Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dastan e Junoon (Episode 10)

Dastan e Junoon by Hamna Mohsin

مسجز پڑھ کر ابھی عنایا سوچ ہی رہی تھی کہ کیا کرے تب ہی doorbell بجی.

عنایا, عنایا, باہر آؤ, پھپھو آئی ہیں. ثمن آپی عنایا کو بلا رہی تھیں.

سب پھپھو اور یاسر سے ملے. چاۓکا دور چلا. عنایا برتن دھونے کچن میں گئی تو پیچھے پیچھے یاسر بھی چلا آیا.

ہیلو عنایا, خیریت ہے¿ نو لفٹ کا بورڈ کیوں لگایا ہوا تم نے¿ یاسر نے چہکتے ہوۓکہا

نن نن نہیں ایسی کوئ بات نہیں. عنایا نے گبھراۓ ہوۓکہا.

تو پھر ک کک کیسی بات ہے. یاسر نے اسی کے انداز میں پوچھا.

اتنے میں ثمن آپی کچن میں داخل ہوئیں. ارے یاسر, تم یہاں ہو, امی اور پھپھو یاد کر رہی ہیں تمہیں, کوئ تنگ کرنے والا نظر جو نہیں آرہا ان کو, سکون اچھا نہیں لگ رہا نا اس کمرے میں. آپی نے ہنستے ہوۓکہا.

اووووو, اڑا لیں آپی آپ بھی میرا مذاق, بس ذرا عنایا فری ہو جاۓتو ہم دونوں سب کو ٹھیک کر دیں گے. کیوں عنایا ¿ یاسر نے عنایا کو مخاطب کرتے ہوۓکہا.

ہ ہہ ہاں وہ ہاں ٹھیک ہے. ابھی جاؤ تم. عنایا آنے والے وقت کا سوچ کر گھبرا رہی تھی.

عنایا آر یو آل رائٹ¿¿¿ یاسر کو عنایا کافی پریشان لگی.

ارے یاسر, وہ عنایا نے ابھی دو ہفتے پہلے ہی کالج میں ایڈمیشن لیا ہے نا تو بس وہ پڑھائ کا سوچ سوچ کر ہی پریشان رہتی ہے. آپی نے بات کو سنبھالتے ہوۓکہا.

ارے بس اتنی سی بات, میں ہوں نا عنایا, پتا ہے میں بھی اسی کالج میں ایڈمیشن لے رہا ہوں. Studiesمیں تمہاری ہیلپ بھی ہو جاۓ گی اور پک اینڈڈراپ………… یاسر ابھی بول ہی رہا تھا کہ عنایا کے ہاتھ سے گلاس ٹوٹ کر گرا.

او ہو عنایا, دھیان سے, کانچ تو نہیں لگا تمہیں. یاسر نے فکرمندی سے پوچھا.

نہیں میں ٹھیک ہوں. عنایا نے سر ہلا کر جواب دیا.

یاسر, یاسر…… پھپھو کی آواز آئی.

جی امی آیا. …. یاسر کچن سے نکلا.

عنایا کیا ہو گیا ہے. سنبھالو خود کو. ایسے ری ایکٹ کرو گی تو کتنی مشکل ہو جاۓ گی. پلیز سنبھالو خود کو. آپی نے عنایا کو سمجھاتے ہوۓکہا.

آپی, آپی, مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے. وہ سب کو مار دے گا. آپی وہ کسی کو نہیں چھوڑے گا. پلیز آپی اس دلدل سے نکالو مجھے. عنایا, ثمن کے گلے لگ کر رونے لگی.

_——_——–_——–_–_———

رات ہوئ تو عنایا کمرے میں آئ. موبائل چیک کیا تو کوئ مسیج یا کال نہیں تھی. عنایا کو حیرانی ہوئ کہ مقابل اتنا خاموش کیسے ہو گیا. اسے ڈر لگا کہ یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ نہ ہو.

—_——_——_———_——–_—

اگلے دن عنایا جلدی تیار ہوئ اور یاسر کو ساتھ لیے بنا کالج چلی گئی. یاسر نے اسے کہا بھی تھا کہ صبح ساتھ چلیں گے مگر فیصل کی جنونیت کا خیال ہی عنایا کو خوف میں مبتلا کر رہا تھا.

کالج کے اندر داخل ہوئ تو گیٹ کے پاس ہی رابعہ مل گئی. کالج میں کسی کی ہمت نہیں تھی کہ عنایا سے پوچھے کہ وہ کہاں چلی گئی تھی. سب جانتے تھے کہ فیصل کو مارا گیا تھپڑ اس نے نظرانداز نہیں کیا ہو گا. مگر یہ بات فیصل کے گروپ کے علاوہ کوئ نہیں جانتا تھا کہ وہ اب عنایا نہیں, عنایا فیصل کی حیثیت سے کالج میں آئ ہے.

رابعہ اور عنایا کلاسز لینے چلے گئے. کلاس کے بعد عنایا اور رابعہ گراؤنڈ کی طرف جا رہے تھے کہ سامنے سے یاسر آتا دکھائ دیا. رابعہ کینٹین چلی گئی. جبکہ عنایا کو وہیں رکنا پڑا.

حد ہے عنایا, ویسے میں تم سے شدید قسم کا ناراض ہوں. یاسر نے کہا.

کک کک کیوں, میں نے کیا کیا, عنایا نے ادھر ادھر دیکھتے ہوۓ پریشانی سے پوچھا کہ کہیں فیصل نہ آ جاۓ.

اوۓ, میں ادھر ہوں. تم یہاں وہاں کسے ڈھونڈ رہی, یاسر نے عنایا کے آگے چٹکی بجاتے ہوۓکہا.

جلدی بولو, میں سن رہی ہوں. عنایا جلد سے جلد وہاں سے ہٹنا چاہتی تھی.

مجھے یہ بتاؤ کہ صبح مجھے ساتھ لے کر کیوں نہیں آئ?

مجھے صبح دیر ہو رہی تھی. عنایا نے کہتے ہوۓ نظریں اٹھائیں تو رنگ فق ہو گیا. کچھ ہی فاصلے پر فیصل کے گروپ کا ممبر سعد کھڑا تھا جو موبائل پر شاید فیصل سے بات کر رہا تھا اور عنایا اور یاسر کی طرف ہی دیکھ رہا تھا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *