Dastan e Junoon by Hamna Mohsin NovelR50534 Dastan e Junoon (Episode 11)
Rate this Novel
Dastan e Junoon (Episode 11)
Dastan e Junoon by Hamna Mohsin
مجھے صبح دیر ہو رہی تھی. عنایا نے کہتے ہوۓ نظریں اٹھائیں تو رنگ فق ہو گیا. کچھ ہی فاصلے پر فیصل کے گروپ کا ممبر سعد کھڑا تھا جو موبائل پر شاید فیصل سے بات کر رہا تھا اور عنایا اور یاسر کی طرف ہی دیکھ رہا تھا.
مجھے کلاس لینی ہے. تم بچگانہ باتیں مت کیا کرو میرے ساتھ. عنایا جلدی سے بول کر چلی گئی.
یاسر اسے جاتے ہوۓ دیکھتا رہ گیا.
سارا دن کالج میں عنایا کو یہ دھڑکا لگا رہا کہ ابھی کہیں سے فیصل آ جاۓ گا اور اس سے یاسر کے بارے میں پوچھے گا. مگر عنایا کو کالج میں فیصل نظر نہیں آیا.
——-_——-_——_————–_—-
عنایا گھر پہنچی تو سب کھانا کھانے لگے تھے.
آؤ آؤ بیٹا, بس تمہارا ہی انتظار ہو رہا تھا. پھپھو نے عنایا کو دیکھتے ہی کہا.
مجھے بھوک نہیں ہے, یاسر کھانا چھوڑ کر کمرے میں چلا گیا.
کاشان نے حیرت سے پھپھو کو دیکھا. اسے کیا ہوا پھپھو ¿
پتہ نہیں بیٹا, کالج ایڈمیشن کے لیے گیا تھا تو بہت خوش تھا کہ شکر ہے پاکستان میں عنایا کے ساتھ پڑھنے کا موقع ملے گا مگر جب سے کالج سے آیا ہے, موڈ آف کیا ہوا ہے, کہہ رہا ہے کہ مجھے اب کوئ ایڈمیشن نہیں لینا. عنایا تمہیں پتہ ہے کیا بیٹا کیا ہوا اسے, یاسر کو تو غصہ آتا ہی نہیں., کیا ہوا کالج میں, پھپھو نے عنایا کی طرف دیکھتے ہوۓکہا.
نہیں نہیں پھپھو, میرے سامنے تو کچھ نہیں ہوا. عنایا گھبرا گئ. اسے خود پہ غصہ آنے لگا کہ کیا ضرورت تھی اسے یاسر سے تلخی سے بات کرنے کی.
———–_———-_———-_——-
عنایا, ثمن آپی نے کمرے میں داخل ہوتے ہی عنایا کو آواز دی.
جی آپی, عنایا نے جواب دیا
گڑیا مجھے بتاؤ, آج تمہاری اور یاسر کی کیا بات ہوئ ہے کالج میں. آپی نے نرمی سے پوچھا
کچھ نہیں آپی, کیا بات ہونی ہماری. عنایا نے صاف مکرتے ہوۓکہا
میں جانتی ہوں عنایا کہ آج کل تم بہت tensionمیں ہو. مگر جو بھی ہوا اس میں یاسر کا کوئ قصور نہیں. اسے کس بات کی سزا دے رہی ہو, آپی نے استفسار کیا
عنایا کی آنکھیں نم ہونے لگیں. آپی آپ جانتی ہیں نا کہ میں یہ سب کیوں کر رہی. میں نہیں چاہتی کہ یاسر کو کسی قسم کا نقصان پہنچے. آپی فیصل بہت خطرناک ہے. وہ بالکل پاگل ہے آپی, بالکل پاگل, مجھے بہت ڈر لگتا ہے آپی بہت ڈر , عنایا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی.
ثمن سے اپنی بہن کی حالت دیکھی نہیں گئ. وہ بھی عنایا کے گلے لگ کر رونے لگی.
