Dastan e Junoon by Hamna Mohsin NovelR50534 Dastan e Junoon (Episode 07)
Rate this Novel
Dastan e Junoon (Episode 07)
Dastan e Junoon by Hamna Mohsin
ارے انسپکٹر صاحب, یہی ہیں وہ چور لوگ. فیصل جلدی سے بولا.
ایکسکیوز می سر, یہ جھوٹ بول رہا ہے. ہم بے قصور ہیں. یہ شخص پتہ نہیں کون ہے اور کیا بکواس کر رہا ہے. ہم تو اسے جانتے تک نہیں. کاشان بولا
او ہیلو مسٹر. بہت جلد پتہ لگ جاۓگا کہ کون ہوں میں, فیصل نے عنایا کی طرف دیکھتے ہوۓ کاشان سے کہا.
عنایا کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں. وہ اپنا سر تھامے کھڑی تھی.
انسپکٹر صاحب, میں نے آپ کو بتایا تھا نہ کہ کل رات میرا نیا موبائل کراچی سے چوری ہوا. یہ لوگ 80,000 کا موبائل لے کر حیدرآباد چلے آۓ. وہ تو اچھا ہوا کہ میں نے موبائل لوکیشن ٹریس کی اور ان کا پیچھا کیا. میں کال کر کے کہہ رہا تھا کہ میرا موبائل واپس کرو. مگر ان لوگوں نے پکڑے جانے کے ڈر سے موبائل ہی ٹیکسی سے باہر پھینک دیا. فیصل نے سنجیدگی سے کہا.
عنایا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں.
یہ جھوٹ بول رہا ہے. عنایا نے چیختے ہوۓکہا
اوہ رئیلی, پھر آپ بتائیں گی کہ سچ کیا ہے. فیصل, عنایا کو دیکھتے ہوۓ بولا.
عنایا کا دل چاہا کہ وہ فیصل کا سر پھاڑ دے.
انسپکٹر صاحب, مجھے میرا نقصان پورا کر کے دیں. مجھے بس 80000 دلوائیں. فیصل سنجیدگی سے بولا.
80000???کاشان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں. جب ہم نے کچھ کیا ہی نہیں تو کس بات کے پیسے دیں تجھے. کاشان کا دماغ گھوم رہا تھا.
اوۓ, ہر چور یہی بولتا ہے کہ اس نے چوری نہیں کی. انسپکٹر غصے سے بولا. دو دن حوالات کی ہوا کھاۓگا نہ تو سب مانے گا. ڈالو اسے حوالات میں. انسپکٹر نے کاشان کی طرف اشارہ کرتے ہوۓکہا.
نہیں نہیں, میرے بھائ کو چھوڑو , ہم نے کچھ نہیں کیا.پلیز بھائ کو نہیں. پلیز ہمارا یقین کریں. یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے. عنایا چیختے چیختے رونے لگی.
او بی بی جاؤ. جا کر پیسوں کا یا وکیل کا انتظام کرو. یہ رونا دھونا باہر جا کر کرو.
کاشان کو لاک اپ کیا جا چکا تھا. عنایا نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا.
اوکے انسپکٹر صاحب, میں چلتا ہوں. جب پیسے ملیں تو مجھے بتا دینا. فیصل نے انسپکٹر سے مصافحہ کرتے ہوۓکہا.
فیصل نے ایک نظر عنایا کو دیکھا اور باہر نکل گیا.
عنایا تیزی سے فیصل کے پیچھے بھاگی. تھانے سے باہر نکلتے ہی عنایا نے ایک زوردار تھپڑ فیصل کو رسید کیا.
بے شرم, گھٹیا انسان. کیا سمجھتے ہو تم. تم اس طرح کی نیچ حرکتیں کر کے…….
ابھی عنایا کی بات پوری نہ ہوئ تھی کہ فیصل نے یکدم عنایا کو بازو سے پکڑا اور گاڑی میں دھکا دیا.
چھوڑو مجھے, میں کہتی ہوں چھوڑو مجھے, عنایا کی چیخ و پکار جاری تھی.
