مزید adventure پہ تلی ہوئ ہو. فیصل نے نرمی سے کہا.
میرے کاشان بھائ کو ….. عنایا کی بات مکمل نہ ہوئ تھی کہ فیصل نے اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھا.
شش شش. ایک دم چپ عنایا, ابھی تک کاشان کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا ہے. But اگر تم نے میرے ساتھ cooperate نہیں کیا تو شاید ہم کاشان سے ملنے ہاسپٹل جائیں. آگے تم خود سمجھدار ہو. فیصل نے سنجیدگی سے کہا.
عنایا خوف سے کانپ کر رہ گئی. وہ فیصل کو دیکھتی رہ گئی.
میں نےرات ہی تم سے کہا تھا عنایا کہ میں محبت اور نفرت دونوں میں جنونیت کا قائل ہوں. ہمارے نکاح کے بعد میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ مجھ سے دور مت جانا. تم مجھے بنا بتاۓکراچی سے نکلی. فیصل کا لہجہ تلخ ہوا.
میں صرف اپنے ماموں سے ملنے آئ تھی. عنایا نے بےچارگی سے کہا.
تم ڈھنگ سے جھوٹ بھی نہیں بول سکتی میری شیرنی. فیصل نے عنایا کا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا. میں نے تمہیں کہا کہ موبائل آف نہ ہو . تم نے اس کو بھی توڑ دیا.
عنایا نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں.
ااآئ ایم سوری پلیز. عنایا نے لرزتے وجود کے ساتھ جواب دیا.
عنایا میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں. بٹ اتنا یاد رکھنا کہ تم مجھ سے دور بھاگو گی تو انجام کی ذمہ دار خود ہو گی. فیصل نے سختی سے کہا. بہتر یہی ہے کہ میری عنایا کو مجھ سے دور نہ کیا جاۓ ورنہ میرے پاگل پن کی انتہا خطرناک ہو گی جو تم برداشت نہیں کر پاؤ گی. سمجھ گئ نا¿ فیصل نے عنایا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ پوچھا.
ج جیجی جج جی. عنایا نے کانپتےوجود کے ساتھ جواب دیا.
گڈ گرل. فیصل نے مسکراتے ہوۓکہا.
کھانا آچکا تھا. عنایا نے کھانا کھایا. وہ صرف کاشان بھائ کے بارے میں سوچ رہی تھی.
عنایا, اٹھو چلیں. فیصل کی آواز نے اسے سوچوں سے باہر نکالا.
ک کک کہاں, عنایا نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا.
ڈرو مت, تم اپنے شوہر کے ساتھ ہو. جہاں میرا دل چاہے لے کے جا سکتا ہوں اپنی کیوٹ سی وائف کو. اتنا حق تو بنتا ہےمیرا. فیصل نے پیار سے اس کے چہرے کو چھوتے ہوۓکہا.
ہم کاشان بھائ کے پاس جا رہے ہیں نا¿ عنایا نے جلدی سے پوچھا.
ہم کراچی جا رہے ہیں میری جان. فیصل نے مسکراتے ہوۓکہا
کیا¿ نہیں پلیز مجھے کاشان بھائ کے پاس جانا ہے. عنایا کے آنسو پھر جاری ہو گۓ.
عنایا پلیز, بات کو سمجھو. مجھے کراچی جانا ہے تو اپنی جان کو ساتھ لے کر جانا ہے. کاشان مجھے دیکھ کر غصہ کرےگا اور میں اسے. کیا تم چاہتی ہو کہ تمہارے سامنے تمہارا بھائ تمہارے شریف شوہر سے پٹے¿ فیصل نے عنایا سے پوچھا.
عنایا بے یقینی سے فیصل کو دیکھنے لگی.
کیا ہوا¿ ایسے کیوں دیکھ رہی ہو. سوری مائ کیوٹ وائف , میں اپنی پیاری وائف کو تھانے نہیں لے کر جا سکتا. یقین کرو, جتنی جلدی ہم کراچی پہنچیں گے. اتنی جلدی کاشان باہر آۓ گا. فیصل نے یقین دلاتے ہوۓکہا.
تم انتہائی………….. عنایا کچھ کہنا چاہتی تھی .
مگر فیصل تیزی سے بولا. میری شیرنی, ہم کراچی جا کر اپنی جنگ یہیں سے continueکریں گے. اب چلیں یا کاشان کو جیل میں اور وقت گزروانا ہے¿
عنایا غصے سے پیر پٹختی ہوئی کمرے سے باہر نکلی. فیصل چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ اس کے پیچھے چلا.
——-_——–_————_————-
وہ دونوں کراچی پہنچ چکے تھے. فیصل گاڑی میں عنا یا کو اس کے گھر کی طرف لے کر جا رہا تھا. عنایا کو کاشان بھائ کی فکر ہونے لگی تو اس کی آنکھیں پھر سے نمدار ہو گئیں.
او کم آن یار , پھر سے رونا, سیریسلی عنایا, میں تمہیں لاسٹ ٹائم وارن کر رہا ہوں. اب اگر ایک بھی آنسو ان خوبصورت آنکھوں سے گرا تو ابھی کے ابھی گاڑی کسی بھی گاڑی کے ساتھ مار دوں گا. فیصل نے سنجیدگی سے کہا.
عنایا نے گھور کر فیصل کو دیکھا اور اپنے چہرے کو رگڑ کر صاف کیا.
بدتمیز, جاہل انسان, اب میرے رونے پر بھی پابندی لگاۓگا. عنایا منہ ہی منہ میں بڑبڑائی.
کچھ کہا کیا مسز فیصل نے¿ فیصل نے عنایا کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوۓکہا.
کچھ نہیں. عنایا نے سختی سے جواب دیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی.
یقین کرو عنایا, تم مجھ سے دور جاتی ہو نہ تو دل کٹتا ہے. میں بہت تنہا ہوں. صرف تم سے تھوڑی سی محبت, تھوڑی سی اپنائیت چاہتا ہوں. تم میری بیوی ہو. میں نے تم پر کوئی حق نہیں جتایا. نہ ہی تم سے کسی بھی قسم کی زبردستی کرنا چاہتا ہوں.مگر نیکسٹ ٹائم be careful. مجھ سے دور جانے کے بارے میں سوچنا بھی مت. ورنہ میں کس حد تک جاؤں گا. میں خود نہیں جانتا. فیصل بول رہا تھا.
عنایا نے کوئ جواب نہیں دیا.
کچھ کہو گی نہیں¿ فیصل نے آس سے پوچھا.
کاشان بھائ کب آئیں گے¿ عنایا نے بےبسی سے پوچھا.
اف توبہ ہے عنایا, تمہارا شوہر تم سے دیوانگی کی باتیں کر رہا ہے اور تم ہو کہ اپنے بھائی کو سوچے جا رہی. بلیو می مائی ڈئیر وائف, اتنا بھی ظالم نہیں میں کہ اپنے سالے صاحب کو کچھ ہونے دوں. تمہارے گھر پہنچنے کے پورے تیس منٹ بعد کاشان گھر پہنچے گا. فیصل بولا.
عنایا کا گھر آگیا تھا. وہ گاڑی سے اترنے لگی مگر گاڑی کا دروازہ لاک تھا.
دروازہ کھولیں. عنایا نے سختی سے کہا.
ابھی دل نہیں کر رہا یار کہ تمہیں جانے دوں. فیصل نے عنایا کو پیار سے دیکھتے ہوۓکہا.
میں نے کہا دروازہ کھولیں. عنایا مزید غصے سے بولی.
