Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dastan e Junoon (Episode 14)

Dastan e Junoon by Hamna Mohsin

ﺍﯾﮏ ﺍﻧﮕﻠﯿﻨﮉ ﭘﻠﭧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ , ﻓﯿﺼﻞ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻻﺋﺒﺮﯾﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻧﺠﯽ .

ﻋﻨﺎﯾﺎ , ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺳﺮ ﻧﮯ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ . ﻓﯿﺼﻞ ﺍﻭﺭ ﺳﻌﺪ ﯾﺎﺳﺮ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﻓﭧ ﮐﮯ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ . ﻓﯿﺼﻞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﻦ ﺗﮭﯽ ﺟﺴﮯ ﻭﮦ ﮔﻮﻝ ﮔﻮﻝ ﮔﮭﻤﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ . ﺳﻌﺪ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺷﯿﺸﮯ ﮐﯽ ﭨﻮﭨﯽ ﮨﻮﺉ ﺑﻮﺗﻞ . ﻓﯿﺼﻞ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﺍﺗﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ.

لائبریری میں بھگدڑ مچ گئ. سب جانتے تھے کہ جو بھی فیصل کو روکے گا وہ بھی جان سے جاۓ گا.

لائبریری میں صرف عنایا, فیصل, یاسر اور سعد تھے. اس سے پہلے کہ یاسر کچھ سمجھتا, فیصل نے یاسر کے پیچھے جا کر چین یاسر کے گلے میں ڈال دی اور اسے کھینچنا شروع کر دیا.

نہیں نہیں, فیصل نہیں. عنایا چیخی

فیصل کے سر پر خون سوار تھا. یاسر اپنے ہاتھوں سے چین کو پکڑ کر کھینچ کر ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا. مگر فیصل کی گرفت بہت مضبوط تھی.

عنایا مسلسل چیخ رہی تھی. پلیز فیصل چھوڑو اسے, فیصل چھوڑ دو اسے. پلیز فیصل مت کرو ایسے. فیصل چھوڑو. عنایا ہاتھوں سے فیصل کا بازو پکڑ کر کھینچ رہی تھی. مگر فیصل کی گرفت سے یاسر کو بچانا عنایا کے لیے ناممکن تھا.

سعد پلیز, روکو فیصل کو, پلیز روک لو فیصل کو, پلیز سعد, عنایا پوری قوت سے چلا رہی تھی.

فیصل پوری طاقت سے یاسر کا گلا گھونٹنے میں مصروف تھا. یاسر کا چہرہ درد کی شدت سے لال ہو رہا تھا. اس کے لیے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا.

فیصل فیصل پلیز, فیصل وہ مر جاۓ گا, فیصل ہوش میں آؤ, فیصل وہ مر جاۓ گا فیصل چھوڑ دو , فیصل پلیز چھوڑ دو, پوری لائبریری میں عنایا کی چیخیں گونج رہی تھیں. یاسر کی گھٹی گھٹی سانسوں کی آواز آ رہی تھی.

فیصل نہیں, فیصل چھوڑو اسے, فیصل پلیز, عنایا کی چیخیں لائبریری سے باہر سنی جا رہی تھیں مگر کسی میں ہمت نہیں تھی کہ کوئ فیصل کو روکے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *