Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dastan e Junoon (Episode 05)

Dastan e Junoon by Hamna Mohsin

اب مجھے گھر جانا ہے, عنایا نے کھانا کھاتے ہی کہا.

اب مجھے تم سے نکاح کرنا ہے. فیصل نے دوبدو جواب دیا.

تمہارا دماغ خراب تو نہیں ہو گیا. میں جا رہی ہوں. عنایا نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوۓکہا.

شوق سے جانا مگر مجھے شوہر ہونے کا اختیار دے کر جانا. فیصل ایک دم سامنے آگیا.

عنایا نے پھر سے رونا شروع کر دیا. ددددیکھو پلیز میں …….

ارے ایک تو تم کتنا روتی ہو. Listen. میرا نام فیصل ہے. میری فیملی کا بیک گراؤنڈ سیاسی ہے. مام اور ڈیڈ انگلینڈ settledہیں. یہ گھر میرے نام ہے. اس کے علاوہ فارم ہاؤس, بینک بیلنس, زمین, گاڑی اور ……. فیصل بتا رہا تھا.

شٹ اپ, جسٹ شٹ اپ, عنایا نے اس کی بات کا ٹتے ہوۓکہا. مجھے تم میں یا تم سے related کسی چیز میں کوئ انٹرسٹ نہیں. میری منگنی بچپن میں ہی میرے کزن سے ہو چکی ہے. سو پلیز تم کہیں اورکوشش کرو. عنایا نے فیصل کو گھورتے ہوۓکہا.

اوہ سوری سوری, ٹھیک ہے , نکاح کا پروگرام کینسل, ابھی تم آرام کرو. رات کے نو بج رہے ہیں. صبح ملتے ہیں. فیصل نے دروازے کی طرف جاتے ہوۓکہا.

او ہیلو مسٹر ایکس واۓزی, میں یہاں ایک منٹ نہیں رکوں گی. عنایا بھی دروازے کی طرف بڑھی.

جی جی آپ جائیں. فیصل نے مسکراتے ہوۓکہا.

عنایا نے فیصل کو حیران ہو کر دیکھا کہ اسے کیا ہوا ہے مگر اسے صرف یہاں سے باہر نکلنا تھا. وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی. فیصل کے لبوں پر مسکراہٹ مزید گہری ہو گئ.

عنایا کمرے سے باہر نکلی تو ایک بہت بڑا برآمدہ تھا. جگہ جگہ پر گن مینز کھڑے تھے. عنایا کے قدم مزید تیز ہوۓ. برآمدے کے اطراف میں بڑے کمرے تھے. برآمدہ ختم ہوا تو آگے ایک وسیع و عریض صحن تھا. عنایا تیزی سی صحن میں بھاگنے لگی. کافی بڑا صحن عبور کرنے کے بعد اسے مین گیٹ نظر آیا تو اس کی جان میں جان آئ.

عنایا بھاگ کر گیٹ کے پاس پہنچی. یہ لوہے کا بہت بڑا گیٹ تھا جو مکمل طور پر مقفل تھا. گیٹ کے ساتھ موجود دیواریں کافی اونچی تھیں جن پر خاردار تاریں لگی ہوئی تھیں. گیٹ کے ساتھ موجود کرسی پر ایک چوکیدار موجود تھا. اس کے ساتھ بھی دو گن مین موجود تھے. گھر کی نگرانی کے لیے ہر طرف سی سی ٹی وی کیمرے لگے تھے.

گیٹ کھولو. عنایا نے غصے سے چوکیدار سے کہا.

سوری میم صاب, ام صاحب جی کی اجازت کے بغیر گیٹ نہیں کھول سکتا. چوکیدار نے جواب دیا.

میں تمہارے صاحب جی سے پوچھ کر ہی یہاں تک آئ ہوں. گیٹ کھولو. عنایا چیخی.

نہیں نہیں, ام کو گیٹ کھول کر صاحب کے ہاتھوں مرنا نہیں. چوکیدار نے جواب دیا.

عنایا نے پیچھے مڑکر دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گۓ. پیچھے ایک بڑا بل ڈوگ کھڑا تھا. عنایا چیخی اور سہم کر سامنے دیوار سے لگ کر کھڑی ہو گئ.

سامنےpillar سے ٹیک لگاۓکھڑا فیصل عنایا کو دیکھ کر محظوظ ہو رہا تھا.

تتت تتتم تم پ پپ پاگل ہو. اااتن اتنے بڑے کتے کو کھ کھلا چھوڑا ہوا ہے. عنایا نے ڈرتےڈرتے چوکیدار سے پوچھا.

بل ڈوگ اور عنایا میں صرف تین فٹ کا فاصلہ تھا.عنایا نے بےبسی سے فیصل کی طرف دیکھا جو عنایا کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا.

تم ابھی تک گئی نہیں ¿ فیصل نے انجان بنتے ہوۓکہا

گیٹ گگگیٹ کھلواؤ. عنایا نے سہمی آواز میں فیصل کو کہا.

یہ گیٹ تو اب مسز فیصل ہی کھلوا سکتی ہیں. آگے آپ کی مرضی. فیصل نے مسکراتے ہوۓکہا.

عنایا نے رونا شروع کر دیا. وہ جان چکی تھی کہ مقابل اپنی ضد کا پورا ہے. وہ کسی بھی قیمت رات یہاں نہیں گزارنا چاہتی تھی. اسے ابھی صرف گھر جانا تھا. اس کے پاس کوئ راستہ نہیں بچا تھا. مجور ہو کر اس نے کہا ٹھیک ہے اورروتی ہوئ کمرے میں بھاگ گئ.

