Dastan e Junoon by Hamna Mohsin NovelR50534 Dastan e Junoon (Episode 12)
Rate this Novel
Dastan e Junoon (Episode 12)
Dastan e Junoon by Hamna Mohsin
بھابھی, فیصل بھائ کا فون ہے. آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں. سعد نے عنایا کی طرف موبائل بڑھاتے ہوۓکہا.
عنایا پریشان ہونے لگی, پہلے سوچا, منع کر دے مگر فیصل کی جنونیت کا سوچ کر ہی کانپ اٹھی. عنایا نے سعد سے موبائل لے لیا. سعد وہاں سے چلا گیا.
کیا ہے, عنایا نے موبائل کان سے لگاتے ہی غصے سے کہا.
اف, میرے تین دن کال یا مسجز نہ کرنے پر اتنا غصہ, فیصل معصوم سے لہجے میں بولا.
بس کہہ دیا جو کہنا تھا تم نے, اب باۓ. عنایا کو غصہ آیا.
آں آں عنایا, فون بند کرنے کی غلطی مت کرنا, اچھا نہیں لگے گا کہ آج سارا کالج تماشا دیکھے کہ میں اپنی بیوی کو گود میں اٹھا کر سب کے سامنے لے کر جاؤں. فیصل نے وارن کرتے ہوۓکہا.
فون کیوں کیا ہے¿ عنایا نے گھبراتے ہوۓکہا.
موبائل کان سے لگا کر رکھو اور کالج گیٹ کے پاس آؤ. فیصل نے نیا حکم جاری کیا.
کک کک کیوں, عنایا مزید گھبرا گئ
اوکے تم وہیں رکو, میں آکر تمہارے کیوں کا جواب دیتا ہوں. فیصل نے غصے سے کہا.
نن نن پلیز میں جا رہی کالج گیٹ کے پاس, عنایا کانپ کر رہ گئی.
گڈ گرل, فیصل نے مسکراتے ہوۓکہا
عنایا کالج گیٹ کے پاس پہنچ گئ تھی.
عنایا, سامنے دیکھو. گیٹ کےپاس سعد کھڑا ہو گا. اس کو موبائل واپس کرو اور گیٹ سے باہر نکلو, میں نے ڈرائیور اور ملازمہ کو بھیجا ہے. ان کے ساتھ جلدی سے میرے پاس آ جاؤ.
کیا¿ عنایا کو سر چکراتا ہوا محسوس ہوا.
د د دیکھو پلیز میں کل آ جاؤں گی. پلیز ابھی گھر میں کسی کو بتا کر نہیں آئ. عنایا نے بے بسی سے کہا.
ٹھیک ہے عنایا, تم مت آؤ. کاشان کو دفتر سے دو بجے چھٹی ہوتی ہے اور آج وہ میرا مہمان ہو گا. تم نہ سہی. کاشان سہی .گھر انفارم کر دینا. فیصل نے غصے سے کہا.
نن نہیں نہیں پلیز میں, میری بات, عنایا کچھ کہنا چاہتی تھی مگر فون بند ہو چکا تھا.
عنایا نے ٹائم دیکھا, ساڑھے بارہ ہو رہے تھے. یاسر نے کلاس سے ایک بجے فری ہونا تھا. یاسر اس کا انتظار کرے گا. مگر فیصل نے اگر کاشان بھائ کو اغوا کر لیا تو….. اس سے آگے وہ کچھ سوچ نہ سکی. اس نے موبائل سعد کو پکڑایا اور جا کر فیصل کی بھجی ہوئ کار میں بیٹھ گئ.
——-_——-_———-_————
بی بی جی , صاحب اس کمرے میں ہیں. ملازمہ نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓکہا
عنایا اس کمرے کے اندر داخل ہوئ. اندر کا منظر اس کے لیے شاکڈ تھا. فیصل کرسی پر بیٹھا تھا. اس کے ہاتھ میں ایک پسٹل تھا جسے وہ بہت اطمینان سے دیکھتے ہوۓ مسکرا رہا تھا.
یہ یہ یہ پسٹل تمہارے ہاتھ میں ک کک کیوں . عنایا نے کانپتے ہوۓکہا
اوہ تم آ گئی عنایا, تمہارا باڈی گارڈ کہاں ہے. فیصل نے کرسی سے اٹھ کر عنایا کی طرف قدم بڑھاۓ.
کک کک کون , کک کس کی بات ککر کر رہے تم, عنایا پیچھے ہٹتے ہوۓ بولی.
جسٹ شٹ اپ عنایا, فیصل غصے سے دھاڑا.
عنایا سہم کر رہ گئ.
فیصل پلیز میں تمہیں بتانے والی تھی کہ وہ یاسر ……… عنایا رونے لگی.
ایک دم چپ عنایا, تم مجھے جو بھی بتانے والی تھی وہ سننے کا وقت نہیں میرے پاس. فیصل شدید غصے میں تھا.
دو دن, صرف دو دن کا ٹائم ہے تم سب کے پاس. اگر دو دن بعد بھی وہ لڑکا مجھے اپنے سسرال میں نظر آیا. تو اچھا نہیں ہو گا. سنا تم نے, دور رہے وہ میری بیوی سے. فیصل مزید غصے سے چیخا.
فیصل کمرے سے باہر نکل گیا اور عنایا دیوار سے لگی آنسو بہانے لگی.
——_——-_______——-______
کمال ہے آپی, عنایا گھر نہیں پہنچی, پورا کالج خالی ہو گیا تو میں آیا. گھر نہیں آئ تو کہاں گئ وہ, یاسر نے فکر مندی سے ثمن سے پوچھا.
وہ یاسر وہ عنایا کی فرینڈ ہے نا رابعہ. اس کی مدر کی طبعیت ٹھیک نہیں. بتایا تھا اس نے مجھے. وہاں گئ ہو گی. آپی نے بہانہ بنا کر یاسر کو مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر وہ جانتی تھیں کہ عنایا کہاں ہو گی.
