Dastan e Junoon by Hamna Mohsin NovelR50534 Dastan e Junoon (Episode 06)
Rate this Novel
Dastan e Junoon (Episode 06)
Dastan e Junoon by Hamna Mohsin
ٹرین حیدرآباد آکر رکی. عنایا اور کاشان اترے اور taxi تلاش کرنے لگے.
اوہ نو شٹ یار, یہ موبائل بیٹری بھی ابھی ڈیڈ ہونی تھی. کاشان نے پریشان ہو کر کہا.
جی بھائ, امی, بابا بھی پریشان ہوں گے. عنایا نے پرس چیک کرتے ہوۓکہا. پرس میں سے وہ موبائل نکل آیا جو فیصل نے دیا تھا. عنایا نے احتیاط کے طور پر یہ موبائل اپنے پاس رکھا تھا. وہ اتنا جان گئ تھی کہ فیصل جنونی شخص ہے. مگر صبح حیدرآباد کے لیے نکلتے ہی اس نے موبائل آف کر دیا تھا. ثمن کو اپنی خیریت کی اطلاع دینے کے لیے اس نے موبائل آن کیا.
آو بیٹھو taxi میں. کاشان کی آواز آئ.
عنایا اور کاشان taxi میں بیٹھے. عنایا نے دیکھا تو موبائل پر 254 مسیجز received لکھا آرہا تھا. عنایا نے مسیجز ایک ایک کر کے open کیے.
ہیلو عنایا.
عنایا فون کیوں آف ہے. پلیز آن کرو
منع کیا تھا نا موبائل آف کر نے سے.
عنایا پلیز یار آن کرو موبائل
تم اچھا نہیں کر رہی ہو.
اس طرح کے کئی مسیجز موبائل سکرین پر جگمگا رہے تھے.
بےوقوف, بدتمیز, پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے خود کو.اونہہ مائی فٹ. عنایا آہستگی سے بڑبڑائی.
کیا ہوا عنایا, ثمن کو فون ملاؤ. کاشان کی آواز آئی.
جی بھائ. عنایا نے ثمن کا نمبر ڈائل کرتے ہوۓکہا.
ہیلو آپی,, جی جی , ہم خیریت سے پہنچ گئے ہیں, جی آپی بس راستے میں ہیں. جی آپی گھر پہنچ کر سب سے بات کروں گی. جی اللہ حافظ.
عنایا نے جیسے ہی کال بند کی. فیصل کی کال آنے لگی. اس نے کال کاٹ دی مگر فیصل دوبارہ کال کر رہا تھا. عنایا کو شدید غصہ آیا اور اس نے موبائل چلتی taxi سے باہر پھینک دیا. کاشان نے اسے حیرت سے دیکھا مگر کہا کچھ نہیں.
اچانک ہی سامنے سے پولیس وین آتی دکھائ دی. وین نےtaxi driver کو رکنے کو اشارہ کیا. پولیس وین سے کچھ اہلکار اترے اور انہوں نےtaxi کے دروازے کھول کر ڈرائیور اور کاشان کو اترنے کا اشارہ کیا.
کاشان اور ڈرائیور کے اترتے ہی پولیس اہلکاروں نے انہیں گرفتار کر لیا.
یہ یہ یہ کیا, کہاں لے کے جا رہے ہیں آپ ہمیں. عنایا نے گھبراتے ہوۓکہا
او بی بی, ہمیں اطلاع ملی ہے کہ تم تینوں چور ہو. وارداتیں کر تے پھر رہے ہو. ایک اہلکار نے کہا.
سر ایسی کوئ بات نہیں. ہم تو اس شہر میں نئے ہیں. کاشان نے کہا.
اوۓ , بہانے بنانا بند کر, باقی بات تھانے چل کر کرنا. اہلکاروں نے انہیں وین میں بٹھایا. اور تھانے لے گئے.
ددیکھیں سر آپ کو غلط فہمی …….. عنایا نے بولتے بولتے سامنے دیکھا تو کانپ کر رہ گئ.
تھانے کے کمرے میں کرسی پر فیصل بیٹھا مسکرا رہا تھا.
