Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dastan e Junoon (Episode 03)

Dastan e Junoon by Hamna Mohsin

دروازہ کھلنے کی آواز پر عنایا نے دروازے کی طرف دیکھا. ایک 40,45 سالہ ملازمہ کھانا لیے کھڑی تھی. اس عورت کے پیچھے دو گن مین کھڑے تھے جن کی گن کا رخ عنایا کی طرف تھا. عنایا اندر تک کانپ کر رہ گئ.

کک کک کون ہو تم لوگ? مجھے یہاں کیوں لاۓہو¿ عنایا نے بمشکل جملے ادا کیے.

کسی نے کوئ جواب نہیں دیا. ملازمہ کھانے کی ٹرے میز پر رکھتے ہوۓبولی. بی بی جی کھانا کھا لیں.

عنایا رونے لگی. مجھے گھر جانے دو پلیز. مجھے گھر جانا ہے.

ارے واہ! پہلی بار کسی شیرنی کو روتےہوۓ دیکھا ہے. فیصل کی آواز نے عنایا کو ہلا کر رکھ دیا. عنایا نے دروازے کی طرف دیکھا. وہاں فیصل کھڑا عنایا کی بےبسی کا لطف اٹھا رہا تھا.

تم! دددیکھو پلیز مجھے معاف کر دو. م مم میں , مجھے جانے دو. عنایا کی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں.

ہاہاہا! ا ارے تھپڑ پورے کالج کے سامنے اور معافی بند کمرے میں. نہ نہ نہ. یہ تو اچھی بات نہیں نا. فیصل نے بےرحمی سے کہا.

ممم میں آپ سے معافی مانگ رہی ہوں نا. میں کالج میں سب کے سامنے بھی آپ سے معافی مانگ لوں گی. پلیز مجھے…… عنایا سے لفظ ادا نہیں ہو رہے تھے.

ارے ارے ابھی تو گیم شروع ہوا ہے. ابھی سے معافی مت مانگو میری شیرنی. ابھی تو مجھے سب حساب سود سمیت لینا ہے. یہ کہتے ہی فیصل تیزی سے آگے بڑھا اور ایک بھر پور تھپڑ عنایا کے گال پر رسید کیا. عنایا کا سر گھوم گیا. بخار اور تھپڑ کی شدت سے وہ بےہوش ہو گئ.

—–_———–__————-

دو بج گۓہیں ثمن, عنایا تو ڈیڑھ بجے کالج سے آجاتی ہے نا. امی نے گھبراتے ہوۓکہا.

ارے امی آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں. کاشان بھائ لینے گۓہیں نا عنایا کو.

پتا نہیں کیوں, میرا دل بہت گھبرا رہا ہے. امی نے بےچینی سے کہا.

امی, ایک تو آپ فوری پریشان ہو جاتی ہیں. رکیں میں کاشان بھائ سے پوچھتی ہوں. ثمن نے امی کو تسلی دیتے ہوۓکہا.

—————_————–

کاشان, ثمن اور عنایا اس گھر کی رونق تھے. کاشان ایک private job کر رہا تھا. ثمن, کاشان سے ایک سال چھوٹی تھی. عنایا , ثمن سے دس سال چھوٹی تھی. گھر کا سارا لاڈپیار عنایا کو ملا تھا. گھر بھر کی جان عنایا میں تھی. اس مڈل کلاس فیملی کے پاس پیار اور سکون کی دولت تھی.

—————-_————-_—–

فیصل کمرے کا دروازہ کھول کر ملازمہ اور گن مینز کے ساتھ اندر داخل ہوا. اندر کا منظر دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گۓ. عنایا زمین پر بے سدھ پڑی تھی. گرتے وقت اس کا سر میز کے کونے سے ٹکرایا تھا. خون کی ایک دھار عنایا کے ماتھے سے نکل کر زمین پر پھیل رہی تھی. فیصل کے دل کو کچھ ہوا.

عنایا! وہ چیختا ہوا عنایا کے پاس آیا. اس کے سر کو اٹھا کر اپنی گود میں رکھا. اور اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر ڈاکٹر کو فون ملانے لگا.

————–_————–_——

اماں, بابا, کاشان, ثمن سب گھر میں بت بنے بیٹھے تھے. شام کے 5 بج چکے تھے اور عنایا کا کچھ پتا نہ تھا. کاشان عنایا کی سب فرینڈز, کالج کے آس پاس کے لوگوں سے پتا کر آیا تھا مگر کسی کوکچھ پتا نہ تھا. اماں کے آنسو رو رو کر خشک ہو چکے تھے. کاشان کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *