Dastan e Junoon by Hamna Mohsin NovelR50534 Dastan e Junoon (Episode 09)
Rate this Novel
Dastan e Junoon (Episode 09)
Dastan e Junoon by Hamna Mohsin
دروازہ کھولو. مجھے جانا ہے, عنایا کو غصہ آنے لگا.
پھر کب ملو گی, فیصل نے پوچھا
پتہ نہیں, اب مجھے جانے دو, عنایا نے غصے سے کہا.
میں کیسے رہوں گا, تمہیں دیکھے بنا, تمہیں سنے بنا, فیصل نے پیار سے کہا.
تمہارا دماغ خراب ہے کیا¿ لاک کھولو, عنایا کا غصہ بڑھ رہا تھا.
ایک شرط پر, فیصل سنجیدگی سے بولا.
اب کیا¿ عنایا نے حیران ہو کر پوچھا.
یہ موبائل اپنے پاس رکھو. اور جب میں رابطہ کروں تب تم مجھ سے بات کرو گی. فیصل نے عنایا کی طرف ایک نیا موبائل بڑھاتے ہوۓکہا.
کیا¿¿¿ مجھے کچھ نہیں چاہیے. دروازہ کھولو. عنایا نے صاف انکار کیا.
پہلے موبائل لینے کا انجام وہ دیکھ چکی تھی. اب موبائل لے کر وہ کسی مصیبت میں نہیں پھنسنا چاہتی تھی.
اوکے! ایز یو وش! مت لو. فیصل نے موبائل پاکٹ میں ڈالتے ہوۓکہا.
عنایا نے شکر ادا کیا کہ جان چھٹی. مگر فیصل کے ادا کیے گئے اگلے جملے نے عنایا کے ہوش اڑا دیے.
چلو عنایا سو جاؤ. فیصل نے کہا اور گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگا لی. اور اپنی آنکھوں پر بازو رکھ لیے.
او ہیلو, یہ کیا مذاق ہے, دروازہ کھولو. عنایا چیخی.
سونے دو نا عنایا, رات کے بارہ بج رہے ہیں. تھک گیا میں. فیصل نے آنکھوں پر بازو رکھے ہوۓ جواب دیا.
دیکھو بہت مذاق ہو گیا. اب تم حد سے بڑھ ریے ہو. عنایا چیخی.
فیصل نے کوئ جواب نہیں دیا.
دروازہ کھولو گے یا میں کچھ مار کر تمہاری گاڑی کا شیشہ توڑوں. عنایا کو شدید غصہ آ رہا تھا.
کوئ اور انسان ہوتا تو شاید عنایا اس کا سر پھاڑ دیتی مگر مقابل فیصل تھا جس کی جنونیت نے عنایا کو خوفزدہ کر دیا تھا. وہ جان چکی تھی کہ فیصل جو کہہ دے وہ کرتا بھی ہے. اسے ڈر لگا کہ واقعی کہیں رات کار میں نہ ہی گزارنی پڑ جاۓ.
اچھا لاؤ, دو موبائل. عنایا نے مجبور ہو کر کہا.
فیصل ٹس سے مس نہ ہوا.
او ہیلو میں تم سے بات کر رہی ہوں. عنایا چیخی
فیصل پر کوئی اثر نہ ہوا.
عنایا نے غصے سے فیصل کو جھنجھوڑتے ہوۓکہا. او پاگل انسان, موبائل دو اور دروازہ کھولو کار کا.
فیصل مسکراتے ہوۓاٹھا اور عنایا کو موبائل پکڑاتے ہوۓبولا. یاد رکھنا اس بار کوئ چالاکی نہیں.
فیصل نے لاک کھولا اور عنایا تیزی سے باہر نکل گئی.
——-_——–__———_———-_-
صبح نو بجےعنایا کی آنکھ کھلی. اتوار کا دن تھا. باہر لاؤنج میں اماں, بابا اور کاشان بھائ سر پکڑے بیٹھے تھے. ثمن آپی کچن میں تھیں. عنایا بھی کچن میں آ گئی.
کیا ہوا ہے آپی سب کو¿ عنایا نے پوچھا.
کیا بتاؤں عنایا, آج پھوپھو, اور یاسر انگلینڈ سے واپس آ رہے ہیں.
کیا ¿ عنایا نے حیرت کا اظہار کیا.
یاسر , عنایا کا منگیتر تھا. دونوں ہم عمر تھے اور دونوں کی دوستی بے مثال تھی. یہی وجہ تھی کہ دونوں کی بات بچپن میں طے کر دی گئی پھپھو بہت سوفٹ نیچر کی مالک تھیں. پھوپھا کی ڈیتھ کے بعد وہ انہوں نے بہت اچھے طریقے سے یاسر کی پرورش کی. وہ لوگ انگلینڈ سے آج واپس آ رہے تھے. کوئی اور وقت ہوتا تو عنایا خوشی سے جھوم اٹھتی مگر اس وقت جو حالات تھے انہوں نے سب کو پریشان کر دیا.
———–_————–_—————
صبح کے گیارہ بج رہے تھے. عنایا کی نظر موبائل پر پڑی تو 25 messages receivedلکھا آ رہا تھا. اس نے مسیجز اوپن کیے.
Hello sweetheart. Good morning.
Waiting for your reply
Kahan ho??????.
Anaya, reply mily ga??
Ufffff plz reply yar. Bht bura kr rhi tum
مسجز پڑھ کر ابھی عنایا سوچ ہی رہی تھی کہ کیا کرے تب ہی doorbell بجی.