فیصل driving seat پر آیا. گاڑی کو لاک کیا. اور گاڑی سٹارٹ کر دی.
عنایا پاگل ہو چکی تھی. وہ اپنے ہاتھوں سے کبھی گاڑی کے دروازے کو کھولنے کی کوشش کرتی. کبھی فیصل کو مارتی. فیصل کے لیے ڈرائیو کرنا مشکل ہو رہا تھا. اس نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی. گاڑی کی بیک سیٹ پر پڑا ایک بیگ اٹھایا اور اس میں سے ہتھکڑی نکالی. عنایا کے دونوں ہاتھ پکڑے اور پیچھے کی طرف کر کے ہتھکڑی لگا دی. گاڑی سٹارٹ کر دی
گھٹیا انسان, چھوڑو مجھے, میں تم سے ڈرتی نہیں. چھوڑ دو مجھے. عنایا سارے راستے چیخی, چلائی, روئی مگر فیصل خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا.
گاڑی ایک ہوٹل کے سامنے رکی. فیصل گاڑی سے اترا. عنایا کو گاڑی سے نکالا. اور ہوٹل کے اندر لے گیا.
عنایا کی چیخ و پکار ہوٹل میں بھی جاری تھی. وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ ہوٹل بھی فیصل کا ہے اور پورا سٹاف فیصل کے حکم کا پابند ہے.
فیصل, عنایا کو ہوٹل کے کمرے تک لے گیا اور اسے بیڈ پر پھینکا. عنایا کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ابھی تک لگی ہوئ تھی. اس کے رونے میں شدت آگئی تھی. فیصل واش روم چلا گیا. شاور لے کر وہ جب باہر نکلا تو بھی عنایا اوندھے منہ پڑی رو رہی تھی.
دروازے پر knock ہوا. Yes come in, فیصل نے جواب دیا.
Sir what would you like in lunch?
اندر آ نے والی لڑکی نے پوچھا.
ایک پلیٹ بریانی, اینڈ چکن کڑاہی. فیصل نے تسلی سے جواب دیا.
اورسر میم کیا لیں گی? لڑکی نے بیڈپر اوندھے منہ پڑی عنایا کی طرف اشارہ کرتے ہوۓکہا.
میم کو کچھ نہیں چاہیے. آپ جائیں. فیصل نے بے رخی سے جواب دیا.
تھوڑی دیر بعد کھانا آگیا. فیصل نے سکون سے کھانا کھایا. وہ عنایا کو مکمل اگنور کر رہا تھا.
عنایا رو رو کر نڈھال ہو گئ تھی.
فیصل نے پاکٹ سے موبائل نکالا اور تھانے کا نمبر ڈائل کیا. ہیلو, جی انسپکٹر صاحب, کیا بنا میرے کیس کا. کب تک ملیں گے مجھے پیسے.
عنایا کے کان کھڑے ہو گۓ.
ارے انسپکٹر صاحب, اتنی آسانی سے وہ چور کا بچہ نہیں مانے گا. آپ ٹارچر سیل میں شفٹ کریں اسے. میں بھی وہیں…..
فیصل کی بات پوری بھی نہیں ہوئ تھی کہ عنایا چیخنے لگی.
نہیں نہیں پلیز نہیں فیصل پلیز
فیصل نے جلدی سے کال بند کی. عنایا کے پاس پہنچ کر اسے سیدھا کیا. اس کی ہتھکڑی کھولی. عنایا نے فیصل کے آگے ہاتھ جوڑے.
پلیز میں آئندہ تمہاری ہر بات مانوں گی. میرے کاشان بھائ کو چھوڑ دو پلیز. پلیز رحم کرو مجھ پر. پلیز فیصل پلیز, عنایا کے رونے میں شدت آچکی تھی.
تم حکم کرو جان فیصل, آج تمہارے منہ سے اپنا نام پہلی بار سنا ہے. کہو تو جان دے دوں. فیصل نے عنایا کے ہاتھوں کو چومتے ہوۓکہا.
مجھے کاشان بھائ کے پاس لے چلو پلیز. عنایا نے پھر درخواست کی