—–_——-_——_——_————
رات کے کھانے پر بھی یاسر نہیں آیا. سب پریشان ہو گۓ.
آپ لوگ فکر نہ کریں. میں ابھی یاسر کو کان سے پکڑ کر لاتی ہوں, چلو عنایا تم بھی میرے ساتھ. ثمن نے عنایا کو اٹھنے کا اشارہ کیا.
عنایا بھی ثمن کے ساتھ یاسر کے کمرے کی طرف چل دی.
سیز فائر, سیز فائر, سیز فائر, ثمن یاسر کے کمرے میں داخل ہوتے ہی بولی.
عنایا چلو سوری بولو یاسر کو, آپی نے عنایا کا کان کھینچتے ہوۓکہا
آآآاف اف اف آپی آرام سے, عنایا درد سے چلائ.
آپی, مت کریں پلیز عنایا کو درد ہو رہا ہو گا نا, یاسر بیڈ سے کھڑا ہوتا ہوا بولا.
وہ شروع سے ہی ایسا تھا, عنایا کے معاملے میں حد درجہ حساس, چوٹ عنایا کو لگتی تو درد یاسر کو ہوتا.
اوکے, تمہارے کہنے پر چھوڑ رہی اسے یاسر , اب جلدی سے صلح کرو تم دونوں. ثمن وارن کرتے ہوۓ بولی.
میں دو منٹ میں آئ. یہ کہہ کرثمن باہر چلی گئی.
ناراض ہو¿ عنایا نے یاسر سے پوچھا.
نہیں, ہماری دوستی ہی کب تھی جو ناراض ہوں گا. یاسر نے جواب دیا
اچھا, ٹھیک ہے, پھر ایک کام کرنا. عنایا کی حس مزاح پھڑکی.
کیا¿ یاسر نے پوچھا
تم نا دس, بارہ دن اور کھانا مت کھانا, خرچہ کم ہو گا ہمارا, عنایا مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کرنے لگی.
اف, شکر ہے تم مسکرائ تو, جب سے آیا ہوں, تمہاری ایک سمائل دیکھنے کے لیے ترس گیا تھا یار, یاسر اسے دیکھ کر مسکرانے لگا.
اتنے میں ثمن آئ. اندرآتے ہی بولی, یاسر, سوری بولا, عنایا نے تمہیں یا اور کان کھینچوں اس کے.
نہیں نہیں آپی , کان پکڑ کر سوری بولا ہے میں نے سچی, عنایا معصومیت سے بولی.
تینوں ہنسنے لگے اور کھانا کھانے چل دیے.
——-_———_———-_————
اگلے یی دن یاسر کا کالج میں ایڈمیشن ہو گیا تھا. اس دن بھی فیصل کالج نہیں آیا تھا. عنایا نے سکون کا سانس لیا. گھر آ کر موبائل دیکھا تو کوئ مسیجز یا کال نہیں تھی. عنایا کو حیرانی ہوئ مگر ایک سکون تھا کہ جان بچی ہوئ ہے.
——–_——–_———–_———
عنایا اور یاسر ساتھ کالج جانے لگے. آج تیسا دن تھا مگر فیصل کا کچھ پتا نہیں تھا.
عنایا میں ایک بجے تک کالج کے گیٹ کےپاس تمہارا ویٹ کروں گا پھر دونوں ساتھ ہی گھر چلیں گے, یاسر نے عنایا کو کہا.
ٹھیک ہے, عنایا نے سر ہلایا.
——_——-_——–_———-_—–
عنایا کی کلاس بارہ بجے ہی ختم ہو گئ تھی. وہ کینٹین کی طرف بڑھ رہی تھی کہ سامنے سے سعد آتا دکھائ دیا.
بھابھی, فیصل بھائ کا فون ہے. آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں. سعد نے عنایا کی طرف موبائل بڑھاتے ہوۓکہا.
