Dastan e Junoon by Hamna Mohsin NovelR50534 Dastan e Junoon (Episode 04)
Rate this Novel
Dastan e Junoon (Episode 04)
Dastan e Junoon by Hamna Mohsin
بخار اور خوف کی وجہ سے یہ بے ہوش ہو گئ ہیں. تھوڑی دیر میں ان کو ہوش آ جاۓگا. ان کو کچھ کھلا کر medicines دے دیں. ڈاکٹر نے فیصل کو ہدایات دیتے ہوۓکہا.
شکریہ ڈاکٹر! فیصل نے ڈاکٹر سے مصافحہ کرتے ہوۓکہا.
تم ذرا عنایا کے پاس رکو. ہوش میں آتے ہی اسے کھانا دو. اور مجھے انفارم کر دینا.
جی صاحب جی, ملازمہ نے سر ہلاتے ہوۓکہا.
——————__—————-
رات کے 8 بج رہے تھے. کاشان اور اس کے والد پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروا کر ابھی گھر پہنچے تھے.
ثمن کو سارا گھر خالی خالی لگ رہا تھا. وہ کبھی اماں کو دیکھتی. کبھی دروازے کی طرف. اسے امید تھی کہ عنایا آجاۓگی.
—————-_——————–
عنایا ہوش میں آچکی تھی. وہ بالکل گم سم بستر پر بیٹھی تھی.
بی بی جی کھانا کھا لیں. ملازمہ نے کھانے کی ٹرے رکھتے ہوۓکہا.
عنایا نے جیسے سنا ہی نہیں تھا.
بی بی جی, صاحب کا حکم ہے کی آپ کو کھانا کھلا دوں.ایسے مت کریں. صاحب مجھے چھوڑیں گے نہیں. تھوڑا سا کھا لیں.
عنایا نے کوئ جواب نہیں دیا.
ملازمہ کمرے سے باہر چلی گئی.
فیصل ملازمہ اور گن مین کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا. اسے عنایا کو دیکھ کر دکھ ہوا. اس کا دل چاہا کہ وہ کسی بھی طرح وقت کو واپس لے جاۓ.
ایک ہی دن میں عنایا کا رنگ سفید, آنکھیں ویران ہو چکی تھیں.
عنایا, فیصل نے ہولے سے آواز دی.
عنایا کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر وہ بیڈکے قریب آیا.
عنایا نے فیصل کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا.
عنایا پلیز کچھ کھا لو. اس کے بعد جو تم کہو گی ویسا کروں گا. فیصل نے التجا کی.
مجھے گھر جانا ہے. بس. عنایا نے اٹل فیصلہ سناتے ہوۓکہا.
اوکے! ڈن. تم بس کھانا کھا لو اسکےبعد تمہیں گھر چھوڑکے آؤں گا. فیصل نے کہا.
سنا نہیں تم نے. مجھے گھر جانا ہے. کچھ نہیں کھانا مجھے. عنایا بھی اپنے الفاظ پر قائم تھی.
فیصل کا دل چاہا کہ وہ عنایا کےآگے سرنڈر کر دے اور اس کی ہر بات مان لے. مگر وہ عنایا کو کھونا نہیں چاہتا تھا. وہ نہیں چاہتا تھا کہ عنایا اسسے دور جاۓ. پتہ نہیں اسے کیا ہو گیا تھا. وہ خود حیران تھا. فی الحال اسے اپنے آپ کو مضبوط ظاہر کرنا تھا.
ٹھیک ہے. مت کھاؤکھانا. اب دیکھو کہ کیا ہوتا ہے. یہ کہتے ہی فیصل گارڈ کو آواز دینے لگا.
جی صاحب حکم, گارڈ نے اندر آتے ہی کہا.
مجھے ثمن یہاں چاہیے, آدھے گھنٹے کے اندر, now go. فیصل نے حکم دیا.
عنایا کی جان نکل گئی. ثمن آآآپی, ککک کیوں, آپی کو کیوں بلا رہے آپ. عنایا نے پوچھا.
سوری, ایک اور اغوا کروانا پڑرہا مجھے. تمہاری بہن تمہیں کھانا کھلاۓگی. اس کی بات تو مانو گی نا تم. سنا ہے, اگلے مہینےشادی ہے اس کی, مگر میری شیرنی کو ہمت دلانے کے لیے وہ مجھے یہاں چاہیے. فیصل نے کہا.
نہیں نہیں. آپی کو نہیں, پلیز . میں کھانا کھاتی ہوں. آپی کو نہیں. عنایا فیصل کے قدموں میں بیٹھی اس سے التجا کرنے لگی.
اوکے, چپ چاپ کھانا کھا ؤ. فیصل نے کہا
ملازمہ نے اسے فرش سے اٹھا کر کرسی پر بٹھایا. عنایا شدت سے روتے روتے کھانے کی کوشش کرنے لگی.
لگتا ہے تمہارا رونا ایسے بند نہیں ہو گا. ثمن کو …….. فیصل نے دھمکاتے ہوۓکہا.
نہیں نہیں پلیز آپی کو نہیں لاؤ یہاں. میں نہیں رو رہی. عنایا نے بےدردی سے آنسو صاف کیے. اور کھانے لگی.