آدھے گھنٹے کے اندر اندر نکاح کا انتظام ہوا. جانے کب نکاح ہوا. کون گواہان تھے. عنایا کو کچھ سمجھ نہیں آریا تھا.

رات کے گیارہ بج رہے تھے. سب جا چکے تھے. فیصل کمرے میں داخل ہوا. عنایا کے آنسو اب بھی بہہ رہے تھے. فیصل جانتا تھا کہ عنایا سے ابھی کوئ بات نہ کی جاۓتو بہتر ہے.

چلو عنایا, گھرچھوڑکے آؤں تمہیں, فیصل نے دھیرے سے کہا.

عنایا فیصل کو بنا دیکھے کمرے سے نکل گئی. فیصل بھی عنایا کے پیچھے چلنے لگا. دونوں گیٹ کے پاس پہنچے. باہر ایک کار کھڑی تھی. فیصل نے driver سے کہا کہ وہ جاۓ. Driver گاڑی سے اترا. فیصل نے عنایا کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا. عنایا کار میں بیٹھی. فیصل خود driving seat پر بیٹھ گیا اور کر سٹارٹ کر دی.

کار میں خاموشی چھائ ہوئ تھی.

عنایا, فیصل نے اس خاموشی کو توڑتے ہوۓکہا.

عنایا کی طرف سے کوئ جواب نہ پا کر فیصل دوبارہ بولا.

عنایا, i know کہ یہ سب تمہرے لیے بہت shockingہے. میں تم سے بہت محبت کرنے لگا ہوں. مگر میری یہ محبت پاکیزہ ہے اسی لیے تمہارا نام ہمیشہ کے لیے اپنے نام کے ساتھ جوڑ لیا. کوشش کروں گا کہ تمہیں ہر خوشی دے سکوں. جب تک تم نہ چاہو , میں اس رشتے کے بارے میں کسی کو نہیں بتاؤں گا. بس تم مجھے چھوڑنا مت,.

عنایا مسلسل کار سے باہر دیکھ رہی تھی. اس نے فیصل کی طرف دیکھا تک نہیں.

عنایا, یہ موبائل, فیصل نے کار کے ڈیش بورڈ پر پڑے نئے موبائل کی طرف اشارہ کرتے ہوۓکہا, یہ موبائل میں نے تمہارے لیے لیا ہے. اس میں میرا نمبر save ہے. یہ بات یاد رکھنا کی یہ موبائل کبھی بھی بند نہ ہو کیونکہ میں محبت اور نفرت دونوں میں جنونیت کا قائل ہوں. یہ کہتے ہی فیصل نے زبردستی موبائل عنایا کے ہاتھ میں تھما دیا.

عنایا کے گھر کے قریب پہنچ کر کار رکی. عنایا تیزی سے کار سے اتری اور دروازہ پیٹنے لگی. کاشان نے دروازہ کھولا. عنایا کاشان کے گلے لگتے ہی بےہوش ہو گئ. فیصل یہ سارا منظر کار میں بیٹھا دیکھ رہا تھا. اس کا دل چاہا کہ وہ عنایا کو جا کر پکڑے. مگر عنایا کی بدنامی کے ڈر سے اس نے گاڑی واپس موڑ لی.

————_——–_———_—-

عنایا کے ہوش میں آتے ہی اس نے امی,بابا, ثمن آپی اور کاشان بھائ کے پریشان چہرے دیکھے. وہ اٹھ کر ثمن کے گلے لگی اور روتے روتے ساری کہانی سنا دی. کاشان کا خون کھول اٹھا. اس کا دل چاہا کہ ابھی جا کر فیصل کا گھر تلاش کر ے اور اس کا گلا دبا دے.

بابا نے بہت مشکل سے کاشان کو سنبھالا.

رات بھر سب یہی سوچتے رہے کہ اب کیا کرنا ہے. آخر یہ فیصلہ ہوا کہ صبح ہوتے ہی عنایا کو کچھ دنوں کے لیے حیدرآباد بھیج دیا جاۓ. عنایا کے ماموں اور ممانی حیدر آبد رہتے تھے. ان کی کوئ اولاد نہیں تھی. یہ بھی فیصلہ ہوا کہ عنایا خلع کی درخواست دائر کرے اور بدمعاش فیصل سے اس کی جان چھڑوائ جاۓ.

صبح ہوتے ہی عنایا اور کاشان ٹرین میں سوار ہو گۓ.

——-_——–_———_——-

ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻋﻨﺎﯾﺎ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ . ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﮨﺮ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺩ ﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ . ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺩﻭ ﮔﯿﻨﭩﮯ ﺳﮯ ﻋﻨﺎﯾﺎ ﮐﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺪ ﺗﮭﺎ . ﺍﺱ ﮐﺎ ﻏﺼﮧ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﭘﮧ ﺗﮭﺎ .

ﺍﺏ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﻮ ﮔﯽ ﻋﻨﺎﯾﺎ . ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﮰﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﯽ ﭼﺎﺑﯿﺎﮞ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﻞ ﻧﻤﺎ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﺳﮯ ﺑﺎ ﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ.

وہ ایک بہت بڑے پولیس افسر کا بیٹا تھا. مگر انتہائ بگڑا ہوا لڑکا تھا. اکلوتا ہونے کے باعث وہ ناز و نعم سے پلا تھا. کالج میں اس کا ایک اپنا گینگ تھا.جس کا وہ سربراہ تھا. سب سے لڑنا, مار پیٹ, دھونس جمانا اس کے پسندیدہ کام تھے.

مگر اس ایک لڑکی عنایا نے اس کو سب کچھ بھلا دیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *